عمران خان صاحب!میں مٹھائی نہیں بانٹوں گا

آپ کو اس نظام پر اعتماد نہیں جس کے باعث آپ کی جماعت کو خیبرپختونخوا کی حکومت ملی۔ جس نظام کے تحت آپ کو قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف میں شمولیت کا موقع ملا
نعرہ مستانہ بنام عمران خان

حسب معمول میرے سادہ مزاج معصوم رہنما پھر بھٹک گئے، ان کی گاڑی دائیں جانب اعجاز چوہدری کے گھر کی طرف مڑنے کی بجائے بائیں مڑ گئی۔
پوری قوم چُھٹی پر ہے
سکول میں پڑھائی جانےوالی کتب میں سے ایک مطالعہ پاکستان ہے جس میں پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمدعلی جناح کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی قوم کو کام کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔
کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہےکہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔
صحافتی پھوپھیاں اور سیاسی طلاقیں
عمران خان اور ریحام خان کی شادی سے ایک ماہ پہلے صحافتی پھوپھیوں نے زرد صحافت کا جو ڈھول بڑی دھوم دھام سے بجانا شروع کیا تھا وہ اُن کی طلاق تک پہنچتے پہنچتے تقریباً پھٹ چکا ہے۔
تحریک انصاف میں موروثی سیاست
لاکھوں نوجوانوں کے ہردلعزیز رہنما عمران خان نے 2013کے عام انتخابات کی مہم کے دوران جلسوں اور جلوسوں سمیت پاکستانی روایتی سیاست کا انداز مکمل طور پر تبدیل کر دیاتھا۔
عمران خان کی سیاسی ہیٹ ٹرک
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے2013ء کے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ ہم نے انتخابات قبول کیے ہیں لیکن دھاندلی قبول نہیں کی ۔
پی ٹی آئی“ڈی چوک” سے“ڈی سیٹ” تک
چودہ اگست 2014 سے سولہ دسمبر 2014 تک عمران خان احتجاج، جلسوں اور دھرنے کی سیاست کرتے رہے۔
!تبدیلی ٓا گئی ہے
یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔
ہمیں منزل نہیں رہنما چا ہیے
الطاف حسین کے بیانات اور ان کے جواب میں تحریک انصاف اور عمران خان کی زبان اور جملے استعمال کسی طرح شریفانہ قرار نہیں دیے جاسکتے۔
عمران خان کے نام تین خطوط
امید ہے کہ آپ، محترم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک اور کے پی کے حکومت کے تمام وزراء خیریت سے ہوں گے اور حکومتی مراعات اور سیکیورٹی کا بھرپور استعمال فرما رہے ہوں گے۔
کیا یہ جنگ اب ہماری ہو گئی ہے؟ — اداریہ

عمران خان، نواز شریف، منورحسن، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور تمام مذہبی جماعتوں کو اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ جنگ اب ہماری ہوگئی ہے؟
آزادی مارچ کس نے ناکام بنایا
تحریک انصاف اور آزادی مارچ کی ناکامی کی تما م تر ذمہ داری عمران خان کے سر ہوگی جوبحران کے وقت سیاسی بردباری اور قومی مفاد میں سیاسی فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آئے ہیں۔
عمران خان، میرے محبوب ترین راہ نما، کیوں؟
بے پناہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب محترمہ شیریں مزاری اور دیگر سینئر رہنما رات دن ایک ہی مدعے پر دماغ کھپا رہے ہیں۔ اور وہ مدعا یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت عظمی تاحیات خان صاحب کے نام کر دی جائے۔
آزادی مارچ یا آخری جلسہ
نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنا عمران خان صاحب کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کردیں گے