Categories
نقطۂ نظر

صحافتی پھوپھیاں اور سیاسی طلاقیں

عمران خان اور ریحام خان کی شادی سے ایک ماہ پہلے صحافتی پھوپھیوں نے زرد صحافت کا جو ڈھول بڑی دھوم دھام سے بجانا شروع کیا تھا وہ اُن کی طلاق تک پہنچتے پہنچتے تقریباً پھٹ چکا ہے۔ جب عمران خان نے صحافیوں پر برستے ہوئے اُنہیں اپنی نجی زندگی سے دور رہنے کو کہا تو بہت سے صحافیوں کو عمران خان کے خلاف عجیب و غریب احتجاج کرتے دیکھا گیا۔ اِس احتجاج کی توجیہہ ان تمام “صحافی” خواتین و حضرات کے پاس یہ تھی کہ “جناب دیکھیں ہم نے قومی اہمیت کے تمام معاملات کو بالائے طاق رکھ کر آپ کے ‘آفاقی’ دھرنے کی مصالحے دار رپورٹینگ اور تبصرہ نگاری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آپ اُس وقت ہماری اُن حرکتوں پر نہ صرف ہماری پیٹ تھپتھپاتے تھے بلکہ ہمیں اپنی جماعت کا ہی رکن سمجھتے تھے۔ اور آج جب ہم دوبارہ قومی اہمیت کے باقی تمام امور اور مسائل نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف آپ کی طلاق جیسے ‘آفاقی’ مسئلے کی رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری سے اگر زردہ نہیں تو ماتمی اور مرچیلی زرد بریانی بنانا چاہتے ہیں تو آپ ہمارے لیے مغلظات بک رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟”
ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی شادی اور طلاق کے معاملات کی کوئی سیاسی جہت نکلتی ہو لیکن فی الحال اس بارے میں مہیا کی گئی تمام تر صحافتی بریانی بے ذائقہ اور پھیکی ہے لیکن اس کا رنگ خوب زرد ہے

 

بہت سے صحافیوں اور گرم مصالحہ کھانے والے دانشوروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی کوئی صورت نکل ہی نہیں سکتی جس میں عمران خان کی شادی اور طلاق جیسے واقعات بغیر کسی ملکی سیاسی مدوجزر کے رونما ہوسکیں۔ اور چونکہ ملکی سیاسی معاملات کے تمام گوشوں اور پہلوؤں تک عوام کی رسائی ہونی چاہیے اس لیے عمران خان کی شادی اور طلاق نہ صرف ایک عوامی دلچسپی کا موضوع ہے بلکہ ان واقعات کی موجودہ صحافت میں اہمیت کسی بھی بڑے سیاسی واقعے سے کم نہیں ہو سکتی۔

 

ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی شادی اور طلاق کے معاملات کی کوئی سیاسی جہت نکلتی ہو لیکن فی الحال اس بارے میں مہیا کی گئی تمام تر صحافتی بریانی بے ذائقہ اور پھیکی ہے لیکن اس کا رنگ خوب زرد ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک سوال اُٹھانا چاہیئے کہ آخر عمران خان کی طلاق کی سیاسی نوعیت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ بنیادی معلومات درکار ہیں جس کے لیے سب سے پہلے ماخذ اور راوی تو ریحام اور عمران کو سمجھا جانا چاہیئے اور ان کے آپس کے ہر متفقہ بیان کو من و عن تسلیم کرلینا چاہیے۔ کیونکہ یہ معاملہ لاکھ سیاسی سہی بہرحال ان کا ذاتی معاملہ تھا اور اگر وہ ایک متفقہ بیان دے رہے ہیں تو اُسی کو کافی جاننا چاہیئے۔ یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ اگر ان میں سے کسی ایک فریق نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی بھی تھی تو اب بہرحال اس متفقہ بیان کی صورت میں وہ اپنے اختلافات بھلا چکے ہیں؛ شاید ایک دوسرے کو معاف بھی کرچکے ہیں اور اس دقیانوسی معاشرے کی روایات کے خلاف طلاق جیسا متنازعہ لیکن درست فیصلہ بھی کر چکے ہیں۔ اس معاملے میں کسی اور ماخذ کی اختلافی رپورٹنگ اور تبصرے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ خدانخواستہ یہ راجوں مہاراجوں، شہنشاہوں اور بادشاہوں کا زمانہ تو ہے نہیں کہ ہر شادی اور ہر طلاق کی کوئی نہ کوئی سیاسی وجہ لازماً ہو۔ اس سراسر ذاتی اور خانگی معاملے کی جو بھی سیاسی نوعیت ہے وہ ثانوی حیثیت کی حامل ہے اور عوامی مقبولیت کو سامنے رکھتے ہوئے زرد صحافتی رپورٹنگ اور اور تبصرہ نگاری کی وجہ سے بن گئی یا بنا لی گئی یا زبردستی گھڑ لی گئی ہے۔

Untitled-1

 

ریحام خان اور عمران خان کی طلاق کے واقعے میں عارف نظامی صاحب نے ایک معاملہ فہم صحافتی پھوپھی کا کردار ادا کیاہے۔ اگر نظامی صاحب ایک انگریزی اخبار کے مدیر نہ ہوتے تو اُن کو اِس اعلیٰ صحافتی معیار پر ہرگز نہ پرکھا جاتا۔ لیکن حالات یہ ہیں کہ اُن کے موجودہ کردار کو دیکھتے ہوئے تو کوئی تیسرے صفحے پر رپورٹنگ کرنے والا صحافی بھی شرما جائے۔ آج صحافت اگر حقیقتاً زندہ ہوتی تو نظامی صاحب کے صحافتی قدکاٹ میں کچھ کمی واقع ہو جاتی۔ لیکن معاملات اس کے بالکل برعکس رہے اور نظامی صاحب نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے قومی صحافتی دھارے کی سمت میں ہی تبدیل کرڈالی۔ بلدیاتی انتخابات کے روز کچھ بڑے اخبارات نے تو اس واقعے کو اپنے صفحات اول پر سب سے اہم جگہ پر شہ سرخی بنا کر پیش کیا حالانکہ یہ سراسر تیسرے صفحے کی خبر تھی۔ چلیں اگر آپ نے اسے سرورق پر جگہ دینی ہی تھی تو کسی کم اہم گوشے میں دے دیتے یا کم از کم بلدیاتی انتخابات کے موقع پرتو اسے کسی کم اہم گوشے میں چھاپتے۔ ٹی وی پر سیاسی اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں ایسے معاملات زیرِبحث لانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ بہت سے مارننگ شوز اور دیگر فضول ٹی وی پروگراموں میں اس واقعے کی تمام تر پرتیں اور گرہیں باآسانی کھولی جاسکتی تھیں۔

 

کیا صحافت کے پیشے سے وابستہ ہونے کے ناطے اُس دن ٹی وی پر چلنے والی خبریں؛ حالاتِ حاضرہ کے پروگرام اور اخبارات اپنا اصل کام یعنی بلدیاتی انتخابات سے جڑے تمام تر انتظامات اور مسائل پر رپورٹنگ، تجزیے اور تبصرے کر چکے تھے؟

 

تقریباً بیس کڑوڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا عمران کی طلاق جیسا واجبی سا معاملہ نئے بلدیاتی انتظام، انتخابات اور ان سے جڑی مثبت اور منفی تبدیلیوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟
ایسے سیاستدان اور دانشور جو بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی خاص تعلق نہیں ہونا چاہیے انہیں بالخصوص اس معاملے میں عمران پر پھبتیاں نہیں کسنی چاہیئے تھیں کیوں کہ سیاست اور ذاتی زندگی کی علیحدگی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔

 

ہمارے بلدیاتی نظام میں اتنے اہم اور پیچیدہ مسائل ہیں کہ شاید صحافیوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اِس تمام معاملے کی رپورٹنگ اور اِس پر تجزیہ نگاری کرنے سے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلی ہو اور اس کام کو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف سمجھا ہو۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ معاملات اتنے سادہ بھی نہیں ہیں۔ بڑے صحافتی اداروں کی صحافت کا محور صرف اور صرف عوامی مقبولیت کے موضوعات ہیں اور پیچیدہ اور دوررس اہمیت کی حامل خبروں کو یہ سب سے کم اہم صفحات اور گوشوں میں جگہ دیتے ہیں۔

 

ہمارے شرمناک صحافتی طرزعمل کے برعکس ریحام خان اور عمران خان کی شادی اور طلاق کے دونوں فیصلوں کو بہت سراہا جانا چاہیے تھا۔ ان دونوں واقعات سے اِن دونوں کی ذاتی زندگی کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ دونوں نے اپنی شادی اور طلاق جیسے متنازعہ اور مشکل کام اس دقیانوسی معاشرے میں نہایت خوش اسلوبی سے نمٹائے، خصوصاً طلاق کے معاملے میں ان دونوں کی معاملہ فہمی اور سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ ان دونوں کو اس عجیب و غریب صحافتی اور سیاسی کسوٹی پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک میں طلاق سے جڑے منفی رویے اس قدر شدید ہیں کہ بہت سی شادیاں صرف طلاق لینے کی مشکلات کی وجہ سے حبسِ بےجامعلوم ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں طلاق جیسا فیصلہ کرنا آپ کی بالغ نظری اور جذباتی پختگی کا ثبوت دیتا ہے۔
بڑے صحافتی اداروں کی صحافت کا محور صرف اور صرف عوامی مقبولیت کے موضوعات ہیں اور پیچیدہ اور دوررس اہمیت کی حامل خبروں کو یہ سب سے کم اہم صفحات اور گوشوں میں جگہ دیتے ہیں۔

 

اگرچہ میرے نزدیک عمران خان ایک اُوسط درجے کے سیاستدان ہیں اور اُن کے بہت سے سیاسی اور حکومتی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچا ہے اور تاحال پہنچ رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اِس وجہ سے اُن کے ہر نجی معاملے کو بھی اُن کی سیاست سے جوڑ دیا جائے۔ اس وجہ سے خورشید شاہ، شہلا رضا اور بہت سی سیاسی شخصیات کے بیانات بھی بچگانہ اور قابلِ افسوس ہیں۔
ایسے سیاستدان اور دانشور جو بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی خاص تعلق نہیں ہونا چاہیے انہیں بالخصوص اس معاملے میں عمران پر پھبتیاں نہیں کسنی چاہیئے تھیں کیوں کہ سیاست اور ذاتی زندگی کی علیحدگی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔ جس طرح مذہب کسی فرد کا ذاتی معاملہ ہے اسی طرح شادی اور طلاق بھی اس کا خانگی مسئلہ ہے، جب آپ عمران خان کی سیاست اور خانگی معاملات کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کریں گے تو لوگ آپ کے عقیدے اور سیاست کو بھی جوڑنے میں خود کو حق بجانب سمجھیں گے۔ کل کلاں کو آپ کا یہی طرزِ عمل سیاستدانوں کے سر پر اُن کے دین و ایمان سے متعلق سوالات کی صورت میں تلوار بن کر لٹکنے لگے گا۔ پاکستانی معاشرے میں تو پہلے سے ہی لوگوں کے مذہبی عقائد کو اُن کا ذاتی معاملہ نہیں سمجھا جاتا اور جب آپ ذاتی اور سیاسی زندگی کو جوڑنے کا چلن عام کریں گے تو ہر صحافی کو یہ ‘حق’ مل جائے گا کہ وہ کسی بھی سیاستدان سے دعائے قنوت زبانی سننے کی فرمائش کر ڈالے۔
Categories
نقطۂ نظر

کاش میں صحافی بن سکتا

نہ تو میرا باپ کوئی مشہور اداکار ہے نہ ہی میں سپریم کورٹ سے اپنا لائسنس معطل کروانے والا وکیل ہوں، نہ ہی میں مشرف اور بلاول کا مشیر اور تیسرے درجے کا وکیل رہا ہوں نہ ہی میں اشتہارسازی کی دنیا کا گرو یا کسی فلم کا ہدایت کار ہوں شاید اسی لیے مجھے صحافی بننے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے اپنے سینئرز سے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ سے بہت گلا ہے ،انہوں نے مجھے کامران شاہد، بابر اعوان، فواد چوہدری، مبشر لقمان اور شاہد مسعود، شاہ زیب خانزادہ ، فریحہ ادریس، مہر بخاری یا منزہ جہانگیر کی طرح کا صحافی بننے کا طریقہ نہ پڑھایا نہ سکھایا۔ یہ نام نہاد صحافی جو اینکر بن کر ہم پر اچانک مسلط کر دیئے گئے ہیں اور اب ذرائع ابلاغ پر راج کر رہے ہیں نجانے انہیں ان کے اساتذہ کیا گھول کر پلاتے رہے ہیں کہ یہ راتوں رات ٹی وی سکرینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو بریگیڈئیر ریٹائرڈ صولت رضا ہمارے شعبہ ابلاغ عامہ کےسربراہ تھے۔ وہ ہمیں اہم انگریزی اوراردو روزنامے پڑھ کر آنے کا درس دیتے رہے، ہمیں محنت، دیانتداری اورلگن سے رپورٹنگ کرنے کی تلقین کرتےرہے۔ وہ ہمیں خبر اور رائے میں فرق سمجھاتے رہے، افواہوں کی بجائے مصدقہ اطلاعات تک رسائی کا درس دیتے رہے اور زرد صحافت سے بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ نجانے ہمارے اساتذہ ہمیں کیسی صحافت پڑھاتے رہے کہ ہم صحافی نہیں بن سکے اور یہ لوگ راتوں رات صحافی بن گئے، صرف صحافی نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے صحافی۔
اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے
ہمیں متین حیدر صاحب رپورٹنگ پر لمبے لمبے لیکچر دیتے رہے، ہمارے اساتذہ ہمیں پوری دنیا کے سربراہان مملکت کے نام یاد کرنے اور حالات حاضرہ سے واقف رہنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، دوران تعلیم صحافتی اخلاقیات ، تاریخ اور تحاریک کی تکرار نے ہمیں پاگل کر دیا، اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے، ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کس طرح میڈیا مالکان اور سیٹھوں کے اشاروں پر ناچنا ہے ، ہمیں یہ نہیں پڑھایا گیا کہ کس طرح اشتہاروں کے حصول کے لیے رپورٹنگ کرنی ہے ہمیں نہیں بتایا گیا کہ مالکان کے مفادات کے لیے دن رات ایک کرنا کیا ہوتا ہے۔
ہمیں شاید سبھی کچھ غلط پڑھایا گیاہے۔ ہمیں واٹر گیٹ سکینڈل، ریسرچ اینڈ میڈیا ہسٹری ، ضابطہ اخلاق اور پتہ نہیں کیا کچھ پڑھایا جاتا رہا پھر ہمیں بتایا گیا کہ رپورٹنگ کرنی ہے تو کسی نیوز ایجنسی میں چار پانچ سال جوتے گھساو پھر جا کر کچھ سمجھ آ ئے گی۔ ٹی وی، اخبارات اور کتابوں کو اپنا اوڑھنا بجھونا بناو پھر کہیں جا کرصحافی ہونے کی ابتدائی اہلیت پر پورا اترو گے۔ ہم بھی لگے رہے پاگلوں کی طرح پہلے نیوز ایجنسی میں جوتے گھسائے، تین چار سال بعد ایک اخبار ایکسپریس میں ملازمت کی اور پھر کبھی کوئی اخبار تو کبھی کوئی ۔۔۔ جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔ ایک دو اداروں کے بارے میں مل گئیں تو کہا گیا جیسے بھی ہو بس ان کے خلاف خبریں چاہیں، کہیں سے بھی لاو کچھ بھی کرو، خود سے گھڑو مگر خبر لے کر آو اور روزانہ کی بنیاد پر لاو۔ جیسے تیسے اپنا ضمیر مارے کام کرتے رہے۔ جب کبھی کسی ادارے میں کچھ ذرائع بنے اور صحیح معنوں میں خبریں ملنے لگیں تو ہمیں کہا گیا کہ بس اب اس ادارے کے خلاف خبریں نہیں لانی انہوں نے اشتہارات دینا شروع کر دیئے ہیں۔ ایک دفعہ تو حیرت ہوئی کہ وہ مدیر صاحب جو دفتر میں دو منٹ بیٹھنے نہیں دیتے تھے کہ “ان اداروں” کی خبریں لے کر آو مجھے کہتے ہیں کہ کیا روز خبریں روز خبریں دے رہے ہوتے ہو کچھ دن آرام کرو گاوں کا چکر لگاآو۔
جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔
پاکستان میں صحافت پتہ نہیں کیسے، کس کے ذریعے اور کس کے لیے ہے ، صحافت اور یہ صحافی پتہ نہیں کس طرح اورکس ضمیر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہی ضمیر فروش صحافی ٹھیک ہوں۔ ایک دن ٹی وی پر بابر اعوان صاحب فرما رہے تھے کہ اب میں جو خبر دینے لگا ہوں یہ سن کر عوام کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور رائے ونڈ کے محلوں میں زلزلہ آ جائے گا میں نے آواز اونچی کی اور دیگر تمام رپورٹر اور سب ایڈیٹر بھی متوجہ ہوئےکہ بابر اعوان صاحب کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں کسی بہت خاص بندے نے بتایا ہے کہ رائے ونڈ میں کتنے پولیس اہلکار پروٹوکول ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی پورا رپورٹنگ روم اور نیوز روم ہنسنے لگا کیوں کہ یہ خبر اسی روز دنیا اخبار کے پہلے صفحے پر تین کالم میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن وہ کر سکتے ہیں وہ بہت کمال “صحافی” ہیں پتہ نہیں ان میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ اچانک ہی وکیل سے تجزیہ نگار بن گئے۔
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں۔ بہتر ہے کہ صرف انہی افراد کو اس مضمون کی تعلیم دی جائے جو سیاسی پشت پناہی یا متنازعہ ماضی کے حامل ہوں تاکہ انہیں صحافت کی سوجھ بوجھ کے بغیر بھی راتوں رات معروف تجزیہ نگار کے تخت پر بٹھایا جاسکے۔ صحافت کے طلبہ کو آزادی اظہاررائے، صحافتی اخلاقیات اور رپورٹنگ کی تعلیم کی بجائے میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا سکھایا جائے تو کئی ایک کا مستقبل برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔ میڈیا مالکان کے قریب اور ان کا پسندیدہ رہنے کا گُر اگر بتایا جائے تو عملی زندگی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔محنت کی بجائے کوئی ایسا وظیفہ بتا دیا جائے جسے پڑھ کر اینکر، کالم نویس، تجزیہ نگار، مبصر اور بوقت ضرورت صحافی بننے میں آسانی ہو۔