Categories
نقطۂ نظر

کھنڈر

اس کے پیچھے سناٹے سے گونجتا ہوا گھر تھا اور سامنے اندھیرے کے علاوہ پہاڑیوں کا سلسلہ۔ پہلے دو چھوٹی پہاڑیاں جو تیسری بڑی پہاڑی کو جگہ دینے کے لیے سمٹتی اور پیچھے ہٹتی ہوئی بلاآخرایک دوسرے میں گھس گئی تھیں۔ ‘استحصال جو ہر طاقتور کا پیدائشی حق ہے۔’ اس نے طنز سے سوچا اور اس باغیانہ خیال کی پاداش میں یخ ہوا کا ایک جھونکا گوشت سے گزرتے ہوئے اس کی بوڑھی ہڈیوں پر زنگ کی طرح چپک گیا۔ وہ لرزا اور عادتاً بیوی کی غصیلی تنبیہ اور پھر گرم کپڑا اوڑھائے جانے کا منتظر ہوا۔ پھر یہ بے دھیان لمحہ پوری رفتار اور سفاکی سے اسے روندتا ہوا گزر گیا۔ وقت گزر گیا تو پیچھے جو بچا، وہ کھنڈر تھا۔ اسے یاد آ گیا کہ بیوی کو مرے ہوئے تین دن ہو چکے ہیں۔ اس کے بچے اور تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگ واپس جا چکے تھے۔ ان سب کی موجودگی اور دیگر کاموں کی مصروفیات نے دکھ کے ساتھ مل کے اسے اتنا نڈھال کر دیا تھا کہ رونے کی فرصت ہی نہ ملی تھی۔
دراصل اسے اپنی زندگی میں اس اس واقعہ کے ہو سکنے کا گمان تک نہ تھا مگر اب وہ اس بے یقینی کو مزید سہار نہ پایا اور برف ہوتی دیوار سے لگ کر بچوں کی طرح رو دیا۔ کسی یاد یا خیال کے اثر سے پاک ، گریہ کی خالص ترین حالت میں وہ گھنٹوں رویا اور روتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ گرم آنسو بخارات بن کر اڑنے لگے اور بادلوں سے جا ملے۔ برفیلی ہوا نے سرد موسم میں اٹھنے والی اس بھاپ کو اچھی نظر سے نہ دیکھا اور اسے ٹھنڈا کرنے میں جٹ گئی۔ آنسو قطروں کی صورت میں واپس پلٹے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہوا نے انہیں برف بنا دیا تا کہ وہ پھر سے اس کے کام میں مداخلت نہ کر سکیں۔
اسے یاد آ گیا کہ بیوی کو مرے ہوئے تین دن ہو چکے ہیں۔ اس کے بچے اور تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگ واپس جا چکے تھے۔ ان سب کی موجودگی اور دیگر کاموں کی مصروفیات نے دکھ کے ساتھ مل کے اسے اتنا نڈھال کر دیا تھا کہ رونے کی فرصت ہی نہ ملی تھی۔
سردی ہڈیوں کے بعد گوشت کو بھی جما چکی تھی مگر وہ ہر بات سے بے نیاز روتا رہا اور برف برستی رہی۔
ان کا تقریباً پچاس برس کا ساتھ رہا تھا اور یہ گھر دونوں نے مل کر بنایا تھا۔ دکھوں اور آسائشوں کے ایک طویل سفر کے بعد ملنے والی منزل کی صورت جو بہرحال مل گئی تھی۔ اور اس تمام عرصہ میں وجہ چا ہے جو بھی رہی ہو، وہ کبھی ایک دن کو الگ نہ ہوئے تھے۔ یہ خیال آیا تو اس نے ٹھنڈ سے کانپتے ہاتھوں سے آنکھیں اور ناک پونچھا اورذرا دیر کے لیے رونے میں حیرت کا وقفہ ڈالا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر بہت سوچنے کے بعد بھی اسے یہی یاد آسکا کہ آج سے پہلے وہ کبھی اکیلا نہیں ہوا۔ اور اس بار وہ تنہائی اور دکھ کے مکمل ادراک کے ساتھ رویا۔ ‘اسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔’ بہت دیر کی گئی اس گردان میں کسی انجان شخص کے لیے کوئی خبر نہ تھی۔
اسے خود پہ غصہ آنے لگا کہ آخری وقت تک بیوی کی بیماری کو وقتی سمجھ کر اس کے پاس نہ بیٹھا تھا۔ اس کے اندر کوئی خوف تھا جو اسے ماننے نہ دیتا تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔وہ شک کی ہر آواز کو اکھڑ مردانہ پن سے سن کر سر جھٹک دیتا کہ”ہوں، دو دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔”
وہ دو دن تو نہ آئے مگر تیسرا ضرور آگیا اور بڑھیا کو لے کر چلتا بنا۔ آخری لمحے اور تین دن گزر جانے کے بعد تک اسے یقین نہ آسکا اور آج چوتھا دن تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اوراس کا غصہ خود سے ہوتا ہوا خدا تک جا پہنچا۔ ‘طاقتور استحصالی’ وہ اندھیرے خلا کی جانب رخ کر کے چلایا۔ ہچکیوں نے یہ لفظ ہجے کر خدا کو سنائے اور اسے ہمیشہ کی طرح کچھ سمجھ نہ آسکا؛ پہاڑیوں میں چھپی بیٹھی گونج بہت دیر تک اس کے لفظ دوہراتی اور اسے چڑاتی رہی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا۔
وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اوراس کا غصہ خود سے ہوتا ہوا خدا تک جا پہنچا۔ ‘طاقتور استحصالی’ وہ اندھیرے خلا کی جانب رخ کر کے چلایا۔
بوڑھے کے ذہن میں آنے والے کل کی کوئی شکل نہ تھی کہ اب اسے کیا کرنا اور کیسے رہنا ہے۔ بیوی نے لاڈ اٹھا کر اس کو ضدی بچوں جیسا کر دیا تھا۔ ہر کام کہے بغیر ہوجاتا تھا اور وہ خود اٹھ کر پانی تک پینے کا روادار نہ تھا، اس کے ذمے صرف نخرے کرنا تھا۔ وہ خود بھی ہرطریقے سے بیوی کا خیال رکھتا۔ ان کی چھوٹی سی زندگی مدتوں سے ایک دوسرے کے گرد گھوم رہی تھی اور دونوں میں سے ایک بھی یہ سوچنے پر تیار نہ تھا کہ اس میں کوئی بدلاو ممکن ہے۔ کسی زبانی وعدے یا اقرار کے بغیر انہیں اکٹھے رہنا ہے۔۔۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا ۔ ۔ ۔
وہ شام کے وقت بچوں کو الوداع کہنے گھر سے نکلا اور گھر کے خالی پن سے خوفزدہ ہو کر واپس نہ جا سکاتھا۔ اب وہ داخلی دروازے کے آگے بنے برآمدے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا۔ تبھی سردی نے اس کی کمر دیوار سے ہٹائی اور پتھریلے فرش پر رکھ دی۔ اس نے دونوں ہاتھ برف بنے گھٹنوں میں دیے اور گھٹنے سمیٹ کر سینے سے لگا لیے۔ وہ ایک بار پھر بلند آواز سے رونا چاہتا تھا مگر سردی کی کپکپاہٹ اور ہچکیوں کی لرزش نے اسے ایسا نہ کرنے دیا۔ بوڑھا بے بسی سے آواز گھونٹ کر رونے لگا۔ مسلسل رونے سے آنسو گاڑھے اور گرم ہو گئے تھے اور آنکھیں جھپک جھپک کر انھیں باہر نکالتے تنگ آگئی تھیں۔
کہیں راہ نہ پا کر آنسو اندر کی جانب بہنے لگے۔ وہ اس کی رگوں میں لاوا بن کر دوڑے اور برف بن کر جم گئے۔ اسے دکھ اور تھکن سے وہیں نیند آگئی۔
اگلی صبح اس کی بیٹی نے اپنے بیٹے کے ہاتھ ناشتہ بھیجا۔ وہ اسی گاءوں کے دوسرے سرے پر رہتی تھی اور قریب ہونے کی وجہ سے باپ کا خیال رکھنے کی ذمہ داری اسے سونپی گئی تھی۔ بوڑھا کسی بیٹے، بیٹی کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہوا تو آخری حل یہی نکالا جا سکا تھا۔
لڑکے نے بوڑھے کو گھر کے باہر سکڑ کر سوتے ہوئے دریافت تو کر لیا مگر وہ اسے جگا نہ سکا۔
اس رات موسم کی پہلی برف پڑی تھی اور تا حدنظر ہر شے سفید ہو رہی تھی۔ گاوں کے بڑے بوڑھے قسم اٹھانے کو تیار تھے کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی برف باری تھی۔
بوڑھے کی موت کو سردی کے سر تھوپ دیا گیا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

صاحب ، کتا اور چور

بھانت بھانت کے کتے بھانت بھانت کے لہجوں میں بھونک بھونک کر اپنے وجود، اپنی ذات اور نسل کی پہچان بتا رہے تھے۔ کچھ کتے شانِ بے نیازی سے آنے جانے والوں پربتجاہلِ عارفانہ ایک آدھ نظر ڈال لیتے اور پھر اپنا راتب کھانے میں مصروف ہو جاتے اور کچھ سستی کے مارے اپنے پنجوں پر منہ رکھے خود پر بیٹھنے والی مکھیوں کو محض بھنووٴں کی حرکت سے اڑانے پر اکتفا کر رہے تھے۔ کتوں کی خرید وفروخت کے کسی مرکز میں آنے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا۔
ہمیں بتایا گیا کہ کتوں میں بھونکنے والے کتے کون سے ہیں اورکاٹنے والے کون سے۔ اور یہ کہ جو بھونکتے ہیں وہ کب کاٹ سکتے ہیں اور جو کاٹتے ہیں وہ کتنا بھونک لیتے ہیں۔نیز یہ بھی کہ کس وقت وہ بھونکنے کے ساتھ کاٹتے ہیں اور کاٹنے کے ساتھ بھونکتے ہیں۔
ہوا یوں کہ آس پڑوس میں پڑنے والے مسلسل ڈاکوں اور چوریوں سے پریشان اور نجی محافظوں کی مشکوک وفاداریوں سے نالاں ہو کر ہم نےایک سگ پرست اور سگ شناس دوست کے مشورے سے رکھوالی کے لیے ایک عدد اعلیٰ نسل کا کتا رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کےلیے ہمیں کتوں کی خریدوفروخت کے اس مرکز کی زیارت کے شرف سے بامشرف ہونا پڑا۔جہاں تک آس پڑوس میں ہونے والی چوریوں کا تعلق ہے تو شنید تھی کہ یہ کام کتوں کے رکھوالے، اپنےکتوں کی فروخت اور دام بڑھانے کے لیے خود کروا رہے تھے۔ بہرحال کتے اب ناگزیر ہو چکے تھے۔
حفاظت کی غرض سےسدھائے جانے والے ان کتوں کے تحفظ کے لیے قائم کردہ کئی حفاظتی حصاروں اور مراحل سے گزر کر ہم یہاں پہنچے تھے۔ اپنی شناخت پر اٹھنے والی شکی نگاہوں کی تسلی کرواتے کرواتے ہمیں اپنا آپ بھی مشکوک سا لگنے لگا تھا۔ تاہم، اپنا گرتا ہوا اعتماد بمشکل اور بظاہر بحال کرتے ہوئے ہم کتوں کی فوج ظفر موج ملاحظہ کرنے لگے۔
کتوں کی مختلف نسلوں سے تو ہم واقف تھے نہیں،اس لیے ان کے مزاجوں سے ان کی ذات اور وفاداری کا اندازہ کرنے لگے۔دیکھا کہ کچھ کتے کان اور دم اونچےکیے خواہ مخواہ چاک و چوبند کھڑےتھے، ہر آنے جانے والے پر غرّاتےیا خشمگین نظروں سے گھور کر دیکھتے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو ان کی موجودگی کا احساس ضرور ہو رہا تھا ،ورنہ شاید ان پر نظرہی نہ پڑتی۔
ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ کتے کی جذباتی و ذہنی کیفیت کا اندازہ اس کی دم سے ہوتا ہے۔
کچھ کتے عمر رسیدہ ہو چکے تھے ،مگر پھر بھی بہت اچھے ماحول میں رکھے ہوئے تھے۔ یہ بڑے آرام سے زبانیں لٹکاےٴ بیٹھے تھے۔ ہر ایک آنے جانے والے کو بے التفاتی سے گھورے چلےجا رہے تھے۔ کبھی کبھی ڈانٹنے کے انداز میں کسی نو آموز کتے یا نووارد شخص پر بھونک بھی دیتے۔ان کا بھاری پڑتا جسم ان کی کمزور پڑتی ٹانگوں کے لیے ایک ناگوار بوجھ بنا ہوا تھا، جسے وہ بظاہر بڑی متانت سے سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کا کوئی کام معلوم نہیں پڑ رہا تھا ۔ پوچھنے پربتایا گیا کہ ان کی بےکاری کے باوجود انہیں یہ مراعات ان کی سابقہ خدمات کی بنا پر فراہم کی گئی تھیں۔ کتوں کے نگرانوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سبکدوشی کے بعد کتے کے اخراجات اور راتب پر اٹھنے والا خرچ ایک جوان کتے کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔۔بہرحال، ان کا استحقاق کسی طور مجروح نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔
ہمیں بتایا گیا کہ کتوں میں بھونکنے والے کتے کون سے ہیں اورکاٹنے والے کون سے۔ اور یہ کہ جو بھونکتے ہیں وہ کب کاٹ سکتے ہیں اور جو کاٹتے ہیں وہ کتنا بھونک لیتے ہیں۔نیز یہ بھی کہ کس وقت وہ بھونکنے کے ساتھ کاٹتے ہیں اور کاٹنے کے ساتھ بھونکتے ہیں۔ ہر کتے کی اوقات اور مزاج اس لحاظ سے مختلف تھا۔ مرکز میں رکھے گئے کتے باہر سے آنے والے واردین پر بہت غصہ ہونے لگے تھے۔ وجہ یہ معلوم ہوئی کہ مرکز کی چار دیواری میں پڑے پڑے انہیں باہر کی دنیا سے زیادہ تعلق نہیں رہتا،اس لیے باہر والوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاتےاورانہیں دیکھتے ہی کان، دم کھڑے کر کے بھونکنے لگتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ بھونکتے بھونکتے جوش میں آ کر گلےکی رسی کہیں ڈھیلی پڑ گئی تو کاٹ بھی لیا۔ ایسے حادثات رونما ہونے کی وجہ سے لوگ یہاں کا رخ کم کرنے لگے تھے ، تاہم، جب آنا ہی پڑتا تو خود حفاظتی اور خود شناختی کا مقدور بھر بندوبست کر کے آتے ۔
کتوں کے نگرانوں نے ہمیں تربیت یافتہ کتوں کی تربیت کا مظاہرہ بھی دکھایا۔ کتے اپنے نگران کے حکم پر بلا چوں چراں عمل کرتے۔ حکم کتنی ہی بار دیا جاتا اور کتنا ہی بے تکا کیوں نہ ہوتا، وہ کر گزرتے۔ حتیٰ کہ ایک ہلکے سے اشارے پر اپنے ہی بھائیوں پر بھی پِل پڑتے ۔ یہ دیکھ کر ہم تربیت کاروں کی تحسین کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کتوں کا آپس میں ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ یہ ایک دوسرے کا پچھواڑہ سونٖگھ کر ایک دوسرے کی ذات، اوقات اور علاقے کا پتا چلا لیتے ہیں ۔ وہیں یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ کس نے اپنی دم ٹانگوں میں دبا کر آداب بجا لانا ہے اور کس نے سر اٹھا کر دوسرے سے اس کی اوقات کے مطابق سلوک کرنا ہے۔
کتوں کی مخصوص عادات کے بارے ہمیں یہ آگاہی دی گئی کہ کتے جہاں ہوتے ہیں اس علاقے کےاطراف میں مختلف جگہوں پر پیشاب کرکے اپنی سرحد قائم کر لیتے ہیں۔ اور اگر کوئی دوسرا کتا اس علاقے سے گزرے تو بلا اشتعال بھونکنا شروع کردیتے ہیں، اور اگر کھلے ہوئے ہوں تو لڑ بھڑ کر باہر سے آئے کتے کو نکال باہر کرتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ کتے کی جذباتی و ذہنی کیفیت کا اندازہ اس کی دم سے ہوتا ہے۔ دم کھڑی ہو تو وہ غصے یا اعتماد میں ہوگا۔ اس حالت میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہیئے، دم درمیان میں ہو تو یہ اس کی نخوت کم ہونے کا اشارہ ہے اس حالت میں اسے کسی بھی کام کے لیے راضی کیا جا سکتا ہے۔ دم مسلسل ہل رہی ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ کتا خوشامد کے موڈ میں ہے۔ اس حالت میں اگر اس کے ساتھ کتوں والی کی جائے تو برا نہیں مناتا۔ دم اگر ٹانگوں میں دبی ہو تو کتا ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ اس حالت میں بهی اس کے زیادہ قریب نہیں جانا چاہیئے۔ یہ اس وقت دفاعی نفسیات کا شکار ہوتا ہے اور آپ کو بهی اپنا دشمن سمجھ کر کاٹ سکتا ہے۔ کتا اگر اپنی ہی دم کے پیچھے گول گول گھوم رہا ہو تو سمجھ جائیے کہ کتا بور ہو رہا ہے۔
بہت تلاش و جستجو اور لیت و لعل کے بعد ایک کتا ہمیں پسند آ ہی گیا جو ڈیل ڈول کے اعتبار سے بھی کتا ہی لگتا تھا۔زیادہ تر اسی نسل کے کتے اس مرکز میں رکھے گئےتھے۔ دام چکا کر ہم اس کتے کو چمکارتے پچکارتے اور اس کے منہ لگنے سے بچتے بچاتے اسے گھر لے آےٴ۔
ایک ہفتے بعد ہمارے وہ سگ پرست اور سگ شناس دوست ، جو ہماری کتوں کی خریداری کے وقت شہر سے باہر تھے،ہم سے ملنے ہسپتال آےٴ۔انہوں نے ہمیں بتایا کہ جس نسل کا کتا ہم لے کر آےٴ تھے وہ ایسا کتا تھا جو چوروں اور ڈاکووٴں پر تو فقط بھونکتا ہی ہے، مگر جب کاٹتا ہے تو اپنے ہی مالک کو کاٹتا ہے۔ان تاخیری معلومات پر ہم نے اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا اوراحتیاطاً ایک اور انجکشن اپنے پیٹ میں لگوا لیا۔
Categories
فکشن

سفید دھاگہ

سفید چکن کے کرتے پاجامے میں ملبوس، ایک ہاتھ میں بچوں کی کاپیوں سے بھرا شاپنگ بیگ، دوسرے ہاتھ میں شولڈر بیگ اور آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ رکشے سے اتری۔ تھکے قدموں کے ساتھ چلتی ، چار سیڑھیاں چڑھ کر اس نے چابی ، فلیٹ کے دروازے کے تالے میں گھمائی اور کمرے میں داخل ہوئی۔ ابھی اس نے ایک پاوں کا جوتا اتارا ہی تھا کہ اس کی نظر ڈور میٹ پر ایک لمبے سے سفید دھاگے پر پڑی۔ اس نے جوتے کا اگلا حصہ بار بار اس دھاگے پر مارا لیکن وہ سانپ کی طرح بل کھا کر میٹ کے اور ساتھ چپک گیا۔ اس نے ایک بار اور کوشش کی تو دھاگہ ہاتھی کی سونڈ کی شکل بنائے، ایک طرف سے لمبا ہوا اور میٹ کے بالوں میں نیم پوشیدہ ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ اسے ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دے لیکن اس کی بجائے اس نے اپنے جوتے اٹھائے اور جھاڑ کر شو ریک میں رکھ دئے۔ ہینڈ بیگ میز پر الٹا کر اس نے سیل فون تلاش کیا اور اسے چارجنگ پر لگا دیا-

اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا ۔اسے ایسے لگ رہا تھا کہ سکول کے مختلف کاغذات، اسباق کی تفصیل، پلینرز اور بچیوں کی ہوم ورک کی کاپیاں اس کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں۔ کمرے میں لگے وال کلاک کی سوئیاں چار بج کر پچیس منٹ بجا رہی تھیں۔ صبح سکول جاتے وقت جو کپڑے اس نے اتارے تھے وہ اسی طرح پڑے تھے۔ اس نے ایک بار پھر ڈور میٹ کی طرف دیکھا۔ سفید دھاگہ اب چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی طرح جگہ جگہ سے ابھرا نظر آرہا تھا۔ اسے نظر انداز کرتے ہوئے وہ بیڈ روم میں گئی اور دیواروں کے تمام پردے برابر کر کے عادت کے مطابق قمیض وغیرہ اتار کر، پنکھا فل سپیڈ پر چھوڑ کر عین اس کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ پنکھے کی ہوا اگرچہ گرم تھی لیکن عریاں جسم کو اس سے خاصی آسودگی ملی۔ کچھ دیر بعد اس نے تولیہ پکڑا اور غسل خانے میں لٹکا دیا مگر ابھی اس کا نہانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ باورچی خانے میں چلی آئی، ماچس کی ڈبیا پکڑی اور چولہا جلانے ہی لگی تھی کہ اس کا ارادہ بدل گیا۔ اس نے فریج کھولا اور ایک دوست کے گھر سے لائی خوبصورت کٹ والی بوتل سے ٹھنڈا پانی اپنے حلق میں انڈیلا اور کمرے سے باہر آگئی۔ کمروں میں گھس آنے والی چھپکلی تو اسے تنگ کیا ہی کرتی تھی لیکن یہ سفید دھاگہ آج خوامخواہ کی پریشانی بن رہا تھا۔ اس نے ڈور میٹ کی طرف دیکھا ، اسے ڈرتے ڈرتے، دو انگلیوں سے اٹھایا، دھاگہ اس وقت کسی کی ای سی جی کی مانند تھا۔ اس نے دروازے کے سوراخ سے باہر دیکھا، ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی۔ اس نے خاموشی سے دروازہ کھولا اور ایک پاوں باہر نکالا اور ایک اندر ہی رہنے دیا اور دروازے کی آڑ سے دہلیز پر میٹ کو زور سے جھٹکا۔ اس نے میٹ کو اتنے زور سے جھٹکا کہ اسے کھانسی آگئی ۔ دھاگہ اب بھی میٹ کے ساتھ کسی جونک کی طرح چمٹا تھا۔ اس نے میٹ کو زوردار جھٹکا دینے کی خاطر بے خیالی میں دوسرا پاوں بھی باہر نکال لیا۔ اس نے ڈور میٹ کو دروازے کے برابر سیڑھیوں کی ریلنگ کے ساتھ زوردار طریقے سے جھٹکا دیا ، میٹ اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گرا اور ٹھیک اسی لمحے زوردار دھماکے کے ساتھ وہ دراوزہ بند ہو گیا جس کے بند ہونے سے بچنے کے لئے اس نے ایک پاوں اندر کر رکھا تھا۔ ” اوہ۔۔۔ نہ مالک کو وقت ملے گا نہ اس دروازے کا تالہ بدلا جائے گا ” غصے کی لہر اس کے چہرے پر نمودار ہوئی۔ اس نے اپنے آپ کو غور سے دیکھا۔ وہ اپنے فلیٹ کے باہر، ٹانگیں چوڑی کئے کھڑی تھی اور اسنے صرف پاجامہ پہن رکھا تھا۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ مستری کو بلائے بغیر یہ دروازہ نہیں کھلے گا۔ اپنی اس ہیئت کذائی پر کوئی گرم سیال مادہ اس کے جسم میں دوڑ گیا۔ اس نے اوپر کے فلیٹ کی جانب دیکھا تو اسے ایک کھڑکی کے پٹ پورے کھلے نظر آئے اور اسے ایسے لگا کہ یہ تو اسے کھانے کے لئے منہ کھولے کھڑے ہیں۔ خوف کی ایک لہر آئی۔ اسے دل کی دھڑکن کن پٹیوں میں بجتی محسوس ہوئی۔ اس کی نظریں بار بار بند دروازے، میٹ ، کھڑکی اور نصف عریاں جسم کا طواف کر رہی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے عریانی ڈھانپنے کی کوشش کی مگر ایک حصہ چھپاتی تو دوسرا نمایاں ہو جاتا۔ کچھ دیر وہ اسی کشمکش میں رہی اور پھر بڑی بے بسی سے اس دیوار کے ساتھ جس پر سوئچ بورڈ لگے تھے متھلا مار کر بیٹھ گئی۔ ڈور میٹ اس کے سامنے پڑا تھا اور دھاگہ اب مسکراتے ہونٹوں کی شکل بنائے ہوئے تھا۔

فلیٹ کے باہر نیم عریاں حالت میں ایسے بیٹھنا— اس کی ریڑھ کی ہڈی میں گرم موسم میں بھی سردی کی ایسی لہر اٹھی کہ اسے شدید درد محسوس ہوا۔ اسے ایسے لگا کہ جسم کا سارا خون اسکے چہرے اور کن پٹیوں میں جمع ہو کر منجمد ہو گیا ہے۔ یہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے اس نے دکھ سے سوچا۔ عمارت کی پرلی طرف، تنگ گلی کی نکڑ والی مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز آئی تو اس نے صدق دل سے دعا مانگی کہ کوئی اسے اس حالت میں نہ دیکھ پائے۔ وہ تو صبح سکول کے لئے نکلتے وقت بھی پہلے دروازے کی درز سے باہر جھانکتی ہے اور یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ گلی میں کوئی علیک سلیک کرنے والا نہیں تو جلدی جلدی قدم اٹھاتی گلی کے کونے پر پہنچتی ہے جہاں رکشے والا ٹھیک سوا سات بجے موجود ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیگ اور لنچ باکس کے ساتھ رکشے میں سوار ہوتی ہے اور اندر بیٹھ کر ایک گہرا سانس لیتی ہے تو ایک ووف کی آواز نکلتی ہے جو رکشے کی تیز پھٹ پھٹ کے باوجود صاف سنائی دیتی ہے۔ سکول سے اس کی واپسی اکثر ایسے اوقات میں ہوتی ہے جب عمارت کے مکین دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرتے ہیں یا کچھ بد تمیز بچے دوپہر برباد کرنے کے بعد گلی میں شور شور کھیل رہے ہوتے ہیں، ہاں اس نے ان کے اس کھیل کو شور کا نام ہی دے رکھا تھا کہ تنگ سی گلی میں کرکٹ یا فٹ بال یا کچھ بھی کھیلنا محض شور مچانے کے مترادف تھا۔

شکر ہے کہ بچے آج کھیل کر جا چکے تھے ورنہ وہ جس حالت میں تھی اس میں کوئی اسے دیکھ لیتا تو نہ جانے زمین آسمان کے کون کون سے قلابے ملاتا۔ سکول سے فلیٹ میں داخل ہونے کے بعد وہ تو کبھی چہل قدمی کے لئے بھی نہیں نکلی تھی حالانکہ اڑوس پڑوس کی عورتیں اور بچے اکثر رات کو ملحقہ خاموش سڑک پر سیر کرتے پائے جاتے تھے لیکن اس کے اندر ایک خوف بس چکا تھا اور یہ خوف اس کے اس شوہر کی دین تھا جس نے اس کی ازدواجی زندگی جہنم بنا ئی اور اب اسے علیحدہ ہوئے کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ اوپر تلے بیٹیوں کو جنم دینے کے بعد کسی اولاد نرینہ کو جنم دینے کی کوشش میں وہ پیٹ کے اندر بیٹے اور زچگی کی صلاحیت دونوں ہی کھو بیٹھی۔ مردوں کو ہمیشہ نر وارث کی ضرورت ہوتی ہے چاہے پلے کچھ ہو نہ ہو (اس مرد کے خیال میں عورت چاہے ماں ہو، بیٹی ہو یا بیوی، کسی منصب کے لائق نہیں )، سو اس نے ایک اور شادی کر لی اور اس کے ساتھ کچھ ایسا برتاو کیا کہ وہ ایک خوف زدہ فرد میں تبدیل ہو گئی جسے ہر وقت کسی حادثے کا ڈر رہتا۔انہیں حالات میں وہ ماں باپ کے گھرواپس پہنچ گئی ۔کچھ عرصہ ماں باپ کے ساتھ رہی لیکن بھایئوں کی شادیوں کے بعد اس گھر میں بھی اس کے لیے جگہ نہ رہی تو اس نے اس عمارت میں ایک مناسب فلیٹ مناسب سے کرائے پر لے لیا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ اکیلے رہنے کا اتنا بڑا اقدام اٹھا کر اس کے اندر کا خوف کچھ کم ہوتا لیکن یہ خوف شاید اس کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔ سکول میں ملازمت اسے ایک واقف کار کی سفارش پر ملی لیکن وہ اپنی محنت اور لگن کے ساتھ وہ اب وہاں ایک اچھی پوزیشن پر تھی۔ اس کے ساتھی، اس کے ماتحت اور مالی ، چوکیدار، بلاوی سب کے سب اس کی بے حد عزت کرتے تھے اور اس کے دوست ہمیشہ مدد گار اور دکھ درد میں شریک پاتے تھے۔

لیکن اس وقت یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کسی نے اس حالت میں دیکھا تو کیا کہے گا اور کہنے والوں کی زبانیں بند کرنے کا کوئی نسخہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ پسینے میں شرابور وہ دیوار کے ساتھ متھلا مارے بیٹھی تھی اور بازووں سے عریاں جسم ڈھانپنے کی کوشش میں اس نے اپنی بانہوں کی رگیں دیکھیں جو ابھری ہوئی نیلی اور کالی نظر ارہی تھیں اور اسے ایسے لگا کہ یہ اس کے بازو نہیں بلکہ کسی اور کے ہیں یا شاید وہ اپنے آپ کو اتنی تفصیل سے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ بے خیالی میں اس نے اپنے معدے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو اسے یوں لگا جیسے پیٹ کے اندر کوئی چھوٹا سا لجلجا سا تھیلا ہے۔ اس نے ایک ہاتھ سے اپنے سینے کو ڈھانپا کہ دوسرے ہاتھ سے بالوں میں اٹکے کلپ کو دوبارہ لگائے کیونکہ بال بار بار ماتھے پر گر رہے تھے کہ اچانک اسے ایک خیال آیا اور اس نے کلپ ہی اتار کر پھینک دیا۔ کافی عرصے سے اس نے بال نہیں کٹوائے تھے اس لiے وہ اتنے لمبے تو ضرور تھے کہ انہوں نے جسم کا کچھ ابھار ڈھانپ لیا۔ کچھ شام کے جھٹ پٹے نے اس کی مدد کی۔ ہمت کر کے وہ اٹھی اور اس نے ڈور میٹ کو دیکھا۔ سفید دھاگہ اب اس کے بازووں کی رگوں کی مانند نظر آنے لگا۔ اسے قریب ہی سے کسی کے قدموں کی آواز آئی تو وہ ساری جان سے کانپ گئی اس نے میٹ کو ایک چادر کی مانند اپنے سینے پر لپیٹ لیا جیسے کوئی بہترین قیمتی لباس ہو۔ خوف اور پریشانی کی ایک اور لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی لیکن قدموں کی آواز کہیں غائب ہو گئی۔

ڈور میٹ کے بال اس کے جسم میں پیوست ہو کر بری طرح چبھ رہے تھے۔ اس نے میٹ اتار کر پھینک دیا۔ اب تو اس کی خواہش تھی کہ کوئی مدد کو آ ہی جائے، بھلے وہ ایک دفعہ اسے اس حالت میں دیکھ کر ششدر تو ضرور ہو گا لیکن وہ وضاحت کر کے اس سے کسی کپڑے، کسی چادر کی درخواست کر سکے گی۔ اس نے ایک اندازہ سا لگانے کی کوشش کی کہ سات فلیٹوں والی اس عمارت میں اگر فی فلیٹ تین باسی بھی ہوں تواکیس لوگ تو ہوئے۔ کم از کم آدھے تو گھروں سے باہر دفتر، یونیورسٹی، کاروبار سے اب واپس نکل پڑے ہوں گے کہ اس وقت تو پرندے بھی اپنے گھونسلوں کو لوٹ آتے ہیں۔ کاش کوئی بچہ ہی آ جائے۔ آخر وہ سارے بدتمیز بچے کہاں دفع ہو گئے جو ساری دوپہر گلی میں اودھم مچاتے ہیں۔ کاش وہ خاکروب ہی آ جائے مگر وہ تو مالک کے کہنے پر ہفتے میں صرف ایک بار، باہر کی صفائی کرنے آتا تھا۔ اسے کمرے میں فون کی گھنٹی بجنے کی آواز آئی ۔ یقیناً یہ اس کی بڑی شادی شدہ بیٹی ہوگی۔ اس کے فون کرنے کا یہی وقت ہے اور وہ فون پر سارے دن کی روداد سنا کر کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ بھی بیان کر دیتی کہ ماں اور پریشان ہو جاتی اور کچھ نہ کر پانے کی بے بسی میں ہاتھ ملتی رہ جاتی۔

تھک کر وہ پھر دیوار کا سہارا لے کر کسی مدد کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ معا ًاسے خیال آیا کہ دو فلیٹوں کی بیچ کی دیوار کو ہی تھپ تھپا کر دیکھے شاید کوئی سن پائے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی کہ ساتھ والے فلیٹ کے باسی اسے کبھی بھی اچھے نہیں لگے تھے۔ ان کی سرگرمیاں مشکوک سی تھیں اور ایک انجانا سا خوف ان کے بارے میں اس کے دل میں شروع ہی سے تھا۔ قدموں کی آواز ایک بار پھر آئی۔ اس نے اپنے آپ کو سختی سے دیوار کے ساتھ لگا لیا اور ڈور میٹ اٹھایا تاکہ اپنے گرد لپیٹ لے، قدموں کی آواز رک گئی۔ سفید دھاگہ اب انگریزی حرف وی کی شکل بنا رہا تھا۔ اس نے عمارت کے میں گیٹ کے دھندلے سے شیشے میں کوئی چہرہ ابھرتا دیکھا، پھر دروازہ کھلنے کی آواز سنی اور دوڑ کر سیڑھیوں کے پیچھے جا چھپی، آنے والا نہ جانے کون سے فلیٹ میں چلا گیا تب اسے خیال آیا کہ اس نے موقع کھو دیا ہے۔ یہ وقت چھپنے کا نہیں مدد کے لیے پکارنے کا تھا اور کوئی پردہ کوئی چادر کچھ بھی مانگا جا سکتا تھا لیکن نہ جانے کیوں خوف اور جھجک اس پر مسلط ہوا اور اس کے دماغ نے مدد مانگنے کی بجائے ٹانگوں کو دوڑنے کا حکم دیا۔

باہر اب کافی اندھیرا ہو چکا تھا۔ دیوار کے ساتھ کھڑی وہ اپنے آپ کو خاصا محفوظ سمجھ رہی تھی ،اس نے آنکھیں اتنے زور سے بھینچ رکھی تھی کہ ان میں آنسو نکل آئے۔ ہوا بھی اب کافی تیز تھی اور لگ رہا تھا کہ دن میں جتنی گرمی پڑی ہے اس کا اثر برابر کرنے یہ ہوا آندھی میں تبدیل ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا، تیز ہوا کا ایک جھکڑ مٹی سمیت اسکے بدن سے ٹکرایا اور پھر فلیٹ کے دروازے سے اور دروازہ ایک دم کھل گیا۔ اس سے پیشتر کہ دروازہ پھر بند ہوتا وہ ایک ہی جست میں کمرے کے اندر پہنچی اور خود کو زمین پر گرا دیا۔ ۔ اطمینان کا ایک طویل سانس لے کر وہ اٹھی۔ اس نے دروازہ بند کیا۔ کمرے کی بتی جلائی۔ بیڈ کی کریم کلر کی چادر، اسی رنگ کے سرہانے، ہلکے نیلے رنگ کی پوشش والی کرسی، جھولنے والی آرام کرسی، خوبصورت گلدان، تیز ہوا سے اوپر اٹھتے پردے، سنگھار میز—– اسے ہر چیز ایسے نئی لگ رہی تھی گویا وہ آج پہلی بار اس کمرے میں آئی ہو۔ اس نے ڈور میٹ کی طرف دیکھا جو آدھا کمرے میں اور آدھا دروازے میں پھنسا تھا۔ اس نے ڈور میٹ کو اندر کی جانب کھینچا—- سفید دھاگہ اب وہاں نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل جھک گئی، اس نے غور سے دیکھ، واقعی دھاگے کا نام و نشان نہیں تھاَ۔

Categories
نقطۂ نظر

لاشعور سے شعور تک

ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔ اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ، ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے
ہر طرف خاموشی تھی ۔چاروں طرف موم بتیوں کا بسیرا تھا ۔میزیں انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی تھیں ۔کنیرڈ کالج کے بالکل سامنے نیرنگ آرٹ گیلری کے کیفےمیں خوبصورت دماغوں اور پریوں نے دلکش جھمگٹا لگایا ہوا تھا۔آرٹ گیلری دلکش تصاویر سے مزین تھی۔آرٹ گیلری کے چاروں کونوں میں دلکش رنگ برنگے برقی قمقمے مسکرا رہے تھے ۔یہ برقی قمقمےفنکاروں کے فن کو مزید دلکش اور خوبصورت بنا رہے تھے۔حسن اور خوبصورتی تھی کہ ہر طرح سے مجھے اور اسے ورغلا رہی تھی ۔حسین لڑکے اور لڑکیوں کا مدھم روشنی میں روح پرور رومانس اور ان کے بیچ و بیچ ادیبوں کا میلہ ۔۔۔۔واہ کیا رونق تھی ۔رومانوی جوڑوں کے بیچ دھری میزیں مغربی مشروبات سے آراستہ تھیں جبکہ ادیبوں کی میزوں پر چائےکافی چل رہی تھی۔ہلکی آواز میں موسیقی دلوں کو چھو رہی تھی ۔ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے ہم واقعی کسی خیالی تخلیقی جنت کے خوبصورت حصے میں آچکے ہیں،کافرادائیں ،باغی خیالات اورقاتل چہرے ۔۔۔۔ پراسرار خاموشی میں دھیمے لہجے میں بولتے نوجوان لڑکے لڑکیاں اور ادیب ۔۔۔۔واہ کیا منظر تھا نیرنگ آرٹ گیلری کا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اور اسے کسی ایسی ہی جگہ کی ضرورت تھی ۔پتہ نہیں کیوں اور کیسے وہ مجھے اپنے ساتھ اس آرٹ گیلری میں لے گئی تھی۔تازگی اور دلکشی چیختی چلاتی نظر آرہی تھی ۔ہم دونوں موم بتیوں سے مزین ایک میز کے آمنے سامنے پڑی دو کرسیوں پر براجمان ہوگئے ۔وہ میرے سامنے بیٹھی خاموشی سے مسکراتی نظر آرہی تھی ۔موم بتیوں سے نکلتی روشنیوں میں اس کا چہرہ چمکتا نظر آرہا تھا اور میں اس کے قرب کے خمار میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ جب بولتی تو میں اس کے سحر میں ڈوب جاتا وہ جب مسکراتی اور اس کے ہونٹوں کی سرخی اور دانتوں کی سفیدی میری آنکھوں سے ٹکڑاتی تو میری روح وجدان کی بلندی کو چھونے لگتی ۔اس کا مسکرا کر کھلکھلا اٹھنا مجھے بیقرار کر رہا تھالیکن یہ ایسی بیقراری تھی جو مجھے روحانی سکون دیتی نظر آرہی تھی ۔
ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہود و ہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے
رومان زدہ اس ماحول میں محبت، امن، پیار اور عشق کا بسیرا تھا ۔میں ملامتی صوفی کے روپ میں شیطانی سرور کا مزہ لے رہا تھا ۔ہم دونوں کے سامنے لگی میزپر چار ادیب گفتگو میں مصروف تھے ۔میں اور وہ اس رومانوی ماحول کو فراموش کرکے ان دانشوروں کی دنیا کا حصہ بن گئے ۔ایسا کب،کیوں اور کس طرح ہوا ہم دونوں کو معلوم نہ ہوسکا؟ کہیں روشنی اور کہیں سوچتا اندھیرا ۔۔۔۔۔ہم دونوں خاموشی سے سوچنے والے انسانوں کی سوچ کے عشق میں مکمل طور پر مبتلا تھے۔ ان چار ادیبوں میں ایک خاتون ،ایک نوجوان اور دو بوڑھے تھے ۔نوجوان لمبے بالوں، پرانی طرز کی عینک اور سفید شلوار قمیض کے ساتھ منٹو دکھائی دینے پر تلا تھا ۔نوجوان کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے ۔وہ ان سب میں بلاوجہ نمایاں تھا۔
بوڑھا ادیب کہہ رہا تھا ،”حضور والا اس وطن میں پچاس فیصد روحیں تعلیم سے محروم ہیں جبکہ جو نام نہاد تعلیم یافتہ بھی ہیں وہ جہلاسے بڑھ کر ہیں۔انتہا پسندی اوردہشت گردی ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے پھل پھول رہی ہے ۔تعلیم یافتہ جاہل ان پڑھ جاہلوں سے زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں ۔ان جاہلوں کے قلم سے نکلے الفاظ انسانوں کو بندوق اور نفرت کی طرف مائل کررہے ہیں ۔یہ ڈیجیٹل زمانہ بھی ہمارے معاشرتی ماحول اور اس کی فطرت کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان اور دنیا میں کوئی ایسا دہشت گرد نہیں جو چٹاان پڑھ ہو ۔ہر دہشت گرد پر تعلیم کا اثر ہوتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ ،ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے ۔علمی بددیانتی کی وجہ سے دہشت گردوں اور انتہا پسند عناصر کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے”۔بوڑھا ادیب غصے میں تھا ۔اونچی آواز میں اس نے کہا ،”قرآن سے لے کر اقبال اور قائداعظم تک کے خیالات ونظریات کو ہر ایرا غیرا اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہا ہے ۔افراد، ادارے سب کے سب علمی بددیانتی میں ملوث ہیں “۔
ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں
بوڑھے ادیب کے خاموش ہونے کی دیر تھی کہ سامنے والے دوسرے بوڑھے نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔” اس ملک میں اب روشن خیال اور ترقی پسند ادب کہاں چھپتا اور بکتا ہے؟؟ لیکن انتہا پسندانہ لٹریچر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو رہا ہے ۔اردو زبان اب انتہاپسندوں کی زبان بن چکی ہے ۔انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ مذہبی لٹریچر اردو زبان کی بدصورتی کا سبب ہے ۔صرف ایک چھوٹا سا منافق روشن خیال طبقہ ہے جو انگریزی میں سوچتا ،لکھتا اور پڑھتا ہے ۔
بہت دیر سے خاموش بیٹھی خاتون بھی بحث میں الجھ پڑی۔تین مردوں میں گھری خاتون ڈرتے ڈرتے بولی۔” ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہودوہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے ۔پوری عمارت ہی اسی بنیاد پر تعمیر کی جارہی ہے۔انتظار حسین، فیض احمد فیض، مجید امجد ، ن- م- راشد، سبط حسن اور علی عباس جلالپوری توقصہ پارینہ بن چکے ۔نسیم حجازی سے متاثر نام نہاد تعلیم یافتہ ادیب ایسا ادب تخلیق کررہے ہیں جو عوام کی نرگسیت میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسا ادب صرف اور صرف جہالت پھیلارہا ہے۔ادبی محفلوں کا رواج تقریبا ًناپید ہوتا جارہا ہے ۔ساحر لدھیانوی اور مخدوم کو اب کون کمبخت جانتا ہے ۔ترقی پسند ادب کی روایت دم توڑ گئی ہے ۔انیس اور دبیر کے مرثیوں سے ہماری نوجوان نسل کہاں واقف ہے ۔تجریدیت، اشتراکیت، لبرل ازم کی بجائےاب ادیب کا قبلہ ماضی ہے۔ایک زمانہ تھا جب اردو تحاریران موضوعات سے اٹی پڑی تھیں ۔انیس سو اناسی میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا اور اس کے بعد انکل سام کی افغانستان میں آمد ہوئی ۔پھر تو پاکستان میں تمام خیالات و نظریات اور بیانیے ہی امریکہ کی مرضی سے تخلیق کیے گئے۔اسی کی دہائی میں ہی تو ہمارے نصاب میں خ سے خنجر آیا، ب سے بندوق اور الف سے اللہ آیا۔ پاکستان کا نصاب بھی پھر امریکہ کی مرضی سے بنا۔امریکہ نے ایسے منافق لوگ بنائے جو کمیونزم کی ایسی تیسی پھیر سکیں ۔روس کو افغانستان سے بھگا سکیں۔ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں۔اس دور کے میلوں میں فیض، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور ساحر لدھیانوی کے خیالات خوب بکتے تھے ۔لیکن اب تو سب خلط ملط ہوگیا”۔
منٹواور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اور یا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔ بڑی چالاکی سےاس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تواب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کواپنی توہین سمجھتے ہیں
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ۔ وہ اور میں دانش وروں کے سحر میں گرفتار تھے ۔ ہم دونوں رومانس اور محبت کی چاشنی لینے آئے تھے لیکن یہاں تو اب معاملہ ہی مختلف تھا۔ رومانس کو بھول کر ہم اب سیاست، ادب اور تاریخ کے سحر میں قید ہو چکے تھے ۔
نوجوان ادیب جو بہت دیر سے بولنے کے لیے بیقرار تھا ۔اب اس کی باری تھی ۔”صاحب اردو زبان میں بہت جان ہے ۔ ترقی پسند ادب کا ایک نمائندہ حصہ اسی زبان میں ہے ۔مسئلہ یہ ہوا ہے کہ ترقی پسند ادیبوں اور روشن خیال دانشوروں نے اردو زبان میں لکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ریاست اور ریاستی اداروں نے جہادی اور ان اردو اخبارات کی سرپرستی کی ہے جو مذہبی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں ۔آج کے اردو اخبارت میں بھی نوے فیصد نسیم حجازی کے خیالات ملتے ہیں ۔۔۔۔اردو اخبارات میں آج بھی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے یا پھر اس تقریر کو سازش لکھا جاتا ہے ۔نیوز چینلز پر نفرت سےبھرپور تعصبانہ ذہن کا قبضہ ہے ۔ہر سکرین پر ڈاکٹر شاہد مسعود ، اوریا مقبول جان اور زید احمد جیسے نقلی دانشورنظر آتے ہیں جن کا مقصد ہمیں ہمارے خول میں بند رکھنا ہے۔جوخیالات اور نظریات پھیلادیئے گئے ہیں ان کی وجہ سے تشدد،دہشت گردی اور انتہا پسند میں اضافہ ہورہا ہے ۔منٹو اور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اوریا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔بڑی چالاکی سے اس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تو اب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔صاحب یہ روشن خیال تو اب یہ تک کہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی اردو بڑی کمزور ہے ۔پاکستان میں نوجوان نسل کو پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں ادب دینے کی ضروت ہے ۔ایک زمانہ تھا جب بائیں بازو کے دانشور ،ادیب اور کالم نویس ہماری ذہن سازی کررہے تھے۔دائیں بازو کے لکھاری خال خال ہی تھے ۔اب صورتحال مختلف ہے ۔اب بائیں بازو کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سوچ رکھنے والے اور الگ سوچنے والے ادیب ،کالم نویس اوردانش ور نایاب ہو چکے ہیں۔”
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔وہ گفتگو سنتے سنتے تھک چکی تھی۔رات کے دس بج چکے تھے ۔ہم دونوں نیرنگ آرٹ گیلری کی خوبصورت دنیا سے باہر نکلے ۔وہ رکشے پر بیٹھ کر گھر کو چلی گئی اور میں پیدل سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے چل نکلا۔
Categories
شاعری

ڈھن ڈھنا ڈھیں

جھاڑ دو یہ جھوٹا قلم
اجاڑ دو یہ کچا کاغذ
بانٹ دو میرے سارے لفظ
بے اولاد دماغوں کے اندر
یہ دیکھو یہ لکھا تھا کل
ایک زرد دھرتی کا غم
آج اس سے روٹھ کر بہہ گیا
کل کے جذبات کا رنگ
اب کیوں کر لکھ دوں میں
تمھارے نقش کا سخن؟
میری آنکھ اندھی ہے
میری سانس جھوٹ کا سفر
میرے خیال میں اترے
ٹانگ توڑ بدصورتی کا ڈھب
 
میرا دل ٹہلتا رہتا ہے
بس بازاروں کے اندر
میری جیب میں اب تو
پتھر بھی نہیں ہیں
کہ سلیقے سے ڈوب مروں
پھولا پھولا جاؤں گا
دریا پر بہتا جیسے گند
ہاں جلا ڈالو مجھے
کسی ننگی سڑک کے کنارے
جہاں بھیک مانگتا ڈھونگی
ہزار گاڑیوں کی
اپنی اپنی تنہائی میں
صبح شام ایک کرتا ہے
 
ہاں مار ڈالو مجھے
ایسے کے پھر نہ یاد آؤں
کسی متروک درخت کی
جڑوں میں دبانا
جیسے گھاس اگے عاشق
دبا دیتے ہیں
کوئی وقتی خوبصورتی
یا یہ المیے اوڑھے مجنوں
کسی سرکاری دیوار پر
لکھ دیں کوئی فضول جنونی نام
جسے دیکھ کر دل میں
کچھ نہیں ہوتا
 
ہاں کاٹ دو اس زباں کو تم
یہ نہیں سونا اگلتی
یہ میری کانسی کی تاریخ
تم اس آہن گردی میں
نچھاور کر دینا
جیسے مغلوب قوم کے بےغیرت بیٹے
سب نچھاور کردیتے ہیں
توڑ دینا مجھے اور پھر
مجھ سے بنا لینا ایک گھر
پھر اسکو آگ لگانا
اور ناچنا اسکے گرد
میں کاربن کا اندیشہ ہوں
میں تیل کا پجاری
میں نفرت کا ایندھن ہوں
سوکھی لکڑی مریل سی
دہک اٹھوں گا میں
ایک ہی تیلی میں
پھر میری آگ کو ابالنا
جیسے دوزخ بنانا چاہتے ہو
 
بس جلا دو مجھے
مگر یہ نہ کہو کہ میں
لکھتا رہوں مردہ لفظوں کاسہرا
آنکھ پھٹے خیالوں میں
ایک ایسی کمینی دنیا میں
جس میں سب شیشوں سے
چمٹے بیٹھے ہیں
جیسے بموں کی بوندوں میں
کوئی ماں اور اسکا چیختا چلاتا بچہ
بس کردو اب تم بھی
یا دے دو مجھے دہن آواز
اور ایک ایسی خوبصورتی
جو بدصورت آنکھوں کے لیے
بنائی گئی ہوگی
مجھ معاف کردو
میں نہیں لکھ سکتا
نہ پچھلوں کی طرح
اورنہ تمھاری طرح