Categories
شاعری

کششِ ثقل (رضوان علی)

میرے پیر زمین پہ جمے ہوئے ہیں
لیکن میں دراصل
اس زمین سمیت
خلاء میں تیر رہا ہوں
ایک کائنات سے دوسری کی طرف
جاتے ہوئے

ازل سے ابد تک کا سفر
مجھے اپنے اندر ہی طے کرنا ہے

بہت جلد
سارے خداؤں کے درمیان
ایک گھمسان کی جنگ چھڑے گی
بس وہی فیصلے کی گھڑی ہے
اور پھر ۔۔۔
نو آسمان تہہ بہ تہہ
ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گے
اور میں تم سے
بہت دور چلا جاؤں گا

مجھے تمہاری کمی
پہلے سے بھی زیادہ
محسوس ہو رہی ہے

یہاں آؤ ۔۔۔
بچھڑنے سے پہلے
میں ایک بار تمھیں
بہت قریب سے
دیکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

حیرت کا شکار (رضوان علی)

کل ایسا لگا
کہ جیسے کسی جنگلی جانور نے
پینترہ بدل کر
میری کمر پہ کاٹ لیا ہو

سینہ، گردن، سر تو شاید
ایک آدھ زخم سہہ بھی جاتا
لیکن کمر سے جب یکلخت
گوشت کا بڑا سا ٹکڑا
کاٹ کر نکال دیا جائے
تو شکار وہیں ڈھیر ہو جاتا ہے

اور میں زمین پہ گرا بے بسی سے
اس جنگلی جانور کی طرف دیکھتا رہا
ارے، یہ تو میرا برسوں پرانا پالتو کتا ہے!!

Categories
شاعری

زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

مجھے ہر سمت سے کھینچا جا رہا ہے
رسیاں میرے نتھنوں میں بھی
نکیل بنا کر
ڈال دی گئی ہیں
میرے جوڑ اب مجھ سے الگ ہونے والے ہیں
کیا میں یہ سب کچھ سہہ پاؤں گا؟

میں تھکنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا
لیکن مجھے مرنے سے پہلے تھکایا جا رہا ہے
کبھی اس طرف کھینچ کر، کبھی اُس طرف کھینچ کر
یہ اتنے سارے بونے آخر مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
Image: Garth Knight

Categories
شاعری

دھند

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
دھند چاروں طرف ہے چھائی ہوئی
ایسا گہرا لطیف سناٹا
سانس لینا سنائی دیتا ہے
کہر ایسا کہ اپنا ہاتھ بھی اب
غور پر ہی دکھائی دیتا ہے
ایک ایسا عجیب سا جادو
جیسے ٹھنڈک لپٹ کے سوئی ہو
اک پرندہ بھی جب نہ جاگا ہو
گھپ اندھیرے سے دن نکلتا ہے
سارے جنگل پہ چپ کی چادر ہے
صبح کچھ کسمسا کے اٹھتی ہے
اک کرن دھوپ سے ذرا پہلے
آکے کہرے میں ٹوٹ جاتی ہے
چار سُو رنگ ہیں، دھنک کے رنگ
میرے قدموں میں رنگ ناچتے ہیں
جیسے قوسِ قزح کو گھیر کے دھند
قید کرنے مجھے ہی آئی ہو
مجھ کو لگتا ہے تیرا سایہ ہے
مجھ کو لگتا ہے کوئی آیا ہے
مجھ سے ملنے، مری تلاش میں تُو

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
Image: Vilhelm Bjerke Petersen

Categories
شاعری

عمر قید

مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں
لیکن میری رہائی نہیں ہو پا رہی ہے

میرا برتاؤ بھی سب سے بہت اچھا ہے
ملنسار بھی مشہور ہوں
جیلر نے کئی مرتبہ
اچھے رویے پر
مجھے شاباشی بھی دی ہے

میرا کام میں دل بھی بہت لگتا ہے
کبھی کبھی تو
مقررہ وقت گذرنے کے بعد بھی
کام میں جُتا رہتا ہوں
وقت پہ سو بھی جاتا ہوں
صبح سویرے آنکھ بھی کھل جاتی ہے

لیکن جب سے قید خانے میں
نیا جیلر آیا ہے
صفائی کا انتظام بہتر ہو گیا ہے
غذا بھی اچھی مل رہی ہے
کشادہ کھڑکی سے
سورج بھی دیکھ پاتا ہوں
ہوا بھی تازہ چل رہی ہے
دوا بھی وقت پہ مل رہی ہے

قید خانہ جب سے
کشادہ ہو گیا ہے
میری اس قید میں
کئی اور سالوں کا
اضافہ ہو گیا ہے ۔۔۔

Categories
شاعری

سوم رس

میں ایک ایسا درخت ہوں
جس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی ہیں
اور سوکھ گئی ہیں
اب مجھے مستقل کسی تنے، کسی ٹہنی
یا کسی شاخ کی تلاش رہتی ہے
اپنے پتوں تک سوم رس پہنچانے کے لیے
مجھے کسی جاندار چیز سے چمٹنا پڑتا ہے
میں اپنی بقاء کی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

بغیر پَیر کا پرندہ

جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیئے
کسی ٹہنی، کسی تار پہ
لمبی ۔۔۔ تھکا دینے والی مسافت کے بعد
کچھ دیر سستانے کو اگر بیٹھنا چاہے
تو کیسے بیٹھے
بس اُڑتے اُڑتے ہی تھک کر جان دے دے

تمھیں بھی بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے
کیونکہ نہ تو تمھارے پَیر ہیں
اور نہ ہی پَر
تم تو پہلے ہی زندوں میں شمار نہیں ہوتے

تمھاری آنکھیں بھی بُجھا کے رکھ دینی چاہیئیں
بلاوجہ ٹُکر، ٹُکر نہ جانے کیا دیکھتی رہتی ہیں
نہ جانے کیا سوچتی رہتی ہیں؟
کسی آزادی کے خواب دیکھتی ہیں؟
یا اڑنے کے بارے میں سوچتی ہیں شاید؟

نا سمجھ!!
جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی

Categories
شاعری

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich