Categories
شاعری

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت پیارے علی انکل!
میں جنت میں بہت خوش ہوں
یہاں پر میں اکیلا بھی نہیں ہوں
اتےےےے سارے دوست ہیں میرے
مرے اسکول کے تو ھیں
بہت سے اور بھی ھیں
اور پتا ہے کیا علی انکل؟؟
یہاں کوئی کسی سے یہ نہیں کہتا
کہ تم کافر کے بچے ہو!
علی انکل یہ کافر کون ہوتا ہے؟؟
مجھے لگتا ہے
وہ ہوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!
علی انکل مرے سینے میں جب گولی لگی تھی ناں
تو……
تو ماما یاد آئیں تھیں!!!
یہاں جنت میں سب کچھ ھے مگر ماما نہیں ھیں!!
علی انکل
اگر ناراض نا ہوں تو
میں کچھ پوچھوں؟؟
مری اور میرے سارے دوستوں کی یاد میں بھیگی ہوئی نظمیں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر لکھنے سے کیا ہو گا؟؟
زیادہ سے زیادہ ایک دن کی یاد ہے اور بس؟
پھر اس کے بعد سب کا سب وہی ہو گا
گلی کوچوں کی دیواروں پہ لکھے قتل کے نعرے
وہی اک دوسرے پر کفر کے فتوے؟؟
علی انکل
مجھے اور میرے سارے ساتھیوں کو یہ بتائیں ناں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر آنسو بہا لینے سے
کیا وہ سوچ بدلے گی؟
جو اپنے کالموں میں اور خطبوں میں ہمارے قاتلوں کے گیت گاتی ھے؟؟
علی انکل ھمارا خون کیا اتنا ہی سستا تھا؟؟؟
علی انکل!
اگر بس ہو سکے تو میرے جیسے ان ھزاروں پھول چہروں کو خوشی دے دیں
جنہیں روٹی نہیں ملتی
جنہیں سردی میں کپڑے بھی نہیں ملتے!!
علی انکل!!
میں جنت میں بہت خوش ہوں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہم ستارے بن گئے ہیں

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کے مندرجات بعض قارئین کے لیے تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں۔

[/blockquote]

(آپ سب نے اپنی زندگی میں بہت سے خطوط لکھے ،پڑھے اور ایک دوسرے کو بھیجے ہوں گےایسے خط بھی جنہیں پا کر شادمانی کی کیفیت ملی ہو گی، اور ایسے خط بھی جن سے ملنے والی اندوہناک خبروں سے آنکھوں سے آنسووں کی پھواریں پھوٹ پڑی ہوں گی، ایسے بھی جنہوں نے دیر تک آپ کی سانسوں کو بے ترتیب رکھا ہو گا۔۔۔۔ مگر یہ خط ایسا خط نہیں ہے۔)

 

میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور صبح گھر سے بغیر ناشتہ کیے نکلا تھا کیوں کہ پاپا کو دفتر جانے کی جلدی تھی اور میں حسب معمول لیٹ ہو گیا تھا۔ سکول کھلنے میں پانچ منٹ تھے جب میں سکول پہنچا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ تھوڑا وقت گزرا تو میں اپنے دوست کے ساتھ کلاس روم میں آگیا۔ اسی اثنا میں فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ کئی بچے چیخ رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے کچھ رو رہے تھے۔ ایک بندوق بردار شخص ہماری کلاس میں بھی داخل ہوا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کا قد کافی اونچا تھا، اس کی آنکھوں میں مجھے انسانیت کی ذرا برابر رمق نہیں دکھائی دی۔ اس نے اپنی بندوق میری طرف کردی، میں ایک دم ڈر گیا۔ میں نے پہلے کبھی حقیقت میں بندوق نہیں دیکھی تھی۔ اس نے مجھے کلمہ پڑھنے کو کہا، مجھے ڈر لگ رہا تھا، میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کلمہ نہ سنایا تو یہ ڈانٹے گا۔ لیکن اس نے تو کلمہ بھی نہیں سنا اور ڈانٹا بھی نہیں، اس نے گولی چلا دی۔ میں نے دیوار پر اپنے گوشت کے لوتھڑے چپکتے دیکھے، میرا خون گردن پر لکریں بناتا ہوا میری جرابوں تک پہنچ گیا، اور میرے سامنے رکھی ہوئی کتاب میرے خون سے اپنی پیاس بجھا گئی۔ میں نے اپنی جھولی میں اپنے دوستوں کا لہو پھیلتے دیکھا۔ میں نے گولیوں سے چھلنی لاشے دیکھے۔۔۔۔

 

اس نے مجھے کلمہ پڑھنے کو کہا، مجھے ڈر لگ رہا تھا، میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کلمہ نہ سنایا تو یہ ڈانٹے گا۔ لیکن اس نے تو کلمہ بھی نہیں سنا اور ڈانٹا بھی نہیں، اس نے گولی چلا دی۔
ہمارا خون فرش پر بہتا گیا۔ بندوقوں والے ہمارے کلاس روم میں گھومتے رہے۔ ان کے بوٹ ہمارے جمتے ہوئے خون سے لتھڑ چکے تھے اور خون آلودہ بوٹوں کے نشان سارے کمرے میں ثبت ہوتے جا رہے تھے۔ پھر کسی نے آ کر میرے اور میرے دوست کے جسم کو اٹھایا۔ اٹھانے والا زار و قطار رو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد کسی نے میرے جسم سے لٹکے ہوئے خون آلود لوتھڑوں کو دوبارہ ہاتھ سے اپنی جگہ جمانے کی کوشش کی لیکن وہ دوبارہ لٹک جاتے۔ میں نے دیکھا کہ میری ماں رو رہی ہے۔ میں اسے روتا دیکھ کر مزید پریشان ہو گیا۔ میری ماں بار بار میرے بے حس ہونٹوں کو چوم رہی تھی میرے ہونٹ برف کی طرح ٹھنڈے اور ہلکے نمکیں ہو چکے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی چومتی گئی۔ مگر وہ رو کیوں رہی تھی؟ اس کا مجھے پتہ نہیں تھا پہلے تو وہ جب بھی میرا ماتھا چومتی تھی، تو مسکراتی تھی! میں چلا چلا کر پوچھ رہا تھا امی آپ کیوں رو رہی ہیں؟ لیکن وہ میری طرف دیکھنے کی بجائے، میرے جسم کی طرف کیوں دیکھ رہی تھی۔ میں آوازیں دے دے کر تھک چکا تھا۔ میری ماں روتی جا رہی تھی۔ یہ میرے جسم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ مجھے کہاں لے جایا جا رہا تھا۔ میری امی میرے ساتھ کیوں نہیں۔ میری چھوٹی بہن کدھر ہے ؟ ابو مجھے کہاں لے جا رہے تھے ؟ میں کلمہ سنانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ میں اونچی آواز میں کلمہ پڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ لیکن کوئی بھی نہیں سن رہاتھا۔۔۔ میں روتا گیا لیکن کوئی بھی آنسو نہیں پونچھ رہاتھا۔۔ امی بھی نہیں۔۔ کیوں کہ۔۔۔۔ کیوں کہ میری موت واقع ہو چکی تھی اور میں اپنے والدین سے اپنے بہن بھائیوں سے بہت دور چاچکا تھا جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

اس واقعے کو ایک برس ہو چکا ہے مگر یہ کل ہی کا واقعہ لگتا ہے، جس دن ہم سب آسمان میں ستارے بن گئے۔ اس دن سے ہم سب روزانہ اپنے خاندان والوں کو آسمان سے چمکتے ہوئے ستارے بن کر دیکھتے ہیں۔
اب اس واقعے کو ایک برس ہو چکا ہے مگر یہ کل ہی کا واقعہ لگتا ہے، جس دن ہم سب آسمان میں ستارے بن گئے۔ اس دن سے ہم سب روزانہ اپنے خاندان والوں کو آسمان سے چمکتے ہوئے ستارے بن کر دیکھتے ہیں۔ ہم نے ہر دن اپنے گھر والوں کو آنسو بہاتے دیکھا ہے، میں نے ابو کو سب کو دلاسے دیتے ہوئے اور خود اکیلے میں بارہا روتے دیکھا ہے۔۔۔۔ اور اب جب ایک سال گزر گیا ہے میں اب بھی ہر چہرے کو اداس دیکھ رہا ہوں۔ باجی میرے پرانے عید کے جوتے اور کپڑے اْٹھائے اپنے پلو سے آنسو صاف کر رہی ہے، ماں اب بھی آسمان کی طرف دیکھتی ہے دروازے کی سرسراہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔۔۔۔ شاید وہ مجھے ڈھونڈ رہی ہے۔ ماں میں آپ کے سامنے ہوں آپ آسمان کی جانب دیکھیں وہاں جو سب سے چمکتے ہوئے ستارے ہیں وہ ہم سب دوست ہیں، ہم خون میں لت پت ہوکر آسمان میں ستارے بن گئے ہیں۔۔۔۔ ہم سب ستارے بن گئے ہیں۔

 

فقط
آپ کا بیٹا
Categories
نقطۂ نظر

سانحہ پشاور اور ہمارے آئینے

تڑاتڑ گولیاں ، دھماکوں کی آوازیں، خوف میں بسی چیخ پکار، بھاگ دوڑ، خون آگ، بارود کی بو، انسانی گوشت جلنے کی بو، خون میں بسے بھاگتے ننھے ننھے قدموں کے نشانات، اور پھر بین، آنسو، دھاڑیں مار کر رونا، آہ و بکا، ایمبولینسوں کا شور، بدحواسی، کراہیں، میڈیا کا سیلاب، ٹویٹر فیس بک و دیگر پرسوشل میڈیا ئی آنسو، دکھ درد، سسکیاں، آہیں، بد دعائیں، خدا سے رحم کی پکاریں، ہمدردیاں، مذمتیں، نیز مذمتی بیانات، فارمولہ بیانات، الزام تراشی بیانات، مذہبیانہ بیانات، کمیٹیاں، عبرت ناک سزاوں کے عزم بالجزم، اور کندھوں پر اٹھائے چھوٹے چھوٹے ایک سو اڑتیس جنازے۔

 

اور پھر ایک طویل خاموشی!

 

وہ طویل خاموشی جس میں شور ہوتا ہے ہنگامے بھی رقص و جشن بھی، اور دادعیش و شجاعت بھی، نہیں ہوتی تو وہ آواز نہیں ہوتی جو قوموں کو ایک پکار پر یکجا کرتی ہے، یک دل، ہم آہنگ اور مشترکہ مقصد پر ابھارتی ہے۔ کسی بھی سانحے کی منتظر یہ خاموشی چپ چاپ سب کا منہ تکا کرتی ہے۔ ایک سال پر محیط اس طویل خاموشی کی گود میں بھی کئی قصے اچھلتے کودتے رہے، کہیں جشن و شادی تھا، تو کہیں منی لانڈرنگ کے جلوے، این اے 246 کے دعوے تھے تو بلدیاتی انتخابات کا جشن، کس کی طلاق ہوئی، کس کی بیٹی بھاگی، کس نے کس کی بیگم سے کون سی شادی رچائی اور کس نے کتنے نجی و سرکاری بیرونی دورے کیے، سب ہی تو ہمکتا، کبھی شورو غوغا مچاتا رہا اور یہ خاموشی اداس ملول پڑی سوتی رہی۔

 

آگ اور خون اسی طرح موجود ہے، زلزلے کے تباہ حال سردی کے مارے بچے بھی، دہشت گردی اور اس کے عوامل بھی، چیخ پکار ، سسکیاں، آہیں، کراہیں سب موجود ہیں، اور۔۔۔ ہماری قومی شناختی علامت بے حسی بھی اسی طرح موجود ہے۔ تو وہ عزم بالجزم کیا ہوا؟
اب ایک سال بعد ہلکی ہلکی سرسراہٹوں کے ساتھ اس خاموشی کا سکوت چٹخنا شروع ہوا۔ آہ! ایک سال بیت گیا۔ مذمتوں کے نئے سلسلے شروع ہیں، کھیل میں اک نیا رنگ ہے۔ سیاسی و سماجی اداکار آنکھوں میں پانی لیے (خواہ اصلی ہے یا گلیسرین کا کرشمہ)، سیاہ و سفید لباس زیب تن کیے، نک سک سے درست اپنے اپنے نشتر لیے میڈیا کے منچ پر براجمان ہیں۔ آگ اور خون اسی طرح موجود ہے، زلزلے کے تباہ حال سردی کے مارے بچے بھی، دہشت گردی اور اس کے عوامل بھی، چیخ پکار، سسکیاں، آہیں، کراہیں سب موجود ہیں، اور۔۔۔ ہماری قومی شناختی علامت بے حسی بھی اسی طرح موجود ہے۔ تو وہ عزم بالجزم کیا ہوا؟

 

ہاں ہم نے پشاور سانحے کے شہدا کو یاد رکھا ہے۔ جب بھی ان پھولوں کی معصوم تصاویر ہمارے سامنے آئیں ہمارے دل دکھ سے بھر گئے۔ عید، بقرعید، نیا سال، ہر خوشی کے موقعے پر ہم نے انہیں یاد رکھا۔ اپنی فیس بک کی پروفائل پربھی شہید بچوں کی نت نئی مسکراتی زندگی سے بھرپور تصاویر لگائیں۔ خدا سے رحم بھی مانگا اور مجرموں کے لیے عبرت ناک سزائیں بھی تجویز کیں۔ لیکن اب اس مصروف زندگی میں کس کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ یہ بھی دیکھ سکتا کہ ہماری طلب کردہ عبرت ناک سزائیں عمل میں آئیں بھی یا نہیں۔ وہ بچے ہماری اولادوں کی طرح تھے، ہماری قوم کا مستقبل، ہماری ملت کا سرمایہ تھے نا! میرے لیے بھی وہ میری اولاد کی طرح تھے، کیا واقعی؟ آج جب میں اپنا احتساب کرنے بیٹھی ہوں تو مجھے خود پر شرم آرہی ہے۔ اپنا بےحس ، سیاہ چہرہ اور اپنے قول و فعل کا تضاد میں بخوبی سمجھ چکی ہوں، کاش ہم سب بھی اپنے اپنے بیانات اور لفاظی کے آگے ایک ایک آئینہ ضرور رکھ لیں۔

 

کچھ آئینے پیش خدمت ہیں:

 

کابینہ کمیٹی لااینڈ آرڈر نے صوبے بھر کی سول و پولیس انتظامیہ کے ساتھ مل کر کئی پروگرام تشکیل دیئے ہیں جن میں سیمینارز کا انعقاد، واکس، مشاعرہ، تقریری و مضمون نسویسی کے مقابلے اور تصویری نمائش شامل ہیں۔ یہ تقریبات پورا ہفتہ جاری رہیں گی۔ اسی طرح صوبے کے تمام بڑے شہروں میں سٹی پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ 16دسمبر کو منعقد ہونے والی تقاریب میں شہدا کے خاندانوں کو مدعو کیا جائے گا اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ (اور اب سال گزرنے کے بعد بھی یہ کہتے شرم نہیں آتی کہ) آرمی پبلک سکول کے ننھے پھولوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔

 

خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کی پہلی برسی کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دن شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے صوبہ بھر میں سرکاری طورپر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ 16 دسمبر کو پشاور میں دو بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ایک تقریب آرمی پبلک سکول اور دوسری تقریب آرکائیوز لائبریری ہال میں منعقد ہوگی جس میں اعلیٰ سیاسی قیادت، فوج کے اعلیٰ حکام اور شہدا کے لواحقین شرکت کریں گے۔ آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے شہدا کے نام سے منسوب کیاجائے گا جبکہ شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وہاں ایک یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس پر سانحہ پشاور میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کے تصویریں لگائی جائیں گی۔ (اور وہ عبرت ناک سزائیں؟ )

 

ہم نے بھی اس سانحے پر اظہار یکجہتی کیا لیکن بدقسمتی سے ان تمام سرگرمیوں خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کو اتنی بھی کوریج نہیں دی گئی جتنی سول سوسائٹی کے نام پر جمع ہونے والے دس بارہ مرد و زن کو دی جاتی ہے اس پر سوائے افسوس کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے
ایک سیاسی جماعت کے رہنما “دال فے عین” نے ایک سال بعد نیند سے جاگ کر مدھ بھری آنکھوں میں بسے خمار گندم کو جوش خون سے تعبیر کرتے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور بیان داغا:

 


قوم ننھے شہداء کی قربانیوں کو تاقیامت فراموش نہیں کرے گی۔(ان حرکتوں کے باوجود قوم کے تاقیامت باقی رہنے کی گارنٹی آپ دیں گے)۔

 

ایک ملا صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

 


انسانی تاریخ کا المناک، افسوس ناک اور د ل سوز سانحہ جس کی خبر سن کر دل پارہ پارہ ہو گیا، معصوم بچوں، ان کی روتی بلکتی ماوں، ان کے سوگوار والدین اور ان کے غم وحزن میں ڈوبے رشتہ داروں کے بارے میں سوچ سوچ کر دل خون کے آنسو روتاہے۔ ہم نے بھی اس سانحے پر اظہار یکجہتی کیا لیکن بدقسمتی سے ان تمام سرگرمیوں خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کو اتنی بھی کوریج نہیں دی گئی جتنی سول سوسائٹی کے نام پر جمع ہونے والے دس بارہ مرد و زن کو دی جاتی ہے اس پر سوائے افسوس کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے(حرف افسوس کس امر پر ہے ملاحظہ کیجیے)
۔

 

ایک محترمہ فرماتی ہیں:

 

ہاں نا مجھے تو بہت دکھ ہے اس سانحے پر، کیا بتاوں جب یہ سانحہ ہوا میرے تو قدموں تلے سے زمین ہی نکل گئی تھی، دہشت گردوں نے تو ہم ماوں کے کلیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ہاں اور کیا میں نے تو میڈیا کے کیمرے کے سامنے اس پر زور انداز میں مذمت کی تھی کہ اس چینل نے مجھے پشاور سانحے کی اپنی خصوصی نشریات میں بھی بلایا ہے۔ سوچ رہی ہوں اپنا وہ برانڈڈ سفید سوٹ پہن کرجاوں جس پر باریک نگینوں کا کام ہے۔ تم بھی دیکھنا وہ پروگرام!

 

اور بھی آئینے ہم میں اور ہمارے اطراف موجود ہیں۔ بس انھیں ڈھونڈنے اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ جس دن ایسا ہوگیا مجھے یقین ہے پشاور سانحے جیسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہ ہوسکے گا۔