Categories
فکشن

بلّو، پنکی اور سابو

جے پی رائے دہلی ہائی کورٹ میں کئی سال سے پریکٹس کر رہے تھے۔ وکلاء کے ساتھ مصیبت یہ ہے کی وہ زندگی بھر پریکٹس کرتے ہیں اور اس کے بعد براہ راست کم ہی ریٹائر ہوتے ہیں، خاص کر وہ جن کو مشق کے بعد استادی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ جے پی رائے ایسے ہی وکیل تھے اور ان کی پریکٹس بھی بڑی جمی جمائی ہوئی تھی۔ لیکن یہ کہانی ان کی نہیں بلکہ ان کے تحت پریکٹس کرنے والی اور ان کی اسسٹنٹ نیلم پانڈے کی ہے۔ نیلم، عمر تیس سال، قد مجھولا، رنگ گندمی، غیر شادی شدہ۔ نیلم تین سال سے جے۔ پی رائے کے یہاں کام کر رہی تھی۔ اس کا بنیادی کام کیس سٹڈی کرنا اور اس کے کمزور نکات کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا، موکل سے میٹنگ طے کرنا، پیسوں کی لین دین طے کرنا وغیرہ تھا۔ گزشتہ چھ سات مہینوں سے وہ کوئی چھوٹا موٹا کیس آزادانہ طور پر لڑنا چاہتی تھی، ایک دو بار اس نے جے۔ پی رائے کو اس بات کا اشارہ بھی دیا پر انہوں نے ان اشاروں کو نظر انداز کر دیا۔ لیکن گزشتہ کیس میں نیلم کی دی ہوئی تمام باتیں اور اصطلاحات کیس کے لئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی تھیں، اس لئے نیا کیس، جو باپ بیٹے کے درمیان زمین کے جھگڑے کا تھا، انہوں نے نیلم کو دے دیا۔

 

نیلم اپنے موکل کا انتظار کر رہی تھی۔ تاہم اس نے پہلے ڈھیروں موکلوں سے ڈیل کیا تھا، لیکن یہ پہلا موکل تھا جس کا کیس وہ خود لڑنے والی تھی اس لیے پورا بدن دماغ بن کر سوچ رہا تھا۔ تبھی آفس کے دروازے پہ دستک ہوئی۔ نیلم نروس تو تھی ہی، یہ دستک بھی سیدھا اس کی دھڑکن پر بجی تھی، جی دھک سے رہ گیا اس کا۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔ جیسے سنبھل کر بیٹھنا کیس جیتنے کی پہلی سیڑھی تھا۔ نیلم کے ‘کم ان’ کہنے کے ساتھ ہی وہ دستک چہرہ بنی۔ ایک جانا پہچانا چہرہ۔ حالانکہ اس کے چہرے پر گزرے بائیس سالوں کی دھول جمی ہوئی تھی لیکن وہ دھول اس کی شناخت چھپانے کے لئے کافی نہیں تھی۔ نیلم جس کرسی پر بیٹھی تھی اچانک جیسے وہ جلانے لگی۔ ایک بچھو جو بہت دن سے اس کے اندر سویا ہوا تھا اس دن پھر جاگ گیا۔ ایک درد سا اٹھا اور وہ گرنے گرنے کو ہوئی۔ ٹیبل پر رکھا ہوا پیپر ویٹ اس کے ہاتھ سے لگا اور بائیس سال پیچھے جا گرا، جب وہ آٹھ سال کی تھی۔۔

 

جہانگیر پوری میں نیلم کے گھر کے بغل میں ہی اس کے دوست سونو کا گھر تھا۔ دونوں پکے دوست تھے، اور ان کی پکی دوستی میں سیمنٹ کا کام کامکس نے کیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے کامکس ادل بدل کر پڑھا کرتے تھے۔ اسی تبادلہ میں ان دونوں نے ایک دوسرے کے نام بھی کامکس کے کرداروں سے بدل دیے۔ نیلم سونو کو بلّو کہا کرتی تھی تو سونو نیلم کو پنکی کہا کرتا تھا۔ اور ان ناموں کے سامنے دونوں کو اپنے ماں باپ کی طرف سے رکھا گیا نام بیکار لگتا تھا۔ سونو بہت چاہتا تھا کہ وہ بلّو جیسا ہیئر اسٹائل رکھے، لیکن ذرا سے بال لمبے ہوتے تھے کہ اسکول میں ریاضی کے ماسٹر کو اس کو پیٹنے کا من کرنے لگتا تھا، اور وہ سب سے پہلے اس کا بال پکڑ کر ہی گھمانے لگتے تھے۔ ہاں نیلم ایک ہیئربینڈ لگا کر اپنے آپ کو پنکی ضرور سمجھنے لگتی تھی۔ اسے بس افسوس اس بات کا تھا کہ اس کے پاس کوئی گلہری نہیں تھی جس کا نام وہ کامکس والی پنکی کی طرح كٹ كٹ رکھے، اس لئے اس نے محلے کی ایک بیمار کتیا کا نام كٹ كٹ رکھ دیا۔ ایک دن نیلم کا من كٹ كٹ کے ساتھ کھیلنے کا ہوا اور كٹ كٹ کا من نیلم کو کاٹنے کا۔ كٹ كٹ نیلم کو کاٹنے کو آگے بڑھی ہی تھی کی سونو کے پاپا آ گئے، اور كٹ كٹ کو ایک کک مار کر بھگا دیا۔ چچا چودھری کی کامکس میں سابو کی آمد بھی اکثر ایسے ہی موقعوں پر ہوتی ہے۔ جب مصیبت کسی اور طریقے سے نہیں ٹل پاتی ہے تب سابو آتا ہے۔۔۔

 

سونو کے پاپا اچھے خاصے لمبے چوڑے آدمی تھے۔ محلے بھر میں ان کی بہادری اور پہلوانی کے چرچے ہوتے تھے، جن میں سے زیادہ تر چرچے ان باتوں کے تھے جو باتیں خود خود سونو کے پاپا نے پھیلائی تھیں۔ انہوں نے ایک بار اپنے گھر میں گھسے ایک مريل چور کو پکڑا تھا اور اس کو پیٹھ پر لاد کر تھانے لے گئے تھے۔ نیلم نے جب یہ منظر دیکھا تھا تو اسے سابو یاد آ گیا تھا۔ انہی تمام وجوہات سے نیلم انہیں سابو انکل کہتی تھی، ایسا سابو جس کا کوئی چچا چودھری نہیں تھا۔ سابو انکل بھی نیلم کو اپنے بیٹے سونو کی ہی طرح پنکی بلاتے تھے۔۔۔

 

سونوجب بہت چھوٹا تھا تبھی اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ سابو انکل نے اپنی بیوی کی یاد سے بچنے کے لئے ان سے منسلک ہر چیز خود سے دور کر دی تھی۔ اس وجہ سے سونو کو بہت وقت تک پتہ بھی نہیں تھا کہ اس کی کوئی ماں بھی تھی۔ ایک دن اسکول میں جب اس نے جانا کہ ہر بچے کی ایک ممی ہوتی ہے تو وہ پہلے بہت اداس ہوا، بعد میں بہت رویا۔ جب وہ رو رہا تھا تو نیلم اس کے ساتھ تھی۔ نیلم نے اسے چپ کرایا اوراسے اس کے گھر تک چھوڑا۔ یہ پہلی بار تھا جب نیلم اس کے گھر گئی تھی۔ وہ جب رو دھو کے چپ ہو گیا تو اس نے نیلم سے جانے کے لئے کہا کیوں کہ اب اس کے کامکس پڑھنے کا وقت ہو چلا تھا۔ ‘کامکس۔۔۔’ یہ لفظ سنتے ہی نیلم اچھل پڑی۔ نیلم نے اسے بتایا کے اس کے پاس بھی ڈھیر ساری کامکس ہے۔ اسے اپنی تمام کامکس کے نام بھی یاد تھے۔ سونو نے اس کے سامنے کامکس ادل بدل کر پڑھنے کی تجویز پیش کی، ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس کی بات مان جاتی ہے تو وہ اسے کلاس میں بھی کامکس پڑھنے کا طریقہ بتائے گا۔ نیلم لمبی کتابوں اور كاپيوں میں چھپا کر کامکس پڑھنے کا طریقہ پہلے سے ہی جانتے تھی لیکن پھر بھی اس نے سونو کی بات مان لی۔۔۔

 

نیلم کئی بار سونو کی کامکس واپس کرکے اپنی کامکس لینے یا اپنی کامکس دے کے اس کی کامکس لینے اس کے گھر جاتی تھی، تواس کی ملاقات سابو انکل سے ہو جاتی تھی، اور نیلم کو دیکھتے ہی ان کا جی اسے گدگدانے کا کرنے لگتا تھا۔ وہ نیلم کو خوب گدگداتے تھے اور گدگداتے ہوئے اپنے منہ سے گدگدی کرنے کی آواز ‘گدگدگدگد’ نکالتے تھے۔نیلم کو کہیں کہیں خوب گدگدی ہوتی تھی کہیں ذرہ بھی نہیں۔ نیلم کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر وہ ایسی جگہوں پر زیادہ کیوں گدگداتے تھے جہاں گدگدی نہیں ہوتی۔ کئی بار گدگداتے گدگداتے وہ اس کے گالوں پر اپنی داڑھی رگڑنے لگتے تھے۔ وہ ہنستے ہنستے ہی چیختی تھی اور ان سب باتوں کو صرف ایک کھیل سمجھتی تھی۔ لیکن اس کھیل میں اسے درد ہوتا تھا۔ ایسا بھی کوئی کھیل ہوتا ہے بھلا؟ درد والا۔۔ وہ اس کھیل سے بچنا چاہتی تھی۔ کبھی کبھی جب گھر پہ جب سونو نہیں ملتا تھا تو سابو انکل اسے پہلے جی بھر کر گدگداتے اور پھر ہانپتے ہوئے کہتے ‘بیٹا ! جب سونو آ جائے تب آنا’۔ اور وہ ‘جی نکل’ کہہ کر بدن میں ہلکا درد سمیٹے ہوئے لوٹ جاتی تھی۔۔

 

بعد میں سونو کے گھر وہ سابو انکل کی موجودگی کی تحقیقات کرکے جانے لگی۔ وہ ہر طرح سے ان گدگدیوں سے بچنا چاہتی تھی۔ کئی بار جب اسے سابو انکل نہیں ملے تو وہ لاپرواہ ہو گئی اور ایک دن پکڑی گئی۔ سونو گھر میں نہیں تھا، صرف سابو انکل تھے اور انہوں نے صرف چڈی پہنی تھی، ٹھیک کامکس والے سابو کی طرح، لیکن ان کے کانوں میں نہ سابو جیسے کنڈل تھے نہ پیروں میں گم بوٹ۔ وہ نیلم کے قریب آئے اور اسے دیر تک گدگداتے رہے۔ نیلم پہلے ہنسی، پھر ہنستے ہنستے چیخی، پھر صرف چیختی رہی۔ انہوں نے ایک ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے گدگدانے لگے۔ ان کا دوسرا ہاتھ بہت دیر تک اسے گدگداتا رہا۔ وہ جب اٹھی تو اس کی ٹانگوں کے درمیان درد ہو رہا تھا۔ ایسے جیسے کوئی بچھو ڈنک مار رہا ہو۔ وہ ایک قدم چل رہی تھی تو ایک ڈنک لگ رہا تھا۔ ایک قدم۔ ایک ڈنک۔

 

وہ کسی طرح گھر پہنچی اور سو گئی۔ ماں نے اسے کھانا کھلانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں اٹھی۔ رات میں اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ زمین پر گری ہوئی ہے اور سامنے کھڑے ایک نقاب پوش کے دونوں ہاتھوں سے ڈھیر سارے بچھو نکل رہے ہیں۔ وہ بچھو ٹھیک اس کی ٹانگوں کے درمیان بڑھ رہے ہیں۔ وہ بھاگنا چاہ رہی ہے لیکن بھاگ نہیں پا رہی ہے۔ بھاگنے کی اسی کوشش میں وہ چیختے ہوئے اٹھ بیٹھی۔ اس کی چیخ کا ہاتھ تھام کر وہاں آئی ماں نے جب اسے چھوا تو اس کا بدن بخار سے بھیگا ہوا تھا۔۔

 

والد کی دی ہوئی دوائی سے دو دن بعد بخار تو اتر گیا لیکن بچھو نیلم کے اندر ہی رہ گیا اور وقت بے وقت وہ اسے ڈنک مارتا رہا۔ نیلم کی نیند ایک کمرہ تھا جس میں وہ نقاب پوش ہمیشہ کے لئے آ گیا تھا۔ اور نیلم کو خواب میں بھی معلوم رہتا تھا کہ اس نقاب کے پیچھے کون ہے؟ نیلم جیسے ہی نیند کے اس کمرے میں پہنچتی تھی، گر جاتی تھی، کوئی پوشیدہ ہاتھ زمین سے نکل کر جیسے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیتا تھا اور اس آدمی کے ہاتھوں سے بچھو نکل کر اس کی ٹانگوں کے بيچوں بیچ بڑھنے لگتے تھے۔ بچھوؤں سے بچنے کی کوشش میں وہ ہر بار جاگ جاتی تھی۔ نیند کے اس کمرے سے باہر آنے کا آخر یہی ایک طریقہ تھا۔

 

نیلم کی آنکھوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ رتجگوں کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ کئی دن تک جب وہ سونو کے گھر نہیں گئی تو ایک دن اس کے گھر سونو خود ہی چلا آیا۔ وہ اس کے لئے بلّو کی نئی کامکس لایا تھا اور اگر نیلم کے پاس کوئی نئی کامکس تھی تو وہ اسے لینا چاہتا تھا۔ نیلم نے اس سے کہا کہ اس کا کامکس پڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ وہاں سے چلا جائے۔ نیلم اداس تھی سونو نے اس سے اس کی اداسی کا سبب پوچھا۔ جواب میں نیلم نے اسے دوبارہ جانے کے لئے کہا لیکن سونو وہیں کھڑا رہا اور تب تک کھڑا رہا جب تک کہ نیلم نے اسے اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا نہیں۔

 

نیلم کی راتوں کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ سرخ رنگ اب اس کی آنکھوں کا قدرتی رنگ ہو جانا چاہتا تھا۔ اس دن کی گدگدی نے اس کی عمر بڑھا دی تھی اور اس نے کامکس پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ سونو اب بھی بچہ تھا اور اب بھی کامکس پڑھتا تھا۔ وہ اس سے ملنے نہیں آتا تھا۔ اب وہ نئے دوست کی تلاش میں تھا۔ وہ گم سم اسکول جاتی اور گم سم اسکول سے چلی آتی۔ ایک دن نیلم کا کامکس نہ پڑھنا، گم سم رہنا، وقت پہ اسکول جانا اور آ جانا یہ سب اچانک اس کی ماں کو نظر آیا۔ ماں نے اس سے جب کئی بار پوچھا تب نیلم نے انہیں بتایا کہ سابو انکل نے اسے ‘گندی جگہ’ گدگدايا ہے اور اتنا گدگدايا ہے کہ وہاں درد ہو رہا ہے۔ بات ماں سے باپ تک پہنچی اور وہ سونو کے پاپا کے پاس پہنچے۔ سونو کے پاپا نے نیلم کے والد کو بہت مارا، اور پولیس کے پاس جانے پر پورے خاندان کو مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی۔ اپنے والد کی یہ حالت دیکھ کر نیلم کا بہت دل ہوا کہ وہ جا کر سابو انکل کو تھپڑ مارے لیکن وہ ان گدگدیوں کو یاد کر کے سہم گئی۔

 

نیلم اور اس کا پورا خاندان جہانگیر پوری سے لکشمی نگر آ گیا۔ آہستہ آہستہ اس کی نیند کا کمرہ بھی خالی ہو گیا۔ وہ وہاں جاتی اور رات بھر اسی کمرے میں رہتی۔ آنکھوں کا سرخ رنگ بھی کچا ثابت ہوا اور اس کی آنکھوں سے اڑ گیا۔ وہ ٹھیک ہو گئی یا یوں کہہ لیا جائے کہ وہ سب کچھ بھول گئی۔ اب بھول جانا تو ٹھیک ہو جانا نہیں ہوتا نا۔ اس نے پھر سے کچھ کامکس پڑھنی چاہی لیکن اسے احساس ہوا کہ وہ ان سے بور ہو جاتی تھی۔ شاید یہ بڑے ہو جانے کے سائیڈ افیکٹس میں میں سے ایک تھا۔

 

جب وہ ایل ایل بی فرسٹ ائير میں آئی تب ایک لڑکے وشال نے اس سے اپنی محبّت کا اظہار کیا۔ تھوڑی بہت نا نكر، جو نا نوکر سے زیادہ ہچکچاہٹ تھی، کے بعد نیلم نے اس کی محبت کو قبول کر لیا۔ دونوں پکے عاشق معشوق تھے، اور ان کے درمیان سیمنٹ کا کام کیا قطب مینار، لودھی گارڈن، سنیما ہال، سروجنی نگر مارکٹ وغیرہ نے۔ ایک دن لودھی گارڈن میں بیٹھے بیٹھے وشال نے اس کے ہونٹ چوم لئے۔ نیلم نے بھی اس بات کا جواب دینا ضروری سمجھا اور وشال کے ہونٹ چوم لئے۔ وشال کا ایک ہاتھ نیلم کے سینے پہ سرک آیا۔ نیلم کو گدگدی سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی جو اس کے پورے بدن میں پھیل گئی۔ اس گدگدی نے کئی سال سے سوئے بچھو کو جگا دیا۔ اس نے اپنے ہونٹ وشال کے ہونٹ سے ہٹا لئے، پھر وہاں سے اٹھی اور چلی گئی۔وشال اسے آواز دیتا رہا جو اس کی پیٹھ سے ٹکرا ٹکرا کر لودھی گارڈن کی گھاسوں پر گرتی رہی۔ اس دن سے اس کی نیند کے کمرے میں پھر ایک نقاب پوش آ گیا۔ نیلم پھر سے نیند کے کمرے میں گرنے لگی اور نقاب پوش کے ہاتھوں سے نکلے ہوئے بچھو اس کی اور بڑھنے لگے۔

 

ان دنوں وہ سرخ سرخ آنکھیں لئے ہی کالج جاتی تھی۔ وشال اس دن اسے آواز دے دے کر تھک چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اب نیلم ہی اس سے بات کرے، لیکن نیلم کی طرف سے پہل ہونے کا انتظار کرنے میں بھی اسے تھکاوٹ لگ گئی۔ اس نے ایک دن پھر نیلم سے بات کرنے کی کوشش کی۔ اس نے وشال کو وہاں سے چلے جانے کے لئے کہا، لیکن وشال وہیں کھڑا رہا جب تک کہ نیلم نیں اسے اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا نہیں۔ اس دن جب وشال گیا تو چلا گیا۔ نیلم اس کی واپسی چاہتی بھی نہیں تھی۔ وقت لگا پر نیند کا کمرہ پھر سے خالی ہو گیا، سرخ رنگ اس بار بھی اڑ گیا اور بچھو پھر بدن کے کسی کونے میں جا کر سو گیا۔ بعد میں نیلم کے ماں باپ نے بہت چاہا کہ وہ شادی کر لے لیکن وہ اس گدگدی اور بچھو کا خیال آتے ہی سہم اٹھتی تھی اور شادی کرنے کی ہمت ہی نہیں جٹا پاتی تھی۔

 

نیلم ہمت ہمّت جٹا کر کھڑی ہوئی، پیپرویٹ جو اس کے ہاتھ سے لگ کر زمین پر گر گیا تھا اسے اٹھایا۔ تب تک وہ مانوس چہرہ، جسے وہ سابو انکل کے نام سے جانتی تھی، اس کے قریب آ گیا۔

 

‘ہیلو ۔۔’

 

نیلم اس ہیلو کے جواب میں پیپرویٹ اس کے منہ پر مار دینا چاہتی تھی، پر آفس میں ہونے کے خیال نے اسے روک لیا۔ اب وہ یہ کیس بالکل نہیں لڑنا چاہتی تھی۔ آخر وہ اس آدمی کی مدد کیسے کرتی جس نے اس کی زندگی کو ایک بچھو گھر بنا دیا تھا۔ پھر اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ وہ یہ کیس لے گی، لڑے گی اور ہار جائے گی۔ اور اس کا کیس ہار جانا ہی اس کا بدلہ ہوگا۔

 

‘جی سندیپ پال نام ہے میرا۔۔۔ جے۔ پی رائے نے آپ سے ملنے کے لئے کہا ہے، آپ ہی لڑیں گی میرا کیس ۔۔؟’

 

کتنی حیرت کی بات تھی، جس آدمی نے اس کی زندگی بدل دی تھی آج تک وہ اس کا اصل نام ہی نہیں جانتی تھی۔ سندیپ پال ۔۔ یہ نام سابو انکل جیسے خطاب سے بہت دور تھا۔ یہ بات سوچتے ہوئے نیلم نے سوچا کہ اچھا ہی ہے جو یہ نام سابو انکل سے خطاب سے دور ہے، شاید اس نام سے پکارتے وقت اسے بہت زیادہ دکھ نہیں ہوگا۔

 

‘بیٹھيے سندیپ جی ۔۔۔’ یہ کہتے ہوئے نیلم نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ ‘سندیپ جی’ جیسے خطاب سے پکارنے پر بھی اس کا دکھ کہیں سے کم نہیں ہوا۔ مرچ کو چینی کہہ دینے سے آخر وہ میٹھی تو لگے گی نہیں، نام بدل دینے سے کسی شے کی تاثیر تو نہیں بدل جاتی ہے۔ نیلم کو لگ رہا تھا کے اب یہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ سامنے لا کر ‘گدگدگدگد’ بولے گا۔ بس اسی خیال سے نیلم کے اندربچھو تیزی سے کروٹیں بدل رہا تھا، اور وہ اس کا درد برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے سندیپ پال سے اگلے دن آنے کو کہا۔

 

نیند نیلم کے کمرے کے باہر ہی کھڑی رہ گئی۔ وہ رات بھر اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر کیرم بورڈ کے اسٹرائیکر کی طرح گھومتی رہی۔ وہ سندیپ کا کیس ہارنا چاہتی تھی۔ بچپن میں جوطمانچہ وہ اسے نہیں مار سکی تھی اب مارنا چاہتی تھی۔ وہ اپنے اندر پڑا بچھو نکال کر سندیپ کے اندر ڈال دینا چاہتی تھی۔ اس نے اور بھی خوفناك سزائیں سوچیں لیکن کوئی بھی سزا اس ناکافی ہی لگی۔

 

رات اس کی آنکھوں کو لال رنگ میں رنگ کے چلی گئی۔ دیر تک جب وہ آفس نہیں گئی تو جے پی رائے کا فون آیا اور انہوں نے اس کو پہلے ہی کیس میں اتنی لاپرواہی برتنے پر ڈانٹنے کے ساتھ ساتھ اس کو فوراً ہی آفس آنے کو کہا۔ وہ آفس پہنچی تو اس نے سندیپ پال عرف سابو انکل کو اس کا انتظار کرتے ہوئے پایا۔ نیلم نے سندیپ سے کیس کی پوری ڈیٹیل لی، ہارنے کے لئے بھی مکمل ڈیٹیل کی ضرورت تھی ہی چونکہ اسے صرف ہارنا نہیں تھا بلکہ اپنی شکست کو قابل اعتماد بھی بنانا تھا۔ اور یہ کام کیس جیتنے سے بھی مشکل تھا۔ اور اگر وہ ایسا کر لے تو اپنے پہلے کیس میں اس کے لئے اس سے اچھی جیت نہیں ہو سکتی۔ کیس کی ڈیٹیل کے ساتھ سندیپ عرف سابو انکل کی زندگی کے کچھ ریشے اس کے دل سے چپک گئے، جیسے کہ سندیپ پال نے دوسری شادی کی اور دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے جس کا نام انیتا ہے، جیسے کہ انیتا کی شادی کے لئے سندیپ سنت نگر کا اپنا پلاٹ فروخت کرنا چاہتا تھا۔ سونو جو کہ نیلم کے اچانک بڑے ہو جانے سے پہلے اس کا دوست تھا اور جو اسے پنکی پنکی کہہ کر بلاتا تھا، اس پلاٹ کو فروخت کرنے کے حق میں نہیں تھا اور اس پلاٹ کو بزرگوں کی جائیداد ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ بزرگوں کی جائیداد کو گھر کے تمام اراکین کی رضامندی کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ سندیپ جس وقت نیلم کو بتا رہا تھا کہ اگر وہ یہ پلاٹ فروخت نہیں کر پایا تو انیتا کی شادی نہیں کر پائے گا، اس وقت اس کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں۔ نیلم نے سندیپ کی بھری ہوئی آنکھیں دیکھیں اور اس پر رحم نہ آ جائے اس لئے سوچا ۔۔ ‘تو کیا ہوا ۔۔۔ میں بھی تو شادی نہیں کر سکی اب تک ۔۔’۔ صحرا میں کتنی بھی بارش ہو ریت اسے پی ہی جاتی ہے اور نیلم ایک چلتا پھرتا صحرا تھی۔

 

سندیپ کی طرف سے آئے گواہوں، ثبوتوں اور سونو کی طرف سے آئے نقلی گواہوں ثبوتوں کے درمیان کورٹ کی پہلی تاریخ بیتی۔ کورٹ کے باہر سندیپ، سندیپ کی بیوی ممتا اور بیٹی انیتا سے نیلم کی ملاقات ہوئی۔ انیتا نے نیلم کو بتایا کہ اس کے والد اس کی بہت تعریف کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کیس ہم جیت جائیں گے۔ نیلم نے کیس جیتنے کی خوشی انیتا کی آنکھوں میں کیس جیتنے سے پہلے ہی دیکھ لی۔ انیتا کی آنکھیں اسے اچھی لگیں، انیتا کی آنکھیں روشن تھیں اور ان سے سیدھا دل میں جھانکا جا سکتا تھا۔ جیسے صاف پانی کی جھیلوں میں جھانکو تو ان کے نچلے حصے ظاہر ہوتے ہیں، ویسے ہی۔ اس نے سوچا کہ وہ بھی اگر ہمیشہ ٹھیک سے سو پائی ہوتی تو شاید اس کی آنکھیں بھی اتنی ہی اچھی اور روشن ہوتیں اور ان سےبھی سیدھا دل میں جھانکا جا سکتا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ان لوگوں سے تھوڑی دور پر ایک اسی جیسی وکیل، انیتا جیسی ایک لڑکی کو خاموش کرا رہی ہے۔ وہ کیس ہار گئے ہیں اور انیتا جیسی لڑکی کی آنکھیں بہت بھدی نظر آ رہی ہیں۔ وہ ڈر گئی اور اس نے سوچا کی انیتا کی آنکھیں ایسی ہی خوبصورت لگتی رہنی چاہئے۔ سندیپ نے جب جانے کی اجازت مانگی تو نیلم کا دھیان ٹوٹا۔ سامنے نہ کیس ہاری ہوئی کوئی لڑکی تھی نہ اس جیسی کوئی وکیل، پھر بھی اس نے سوچا کہ انیتا کی آنکھیں خوبصورت لگتی رہنی چاہئے۔

 

نیلم جب بھی کیس کو ہارنے کے بارے میں سوچتی اسے انیتا کی آنکھیں یاد آ جاتیں۔ وہ رات بھر جاگتی اور سندیپ عرف سابو انکل کو سزا دینے کے طریقے سوچتی۔ لیکن دن میں انیتا کی آنکھوں کے بارے میں سوچتے ہی کیس کو جیتنے کے طریقے سوچنے میں لگ جاتی۔ راتیں پھر اس کی آنکھوں میں سرخ رنگ لگانے لگیں۔ اپنے ہی دماغ کے دو خیالات سے لڑتے ہوئے وہ سوچتی کہ ایک دن اس کے جسم سے ایک اور نیلم نکلے۔ ایک نیلم جو سابو انکل کو سزا دے اور جسے کیس کے جیتنے ہارنے سے کوئی مطلب ہی نہ ہو، اور دوسری نیلم جو جا کر وہ کیس جیت لے جسے سابو انکل کو سزا نہ دینے کا کوئی ملال نہ ہو۔ لیکن مشکل تو یہی تھی ان دونوں محاذوں پر ایک تنہا نیلم کو ہی لڑنا تھا اور دونوں میں سے ایک محاذ پر اس کی ہار طے تھی۔

 

دو تین تاریخیں گزریں اور نیلم نے عدالت میں یہ ثابت کر دیا کہ سنت نگر میں واقع سندیپ پال کا پلاٹ ان کے بزرگوں کی ملکیت نہیں بلکہ اس کی اپنی محنت سے حاصل کی ہوئی جائیداد ہے، اور وہ اسے بیچنے کے لئے آزاد ہے۔ نیلم سرخ آنکھوں میں آنسو لئے عدالت کے باہر کھڑی تھی۔ آنکھوں کے سرخ رنگ سے مل کر آنسو لاوا جیسے لگ رہے تھے۔ جھلمل جھلمل آنکھوں سے اس نے سندیپ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا اور اپنی آنکھوں پونچھ لیں۔ سندیپ کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ یہ کیس اتنی آسانی سے جیت گیا ہے اور اس بات سے نیلم خود کو اور ہارا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ سندیپ کو خوش دیکھ کر نیلم کا دکھ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ چلا چلا کر آس پاس کے لوگوں کو بتانا چاہتی تھی کہ سندیپ نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا۔ وہ اس سے اپنے باپ کو پیٹنے کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔ بائیس سال پرانا طمانچہ اب وہ مار ہی دینا چاہتی تھی۔ لیکن نہیں اس نے ابھی ابھی اپنا پہلا کیس جیتا تھا۔ ابھی ابھی وہ انیتا کی خوبصورت آنکھوں کی خوبصورتی کو لے کر مطمئن ہوئی تھی۔ اس کے اندر ماضی اور مستقبل کے کتنے تصادم ہو رہے تھے۔ کتنے ہی بادل گرج رہے تھے۔ پر سندیپ کی آنکھوں پر خوشی کا شیشہ چڑھا تھا اور اسے نیلم سے گزرتا ہوا ماضی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسے جلد سے جلد گھر پہنچ کر یہ خوشی گھر والوں سے بانٹنی تھی۔ وہ جانے لگا اور جاتے جاتے ایک بار مڑا۔۔۔

 

‘بیٹی ۔۔۔ انیتا کی شادی کا کارڈ بھیجوں گا ضرور آنا۔۔۔’
یہ کہہ کر وہ جانے لگا کہ اس کے پاؤں میں نیلم کی آواز چبھ گئی۔۔۔ وه ٹھہر گیا ۔۔

 

‘ٹھیک ہے سابو انکل۔۔۔’

 

سابو انکل ۔۔؟ سندیپ کے دماغ میں سوال اٹھا۔ پھر بائیس سال پرانا ایک آسیب اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ وہ مڑا تو اس کے سامنے آٹھ سال کی ایک بچی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں ایک کامک بک تھی۔
Categories
نقطۂ نظر

ٹیبوز پر بات کرنا ہو گی۔۔۔۔

محمد شعیب
tabbbosbaat2مشرقی معاشرتی ڈھانچے اور خاندانی نظام میں جنسی استحصال کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہونے ، جنسی زیادتی کو انتقام کے لئے استعمال کئے جانے اور جنسی گھٹن کے باعث زیادہ تر افرادجنسی اور نفسیاتی سطح پر بیمار رویہ اختیار کر لیتے ہیں اورہردوسرے فرد کو محض ایک Sex Objectسمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔مشرقی خاندانی نظام میں والدین اور بہن بھائیوں کے علاوہ رشتے دار، کزن ، ہمسائے، اساتذہ یہاں تک کے عمر میں بڑا ہر شخص محبت کے جسمانی اظہار یا سرزنش کا حق رکھتا ہے جس سے وہاں بچوں سے جنسی ہراسانی یا زیادتی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ سماج میں جنسی ہراسیت اور زیادتی کی مختلف صورتوں اور اس سے متعلق اثرات سے عدم آگہی کے باعث بہت سے معاملات میں بچے اور بڑی عمر کے افراد بھی اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا گیا برتاو جنسی ہراسیت کے زمرے میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ گھر یا گھر سے باہر کسی بھی جگہ کوئی بھی ایسی بات، رویہ یا حرکت جو جنسی تسکین حاصل کرنے یا جنسی عمل میں شرکت پر مجبور کرے یا اس کی دعوت دے وہ جنسی ہراسیت سمجھا جائے گا۔ گالی دینا،گھورنا، جسم کو چھونا، بوسہ لینا، جنسی عمل کی کوشش کرنا اور زبردستی ، ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر جنسی عمل میں شریک کرنا یا شریک کرنے کی کوشش کرنا (بالغ افراد کی صورت میں زبردستی) جنسی ہراسیت ہیں۔

گھر یا گھر سے باہر کسی بھی جگہ کوئی بھی ایسی بات، رویہ یا حرکت جو جنسی تسکین حاصل کرنے یا جنسی عمل میں شرکت پر مجبور کرے یا اس کی دعوت دے وہ جنسی ہراسیت سمجھا جائے گا۔ گالی دینا،گھورنا، جسم کو چھونا، بوسہ لینا، جنسی عمل کی کوشش کرنا اور زبردستی ، ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر جنسی عمل میں شریک کرنا یا شریک کرنے کی کوشش کرنا (بالغ افراد کی صورت میں زبردستی)جنسی ہراسیت ہیں۔

جنسی ہراسیت سے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کرنے والے نفسیاتی مریض ہوتے ہیں، ان پڑھ یاگھر اور خاندان سے باہر کے اجنبی افراد ہوتے ہیں اور جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات عام طور پر کم آمدنی والے اور پسماندہ طبقات میں ہوتے ہیں۔ ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ گھر اور خاندان میں بچے اور خواتین زیادہ محفوظ ہیں۔ تاہم یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جنسی ہراسیت کا مسئلہ ہر جنس، عمر، طبقہ، علاقہ اور سماجی گروہ میں موجود ہے۔ پڑھے لکھے، ان پڑھ، رشتے دار، اجنبی، امیر اور غریب ہر طرح کے لوگ ہراسانی کے عمل کا شکار ہو سکتے ہیں اور ہراساں کرسکتے ہیں۔ جنسی زیادتی بچوں اور بچیوں دونوں سے ہوتی ہے۔ بچے اور خواتین چوں کہ اس مسئلہ کا زیادہ شکارہوتے ہیں اس لئے انہیں گھر پر رکھنے، یا ان پر پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔خوتین اور بچیوں کو جنسی زیادتی اور ہراسیت سے بچنے کے لئے مخصوص لباس پہننے خاص طور پر پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان کے آزادانہ میل جول پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ تاہم بچوں سے جنسی زیادتی اور ہراسیت کے زیادہ تر واقعات گھر اور خاندان کے افراد کرتے ہیں، اور رشتے داروں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے باعث متاثرہ خاندان شرمندگی اور بدنامی سے بچنا چاہتے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو دبادیا جاتا ہے اور خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات میں عام طور پر ہراسانی کا شکار ہونے والے متاثرہ شخص کے رویے، لباس یا خوبصوریتی کو وجہ سمجھا جاتا ہے اس لئے زیادتی کرنے والے کی بجائے زیادتی کا شکار ہونے والوں کی “اصلاح ” اور “پاکیزگی” پر زور دیا جاتا ہے ۔مردوں اور لڑکوں کے بر عکس خواتین اور کم عمر بچیوں کے ساتھ خصوصی طور پر ان کے تحفظ کے لئے میل جول اور آزادانہ نقل و حرکت کی پابندی کے علاوہ پردہ یا مخصوص لباس پہننے کی پابندی عائد کی جاتی ہے جو بچیوں اور خواتین میں اپنی صنف (Gender)کو ایک بوجھ یا جرم سمجھنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔معاشرہ اور خود متاثرہ فرد جنسی زیادتی کا شکار ہونے پر خود اس فرد کے رویے میں ہی غلطی تلاش کرتے ہوئے اسے مجرم قرار دیتے ہیں، جس کے باعث عام طور پر معاشرہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے اور دیگر افراد پر اخلاقی پابندیاں عائد کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جنسی زیادتی اور عورت کے رویے اور سماجی کردار (Social Behavior) کے درمیان یہ علت و معلول کا رشتہ (cause and effect) بہت سی غلط فہمیوں کا باعث ہے۔ جیسے یہ خیال عام ہے کہ اگر عورت چست یا “فحش” لباس پہنے گی یا گھر سے باہر نکلے گی یا اکیلی کہیں جائے گی، ہنس کر بات کرے گی تو ایسا ہونا لازم ہے اور اس کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ عورت کے لباس اور نقل و حرکت کی حدود طے کی جائیں۔ مردوں یا ہراساں کرنے والوں کی بجائے زیادتی کا شکار افراد اور بچوں کونفرت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس سماج میں جنسی تسکین کے موزوں اور صحت مند مواقع جتنے محدود ہوں گے وہاں جنسی ہراسیت اور زیادتی کے واقعات کی شرح اتنی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جنسی ہراسیت یا زیادتی کرنے والے تمام افراد نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ اکثر لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں عام افراد ہی کی طرح رہتے ہیں مگر جنسی خواہش اور ضرورت کے اظہار اور تسکین کے مواقع نہ ہونے کے باعث ایسا کرتے ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ جنسی خواہش یا ہوس انسان کو جنسی زیادتی کرنے یا ہراساں کرنے پر اکساتی ہے، اس لئے جنسی خواہش کو دبانے کے لئے پاکیزگی اختیار کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنسی عمل کی خواہش ایک فطری ضرورت ہے اور اس ضرورت کے اظہار اور تسکین کے صحت مند اور موزوں مواقع میسر نہ آنے پر عام نارمل افراد جنسی تلذذ کے لئے جنسی کج رویاں اختیار کر سکتے ہیں۔ جس سماج میں جنسی تسکین کے موزوں اور صحت مند مواقع جتنے محدود ہوں گے وہاں جنسی ہراسیت اور زیادتی کے واقعات کی شرح اتنی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جنسی ہراسیت یا زیادتی کرنے والے تمام افراد نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ اکثر لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں عام افراد ہی کی طرح رہتے ہیں مگر جنسی خواہش اور ضرورت کے اظہار اور تسکین کے مواقع نہ ہونے کے باعث ایسا کرتے ہیں۔ جنسی عمل اور جنسی تسکین کو ایک گندا یا ناپاک عمل تصور کرنے کے باعث اس موضوع پر تربیت اور آگہی کے ساتھ اپنی جنسی الجھنوں کے اظہار اور ان الجھنوں کے حل کے لئے کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ بچے اپنی جنسی جبلت سے متعلق اپنے ماحول سے ہر اچھا برا عمل اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں اور جنس سے متعلق لٹریچر اور پورنوگرافس(Phonographs) کے ذریعے جنسی عمل سے متعلق معلومات اور لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لٹریچر اور فلمز میں بسااوقات ایسا مواد بھی شامل ہوتا ہے جو جنسی ہراسیت پر اکساتا ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی سینما میں مرد ہیروز کا کردار جو عام طور پر ہیروئن کوہراساں کرتا دکھایا جاتا ہے، اور بچوں پر بننے والے پورن بھی کم عمر بچوں کی جنسی ہراسیت کی ایک وجہ بنتے ہیں۔ ایسے افراد جو خود بچپن میں جنسی زیادتی یا ہراسیت کا شکار رہے ہوں وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔والدین کا بچوں سے نامناسب رویہ، پدرسری معاشرتی نظام، مردانہ برتری کا احساس، گھریلو ماحول ،نفسیاتی امراض، اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دوستی اور سماجی گھٹن بھی جنسی ہراسیت کی وجہ بنتے ہیں۔بچپن میں جنسی ہراسیت اور زیادتی کا شکار ہونے والے افراد بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

برصغیر کی مقامی زبانوں اور ثقافتوں میں جنسی زیادتی سے متعلق استعمال کی جانے والی زبان اور عمومی سماجی رویے بھی اس موضوع سے متعلق حساسیت سے محروم ہیں۔ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تراکیب نہایت پسماندہ اور صنفی امتیاز سے معمور ہیں اور جنسی زیادتی کے واقعات کو بیان کرنے کی نزاکت سے محروم ہیں۔اظہار کے جو پیرایے ان واقعات کے بیان کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ یا تو لطف اٹھانے کے لئے ہیں یا ان میں متاثرہ فرد کو کمزور اور شکست خوردہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے متاثرہ افراد مزید نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ جنسیات اور جنس سے متعلقہ مسائل کو چوں کہ زیرِ بحث لانے سے ہچکچاتا ہے اس لئے ذرائع ابلاغ، گھروں، تعلیمی اداروں حتیٰ کہ ایوانِ نمائندگان میں بھی جنس اور اس سے متعلقہ مسائل خصوصاً زیادتی اور ہراسیت پر بات چیت اور بحث سے گریز کیا جاتا ہے، اس وجہ سے جنسی زیادتی اور ہراسانی کا شکار بیشتر افراد اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کی بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تراکیب نہایت پسماندہ اور صنفی امتیاز سے معمور ہیں اور جنسی زیادتی کے واقعات کو بیان کرنے کی نزاکت سے محروم ہیں۔اظہار کے جو پیرایے ان واقعات کے بیان کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ یا تو لطف اٹھانے کے لئے ہیں یا ان میں متاثرہ فرد کو کمزور اور شکست خوردہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے

جنسی ہراسانی اور زیادتی پر بحث اور گفتگو کے دوران زبان کے استعمال میں سب سے زیادہ لاپروائی ذرائع ابلاغ پر برتی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں جنسی زیادتی اور ہراسیت کے واقعات کو رپورٹ کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی شناخت اور واقعہ کی تفصیلات جس سنسنی اور وضاحت سے دی جاتی ہیں وہ ان افراد اور ان کے خاندان کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں جنسی زیادتی کی کوریج سے متعلق ضابطہ اخلاق پر عمل نہ کرنے کے باعث عام طور پر متاثرہ فرد خاص طور پر خواتین اور بچوں کو معاشرے میں تضحیک، طنز اور بدنامی برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ لوگوں کی نظروں میں آ جانے کی وجہ سے ان کے لئے سماج میں معمول کی زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جنسی زیادتی اور اس کے بعد متاثرہ افراد کے ساتھ لوگوں کا امتیازی سلوک انہیں کم اعتمادی، غصہ، چڑچڑاپن، خوف، منشیات کا استعمال، نفسیاتی الجھنوںاور بعض صورتوں میں خودکشی کی طرف مائل کرتے ہیں۔جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد معاشرتی بدنامی سے بچنے کے لئے اکثر ایسے واقعات کا ذکر کسی سے نہیں کر پاتے ۔ عام طور پر بچے ایسے واقعات کے بعد تحفظ اور اعتماد چاہتے ہیں، لیکن وہ اس معاملے پر کسی سے بات نہیں کر پاتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان پر پھر سے اعتماد کیا جائے اور ان کے مسئلے کو سمجھتے ہوئے انہیں بحالی کا موقع دیا حائے ۔

جنسی زیادتی کے واقعات کو چھپائے جانے کی ایک بڑی وجہ پولیس اور عدالتی نظام کی خامیاں ہیں۔ پولیس اور عدلیہ کا زیادہ تر عملہ مردوں پر مشتمل ہے اور جنسی زیادتی کے واقعات عموماً بچوں اور خواتین کے ساتھ پیش آتے ہیں جنہیں رپورٹ کرنے اور پھر عدالت میں پیشی کے دوران عموماً مردانہ نقطہ نظر سے دیکھا، سنا اور پرکھا جاتا ہے۔ جنسی ہراسیت اور زیادتی کے زیادہ تر واقعات پر مقدمات درج نہیں کرائے جاتے۔ قانونی پیچیدگیوں اور موزوں قوانین اور تفتیش کا طریقہ کار نہ ہونے کے باعث اکثر لوگ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان کا تذکرہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ زیادتی اور ہراسانی کے عمل کو روکنے اور سزا دینے کے قوانین میں تفتیش،شہادت ، سماعت اور سز ا کے تعین کا طریقہ کار مشکل، فرسودہ اور غیر موثر ہے۔ زیادتی کا شکار افراد کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے جنسی زیادتی اور ہراسانی سے متعلق قوانین میں ترمیم اور ان کے استعمال کے لئے زیادہ آسانیاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تھانے اور عدالت کے ماحول کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان مقدمات کی پیروی میں سہولت محسوس کریں۔

متاثرہ افراد خصوصاً بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن والدین اور بچوں کے درمیان جنس کے موضوع پر گفتگو نہ ہونے اور ایسے واقعات سے متاثر افراد کو کلنک سمجھنے کے باعث اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں زیادتی اورہراسیت کا شکار افراد کی بحالی کا کوئی مناسب انتظام اور سہولت موجود نہیں۔ بیشتر واقعات میں متاثرہ افراد کی نفسیاتی اور سماجی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خاموشی ہے جو معاشرہ ان معاملات میں اختیار کئے ہوئے۔ متاثرہ افراد خصوصاً بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن والدین اور بچوں کے درمیان جنس کے موضوع پر گفتگو نہ ہونے اور ایسے واقعات سے متاثر افراد کو کلنک سمجھنے کے باعث اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن اب ان ٹیبوز (Taboos)پر بات کرنی ہو گی ، جنس سے متعلق موضوعات پر ذمہ دارانہ گفتگو کرنا ہو گی ، جنسی ہراسیت سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کے لئے سماجی فعالیت کی ضرورت ہےورنہ پانچ برس کی کوئی بچی محفوظ نہ رہے گی۔