Categories
فکشن

جیرے کالے کا دکھ

یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اُس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اُس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھا وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟

وہ کلاس میں چھپ کر ایک کونے میں بیٹھتا کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے، کلاس کے بچے اُسے’’ جیرا کالا‘‘ کہہ کربلاتے تھے۔اُس کی خواہش تھی کہ کوئی اُسے اُس کے اصل نام سے بھی پکارے لیکن ایسا کبھی نہ ہوتا۔ رجسٹر حاضری میں اُس کا نام ظہیر درج تھا لیکن جب اُستاد حاضری لگاتے ہوئے اُس کے نام پر پہنچتا تو کہتا ’’ او جیریا او کالیا اَج آیا ہیں کہ نئیں ‘‘ ساری کلا س ہنستی اور وہ تقریباً روتے ہوئے کہتا
’’ حاضر جناب‘‘

وہ چہرے کا داغ اِس لیے بھی مٹانا چاہتا تھا کہ کہ اِس داغ کی وجہ سے اُسے بہت شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی۔
ایک بار نلکے پر سب لڑکے منہ لگا کرپانی پی رہے تھے سو جب اِس کی باری آئی تو لڑکے ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ اب اِس نلکے سے پانی نہیں پیناکیونکہ پھر تو ہمارے چہرے پہ بھی کالے داغ بن جائیں گے۔

جب وہ اٹھارہ سال کا ہوا تو شناختی کارڈ بنوانے گیا، جب وہ فارم پُر کررہا تھا تو وہاں موجود کلرک نے کہا ’’بھئی تمہارا تو بڑا فائدہ ہوگیا ہے شناختی علامت تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ دور ہی سے دکھائی دیتی ہے‘‘ کلرک یہ کہہ کر ہنسنے لگااور یہ دکھی دل کے ساتھ گھر آگیا۔
وہ ہمیشہ دکھی دل کے ساتھ واپس آجاتا تھا وہ احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ڈرتا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

وہ راتوں کو روتا رہتا تھا کہ لوگ اِس کو ایک داغ کی وجہ سے جینے کیوں نہیں دے رہے۔اُس کو جو کوئی جو بھی ٹوٹکا، کریم،پاؤڈر بتا تا تووہ ضرور لگاتا لیکن داغ تھا کہ جوں کا توں تھا۔

وہ اب بڑا ہوگیا تھا فیس بک پر اُس نے پروفائل بھی بنا لی تھی جس میں چہرے کا ایک رُخ دکھائی دیتا تھا مکمل چہرہ دکھانے سے اُسے ڈرلگتا تھاوہ اپنی اُس تصویر پر سب لوگوں کے کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا تھا کیوں کہ لوگ لکھتے تھے کہ’’ تم نے اصل حُسن تو چھپا رکھا ہے‘‘کوئی لکھتا ’’بھئی چہرے کے دوسری طرف کیا ہے؟ ‘‘وہ ایسی باتیں پڑھ کرڈرجاتا اور کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا۔

اِس سے پہلے کی ساری کہانی ایک ڈرے ہوئے لڑکے کی کہانی ہے جو ساری دنیا سے اپنا چہرہ چھپائے پھرتا تھا۔

اُس کی زندگی کی کہانی وہاں ایک نیاموڑ لیتی ہے جب اُسے محبت ہوجاتی ہے وہ سارا سارا دن اُس لڑکی کی گلی میں چہرے کے ایک طرف ہاتھ رکھ کر کھڑا رہتا ہے لیکن اُس کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اظہارِمحبت کر سکے یا چہرے سے ہاتھ ہٹاسکے۔ سو وہ روز خود کو کوستا رہتاتھا۔وہ اُن دنوں روز اُسے خط لکھتا، جیب میں رکھتا اور اُس کی گلی میں جاکر کھڑا ہوجاتا، شام کو وہی خط خود پڑھتا اگلے روز ایک نیا خط جیب میں ہوتااُسے اپنے داغ سے ڈرلگتا کہ جب وہ ہاتھ ہٹائے گا اور وہ اِس کا چہرہ دیکھی گی تو کیا سوچے گی۔ایک خط میں اُس نے اپنے بچوں کے ناموں کے بارے بھی لکھا تھالیکن بعد میں یہ سوچ کر مٹادیا کہ اگر وہ بھی میری طرح داغ دار چہرے کے ساتھ پیدا ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟ وہ یہ سوچ کر ہی ڈر گیا۔

پھر ایک دن اُس نے ارادہ باندھ لیا کہ وہ ضرور اُسے بتائے گا کہ اُسے اُس سے محبت ہے ایسی جیسی فلموں میں ہیرو کو ہوتی ہے، وہ کالج سے واپس آرہی تھی کہ اِس نے اُسے روک کر کہاسنیے آپ سے ایک بات کرنی ہے وہ مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے۔

لڑکی نے اُس کے چہرے پہ تھوک دیااور کہا کہ ’’ایسی شکل سے بھلا کسے محبت ہوسکتی ہے؟‘‘
اُس نے چہرے سے تھوک صاف کی اور روتے ہوئے کہا ’’ مجھے سچ میں آپ سے محبت ہے میں آپ کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں ‘‘
’’تم جیسے روتے ہوئے لڑکے بھلا کیا کرسکتے ہیں ‘‘ لڑکی نے جواب دیا
’’میںآپ کے لیے کسی کو قتل بھی سکتاہوں ‘‘معلوم نہیں اُس نے ایسا کیا سوچ کر کہا تھا۔
لڑکی اُسے ٹشو پیپر دے کر گھر میں داخل ہوگئی۔

وہ بے انتہا دکھی ہوگیا،ساری ساری رات جاگتا رہتا پھر اُس نے فیصلہ کر لیا حالانکہ وہ ایک ڈرا ہوا لڑکا تھاوہ پستول لے کے وہاں پہنچ گیا، وہ بس ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا بہادر ہے۔ اُس لڑکی کے گھر کے دروازے کے عین سامنے کھڑا ہوگیا اور پستول نکال کر اُس کی صفائی کرنے لگ گیا۔لڑکی نے کھڑکی سے اُسے دیکھااور پولیس کو فون کردیا، پولیس والے اِسے پکڑ کرتھانے لے گئے اور اُسے خوب ماراپیٹا۔ تھانے میں ایک ہفتہ رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس آیا تو اُس کے باپ نے اُسے گھر سے نکال دیا کہ وہ عزت دارلوگ ہیں جس طرح اُس کا چہرہ کالا ہے ویسے ہی اُس کے کرتوت بھی کالے ہیں سو انہوں نے اُسے عاق کردیا، اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے باپ سے کہا تھا کہ’’ میری بات سنیں دیکھیں میں بے قصور ہوں ‘‘
’’ اچھا تو بے قصور لوگ محلے کی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں اور ہفتہ ہفتہ جیل کاٹ کرآتے ہیں؟‘‘
’’سب کچھ غلط فہمی سے ہوامیں آپ کو پوری بات تفصیل سے بتاتا ہوں ‘‘
لیکن بات کی تفصیلات سننے کا کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔

وہ گھر سے نکل گیا، سارا سارا د ن گلیوں میں آوارہ پھرا کرتا،پھر خواجہ سراؤں کے ساتھ بھیک مانگنے لگا، خواجہ سرا جہاں کہیں ناچنے جاتے تو وہ اُن کے سامان کا خیا ل رکھتا تھا۔عرصہ ہوا اُس نے چہرہ دیکھنا چھوڑدیا تھاکہ اب اُسے یقین ہوگیا تھا کہ داغ جوں کا توں ہوگا۔

گرمیوں کی راتوں میں جب وہ چھت پر لیٹتا تو اُس کی سوچوں کا رُخ ماضی کی جانب مُڑ جاتا،وہ اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں کو یاد کرتا اور سوچتا کہ کیا وہ بھی اُسے ایسے ہی یاد کرتے ہوں گے، گھر کے پچھواڑے بنے باغیچے میں کھلے پھول کیسے ہوں گے وہ جب وہاں تھا تو روز ان پودوں کو پانی دیتا تھا، تو اب انہیں کون پانی دیتا ہوگا کیا وہ سب پودے سوکھ گئے ہوں گے؟ انہوں نے گھر میں جو مرغیاں پال رکھی تھیں وہ کیسی ہوں گی، وہ سوچتا کہ کیا پودے اور جانور بھی انسان کی کمی محسوس کرتے ہوں گے؟ اُس کا دل کہتا کہ شاید ہاں۔

پھر اُسے وہ لڑکی یاد آجاتی کہ جس کی محبت میں وہ اُسے خط لکھا کرتا تھا جو کبھی اُس تک نہ پہنچ سکے تو کیا اُس لڑکی کے دماغ کے کسی نکڑ پرجیرے کالے کی سوچ بھی ابھرتی ہوگی؟ اُس کا دل کہتا تھا،شاید نہیں۔اور وہ آنکھوں سے پھوٹتے چشمے کے آگے بندھ باندھ کر سو جاتا۔

پھر کافی سال بعد اُس نے اپنے گھر باپ کو ایک خط لکھا جس میں اُس واقعہ کی تفصیلات لکھی تھیں اور اب اپنے دگرگوں حالات بھی لکھے، اُس کا خیال تھا کہ اتنے سالوں بعد یقیناًاُس کا باپ اُس کی بات سمجھے گا اور واپس بلا لے گاآخر وہ کب تک خواجہ سراوں کے ساتھ رہتا رہے گا۔

اُس تفصیلی خط کے جواب میں کئی رو ز بعد ایک مختصر سا خط آیا تھاجس میں لکھا تھا’’ تو تم ابھی زندہ ہو؟ ابھی خاندان کے نام کو کالک لگانے میں یہ کسر رہتی تھی کہ خواجہ سرا بن گئے ہو؟‘‘

وہ ساری رات چھت پر منہ پر چادر ڈالے روتا رہا تھااُس رات کے بعد جیرے نے سوچنا چھوڑ دیا اور خود کو وقت کے دھارے میں بہنے کے لیے آزاد چھوڑدیا۔
خواجہ سراؤں کے ساتھ رہ رہ کر اُس کی چال ڈھال میں فرق آگیا تھاوہ خود کواب خواجہ سرا ہی سمجھنے لگا تھااُسے ایک بات کی خوشی ہوتی کہ خواجہ سرا اُس سے اُس کے داغ کے حوالے سے کوئی بات نہ کرتے اور وہ جیرے کو صرف جیرا کہتے۔ کئی سال بعد اب اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ اب وہ بھی ناچے گااتنا ناچے گا کہ اگر وہ سوچنا بھی چاہے تو اُسے ماضی یاد نہ آئے۔

اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب جس بھی فنکشن میں جانا ہوا تووہ بھی وہاں ناچے گا۔

آج گُرو نے اُسے بلایا اور کہا جیرے سامان پیک کرودوسرے شہرمیں فنکشن ہے، اُس نے کہا جی اچھاابھی سامان لاتاہوں وہ واپسی کے لیے مُڑاتو گُرو کے ساتھ بیٹھے خواجہ سرا نے کہا ’’ ہائے ہائے بیچارہ چہرے پہ داغ نہ ہوتا تو یہ بھی اچھا خواجہ سرا بن سکتا تھا‘‘ جیرے کالے نے گھبرا کر اپنا ہاتھ دائیں گال پررکھ لیا۔۔۔
Image: VERONIQUE PIASER-MOYEN

Categories
شاعری

ڈی این اے کی خود سے لڑائی

youth-yell
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ڈی این اے کی خود سے لڑائی

[/vc_column_text][vc_column_text]

علیشا ہجر تو تم ہو
علیشا ہجر کا ہجڑوں سے۔۔۔۔
جنم کنڈلی کا ناتا ہے
علیشا سب سے پہلے
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی
علیشا۔۔۔۔۔ پالنے آنگن اور چولھے نے
تمہیں خود سے رہائی دی
علیشا

 

پھولنے پھلنے میں
کسی کے دست شفقت پر
تمہارا حق نہیں ٹھہرا
سہیلی دوست اور ہم جولیوں سے کھیل پر پہرا
علیشا اس زمانے کا دیا ہر زخم تھا گہرا
علیشا ہجر تو تم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
علیشا ہجرکا ہجڑوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنم کنڈلی کا ناتا ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
گفتگو

8 Basic Things Every Pakistani Should Know About Transgender People

Their stories are regularly distorted by the media, their executioners are seldom found, and never brought to justice, they are writers, artists, vocalists, waiters, chefs and much more than that, they are humans with feelings, souls and brains. But, their cruelly violated dead bodies are never different from each other —they echo the same brutality and hatred which society holds against them.

We call them, Transgenders—but they are one of us. We hardly encourage those among us who have the sufficient awareness that being a Transgender doesn’t mean belonging to a third gender. The notion is important because it is the root cause of all the abuse, harassment and hatred against them.

Generally, all of us are good at heart and we mean no harm to others. Yet, when it comes to having a conversation, raising or befriending a transgender, most of us are clueless or we end up hurting their sentiments unintentionally. Somehow, we become a contributor to the aforementioned hatred, harassment and abuse against transgender community.
‘International Transgender Day of Remembrance’ is celebrated on 20th November every year, with a spirits to eradicate hatred and raise awareness regarding Transgenders. Few of the important aspects of this day are:

1- Why do we hold International Transgender Day of Remembrance?

It all started after the gruesome murder of Rita Hester, a transgender from Boston. November 20th is the day of mourning for transgender community as they remember Rita Hester and the hatred against Transgenders on this day. Rita was brutally murdered on November 28th, 1998 and as expected, her killer was never brought to justice. She was never taken seriously. Since, 1999, November 20th marks an observance of International Transgender Day.

2- What do we mean by “Transgender” ?

Transgender is an umbrella term for persons whose gender identity, gender expression or behavior does not conform to that typically associated with the sex to which they were assigned at birth.

According to American Psychological Association, Transgender is an umbrella term for persons whose gender identity, gender expression or behavior does not conform to that typically associated with the sex to which they were assigned at birth. They can relate to the opposite sex organs but not their own.

3- Do you need medical procedures to call yourself a Transgender?

Surgical procedures are a part of being a transgender. However, they aren’t mandatory. For instance, a man who never identified with his sexual organs and gender expression but with female sexual organs and feminine gender expression, would still remain a transgender even if he never goes under the knife for any procedures. Also, it will be offensive to use the pronoun “Him” unless the person allows for it.

4- Is it okay to ask transgender person whether or not they have gone through a surgical procedure or medical treatment?

Is it okay to ask about the size and shape of your fellow’s sex organs when you don’t have an intimate friendship with them?. No. It’s not okay to ask this question from a transgender person, unless they really want to talk about it.
By asking this question, you are indirectly asking them to validate what they truly feel as a specific gender. So, it’s not ok.

“It is offensive that so many people feel that it is okay to publicly refer to transsexuals as being “pre-op” or “post-op” when it would so clearly be degrading and demeaning to regularly describe all boys and men as being either “circumcised” or “uncircumcised.”
― Julia Serano

5- Types of Transgender people?

There are many types we need to know about. However, the basics include:

Female to Male FTM/F2M : a person who has undergone medical treatments to change their biological sex (female sexual organs). These are also known as, Trans Men.

Male to Female or MTF/M2F: a person who has undergone medical treatments to change their biological sex (male sexual organs). Also known as, Trans Women.

Transsexual : When the person goes through a sex change operation or medical therapy. As mentioned in both cases above.

Genderqueer: (1) an umbrella term used to depict individuals whose sexual orientation falls outside of the gender binary; (2) a person who recognizes self as both a male and female or none. Some gender queers don’t identify themselves as transgender though.

Transvestite: a person who dresses as a member of opposite binary gender (“cross-dresses”) for any of numerous reasons, including unwinding, fun, and sexual satisfaction; frequently called a “cross-dresser,” and regularly mistook for “transsexual” –

6- Is there a difference between sexual orientation and gender identity?

Sexual orientation is simply our sexual and romantic inclinations combined for men, women or both. A pan-sexual would be a person whose sexual and romantic inclinations would be combined for men, women, hermaphrodites or any other possible form of gender and sexual identity. Bisexual and heterosexuals are other forms of sexual orientation.

Sexual orientation is simply our sexual and romantic inclinations combined for men, women or both. A pan-sexual would be a person whose sexual and romantic inclinations would be combined for men, women, hermaphrodites or any other possible form of gender and sexual identity. Bisexual and heterosexuals are other forms of sexual orientation.

Gender identity on other hand, is the extent to which you identify with your sexual anatomy and act according to societal expectations from that particular sexual anatomy. A person born with female sex organs could identify herself or feel and function like a female, the same person may feel and function like a man despite of the female sexual organs, or the same person can not identify with any of the genders. In any case, it would be that person’s gender identity.

A transgender person can be a homosexual, heterosexual, bisexual or pan-sexual, depending upon the sexual orientation preferred. Being a transgender would be gender identity for that person.

7- Is being transgender a mental disorder?

According to Diagnostic and Statistical Manual for Mental Disorders-5, a mental disorder causes significant stress, disturbs professional, academic and personal life. Most of the transgender people do not experience such kind of distress, so they won’t be really diagnosed as having a mental disorder. The manual describe the condition as “Gender Dysphoria” which literally means a confusion and feeling of incongruence with one’s assigned sex. However, American Psychological association maintains that the diagnosis persists from the point of care, as societal discrimination, violence against Transgenders, harassment and bullying causes them a lot of stress, anxiety, depression and other mental disorders.
So, it’s not a disorder but yes, they are prone and vulnerable to mental disorders because of the hatred, abuse and discrimination they go through. lack of resources, opportunities and tolerance for transgenders makes it hard for a transgender to live a normal life in our society.

8- How can we benefit the Transgender community?

Raising and gaining awareness is the key. By becoming an ally for them, we can reduce the factors which contribute to higher murders and suicide rates among them—bullying, discrimination, shaming etc.

Using pronouns or names that are preferred by the transgender person, as this often causes confusion on our part. If in doubt, asking is always better than assuming.

Familiarising ourselves and others with local, provincial and international laws which protect the rights of transgender community. Also, knowing that transphobia and Trans-misogyny exists, would help to stop and spot it.

“When the Majority of jokes made at the expense of trans people center on “men wearing dresses” or “men who want their penises cut off” that is not transphobia- it is trans-misogyny. When the majority of violence and sexual assaults omitted against trans people is directed at trans women, that is not transphobia- it is trans-misogyny.”
-Julia Serano

Categories
تبصرہ

خواجہ سراؤں کی زندگی

خواجہ سراوں کی زندگی دہکتے انگاروں پر گھسٹتی ہے ۔شاید ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ بالکل ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ہماری ہی طرح سوچتے اورمحسوس کرتے ہیں لیکن انہیں انسان سمجھا نہیں جاتا۔ وہ جیتے تو ہیں مگر مر مر کے،سانس تو لیتے ہیں مگر گھٹ گھٹ کے،انہیں جینے کا حق تو ہے مگر اس کے لیے انہیں بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ان کے رنگ برنگے لباس،چمکتے زیورات،روشن ورنگین چہرے،کھنکتے پائل اورلڑکھڑاتے بل کھاتے بدن میں زندگی گھسٹتی تو ہے مگر دہکتے انگاروں پہ۔ان کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے نجانے کتنی اندوہناک کہانیاں ہیں جنہیں سننے کی سکت شاید ہم میں نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ہماری روح ان کہانیوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے۔ایسی کہانیا ں اسی دنیا میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں مگر شاید غم کے ان جھروکوں میں جھانکنے کی ہم میں ہمت نہیں یا ان کی طرف غور کرتے ہوئے ہمارے پر جلتے ہیں۔
اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا
خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا اور کمزور طبقہ ہے جس کی کمزوریوں ، پریشانیوں اور دکھوں کا ہمیں احساس تک نہیں۔وہ پیدائش سے لے کر مرگ تک کس کرب سے گزرتے ہیں ہم اس پہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔ یہ تو وہ محروم طبقہ ہے جسے اپنے حتیٰ کہ ان کےماں باپ بھی اپنانے سے ڈرتے ہیں۔اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا ۔ ان میں سے ایک ایک کی ایسی درد بھری کہانی ہے کہ سن کرشایدہی کوئی دردمند اپنے ٓانسو اور ہچکیاں روک سکے۔
خواجہ سرا ہمارےغلط معاشرتی رویوں اور رجحانات کا شکار ہیں۔وہ پیدا ہوتے ہیں، بلوغت تو کیا شاید ابھی پہلی سانس بھی نہیں لے پاتے کہ ان سے نفرت کا آغاز ہوجاتا ہے۔طرح طرح کے حیلے بہانوں کے ذریعے ان سے جان چُھڑانے کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ ذرا بڑے ہوں تو معاشرے، بہن بھائیوں اور والدین کا امتیازی اور دردناک رویہ انہیں ان “مکمل” انسانوں کی نام نہاد مہذب دنیا چھوڑ کر اپنے جیسے “نامکمل” لوگوں کے ساتھ شہرکےکسی کونے میں رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ رشتوں کے ٹوٹنے پہ انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی دوسرے لوگوں کو،ان کے بہن بھائی ان سے رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہیں اپنے ماتھے کا کلنک سمجھتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کے ماتھے کا کلنک خواجہ سرا نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔
بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے
بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔باہر نکلیں تو طرح طرح کے طعنوں سے ان کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے۔نوجوان اپنی جوانی کے زعم میں ان پر آوازیں کستے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی کچھ متوالوں کا ضبط اور ظرف ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان تماش بینوں کی سیٹیوں سے ان کی “تہذیب” چھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچےبھی ان کے گرد اس طرح طواف کرتے ہیں جیسے انہیں مفت کے کھلونے مل گئے ہوں۔ مگرکوئی اس محروم اور مظلوم طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ٓاتا۔ حکومت کے ایجنڈہ پریہ نہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی ان کی فلاح پر زیادہ زور نہیں،میڈیا کے پاس ایان علی اور دھرنوں جیسے “اہم” موضوعات کے سوا کسی “غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پہ ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والوں سے بھی کبھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات نہیں سنی۔ کوئی انہیں بتائے کہ ان کے حقوق پہ بات کرنا بھی تونیکی ہے۔
معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے ۔ پہلے شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پیدائش یا کسی اور اہم دن پے یہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اور ناچ گا کے کچھ کما لیا کرتے تھے مگر اب ان رجحانات میں کمی کی وجہ سے ان کا یہ اہم ذریعہ معاش بھی تقریباَ ختم ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے ایسا مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بنتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے
خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے مسائل پہ بہت کم ہات ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیئے ان کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرے اوران کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر قوانین متعارف کرائے۔غیر سرکاری تنظیموں کو ان کے مسائل پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئیے۔ ہمیں چاہئیے کہ ان کے لیے تربیتی مراکز کا انتظام کریں اور ان کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں ۔شاید ہم سب مل کر اندھیروں میں گھری ان زندگیوں میں کچھ روشنی لے ٓائیں ۔