Laaltain

میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا

وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں

کایا کلپ کے بعد

ثاقب ندیم: ایک روز صبح سویرے شہر جاگا
تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا
قبضہ ہو چکا تھا

روشنی کا لہو

عمران ازفر: وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی

حسرت میں ملفوف ایام

صفیہ حیات: وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے

ایک تلوار کی داستان

افضال احمد سید: یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!

انٹیروگیشن …!!!

ثروت زہرا: تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے

وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

سلمان حیدر: کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی

یاد ایک جھولنا ہے

عمران ازفر: تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے