Categories
نان فکشن

ہمارے ہاں علم، تحقیق اور تخلیق کی موت کیسے واقع ہوئی؟

کیا وجہ سے مغربی ممالک میں پے در پے، ایک سے بڑھ کر ایک تخلیقیت سے بھری ذہانتیں پیدا ہو رہی ہیں، اور ہمارے ہاں دین و مذہب سے لے کر سائنسز اور سوشل سائنسز، ہر سطح پر اوسط درجے کا ذہن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح کی کوئی نئی سوچ، ایجاد، دریافت کچھ بھی ہمارے نام پر نہیں۔ جب کہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قدرت ہر خطے میں ذہانتیں برابر تقسیم کرتی ہے، ہمارے ہاں خداداد ذہانتوں کے باوجود تحقیق و تخلیق کے سوتے خشک کیوں ہوئے؟ ہمارے ہاں غلطی کہاں ہو رہی ہے؟

 

[blockquote style=”3″]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں

[/blockquote]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں۔ خالص تحقیقی مزاج کی آبیاری کسی بھی سطح پر کہیں بھی موجود نہیں۔ تحقیقی اور تخلیقی سوالات کی بیخ کنی کا
سلسلہ بچپن میں گھر سےشروع ہوتا ہے، اور سکول، مدرسہ، یونیورسٹی اور دینی جامعہ ہر جگہ تقریبًا ایک جیسی شدت سے آزاد سوالات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تحقیق کی اعلیٰ سطحی تعلیم کے طلبہ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی تحقیق میں کوئی نئی بات پیش نہ کر دینا، ورنہ دفاع کرنا دشوار ہو جائے گا اور ڈگری ملنے میں مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ راقم نے اسی وجہ سے اپنا ڈاکٹریٹ (اسلامیات) کا مقالہ انگریزی میں لکھا تھا کہ انگریزی جاننے والے معائنہ کار شاید اتنے تنگ نظر نہ ہوں۔

 

آپ نے کبھی غور کیا کہ کئی برسوں سے پاکستانی طلبہ، او لیول کے امتحانات میں عالمی سطح پر ٹاپ کر رہے ہیں، اس میں کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کروا چکے ہیں۔ لیکن پھر علم کی دنیا میں وہ نجانے کہاں گم ہو جاتے ہیں، علم کے کسی میدان میں کسی نئی تھیوری، ایجاد، دریافت، کسی نئے خیال کی پیش کش میں ان کا نام کہیں نظر نہیں آتا، بلکہ گزشتہ 60، 70 سالوں میں کوئی ایک بھی عالمی معیار کی تحقیق و تخلیق خالص پاکستانی ذہن سے نہیں پھوٹی، جو ایک دو نام موجود ہیں بھی، تو انہیں مذہبی شناخت کے خوف سے اپنانے سے انکار کر دیا گیا۔

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نظام تعلیم رٹے پر مبنی تو ہے ہی، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ او لیول جیسے کانسپٹ بیس نظام ِتعلیم میں بھی پاکستانی تعلیمی اداروں نے ممکنہ حد تک رٹا متعارف کروادیا ہے، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے پاکستانی طلبہ عالمی سطح پر کئی سالوں سے ٹاپ کر رہے ہیں، لیکن کسی اصلی تخلیق و تحقیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔

 

ہمارے ہاں سوشل سانسئز تو رہے ایک طرف، خالص سائنسی مضامین میں بھی عملی کام بھی عموماً تصوراتی انداز میں کرایا جاتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ پروجیکڑز پر دکھا دیا جاتا ہے۔ طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارے طلبہ کے ٹاپ کرنے کی وجہ ان کی تخلیقی ذہانت نہیں، بلکہ پرچے اچھے انداز میں کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں لکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔

[/blockquote]

او لیول کے ایسے پاکستانی طلبہ جنھوں نے کچھ عرصہ بیرون ملک، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ میں پڑھا اور خاندانی وجوہات کی بنا پر باقی کی تعلیم پاکستان میں مکمل کرنے آ جاتے ہیں، ہمارے طریقہ تدریس پر حیرت اور کوفت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں اتنے طویل لیکچر کیوں دیئے جاتے ہیں، لکھنے کا کام بہت زیادہ دیا جاتا ہے، جب کہ یورپ وغیرہ میں اس سطح پر لیکچر عموما پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا، اور ہر لیکچر کے ساتھ کچھ عملی، بصری کام بھی ضرور کرایا جاتا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ آپ کو اچھا سے اچھا، قابل پاکستانی ڈاکٹر، انجینیر، اکاونٹنٹ، فلسفے کا حافظ فلسفی، تایخ کا حافظ مورخ، تعلیمی تھیوریز کا حافظ ماہر تعلیم اور ماہرِ عمرانیات تو مل جائے گا، لیکن موجد نہیں ملے گا، آزاد مفکر نہیں ملے گا، کوئی ایک بھی ایسا نہیں مل پائے گا جس نے خالصتا کوئی نئی ایجاد کی ہو، کوئی بالکل نیا تجربہ کیا ہو، یا سائنس و بشریات میں کوئی نئی تھیوری یا نظریہ دیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایجاد کو موڈیفائی کر دیا ہوگا، یا کسی نظریے پر حاشیہ لکھ دیا ہوگا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی کو ہمارے ہاں تحقیق کی معراج قرار دیا جاتا ہے، اور اسی پر مقامی قسم کے آسکر بھی مل جاتے ہیں۔

 

دینی علوم میں تو تقلید کا رحجان واجباتِ دین میں شامل ہے ۔ راقم ایک دینی تحقیقی مجلے کی ایڈیٹنگ بھی کرتا ہے، جس قسم کے مضامین چھپنے آتے ہیں، مت پوچھئے، یعنی اس سطح پر بھی ‘نماز کے فوائد’ جیسا مضمون ایک سینیئر محقق کی طرف سے موصول ہو سکتا ہے!
جس معاشرے کے دینی علمی مزاج کا یہ عالم ہو کہ اگر کوئی اپنی تحقیق کے نتیجے میں کسی منفرد رائے کو پہنچ جائے، تو اسے ‘تفرد’ جیسا حقارت آمیز اور نفرت انگیز نام دے کر اس سے استفادہ کرنے سے اجتناب کرایا جاتا ہو، وہاں کتنے حوصلہ مند ہوں گے کہ جو پہلے تحقیق کا جوکھم برداشت کریں، اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہوانے والے کسی ‘تفرد’ پر ساری زندگی طعنے بھی سہتے رہیں۔ دماغ کے اس آزادنہ استعمال پر اداروں میں ملازمت کے دروازے تک بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

[blockquote style=”3″]

ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے

[/blockquote]

حالت یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں اپنے طلبہ کو آزادیءِ فکر کی راہ دکھانے کی جرات کر ہی ڈالی جائے، جو اوّل تو انتظامیہ کی نگرانی کی وجہ سے عمومًا ممکن ہی نہیں ہوتی، تو بعد ازاں طلبہ کو یہ تلقین بھی کرنی پڑتی ہے کہ امتحانات میں کوئی اپنی آزادانہ رائے نہ لکھ دینا، وہی لکھنا جو نصاب کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، ورنہ فیل تو کر ہی دیے جاؤ گے، غدار یا گمراہ بھی قرار پاؤ گے۔
سید سلیمان ندوی جیسے عالم، جنھوں نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں کچھ منفرد آراء اپنائی تھیں، عمر کے آخری دور میں جب تصوف کی راہ سے حضرت اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، تو ایک اجمالی اعلان فرمایا کہ میں اپنے تمام تفردات سے برات کا اعلان کرتا ہون۔ ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا اگر وہ اپنے تمام تفردات سے برات اپنی مزید تحقیق کی روشنی میں کرتے اور اپنے رجوع کے دلائل بھی بتاتے، لیکن یہ اجمالی بیان، کیا علم و تحقیق کی شکست کا اعلان نہیں، جو شائد آخرت کی نجات کے لیے ضروری سمجھ کر کیا گیا؟ علم کے مسند نشین بڑوں کا جب ایسا رویہ ہو گا تو علم، تحقیق اور تخلیق نے کیا پنپنا ہے۔

 

حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے، ایسے شخص کو کوئی اس وجہ سے ملازمت نہیں دیتا ہے یہ دوسروں کو اپنے سے پیچھے چھوڑ جائے گا۔

 

ہمارے سینیئر رفیق کار، برن ہال کالج کے سابق پرنسپل، سلیم صاحب، ایک پر حکمت ذہن کے مالک ہیں، کہا کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے غلام پیدا کرتے ہیں، طلبہ کو ‘سن لو اور مان لو’ کے طرزِ تعلیم کے ذریعے، غلامی کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، نیز، محکمے کا سربراہ اپنے ملازمین سے تابع داری ہی نہیں، بلکہ غلامی کی توقع کرتا ہے۔ ہمارےایک فوجی پرنسپل تو میری مناسب سی داڑھی کا سائز تک اپنی پسند کے مطابق کرانا چاہتے تھے۔ اپنے طلبہ اور ماتحتوں میں غلامی کی خو پیدا کرنے یہ خواہش کیوں ہے، اس کی وجہ سلیم صاحب یہ بتاتے تھے کہ غلام قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو ان کے سابقہ آقا ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ غلامی کی یہ وراثت ہم چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مقولہ سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہے کہ ‘غلام، بد ترین آقا ہوتا ہے’۔

 

اس کاانکار نہیں کہ ذہانتیں یہاں بھی پیدا ہوتی ہیں لیکن بڑی بے دردی سے ان کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑی مشکل سے پیدا ہونے والے دیدہ ور، بڑی مشکل سے کہیں بچ پاتا ہے۔ علم و تحقیق اور تخلیق کے دشمن، دراصل، خدا کے دشمن ہیں۔ خدا ہر بار ہر بچے کو آزاد ذہن دے کر دنیا میں بھیجتا ہے، لیکن یہ خدا کی تخلیق کے دشمن، ہر بچے کی تخلیقیت کو جِلا پانے سے پہلے ہی دفن کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ یہ خدا سے مقابلہ پر کھڑے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ دین و مذھب، سائنس و سوشل سائنس کے فرعون ہیں جو کسی تخیلق کار موسیٰ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی گدّی، ان کی کرسی، ان کی روٹین اور ان کی تقلیدی تحقیق کی جامد سلطنت میں کوئی اضطراب پیدا ہونے نہ پائے۔ اس لیے حیرت نہیں ہونی چاہیے جب پاکستان مین آنے والے زلزلوں کو امریکی سائنسی تجربات کیا شاخسانہ قرار دینے والے افسانوں کو پذیرائی ملتی ہے۔
اور اگر ان کے ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کوئی آزاد فکر موسیٰ بچ نکلے تو یہ لوگ اس کے لیے حالات اتنے تنگ کر دیتے ہیں کہ اسے حضرت موسیٰؑ ہی کی طرح چھپ چھپا کے جلا وطن ہو جانا پڑتا ہے، ورنہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ پھر ہر پیدا ہوجانے والا موسیٰ، اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ جلا وطنی سے واپس اپنے وطن کو لوٹ سکے اور اپنے لوگوں کو ان تگنائیوں اور شکنجوں سے آزاد کرا سکے جن میں جہالت و تقلید کے فرعونوں نے انہں جکڑ رکھا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔

[/blockquote]

موجودہ صورتِ حال میں مثبت تبدیلی حکومتی اقدامات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حکومت کا اس صورتِ حال میں بہتری لانے کا کبھی کوئی ارادہ رہا ہی نہیں۔ حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔ تعلیم سے یہ گریز، دراصل اس شعور کی راہ روکنے کی کوشش ہے جو کسی قسم کے استبداد اور استحصال کو قبول نہیں اور آسانی سے بے وقوف بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

 

جب تک یہ صورتِ حال برقرار ہے، ہمیں دوسروں کی اترن ہی پہننا ہوگی، تحقیق و تخلیق کی دولت اور اس کے ثمرات آزاد ذہن قوموں کو ملا کرتے ہیں، غلاموں کو نہیں۔

 

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے راہ و رسم شاہبازی
Categories
اداریہ

بیکن ہاؤس سکول ساہیوال؛ ‘پنجابی اور گالیوں سے اجتناب برتیں’، نوٹیفیکیشن جاری

بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے ساہیوال کیمپس میں پنجابی زبان میں بات چیت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے نوٹس میں بدزبانی، گالیوں، نفرت آمیز کلمات پر پابندی عائد کرنے کے ضمن میں پنجابی زبان میں گفتگو کی ممانعت بھی شامل ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن جمعرات 13 اکتوبر 2016 کو جاری کیا گیا۔ بیکن ہاؤس سکول سسٹم کوملک کے ممتاز اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

سکول کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن پر پنجابی زبان کی ترویج کے لیے کام کرنے والے کارکنان کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ پنجابی پرچار کے سربراہ احمد رضا نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا، “بس بہت ہو چکا، ہم اشرافیہ کے ایک سکول کی جانب سے ایسے اقدامات برداشت نہیں کر سکتے’۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ یہ واضح کریں کہ کیا یہ پالیسی صرف اسی ایک سکول کے لیے ہے یا تمام سکولوں کے لیے۔

 

بیکن ہاؤس ساہیوال کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن
بیکن ہاؤس ساہیوال کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن
لالٹین سے بات کرتے ہوئے بیکن ہاوس سکول سسٹم لاہور کی ایک خاتون استاد کا کہنا تھا کہ اس قسم کی پابندیاں رسمی یا غیر رسمی طور پر بیکن ہاوس کی دیگر شاخوں میں بھی عائد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجابی زبان میں بات چیت پر بعض بچوں کو سرزنش بھی کی گئی ہے۔

 

احمد رضا کے مطابق انگلش میڈیم سکولوں میں بچوں کو جان بوجھ کر مادری زبان سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پنجابی زبان پر ایک واضح حملہ ہے اور اس سے لسانی تعصب میں اضافے کا امکان ہے۔ انہوں پنجابی پرچار کی جانب سے احتجاجی اجلاس منعقد کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔

 

یاد رہے کہ پاکستانی آئین کی شق 251 صوبوں کو علاقائی زبانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم کا محکمہ صوبائی عملداری میں دیا گیا تھا جس کے بعد خیبرپختونخوا ور بلوچستان میں مختلف علاقائی زبانوں کی تدریس پر کام شروع کیا گیا تھا تاہم حکومتیں بدلنے کے بعد ان منصوبوں پر کام روک دیا گیا ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق اس قسم کی پابندیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان میں مقامی زبانوں کو ابھی تک نوآبادیاتی تعصب کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔
.
Categories
نقطۂ نظر

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔ تنقید اچھی چیز ہوتی ہے، یہ ہمیں اپنی کمزوریاں دکھاتی ہے اور ان کا حل ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے، لیکن سوشل میڈٰیا پر اکثر ناقد شاید فنِ تنقید بھی نہیں جانتے ہیں۔ اچھا ناقد وہ ہے جو تنقید کرے اور پھر کوئی حل بیان کرے، پھبتی کسنے اور تنقید کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نیز ہر چیز میں کیڑے نکال کر ہم خود کو تجزیہ کار یا دانشور ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ تنقید پسندوں کو خود پرتنقید بھی برداشت کرنی چاہیئے اور اگر پیش کیے گئے دلائل پر بہتر رد پیش کیا جائے تو اپنی رائے تبدیل کر لینی چاہیئے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کچھ لوگوں نے افواجِ پاکستان یا کم از کم آئی-ایس-پر-آر کے ساتھ رنج پال رکھا ہے۔

 

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ آئی-ایس-پر-آر کا کام جنگ لڑنا نہیں ہے، یہ ادارہ نوے کی دہائی میں پاسبان نامی پروگرام نشر کیا کرتا تھا، اس نے پاکستان کو کچھ بہترین ڈرامے دیئے، اب فلمیں بھی بنا رہا ہے اور یہ ملی نغمے بھی تواتر سے بناتا ہے۔ پبلک رلیشنز ڈیپارٹمنٹ جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے پروپگنڈا ڈیپارٹمنٹ کہلاتا تھا اور اردو میں دفترِ تریج و ابلاغ کہلائے گا، اس کا کام لوگوں تک معلومات پہنچانا، افواج اور عوام کا مورال بلند کرنا اور دشمن کا مورال گرانا بھی ہوتا ہے۔ رہ گئی بات لڑائی کی تو پچھلے ایک سال سے پاکستانی ہر محاذ پر دہشت گری سے نبرد آزما ہیں، افواج اور عوام دونوں شہید ہو رہے ہیں۔

 

پھر پوچھتے ہیں پہلے خود تو پڑھ لیں، اپنے بچوں کو تو پڑھا لیں پھر کسی اور کے بچوں کو پڑھائیے گا! تو پھر سنئیے، پچھلے دورِ حکومت میں آئین میں آرٹیکل 25 الف کی شق شامل کی گئی تھی۔ یہ شق ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ6 تا 12 سال کے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست ایسا کر نہیں پا رہی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم کا بجٹ 2 فیصد کے لگ بھگ ہے وہ بھی پورا خرچ نہیں ہوتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے، ہر صوبے میں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ مجود ہیں جو ہمارے ٹیکس ڈکارے جارہے ہیں۔ اگر آپ کو اتنا ہی درد ہے تو اپنے علاقے میں قائم سرکاری اسکول پر دھاوا بول دیں جی ہاں! دھاوا! اسکول کی اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بن جائیں، اساتذہ کو پابند کریں کہ غیر حاضر نہ ہوں، علاقے کے مستحق بچوں کو اسکول لایئں، عوام کو آرٹیکل 25اے کے بارے میں بتائیں۔ اور اگر یہ کام کرنے کی ہمت نہیں ہے تو چپ ہوجائیں۔ اگر آپ تعلیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اور اگر بچے یہ عہد کر رہے ہیں تو کم سے کم ان کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

 

پھر سوال کرتے ہیں کون سی تعلیم دیں گے؟ کون سا نصاب پڑھائیں گے؟ کون سے بوڑد کا اطلاق ہوگا؟ ویڈیو غور سے دیکھیں بچے امن کا پرچار کر رہے ہیں۔ امن، انسانی حقوق، انسانیت اور خود شناسی سے قائم ہوتا ہے۔ البتہ یہ مضامین عموماً ہمارے اسکولوں بطور نصاب پڑھائے ہی نہیں جاتے ہیں، لیکن ان کو بڑے آرام سے ڈھونڈا، سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے، جیسے یہ بچے پر امن پیغامات بنا اور دکھا رہے تھے۔ اگر ہمیں موجودہ نصاب سے اختلاف ہے تو خود آگے بڑھنا چاہیئے اور اس میں موجود خامیوں کو اجاگر کر کے ان کا حل پیش کرنا چاہیئے۔

 

یہ نغمہ ‘مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے’ اور اس پہلے آنے والا نغمہ دونوں ایک بچے کی منظر کشی کرتے ہیں جو اپنے والدین اور پورے معاشرے سے ہم کلام ہے۔ پچھلے نغمے میں اس بچے نے اپنے دشمنوں کو آئینہ دکھایا تھا کہ تم نے پھول سے بچوں کو جان بوجھ کر کچلا ہے۔ اور نئے نغمے میں وہی بچہ ایک نئے عزم کا اظہار کر رہا ہے، لیکن یہ بچہ کم ظرف نہیں ہے! یہ ایک معصوم طالبعلم تھا اور اس کا بدلہ بھی بے ضرر اور معصومانہ ہے، یہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے۔ آخر تعلیم کے دشمنوں سے اس سے بہتر بدلہ کیا لیا جا سکتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلوں کو تعلیم دی جائے۔ ہاں تعلیم دینے سے پہلے یہ فیصلہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہو اور ایسی نہ ہو جو ہمارے تعلیمی اداروں میں ہی شدت پسند پیدا کر تی ہے۔

 

http://dai.ly/x3i3vfq

اچھا اگر ناقدین کی بات مان لیں اور یہ جملہ تبدیل کردیں تو، اس کی جگہ یہ بچہ کیا کہے؟
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے!
مجھے دشمن کے بچوں کو سولی چڑھانا ہے؟ یا پھر مجھے دشمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے؟
ہم اپنے بچوں کو کیسا بیانیہ دینا چاہتے ہیں؟

 

اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
بہت سے لوگ شاید بھولے بن گئے ہیں، میڈیا تو شاید ڈر، خوف یا پھر کسی اور مصلحت کے باعث دشمن کا نام نہیں لیتا ہے لیکن دشمن نے خود اس جرم کا اقبال کیا تھا اور اپنے آئندہ عزائم کا بھی عندیہ بھی دے دیا تھا۔ یہی عزم ملالہ یوسف زئی کا بھی ہے جس نے طالبان اور دہشت گردی کو تعلیم سے شکست دینے کی بات کی۔ اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
پچھلے سال جب اس سانحہ کے بعد پہلا نغمہ جاری کیا گیا تھا تو اس کے چند دن بعد ہی طالبان نے اس کا جوابی نغمہ جاری کردیا تھا، اس میں دشمن نے اقرار کیا تھا کے یہ حملہ اس نے کیا ہے اور اس کے بعد اس کا بھائی یہ عمل دہرائے گا (اس موقع پر ایک کم سن بچہ بندوق تھامے نظر آتا ہے)۔ یہ ان کا بیانیہ اور ان کا نظریہ تھا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو امن کا پرچار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں نہ کے خون خرابے کی۔

 

ایک اعتراض بجا ہے، کہ صرف اس سانحہ پر ہی نغمات کا اجرا کیوں کیا گیا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا اعادہ کیوں ہوا؟ تھر میں بھی تو بچے بھوک سے بلک بلک کر جاں بحق ہوگئے تھے، ہزاروں نوجوانان اور بچے امام بارگاہوں، مساجد اور گرجا گھروں میں ہونے والے خود کش حملوں میں جاں بحق ہوئے ہیں، ان کے لواحقین کی بھی دل جوئی ہونی چاہیئے تھی، ان کی بھی ڈھارس بندھانی چاہیئے تھی، ان کی شہادت کو بھی سلام پیش کرنا چاہیئے تھا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہے کہ غیر ضروری پراپیگنڈے اور غیر ضروری تنقید کی بجائے آگے بڑھنے کا راستہ تعلیم اور سب بچوں کی تعلیم ہے۔ بچوں سے ان کی معصومیت نہ چھینیں، اس عزم پر لبیک کہیں اور اگر کوئی کمی بیشی ہے تو مدلل اعتراضات ضرور کیجیے اور اپنا نقطہ نظر غلط ہونے پر تبدیل کرنے کو بھی تیار رہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم برائے فروخت

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں معیاری تعلیم وتحقیق کو فروغ نہ دیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے والوں نے کبھی اس بنیادی معاملے پر غورو فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی انحطاط روز افزوں ہے مگر ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ نام کی کوئی ترجیح شامل نہیں۔ اس امر کا اندازہ تعلیمی بجٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کل بجٹ کا 2 فیصد بنتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل پچیس اے کے مطابق ہر شہری کو تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی حکومت نے اس آئینی ذمہ داری کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کیا۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تحقیق کا معیار عالمی سطع کے تحقیقی کام کے معیار سے بہت پست ہے جس کی وجہ مناسب سہولیات کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے ہماری کوئی بھی یونیورسٹی عالمی رینکینگ کی پہلی یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔ اس میدان میں رہی سہی کسر پرائیویٹ یونیورسٹیز نے نکال دی جو طالب علموں سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتی ہیں اور ڈگری اس کے ہاتھ میں تھما دیتی ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں اور یونیورسٹیوں کے نگران اداروں میں کرپشن کے قصے اور جعلی ڈگریوں کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔

 

یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا
اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت نے بہت سی یونیورسٹیوں کو اپنے ذیلی کیمپس بنانے کی اجازت دی تھی تاکہ دوردراز علاقوں کے طالب علم بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری یونیورسٹیوں کے 17 کیمپس پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت چل رہے ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور گجرات یونیورسٹی کے مختلف شہروں میں کیمپسز قائم ہیں جن میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن سے لاکھوں روپے فیس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمپس گذشتہ کئی سالوں سے مختلف پروگرامز میں ایم فل، ماسٹرز اور بی ایس آنرز کروا رہے ہیں۔

 

ایک جانب اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب جعلی اور غیر توثیق شدہ یونیورسٹیوں کی نشاندہی اور جوابدہی کا کوئی نظام فعال نہیں۔ یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا، ایف آئی اے سمیت کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ جب طلبہ داخلہ لے لیتے ہیں، فیسیں جمع کرا دیتے ہیں تو پھر اچانک ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خیال آتا ہے کہ وہ ان اداروں کی اسناد کی توثیق نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ادارے ایچ ای سی سے منظور شدہ نہیں۔ یہ امر اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ اور ایچ ای سی حکام ایک مرتبہ بھی عام کرنے کی زحمت نہیں کرتے لیکن جب طلبہ اپنا وقت اور سرمایہ صرف کر چکے ہوتے ہوں تب ایسے مسائل اچانک سر اٹھانے لگتے ہیں۔

 

ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔
ایسا ہی معاملہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس میں چار ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ایم فل کی فی کس فیس تقریبا پونے تین لاکھ روپے وصول کی گئی ہے۔ داخلے کے وقت طلبہ کو انتظامیہ، پنجاب حکومت یا ایچ ای سی کی جانب سے قطعاً آگاہ نہیں کیاگیا کہ یہ ادارہ غیر توثیق شدہ ہے۔ طلبہ پر اچانک اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب انہیں اخبار کے ذریعے پتہ چلا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کی ڈگری توثیق شدہ نہیں۔ لاہور کیمپس کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ نے اس کیمپس کی منظوری دی اور حکومت پنجاب کے اجازت نامے کے بعد کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ سینڈیکیٹ کی منظوری کے بعد اس وقت کے وائس چانسلر خواجہ علقمہ نے کیمپس کھولنے کے اجازت نامے پر دستخط کیے تھے اور طلبہ کو یونیورسٹی کی طرف سے رجسٹریشن کا رڈ بھی مل رہے تھے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور لاہور کیمپس انتظامیہ کی مشترکہ کمیٹی قائم تھی جو تعلیمی اور انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے کرنے کی مجاز تھی۔ ملتان کے مرکزی کیمپس کی ویب سائیٹ پر ذیلی کیمپسز میں آج بھی لاہور کیمپس کا نام موجودہے۔ مگر کچھ عرصے بعد یونیورسٹی کے یونیورسٹی کے اندرونی مسائل کی وجہ سے حقیقت کھلنے لگی اور بعض ذرائع ) جو مبینہ طور پر تعلیمی کاروبار سے وابستہ افراد کی ایماء پر( یہ خبریں دینے لگے کہ کیمپس غیر قانونی ہے، اس وقت تک طالب علموں کو یونیورسٹی انتظامیہ، حکومت اور ہائیر ایجوکیشن سمیت کسی بھی ادارے نے صحیح صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔ ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔ قطع نظر اس کے کہ خواجہ علقمہ قصور وار تھے یا نہیں لیکن جس طرح ایک محقق اور ایک استاد کو گرفتار کیا گیا وہ بھی ہمارے معاشرے کے منہ پر نظام کا طمانچہ ہے۔ نیب اور پولیس والے انہیں مجرموں کی طرح گھسیٹ کر لے کے گئے جبکہ ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے لاہور میں بطور وائس چانسلر کیمپس کھولنے کی اجازت دی۔ یہ سراسر انتظامی معاملہ ہے اس میں کسی استاد کو جس کی ساری زندگی قوم کے نونہالان کی تعلیم وتربیت کرتے ہوئے گزری ہو اس طرح گصیٹ کر لے جانا بہت توہین آمیز ہے (واضع رہے جن پیسوں کی بات کی جارہی ہے وہ طلبہ کی فیسوں کے پیسے ہیں جو کیمپس انتطامیہ وصول کرتی رہی ہے وائس چانسلر کا ان پیسوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے)۔

 

تفصیلات کے مطابق لاہور کیمپس کی اجازت پنجاب حکومت نے ایک نجی کمپنی کو دی اس نے اس کیمپس کو اگلی پارٹی کو فروخت کردیا۔ اس کمپنی نے یہ کیمپس موجودہ چئیرمین لاہور کیمپس منیر بھٹی کو فروخت کردیا۔ منیر بھٹی اس کیمپس کو گذشتہ دو سالوں سے چلارہے تھے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھاری رقم رشوت کی مد میں بھی ادا کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی کروڑوں روپے رشوت مانگی گئی تھی جب رشوت کی رقم کیمپس انتظامیہ نے دینے سے انکار کیا تو یہ مسئلہ کھڑ اکردیا گیا۔ مگر ان تمام قانونی موشگافیوں میں ہزاروں طلبہ کا کیا قصور ہے جن کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے، جنہوں نے اپناقیمتی وقت ضائع کیا اور بھاری فیسیں بھی ادا کیں۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ تھا تو حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اشتہار کے ذریعہ اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ اگر میٹروبس، نندی پورپاور پراجیکٹ، قائداعظم سولر پراجیکٹ، اورنج ٹرین، موٹروے اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ذاتی تشہیر کے لیے اربوں کے اشتہار قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چل سکتے ہیں تو اس اہم مسئلہ پر اشتہار کیوں نہیں دیا گیا۔ اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومتی اداروں اس وقت کہاں سوئے ہوئے تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا؟ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کیا ان طلبہ کو ان کی ڈگریاں ملیں گی؟

 

اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔
کیا حکومت کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر اس طرح کیمپس بند کیا گیا تو تنگ آمند بجنگ آمند کے مصداق ہزاروں طلبہ مجبوراً سڑکوں پر ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔ قانونی مسائل جیسے بھی حل ہوں مگر طلبہ کو ان کی متعلقہ ڈگری بروقت ملنی چاہئیے ان کا تعلیمی سال اور پیسہ بالکل ضائع نہیں ہونا چاہئیے۔ وزیراعظم کے صرف اخباری بیان کے ذریعے نوٹس لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ذاتی دلچسپی بہت ضروری ہے۔ غریب طالب علموں کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ حمزہ شہباز ، مریم نواز، آصف زرداری، عمران خان، چوہدری نثار، اسحاق ڈار اور دیگر رہنماوں کے بچوں کی طرح بیرون ملک تعلیم حاصل نہیں کرسکتے مگر ان سے اس ملک میں ڈگریاں لینے کا حق تو نہ چھینا جائے۔ حکمرانوں اور دو فیصد اشرافیہ کی ترجیحات میں عوام کے بنیادی مسائل تعلیم ،صحت، روٹی،کپڑا، مکان اور روزگارشامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے بچے تو یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں ان مسائل سے فرق نہیں پڑتا۔ بجائے اس کہ انہیں تعلیم کی ایسی سہولیات دی جاتیں کہ وہ اپنا روزگار کماکر خود لیپ ٹاپ خریدنے کے قابل ہوجاتے حکمران اپنی ذاتی تشہیر کے لیے لیپ ٹاپ اور قرضے بانٹ کر نوجوانوں کی خودداری ختم کر رہے ہیں۔ سکولوں ،کالجوں کی کسمپرسی کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پنجاب کے دیہات میں ہزاروں سکول آج بھی ایسے ہیں جن میں چاردیواری، واش روم، پینے کا پانی، فرنیچر ، بجلی اور دیگر سہولیات نہیں ہیں۔ کالجوں اور سکولوں میں ہزاروں اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جبکہ دوسری طرف پرائیویٹ سکول ہزاروں روپے فیس کی مد میں وصول کرتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے۔ دوہرا نظام تعلیم ختم کرنے کے لیے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں گیا۔ اکیڈمی مافیا بھی قبضہ مافیا، سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی مافیا اور کرپٹ مافیا کی طرح ایک بڑا مافیا بن چکا ہے مگر حکومت نے تعلیم عام کرنے اور معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا قانون موجودہے مگر اس پر بھی عملدرآمد سیاسی مصلحتوں کی بنا پر نہیں ہوتا۔ حکمرانوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تعلیمی نظام میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور تعلیم فروشوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔
Categories
نقطۂ نظر

بیروزگار بلوچوں کا خون مت نچوڑو

بلوچستان کے عوام اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے ہیں۔ حصول علم کے لیے تربت ،گوادر، چمن، آواران، خاران، پنجگور، نصیرآباد اور دیگر علاقوں کے نوجوان کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے دور دراز شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ان شہروں کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کا وہ طبقہ تعلیم حاصل کر رہا ہے جو غریب ہے جسے علم حاصل کرنے کی چاہ نے اس جانب کھینچا ہے۔ نوجوانوں کی ان اداروں میں موجودگی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یا تو ان کے آبائی علاقوں میں تعلیمی ادارے نہیں ہیں یا پھر وہ غیر معیاری ہیں لیکن جیسے تیسے بلوچ نوجوان ملازمت اور بہتر مستقبل کی امید ہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر تعلیم کے حصول کے بعد بھی ان نوجوانوں کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔
جس طرح نیشنل ٹیسٹنگ سروس نے ہر امیدوار سے فی فارم ایک ہزارروپے وصول کیے تھے اور بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں سے کروڑوں روپے کمائے تھےاسی طرح بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی پالیسی بھی بورڑ اور یونیورسٹی کو منافع بخش ادارہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔
موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے دو برس پورے کر چکی ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ان کی پہلی ترجیح تعلیم ہے اور تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے وہ ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کے اس ارادے کا مقامی افراد نے خیر مقدم کیا۔ محکمہ تعلیم میں گریڈ1تا15تک کی چار ہزار تین سو انسٹھ خالی آسامیوں کا اعلان کیا گیا۔ ان نشتوں پر تعیناتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے امتحانات کی ذمہ داری نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کو سونپی گئی ہے۔ مئی 2015میں سیکنڈری اسکولوں کے گریڈ 17 کے جنرل سائنس اور ٹیکنیشن اساتذہ کی 1173خالی آسامیاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے ذریعے مشتہر کی گئی ہیں۔
این ٹی ایس کے ذریعے مشتہرکردہ خالی آسامیوں کے لئے وضح کردہ امتحانی فیس کے حوالے سے نوجوانوں کو اعتراض تھا لیکن امیدواروں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرانے کی وجہ سے یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ لیکن بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ آسامیوں کے لئے بنائ گئ گئے سخت شرائط سے امیدوار بہت پریشان ہیں۔ ایک تو کمیشن کی جانب سے نوجوانوں کو درخواستیں جمع کرانے کے لئے وقت کم دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب انہی خالی آسامیوں کے لئے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ امیدوار فارم جمع کرانے سے پہلے تعلیمی اسناد کی تصدیق متعلقہ بورڈ اور یونیورسٹیوں سے کرائیں ۔ اشتہار میں تصدیق کے عمل کو ضروری قرار دینے کے بعد بورڈ اور یونیورسٹی کے احاطے میں امیدواروں کی طویل قطاریں نظر آرہی ہیں۔
اس پیچیدہ طریقہ کار نے نوجوانوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ کمیشن کے اس فیصلے سے سخت نالاں ہیں ۔موجودہ ضوابط کسی بھی طور امیدواروں کے لیے قابل قبول نہیں۔ بالخصوص ان امیدواروں کے لیے جو کوئٹہ سے 1200یا 2000کلومیٹر دور ہیں اور درخواست دینے کے اس پیچیدہ عمل کی وجہ سے ان کا اس امتحان میں حصہ لینا محال ہو گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن فارم جمع کرانے کے طریقہ کار میں نرمی پیدا کرتا اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی شرط صرف کامیاب امیدواروں کے لیے لازمی قرار دیتا۔ اس عمل کو پیچیدہ بنانے کا کس کو فائدہ ہوگااور کیااس عمل سے پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی میں ایک نمایاں اضافہ سمجھا جائے گا؟اس اقدام کو ملازمت کی فراہمی کے عمل کی شفافیت کی بجائے اداروں کی ملی بھگت کے ذریعے امیدواروں سے رقم بٹورنے کا آسان طریقہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح نیشنل ٹیسٹنگ سروس نے ہر امیدوار سے فی فارم ایک ہزارروپے وصول کیے تھے اور بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں سے کروڑوں روپے کمائے تھےاسی طرح بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی پالیسی بھی بورڑ اور یونیورسٹی کو منافع بخش ادارہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے ایک نوجوان جو بیروزگار ہو وہ ملازمت کے حصول کے لیے مزید رقم خرچ کرے اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سرکاری اداروں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے ملازمتوں کے نام پر اس کا خون نچوڑا جائے۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس اور بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کے چریقہ کار کو آسان بنانےاور فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں کے نوجوان بے روزگار رہ جائیں گے۔ پیچیدہ طریقہ کار پر بے جا اخراجات کے باعث بہت سے طلبہ کے لیے درخواست دینا یا ملازمت کی اہلیت جانچنے کے امتحان کی تیاری کرنا ممکن نہیں۔ امید ہے بلوچستان کی صوبائی اور پاکستان کی وفاقی حکومت اس جانب توجہ دیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم پر حملے کا جواب تعلیم سے

پشاور میں سکول پر حملہ صرف ایک حملہ یا بچوں کی ہلاکت نہیں بلکہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران سکولوں پر ایک ہزار سے حملے کر کے طالبان نے واضح کردیاہے کہ ان کا پشت پناہ کوئی بھی ہو ان کا ہدف ایک ہی ہے؛ ہماری آنے والی نسلوں کو تعلیم سے محروم رکھنا۔ طالبان کے خلاف رائے عامہ ہموار ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس شدت پسندی سے تنگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی آنے والی نسلوں کو تحفظ ملے۔ عمران خان اور نواز شریف جیسے دائیں بازو کے طالبان کی جانب جھکاو رکھنے والے رہنماوں کا طالبان کے خلاف کارروائی پر متفق ہوجانا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت کو خطرے کا ادراک ہے لیکن کیا شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات واقعی کافی ہیں؟
اگر طالبان بندوق کے زور پر ہمارے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب بندوق سے دینے کے ساتھ ساتھ کتاب اور قلم سے دینا بھی ضروری ہے۔
پاکستانیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ شدت پسندی کا واحد جواب تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ اب وقت ہے کہ ہر بچے کو سکول جانے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ اگر طالبان بندوق کے زور پر ہمارے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب بندوق سے دینے کے ساتھ ساتھ کتاب اور قلم سے دینا بھی ضروری ہے۔ اگر وہ سکول دھماکے سے اڑانا چاہتے ہیں تو ہمیں سکول تعمیر کرنے ہوں گے۔ اگرجنگجو لڑکیوں کو سکول جانے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر بچی کو بستہ اور یونیفارم پہنا کر سکول کا راستہ دکھانا ہوگا۔ اگر وہ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنے مدارس اور پراپیگنڈا سے فرقہ واریت اور شدت پسندی کا زہر انڈیلنا چاہتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہرشدت پسند فکر کا جواب دینا ہوگا، اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کو پروان چڑھانا ہوگا۔
ہمارے دشمن اپنا حوصلہ تب ہی ہار جائیں گے جب ہر بچہ سکول جائے گا ، آج ہمیں نہ مزید چھاونیوں کی ضرورت ہے نہ ایف سولہ کی ،اب ہمیں سکولوں ، قلم اور کتابوں کی ضروت ہے۔
یہ وقت ہے کہ اب ہم اپنے مدارس کے نصاب پر غور کریں، جمعہ کے خطبہ کے متن کا جائزہ لیں اور فرقہ وارانہ تکفیری لٹریچر کی نگرانی کریں۔ریاست کو محض دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گرد تیار کرنے والے مدارس اور نظریات کو ختم کرنے پر اہنے وسائل صرف کرنا ہوں گے۔ لوگوں کو دہشت گردوں کے ساتھ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی مسترد کرنا ہوگا۔ یہی موقع ہے کہ سازشی مفروضوں کی بجائے تحقیق کے چلن کو عام کیا جائے، مذہبی علماء کی اندھی تقلید کی بجائے سوال کرنے کی روش پروان چڑھائی جائے اور جہادی جماعتوں کو دیے جانے والے چندے کا رخ فلاح کی طرف موڑا جائے۔ اب ضروری ہے کہ اوریا مقبول جان اور زید حامد جیسے طالبان پسند “مبلغین” کی جگہ روشن خیال اور ترقی پسند دانشوروں کی بات سنی جائے۔
پاکستانی ریاست کواندرونی اور بیرونی خطرات سے دفاع کے لیے نہ ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے نہ لاکھوں فوجیوں کی بلکہ پڑھے لکھے، ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ہمارے دشمن اپنا حوصلہ تب ہی ہار جائیں گے جب ہر بچہ سکول جائے گا ، آج ہمیں نہ مزید چھاونیوں کی ضرورت ہے نہ ایف سولہ کی ،اب ہمیں سکولوں ، قلم اور کتابوں کی ضروت ہے۔ ہمیں جس جہاد کی ضرورت ہے وہ بندوقوں اور تلواروں کا جہاد نہیں بلکہ ا-ب-پ کا جہاد ہے، ہمیں جس جنگ کو لڑنا ہے وہ طالبان کے خلاف نہیں بلکہ ان مدارس اور ان مذہبی تشریحات کے خلاف جنگ ہے جو طالبان پیدا کرتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم کے لیے آخری جدوجہد

(اوسلو ناروے میں نوبل انعام تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران بچوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ملالہ یوسف زئی کی تقریر کا اردو ترجمہ لالٹین قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات پاکستان سے ہے جنہیں 2012میں طالبان نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تعلیم اور خواتین کے حقوق کے لیے کوششوں کے باعث ملالہ یوسف زئی کو انسانی حقوق کے ہندوستانی کارکن کیلاش ستیارتھی کے ساتھ 2014 کے امن نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شاہی خاندان کے معززاراکین، نارویجین نوبل کمیٹی کے محترم اراکین ،عزیز بہنو اور بھائیو آج کا دن میرے لیے بے حد خوشی کا باعث ہے۔ مجھ عاجز و ناکس کو اس اعزاز کااہل قرار دینے پر میں نوبل کمیٹی کی شکر گزار ہوں۔

آپ سب کی مستقل محبت اورمسلسل تعاون پرمیں آپ سب کابھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔دنیا بھر سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اور خطوط پر میں آپ سب کی ممنون ہوں۔آپ کے مہربان اور حوصلہ افزا الفاظ میری ہمت بندھاتے ہیں۔

میں اپنے والدین کی غیر مشروط محبت پر ان کی احسان مند ہوں، میں اپنے والد کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے پر نہیں کترے اور مجھے اڑنے کی آزادی دی۔میں اپنی والدہ کی ممنون ہوں جن سے مجھے اسلام کے حقیقی پیغام صبر، تحمل اورحق گوئی کا درس ملا۔

مجھے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی پشتون، پہلی پاکستانی اور کم عمر ترین فرد ہونے پر فخر ہے۔مجھے یقین ہے کہ میں وہ واحد نوبل انعام یافتہ ہوں جو ابھی بھی اپنے چھوٹے بھائیوں سے لڑتی جھگڑتی ہے۔میں ہر جگہ امن چاہتی ہوں مگر اپنے بھائیوں کے ساتھ نوک جھونک پر قابو نہیں پا سکی۔

میرے لیے بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد میں کئی برس سے مصروف انسانی حقوق کے معروف کارکن کیلاش ستیارتھی کے ساتھ یہ انعام وصول کرنا اعزااز کی بات ہے۔ان کی جدوجہد کا دورانیہ میری عمر سے بھی دوگنا ہے۔میرے لیے یہ نہایت خوشی کا باعث ہے کہ ہم (ہندوستان اور پاکستان ) اکٹھے کھڑے ہو سکتے ہیں اور دنیا کو یہ دکھاسکتے ہیں کہ امن اور بچوں کے حقوق کے لیے ایک ہندوستانی اور پاکستانی مل کر کام کرسکتے ہیں۔

عزیز بہنو اور بھائیومیرا! نام میوند کی عظیم پشتون حریت پسندملالہ کے نام پر رکھا یا ہے جس کا مطلب غمگین اور افسردہ ہے لیکن میری دادی ہمیشہ مجھے “ملالہ – دنیا کی سب سےزیادہ خوش و خرم لڑکی “کہہ کر پکارا کرتی تھیں اور آج میں واقعی بے حد خوش ہوں کہ ہم ایک عظیم مقصد کی خاطر متحد ہیں۔

یہ انعام صرف میرانہیں بلکہ ان تمام فراموش شدہ بچوں کا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔یہ ان تمام خوفزدہ اور سہمے ہوئے بچوں کے لیے بھی ہے جو امن چاہتے ہیں، ان بے زبان بچوں کا بھی جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
میں یہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کو کھڑی ہوں، یہ وقت ان پر ترس کھانے کا نہیں بلکہ یہ وقت کسی بھی بچے کو آخری مرتبہ تعلیم سے محروم دیکھنے کے لیے جدوجہد کا وقت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں اور میری سہیلیاں مختلف تقاریب اور تہواروں کے لیے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے پھول بوٹے بنانے کی بجائے ریاضی کے کلیہ اور مساوات لکھا کرتی تھیں۔
مجھے علم ہے کہ لوگ میرا تذکرہ کئی طرح سے کرتے ہیں؛
بعض مجھے اس لڑکی کے طور پر یاد رکھتے ہیں جسے طالبان نے گولی کا نشانہ بنایا
اور کچھ کے نزدیک میں وہ لڑکی ہوں جس نے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی
اور بہت سے مجھے اب نوبل انعام یافتہ کہتے ہیں۔
لیکن جہاں تک میں جانتی ہوں، میں خود کو ہر بچے کی تعلیم، خواتین کے یکساں حقوق اور دنیا کے ہر کونے میں امن کے لیے مستقل مزاجی اورپختہ عزم کے ساتھ ان تھک کام کرنے والا سمجھتی ہوں۔

میں نے اپنی سترہ سالہ زندگی سے سیکھا ہے کہ تعلیم زندگی کی ضرورت بھی ہے اور نعمت بھی۔پاکستان کے شمال میں واقع اپنے آبائی علاقہ سوات میں مجھے ہمیشہ سکول جانا اور نئی چیزیں سیکھنا پسند تھا۔مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں اور میری سہیلیاں مختلف تقاریب اور تہواروں کے لیے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے پھول بوٹے بنانے کی بجائے ریاضی کے کلیہ اور مساوات لکھا کرتی تھیں۔

ہمیں علم کی جستجو تھی کیوں کہ ہم جانتی تھیں کہ ہمارا مستقبل کمرہ جماعت سے وابستہ ہے۔ہم مل بیٹھ کر پڑھتی اور سیکھتی تھیں۔ہمیں صاف ستھری وردی پہننا پسند تھا، ہم اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب سجایا کرتی تھیں ۔ہم چاہتی تھیں ہمارے والدین کو ہم پر فخر ہو ، ہم تعلیم کے ذریعہ وہ کارنامے سرانجام دینا چاہتی تھیں جو دنیا کے نزدیک صرف لڑکوں کے لیے مخصوص ہیں۔

میرے پاس دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ میں چپ رہوں اور مار دیے جانے کا انتظار کروں،اور دوسرا یہ کہ آواز اٹھاوں اور مار دی جاوں، اور میں نے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
مگر جب میں دس برس کی تھی تو حالات بدل گئے اور امن و سیاحت کا گہوارہ سوات دہشت کی سرزمین میں بدل گئی۔چارسو سے زائد سکول تباہ کر دیے گئے، لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا گیا،عورتوں کو کوڑے مارے گئے،ہم سب نے یہ اذیت برداشت کی اور ہمارے سپنے بھیانک خوابوں میں بدل گئے۔

تعلیم کا حق جرم قرار دے دیا گیا۔

لیکن میری دنیا بدلتے ہی میری ترجیحات بھی بدل گئیں۔

میرے پاس دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ میں چپ رہوں اور مار دیے جانے کا انتظار کروں،اور دوسرا یہ کہ آواز اٹھاوں اور مار دی جاوں، اور میں نے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

دہشت گردوں نے مجھے اور میری سہیلیوں کو 9 اکتوبر 2012 کو گولیوں کا نشانہ بنا کر روکنے کی کوشش کی لیکن ان کی گولیاں شکست کھا گئیں۔

ہم بچ گئے اور اس روز کے بعد سے ہماری آوازیں بلند ہوتی چلی گئیں۔

میں اس لیے اپنی کہانی نہیں سناتی کہ یہ منفردہے بلکہ اس لیے سناتی ہوں کہ یہ غیر معمولی نہیں ہے، یہ بہت سی لڑکیوں کی کہانی ہے۔

میں آج ان تمام لڑکیوں کی کہانی بھی سنا رہی ہوں۔آج میرے ساتھ نائجیریا، شام اور پاکستان کی ایسی بہنیں اور سہیلیاں بھی اوسلو آئی ہیں جن کی کہانی میرے جیسی ہے۔میرے ساتھ شازیہ اور کائنات ریاض ہیں جنہیں میرے ساتھ گولیوں کا نشانہ بننا پڑا۔انہیں بھی وہی صدمہ برداشت کرنا پڑا جو مجھ پر بیتا۔میرے ساتھ پاکستان سے آئی کائنات سومرو ہے جس نے ایک بھائی کھویا،تشدد اورجنسی بدسلوکی کا سامنا کیا مگر سر نہیں جھکایا۔

ملالہ فنڈ کی مہم کے دوران ملنے والی میری شامی بہن میزون بھی یہاں موجود ہے جو اب جارڈن کے ایک پناہ گزین کیمپ میں خیموں میں مقیم بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔شمالی نائجیریا کی آمنہ ہیں جن کے وطن میں سکول جانے کی خواہش مند لڑکیوں کو بوکوحرام اغوا کرتی ہے۔

گو بظاہرمیں اپنی اونچی ہیل سمیت پانچ فٹ دو انچ قامت کی ایک فرد دکھائی دیتی ہوں،لیکن میں محض ایک آواز نہیں،میری آواز میں بہت سے آوازیں شامل ہیں؛

میں شازیہ ہوں
میں کائنات ریاض ہوں
میں کائنات سومرو ہوں
میں میزون ہوں
میں آمنہ ہوں
میں سکول جانے سے محروم چھ کروڑ ساٹھ لاکھ لڑکیوں جیسی ہوں۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کیوں اہم ہے،میرا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی سے میں نے اقراء یعنی پڑھنے اور بالقلم یعنی “قلم کے ذریعہ “کا سبق سیکھا ہے۔

اور اسی لیے میں نے گزشتہ برس اقوام متحدہ میں کہاتھا،”ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا بدل سکتے ہیں۔”

آج نصف دنیا میں ہم تیز رفتار ترقی، جدیدیت اور افزودگی دیکھتے ہیں، جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک غربت، بھوک، ناانصافی اور جنگ جیسے قدیم مسائل کے باعث مصائب کا شکار ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے ایک سو برس مکمل ہونےپر 2014 ہمیں یاددہانی کرارہا ہے کہ ہم لاکھوں انسانی جانون کے ضیاع کے باوجود بھی ابھی تک تمام سبق نہیں سیکھ پائے۔

دنیا میں ابھی بھی ایسے تنازعات ہیں جن میں سینکڑوں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں،شام، غزہ اور عراق کے متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں،شمالی نائجیریا میں کئی بچیوں کو ابھی تک سکول جانے کی آزادی نہیں،خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں پاکستان اور افغانستان کے معصوم لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے۔

غربت کی وجہ سے بہت سے بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔
سماجی ٹیبوز، بچوں سے مشقت کرانے اور کم سنی کی شادی کے باعث بہت سے بچے ہندوستان اور پاکستان میں تعلیم سے محروم ہیں۔

اس فنڈ کی رقم سب سے پہلے میرے دل کے قریب میرے وطن پاکستان خصوصاًمیرے آبائی علاقہ سوات اور شانگلہ میں سکول تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔
میری ایک بہادر اور پراعتماد ہم مکتب جو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، 12 برس کی عمر میں شادی کے باعث اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ چودہ برس کی عمر میں جب وہ خود ابھی کم سن تھی تو اسے ایک بیٹے کو جنم دینا پڑا، میں جانتی ہوں کہ وہ ایک بہت اچھی ڈاکٹر بنتی۔لیکن ایک لڑکی ہونے کے باعث اسے ایسا نہیں کرنے دیا گیا۔

اپنی ہم مکتب کی اس کہانی کے باعث میں نے نوبل انعام کی رقم ملالہ فنڈ میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہےتاکہ دنیابھر میں لڑکیوں کو یکساں اور معیاری تعلیم دی جاسکے، میں دنیا بھر کے رہنماوں کوآمنہ، میزون اور مجھ ایسی لڑکیوں کی مدد کرنے کی دعوت دیتی میں۔اس فنڈ کی رقم سب سے پہلے میرے دل کے قریب میرے وطن پاکستان خصوصاًمیرے آبائی علاقہ سوات اور شانگلہ میں سکول تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔

میں یہاں سے آغاز کر رہی ہوں مگر میری کوششوں کا اختتام نہیں، میری جدوجہد ہر بچے کو تعلیم ملنے تک جاری رہے گی۔حملے کے بعد میں خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط سمجھنے لگی ہوں کہ اب کوئی مجھے نہیں روک سکتا، کوئی ہمیں نہیں روک سکتا،کیوں کہ اب ہم لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور متحد ہیں۔

عزیز بھائیو اور بہنو !ہاں آج میں کھڑی ہوں یہیں ایک وقت تھا کہ دنیا بدلنے والے مارٹن لوتھر کنگ، نیلسن منڈیلا، مدرٹریسا اور آنگ سان سوچی جیسے عظیم لوگ بھی کھڑے ہوئےتھے ۔میں امید کرتی ہوں کہ میری اور کیلاش ستیارتھی کی گزشتہ کاوشیں اور آئندہ اقدامات بھی دیرپا تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔

میں امید کرتی ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے آخری بار جدوجہد کرنا پڑے گی۔ہم چاہتے ہیں کہ سب متحد ہوکر ہماری اس مہم کا ساتھ دیں تاکہ ہم اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کر سکیں۔

جیسا کہ میں کہہ چکی ہوں کہ ہم درست سمت میں بہت سے قدم اٹھا چکے ہیں مگر اب ایک جست لگانے کی ضرورت ہے۔

اب دنیا کے رہنماوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت نہیں، وہ پہلے سے ہی اس سے واقف ہیں، ان کے اپنے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ دنیا کے رہنماوں کواس ضمن میں اقدامات کرنے پر مجبور کیا جائے۔

ہم دنیا بھر کے رہنماوں سے متحد ہونے اور تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔

پندرہ برس قبل دنیا کے رہنماوں نے ملینیم ڈویلپمنٹ گولز پر اتفاق کیا تھا۔گزشتہ برسو ں کے دوران تعلیم کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ تاہم ہماری تمام تر توجہ پرائمری تعلیم پر مرکوز ہے اور اس ترقی کے فوائد سب تک نہیں پہنچ پا رہے۔

اگلے برس 2015 میں دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندے مل کر اگلےدیرپا ترقیاتی اہداف(Sustainable Development goals) کا تعین کریں گے جو آنے والی کئی نسلوں کے لیے عالمی خواہشات کی سمت متعین کریں گے۔ہمارے رہنماوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے تمام بچوں کے لیے مفت اور معیاری پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔

ہوسکتا ہے بعض لوگ کہیں کہ یہ عملی طور پر ممکن نہیں، اس پر بہت خرچ آئے گا یایہ بہت مشکل ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگ اسے ناممکن قرار دیں لیکن یہ وقت بڑے اہداف کے تعین کا ہے۔

کتابیں تقسیم کرنا بندوقیں بانٹنے سے زیادہ مشکل کیوں ہے؟ٹینک بنانا سکول بنانے سے زیادہ آسان کیوں ہے؟
عزیز بہنو اور بھائیو!شاید نام نہاد بڑوں کی دنیا میں یہ بات قابل فہم ہو لیکن ہم بچے یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ طاقتور ملک جو جنگیں لڑ سکتے ہیں اتنے کم زور کیوں ہیں کہ امن قائم نہیں کر سکتے۔ کتابیں تقسیم کرنا بندوقیں بانٹنے سے زیادہ مشکل کیوں ہے؟ٹینک بنانا سکول بنانے سے زیادہ آسان کیوں ہے؟

اس عہد جدید اور اکیسویں صدی میں جس میں ہم سب زندہ ہیں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ہم چاند تک پہنچ چکے ہیں اور مریخ بھی جلد ہمارے قدموں تلے مسخر ہو گا۔اسی لیے اس اکیسویں صدی میں ہمیں دنیا کے سب بچوں کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی کے خواب کی تعبیر کے لیے بھی پرعزم ہونا پڑے گا۔

آئیے ہم سب کے لیے برابری، انصاف اور امن کی جستجو کریں۔صرف رہنماوں اور سیاستدانوں کو ہی نہیں بلکہ مجھے ، آپ کو اورہم سب کو کوشش کرنا ہوگی، یہ ہمارا فرض ہے۔

میں دنیا بھر کے بچوں کو(پنے حقوق کے لیے ) اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتی ہوں۔

عزیز بھائیو اور بہنو!آئیے ہم مل کر وہ پہلی نسل بنے جو (تعلیم کے لیے کوشش کرنے والی)آخری نسل ثابت ہو۔خالی
کمرہ ہائے جماعت،کھوئے ہوئے بچپن اور صلاحیتوں کے ضیاع جیسی خرابیاں ہمارے ساتھ ہی ختم ہوجائیں۔

آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی بچہ یا بچی اپنا بچپن کارخانوں میں جھونکنے پر مجبور ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کسی بچی کو کم عمری میں شادی پر مجبور کیا جائے۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی معصوم جان جنگ کی نذر ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی کمرہ جماعت طالب علموں سے خالی ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو جب کسی بچی کو کہا جائے کہ تعلیم اس کا حق نہیں بلکہ جرم اور گناہ ہے۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو جب کوئی بچہ سکول جانے سے محروم رہے۔
آئیے! ہم اس انجام کا آغاز کریں
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ سب (ظلم )ہمارے ساتھ ختم ہو
آئیے! ہم ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کا آغاز ابھی اور یہیں سے کریں۔

شکریہ۔

Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے

ناخواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ، بلوچستان سرِ فہرست ہے۔ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 23 لاکھ بچے غربت، وسائل کی کمی، بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاں اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے ذریعے کم خرچ پرلڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص مکران ڈویژن جس نے عطاء شاد، مبارک قاضی، واجہ فقیر بلوچ جیسے لوگ پیدا کئے اور مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کا علم بلند کئے رکھا، اصولی طور پر تو ایسے لوگوں کو سراہنا چاہیے تھا مگر تعریف تو کجا، مکران کے ڈسٹرکٹ پنجگور میں قائم تمام پرائیوٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے خلاف ایک غیر معروف شدت پسند گروہ “تنظیم الاسلامی الفرقان” کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ ان پمفلٹ میں انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور دھمکی دی گئی ہےکہ جو بھی تعلیمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھے گا ، اسے اسلام کا دشمن سمجھا جائے گا۔ اس کی ساتھ ساتھ طالبات کو اسکول لیجانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ان طالبات کو اسکول لے کر جائیں گے تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا، اس دھمکی کے بعد تمام اسکول بند کر دیے گئے۔ گو کہ ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیے گئے لیکن چند روز بعد شدت پسند تنظیم کی جانب سے اسکولوں پر حملوں اور ایک اسکول وین کو آگ لگا نے کے واقعات کے باعث پنجگور کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف پنجگور میں ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔
کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں،اتنی سخت سیکیورٹی کے میں ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نوٹس لینے کے سوا تاحال کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی اور سکولوں کی بندش کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں فاٹا اور سوات میں بھی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ۔ ایسے واقعات کا بار بار جنم لینا حکومت کی طرف سے موئژر پالیسی کا فقدان ہے۔ پنجگور میں اسکولوں کی بندش کا باعث بننے والی تنظیم کیا ان بلوچ حریت پسندوں سے زیادہ “محب وطن” ہے جو ریاست اور وفاق کے استحصال کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں لاپتہ افراد اور ان کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچوں کےلئے اجتماعی قبروں، فوجی کاروائیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے بعد اپنے بچوں کے ان پڑھ رہ جانے کےخدشہ کے بعد ریاست اور وفاق سے وفاداری کا عہد وہ بہت عرصہ تک نہیں نبھا سکیں گے۔ ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس سے پہلے کے بلوچستان کے طلبہ کو مقامی “بوکوحرام” کے ہاتھوں یرغمال ہونا پڑے، حکومت کو بلوچوں کی آنے والی نسل کو محفوظ بنانا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس نسل کو تحفظ دینے سے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان کمزور ہوتے ہوئے رشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے
ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔
محترم ڈاکٹر عبدلالمالک صاحب،
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
جنابِ والا: ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر
پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے کہ آپ ہم میں سے نہیں رہے۔