Categories
نان فکشن

کیا اردو واقعی کوئی زبان ہے؟

اس وقت میرے پاس بہت سی کتابیں نہیں ہیں کہ میں اپنے موقف کے لیے موٹے موٹے دلائل پیش کرسکوں لیکن یہ ضرور ہے کہ جو اب تک میں نے پڑھا ہے اور اردو زبان و ادب کی تاریخ سے جتنی میری شناسائی ہے وہ مجھے اکثر اوقات یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس زبان کی چاشنی و شیرینی کا قصیدہ پڑھتے پڑھتے ہمارے دوستوں کا دم نہیں پھولتا، جس کی تاریخ کو آٹھ سو اور نو سو سالہ عرصے پر محیط کرنے کی خواہش ہمارے محققین کو ہے، اس کی تاریخ واقعی ہمیں کون سا سچ دکھاتی ہے۔وہ کون سی بات ہے جسے سمجھنا ضروری ہے تاکہ نفاق دور ہو اور اتفاق کی بنیادیں مضبوط ہوسکیں۔
بات کو انگریزوں کے دور سے شروع کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انگریز کا ذہن نہایت منطقی تھا،اس کے دماغ میں کوئی بھی بات جو بے سر پیر ہوتی تھی، سما نہیں سکتی تھی۔اس لیے وہ ان بکھری اور منتشر غیر منطقی باتوں کو بھی ایک سانچے میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند تھا۔انگریز کی یہی پالیسی اسے ہمارے مقابلے میں زیادہ منضبط اور منصوبہ ساز یا مستقبل شناس ٹھہراتی ہے۔اردو زبان کی تشکیل کا مرحلہ دراصل انگریز کی اسی سیاسی و ثقافتی تبدیلی کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کی وجہ سے اردو کو ایک مخصوص مذہب کے ساتھ وابستہ ہونا پڑا اور اس زبان کو مسلمانوں نے اتنا عزیز سمجھا کہ تقسیم ہند کے بعد بننے والے ملک پاکستان کی یہ قومی زبان کہلائی۔

 

دراصل قومی کا یہی تصور ہمارا نہیں ، انگریز کا ہے۔ہم قوم کے لحاظ سے ہمیشہ کسی ایک سانچے میں فٹ نہ ہوسکنے والے لوگ ہیں، الگ الگ ریاستوں میں بٹی ہوئی ہماری تہذیبیں، ہمارے رواج، ہمارے سماج ہمیں بتاتے ہیں کہ کسی ایک قوم کی زبان کو اگر تمام لوگوں کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جائے تو یقینی طور پر ہم بہت سی دوسری قوموں کے ساتھ ناانصافی کریں گے۔اس کی ایک بڑی مثال ہندوستان میں ‘ہندی’ کی ہے۔ہندی اس ملک میں بہت سے لوگ نہیں بولتے، بہت سے لوگ اس کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں لیکن پھر بھی وہ ان کی قومی زبان ہے۔یہ ایک قسم کا فریب ہے، جسے شناخت کے طور پر ہم سبھی پر عائد کیا جاتا ہے ، لیکن ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس سچ یا حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے کس قدر تیار ہیں۔

 

بہرحال بات ہورہی تھی انگریزوں کی۔انگریز کے دور حکومت میں وہ زبان جسے آج ہم بڑے فخر کے ساتھ ‘اردو’ کہتے ہیں اور جس کی تاریخی لکیروں کو بہت دور تک کھینچتے ہوئے لے جاتے ہیں، عرصہ دراز سے بھارت میں ہندی کے نام سے جانی جاتی تھی۔اس کے بلاشبہ دوسرے نام بھی تھے، جیسے کہ ہندوی اور ریختہ۔لیکن ہندوی اور ہندی کو بطور خاص زبان کے طور پر شہرت حاصل تھی، جبکہ ریختہ زیادہ تر غزل یا ایسی نظمیہ شاعری کے لیے مستعمل لفظ تھا، جس میں ہندی/ہندوی یا فارسی زبان کے ٹکڑوں کو آپس میں ملا دیا گیا ہو۔

 

ریختہ کے تعلق سے لوگ میر کے عہد تک ضرور کنفیوز رہے ہونگے کیونکہ اسی وجہ سے میر صاحب نے اپنے تذکرے’نکات الشعرا’ میں اس کی چار مثالیں دے کر سمجھایا ہے کہ یہ لفظ شاعری کے کیسی ہیتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں ان سے ایک غلطی بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ریختہ ایسی نظم کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے، جس میں ایک مصرع فارسی کا ہو اور دوسرا ہندی کا۔جبکہ مثال کے طور پر انہوں نے امیر خسرو کے نام سے مشہور اس غزل کو پیش کیا جس کا پہلا مصرع ہے’زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں’۔ اس مصرع میں ظاہر ہے کہ آدھی زبان فارسی اور آدھی ہندی ہے نہ کہ یہ دو الگ الگ مصرعے ہیں۔

 

بہرحال خود میر اور ان کے معاصرین کے یہاں لفظ ‘ہندی’ بہت صاف طور پر اس زبان کے لیے استعمال ہوتا رہا جسے دور حاضر میں اردو کہا جاتا ہے۔مثالیں بہت سی ہیں، مگر اس وقت ایک شعر یاد آرہا ہے(جیسا کہ میں نے عرض کیا اس وقت میرے پاس مثالیں ڈھونڈنے کے لیے کتابیں نہیں ہیں۔)

 

کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ

 

غالب کے خطوں میں بھی ہم لفظ ‘ہندی’ کو زبان کے معنوں میں پڑھتے آئے ہیں۔ انہوں نے بہت صاف لفظوں میں کئی جگہ اپنے دوستوں کو بتایا ہے کہ وہ مشاعرے میں ہندی غزلیں پڑھ کر آئے ۔ان کے مکاتیب کی مشہور کتاب کا نام بھی ‘عود ہندی’ ہی ہے۔جس میں زبان کی حیثیت سے موجود لفظ ہندی اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ یہ لفظ اس زمانے میں اردو کے لیے کس قدر عام تھا۔اسی طرح مرزا علی لطف نے ‘گلشن ابراہیم’ نامی تذکرے کو آسان زبان میں منتقل کرتے وقت خود کو آسان ہندی لکھنے پر کھسیانے انداز میں لعن طعن کیا اور جتادیا کہ وہ ایسا اپنی مرضی سے نہیں کررہے بلکہ انگریزوں کے حکم سے کررہے ہیں۔شیر علی افسوس نامی ایک شخص نے میر حسن کی مشہور مثنوی ‘سحرالبیان’ یا ‘قصہ بے نظیر و بدر منیر’ کے دیباچے میں اسی لفظ کا استعمال کیا ہے۔

 

شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی کتاب ‘اردو کا ابتدائی زمانہ’ میں میر امن دہلوی کو اس بات کے لیے قصور وار ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے باغ و بہار کے دیباچے میں یہ جملہ لکھتے وقت کہ ‘یہ قصہ اردو کے لڑکے بالوں کی زبان میں لکھا جارہا ہے’یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس زبان کا ایک معروف نام ہندی بھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پروفیسر گلکرسٹ ، جو کہ فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی زبانوں کی تدریس سے وابستہ تھے، اس بات پر متعجب تھے کہ ہندی مسلمانوں کی زبان کیسے ہوسکتی ہے، جبکہ اس سے تو ہندو لفظ کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ایک نئی زبان کے رواج کی کوشش کی گئی مگر اس زبان کا نام ‘اردو ‘ نہ تھا بلکہ ہندوستانی تھا۔ ہندوستانی لفظ کو رائج کرنے کی انگریزوں کی کوشش کا سب سے بڑا اثر الہ آباد میں قائم کی جانے والی ہندوستانی اکیڈمی تھی، جو کہ یوں تو بعد میں قائم کی گئی ، مگر اس کے آثار ان پرانی لغات میں مل جاتے ہیں جہاں انگریزوں نے اردو ، انگریزی لغات کے لیے ہندوستانی-انگریزی لغات کی ترکیب استعمال کی ہے۔ڈنکن فاربس، ہابسن جابسن، جان شیکسپئر اور دوسرے ماہرین اردو انگریزوں کی لغات میں یہ لفظ بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک سوال میر امن کا ہے، انہوں نے یہ لفظ ضرور لفظ دہلی کے لیے لکھا ہوگا کیونکہ میر امن نے لفظ ‘اردو کے لڑکے بالوں ‘کہا ہے نہ کہ اردو زبان بولنے والے لڑکے بالوں۔ اردو کا لفظ نئی دہلی کے وجود میں آنے سے پہلے موجود نئے شہر(موجودہ پرانی دلی) کے لیے استعمال ہوتا تھا، جسے اردوئے معلیٰ بھی کہا جاتا تھا۔

 

فاروقی صاحب نے اپنی کتاب میں ایسی کچھ غلطیاں بھی کی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وہ اپنے موقف پر اتنے ڈٹے ہوئے ہیں کہ اختلاف کرنے والے کی رائے نہیں سننا چاہتے۔مثال کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ ابتدائی زمانے میں ‘غزل’ کا لفظ فارسی غزل کے لیے اور ریختہ کا لفظ’اردو غزل’ کے لیے معروف تھا اور اس کی مثال میں انہوں نے قائم کا یہ مشہور شعر نقل کیا ہے

 

قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی

 

فاروقی صاحب نے لکھا کہ ہم اتنے عرصے سے یہ شعر سنتے چلے آرہے ہیں لیکن کبھی یہ خیال کیوں نہ کیا کہ آخر ریختہ کو غزل طور بنانے کا کیا مطلب ہے۔میں نے اپنے ایک خط میں ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ کی اس بات کو بالکل صحیح تسلیم کرلیا جائے تو ان اشعار کو کہاں رکھا جائے گا جن میں اسی دور کے شعرا نے اردو غزل کے لیے بھی غزل کا لفظ استعمال کیا ہے۔جیسے کہ سودا کا یہ شعر

 

وہ جو کہتے ہیں کہ سودا کا قصیدہ ہی ہے خوب
ان کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

 

پھر قائم خود بھی ایک جگہ فارسی غزل کو خود فارسی کہہ چکے ہیں ، بجائے غزل کہنے کے

 

قائم جو کہیں ہیں فارسی یار
اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر

 

یہ اشعار میں نے اپنے حافظے سے لکھے ہیں، سو ممکن ہے کہ ان کے متن میں کچھ تبدیلی ہوگئی ہو، لیکن مذکورہ الفاظ کا ان میں ہونا یقینی ہے۔
بہرحال، انگریزوں کے دیے گئے لفظ ہندوستانی کو رواج نہ مل سکا، جب کہ اردو کا لفظ زیادہ مستعمل ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس لفظ کو مسلمانوں کی ناسٹلجیائی نفسیات نے پروا ن چڑھایا ہے۔لفظ اردو مغل حکومت اور اس کے قائم کیے گئے دیوانوں کی بھولی بسری یادوں کا آخری گواہ ہے۔اس سے دربار، لشکر، فصیل اور ان پرانے بازاروں کا تصور جاگتا ہے، جن کو مسلمان بھولنا نہیں چاہتے تھے۔یہ فکر اس قدر گہری تھی کہ اردو کے لفظ نے ہندوستانی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ترقی کی اور رفتہ رفتہ اپنے پرانے نام ‘ہندی ‘ یا ‘ہندوی’ کی یادیں اور نقوش ذہن تک سے مٹادیے گئے۔اسلامی لٹریچر کا اس زبان میں دھڑادھڑ ترجمہ ہوا۔پاکستان بنا تو ایک اسلامی ریاست کی قومی زبان بناکر اس زبان کی مذہبی حیثیت کو اور مستحکم کردیا گیا۔

 

ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ اردو اخباروں میں(جو ہندوستان سے شائع ہوتے ہیں)مسلمانوں کے مسائل کی نمائندگی کرنے سے فرصت نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ رمضان، عید، جمعہ اور دیگر مذہبی ایام کے لیے ضمیمے اور صفحات مختص کیے جاتے ہیں۔جبکہ اس کی بہ نسبت دوسری قوموں کے تہواروں پر اس قدر زور نہیں دیا جاتا۔مشاعروں میں جو غیر مسلم افراد حصہ لیتے ہیں، وہ اردو کو غیر شعوری طور پر اسلام کی نمائندگی کرنے والی زبان تسلیم کرچکے ہوتے ہیں، اس لیے ان کی گفتگو میں بھی السلام علیکم، ماشا اللہ، انشا اللہ اور بسم اللہ جیسے کلمات زیادہ شامل ہوتے جاتے ہیں، بعضے تو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے نعتیں اور حمدیں بھی لکھتے ہیں، مناقب کے پھول بھی چڑھاتے ہیں۔

 

اکثر اوقات پروگراموں میں ، سوشل میڈیا پر اس بات کی تشہیر کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو اردو پڑھائیے، بصورت دیگر وہ اسلامی روایات اور دینی تعلیمات سے دور ہوتے جائیں گے۔مسلمان محلوں میں ایسے سینٹر جو کہ مذہبی تبلیغ کے فرائض انجام دیتے ہیں، اپنے پوسٹر خاص طور پر اردو میں شائع کرتے ہیں اور ان کی زبان جو کہ تقریر کے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے، اردو ہی ہوا کرتی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ ان تمام تر تکلفات کے باوجود اردو کا سیکولر رویہ ، جو کچھ ٹوٹے پھوٹے، خستہ حال اردو داں تخلیق کاروں کی وجہ سے قائم ہے، وہ کیا لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے کے لیے کافی ہے کہ اردو کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کی بنیادی شناخت کوئی عربی یا فارسی آمیززبان کے طور پر نہیں ہے بلکہ وہی ہندی ہے، جسے ہم سنسکرت آمیز ہونے کی وجہ سے ٹھیک انگریزوں کی طرح ہندوئوں کی زبان سمجھتے ہیں۔

 

اردو کے تعلق سے جس قدر بھی نظریات موجود ہیں، چاہے وہ نصیرالدین ہاشمی کا نظریہ ہو کہ اردو ، دکن کی پیداوار ہے یا پھر محمود شیرانی کا کہ اردو پنجاب کے بطن سے پیدا ہوئی ہے یا پھر برج بھاشا، کھڑی بولی یا مختلف بولیوں یا اپ بھرنشوں یاپھر بھاشائوں/بھاکائوں سے نکلنے والی ایک میٹھی زبان کے مختلف نظریات۔ بھارت میں اب سے سو، سوا سو سال پہلے تک اس زبان کو ہندی کے طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔

 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فارسی ، عربی یا چند ترکی ولاطینی الفاظ کے شامل ہونے سے ہندی کا دامن وسیع ہوتا اور یہ زبان آج پورے کرہ ہند میں ایک ہی نام سے مشہور ہوتی، مگر انگریزوں کے زبان سے وابستہ کردہ ایک چھوٹے سے نظریے نے اس زبان کو ایک ایسا نام بخش دیا، جس کی کوئی تک ہی نظر نہیں آتی۔سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسی زبان، جس کی قواعد سراسر ہندی زبان سے مستعار لی گئی ہے، جس میں سینکڑوں سنسکرت، فارسی،عربی، انگریزی اور دوسری چھوٹی بڑی زبانوں کے الفاظ دھڑلے سے شامل ہوتے آئے ہیں اور جو اترپردیش سے لے کر پنجاب تک، دکن سے لے کر کشمیر تک اپنے مختلف اسالیب و چہرے رکھتی ہے۔اسے ایک ایسی جگہ سے منسوب کردیا گیا ہے جس کے بارے میں غالب انیسویں صدی کے وسط میں میر مہدی مجروح کو لکھ رہا تھا کہ شہر اجڑ چکا ہے ، بھائیں بھائیں کررہا ہے اور اب اس میں کوئی بھی اہل شہر باقی نہیں۔

 

اس تباہی سے مزید طور پر بچنے کے لیے بہتر تھا کہ ہم اردو لفظ کے پیچھے نہ پڑکر ‘ہندی’ کی بازیافت کرتے تاکہ انگریزوں کے جانے کے بعد ان کے چھیڑے گئے سازوں سے پیدا ہونےوالی دو قومی نظریے کی دھن اپنا کام نہ کردکھاتی۔لوگ مختلف زبانوں اور بولیوں کے باوجود خود کو ایک رشتے میں پروسکتے اور زبان کی نہ کوئی مذہبی شناخت ہوتی اور نہ ہی ایک مخصوص فرقے کے ساتھ اسے جوڑ کر دیکھا جاسکتا۔

 

اس مضمون کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ لفظ اردو کا استعمال ترک کردیا جائے یا اسے چھوڑ دیا جائے۔یہ لفظ اب ایک زبان کے طور پر تاریخی حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے، مگر ضروری ہے کہ ہم اس کی تاریخ اور اس کی بنیادوں پر روشنی ڈالتے جائیں ورنہ نئے جہالت آمیز نظریے وقت کے ساتھ ساتھ اردو کی مذہبی شناخت کو مضبوط کرنے پر کمر بستہ رہیں گے اور ہندی اردو بولنے والوں کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے میں آئندہ نسلوں کو اور بھی دشواری ہوگی۔
Categories
نقطۂ نظر

آخر اردو کیوں نہیں؟

ہمارے ہاں کسی بھی موضوع پر بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔ اور بات کرنا بھی شاید فضول ہے کیونکہ ہم بحیثیت قوم کائنات کی سب حقیقتوں کو پہلے سے ہی جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ذہین قوم آج تک روئے زمین نے نہیں دیکھی ۔ اپنی اسی عقل ودانش کی وجہ سے ہم کسی کی بھی جاہلانہ رائے برداشت نہیں کرسکتے اور فوراً ہی اس پر کوئی نہ کوئی ٹیگ لگاکر اسے دنیا سے رخصت کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا۔ میری تحریر پر مجھے ہرعوامی فورم پر گالیاں دے کر ملک و قوم کی خدمت کرے گا۔ کیونکہ ہمارے ہاں ہر چیز ہی مقدس ہے اس لیے اس پر بات کرنا ممنوع ہے لیکن کیا کیجئے کہ جون ایلیا کی بات یاد آجاتی ہے
پھر جی میں ہے بے حرمتی کی خواہش
ہم سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
اب اردو کے نفاذ کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ ہمارے عوام ہمیشہ کی طرح وقتی جذباتی ہوگئے ہیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب عوامی زبان کو اشراف میں قبولیت مل جائے گی۔ اردو انگریزی کی بحث اب (پاکستان میں ہر چیز کی طرح) علمی سے زیادہ سیاسی ہوچکی ہےاس لیے کوئی علمی دلیل کسی کے دل میں نہیں اترے گی لیکن پھر بھی اپنی ناقص رائے کا اظہار کردینا چاہتا ہوں۔
میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا
برصغیر کی عوام کا خمیر احساس کمتری اور مرعوبیت سے اٹھا ہے، یونانی، چینی، عرب، ترک، افغان اور انگریز ایک کے بعد ایک ان پر حکومت کرتے رہے ۔ اس لیے ان پر ہر چیز باہر سے مسلط کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ اقبال اللہ کے آزاد بندوں کی تعریف کرتے رہے لیکن برصغیر میں آزاد بندہ کہاں سے ملے۔ ہماری مرعوبیت زندگی کے ہر پہلو پر محیط رہی ہے۔ ہر نئے آقا سے ڈرنا ، احساس کمتری کا شکار ہونا اور پھر اس کے رنگ میں رنگنا ہماری عادت رہی ہے۔ہم نے ہر نئے آقا کا لباس، زبان، اور عقائد اپنائے ہیں۔ آپ ہماری مرعوبیت کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ دنیا کی بہت سی قوموں نے اسلام قبول کیا مثلا ًعرب، مصری اور ایرانی لیکن کسی قوم نے ہماری طرح اپنے ناموں کو نہیں بدلا بلکہ اپنی تہذیب اور روایات کو برقرار رکھا اور اسلام کے ذریعے اس میں مزید خوبصورتی پیدا کی۔ ایران آج بھی اپنی تاریخ کو سات ہزار سال تک لے کر جاتا ہے، مصری اپنی تاریخ کو فراعنہ تک لے کر جاتے ہیں، عرب اپنی تاریخ کو حضرت ابراہیم سے شروع کرتے ہیں اور خود کو تما م مذاہب کا وارث سمجھتے ہیں۔ ان تمام قوموں کی اپنی زبان، تہذیب ،روایات، لوک کہانیاں، ہیرو، موسیقی، آرٹ اور فنون لطیفہ ہیں،اور وہ فتوی لگا کر انہیں اپنی تاریخ سے باہر نہیں نکالتے۔لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے سب سے پہلے اپنے پرانے نام تبدیل کیے،کیونکہ ان کے خیال میں نام بھی اسلامی اور غیر اسلامی ہوتے ہیں( شاید انہیں دین کا فہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے زیادہ تھا)۔صرف نام ہی نہیں پھر انہو ں نے ہر چیز اپنے آقاؤں کی اپنائی۔ لیکن ان آقاؤں نے کبھی بھی ان وفادار غلاموں کو اپنا نہیں سمجھا چاہے وہ ان کی زبان، لباس اور مذہب کو ہی کیوں نہ اپنا لیں۔ اردو کے ایک شاعر رفیق سندھیلوی کبھی ہمیں اردو پڑھاتے تھے تو ایک دن کہنے لگے کوئی شخص آپ کے گھر پر قبضہ کرلے اور آپ کو گھر میں ملازم رکھ لے ۔ کچھ سال بعد آپ اسے دل سے آقا تسلیم کرلو اور اس کے رنگ میں رنگ جاو تو بھی تمہاری عقیدت کے باوجود وہ شخص ڈاکو ہی رہے گا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ان کے قاتل ہی ان کے دلدار بن گئے۔
حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں
مشہور مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب “مسلم برصغیر کا المیہ” میں مسلم نفسیات کو بہت تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق” حکمران طبقہ اور اشراف ہمیشہ عوام سے خود کو جدا سمجھتے تھے اور ہر کام عوام سے جدا کرتے تھے، عربوں کی حکومت میں اشراف کی زبان عربی تھی اور تمام حکومتی امور اور علمی کام عربی میں کیا گیا۔ ایرانیوں اور ترکوں کی حکومت میں سرکاری اور اشراف کی زبان فارسی تھی ، تمام مذہبی اور سیاسی کام اس زبان میں ہوتا تھا، عوام کی اکثریت کو یہ زبان نہ سمجھ آتی تھی اور نہ ہی یہ رابطے کی زبان تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے انہیں کبھی بھی حکمران طبقے نے اپنے برابر نہیں سمجھا۔ عوام ہمیشہ عوامی زبان کو رابطے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح مذہبی کام بھی مقامی زبان میں نہیں ہوتا تھا ہمارے برصغیر کے علماء بھی عرب اور ایران کے علماء سے متاثر تھے اور ا ن کی کتابوں کی تشریحات لکھتے رہتے تھے۔ عربی و فارسی نہ آنے کی وجہ سے عوام مذہب کو بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے علماء کے مذہبی کام اور ہمارے شعراء کے فارسی کلام کو اہل زبان عربوں اور ایرانیوں نے کبھی پذیرائی نہیں بخشی۔”
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے
انگریز کے آنے کے بعد بھی ہم نے ایسا ہی کیا اور اشراف نے انگریزی کو فوراً اپنا لیااور اس حد تک اپنا لیا کہ وہ انگریزوں سے زیادہ انگریز بن گئے۔ انہی دیسی انگریزوں کو جاگیریں بھی عطا کی گئیں، یہی سیاست، فوج، عدلیہ اور افسرشاہی کا حصہ بنے اور ان کے بقول پاکستان بنانے والے بھی یہی تھے۔ اس لیے جب پاکستان بن گیا تو پاکستان کو چلانے والے بھی یہی لوگ تھے۔ پہلے دن سے حکومت کے تمام اداروں کی زبان انگریزی ہی تھی اور یہ سلسلہ آج تک اسی جذبہ سے جاری ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عدالت کے ایک حکم کے بعد ان تمام اداروں میں اردو دفتری زبان کے طور پر کس طرح رائج ہوجائے گی۔ ہماری اشرافیہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی کیوں کہ اس اشرافیہ کا مفاد انگریزی سے وابستہ ہے۔ سرسید جیسے مخلص شخص کی کوششوں کا مرکز بھی یہی اشرافیہ تھی ۔ اسی اشرافیہ نے انگریز سے مراعات بھی لیں اور انہی کی مدد سے انگریزوں نے عوام کو دبا کر رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ اشرافیہ ہمیں ورثے میں ملی۔ تاریخ کا ہم پر یہ جبر ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ ایک ہزار برس میں حکومت کی زبان کبھی بھی عوامی نہیں رہی ، پہلے یہ عربی اورفارسی تھی اور اب انگریزی ہے۔ وادی سندھ کی مقتدر اشرافیہ کبھی بھی خود کو عوام کی سطح تک نہیں لائی اور زبان کی بنیاد پر اس اشرافیہ نے ہمیشہ خود کو ممتاز رکھا ہے۔
اردو اپنی موجودہ صورت میں تین کام کررہی ہے ایک تو یہ رابطے کی زبان ہے، دوسرا سو سال سے مذہبی کام اس میں ہورہا ہے اور تمام اہم مذہبی کتب اردو میں موجود ہیں اگرچہ یہ اردو بھی عوام کے لیے اتنی اجنبی ہے کہ عام پڑھا لکھا شخص بھی اسے نہیں سمجھ سکتا، تیسرا ہماری شاعری اور نثر کا ذخیرہ اس میں ہے۔ لیکن اردو کا دامن سائنس، ٹیکنالوجی، اور تمام موجودہ علوم سے خالی ہے ۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ نے اردو کی ترقی اور اسے آسان بنانے کے لیے نہ کوئی کام کیا اور نہ ہی ہونے دیا۔ بازار میں کوئی ایسی مستند سرکاری لغت دستیاب نہیں جو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق مرتب کی گئی ہو۔ تراجم کرانے کا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ اردو کو بس نام کی قومی زبان بنایا گیا ہے، اس کے نام پر سیاست کی گئی ہے اور سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر اسے عربی اور فارسی کی چھاپ سے نکالنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمیں ان سات دہائیوں میں اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ و اصطلاحات کا رنگ نظر نہیں آتاہاں انگریزی کی چھاپ بہت واضح ہے۔
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے ۔اس صورتحال میں ہماری اشرافیہ کے لیے یہ ثابت کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ اردو عدلیہ، فوج، بیوروکریسی ، بینکاری، تعلیمی اداروں اور تمام دوسرے اداروں میں ایک دفتری زبان کے طور پر رائج ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں آئیں مل کر کسی معجزے کا انتظار کریں۔
Categories
شاعری

محشر-2

محشر-2
خاموش
خاموش
خاموش
اس کے نقاب
کا الٹ جانا
خاموش
اس کے تراجم
خاموش
اس کے لفظ اور سب زاویے بھی
خاموش
اس کا ترازو میں ہستی جھونک دینا
خاموش
اس کی وحشت کے برستے بادل
خاموش
سب کلمات
افسوں
سب سجدے
خاموش ہیں اسکے
لب پہ خراشیں
اور خاموش
سبھی
آوازیں بھی
خاموش رہو
خاموشی سے سنو
صاحب ہیہات کا
صاحب کائنات کا
اپنی قوم کے
رویا میں
رو دینا
Categories
نقطۂ نظر

اردو دفتری زبان کیوں نہیں؟

بے چاری اردو زبان جو ویسے ہی ستم گروں کے نشانے پر رہتی تھی پر ایک بار پھر غیظ وغضب کے بادل منڈلا رہے ہیں۔جیسے ہی حکومت کی طرف سے اردو کو دفاتر میں رائج کرنے کا ابتدائی کام شروع کرنے اعلان ہوا ،یاروں کے دلوں پر سانپ لوٹنے لگے اور زبانیں زہر اگلنے لگیں۔ اردو سے نفرت سے کا اژدھا گویا ایک با رپھر زبان لپلپانے لگا۔ کسی کو اردو کی حیثیت اور مقام سے شکوہ ہوا تو کسی گرگ باراں دیدہ کو قائد اعظم کے اردو کو پاکستان کی زبان قرار دینے میں گناہ ہی گناہ نظر آنے لگے۔ کچھ کے خیال میں یہ ہندوستانی زبان ہے۔
پاکستان میں یوں تو کم و بیش ستر زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن ان میں سے بہت سی زبانوں کو اردو اور انگریزی کے فروغ کی وجہ سے معدوم ہوجانے کا خطرہ درپیش ہے۔ پنجابی پاکستان کے 54 فی صدافراد کی جبکہ پشتو 15 فی صد، سندھی 14 فی صد، بلوچی 3.6 فیصد اور اردو 8 فی صد افراد کی مادری زبان ہے۔ اردو اگرچہ ایک اقلیت کی مادری زبان ہے تاہم ملک بھر میں اکثریت اس سے واقفیت رکھتی ہے۔
علاقائی زبانیں چونکہ ایک خاص خطے سے منسوب ہوتی ہیں اس لیے ان پر غیر شعوری طور پر علاقائی رسم ورواج کی ایک جداگانہ چھاپ ہوتی ہے جو انہیں ایک ہمہ جہت معاشرے میں قومی زبان کے طور رائج کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہے
پنجابی پاکستان کی سب سے بڑی علاقائی زبان ہے جو 54 فی صدپاکستانیوں کی مادری زبان ہے۔مجموعی طور پر پنجابی دنیا بھر میں تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے اور نویں بڑی زبان ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے سے متعلق مواد،ویب سائٹ،موبائل ایپس اور ونڈوز سافٹ وئیرز کا پنجابی ترجمہ بھی گورمکھی اور شاہ مکھی میں کیا جارہا ہےجو یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے۔ لیکن ابھی تک اسکولوں یا مدرسوں میں پنجابی زبان کی بنیادی تعلیم کا انتظام نہیں کیا جاسکا ہے۔البتہ میٹرک ، انٹر اور گریجوایشن کی سطح پر پنجابی ایک اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے۔ پنجابی میں ڈگری کی سطح کی تعلیم بھی دی جارہی ہے۔ تاہم،یہ پڑھائی ابھی صرف زبان و ادب تک محدود ہے مذہب، سائنس، ریاضی اور دیگر عصری موضوعات پر پنجابی زبان میں مقامی سطح پر قابل ذکر نصاب موجود نہیں۔یہی صورتحال کم وبیش دوسری علاقائی زبانوں کے ساتھ ہے۔ علاقائی زبانیں چونکہ ایک خاص خطے سے منسوب ہوتی ہیں اس لیے ان پر غیر شعوری طور پر علاقائی رسم ورواج کی ایک جداگانہ چھاپ ہوتی ہے جو انہیں ایک ہمہ جہت معاشرے میں قومی زبان کے طور رائج کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کریہ کہ اگر ذریعہ تعلیم کو مقامی زبانوں تک محدود کر دیا جائے تو آنے والے وقتوں میں ملک کے مختلف خطوں کے درمیاں دوریوں میں اور بھی اضافہ ہونے کا امکان بڑھ جائے گا ۔ اس کے علاوہ،عام طور پر مقامی زبانیں پڑھنے کا کوئی ایسا قابل ذکر رجحان نظر نہیں آتا۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو اردو یا انگریزی تعلیم دلوانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔علاقائی زبانوں کے تعلیمی اداروں میں رائج نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔
پاکستان کی 75 فی صد آبادی پہلے ہی رابطے کی زبان کے طور پراردو کااستعما ل کر رہی ہے اس لیے اسے دفتری اور تدریسی زبان کے طور پر رائج کرنا مشکل نہیں۔
جبکہ اردو ایک غیرجانبدار زبان ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی دوسری زبانوں سے جڑی ہوئی ہے اور رابطے کا بہترین ذریعہ ہے اور مختلف قومیتوں کے افراد کے درمیان تفاوت دور کرنے اور یکساں انداز میں علم حاصل کرنےکا موزوں ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کا ایک قابل قدر عملی و ادبی ذخیرہ بھی اردو زبان میں پہلے سے محفوظ ہے۔اردو کی مخالفت میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش کا قیام ایک علاقائی زبان کی بنیاد پرہوا تو اسی بنا پر پاکستان میں ہر صوبے کی قومی زبان اس کی علاقائی زبان کوبنا دینا چاہیے۔مگر اردو کے برعکس،بنگالی زبان آج بھی صرف بنگلہ دیش اور ہندوستان کے کچھ علاقوں تک محدود ہے جبکہ اردو ایک بین الاقوامی زبان ہے اور دنیا بھر میں اردو پڑھنے،لکھنے اور بولنے والے موجود ہیں جو محض پاکستان ہندوستان تک محدود نہیں ۔.
علاقائی زبانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کا مقام اپنی جگہ لیکن رابطے کے لیے اردو کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ بلاشبہ علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینا بھی کچھ ایسا غلط مطالبہ نہیں۔اگر ہم پڑوسی ہندوستان کی طرف دیکھیں تو اس وقت کم و بیش بائیس علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے ۔جبکہ بنیادی رابطے کی زبان ہندی ہے جسے مختلف مقامی لہجوں کو ملا تقریباً چالیس کروڑ لوگ استعمال کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی 75 فی صد آبادی پہلے ہی رابطے کی زبان کے طور پراردو کااستعما ل کر رہی ہے اس لیے اسے دفتری اور تدریسی زبان کے طور پر رائج کرنا مشکل نہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداداردو لکھ پڑھ اور بول سکتی ہے،اس زبان میں نصاب موجود ہے ذرائع ابلاغ اور نشرواشاعت کا عمل جاری ہے اس لیے اردو کو رابطے کی زبان بنانے میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔