Categories
اداریہ

آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ

عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، گواہان کے بیانات میں تضاد، ملزمہ کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنے کے باعث بری کیا گیا۔ قریب آٹھ برس سے قید آسیہ بی بی اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ دن ہمیشہ جبر کی ایک طویل رات کے خاتمے کا دن ہے۔ مگر ابھی ریاست کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور آسیہ اور ان کے خاندان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل بنچ اس فیصلے پر تحسین کا مستحق ہے۔ یہ فیصلہ کئی اعتبار سے تاریخ ساز ہے اور پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یقیناً اس فیصلے کے بعد توہین مذہب و رسالت کے سیاہ قانون کے تحت گرفتار اور سزا پانے والے دیگر افراد بشمول جنید حفیظ بھی جلد رہا کیے جائیں گے۔ کیوں کہ یہ فیصلہ اس امر پر سند ہے کہ ہر ملزم کو خواہ وہ توہین مذہب و رسالت کے ارکاب کا ملزم ہی کیوں نہ ہو کو ایک غیر جانبدار عدالت میں اپنے قانونی و عدالتی دفاع کا مکمل حق ہے۔ اور جرم ثابت ہونے تک توہین مذہب و رسالت کا مرتکب فرد بھی بے گناہ اور بے قصور ہے۔ آسیہ بی بی کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ توہین مذہب و رسالت کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر سزائے موت جیسی غیر انسانی سزا سانے کی ایک اور مثال ہے۔

فیصلہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ توہین مذہب و رسالت کے قانون کے تحت سزا کا جواز تبھی تک ممکن ہے جب اس جرم کے تحت سزا کے لیے تفتیش اور فیصلے کے لیے ایک غیر جانبدار عدالتی نظام کے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا جائے۔ اس جرم کے لیے سزا دینے کا اختیار بھی فرد یا ہجوم کے پاس نہیں ریاست کے پاس ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز اور سیاسی اور جانبدارانہ طرزعمل کے باعث اپنی ساکھ خراب کر چکی ہے، اس فیصلے کے ذریعے عدالت خصوصاً چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کے اصل کردار یعنی آئین اور قانون کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ اورانصاف کی فراہمی کی جانب رجوع کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ماتحت عدلیہ پر برہمی بھی جائز ہے جو شواہد کی عدم موجودگی میں بھی سزائے موت جیسی سنگین سزائیں سنانے کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یہ فیصلہ لائق تحسین ہے مگر اس فیصلے کے باوجود ابھی توہین مذہب و رسالت کے سیاہ پاکستانی قانون اور الزامات کے تحت جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک میں وقت لگے گا۔ اس قانون کے خاتمے یا اس میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے ہم آہنگ اصلاحات کے بغیر اس قانون کا غلط استعمال روکنا ممکن نہیں۔ عدالت کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اس سیاہ قانون کے تحت لازمی سزائے موت کے خاتمے اور آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کو توہین مذہب و رسالت پر مقدم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرنی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ محض آسیہ بی بی کی بریت کافی نہیں، محض اس ایک فیصلے کے ذریعے توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت جاری تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں بنا سکتا، اس مقصد کے لیے توہین مذہب و رسالت کو قابل تعزیر اقوال و افعال کی فہرست سے نکالنے کے علاوہ مذہبی اختلافات کو تسلیم کرنے، مذہب اور مذہبی شخصیات پر تنقید، طنز اور استہزاء کے حق کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات کا تقدس انسانی جان، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر مقدم نہیں۔

آج یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک طرف توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت 60 سے زائد افراد کو مشتعل ہجوم ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے تو دوسری طرف عدالتوں ہی کی جانب سے توہین مذہب و رسالت کے لیے مزید سخت قوانین کے نفاذ اور آن لائن آزادی اظہار کو محدود کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ توہین مذہب و رسالت کے نام پر نفرت آمیز تقاریر اور تشدد عام ہے جس کا انسداد آزادی اطہار رائے اور مذہبی اختلاف کو کم کر کے نہیں انہیں تحفط دے کر ہی ممکن ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے

فعال افراد کی سات عادات نامی کتاب دنیا کی مشہور ترین کتب میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کے مصنف اسٹیون کوی صاحب نے اس کتاب میں فعال، موثر اور کامیاب بننے کے سات اصول وضع کیے ہیں اور ہر اصول، عادت یا قدر کو مختلف کہانیوں اور مشقوں کے ذریعے سمجھایا ہے۔ اس کتاب میں ایک کہانی کسی شہزادے کی بھی ہے؛ ایک ایسا شہزادہ جس کی سلطنت پر قبضہ ہوچکا تھا، بادشاہ قتل، فوج تتر بترہوچکی تھی، عوام برباد ہوگئے تھے اورخزانہ لٹ چکا تھا۔ ہر طرف افرا تفری تھی، قابض فوجوں کا غلبہ تھا، نہ قانون کی عملداری تھی، نہ انصاف کا نام و نشان تھا، قوم کی صرف ایک امنگ تھی اور وہ تھی زندہ بچ جانے والا شہزادہ۔۔۔۔شہزادہ جو قوم کی رہنمائی کرتا، ان کو یکجا کرتا، ان کو منظم کرتا اور ایک دفعہ پھر ایک خوشحال سلطنت قائم کرتا۔ لیکن، شہزادہ تو زنداں میں مقید تھا اورقابضین اسے صرف قید نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ اسے نشانِ عبرت بنانا چاہتے تھے۔ زنداں میں بھوک، پیاس اور تشدد سے مر جانے والا شہزادہ بھی عوام کے لیے مزاحمت کا استعارہ بن جاتا۔ وہ اسے امر نہیں ہونے دینا چاہتے تھے بلکہ اسے عیش و عشرت، عیاشی، رقص و سرود اور رنگ رلیوں میں غرق کردینا چاہتے تھے۔ ایسا شہزادہ جو نفس کا غلام بن جائے، اس کے دل سے رعایا کا غم نکل جائے اور وہ رعایا کے لیے فتح اور امیدکا ستارہ نہیں بلکہ ہزیمت اور یاسیت کا حوالہ بن جائے۔ نتیجتاً قوم نا امید ہوکر خود کو اپنے قابضین کے حوالے کردے۔
پھر آمریت قابض ہوگئی، تو کیا عوام نے ہتھیار ڈال دئیے؟ نہیں! کوڑے کھائے، سزائیں کاٹیں، اخباروں پر، آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنیں لگیں، لیکن آخر کار جیت جمہوریت اور جمہور کے ہی حصے میں آئی
اس کہانی کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری ہی قوم کی کہانی ہے۔ بابائے قوم رحلت فرما گئے، قائدِ ملّت شہید کردیئے گئے اور مادرِ ملّت پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئیں۔ اس ملک میں صحافی غیر محفوظ، انسانی حقوق کے علم بردار غیر محفوظ، رہنماغیر محفوظ، چوکیوں میں سپاہی، دکان میں مالک، گھر میں عوام، سڑک پر راہ گیر، مسجد میں نمازی، مندر میں پجاری، گرجا میں پادری اور اسکولوں میں معصوم بچے غیر محفوظ۔اتنی غیر محفوظ صورتِ حال میں تو ہمیں اس ملک کو بند کردینا چاہیئے! تالا ڈال دینا چاہیئے!
لیکن پچھلے ۶۸ سال سے یہ ملک قائم و دائم ہے! کوئی تو وجہ ہوگی؟ بجلی یہاں نہیں ہے، پٹرول یہاں ختم ہوجاتا ہے، پانی یا تو آتا نہیں ہے یا پھر سیلاب بن کرآتا ہے۔ شاید اس قوم کو ہمت ہار دینی چاہیئے تھی، لیکن نہیں ہارے، نظریہِ ضرورت کے نام پر جمہوریت پر شب خون مارا گیا، جمہور کے ضمیر کو مر جانا چاہیئے تھا، لیکن نہیں مرا۔۔۔۔ آگئے سڑکوں پر اور جمہوریت کو بحال کروالیا۔ ملک دو لخت ہوگیا، غم سے مر جانا چاہیئے تھا، اتنی سازشیں، اتنے ظلم، لیکن جیتے رہے۔
پھر آمریت قابض ہوگئی، تو کیا عوام نے ہتھیار ڈال دئیے؟ نہیں! کوڑے کھائے، سزائیں کاٹیں، اخباروں پر، آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنیں لگیں، لیکن آخر کار جیت جمہوریت اور جمہور کے ہی حصے میں آئی۔ پھر آمریت آگئی اور عوام پھر سڑکوں پر نکل آئے۔۔۔۔ سپریم کورٹ کا جج بھی بحال کروالیا اور جمہوریت بھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، انقلاب ہو تو ایران جیسا ہو کیسا دھڑن تختہ کیا تھا شاہ کا، تو فوراً جمہوری جواب آتا ہے، وہ بڑے شستہ لوگ ہیں، پانچ ہزار سال بعد غصہ میں آئے تھے ہم تو آمر کو دس سال میں فارغ کردیتے ہیں۔ ہار نہیں مانتے ہیں۔
دراصل یہ ملک اپنے شہریوں کے بل بوتے پر ہی چل رہا ہے، وہ شہری جو جب ٹھان لیں تو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس قائم کردیتے ہیں، وہ شہری جو ٹھان لیں تو دنیا کا بہترین کینسر اسپتال قائم کرلیتے ہیں
خیر کئی مہینوں تک شہزادے کو زنداں میں شراب و شباب کے ساتھ بند رکھنے کے بعد جب قابضین اس کی حالت دیکھنے گئے تو وہ حیران رہ گئے۔ شہزادے سے ہونے والی گفتگو نے انہیں مزید حیران و پریشان کردیا ۔ شہزادہ زنداں میں بیٹھا مطالعے میں مشغول تھا، کسی بھی نفسانی شغل سے دور، اجلا، اجلا، اس کی آنکھیں روشن تھیں، پرُ عزم۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نشے میں دھت کیوں نہیں ہو؟ تو اس نے کہا،” میں ایک شہزادہ ہوں، ولی عہد ہوں، یہ سب خرافات مجھے زیب نہیں دیتی ہیں، میرا مقصدِ حیات حکومت کرنا، عوام کے سکون کو یقینی بنانا اور مملکت میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ میری اقدار اور عزمِ جزم بہت بلند ہے۔”
آج ہماری قوم بھی شدید حالات سے دوچار ہے، ہم پر صرف بارودی جنگ ہی مسلط نہیں ہے بلکہ ایک اعصابی جنگ بھی جاری ہے۔ اور جیت اسی کی ہوگی جس کے اعصاب مضبوط ہیں۔ سلطانیِ جمہور کے دور میں قوم کا ہر نوجوان ایک شہزادہ ہے! شہزادہ بابائے قوم کا! اس قوم ہر بیٹا اور بیٹی قوم کا درد سینے میں رکھتا ہے۔ کیا ہوا جو بابائے قوم نہ رہے، ان کی اقدار، ان کے اصول، ضوابط اور عزم تو موجود ہے۔ اور یہ قوم لاشعوری طور پر ان اقدار پر عمل کر رہی ہے۔ اسی لیے آج تلک قائم و دائم ہے۔
بری خبر کو ہی اصل خبر کا درجہ دے کر ہم نے اپنے دشمنوں کا کام آسان کردیا ہے۔ بس ایک دھماکہ کردو اور دیکھو قوم کو تڑپتے ہوئے، کٹی پھٹی لاشوں اور روتے بلکتے چہروں کو بار بار دیکھ کر ہر شخص یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر یہ ملک چل کیسے رہا ہے؟ دراصل یہ ملک اپنے شہریوں کے بل بوتے پر ہی چل رہا ہے، وہ شہری جو جب ٹھان لیں تو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس قائم کردیتے ہیں، وہ شہری جو ٹھان لیں تو دنیا کا بہترین کینسر اسپتال قائم کرلیتے ہیں، جو کوریا کو ترقی کا پانچ سالہ منصوبہ دے دیتے ہیں، دنیا کوسماج سدھار اور دیہی ترقی سکھا ڈالتے ہیں۔ ایک مثالی فلاحی ریاست میں ہر کام ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے لیکن یہاں یہ خلا مثالی شہری پورا کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان اسکاوٹنگ کے دوران فقط کوہ پیمائی اور کیمپنگ کرسکتے ہیں، لیکن پاکستانی رضاکار، رینجرز اور پولیس کے شانہ بشانہ شہریوں کی خدمت کرتے ہیں اور جامِ شہادت بھی نوش کرتے ہیں۔
پاکستانی نبرد آزما ہیں، ہر مشکل، ہر مسئلے اور ہر مصیبت کے خلاف۔ یہ وطن چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں، وطن کو درپیش ہر مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کاوشوں کی تشہیر و تریج اس طرح سے نہیں ہورہی ہے جس طرح منفی خبروں کی ہوتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لوگوں کو سچ نہ بتایا جائے، بالکل بتایا جائے، لیکن آٹھ کے آٹھ صفحوں پر ملک بھر سے چن چن کر، خون خرابے، ظلم و تشدداورجرائم کی خبریں چھاپ دینے سے پورا ملک ہیجان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ۴ صفحات پر امن و امان اور انسانیت کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں اور کامرانیوں کو شائع کیا جائے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ کام شہریوں کو انتہائی مستعدی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ دنیا کو بتانا چاہیئے کہ اس ملک کے رہنے والے اس ملک سے، انسانیت اور ترقی سے پیار کرتے ہیں اور ہر طرح سے اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

سپریم کورٹ اور زبان دانیاں

آج کل دنیا جہاں کی اعلیٰ عدلیہ میراتھن دوڑ کی کھلاڑی بنی ہوئی ہیں۔امریکہ میں ججوں کو ہوشیاری آئی تو پاکستان تک فیس بکیوں پہ ساتوں رنگ برسے؛ خیر ان کا اپنا معاملہ ہے پر مجھے ان سے ایک ہی معاملہ درپیش ہے۔ اگر ان ترقی یافتہ ملکوں میں سب کے سب یا زیادہ تر “ماؤں کے لاڈلے اور لاڈلیاں” بن گئے/ گئیں تو ان ملکوں میں جہاں تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتیں ہیں وہاں کی آبادی بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ لیکن باقی کے براعظم جہاں اپنی شہوتوں کی پوجا کرتے کرتے بچوں کی قطاریں لگائی جاتی ہیں، گوشت پوست کے بنے انسان نما روبوٹ دن رات پیدا کیے جا رہے ہیں وہاں افزائش آبادی کی شرح کو آگ لگ جائے گی۔ان کی اس “آزادی اور انتخاب” سے دنیا میں بہتر تعلیم کے مواقع کے حامل انسانوں اور “حالات کے ہاتھوں مجبور ڈنگروں” میں تناسب بہت بگڑ جائے گا۔ انسانیت ہی کو قیمت چکانا پڑے گی۔ خیر انہیں چھوڑیں کیونکہ اپنے بھی بہت سارے مسائل ہیں۔
پرائمری سکول میں سیکھی بھینس کی ایک گاؤں سے دوسری قصبے میں فروخت کی رسید دوبارہ لکھ کر دکھائیں
اب آتے ہیں اپنی سپریم کورٹ کی طرف۔ ہماری سپریم کورٹ ویسے تو افتخار چوہدری کے جانے کے بعد کافی شستہ اور سدھری سدھری سی محسوس ہوتی ہے ماسوائے اس لمبے بالوں والے جج کی عاداتِ سخن کہ۔ بہرحال اس “عظمٰی عدالت” نے زبانوں کے معاملے پر حکومتی بازو مروڑی ہے۔ پر ہوا کیا ہے؟ ہوا یہ ہے کہ ایک اور غیر زبان اس خطے کے پنجابیوں، سرائیکیوں، سندھیوں، پشتونوں، بلوچوں، براہویوں، گلگتیوں اور دیگر لسانی اکائیوں پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ایک زبان جسے سات فیصد سے کم لوگ اپنی مادری زبان کہتے ہیں، ایک ایسی زبان جس پر عربی اور فارسی مصنوعی طور پر ٹھونسی گئی ہوں؛ وہ زبان جو کہ گلی میں چلنے والے عام آدمی کی سمجھ بوجھ سے دور کر دی گئی ہو اسے قومی زبان قرار دے کر ہماری آنے والی نسلوں پر لادی جارہی ہے۔اگر بات سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو:

1۔ پرائمری سکول میں سیکھی بھینس کی ایک گاؤں سے دوسری قصبے میں فروخت کی رسید دوبارہ لکھ کر دکھائیں۔

2۔ پاکستان کے قومی ترانے کے کوئی سے پانچ مصرعوں کی اپنے سات سالہ بچے کو نثر کر کے سنائیں اور سمجھائیں۔گواہ آپ اپنے آپ کو ہی رکھیں، کسی اور کو اندر لانے کی ضرورت پڑی تو شاید اپنی انا کی حفاظت کی خاطر کہیں سامنے آیا سچ دب نہ جائے۔

3۔ انسانی جسم کے نظام تنفس، نظام انہضام، نظام دوران خون اور نظام تولید کے مختلف حصوں کے نام اور وظائف کی تعریف کیجیے۔

4۔ دائرے اور تکون کے ریاضیاتی مسائل کی اردو توضیح اور طبعیات ، کیمیا، ریاضی اور حیاتیات کی اردو اصطلاحات دوبارہ یاد کیجیے۔

اور اگر آپ مندرجہ بالا میں سے کوئی ایک سرگرمی بھی سرانجام دینے کے اہل نہیں توخدارا صرف بوتلیں بدلنے سے گریز کیجیے اور نئی سوچ اورفکر عام کرنے کے لیےزبان سے متعلق آسانیاں پیدا کریں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ زبانوں کو زمین پہ لایا جائے، انہیں زبان کے ٹھیکیداروں کی رہزنی سے پھر سے آسمان پہ لے جایا جاتا ہے حالانکہ یہ خالصتاً زمینی ضرورتوں کی پیداوار ہوتی ہیں۔ ازراہ مہربانی روز مرہ استعمال کی زبانوں کو آسان بنائیے۔میری نوکری چونکہ وفاق میں تعلیم کے شعبہ سے لگ لگاؤ والی ہے تو کبھی کبھی دیکھتا ہوں کہ وفاقی تعلیمی بورڈ امتحانی پرچوں میں اصطلاحات کا اردو ترجمہ چھاپتی ہے۔ خدا کی قسم مجھے ان کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اسی لیے میں ڈر رہا ہوں کہ بچوں پرایک اور “غیر”زبان پھر سے نہ ٹھونس دی جائے۔ پتا چلے کہ ایک دریا پار کیا اور ہانپتے کانپتے ہوئے باہر نکلے تو آگے ایک اور دریا منہ چڑائے سامنے کھڑا ہے۔ مزید یہ کہ ان زبانوں کو بھی کچھ مقام، مرتبہ اور جگہ دیجئے جہاں ان علاقوں کے لوگ ہیں جن کی دھرتی پہ “دو قومی نظریے” نے پاکستان پیدا کیا۔
سپریم کورٹ کے اس نئے حکم نامے کےبعدسرکاری اعلان سے پتہ نہیں کیوں مجھے ڈھاکہ میں چلنے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنائی دے رہی ہے۔مجھے پھر وہی وقت لوٹتا دکھائی دے رہاہے جب ہماری ایک خاص خطے کی “مہاجر اشرافیہ” اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار “ڈھول سپاہیوں” نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان تو صرف اردو ہو گی اور باقی زبانیں جائیں بھاڑ میں۔

ان زبانوں کو بھی کچھ مقام، مرتبہ اور جگہ دیجئے جہاں ان علاقوں کے لوگ ہیں جن کی دھرتی پہ “دو قومی نظریے” نے پاکستان پیدا کیا
ہُن پنجاب والیاں لئی اک گذارش:
پنجابی زبان لئی وی کجھ ہمت وکھاؤ۔ ایہنوں صرف اپنے یاراں دے وچ بیہہ کے بے شرمی دیاں گلاں، گندے لطیفیاں، سڑک تے رستہ نہ دین آلی گڈیاں دےڈرائیوراں نوں گالاں کڈن لئی تے کولوں لنگدی زنانیاں دیاں لتاں تے چھاتی بارے تبصرے لئی ہی نہ رہن دیو۔ اپنے چنگے وچاراں لئی وی استعمال کرو، تے اگر تسی اپنے بال بچیاں نوں دوجیاں زباناں دے نال اپنی ماں وی سکھاؤ دے تے کجھ گھٹ نئیں جانا اوہناں دا۔ بلکے نوی تحقیق دے مطابق اک توں زیادہ زباناں جانن، بولن تے لکھن والا بچہ زیادہ ذہین ہوندا ایہہ۔
اپنے اندر دے کوڑھ تے نیویں سوچ نوں اپنے اندوروں باہر کڈھ مارو۔ اگر پنجاب دی دھرتی تے موجود صوفی بزرگاں نیں پنجابی وچ سوہنی تے من موہنی شاعری کیتی ایہہ تے ایہدا مطلب ایہہ اے کہ پنجابی زبان لطیف جذبیاں دے اظہار دا اک چنگا بھلا ذریعہ ایہہ۔
اگر پنجاب کے صوفی شعراء پنجابی کو ذریعہ اظہار بنا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زبان لطیف جذبات کا اظہار کرنے کی اہل ہے
ماں بولی پہلے تےقومی زباناں بعد وچ، کیونکہ ماں سب توں پہلے سانوں سینے نال لاندی ایہہ، ساڈا منہ متھا چومدی ایہہ تے قوم سانوں بعد وچ ” مار کے چھانویں سُٹھدی ایہہ”۔
(اب ایک گزارش پنجابیوں سے:
پنجابی زبان کے لیے بھی ہمت دکھائیے۔اسے صرف دوستوں میں بیٹھ کر بے شرم گفتگو،گندے لطیفوں، سڑک پر راستہ نہ دینے والی گاڑیوں کے ڈرائیواروں اور قریب سے گزرتی خواتین کے کولہوں اور چھاتیوں پر تبصروں تک محدود مت کیجیے۔ اپنے مثبت خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بھی اس زبان کا استعمال کیجیے، اگر آپ اپنے بچوں کو دیگر زبانیں سکھانے کے علاوہ مادری زبان بھی سکھائیں گے تو وہ گھاٹے میں ہرگز نہیں رہیں گے۔ نئی تحقیق کے مطابق ایک سے زیادہ زبانیں سیکھنے اور بولنے والے بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ اپنے اندر کے احساس کم تری کو نکال باہر کیجیے۔ اگر پنجاب کے صوفی شعراء پنجابی کو ذریعہ اظہار بنا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زبان لطیف جذبات کا اظہار کرنے کی اہل ہے۔ مادری زبان کا درجہ قومی زبان سے پہلے ہے۔ کیوں کہ پہلے ماں ہمیں چوم کر سینے سے لگاتی ہے اور پھر قوم ہمیں مار کر چھاوں میں ڈالتی ہے۔)
Categories
نقطۂ نظر

کاش میں صحافی بن سکتا

نہ تو میرا باپ کوئی مشہور اداکار ہے نہ ہی میں سپریم کورٹ سے اپنا لائسنس معطل کروانے والا وکیل ہوں، نہ ہی میں مشرف اور بلاول کا مشیر اور تیسرے درجے کا وکیل رہا ہوں نہ ہی میں اشتہارسازی کی دنیا کا گرو یا کسی فلم کا ہدایت کار ہوں شاید اسی لیے مجھے صحافی بننے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے اپنے سینئرز سے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ سے بہت گلا ہے ،انہوں نے مجھے کامران شاہد، بابر اعوان، فواد چوہدری، مبشر لقمان اور شاہد مسعود، شاہ زیب خانزادہ ، فریحہ ادریس، مہر بخاری یا منزہ جہانگیر کی طرح کا صحافی بننے کا طریقہ نہ پڑھایا نہ سکھایا۔ یہ نام نہاد صحافی جو اینکر بن کر ہم پر اچانک مسلط کر دیئے گئے ہیں اور اب ذرائع ابلاغ پر راج کر رہے ہیں نجانے انہیں ان کے اساتذہ کیا گھول کر پلاتے رہے ہیں کہ یہ راتوں رات ٹی وی سکرینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو بریگیڈئیر ریٹائرڈ صولت رضا ہمارے شعبہ ابلاغ عامہ کےسربراہ تھے۔ وہ ہمیں اہم انگریزی اوراردو روزنامے پڑھ کر آنے کا درس دیتے رہے، ہمیں محنت، دیانتداری اورلگن سے رپورٹنگ کرنے کی تلقین کرتےرہے۔ وہ ہمیں خبر اور رائے میں فرق سمجھاتے رہے، افواہوں کی بجائے مصدقہ اطلاعات تک رسائی کا درس دیتے رہے اور زرد صحافت سے بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ نجانے ہمارے اساتذہ ہمیں کیسی صحافت پڑھاتے رہے کہ ہم صحافی نہیں بن سکے اور یہ لوگ راتوں رات صحافی بن گئے، صرف صحافی نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے صحافی۔
اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے
ہمیں متین حیدر صاحب رپورٹنگ پر لمبے لمبے لیکچر دیتے رہے، ہمارے اساتذہ ہمیں پوری دنیا کے سربراہان مملکت کے نام یاد کرنے اور حالات حاضرہ سے واقف رہنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، دوران تعلیم صحافتی اخلاقیات ، تاریخ اور تحاریک کی تکرار نے ہمیں پاگل کر دیا، اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے، ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کس طرح میڈیا مالکان اور سیٹھوں کے اشاروں پر ناچنا ہے ، ہمیں یہ نہیں پڑھایا گیا کہ کس طرح اشتہاروں کے حصول کے لیے رپورٹنگ کرنی ہے ہمیں نہیں بتایا گیا کہ مالکان کے مفادات کے لیے دن رات ایک کرنا کیا ہوتا ہے۔
ہمیں شاید سبھی کچھ غلط پڑھایا گیاہے۔ ہمیں واٹر گیٹ سکینڈل، ریسرچ اینڈ میڈیا ہسٹری ، ضابطہ اخلاق اور پتہ نہیں کیا کچھ پڑھایا جاتا رہا پھر ہمیں بتایا گیا کہ رپورٹنگ کرنی ہے تو کسی نیوز ایجنسی میں چار پانچ سال جوتے گھساو پھر جا کر کچھ سمجھ آ ئے گی۔ ٹی وی، اخبارات اور کتابوں کو اپنا اوڑھنا بجھونا بناو پھر کہیں جا کرصحافی ہونے کی ابتدائی اہلیت پر پورا اترو گے۔ ہم بھی لگے رہے پاگلوں کی طرح پہلے نیوز ایجنسی میں جوتے گھسائے، تین چار سال بعد ایک اخبار ایکسپریس میں ملازمت کی اور پھر کبھی کوئی اخبار تو کبھی کوئی ۔۔۔ جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔ ایک دو اداروں کے بارے میں مل گئیں تو کہا گیا جیسے بھی ہو بس ان کے خلاف خبریں چاہیں، کہیں سے بھی لاو کچھ بھی کرو، خود سے گھڑو مگر خبر لے کر آو اور روزانہ کی بنیاد پر لاو۔ جیسے تیسے اپنا ضمیر مارے کام کرتے رہے۔ جب کبھی کسی ادارے میں کچھ ذرائع بنے اور صحیح معنوں میں خبریں ملنے لگیں تو ہمیں کہا گیا کہ بس اب اس ادارے کے خلاف خبریں نہیں لانی انہوں نے اشتہارات دینا شروع کر دیئے ہیں۔ ایک دفعہ تو حیرت ہوئی کہ وہ مدیر صاحب جو دفتر میں دو منٹ بیٹھنے نہیں دیتے تھے کہ “ان اداروں” کی خبریں لے کر آو مجھے کہتے ہیں کہ کیا روز خبریں روز خبریں دے رہے ہوتے ہو کچھ دن آرام کرو گاوں کا چکر لگاآو۔
جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔
پاکستان میں صحافت پتہ نہیں کیسے، کس کے ذریعے اور کس کے لیے ہے ، صحافت اور یہ صحافی پتہ نہیں کس طرح اورکس ضمیر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہی ضمیر فروش صحافی ٹھیک ہوں۔ ایک دن ٹی وی پر بابر اعوان صاحب فرما رہے تھے کہ اب میں جو خبر دینے لگا ہوں یہ سن کر عوام کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور رائے ونڈ کے محلوں میں زلزلہ آ جائے گا میں نے آواز اونچی کی اور دیگر تمام رپورٹر اور سب ایڈیٹر بھی متوجہ ہوئےکہ بابر اعوان صاحب کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں کسی بہت خاص بندے نے بتایا ہے کہ رائے ونڈ میں کتنے پولیس اہلکار پروٹوکول ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی پورا رپورٹنگ روم اور نیوز روم ہنسنے لگا کیوں کہ یہ خبر اسی روز دنیا اخبار کے پہلے صفحے پر تین کالم میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن وہ کر سکتے ہیں وہ بہت کمال “صحافی” ہیں پتہ نہیں ان میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ اچانک ہی وکیل سے تجزیہ نگار بن گئے۔
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں۔ بہتر ہے کہ صرف انہی افراد کو اس مضمون کی تعلیم دی جائے جو سیاسی پشت پناہی یا متنازعہ ماضی کے حامل ہوں تاکہ انہیں صحافت کی سوجھ بوجھ کے بغیر بھی راتوں رات معروف تجزیہ نگار کے تخت پر بٹھایا جاسکے۔ صحافت کے طلبہ کو آزادی اظہاررائے، صحافتی اخلاقیات اور رپورٹنگ کی تعلیم کی بجائے میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا سکھایا جائے تو کئی ایک کا مستقبل برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔ میڈیا مالکان کے قریب اور ان کا پسندیدہ رہنے کا گُر اگر بتایا جائے تو عملی زندگی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔محنت کی بجائے کوئی ایسا وظیفہ بتا دیا جائے جسے پڑھ کر اینکر، کالم نویس، تجزیہ نگار، مبصر اور بوقت ضرورت صحافی بننے میں آسانی ہو۔