Categories
تراجم نان فکشن

کیکولے کا مسئلہ

کارمک میکارتھی کو دنیا ایک ناول نگار کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ان کے تخلیقی کارناموں میں “بلڈ میریڈیئن”، “آل دی پریٹی ہارسز”،”نو کنٹری فار اولڈ مین”، اور “دی روڈ” شامل ہیں۔ وہ سانتا فے انسٹی ٹیوٹ (SFI) میں میرے رفیق محقق ہیں، اور بڑی جامع العلوم شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ آپ ریاضی کی تاریخ، کوانٹم میکانیات کے (کائنات کو) علت و معلول کے تسلسل کے طور پر بیان کرنے سے متعلق فلسفیانہ مباحث (1)، غیر انسانی ذہانت کے تقابلی شواہد، اور شعوری و لاشعوری ذہن کی اصل، جیسے مضامین سے شغف رکھتے ہیں۔ ایس ایف آئی میں ہم ان کے ناولوں میں ان سائنسی دلچسپیوں کا سراغ بھی لگاتے ہیں، اور چوری چھپے ان کی تحاریر میں ان مشاغل کے پوشیدہ آثار اور علامتوں کا شمار بھی رکھتے ہیں۔

پچھلی دو دہائیوں سے کارمک اور میں لاشعوری ذہن کی الجھنوں اور پیچیدگیوں پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم پہیلی یہ ہے کہ تقریباً لامحدود اظہار کی حالیہ اور ‘منفرد’ انسانی صلاحیت، ایک بے حد قدیم حیوانی دماغ کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ یہ دو مختلف ارتقائی نظام آپس میں کیسے ہم آہنگ ہوئے؟ کارمک کا کہنا ہے کہ یہ کشمکش اسی گہرے شک، بلکہ شاید استحقار سے عبارت ہے جو قدیم لاشعور کے ہاں اس نئی نئی سر اٹھاتی شعوری زبان سے متعلق پایا جاتا ہے۔اس مضمون میں، کارمک خوابوں اور عفونت کے ذریعے اس خیال کی وسعت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ ان خیالات اور الجھنوں پر ایک جامع اور نکتہ آفریں تحریر ہے، جنہیں ‘پیچیدگی کی سائنس’ کی مدد سے سمجھنے کی جستجو تحقیقی برادری نے ابھی حال ہی میں شروع کی ہے۔

ڈیوڈ کراکاور صدر اور ولیم ایچ. ملر پروفیسر آف کمپلیکس سسٹمز، سانتا فے انسٹی ٹیوٹ

…………………

کارمک میکارتھی کا یہ مضمون Nautilus میگزین میں 17 اپریل 2017 کو شائع ہوا تھا۔

…………………

میں اسے کیکولے کا مسئلہ کہتا ہوں، کیونکہ اُن ان گنت مسائل میں سے جن کے حل ان کے سلجھانے والوں کو نیند میں ملے، کیکولے کا قصہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بینزین کے مالیکیول کی ساخت معلوم کرنے کی جستجو میں اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ آگ کے سامنے اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے وہ مشہور خواب دیکھا جس میں ایک سانپ اپنی دم کو منہ میں لیے ایک حلقے میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا، بالکل دیومالائی اوروبروس (2) کی طرح۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور خود سے کہا: “یہ ایک حلقہ ہے۔ مالیکیول ایک دائرے کی شکل میں ہے”۔ خیر، کیکولے کے بر عکس ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کیکولے نے کیا دیکھا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب لاشعور زبان کو بخوبی سمجھتا ہے، ورنہ وہ مسئلہ سرے سے سمجھ ہی نہ پاتا، تو پھر اس نے کیکولے کو سیدھے سبھاو یہ کیوں نہیں بتا دیا: “کیکولے، یہ ایک دائرہ ہے!”۔ جس پر ہمارا سائنسدان شاید کچھ یوں جواب دیتا: “اچھا، سمجھ گیا، شکریہ۔”

لیکن سانپ ہی کیوں؟ یعنی، لاشعور ہم سے بات کرنے میں اتنی بے اعتنائی کیوں برتتا ہے؟ یہ تصاویر، استعارے اور اشارے کیوں بھیجتا ہے؟ اور، سچ پوچھیں تو، یہ خواب ہی کیوں دکھاتا ہے؟

ایک معقول نقطۂ آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے یہ واضح کر لیا جائے کہ لاشعور آخر ہے کیا؟ اس مقصد کے لیے ہمیں جدید نفسیات کی اصطلاحات کو نظر انداز کرتے ہوئے حیاتیات سے رجوع کرنا ہو گا۔ لاشعور سب سے پہلے تو ایک حیاتیاتی نظام ہے، باقی جو کچھ ہے وہ اس کے بعد ہے۔ اگر اسے ممکنہ حد تک اختصار اور درستی کے ساتھ بیان کیا جائے تو یہ ایک ایسی مشین ہے جو کسی حیوان کو چلانے کے لیے کارفرما ہے۔

تمام حیوانات کے پاس لاشعور ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ نباتات ہوتے۔ کبھی کبھی ہم اپنے لاشعور کو ایسے فرائض کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کی انجام دہی سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔ پیچیدہ نظاموں کو اپنی بعض ضرورتوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ نظم و نسق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً، سانس لینے کا عمل لاشعور کے ذریعے نہیں بلکہ پونز اور میڈولا اوبلونگیٹا کے ذریعے قابو میں رہتا ہے، یہ دونوں نظام حرام مغز میں واقع ہوتے ہیں۔ البتہ، حوتیہ انواع (Cetaceans) جیساکہ وہیل ڈالفن وغیرہ کے معاملے میں یہ استثنا ہے، کیونکہ انہیں سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔ ایک خود مختار نظام ان کے لیے کارآمد نہیں۔ پہلی ڈولفن جسے جراحت کی میز پر بے ہوش کیا گیا، وہ فوراً مر گئی۔ (وہ کیسے سوتی ہیں؟ وہ باری باری اپنے دماغ کا آدھا حصہ سلاتی ہیں)۔ لیکن، لاشعورکے کرنے کو بے شمار کام ہیں۔ کھجانے سے لے کر ریاضی کے مسائل حل کرنے تک، سب کچھ اسی کے ذمے ہے۔

زبان عمومی مسائل کے بیان پر بخوبی قادر ہے اور ان کی وضاحت کا ایک کارآمد وسیلہ ہے۔ لیکن کسی بھی شعبے میں سوچنے کا حقیقی عمل، بڑی حد تک ایک لاشعوری سرگرمی ہے۔ کسی سنگ میل کی طرح، زبان جستجو کے سفر میں ہمارے کسی پڑاو کا مختصر احوال بیان کر سکتی ہے، تاکہ آئندہ کے لیےایک نیا نقطہ آغاز مل سکے۔ لیکن اگر آپ کا ماننا ہے کہ در حقیقت آپ زبان کے استعمال سے مسائل حل کرتے ہیں، تو میری خواہش ہے کہ آپ مجھے لکھیں اور بتائیں کہ آپ یہ کام کس طرح کرتے ہیں۔

میں نے اپنے چند ریاضی دان دوستوں کو جتلایا کہ لاشعور ریاضی میں ان سے بہتر ہے۔ میرا دوست جارج زویگ اسے “نائٹ شفٹ” کہتا ہے۔ یاد رہے کہ لاشعور کے پاس نہ کوئی پنسل ہے اور نہ کوئی نوٹ پیڈ، اور یقیناً کوئی ربڑ بھی نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود لاشعور کا ریاضیاتی مسائل حل کرنا ایک مسلمہ بات ہے۔ لیکن یہ ایسا کیسے کرتا ہے؟ جب میں نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ شاید لاشعور یہ سب کچھ اعداد استعمال کیے بغیر بھی کر لیتا ہو، تو ان میں سے اکثر نے، کچھ سوچ بچار کے بعد اتفاق کیا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ مگر کیسے، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمیں علم نہیں کہ ہم بولتے کیسے ہیں۔ جب میں آپ سے بات کر رہا ہوتا ہوں، تو یہ ممکن نہیں کہ میں ساتھ ساتھ اپنے اگلے جملے بھی بُن رہا ہوں۔ میں پوری طرح آپ سے بات کرنے میں مگن ہوتا ہوں۔ اور اب ایسا بھی نہیں کہ میرے ذہن کا کوئی حصہ یہ جملے جوڑ جاڑ کر مجھے سنا رہا ہے تاکہ میں انہیں دہرا سکوں۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ میں مصروف ہوں، یہ امر ایک لامتناہی تسلسل کو جنم دے گا۔ سچ پوچھیے تو یہاں ایک ایسا عمل جاری و ساری ہے جس تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔ یہ ایک راز ہے، ایک ایسا بھید جو تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔

ہمارے بیچ کچھ ایسے بااثر خواتین و حضرات بھی موجود ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان محض ایک ارتقائی عمل ہے۔ گویا یہ دماغ میں اپنی کسی ابتدائی شکل میں ظاہر ہوئی اور پھر بتدریج ارتقاء کے ذریعے ایک کارآمد اوزار میں ڈھل گئی۔ شاید کسی حد تک بینائی کی طرح۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ بصارت کا سراغ درجن بھر الگ الگ ارتقائی سلسلوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ غایت پرستوں کے لیے یہ ایک پرکشش موضوع ہے۔ان کہانیوں کا آغاز عموماً ایک خام عضو سے ہوتا ہے جو صرف روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں سر پہ سایہ منڈلانے کا مطلب تھا کہ شکاری سر پہ ہے۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈارون کے انتخابی اصول کے لیے ایک نہایت موزوں منظرنامہ بنتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان بااثر اشخاص کا ماننا ہو کہ تمام ممالیہ زبان کے نمودار ہونے کے منتظر ہیں۔ میں نہیں جانتا، لیکن تمام شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ زبان صرف ایک بار اور صرف ایک ہی نوع میں ظاہر ہوئی، اور پھر بڑی سرعت سے اس نوع میں پھیل گئی۔

حیوانی دنیا میں اشاروں کی کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں ایک ابتدائی زبان (proto-language) سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دھاری دار گلہریوں اور کئی دیگر انواع کے ہاں فضائی اور زمینی شکاریوں کے لیے الگ الگ انتباہی اشارے موجود ہیں۔ یعنی باز کے لیے الگ اور لومڑی یا بلی کے لیے الگ۔ یہ یقیناً نہایت کارآمد ہے۔ لیکن یہاں وہ مرکزی خیال مفقود ہے جو کسی زبان کو زبان بناتا ہے، یعنی ایک شے کسی دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو ہیلن کیلر نے کنویں پر اچانک سمجھ لیا تھا۔ کہ پانی کا اشارہ محض پانی سے بھرا گلاس حاصل کرنے کی تگ و دو نہیں؛ بلکہ یہ پانی سے لبریز گلاس بھی ہے اور گلاس میں موجود پانی بھی۔ یہی منظر ڈرامہ دی میریکل ورکر میں پیش کیا گیا، اور ہر آنکھ کو اشک بار کر گیا۔

زبان کے ایجاد ہوتے ہی اس کی افادیت سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک بار پھر کہہ دوں کہ یہ تقریباً فوراً ہی پوری انسانی نسل میں پھیل گئی۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نام رکھنے کو چیزیں زیادہ تھیں اور آوازیں کم۔ غالب گمان ہے کہ زبان کا آغاز جنوبی مغربی افریقہ میں ہوا ہو گا۔ ممکن ہے کہ کھوئسان (جنوبی افریقہ کے کھوئیکھوئی اور سان لوگوں کی) زبانوں بشمول سانداوے اور حدزا، میں موجود چٹکاہٹ (clicks) صوتی تنوع کی ضرورت کی تکمیل کے لیے اپنائی گئی قدیم آوازوں کی باقیات میں سے ہوں۔ یہ صوتی تقاضے ارتقاء نے وقت کے ساتھ پورے کیے اور کچھ ہی عرصے میں ہمارے گلے کو بڑی حد تک بول چال کے قابل بنا دیا۔ مگر ہمیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ نرخرہ نیچے سرکنے سے کھانے کے دوران دم گھٹنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جو موت کی عام وجہ ہے۔ اب ہم وہ واحد ممالیہ ہیں جو ایک ساتھ بولنے اور نگلنے سے قاصر ہے۔

وہی (جغرافیائی) تنہائی جس نے ہماری نوع کو طویل اور پست قامت، اور گورے اور کالے سمیت متعدد شباہتوں میں تقسیم کیا ہے، زبان کی پیش قدمی کو روکنے میں بالکل ناکام رہی۔ زبان نے پہاڑوں اور سمندروں کو یوں پار کیا گویا وہ تھے ہی نہیں۔ کیا زبان کی کوئی ضرورت تھی؟ نہیں۔ ہمارے آس پاس موجود پانچ ہزار سے زائد ممالیہ اس کے بغیر بخوبی گزارہ کر لیتے ہیں۔ لیکن کیا یہ کارآمد ہے؟ جی ہاں، بے حد۔ مزید برآں، جب زبان وجود میں آئی تو اس کے لیے دماغ میں کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ دماغ اس کے ظہور کے لیے تیار نہیں تھا، نہ ہی اس نے اس کی آمد کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ زبان نے بس دماغ کے ان حصوں پر قبضہ کر لیا جو سب سے کم فعال تھے۔ میں نے ایک بار سانتا فے انسٹی ٹیوٹ میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ زبان بالکل اسی طرز عمل سے ظاہر ہوئی جو طفیلی حملہ آوروں سے مخصوص ہے۔ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ کراکاور نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا تھا۔ یہ جان کر مجھے خاصی خوشی ہوئی کیونکہ ڈیوڈ نہایت ذہین ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسانی دماغ کی ساخت زبان کو اپنانے کے لیے موزوں نہیں تھی۔ آخر زبان کو اور کہاں ٹھکانہ کرنا تھا؟ کم از کم تاریخ کی شہادت تو ہمارے پاس موجود ہے۔ زبان اور وائرس کی تاریخ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وائرس ڈارونی انتخاب کے ذریعے سامنے آئے مگر زبان نہیں۔ وائرس ایک نفیس مشین ہے۔ اسے پروان چڑھاو، ذرا گھماؤ، دھکیلو، ‘کھٹاک’ —اور یہ بالکل درست بیٹھ جاتا ہے۔ مگر (ارتقائی) کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر ایسے بھی بے شمار وائرس ملیں گے جو اس کھانچے میں پورے نہیں بیٹھ سکے۔

زبان کے ارتقاء میں ڈارونی انتخاب کا کوئی عمل دخل نہیں، کیونکہ زبان کوئی حیاتیاتی نظام نہیں اور اس لیے بھی کہ اس کا مبداء صرف ایک ہی ہے۔ وہ ازلی زبان جس سے تمام زبانیں پھوٹیں اور آگے چل کر اپنے اپنے رنگ روپ میں ڈھل گئیں۔

یہاں لامارک (3) کے تصورِ ارتقاء کو نیم آشکار پا کر، بااثر خواتین و حضرات یقیناً مسکرا اٹھے ہوں گے۔ ہم چاہیں تو پینترے بدل کر یا نت نئی تعریفیں گھڑ کر اس مسئلے سے اپنا پہلو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر شاید ہماری یہ کوشش کچھ زیادہ کامیاب نہ ٹھہرے۔ ڈارون نے تو وراثت میں ’بریدہ اعضا‘ (Mutilations) کے انتقال کے امکان کو بالکل رد کر دیا تھا، مثلاً کتوں کی دم کاٹنے کا معاملہ۔ لیکن وراثت میں خیالات کی منتقلی کا مسئلہ ابھی بھی حل طلب ہے۔ اکتساب کے سوا ان کی منتقلی کا کوئی اور طریقہ ابھی بھی گمان میں نہیں آتا۔ لاشعور کے کام کرنے کے ڈھنگ کو نہ ہونے کے برابر سمجھا گیا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جسے مصنوعی ذہانت سے متعلق علوم نے تقریباً نظرانداز کر رکھا ہے، جہاں زیادہ تر توجہ اس موضوع کے تجزیاتی پہلووں یا کمپیوٹر کے دماغ کی مانند ہونے یا نہ ہونے کی بحث پر دی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے— لیکن یہ نتیجہ بھی پوری طرح درست نہیں۔

لاشعور کی معلوم خصوصیات میں سے نمایاں ترین اس کی مسلسل موجودگی ہے۔ ہم سبھی خوابوں کی تکرار سے واقف ہیں۔ لاشعور کو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا بھی تصور کیا جا سکتا ہے: اسے سمجھ نہیں آ رہا، ہے ناں؟ نہیں۔ وہ تو بالکل ہی گھامڑ ہے۔ تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ پتہ نہیں۔ اس کی ماں کو بیچ میں لے آئیں کیا؟ اس کی ماں مر چکی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

یہاں کیا اصول کارفرما ہے؟ اور لاشعور کو کیسے خبر ہو جاتی ہے کہ ہم بات سمجھ نہیں پا رہے؟ وہ کیا شے ہے جس کی اسے بھی خبر نہیں؟ اس نتیجے سے بچنا آسان نہیں کہ ہماری تعلیم ہمارے لاشعور کی اخلاقی مجبوری ہے۔ (اخلاقی مجبوری؟ کیا وہ سنجیدہ ہے؟)

لسانی ارتقاء کی ابتداء چیزوں کے نام رکھنے سے ہوئی ہو گی۔ اس کے بعد ان چیزوں کی کیفیات اور ان کے افعال کی وضاحت کی باری آئی ہو گی۔ زبانوں کے پھیلاؤ اور صرف و نحو کی آفاقیت کے پیچھے یقیناً کوئی ایک مشترک اصول کارفرما ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ زبانوں کی تشکیل ہمیشہ خارجی تقاضوں کے تحت ہوئی ہے، اور وہ دنیا کی توضیح و تشریح کی ذمہ دار ہیں۔ کہنے کی تو بس یہی ایک بات ہے۔

یہ سب بہت تیزی سے ہوا۔ کوئی ایسی زبان باقی نہیں جس کی ہیئت ابھی بھی ارتقاء پذیر ہو۔ اور بنیادی طور پر ان سب کی ساخت ایک سی ہے۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ لاشعور کیا ہے، کہاں ہے، یا جہاں کہیں بھی وہ ہے، وہاں تک کیسے پہنچا۔ حیوانی دماغ سے متعلق حالیہ تحقیقات کے دوران بعض نہایت ذہین انواع میں غیرمعمولی طور پر بڑے سیریبیلم کی موجودگی خاصی معنی خیز ہے۔ یہ خیال آہستہ آہستہ مقبول ہو رہا ہے کہ دنیاوی حقائق دماغ کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان حقائق تک لاشعور کی رسائی کے ذرائع ہم تک محدود ہیں، یا ہمارے حسی نظام تک اسے بھی ہم جیسی ہی رسائی حاصل ہے؟ اب آپ میری طرح’ہم’، ‘ہمارا’ اور ‘ہمیں’ کے ساتھ جیسا چاہے تگڑم لڑا لیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر ذہن کو حقائق کو نحوی قالب میں ڈھال کر انہیں کہانیوں میں بدلنا پڑتا ہے۔ دنیا کے حقائق عموماً بیانیے کی صورت میں سامنے نہیں آتے، یہ کام ہمیں خود کرنا پڑتا ہے۔

تو آخر ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ یہی کہ کوئی نامعلوم مفکر ایک رات اپنی غار میں جاگا اور اسے بڑے پتے کی بات سوجھی: کمال ہے، واہ بھئی۔ ایک شے دوسری شے بھی ہو سکتی ہے۔ جی ہاں، بالکل یہی تو ہم کہہ رہے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ منہ سے بول کر یہ بات نہیں کہہ پایا ہو گا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی ایسی زبان تھی ہی نہیں۔ فی الحال اسے بس سوچنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہو گا۔ اور یہ سب کب ہوا؟ ہمارے بااثر خواتین و حضرات اس بارے میں کوئی دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا بھی تھا۔ اس بحث سے قطع نظر—کیا یہ ایک لاکھ برس پہلے ہوا؟ پانچ لاکھ برس پہلے؟ یا اس سے بھی زیادہ؟ حقیقتاً ایک لاکھ برس پہلے کا اندازہ خاصا معقول معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ قدیم ترین زمانہ ہے جس دوران کندہ کیے گئے تصویری نقوش جنوبی افریقہ کی بلومبوس غاروں میں دریافت ہوئے ہیں۔ یہی نقوش اور کھرونچیں انسان کے بیدار ہوتے ہوئے شعور کی گواہی ہیں۔ اس امر پر اگرچہ کافی عرصے سے اجماع ہے کہ فنونِ لطیفہ زبان سے پہلے وجود میں آئے، لیکن غالباً ان دونوں کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا۔ بعض ماہرین تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان قریب دس لاکھ برس قدیم ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ وضاحت نہیں کر پائے کہ اس سارے عرصے میں ہم زبان کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔ البتہ جو بات بلاتعرض کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ زبان کے ظہور کے بعد تمام متعلقہ انسانی سرگرمیاں بڑی سرعت سے وجود میں آتی چلی گئیں۔ یہ سادہ سا ادراک کہ ایک شے دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے، ہماری تمام تر سرگرمیوں کی جڑ ہے— خواہ وہ بکریوں کے لین دین کے لیے رنگین کنکریاں استعمال کرنا ہو، یا فنون اور زبان کی تخلیق، یا پھر علامتوں کے ذریعے اُن دنیاوی حقائق کو ظاہر کرنا جو ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں۔

ایک لاکھ برس تو گویا پلک جھپکنے کی بات ہے، مگر بیس لاکھ برس ہرگز نہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ہمارا لاشعور ہماری زندگیوں کی تنظیم کر رہا تھا، ان کی سمت متعین کر رہا تھا۔ یاد رہے، بغیر کسی زبان کے۔ اس حالیہ پلک جھپکنے کی مہلت کے سوا۔ تو پھر وہ ہمیں کب اور کہاں نقش کھرچنے کی ہدایت دیتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ یہ کام بڑی چابک دستی سے کرتا آیا ہے۔ مگر یہ حقیقت کہ لاشعور زبانی ہدایات سے بڑی حد تک اجتناب برتتا ہے —خواہ وہ کتنی ہی کارآمد کیوں نہ ثابت ہو سکتی ہوں— لاشعور کی زبان سے متعلق ناپسندیدگی، بلکہ بداعتمادی کی ایک قوی شہادت ہے۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے؟ غالباً اس کے لیے یہی وجہ کافی رہی ہو گی کہ کوئی بیس لاکھ برس تک وہ اس کے بغیر بھی اپنا کام بخوبی چلا چکا ہے۔

اپنی قدامت کے علاوہ، اس با تصویر کہانی کی وہ صورت جسے لاشعور ترجیح دیتا ہے، اپنی سادہ افادیت کے باعث بھی پرکشش ہے۔ ایک تصویر پوری کی پوری یاد آ سکتی ہے، مگر ایک مضمون نہیں۔ الا یہ کہ کسی کو اسپرجز کا مرض لاحق ہو، جہاں یادداشت درست تو ہوتی ہے مگر لفظوں تک محدود رہتی ہے۔ ایک عام آدمی کے دماغ میں علم اور معلومات کا بے پناہ ذخیرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ ذخیرہ کس شکل میں ہے، اس بارے میں معلومات محدود ہیں۔ آپ نے ہزار ہا کتابیں پڑھ رکھی ہوں گی اور آپ ان میں سے کسی پر بھی بات کر سکتے ہوں گے خواہ آپ کو ان کے متن کا کوئی ایک لفظ بھی یاد نہ ہو۔

جب آپ اپنے خیالات کو ترتیب دینے کو رکتے ہیں اور کہتے ہیں: ’مجھے ذرا سوچنے دیجیے، میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں،‘ تو درحقیقت آپ کا ہدف نامعلوم سے لبالب اس تالاب سے کسی خیال کو جلا بخشنا اور لسانی قالب میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ یہی ’یہ‘—جسے ہم الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں—ہمارے اس بےشکل ذخیرۂ علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی بات سمجھنے سے قاصر رہے، تو غالباً آپ اپنی ٹھوڑی تھام کر مزید سوچ میں پڑ جائیں گے اور اپنی بات کہنے کا کوئی اور ڈھنگ ڈھونڈ نکالیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ایسا نہ کر پائیں۔ جب طبیعات دان ڈائریک سے طلبہ نے شکوہ کیا کہ وہ اس کی بات سمجھ نہیں پائے، تو ڈائریک اپنی بات ٹھیک اسی طرح حرف بہ حرف دہرا دیا کرتا تھا۔

یہ تصویر کہانی کسی تمثیل سے کم نہیں۔ ایسی حکایت جس کا مفہوم انسان کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ لاشعور قوانین سے بے اعتنا نہیں، مگر یہ قوانین آپ کے تعاون کے محتاج ہیں۔ لاشعور روزمرہ زندگی میں آپ کی رہنمائی کا خواہاں ضرور ہے، مگر اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے سُجھائے راستے اگرچہ امکانات سے پُر ہیں، مگر ان میں پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دینا شامل نہیں۔ ہم خوابوں میں اس امر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ وہ پریشان کن خواب جو ہمیں نیند سے جگا دیتے ہیں، تصویری جزیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی کچھ نہیں بولتا۔ یہ قدیم خواب ہیں اور اکثر دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار جب ہم ان کی تعبیر سے قاصر رہتے ہیں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی دوست اُن کا مفہوم بھانپ لیتا ہے۔ لاشعور جان بوجھ کر اُنہیں الجھاتا ہے تاکہ ہم ان پر غور کریں، انہیں یاد رکھیں۔ یہ آپ کو مدد مانگنے سے منع نہیں کرتا۔ تمثیلیں بھی خود کو اکثر تصویروں کی شکل میں حل کرنا چاہتی ہیں۔ جب آپ نے پہلی بار افلاطون کی غار بارے سنا ہو گا تو فوراً اس کا تصور اپنے ذہن کے پردے پر کاڑھ لیا ہو گا۔

پھر کہے دیتا ہوں کہ لاشعور ایک حیاتیاتی عامل ہے اور زبان نہیں۔ یا کم از کم ابھی تک تو نہیں۔ اس معاملے میں ڈیکارٹ کو بحث کی میز پر مدعو کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیئے۔ کوئی وصف ہماری اختراع ہے یا نہیں، وراثتی انتقال کے سوا اس امر کا بہترین پیمانہ اس وصف کا دیگر مماثل مخلوقات میں قابل مشاہدہ ہونا ہے۔ زبان کے بارے میں معاملہ خاصا واضح ہے۔ ننھے بچے جس سہولت کے ساتھ اس کے پیچیدہ اور دشوار قواعد سیکھ لیتے ہیں، وہ اکتساب کے دھیرے دھیرے شعور کا حصہ بن جانے کے عمل کی جانب ایک اشارہ ہے۔

میں دو برس تک وقفے وقفے سے کیکولے کے مسئلے پر غور کرتا رہا مگر یہ گتھی سلجھ نہیں پائی۔ یہ میری اور جارج زوائیگ کی دوپہر کے کھانے پر دس دس گھنٹے جاری رہنے والی نشستوں میں سے ایک نشست سے اگلے روز کا قصہ ہے۔ میں اپنی خواب گاہ کا کوڑے دان باورچی خانے کے کچرا دان میں خالی کر رہا تھا جب جواب کا سرا میرے ہاتھ لگا۔ یا یوں کہیے کہ مجھے احساس ہوا کہ جواب تو محھ کو پہلے سے معلوم ہے۔ اسے ترتیب دینے میں مجھے ایک آدھ منٹ ہی لگا۔ میں نے سوچا کہ کل کی گفتگو کے دوران جارج اور میں ابتداءً علمِ ادراک اور علومِ اعصاب پر کوئی دو گھنتے مغز ماری کرتے رہے تھے، لیکن ہمارے بیچ کیکولے اور اس کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ مگر ہماری بات چیت کی کسی نہ کسی لہر نے شاید میرے اور ‘نائٹ شفٹ’ دونوں کے غور و فکر کو اس جانب مہمیز کیا تھا۔ جواب تو ظاہر ہے، جان لینے کے بعد بالکل سامنے کی بات لگتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لاشعور زبانی ہدایات دینے کا عادی نہیں اور ایسا کرتے ہوئے خوش بھی نہیں ہوتا۔ بیس لاکھ برس پرانی عادات بھلا آسانی سے کب ختم ہوا کرتی ہیں۔ بعد ازاں جب میں نے اپنا نودریافت شدہ جواب زوائیگ کو بتلایا تو کچھ دیر سوچ بچار کے بعد، اس نے سر ہلا کر کہا: ’ہاں، بات تو ٹھیک ہے۔‘ تو یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی، کیونکہ جارج نہایت ذہین ہے۔

سو طے ہوا کہ لاشعور بہت کچھ جانتا ہے۔ لیکن خود اپنے بارے میں وہ کیا جانتا ہے؟ کیا اسے خبر ہے کہ ایک دن اسے فنا ہونا ہے؟ اگر ہاں تو اس بارے میں اس کے خیالات کیا ہیں؟ یہ کسی ایک ہنر کی نہیں بلکہ صلاحیتوں کے ایک ہجوم کی نمائندگی کرتا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماننا مشکل ہے کہ کھجلی کا شعبہ ریاضی کا بھی ذمہ دار ہو۔ کیا یہ بیک وقت کئی مسائل پر کام کر سکتا ہے؟ کیا یہ صرف وہی جانتا ہے جو ہم اسے بتاتے ہیں؟ یا اسے بیرونی دنیا تک براہِ راست رسائی حاصل ہے جس کا امکان زیادہ ہے؟ کچھ خواب جو وہ بڑی محنت سے ہمارے لیے ترتیب دیتا ہے بلاشبہ نہایت عمیق ہوتے ہیں، اور کچھ بالکل ہی ردی۔ اور چونکہ وہ ہر ایک خواب یاد رکھنے پر مُصر نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات وہ شاید خود اپنے اوپر بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی مسائل حل کرنے میں اتنا ہی ہوشیار ہے، یا محض اپنی ناکامیوں کو چھپائے رکھتا ہے؟ یہ اتنا سمجھدار کیسے ہے، کہ ہم اس پر صدقے واری ہو رہے ہیں؟ ہم اس سے سوال کیسے کریں؟ کیا تمہیں اس کا یقین ہے؟

۔۔۔۔۔۔
1. کوانٹم میکانیات کے مقام اور نوعیت سے متعلق مباحث جن میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا کوانٹم میکانیات کائنات کو علت اور معلول کے تسلسل پر مبنی قوانین کے تحت بیان کرتی ہے، یا کائنات کو محض احتمالی اور غیر قطعی قوانین پر قائم ثابت کرتی ہے۔
2. اوروبروس (Ouroboros): مصر اور یونان میں رائج اساطیری علامت جو تسلسل کو ظاہر کرتی ہے اور اپنی ہی دم کھاتے ہوئے سانپ یا اژدھے کی تصویر پر مبنی ہے۔
3. فرانسیسی حیاتیات دان لامارک نے وراثت میں والدین سے اولاد میں ایسی خصوصیات یا عادات کی منتقلی کا نظریہ پیش کیا تھا جو وہ اپنی زندگی کے دوران سیکھتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں۔ یہ نظریہ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور جدید جینیاتی تحقیقات کی روشنی میں مسترد کیا جا چکا ہے۔ زبان کے وراثت میں انتقال ہونے کا تصور ڈارون سے زیادہ لامارک کے نظریات کے قریب ہے۔ اس ضمن میں کٹے پھٹے اعضاء کے وراثت میں منتقل نہ ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

آخر اردو کیوں نہیں؟

ہمارے ہاں کسی بھی موضوع پر بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔ اور بات کرنا بھی شاید فضول ہے کیونکہ ہم بحیثیت قوم کائنات کی سب حقیقتوں کو پہلے سے ہی جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ذہین قوم آج تک روئے زمین نے نہیں دیکھی ۔ اپنی اسی عقل ودانش کی وجہ سے ہم کسی کی بھی جاہلانہ رائے برداشت نہیں کرسکتے اور فوراً ہی اس پر کوئی نہ کوئی ٹیگ لگاکر اسے دنیا سے رخصت کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا۔ میری تحریر پر مجھے ہرعوامی فورم پر گالیاں دے کر ملک و قوم کی خدمت کرے گا۔ کیونکہ ہمارے ہاں ہر چیز ہی مقدس ہے اس لیے اس پر بات کرنا ممنوع ہے لیکن کیا کیجئے کہ جون ایلیا کی بات یاد آجاتی ہے
پھر جی میں ہے بے حرمتی کی خواہش
ہم سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
اب اردو کے نفاذ کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ ہمارے عوام ہمیشہ کی طرح وقتی جذباتی ہوگئے ہیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب عوامی زبان کو اشراف میں قبولیت مل جائے گی۔ اردو انگریزی کی بحث اب (پاکستان میں ہر چیز کی طرح) علمی سے زیادہ سیاسی ہوچکی ہےاس لیے کوئی علمی دلیل کسی کے دل میں نہیں اترے گی لیکن پھر بھی اپنی ناقص رائے کا اظہار کردینا چاہتا ہوں۔
میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا
برصغیر کی عوام کا خمیر احساس کمتری اور مرعوبیت سے اٹھا ہے، یونانی، چینی، عرب، ترک، افغان اور انگریز ایک کے بعد ایک ان پر حکومت کرتے رہے ۔ اس لیے ان پر ہر چیز باہر سے مسلط کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ اقبال اللہ کے آزاد بندوں کی تعریف کرتے رہے لیکن برصغیر میں آزاد بندہ کہاں سے ملے۔ ہماری مرعوبیت زندگی کے ہر پہلو پر محیط رہی ہے۔ ہر نئے آقا سے ڈرنا ، احساس کمتری کا شکار ہونا اور پھر اس کے رنگ میں رنگنا ہماری عادت رہی ہے۔ہم نے ہر نئے آقا کا لباس، زبان، اور عقائد اپنائے ہیں۔ آپ ہماری مرعوبیت کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ دنیا کی بہت سی قوموں نے اسلام قبول کیا مثلا ًعرب، مصری اور ایرانی لیکن کسی قوم نے ہماری طرح اپنے ناموں کو نہیں بدلا بلکہ اپنی تہذیب اور روایات کو برقرار رکھا اور اسلام کے ذریعے اس میں مزید خوبصورتی پیدا کی۔ ایران آج بھی اپنی تاریخ کو سات ہزار سال تک لے کر جاتا ہے، مصری اپنی تاریخ کو فراعنہ تک لے کر جاتے ہیں، عرب اپنی تاریخ کو حضرت ابراہیم سے شروع کرتے ہیں اور خود کو تما م مذاہب کا وارث سمجھتے ہیں۔ ان تمام قوموں کی اپنی زبان، تہذیب ،روایات، لوک کہانیاں، ہیرو، موسیقی، آرٹ اور فنون لطیفہ ہیں،اور وہ فتوی لگا کر انہیں اپنی تاریخ سے باہر نہیں نکالتے۔لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے سب سے پہلے اپنے پرانے نام تبدیل کیے،کیونکہ ان کے خیال میں نام بھی اسلامی اور غیر اسلامی ہوتے ہیں( شاید انہیں دین کا فہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے زیادہ تھا)۔صرف نام ہی نہیں پھر انہو ں نے ہر چیز اپنے آقاؤں کی اپنائی۔ لیکن ان آقاؤں نے کبھی بھی ان وفادار غلاموں کو اپنا نہیں سمجھا چاہے وہ ان کی زبان، لباس اور مذہب کو ہی کیوں نہ اپنا لیں۔ اردو کے ایک شاعر رفیق سندھیلوی کبھی ہمیں اردو پڑھاتے تھے تو ایک دن کہنے لگے کوئی شخص آپ کے گھر پر قبضہ کرلے اور آپ کو گھر میں ملازم رکھ لے ۔ کچھ سال بعد آپ اسے دل سے آقا تسلیم کرلو اور اس کے رنگ میں رنگ جاو تو بھی تمہاری عقیدت کے باوجود وہ شخص ڈاکو ہی رہے گا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ان کے قاتل ہی ان کے دلدار بن گئے۔
حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں
مشہور مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب “مسلم برصغیر کا المیہ” میں مسلم نفسیات کو بہت تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق” حکمران طبقہ اور اشراف ہمیشہ عوام سے خود کو جدا سمجھتے تھے اور ہر کام عوام سے جدا کرتے تھے، عربوں کی حکومت میں اشراف کی زبان عربی تھی اور تمام حکومتی امور اور علمی کام عربی میں کیا گیا۔ ایرانیوں اور ترکوں کی حکومت میں سرکاری اور اشراف کی زبان فارسی تھی ، تمام مذہبی اور سیاسی کام اس زبان میں ہوتا تھا، عوام کی اکثریت کو یہ زبان نہ سمجھ آتی تھی اور نہ ہی یہ رابطے کی زبان تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے انہیں کبھی بھی حکمران طبقے نے اپنے برابر نہیں سمجھا۔ عوام ہمیشہ عوامی زبان کو رابطے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح مذہبی کام بھی مقامی زبان میں نہیں ہوتا تھا ہمارے برصغیر کے علماء بھی عرب اور ایران کے علماء سے متاثر تھے اور ا ن کی کتابوں کی تشریحات لکھتے رہتے تھے۔ عربی و فارسی نہ آنے کی وجہ سے عوام مذہب کو بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے علماء کے مذہبی کام اور ہمارے شعراء کے فارسی کلام کو اہل زبان عربوں اور ایرانیوں نے کبھی پذیرائی نہیں بخشی۔”
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے
انگریز کے آنے کے بعد بھی ہم نے ایسا ہی کیا اور اشراف نے انگریزی کو فوراً اپنا لیااور اس حد تک اپنا لیا کہ وہ انگریزوں سے زیادہ انگریز بن گئے۔ انہی دیسی انگریزوں کو جاگیریں بھی عطا کی گئیں، یہی سیاست، فوج، عدلیہ اور افسرشاہی کا حصہ بنے اور ان کے بقول پاکستان بنانے والے بھی یہی تھے۔ اس لیے جب پاکستان بن گیا تو پاکستان کو چلانے والے بھی یہی لوگ تھے۔ پہلے دن سے حکومت کے تمام اداروں کی زبان انگریزی ہی تھی اور یہ سلسلہ آج تک اسی جذبہ سے جاری ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عدالت کے ایک حکم کے بعد ان تمام اداروں میں اردو دفتری زبان کے طور پر کس طرح رائج ہوجائے گی۔ ہماری اشرافیہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی کیوں کہ اس اشرافیہ کا مفاد انگریزی سے وابستہ ہے۔ سرسید جیسے مخلص شخص کی کوششوں کا مرکز بھی یہی اشرافیہ تھی ۔ اسی اشرافیہ نے انگریز سے مراعات بھی لیں اور انہی کی مدد سے انگریزوں نے عوام کو دبا کر رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ اشرافیہ ہمیں ورثے میں ملی۔ تاریخ کا ہم پر یہ جبر ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ ایک ہزار برس میں حکومت کی زبان کبھی بھی عوامی نہیں رہی ، پہلے یہ عربی اورفارسی تھی اور اب انگریزی ہے۔ وادی سندھ کی مقتدر اشرافیہ کبھی بھی خود کو عوام کی سطح تک نہیں لائی اور زبان کی بنیاد پر اس اشرافیہ نے ہمیشہ خود کو ممتاز رکھا ہے۔
اردو اپنی موجودہ صورت میں تین کام کررہی ہے ایک تو یہ رابطے کی زبان ہے، دوسرا سو سال سے مذہبی کام اس میں ہورہا ہے اور تمام اہم مذہبی کتب اردو میں موجود ہیں اگرچہ یہ اردو بھی عوام کے لیے اتنی اجنبی ہے کہ عام پڑھا لکھا شخص بھی اسے نہیں سمجھ سکتا، تیسرا ہماری شاعری اور نثر کا ذخیرہ اس میں ہے۔ لیکن اردو کا دامن سائنس، ٹیکنالوجی، اور تمام موجودہ علوم سے خالی ہے ۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ نے اردو کی ترقی اور اسے آسان بنانے کے لیے نہ کوئی کام کیا اور نہ ہی ہونے دیا۔ بازار میں کوئی ایسی مستند سرکاری لغت دستیاب نہیں جو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق مرتب کی گئی ہو۔ تراجم کرانے کا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ اردو کو بس نام کی قومی زبان بنایا گیا ہے، اس کے نام پر سیاست کی گئی ہے اور سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر اسے عربی اور فارسی کی چھاپ سے نکالنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمیں ان سات دہائیوں میں اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ و اصطلاحات کا رنگ نظر نہیں آتاہاں انگریزی کی چھاپ بہت واضح ہے۔
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے ۔اس صورتحال میں ہماری اشرافیہ کے لیے یہ ثابت کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ اردو عدلیہ، فوج، بیوروکریسی ، بینکاری، تعلیمی اداروں اور تمام دوسرے اداروں میں ایک دفتری زبان کے طور پر رائج ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں آئیں مل کر کسی معجزے کا انتظار کریں۔