Categories
نقطۂ نظر

دُہرا معیار

حلب جل رہا ہے، حلب جل گیا، حلب راکھ ہوگیا، شام میں مسلمانوں پر جراثیمی حملہ بھی ہوگیا، اور پھر امریکہ نے میزائل بھی داغ دیئے۔ کئی مسلمان شہید ہوگئے۔ پاکستان میں بہت احتجاج ہوا

 

یمن میں جاری اسلامی برانڈ کی لڑائی میں لاکھوں مسلمان بچے قحط سالی کا شکار ہو گئے، اقوام متحدہ پیٹ پیٹ کے تھک گیا کہ کچھ کرلو ورنہ یہ انسانی نسل کی سب سے بڑی تباہی بن جائے گی۔ اصلی برانڈ اور نقلی برانڈ کی انوکھی چپقلش پہ ہمیں بہت افسوس ہوا

 

اسرائیل مُصر ہے کہ وہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیاں بنا کے رہے گا اور اسے اس کام میں اب امریکہ سرکار کی بھی شہ حاصل ہے۔ فلسطینیوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، ان کو مارا جارہا ہے، ان کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بہت تشویش ہوئی

 

صدر ٹرمپ نے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں پر پابندی لگا دی کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہم بہت تلملائے

 

برما میں روہنگیا مسلمانوں کا بُری طرح سے قتل عام ہوا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان پناہ گزین بنگلہ دیش کی سرحد پار کرگئے۔ ہمیں اس پہ بھی بہت غصہ آیا

 

بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی نے کئی اسلام پسندوں کو پھانسی پر چڑھا دیا اور حکومتی ادارے باقی ماندہ اسلام پسندوں کی تاک میں ہیں۔ ہمیں پھر غصہ آیا

 

بھارت میں بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی مہم شروع کی گئی ہمیں اتحاد بین المسلمین کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔

 

بھارت کی ہی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے انتہا پسند ہندو وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ یوگی کے وژن پر عمل کرتے ہوئے گائے کی نقل و حمل میں ملوث ایک مسلمان کو پسلیاں توڑ کر قتل کردیا گیا۔ گوشت کے کاروبار سے جڑے لاکھوں مسلمان اور دلت بے روزگار ہوگئے۔ یوگی کے رومیو سکواڈ نے ایک مسلمان لڑکے کو اس بناء پر قتل کردیا کہ وہ ہندو لڑکی سے پیار کرتا ہے۔ ہمیں پاکستان میں بیٹھ کر بھارت میں مقیم مسلمانوں کی حالتِ زار پر بہت دکھ ہوا

 

ہم نے پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بُرے سلوک پہ احتجاج کئے، ہم بہت تلملائے، ہمیں شدید غصہ آیا اور آنا بھی چاہئیے تھا۔ امت کے درد میں ہم دن رات گھلتے رہے۔

 

مگر ہم نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا کہ پاکستان میں کیسی صورت حال ہے؟ اختلافِ رائے رکھنے والوں، دوسرے عقیدے کے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہم پاکستان میں کر رہے ہیں کیا وہ ہمارا دُہرا معیار اور منافقت نہیں ہے؟ یوگی آدتیا ناتھ جو کچھ اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے ہم بھی تو ویسا ہی سلوک یہاں بسنے والے ہندووں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ وہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کی تیزی سے افزائش اور ہندوؤں کی آبادی میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر ان سے شادی کرتے ہیں اور بعد میں ان کا مذہب تبدیل کرا لیتے ہیں تو کیا ہم سندھ میں ہندووں کے ساتھ مختلف سلوک کر رہے ہیں؟ کیا ہم آئے روز اس طرح کا واقعہ نہیں سنتے کہ وڈیروں نے کم سِن ہندو لڑکی کو اغواء کیا، زیادتی کی اور بعد میں زبردستی اسے اسلام کے دائرے میں داخل کر لیا۔ جو لڑکی ‘راہِ راست’ پر آ گئی اس کی جاں بخشی ہو گئی اور جو مذہب تبدیل نہ کرنے کی ضد پہ اڑ گئی اس کا سر تن سے جدا کر دیا؟ ایک مسیحی جوڑے کو ہم نے کوٹ رادھا کشن میں گستاخی کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تندور میں جلا ڈالا۔ توہین مذہب کے الزام میں ہم نے گوجرہ اور لاہور کے بادامی باغ میں واقع پوری پوری مسیحی بستی کو آگ لگا دی۔ مردم شماری شروع ہوئی تو سکھ مذہب کا خانہ ہی نہیں دیا گیا فارم میں۔ اپنے فرقے کے سوا ہر فرقے سے ہم نفرت کرتے ہیں، احمدی برادری تو آئے روز ہمارے نشانے پہ ہے۔ کراچی میں اسماعیلیوں کی بس پر فائرنگ کرکے ہم نے کتنے ہی اسماعیلی صاف کر دیئے اور حالیہ واقعات میں پہلے تو ہم نے دوالمیال پہ ان کی عبادت گاہ پر حملہ کیا اور ایک درجن تک احمدیوں کو جہنم واصل کیا۔ پھر ہم نے ننکانہ صاحب میں ایک احمدی وکیل کو قتل کرکے ننکانہ صاحب کی سرزمین کو ایک شرپسند سے پاک کیا۔ پھر ہم نے لاہورکی سبزہ زار کالونی میں ایک احمدی کو قتل کیا۔

 

اختلافِ رائے جس حد تک اپنی اہمیت پاکستان میں کھو چکا ہے اس پر سوائے افسوس کے اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کل ہم نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک نوجوان کو محض مذہبی اختلاف رائے پر قتل کیا۔ گستاخی کو ہم نے یہاں بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اگر پولیس ‘بروقت’ نہ پہنچتی تو ہم اس کی لاش بھی جلا چکے ہوتے۔

 

پوری دنیا میں مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے، دھمکایا جا رہا ہے، مارا جا رہا ہے۔ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان سے بدترین سلوک رکھا جا رہا ہے۔ برداشت نہیں کریں گے، اجازت نہیں دیں گے، سبق سکھائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میں مانتا ہوں مگر ہم اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کسی تنقید کا مستحق نہیں؟ ہماری اس منافقت پر بھی کوئی پریس کانفرنس ہوگی؟ کوئی احتجاج ہوگا؟ کوئی مائی کا لعل اس پر بھی بینر اٹھائے گا؟ کوئی ہڑتال اس پر بھی ہوگی؟ اور کوئی اس کے خلاف بھی آواز اٹھائے گا؟؟ کیا ہمارا احتجاج کھوکھلا نہیں ہے؟؟
Categories
نقطۂ نظر

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!
معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ آج کل تمہاری جانب سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی، پہلے یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ تحا کہ کبھی کوئی اچھی خبر سنائی نہیں دیتی تھی۔ میری حالت اس مریض جیسی ہے جو کسی مہلک باور لاعلاج یماری میں مبتلا ہو اور اس کا کوئی قریبی عزیز، دوست یا شناسا بھی اسی بیماری کا شکار ہوجائے تو نہ وہ کچھ کرسکتا ہے، نہ تسلی دے سکتا ہے اورنہ دعا کرسکتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ کل پڑھا کہ تمہاری طرف کسی محمد اخلاق کو گھر سے گھسیٹ کر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ مجھے یوں لگا کہ تمہاری طرف بھی جوزف کالونی آباد ہو گئی ہے۔ یہ بھی سنا کہ کشمیر میں سوسال پرانے قانون کے تحت اب گائے ذبح کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سے بھی یہی خبریں آئی ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے پر سزا ہو گی۔ یقین جانو وہ دن یاد آ گئے جب مال روڈ سے شراب خانے اور پی آئی اے کی پروازوں سے شراب ہٹا لی گئی۔ ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔ مجھے لگتا ہے مودی صاحب ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں جیسا ہماری تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے۔ وہ اپنے آباء کی مذہبی رواداری، وضع داری اور برداشت کی تعلیمات بھلا دینا چاہتے ہیں۔
ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔
یہ جان کر پہلے تو ہنسی آئی اور پھر رونا آیا کہ تمہارے پردھان منتری جی نے اعضاء کی پیوندکاری کو دیدوں سے ثابت کیا ہے اور تمہاری طرف کے وگیانک اب طیارے کی ایجاد سے لے کر کائنات کے اسرارورموز تک سبھی کچھ اپنی مذہبی کتابوں سے برآمد کررہے ہیں۔ مجھے مودی صاحب کی باتوں میں ضیاءالحق کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ہمارے ہاں جنات سے بجلی پیدا کرنے اور نمازوں کا ثواب ماپنے کے کلیے بنانے والوں نے اپنی دکانیں تمہارے دیس میں بھی کھول لی ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اب چن چن کر تمہاری کتابوں سے بھی ناپسندیدہ تاریخ ویسے ہی نکال دی جائے گی جیسے ہماری کتابوں میں سے وہ سب حقائق نتھار لیے گئے تھے جو کسی بھی برح یہاں کی مذہبی اکثریت کو ناگوار گزر سکتے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری طرف بھی مسلمان بچوں کو اسی طرح وید پڑھائے جائیں گے جیسے ہمارے ہاں غیر مسلم بچوں کو اسلام سکھایا جاتا ہے۔
یقین جانو مجھے تو ڈر آنے لگا ہے کہ کہیں تمہاری طرف کے حافظ سعید اور لشکر طیبہ تمہارے ہی گلے کاٹنے پر نہ اتر آئیں۔ یہ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے کہ تمہاری طرف بھی یہ بحث شروع ہوجائے کہ جمہوریت ہونی چاہیئے یا مذہبی حکومت۔ کل کلاں کو تمہار ے ہاں بھی عورت کو مرد کی دسترس میں دینے کی مذہبی تبلیغ شروع ہوجائے۔ تمہارے ہاں بھی تنقید اور اختلاف رائے ہمارے ہاں کی طرح جرم نہ قرار دے دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی ہمارے ہاں کی اقلیتوں کی طرح غیر محفوظ ہو جائیں ۔ ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
سنا ہے مودی صاحب نے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کردیا ہے اور اب وہ ہماری غلطیاں دہرانے کے موڈ میں ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران دی گئی چار تجاویز ماننا بھی گوارا نہیں کیا۔ہمارے وزیراعظم جتنے بھی برے سہی مگر ان کے آنے سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اجمیر شریف کی زیارت کو جاسکوں گا ۔ بنارسی ساڑھی منگانا آسان ہو جائے گا۔ کرکٹ بھی کھیلا کریں گے اور کبڈی بھی ہو گی، تم سری پائے کھانے یہاں آسکو گے اور میں حیدرآبادی دال کھانےوہاں جاسکوں گا۔ تمہیں انارکلی اور مجھے چاندنی چوک آوازیں دیتا ہے۔ مگر تمہاری جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی، یوں سمجھو کہ ڈر آنے لگا ہے کہ تم بھی وہی غلطیاں دہرانے والے ہو جو ہم نے کی تھیں اور پھر تم بھی اتنا ہی پچھتاو گے جتنا ہم پچھتا رہے ہیں۔
سنو بھائی ویسے تو میں تمہیں نصیحت کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا مگرپھر بھی جان لو کہ ایک بار مذہب کا اونٹ ریاست کے خیمے میں گھس جائے تو پھر کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک بار یہ انتہا پسند کھل کر کھیلنے لگے تو پھر کوئی بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا، ایک مرتبہ یہ بنیاد پرست دندنانے لگے تو پھر کسی کو بولنے نہیں دیں گے، مذہب کے نام پر اکٹھے ہونے والے ہمیشہ خون بہاتے ہیں، مجھ سے سیکھو مجھ سے عبرت پکڑو۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس ناسور کو پھیلنے سے روک لو ورنہ دیر ہو گئی تو کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔
فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ
Categories
نقطۂ نظر

سیکولرازم کیوں ضروری ہے؟

سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں
برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاملہ صرف روہنگیا مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر وہ خطہ جہاں سیاسی جماعتوں نے مذہب کا سہارا لیا ہے وہاں اقلیتوں کا اسی طرح استحصال دیکھنے میں آیا ہے۔ سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں۔ بدقسمتی سے مذہبی بنیاد پرست تمام مذاہب میں ہیں اور سیاسی طاقت حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان میں مسلم بنیاد پرستی، ہندوستان میں ہندو قوم پرستی ، اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی اور برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کی نظریاتی شدت اقلیتی فرقوں اور مذاہب کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنارہے ہیں۔
مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں
مذہبی امتیاز کا شکار صرف غیر مسلم ملکوں میں مقیم مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلم ملکوں میں موجود غیر مسلم بھی ہیں۔ ظالم صرف برما کے بدھ مت کے پیروکار، اسرائیل میں بسنے والے یہودی یا ہندوستان کے دائیں بازو کے ہندو قوم پرست ہی نہیں مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان بھی اپنے ہاں بسنے والی اقلیتوں کے لیے اتنے ہی ظالم اور جابر ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی کا چہرہ ہر مذہب کے ماننے والوں میں ایک ہی جتنا بھیانک ہے اور اس کا سیاسی استعمال ایک ہی جتنا خون آشام۔
اس تناظر میں ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہی وہ واحد حل ہے جو مذہب کو تشدد اور دہشت گردی کی وجہ بننے سے روک سکتا ہے۔ سیکولرازم سے متعلق یہ عمومی تاثرغلط ہے کہ اس سے مذہب کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سیکولرازم سے مذہب کو نہیں بلکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو خطرہ ہے جوخدا اور مذہب کے نام پر استحصال اور تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کا عمل جس طرح یورپ میں عیسائیت کے خاتمے کی بجائے ارتقاء پر منتج ہوا ہے مسلمان، ہندو اور یہودی اکثریت پر مبنی ریاستوں کو بھی ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان علاقوں میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو کم کیا جاسکے۔
روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے
سیاسی مسائل کو مذہبی رنگ دینا ہمیشہ تشدد، قتل و غارت اور دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کو عرب قومیت کی بجائے مسلم یہودی رنگ دینے کے باعث لاکھوں فلسطینی جان گنوا چکے ہیں، امریکہ کے عراق اور افغانستان پر حملوں کو ایک سامراج کے استعماری ایجنڈے کے طور پر دیکھنے کی بجائے صیہونی رنگ دینے سے دنیا بھر میں متشدد اسلام کو فروغ ملا ہے، شام اور یمن کی خانہ جنگی کو شیعہ سنی رنگ دینے سے پورے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ سیاسی مسائل کو مذہبی تناظر میں دیکھنے کی وجہ سے شدت پسند القاعدہ، طالبان اور دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
اسی طرح سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذہب کی جانب رجوع کرنے کی روایت نے بھی مسلم ممالک سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بنیاد پرستی کی جانب دھکیلا ہے۔ مذہبی علماء، پنڈتوں اور پادریوں کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافے سے سیاسی عمل کم زور ہوا ہے اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئی ہیں۔ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ مذہبی نہیں سیاسی ہے، یہ معاملہ بنیادی شہری حقوق کے حصول اک معاملہ ہے لیکن برما میں بڑھتی ہوئی مذہبی بنیاد پرستی کے باعث اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومیت کی بنیاد پر ریاست کے قیام کے حق کا مسئلہ ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دینے کے باعث دنیا بھر میں مسلم شدت پسندی بڑھی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی آزادی کا مسئلہ ہے نہ کہ ہندومسلم دشمنی کا ۔ یہ صرف برما کے مسلمانوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں، عیسائیوں اور ہندووں کا بھی مسئلہ ہے جنہیں مذہبی بنیادوں پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر برما کے مسلمانوں سے صرف ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمدردی جتائی جارہی ہے تو یہ عمل مذہبی تشدد کو مزید ہوا دے گا۔ روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ۔
مذہب کو ئی سا بھی ہو اس کاکام ریاست چلانا یا معاشرے کیی تشکیل کرنا نہیں ہے بلکہ فرد کی اصلاح ہے ۔ یہ سجھنا ہو گا کہ مذہب چاہے اسلام ہو، عیسائیت، یہودیت، ہندومت یا بدھ مت؛ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا سہارا لینا محض فساد کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے ، ریاست اور دنیاکو سیکولر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہےتاکہ ہم مذہب کو تشددم نفرت اور عدم مساوات پھیلانے کی سیاست کی بجائے روحانی پاکیزگی کے لیے برت سکیں۔
Categories
نقطۂ نظر

اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری

ajmal-jami

فرمایا؛ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے ذریعے،قیامِ امن کی راہ میں رخنہ ڈالتی ہے۔ پھر مذمتی قراردادوں، بیانوں کا تانتا بندھ گیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ ‘راہ نماؤں’ نے دہشت گردی کے ایسے واقعات کی دل کھول کر مذمت کی۔ لیکن نہ جانے کیوں کسی بھی ‘راہ نما’ نے دہشت گردی کرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی مذمت دبے لفظوں کرنا بھی گوارا نہ کی۔ ایک نیم سیاسی اور مکمل مذہبی جماعت کے سرکردہ گویا ہوئے، کہنے لگے کہ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ ‘دوسری قوتوں’کا سنتے سنتے پروان چڑھے، ابھی اسی کے گناہ دھو رہے ہیں کہ تیسری بھی آن پڑی۔ نجانے اور کتنی ایسی قوتیں ہیں جن کی خبر ہونا ابھی باقی ہے۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ؛
کفن باندھے ہوئے یہ شہر سارا جا رہا ہے کیوں؟؟
سوئے مقتل ہر اک رستہ ہمارا جا رہا ہے کیوں؟؟
جو حقوق دین اسلام نے غیر مسلموں اور ان کی عبادت گاہوں کو دیے ہیں ان کا احاطہ اقوام عالم کا کوئی اور مذہب قطعاً نہیں کرتا، لیکن مذہب کے نام پر عبادت گاہوں اور مزاروں کا جو حال کیا جا رہا ہے وہ یقیناً درندگی کے علاوہ اور کسی زمرے میں نہیں آ سکتا۔ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
ایک بارود کی جیکٹ اور نعرۂ تکبیر
راستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے
شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہ جس سے
صبح وہ صاحب ایماں ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلماں ہوا پھرتا ہے
عین اس وقت جب مسیحی برداری اتوار کی عبادات ایک سو تیس سالہ قدیم چرچ میں بجا لا رہی تھی، پشاور کو خون اور آگ کے دریا سے گزرنا پڑا۔۔ خودکش دھماکے میں اٹھہتر افراد جاں بحق ہوئے اور ایک سو تیس بستر پر زخموں سے چور پڑے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔ کل صوبائی حکومت پانچ گھنٹوں تک کہیں نظر نہ آئی، نظر آئے تو وہ چند ایک جو پچھلے پانچ سالوں میں بھی ہر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کو للکارتے رہے۔۔ غلام احمد بلور اور میاں افتحار حسین۔۔ ایک اپنا بھائی ملک پر وارنے پہ نازاں ہے اور دوسرا اپنی اکلوتی اولاد کو اس جنگ میں امن کی دیوی کی بَلی پر قربان کر چکا ہے۔ ان کی جماعت کی سیاسی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن ان کی قربانیاں اور ان کا موقف ہمیشہ سے ہی قابل فخر رہا ہے؛
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری،
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے۔۔
معلوم ہوا کہ جب زخمیوں کو صوبے کے سب سے بڑے اسپتال میں منتقل کیا جا رہا تھا تو وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، لیکن زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے مطلوبہ سٹاف میسر نہیں تھا، کہہ دیا گیا کہ عملہ اتوار کے روز چھٹی پر ہے، تنقید کی تو کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جار ہی ہے، یہ تو مان لیجیے کہ لیڈی ریڈنگ جیسے اسپتال میں ہر روز اور ہر وقت عملے کی مناسب تعداد کا ہونا لاز م ہے اور اگرایسا نہیں تھا تو یقینا یہ متعلقہ انتظامیہ کی غفلت ہے۔ اگر یہ اعتراض بھی غلط ہے تو فرما دیجیے کہ آخر زخمیوں کے ورثا پھر کس بات پر سارا دن اسپتال کے سامنے سراپا احتجاج بنے رہے؟

رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ
کہا گیا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہے۔ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں ان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اس بات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا، اور پھر طالبان رہنماؤں کی رہائی بھی عمل میں آنے لگ گئی، دوسری جانب سے پہلے میجر جنرل ، لیفٹینٹ کرنل اور سپاہی کی شہادت کا تحفہ بھیجا گیا، اور اب چرچ میں چونتیس خواتین اور سات بچوں سمیت اٹھہتر افراد کو خون میں نہلا دیا گیا۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ سیاسی اتفاق رائےایک طرف، یہاں تو مذہبی حلقے بھی اس ایک نکتے پر متفق نہیں کہ خود کش حملے “حرام” ہیں، ایسے میں خودکش حملہ آوروں کی مذمت جیسے “شرعی طور پر متنازعہ امر” پر بات بھلا کون کرتا؟ کہ میں نے آج تک مولانا فضل الرحمٰن اور سید منور حسن صاحب کے منہ سے اس فعل پر لفظ ‘حرام ‘ نہیں سنا۔
وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا اگر وزیر اعظم واپسی پر ایک اور آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور حتمی لائحہ عمل کا کھل کر اعلان کریں۔ کیونکہ مذاکرات کے بہلاوے پر اب قوم لاشیں اٹھانے سے عاجز ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی حکمت عملی سے پہلے تمام مکاتب فکر کے علما ئے کرام دین، قتلِ عام کے لائسنس جاری کرنے والے فتویٰ فروشوں کے بارے میں قرآن و سنت کےکسی ایک حکم پر اتفاق کر لیں، کہ شاید اب ہمارے لیے اپنی بقا کی جنگ لڑنا ضروری ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔

ارضِ وطن کی بقا کے لیے جانوں کے نذرانے قومیں ہمیشہ سے ہی پیش کرتی آئی ہیں، لیکن دن دہاڑے عبادت گاہوں میں معبود کا نام لیتے ہوئے جانوں کا ضیاع صرف قاتلوں پر نہیں، سیاست چمکاتے حکمرانوں کے بھی سر جائے گا۔
آخر میں پشاور کے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے نام کہ جنہیں خود ‘مسیحا’ نہ ملا۔
نیلے فلک کی وسعت نے۔۔
پاک زمیں کی چیخ سنی!
پھر خون رنگ اور کرب و آہ
پھر وہی پرزوں میں انساں
پھر وہی حشر بپا دیکھا
مسجد، مندر، گرجا گھر!
رنگ نسل ، زباں، مذہب!
وحشی درندے کیا جانیں؟
وحشی کا کیا دیں ایماں؟
امن کا دشمن خود انساں!
(شکیل بازغ)