Laaltain

دلنواز تم بہت اچھی ہو!

1 فروری، 2026

اس طرف اب بھی اندھیرا ہے۔ اس جانب جگر مگر روشنی ہے۔ اندھیرے میں بیٹھ کر اس جگر مگر روشنی کو دیکھنے کا سکھ بھی ایک طرح کا سکھ ہے۔ امکانات سے بھرپور سکھ، تاریک سرنگ کے پار پَھک سے کوئی روشنی جل جائے، جیسا سکھ!

سب سیدھا سچ ہے، سب گہری پرتوں سے بھرا ہے۔ کُھلے گا ایک ایک یا کیا پتہ یک بہ یک۔ تب تک اندر ایک ندی بہتی ہے کس قدیم سمے سے، میٹھے پانی کی ندی، اداس گیتوں کی ندی، کچھ کر دیا کچھ اور، بہت اور کریں گے، والی ندی۔ اور سب بھیگتا رہتا ہے، من، جسم ، روح؛ جیسے برسات ٹپکتی ہے آبنوس کے پتوں پر سے، موٹی موٹی بوندیں۔ لال ریت بجری کی مٹی برسات سے بھیگ کر چپل پر چپک جاتی ہے۔ ہر قدم بھاری ہو جاتا ہے۔ ہر قدم دھیما۔ میں ٹھہر ٹھہر سوچتی ہوں، جیتی ہوں۔ سچ! اب جا کر جیتی ہوں۔ بدن لرز جاتا ہے اس جینے کے سکھ میں، اس ہونے کے سکھ میں، کسی مقصد کے سکھ میں، کتنا چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔ اس چھتنار پیڑ سے سٹے، اس کالے پیر پسارے چٹان سے سٹے اپنے اس چھوٹے سے گھر میں، کُٹیا میں، میرے ہونے میں، میرے سندیپن کے باوجود، اس کے بِنا ہونے میں، گاؤں کی ٹھاٹھ باٹھ میں، سینٹر کی ہلچل میں، دیر رات لالٹین اور پیٹرومیکس کی روشنی میں بچوں اور عورتوں کو ‘ک’ سے کنول اور ‘ج’ سے جنگل پڑھانے میں، مانِک پرکیتھ سے رہیبلٹیشن /Rehabilitation]بحالی[ ڈسکس کرنے میں، سروے کے کاغذوں کو چیک کرنے میں، سرکل آفیسر اور بی ڈی او سے کاغذات نکلوانے میں، شہر جانے میں اور پھر، اوہ سکھ، گاؤں واپس لوٹنے میں، ڈُمری کے تھکے دکھتے سر میں تیل ملنے میں، کونے کُھدرے میں اوما کے سجائے سوکھے مرجھائے پھول پتی کے جھرتے گچھوں میں۔۔۔ کیا ملتا ہے مجھے؟ اپنے ہونے جینے کا معنی؟

نیرودا کی کتاب جانے کب سے گود میں رکھی ہے۔ اندھیرے میں کتاب کا لمس ہی سکون دیتا ہے۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے میں اندھیرے کو آنکھوں سے پیتی ہوں۔ چھوٹے سے مُوڑھے پر کھلے دروازے پر بیٹھ کر میں مطمئن ہوں۔ اس اندھیرے سے مطمئن ہوں۔ کہاں سے کہاں آ گئی یہ سوچ کر اب حیران نہیں ہوتی۔ کسی سپنے کو دیکھ کر حیران نہیں ہوتی۔ گھر سے اتنی دور آ کر حیران نہیں ہوتی۔ اب کسی بات سے حیران نہیں ہوتی۔ کوئی جادو تھا پھر حیرانی کیسی۔ کس ٹونے ٹوٹکے سے بندھی مَیں آئی تھی۔ پر اب آ گئی تھی۔ اس گاڑھے اندھیرے وقت میں خوف نہیں تھا۔ صرف کام تھا صرف کام۔ ہر دن کام تھا۔ اور ایک چین تھا، کوئی گیت تھا، پاگل بےچین پھر بھی ٹھہرا ہوا شانت ۔۔۔ ایک عجب غضب سنگیت۔ پر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ کوئی بناوٹ تھی اندر جو شکل لے رہی تھی جانے کب سے، سوئی تھی کبھی اب جاگتی تھی۔ سب رنگ سب سُر مل کر کوئی گیت گاتے تھے آخر۔ ہر کسی کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ پر پہچاننا ہوتا ہے اپنے اندر کی اس اندرونی بناوٹ کو۔ دھیرے دھیرے میرے اندر کی دنیا بن رہی تھی، روشن ہو رہی تھی۔ پر کیسی کھائی تھی باہر اور اندر کے بیچ۔ سو مچ ویرینس /so much variance]تغیر[۔ ہر قدم کے ساتھ بیچ کا فاصلہ پٹ رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا پر ایسا ہو رہا تھا اپنے آپ۔ میرے اندر باہر کی سب دنیا میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی آخر کار۔ جیسے کوئی خوابیدہ سمے کا قدیم راگ ہو، اے مارچنگ سانگ [A march­ing song]۔ میرا جیون راگ۔

میں نیرودا [Pablo Neru­da] کے مصرعے اندھیرے میں یاد کرتی ہوں، مجنون عشق کے مصرعے۔۔۔

I can write the sad­dest poem of all tonight.
Write, for instance: “The night is full of stars,
and the stars, blue, shiv­er in the dis­tance.”
The night wind whirls in the sky and sings.
I can write the sad­dest poem of all tonight.
I loved her, and some­times she loved me too.
میں لکھتا ہوں آج کی رات نوحہ الم]
میں لکھتا ہوں، تاروں بھری رات ہے اور
دور کہیں تمٹماتے نیلگوں ستارے
رات کی پروائی گاتی پھرتی، فلک کو محوِ رقص ہے
آج کی شب میرا سخن خزیں تر ہے
[میں نے اس سے محبت کی، ہاں اس نے بھی کئی بار
بیچ میں بُھولتی ہوں، پھر آخر کا سرا پکڑتی ہوں،
I no longer love her, true, but how much I loved her.
My voice searched the wind to touch her ear.
Some­one else’s. She will be some­one else’s.
As she once belonged to my kiss­es.
Her voice, her light body. Her infi­nite eyes.
I no longer love her, true, but per­haps I love her.
Love is so short and obliv­ion so long.
Because on nights like this I held her in my arms,
My soul is lost with­out her.
Although this may be the last pain she caus­es me,
And this may be the last poem I write for her
مجھے محبت نہیں اب، مانا، لیکن اسے کس الفت سے چاہا تھا]
میری صدا ڈھونڈتی ہے وہ دوشِ ہوا جو کانوں کو اس کے جا چومے
وہ پرائی ہو جائے گی، کسی اور کی ہو جائے گی
میرے بوسوں کی جو تھی مالک
اس کی آواز، سبک سی کایا، اس کی بےپایاں آنکھیں
مجھے اب عشق نہیں، مانا، لیکن کرتا بھی ہوں شاید
ایسی ہی شبِ عیش ہوا کرتی تھی اور گرد اس کے میری بانہوں کاحصار
میری روح فنا ہے، بعد اس کے
اگرچہ یہ گھاؤ اس کی طرف سے آخری ہو
[اور شاید اس کے لیے مری یہ نظم آخری ہو

میں کون سا مرثیہ گاؤں گی؟ کس کے لیے لکھوں گی سب سے اداس سطریں؟ میرا سب کچھ تو یہیں ہے، یہیں۔ پھر بھی کسی انجانے دکھ سے میرا گلا بھر آتا ہے۔ چھاتی سے گلے تک دکھ جم جاتا ہے، برف کی سل۔ میں دھیمے مسکراتی ہوں۔ بالوں پر کوئی پتنگا پھنس گیا ہے۔ کچھ دیر میں اٹھوں گی۔ کچھ پکاؤں گی، کھاؤں گی۔ پھر تھوڑی پڑھائی۔ آنکھیں دُکھتی ہیں زیادہ دیر لیمپ کی روشنی میں پڑھنے میں۔ گاؤں میں جلد ہی بجلی آئے گی، کم سے کم اس ایک کمرے کے کمیونٹی سینٹر میں۔ پھر آسان ہوگا پڑھنا اور پڑھانا۔ اندھیرے میں من ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ دن بھر کی تھکان ہے پر من تھکا ہوا نہیں ہے۔ اچھا لگتا ہے۔ انگلی رکھنا چاہتی ہوں، ٹھیک اُس بات پر جس سے اچھا لگتا ہے۔ یہاں، یہاں، یہاں۔ پھر یہ بھی اور یہ بھی۔ پر ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔ بس اتنا ہی طے کر پاتی ہوں، کہ اچھا لگتا ہے۔ اداسی میں بھی اچھا لگتا ہے۔ اوما پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ کہتی نہیں، بس چھو سکے اتنی دوری پر چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہے۔ نو سال کی اوما، میری چھوٹی سی سکھی سہیلی۔

“آج یہیں سو جائیں؟” پُھسپُھسا کر پوچھتی ہے۔
“بھاگ، جلدی سے اپنی ماں سے پوچھ آ۔”
میں مصروف ہونے لگتی ہوں۔

چھت پر نوار کی پرانی کھاٹ پر بیٹھی میں چہرہ ہاتھوں میں بھرے بس تاک رہی تھی۔ اندر سب خالی تھا۔ جیسے سارا رس بہہ گیا ہو اور میں صرف ایک خول بچ گئی ہوں۔ چاچی سفید پھولوں والی ساڑھی پنڈلیوں تک دبائے پیڑھے پر چکو مکو بیٹھی تھیں۔ نیچے پرانی بدرنگ چادر پر ڈھیر کی ڈھیر لال مرچیں، اچار والیں۔ کٹھوت ]کاٹھ کا برتن جس میں آٹا گوندتے ہیں[ میں مسالہ پڑا تھا۔ سکھائی ہوئی چٹک لال چمکیلی مرچ میں ان کے ماہر ہاتھ تیزی سے مسالہ بھر رہے تھے۔ مرچوں کی دہکتی شوخی اور مسالوں کی تیکھی بو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ سب بے جان، چُرمرایا ہوا تھا۔ اس پر یہ تیزی۔ اف! میں نے ہاتھوں سے آنکھوں کو ڈھک لیا تھا۔ چاچی نے ایک بار رک کر مجھے دیکھا تھا، پھر اپنے کام میں لگ گئی تھیں۔ دو منٹ ٹھہر کر ورم زدہ گھٹنوں کو سہارا دیتے اٹھی تھیں۔ سیڑھیوں سے ان کے چپلوں کی پھٹ پھٹ سنائی دے رہی تھی۔

چائے کا پیالہ بِنا کچھ کہے مجھے پکڑایا تھا پھر کام میں لگ گئی تھیں۔ بس اسی لیے تو میں یہاں بھاگی آئی تھی۔ جیسے گھائل بیمار کتا مٹی کے ٹھنڈک میں سکون کھوجے۔

بِدپّا، دبلا پتلا چھوٹا سا بِدپّا جب اپنی چھوٹی کالی آنکھیں مچکا کے کہتا، “دل نواز نوو چالا منچیدانوی”، (دل نواز تم بہت اچھی ہو) میں ہنس پڑتی۔

“بِدپّا آیم بیگننگ ٹو انڈرسٹینڈ تیلگو۔”
] بدپا میں تیلگو سمجھنے لگی ہوں۔/[Bidpa I’m begin­ning to under­stand Tel­ugu.
پھر وہ انگریزی پر اتر جاتا،
“ریلی؟ دین یو کین شیئر مائی پوریال ٹو ڈے۔”
Real­ly? Then you can share my poriyal today.] / واقعی؟ تو پھر میرے ساتھ آج پوریال (تمل ناڈو میں دال، سبزی کا سالن) کھاؤ۔[

“ارے ہٹ میرے روغن جوش کے آگے تیرا پوریال۔ گو واش یور فیس۔”
Go wash your face]/ منھ دھو جا کر [

پر وہ ڈھیٹ ہنستا رہتا، کبھی واش ہز فیس [Wash his face]نہیں کیا۔ رونا کو میں کہتی بِدپّا یہ بِدپّا وہ …
“بِدپّا کے آگے بھی تو کچھ بول نا”، رونا بیزار ہوتی۔

پر بِدپّا تو میرا بڈی buddy]/دوست [تھا، چائلڈہڈ بڈی child­hood buddy]/بچپن کا دوست[۔ بس۔ اس کو میں بچپن کی مار سے لے کر ماں سے یہاں لڑ کر آ جانے کی بات، سب بےجھجک بتا سکتی تھی۔ اپنے پہلے کرشcrush] /منظورِنظر [اور اپنے ریسینٹ مینسٹرُئل کریمپس [recent men­stru­al cramps/ حال میں ماہواری کا درد[ کے بارے میں بھی۔ میرے لیے وہ جینڈر نیوٹرل[gender neutral/ صنفی غیرجانب دار[ تھا، میرا چارلس شُلز [Charles M. Schulz] کے لنس [Linus Van Pelt] کا کمبل تھا، میرا فرینڈشپ از وارم ہگ Friend­ship is a warm hug]/سچا دوست [تھا۔ اس بھری اجنبی دنیا میں میرا اینکر] anchor/لنگر[ تھا۔ ہی ہیڈ اے وارم براؤن منکی فیس اینڈ آئی لوڈ ہم، ٹرولی ٹرولی۔
He had a warm brown mon­key face and I loved him, tru­ly truly.]/ اس کا چہرہ بھورے بندر جیسا تھا، اور مجھے اس سے محبت تھی، بہت بہت۔[

چھٹیوں میں، میں تب گھر گئی تھی۔ ماں کا ایسا رویہ جیسے پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرانی ہوتی مجھے۔ کتنی لڑائیاں لڑ کر اس مقام پر آئی اور اب ماں نے جیسے میری جیت کا نوکیلا پن ہی گہنا دیا۔ اور تو اور پڑوسی رشتےدار آتے تو چہک چہک کر بتایا جاتا کہ دیکھا دی نے کیا کمال دکھایا۔ اکیلے اس بڑے شہر میں جا کر کس دلیری اور آرام سے نہ صرف پیر جمایا بلکہ خاصی نوکری بھی جگاڑ لی۔ بابا خوش ہو کر کہتے, “ببنی کی تا بڈ کام کر لیہلی۔ خاندان کے نام اونچا ہو گئیل۔” ]بٹیا بڑے کام کر رہی ہے۔ کاندان کا نام اونچا ہو گیا ہے۔[ میں کسی ہارے سپاہی کی کھسیانی ہنسی ہنس دیتی۔ لوگ باگ کے سامنے باقاعدہ میری نمائش لگتی۔ ہونہار ماں کی ہونہار بیٹی۔ ماں اپنے پڑھنے کا چشمہ آنکھوں سے ماتھے پر کھسکا کر سنجیدگی سے کہتیں، “میں تو ہمیشہ سے جانتی تھی کہ دی کچھ خاص ہے۔ پھر گہرا سانس بھرتیں، آج اس کے پپّا ہوتے تو”۔۔۔ میں بھونچکا کر دیکھتی میری لڑائی کا، میری جیت کا سہرا ماں کس قدر بڑے پن سے، معصومیت سے اپنے سر باندھ لیتیں۔ یہی ماں تھیں جنھوں نے ایڑی چوٹی لگا دی تھی کہ میں باہر جا نہ سکوں۔

اور میں بھی ضدی کی ضدی۔ ٹھان لیا تھا کہ اس کنویں سے نکلنا ہی ہے۔ ادھر ادھر چپکے چپکے فارم بھرتی، لوگوں سے پوچھتی پاچھتی اپنی قلعہ بندی تیار کرتی رہی۔ رات رات کی خفیہ تدبیریں، بھاگنے کے بلوپرنٹس، کنٹینجینسی پلانز [blue­prints, con­tin­gency plans/منصوبے، پیش قدمی[۔ اور شہر اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مگن رہا، مضبوط رہا۔ اس کی طاقت بڑی طاقت تھی۔ اس کے مورچے ناقابل تسخیر۔ ماں کی آنکھیں، شہر کی آنکھیں تھیں، پڑوسیوں کی آنکھیں تھیں، اپنوں، غیروں کی آنکھیں تھیں جو ایک جوان جہان لڑکی کے ہر حرکت کو، معصوم خطرناک، تولتی ہیں، دیکھتی ہیں۔ جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک، ہر حالت میں، ہر سمے پر مستعد۔ میرے بارے میں خبر جنگل کی آگ تھی۔ بن باپ کی بیٹی کا ہر کوئی رکھوالا۔ کوئی دوست نہیں تھا، سب خبری تھے۔ میں ان بیابانی بھیڑ میں جھنڈ سے بچھڑی میمنا تھی۔ بابا تک اپنے پوپلے منھ سے جگالی کرتے کہتے، “ببنی ماں کے بات مان لیوے کے چاہیں۔” ]بٹیا ماں کی بات مان لینی چاہیے۔[

رات کے اندھیرے میں کھڑکی کی ٹھنڈی سلاخوں سے گرم گال سٹائے میں کھوجتی تھی اجاڑ پگڈنڈیاں جہاں میرے پیروں کے نشان گم ہو جائیں۔ گھانس پھونس جنگلی بیل سب ڈھک لیں۔

مرِدُل بورٹھاکر اپنی چپٹی ہنسی ہنس کر کہتا، بہو ناچے گی میرے سنگ؟ اور میں اس کے سنگ جیون کا ناچ ناچنے نکل پڑی تھی۔ کون تھی میں، کوئی اسادورا دنکن[Isadora Dun­can]؟ اور وہ کوئی سرگیئی ییسینن [Sergei Yes­enin]؟ پر ہواؤں کا پنکھ پکڑ کر، بِنا آگا پیچھا سوچے اڑ چلی تھی۔ ٹرین میں بیٹھے اس کی دکوستا کو لکھی چٹھی،
“Mer­cedes, lead me with your lit­tle strong hands and I will fol­low you—to the top of a moun­tain. To the end of the world. Wher­ev­er you wish”
]مرسیڈیز، اپنے ننھے مضبوط ہاتھ تھمائے میری راہ نمائی کرو، میں تمھارے نقشِ قدم پر چلوں گی ــــ کہساروں کی چوٹی تک۔ دنیا کے انت تک۔ جہاں بھی تم چاہو۔[
سوچتی رہی۔

میری جان فٹا فٹ۔ لیکن تب کہاں معلوم تھا کہ مرِدُل داکوستا تو ہو نہیں سکتا تھا نہ جنس میں نہ دماغ میں۔ میں ہی کون اسادورا تھی؟ رات کی نیلی سیاہ روشنی میں کسی ایلزابیتھن ہیروئین [Eliz­a­bethan hero­ine] کی طرح لبادہ اوڑھے میرے پیر اس انجان راستے پر بےدھڑک پڑے تھے۔ شہر کی دیوار اندھیرے میں پل بھر کو بھربھرائی تھی۔ میں کوئی ٹائم ٹرویلر [time traveller]تھی، کوئی عیار تھی۔ میرا جسم ہوا، ہوا تھا اور دیواروں کو پار کر گیا تھا۔ شہر نے اپنے ٹیڑھے پن میں، اپنے برسوں کی تاریخ میں، کئی کئی وقفوں پر ایسے اچکّے کھیل کھیلے تھے۔ اور آج میرے جیون کے لمبے راستے پر یہ تیکھا موڑ لینا تھا، سو شہر نے پھر اپنے دروازے کھولے۔ مرِدُل بورٹھاکر بیچارہ تو صرف واسطہ تھا۔ اس کا ناچ میرا ناچ کب ہوتا۔ پر کچھ شروعاتی ٹینگو [Tan­go] ہم نے کیے مالوینگر کے برساتی کا ایک کمرا۔ پتلے تُھکپا ]تِبتی نوڈل سوپ[ اور بےسواد مومو کے بیچ ہم نے ایک دوسرے کو جانا۔ ہمارے جسم نے ایک دوسرے کو پہچانا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے پر نہیں پڑیں، پر ہماری انگلیوں کی پھوہڑ بےچینی نے کوئی پہچان کی۔ گھپ اندھیرے میں آدھے ادھورے کپڑوں سمیت کچھ اناڑی مشقوں کی ناکام کوشش۔ شروع ہونے کے پہلے ہی چُک جانا اور بعد میں بےحیائی سے، بےحسی سے، ‘اٹ واز ہارڈلی دا زینتھ آف پیشن، نو؟
It was hard­ly the zenith of pas­sion, no?] / جذبہ انتہا کو نہیں پہنچا، ہے نا؟[

میں مطلبی نہیں تھی۔ قطعی نہیں تھی۔ پر تُھکپا کھا کھا کر مجھے ابکائی آنے لگی تھی۔ میں ایک کنویں سے آ کر دوسرے کنویں میں پھنس رہی تھی۔ مرِدُل دن بھر آوارہ گردی کرتا، رات پی کر بھونکتا رہتا۔ ہمارے پیسے تیزی سے اڑ رہے تھے۔ جتنی تیزی سے پیسے ختم ہو رہے تھے اتنی ہی تیزی سے ہم ایک دوسرے سے گھن کھا رہے تھے۔ اس کا لجلجا لمس مجھ میں ناگواری بھر دیتا۔ گھناؤنے پن وہ کہتا،

“یو آر نو جولییٹ بنوش، ناٹ ایون اے ناؤمی کیمپبیل۔ گیٹ بیک ٹو یور فکن مڈل کلاس سیٹ اپ۔ گیٹ بیک گیٹ بیک یو بلڈی فرجڈ بچ۔”
[You are no Juli­ette Binoche, not even a Nao­mi Camp­bell. Get back to your fuck­ing mid­dle class set up. Get back, get back you blood frigid bitch. / تو کوئی جولییٹ بنوش نہیں ہے، وہ چھوڑ تو، توناؤمی کیمپبیل بھی نہیں ہے۔ جا اپنے بکواس مڈل کلاسی گٹر میں جا پڑ۔ چل نکل، دفع ہو جا حرامزادی ٹھنڈی کیتا۔[

پیسے چُکنے کے ٹھیک دو دن پہلے وہ غائب ہو گیا۔ دارجلنگ کی شکنتلا تامنگ، شینکی نے بتایا مرِدُل کو اسٹیشن پر کسی نے دیکھا گھر کی ٹرین پکڑتے ہوے۔ شینکی کے کمرے میں شفٹ ہوے مجھے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ صبح سے شام میں جانے کس چیز کی تلاش میں شہر بھٹکتی تھی۔ کئی بار خواہش ہوتی مرِدُل کی طرح گھر کی ٹرین پکڑ لینے کی۔ ایک بار تو اسٹیشن بھی پہنچ گئی تھی۔ میرے پورے وجود میں بگولا اٹھتا تھا۔ میں ریگستان تھی۔ ٹھاٹھیں مارتا ریت کا ساگر۔ اس بڑے شہر کی پوشیدہ دیواریں، اس چھوٹے شہر کی دکھائی دیتی دیواروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھیں۔ لوگوں کی آنکھیں پہلے میری چھاتی پر پڑتیں پھر چہرے پر اٹھتیں۔ آنکھوں کو چہرے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ ٹکتی تھیں نیچے، گھومتی تھیں جیسے علاقے ماپ رہی ہوں سٹیکنگ پراپرٹی stak­ing property]/نشان زد جائیداد[۔ چمکیلی بڑی گاڑیوں میں ادھیڑ گنجے آدمی چہرہ نکال شائستگی سے انگریزی میں پوچھتے،

“کیئر فار اے رائیڈ“؟] گاڑی میں بیٹھو گی؟/ [Care for a ride?کبھی کبھی کِلر شارک [killer shark] کے سے فوکس focus]/ارتکاز [سے گاڑیاں پیچھا کرتی دھیمی رفتار،

“کم آن بے بی، آ ول گو یو اے گڈ ٹائیم۔”
Come on baby, I will give you a good time.] / بیٹھ جاؤ پیاری، مزا کراؤں گا۔[

میری چپل کا فیتہ ٹوٹ چکا تھا۔ میرے بیگ کا ہینڈل اور میری والٹ کا پیسہ بھی۔ اور سب سے بڑی اور اہم بات تھی کہ میری طاقت ختم ہو گئی تھی۔ میری معجزاتی غیرمعمولی صلاحیت دو کوڑی کی ثابت ہوئی تھی۔ میں باغی، میں سپارٹاکس [Spartacus]کی اولاد، اوہ میرا بیج ہی کمزور تھا، ڈائلیوٹیڈ /diluted] رقیق[۔ شہر کی جگر مگر کرتی سڑکوں اور دکانوں کے بیچ میں گم ہو رہی تھی۔ میرے اندر کی طاقت چُک گئی تھی۔ میں ایک چھوٹے شہر سے آئی ایک بچاری قصباتی بہن جی تھی، بِن نوکری کے بِن سہارے کے۔ شہر مجھے پڑپ جانے کو تیار تھا۔ لڑکے لڑکیوں، آدمی عورت کی بھیڑ میرے آس پاس سے، میرے آرپار گزر جاتی۔ میں انگلیاں بڑھا کر پکڑ میں لینا چاہتی تھی زندگی، پر ایک بیچارگی مجھے کھوکھلا کر رہی تھی؛ جیسے ہوا کھلی انگلیوں کے پار سے بس بہہ جائے۔ دن رات میں ٹھنڈ سے، جانے انجانے خوف سے کانپتی رہتی۔ میرے پیروں کے نیچے ٹھوس زمین ختم ہو رہی تھی۔ بسوں اور آٹوؤں کی چیخ پکار اور دھینگا مشتی میں میں بھیڑ کی بھیڑ بھاڑ کا بیچارہ حصہ بن جاتی۔ میری ٹھسک، میری ٹھاٹ داری سب ہوا ہو گئی تھی۔ میری بانہوں میں نیلی نسیں ابھرنے لگی تھیں اور پیروں کے تلوؤں میں کڑے کارن /corn]گٹّے[۔ میں رانی راج دلاری اب سڑکوں کی ملکہ تھی۔ اس شہر میں میرا کوئی ہمدرد، کوئی ہمدم نہیں تھا۔

جب صبر کا سرا چھوٹنے ہی والا تھا تب ایک ہوا کے جھونکے سا سندیپن ملا تھا۔ جَن جدوجہد آرگنائزیشن ایکٹوسٹ۔

“چلو گی، چورمُنڈا؟”

اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔ اس کی دبلا لمبا سانولا جسم کسی کمان کی طرح تنا رہتا۔ سگریٹ پر سگریٹ دھونکتا، کھانستا لمبی بحثیں کیا کرتا۔ منصوبے بنتے دیر رات تک۔ میں یہاں صرف سندیپن کے لیے تھی۔ ویسے بھی میری دنیا میں اور کیا تھا؟ شینکی کا ادھار اور بےجان، بےسمت راستے۔ میرے کامپلیسینس compliances]/عاجزی[ کو گندے کارپیٹ کی طرح جھٹک پھینکا تھا سندیپن نے۔ جھولا اٹھائے ہم نکل پڑے تھے، سیکواپانی، چورمُنڈا۔ بھٹکتے رہے تھے گاؤں گاؤں۔ قبائلیوں سے بات کرتے لگاتار۔ گملا، گوڈا، لالمٹیا، جانے کہاں کہاں۔ گاؤں کے گاؤں اکوایرacquire]/شامل[ ہو رہے تھے۔ سرکاری پروجیکٹ میں۔ بڑا بجلی کا تاپ گھر بنے گا۔ خوشحالی آئے گی۔ بجلی ہی بجلی۔ دن میں بھی لٹو جلے گا۔

سروے چل رہا تھا۔ بی ڈی او، گاؤں کے مکھیا، پٹواری، سرکل آفیسر۔ پیڑ کے نیچے، گاؤں کی چوپال میں، کسی سرکاری اسکول کے ادھ ٹوٹے کمروں میں کھڑکھڑاتی میز اور تین پیروں کی کرسی جوڑے، پرانے نقشے پھیلائے، سر جوڑے، باریک باریک لفظوں میں رجسٹر بھرے جا رہے ہیں، زمین کی ملکیت کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔ بھیڑ کی بھیڑ دھوپ میں پیڑھیوں سے صبر کی کہانی جی رہی ہے، منگتو مرمو اور جگت ہیمبرم، پونو ایکا اور بھولا منڈا، پیٹرمنج اور سُزن ترکی۔

“کتنا پیسہ ملے گا بابو؟” سب یہی پوچھتے ہیں۔ “بنجر ڈھوک کا بھی اِتّا ]اتنا[ ہی مل جائے گا۔”

پروجیکٹ کے عہدے دار آتے ہیں کبھی کبھی۔ پہلے لسٹ بن جائے نا پوری۔ نئے الفاظ تیرتے ہیں ہوا میں، پیپس اور ریپس۔
“کیا ہے یہ؟” میں سندیپن سے پوچھتی ہوں۔
“پرسنز ایفکٹیڈ بائی پروجیکٹس اور رہیبلٹیشن آف پروجیکٹ ایفیکٹیڈ پرسنز۔”
[Per­sons Affect­ed by Projects & Reha­bil­i­ta­tion of Project Affect­ed]
سندیپن جوش سے بول رہا ہے:

“سوشل امپیکٹ اسیسمینٹ [Social Impact Assessment]کرنے کے لیے ایک ٹیم آئی ہوئی ہے، ان سے انٹرفیس [Inter­face] کرنا ہے۔ فائنل نوٹیفیکیشن [final notification]کے پہلے کھاتےداروں کا نام ایک بار اور ویریفائی [ver­i­fy] کر لیں۔ کیا ٹائم فریم [ time frame] ہے اس کا حساب کتاب؟ اور پھر گریوانس رڈریسل سیل [Griev­ance redres­sal cell] کا کیا؟”

انگلیوں پر کام گناتا ہے ایک ایک۔ اس کے بستر کے بغل میں تھاک کی تھاک کتابیں ہیں، آندرے بیتل Andre Beteille اور شری نواس[Srinivasa Ramanu­jan] درکھائیم [Émile Durkheim] اور ویبر[Max Weber] ، مارگریٹ میڈ[Margaret Mead] اور ملنووسکی [Bro­nisław Kasper Mali­nowsk]… این پی آر آر کی فوٹوسٹیٹ کاپی، رنگے ہوے کاغذ آگے کی کارروائی کے بلوپرنٹس۔ اس کی آواز کمرے میں بےچین گھوم رہی ہے۔ کتنا کتنا کرنا باقی ہے، کل پرسوں مہینہ بھر بعد۔ میں تھکی ہوں، دن بھر کی دھوپ دھول میں۔ موٹا لال چاول اور بانس کا اچار کھا کر من آسودہ نہیں ہوا ہے۔ سندیپن کی باتوں کی آگ بجھ رہی ہے۔ اتنی دشواریاں میرے بس کی کہاں۔ میں بھوسے کے ڈھیر پر ڈھلک جاتی ہوں۔ سندیپن مٹھی کی اوٹ بنا کر دھواں پھینک رہا ہے۔

“ہمیں ان بھولے قبیلے والوں کے حق کی لڑائی لڑنی ہے۔ صحیح معاوضہ دلوانا ہے۔ رہیبلٹیشن اور رئیمپلیمینٹ[reimplement] ۔ گاؤں میں بجلی، اسکول، دواخانہ۔ پروجیکٹ کے اعلی عہدیداروں سے میٹنگ ہے، اس ہفتے۔ تم گاؤں کی عورتوں سے مل لو، پوچھ لو۔”

اس کی باتیں چل رہی ہیں۔ ڈھبری کی پیلی روشنی میں میں سندیپن سے کچھ اور چاہتی ہوں۔ اس پھوس کی کٹیا میں آج ہم اکیلے ہیں ورنہ شپرہ اور رشید بھی ہوتے ہیں۔ بم بہادر سنگھ بھی کبھی کبھار ہوتے ہیں۔ شپرہ اور رشید ہمارے ساتھ آئے ہیں۔ بم بابو ہزاری باغ سے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کے رٹائرڈ آدمی، کس جوش سے کام کرتے ہیں بےلوث جذبہ۔ اچھا سمے کٹتا ہے، صحیح کام کرتے ہیں۔ سفید مونچھوں سے چھپی ڈھکی بڑبڑاہٹ ہوا میں لٹکی رہتی ہے کچھ لمحے۔ کچھ اور ورکر بھی بائی روٹیشن by rotation]/باری سے[ آتے رہتے ہیں۔

“یہاں کا کام نپٹے گا تو ہم بولنگیر نوپاد اور کلاہانڈی جائیں گے۔”

اندھیرے میں بیڑی کی نوک جل بجھ رہی ہے۔ یہاں آ کر سندیپن بیڑی پر اتر گیا ہے۔ ان روم لو لائیک رومنز ]جیسا دیس ویسا بھیس/[In Rome like Romans۔ لیکن میں تو ایسے نہیں رہ سکتی۔ میرے پیروں میں ایڑیاں پھٹ گئی ہیں۔ کالی سوکھی میل بھری۔ میرے بال جٹوں سے بھرے ہیں۔ کبھی کبھار پکڑ کر جوں بھی نکال لیتی ہوں۔ ارنڈی کے تیل سی مہک آتی ہے مجھ سے۔ اوہ، کیوں دیکھے گا سندیپن مجھے۔ پر اس سے بھی تو بیڑی کی بو آ رہی ہے۔ اس کی داڑھی بھی تو دھول سے بھوری ہے۔ پر پھر بھی وہ جنگل کا چیتا دکھتا ہے، چست، پھرتیلا۔ اس کی جنگلی آنکھوں کی لپک کے پیچھے پیچھے تو میں آئی۔ میں اپنے من کی آگ دونوں ہاتھوں میں بھرے نیند کے اندھیری غار میں اتر جاتی ہوں۔

کٹیا کی دیوار پر کوئی سایہ ڈول رہا ہے۔ کارو مانجھی کے کالے چکنے بدن پر چیتا سوار ہے۔ لال مٹی کی دھول اڑ رہی ہے۔ چیتے کے پنجے کالے پتھر پر کھرچنے نشان بنا رہے ہیں۔ چیتا ہنکار رہا ہے، کیسی کریہہ آواز۔ میں ڈر سے آنکھیں موند لیتی ہوں، بانہوں میں سر دھنسا کہاں گھس جانا چاہتی ہوں۔ کانوں میں جنگل کے ڈھول نقارے بج رہے ہیں اور میرے ڈر کی، گِھن کی کھٹی لہر میرے جسم سے پھوٹ رہی ہے۔ میں ہاتھ بڑھا اس بو کو روکنا چاہتی ہوں۔ میرے بڑھے لاچار ہاتھوں کو مانِک پرکیتھ تھام لیتے ہیں:

“ڈاکٹر کہتا ہے، ملیریا کا ڈلیریم delirium]/خفقان[ ہے۔ پتہ نہیں ٹائفس­ty­phus میں کیا کیا بک رہی تھی۔”

“مانِک پرکیتھ پروجیکٹ کے عہدیدار ہیں۔ انڈسٹریل انجینئر۔ آر اینڈ آر پالیسی امپلیمینٹ implement]/لاگو[ کرانے آئے ہیں۔”

“اس دن یہی آپ کو جیپ میں لاد کر پروجیکٹ اسپتال لائے”، ڈاکٹر ویست باہر نکلتے بولتا ہے۔ مانِک پرکیتھ ذرا سا لال پڑ جاتے ہیں۔ کچھ دیر اور چپ بیٹھتے ہیں پھر مبہم سا “آتا ہوں۔”، کہہ چلے جاتے ہیں۔ میں کمرے کی ہری سکرٹنگ skirting]/ کمرے کی دیوار کی تختہ بندی[ دیکھتی ہوں، بسترے کی اجلی چادر دیکھتی ہوں، دیوار پر پروجیکٹ لوگو logo]/نشان [کا اگتا سورج دیکھتی ہوں، کھڑکی کے ہلتے ہوے پردے سے باہر کی ٹکڑا بھر دنیا دیکھتی ہوں۔ ہفتے بھر اسپتال میں ہوں۔ شپرہ آتی ہے، بم بابو آتے ہیں۔ رشید بھی آتا ہے۔ سندیپن نہیں آتا۔

مانِک پرکیتھ روز آتے ہیں۔ کبھی کبھی شام کو بروس چیٹون [Bruce Chatwin] پڑھ کر سناتے ہیں۔
In the begin­ning the earth was infi­nite and murky plain, in the morn­ing of the first day, the sun felt the urge to be born…
] شروع میں زمین لامتناہی اور صفاچٹ میدان تھی، پہلے دن، سورج کو اگنے کی خواہش ہوئی[

اسی شام تارے اور چاند بھی پیدا ہوتے۔۔۔ تو ایسا ہوا، اس پہلی صبح، کہ ہر پرکھ نے سورج کی گرمی کا دباؤ اپنے پوپٹوں پر محسوس کیا اور محسوس کیا اپنے جسم سے بچوں کو جنم لیتے ہوے۔ سانپ آدمی نے محسوسا سانپوں کو اپنے ناف سے پھسل کر نکلتے ہوے۔۔۔ اپنے گڈھوں کے تلوں پر آدی باسی انسان نے پہلے ایک پاؤں ہٹایا پھر دوسرا۔ پھر انھوں نے اپنے کندھوں کو سکوڑا پھر بانھوں کو۔ انھوں نے اپنے جسم کو مٹی کیچڑ سے باہر نکالا، جھاڑا۔ ان کی آنکھیں چٹ سے کھلیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کو کھلی دھوپ میں کھلتے دیکھا۔ ان کی جانگھوں سے کیچڑ آنول نال کی طرح گرا۔ نوزائیدہ کے پہلے رونے کی طرح پھر ہر پُرکھ نے انا منھ کھولا اور کہا، میں ہوں۔ اور یہی پہلا اور بعد کا پہلا کام تھا، نام رکھنے کا۔ سب سے اسرار بھرا اور سب سے مقدس پرکھوں کے آدی گیت کا پہلا دوہا۔ اور اس طرح انھوں نے گایا ندیوں کو، نالوں کو، پہاڑوں کو، ریگستانی ٹیلوں کو۔ انھوں نے شکار کیا، بھوج کھایا، پیار کیا، رقص کیا، موت دی، پائی۔ جہاں جہاں وہ گئے ان راستوں پر انھوں نے گیتوں کی پگڈنڈیاں چھوڑیں۔ پورے سنسار کو انھوں نے گیت کی چادر میں لپیٹ لیا۔ اور جب پوری دنیا گا لی گئی، وہ تھک چلے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر میں برسوں کا سکوت سرایت کرنے لگا۔ کچھ وہیں جہاں کھڑے تھے زمین میں سما گئے۔ کچھ غاروں میں بلا گئے۔ کچھ اپنے دائمی گھروں میں پانی کے کنؤوں میں جہاں سے وہ پیدا ہوے تھے، کھیت ہو گئے۔ سب کے سب آخر واپس اندر وہیں چلے گئے جہاں سے وہ آئے تھے۔

میں ان کی بھاری گہری آواز کے جادو میں اتر جاتی ہوں۔ ریشے سا چھیل چھیل کر الٹ پلٹ کر دیکھتی ہوں۔ ہتھیلیوں میں باندھ کر روک رکھنا چاہتی ہوں۔ پھر کب آنکھیں مند جاتی ہیں۔ میں سندیپن کو بھولنا چاہتی ہوں۔ اچھا ہوا بولنگیر گیا۔ میں مانِک پرکیتھ کو ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں، میری دکھائی پر لال پڑتے ہوے دیکھتی ہوں۔ پھر اداس ہو جاتی ہوں۔ نہ میں ناچ سکی نہ جی سکی۔ میری سوکھی کلائیوں کی نیلی لکیروں پر کس سفر کی عبارت اور لکھی ہے یہ پڑھنا چاہتی ہوں۔ گھر سے نکلے کتنے مہینے بیت گئے پر نہ ماں کی یاد ستاتی ہے نہ بابا یاد آتے ہیں۔ ایسی ہاری ہوئی حالت میں بھی نہیں۔ جب بلندی پر جاؤں گی تب یاد کروں گی۔ ابھی یہ لگژری luxury]/تعیش[ اپنے کو نہیں دینا۔ میرا گیت ابھی ادھورا ہے۔ اس کے سُر تال سب بھینگے ہیں۔ سب طرف رف ایجیز rough edges]/کھردرے کنارے[۔ کسی رندے سے رگڑ گھس کر پورے جیون کو چکنا کرنا ہے۔ پر کیوں۔ ایسا بھی کیا۔ پوروں پر روکھا سا کچھ رات دن لگتا نہ رہے صرف اسی لیے؟ صرف صرف اسی لیے۔ ایسے بےسہارے اکیلےپن میں گرم آنسو کنپٹی پر بہہ کر روکھے بالوں میں جانے کب اور کتنا جذب ہوتے رہے ہیں، ایسا جان لینے والا بھی جب کوئی نہیں تو ان کا ایسے بہہ جانے کا بھی کیا فائدہ۔ رات کے گم سناٹے میں خود ہی اپنی پتلی بانہوں کو سہلاتی ہوں، کبھی چھاتیوں کو مٹھی میں بھر لینے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ زندہ ہوں، اس بھر کے لیے۔ ٹھنڈی بےجان، بےروح۔ مرے ہوے ماس کا لوتھڑا بھر۔ کس گرمی، کس حرارت کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔ لوہے کے پلنگ کی سلاخیں اتنی سرد ہیں۔ میں اپنے گرم ماتھے کو ٹکا دیتی ہوں۔ کھڑکی سے ٹکڑا بھر اندھیرا اندر آتا ہے، پھر دھیرے سے پورے وجود میں پسر جاتا ہے، سب طرف۔ کوئی کونا اچھوتا نہیں بچتا۔ نہ رات میں نہ صبح کو۔

“مجھے کیا سکھاؤ گی، ‘ہو’ کہ ‘منڈاری’؟ بولتی کون سی بھاشا ہو؟” میری مسکراہٹ کمزور ہے۔ اس کی ہنسی پِھک سے کھلتی ہے۔ بےآواز دہری ہو جاتی ہے کسی انجانے خوشی سے۔ اوہ کیسا بھولا سہج من ہے اس کا۔ میرے کلیجہ میں ٹیس اٹھتی ہے۔ کیسی تو حیرانی سے دیکھتی ہوں، اسے۔ چھ مہینے کے بچہ کو پیٹھ سے باندھے آئی ہے مجھے دیکھنے، پانچ کوس چل کے۔ اس کے گودنے سے بھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلاتی ہوں۔ کتنے کڑے کھردرے ہاتھ۔ کیسا سکھ مل رہا ہے۔ آتما تک کچھ بھیگ جاتا ہے۔

“دیدی بہت زیادہ بیمار ہے؟”

باہر کسی وارڈ بوائے سے پوچھ رہی ڈُمری کے آواز کی بےچینی کہیں میرے من کے آس پاس گھومتی ہے، منڈلاتی ہوئی چیل جیسے۔ مجھے کوئی چیر رہا ہے ریشہ ریشہ۔

رات آتی ہے، دن کسی پھسلتی بہتی ندی سا بہہ جاتا ہے۔ سب کے چہرے گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ کبھی مرِدُل اپنے ہاتھوں میں چاپسٹکس تھامے مجھے دھمکاتا ہے، یو فرِجڈ بِچ، پر اسے آرام سے پرے ہٹا کر مانِک آنکھیں موندے کسی آباو اجداد کا آدی گیت سنانے لگتے ہیں۔ اس گیت پر جنگل میں ایک ایک کر کے جانور، پیڑ پہاڑ کھڑے ہوتے ہیں اور گاؤں گھر کی عورتیں جھوم جھوم کر ناچتی ہیں اسی سنگیت کے لے میں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں، ایک ہوں۔ خوشی کے بہتے دھن پر تیرتی میں پھر کیا دیکھ کر ہکابکا رہ جاتی ہوں۔ پسینے سے لت پت کیا کیا بڑبڑاتی ہوں، رات دن۔

سب سپنا ہے، یہ کیا کسی نے نہیں بتایا تمھیں؟ کوئی لڑکی کتنا کتنا بھٹکے گی۔ لوٹو اب لوٹو۔ بڈھی کے سن سے سفید بال اور کالے جُھڑیائے چہرے سے کٹھورتا برستی ہے۔ اس کی آنکھیں سانپ کی آنکھیں ہیں۔ ایک بار بھی پلک نہیں جھپکتی۔ کُبڑ سے دوہرا جسم کسی جادو سے سیدھا کر اپنی انگلی میری طرف بڑھاتی ہے، لوٹو لوٹو۔ پیچھے سندیپن ہنستا جاتا ہے، بےتحاشہ، کارو کو اپنے کندھے سے سٹ کر ہنستا ہے۔ بوڑھی ٹوٹکے کا پتّا اور بوٹی میرے سرہانے رکھتی ہے۔ اس کی پیٹھ پھر دوہری ہو جاتی ہے۔ دروازے پر مڑ کر ایک بار دیکھتی ہے، انگلی بڑھا کر اشارہ کرتی ہے۔ اندھیرا پھر گرنے لگتا ہے۔

صبح میں بےچین ہوں۔
“گھر جائیں گی کیا؟” مانِک پوچھتے ہیں۔ “میں انتظام کروا دوں گا۔”
راشد کہتا ہے، “میں چلوں گا ساتھ۔”
“نہ”، میں سر ہلاتی ہوں۔

دروازے پر بوڑھی کھڑی ہے۔ مٹ میلی ساڑھی کے نیچے اس کے کالے روکھے پیر میں دیکھتی ہوں۔ برسوں پرانے پیڑ کا سخت چھال بھرا تنا، موٹے کھردرے انگوٹھے اور انگلیاں۔ سب سیدھے ہیں الٹے نہیں۔ اس کا چہرہ سخت ہے۔ کچھ بولتی نہیں۔ بس آ کر ہتھیلیوں میں مسی تسی پتوں کی پوٹلی میرے سرہانے رکھ، نکل جاتی ہے۔ میری زبان تالو سے سٹ گئی ہے۔ مانِک چپ کھڑے ہیں۔

میں ہکلاتی ہوں، “یہ کیسے آئی؟”
“کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں؟”
“ابھی بھی ڈلیریم ہے شاید۔” وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہیں۔

“ڈُمری کو بلوا دیجیے”، میں بڑبڑاتی ہوں۔” لمبی سانولی ڈُمری اپنے بچے کو پیٹھ پر لادے آئے گی صرف مجھے دیکھنے۔ جنگل کا میٹھا سہج لوک لے کر آئے گی، اپنے ساتھ۔ سب فطری، ستھرا، صاف۔ صاف میٹھا پانی۔ کتنی پیاس ہے۔ کیسے بجھے گی۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہوں۔ مانِک گھبرا گئے ہیں۔

رات بم بابو رکے ہیں اسپتال میں۔ کمرے میں حبس لگتا ہے۔ ایسا بڑبرا کر کرسی کھینچ باہر کوریڈور corridor]/برآمدہ[ میں چلے جاتے ہیں۔ بم بابو کے چہرے میں مجھے ایک اطمینان دِکھتا ہے۔ سفید اوپر کو اینٹھی ہوئی بمپلاٹ مونچھیں۔ چہرہ ایک دم سنگین ہو جاتا، اگر ناک ایسی گول مٹول نہ ہوتی۔ چھتری ہوئی بھنوؤں کے نیچے آنکھیں بھی ایک دم نیک۔ ہر آدھے گھنٹے میں جھانک لیتے ہیں۔

“کچھ درکار ہو تو کہیے گا۔”

میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ میں کہتی ہوں، یہیں آ جائیے، بیٹھیے، بتائیے اپنے بارے میں، لے جائیے مجھے اس اسپتال کے اداس کمرے سے باہر۔ میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ آدھی رات بیت گئی ہے۔ کوریڈور میں سائیں سائیں ہوا بہنے لگی ہے۔ کھڑکی کے شیشے سب چٹخے ہوے ہیں۔ بم بابو کرسی اندر کمرے میں کھینچ لائے ہیں۔ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ہے۔ آدھا چہرہ نیچے بہہ گیا ہے، ڈھیلے ماس کا پِنڈ۔ ناک سے گھراہٹ نکل رہی ہے۔ ان کی بےخبر گہری بےخبر نیند سے مجھے بےطرح حسد ہوتا ہے۔

مہوے کے پھولوں پر مجھے سندیپن لے رہا ہے۔ اس کے ہونٹ نشہ سے بھاری ہیں۔ میرے ہلکے ہیں۔ اس کی انگلیاں سخت ہیں، میری کومل۔ وہ بھاری ہے۔ میں ہلکی ہوں۔ اس نے اپنا چہرہ میرے چہرے پر ٹکا دیا ہے، کومل۔ اس کی جِلد نمکین ہے، سوندھی مٹی اور کالا پہاڑ، کِل کِل بہتا جھرنا۔

“میں تمھیں بھور کی اوس دینا چاہتا ہوں، رات کا اندھیرا بھی”، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے کہتے ہیں۔
“اور میں تمھیں اپنے بالوں کی مہک دیتی ہوں۔“ میں بال پھیلاتی ہوں۔
“میں تمھیں ہوا دیتا ہوں، اور پانی۔”
“میں اپنی ناف کی گہرائی، اس کے پھول۔” میں مہکتی ہوں۔
“میں تمھیں اپنی سوچ دیتا ہوں۔”
“میں تمھیں اپنی سانس۔” میری سانس گنگناتی ہے۔
“میں تمھیں سوچتا ہوں۔”
“میں تمھیں سوچتی ہوں۔”
میں ہنسنے لگتی ہوں، دھیمے دھیمے۔
اس کی ہنسی میری ہنسی کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔
میں کہتی ہوں، مجھے چکرگھنی دلاؤ گے؟

وہ میری بانہہ تھام لیتا ہے۔ میں ہوا میں ناچتی ہوں۔ میرے بال کھل جاتے ہیں۔ میری بانہیں میرے سر کے پیچھے آسمان تھام لیتی ہیں۔ وہ مجھے تھام لیتا ہے۔

“تھم لو اب ذرا۔” وہ میری سانسوں کو تھام کر کہتا ہے۔
“تھم گئی ذرا۔” میں سانسوں کو اسے پکڑا کر کہتی ہوں۔
میری سانس کو ہوا میں پھونک کر کہتا ہے: “اب؟”
“اب۔” میں جواب دیتی ہوں۔ رات کو مٹھی میں بھر بھر کر میں مسل دیتی ہوں۔ اس کے چہرے پر ایک بار مسل دیتی ہوں۔
“آج اچھی دکھتی ہیں۔” بم بابو جمائی لیتے ہیں۔
“سینٹر سے ہو کر آئیں ہم؟” پھر فٹافٹ نکل پڑتے ہیں۔

جانے ایسے کتنے دن بیتے۔ ایک ایک کر کے، ایک کے بعد ایک۔ شہر لوٹنا پھر ایک ٹھیک ٹھاک نوکری تب جب امید نہ تھی۔ پیسے، سکھ آسانی سب لیکن پھر بھی کچھ چُھوٹا چُھوٹا۔ کون سا خبط، کیسی سنک؟ اتارا گیا کپڑا ہو جیسے جسم۔ گیا ہوا موسم ہو جیسے من۔

“اوہ! سندیپن ہاؤ آئی سٹل یرن فار یو۔”
Oh! Sandeep­an, how I still yearn for you.] /اوہ ! سندیپن مجھ ابھی بھی کس قدر تمھاری آرزو ہے۔[
بِدپّا کہتا ہے، “ہی واز اے کیڈ۔”
He was a kid.]/ نرا بچہ تھا وہ۔[
“نو، ہی واز گے۔”
No, He was a gay.]/ نہیں، ہم جنس پرست تھا۔[
“سو؟”

“سو وہاٹ؟ آئی سٹل یرن فار ہم۔ So what? I still yearn for him]/سو کیا؟ مجھے اب بھی اس کی خواہش ہوتی ہے۔ [میرے اندر کوئی سوراخ ہے جو بھرتا نہیں کبھی۔”

“اور میرے سوراخ کا کیا؟ میرا کیا؟ تم کیا کبھی سمجھے گا ]سمجھو گی[ نہیں دلنواز؟ نینو انوزبل مین ائپوتانو، نوو ننو چوڑلیوو؟” )میں انوسبل مینin­vis­i­ble] man/غائب آدمی [ ہو جاؤں گا اور تم دیکھو گی بھی نہیں؟ (
اس کا براؤن منکی فیس بجھ جاتا ہے۔

جانے کیا کیا بولتا ہے یہ چھوکرا، میں چیزیں سمیٹتی ہوں۔ تھوڑا سا جنگل میں سمیٹ لائی تھی اپنے ساتھ، اب وہی کھینچ رہا ہے۔ کیا جانے اس بوڑھی کا ٹوٹکا ہو کوئی۔

“او بِدپّا کانٹ یو سی،Oh Bidap­pa! Can’t you] /او بِدپّا دیکھو[ مجھے لوٹنا ہی ہو گا۔” بِدپّا ناراض ہے مجھ سے، بہت ناراض۔
“یو آر رننگ آفٹر ہم۔” you are run­ning after him.] / تم اس کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔[
“نہیں۔”
“پھر میں کنسیڈ concede]/تسلیم[ کرتی ہوں۔”
“ایون اف آئی واز ہی وڈنٹ ہیو می۔”
Even if I was. He wouldn’t have me.]/ اگر میں اس کے پیچھے بھاگ بھی رہی ہوتی تو تب بھی وہ مجھے قبول نہ کرتا۔[
“لائیک یو وڈنٹ ہیو می۔” Like you wouldn’t have me.]/ جیسے تم مجھے نہیں کرتی۔[
میں ہنسی سے دوہری ہو جاتی ہوں۔

“کیا بِدپّا، کبھی تو مذاق چھوڑو، ورنہ ایک دن میں سچ مچ تمہاری بات سچ مان لوں گی اور تمھارے گلے پڑ جاؤں گی۔” میری ہنسی رکتی نہیں۔ اس کی آنکھیں اداس ہیں۔ پھر وہ بھی ہنسنے لگتا ہے۔

اسٹیشن پر مستعدی سے میرا سامان چڑھاتا ہے اور پلیٹ فارم پر آخر تک ہاتھ ہلاتا ہے۔ پھر گلا پھاڑ کر چلاتا ہے،
“دل نواز تم بہت اچھی ہو، نوو چالا منچیدانوی۔”

(زمین اکوائیر ہو گئی۔ گاؤں والوں کو خوب پیسہ ملا۔ کچھ نشہ میں اڑایا، کچھ دارو پر، کچھ عورت پر۔ کچھ بڑایا کچھ لٹایا۔ خوب کھایا خوب پیا۔ پیسہ پنکھ لگا کر اڑا، مرغی جیسا، بطخ جیسا، تیتر بٹیر جیسا۔ گاؤں جنگل جشن منایا مہینوں دن تک۔ اتنا پیسہ کس نے دیکھا تھا۔ رات دن نشہ ہی نشہ۔ عورت کا، دارو کا، پیسہ کا۔ کھیت بُھولے، جنگل بُھولے، گائے بکری بھینس مرغی سب بُھولے۔ مچھلی کا پوکھر بھولے، پیڑ کے پکھیرو بُھولے۔ ٹوٹکے، ہنر سب بُھولے۔ جیسے پورے گاؤں میں کوئی بُھولنے کی وبا پھیلی۔ ایک ایک کر کے سب بُھولے۔ اور جب سب بھول چکے اور بُھولنا پوری طرح سے پورا ہوا تب جا کر یاد آنا شروع ہوا۔ سب سے پہلے کھیت یاد آیا، پھر جنگل یاد آیا۔ مچھلی، مرغی، بھینس یاد آئے۔ اپنی عورت یاد آئی، اپنا بچہ یاد آیا۔ پر یاد تو آیا، اس سے کیا۔ جب یاد آیا تو لوٹے۔ لوٹے تو دیکھا کہ لوٹنے کی جگہ نہیں۔ گاؤں کی زمین بلا گئی تھی۔ مٹی کے کوڑے گئے ڈھوہ تھے، مشین تھی، کانٹوں کی باڑ تھی۔ “نو ٹریسپاسنگ” No trespassing]/ کوئی مداخلت بے جا نہیں ہو گی[ کا بورڈ تھا۔ ٹریکٹر اور دیوہیکل کرین تھے۔ جگہ جگہ “سرکاری جائیداد” کا نوٹس تھا۔ پیلے جیکٹ اور پیلے سیفٹی ہیلمیٹ میں جانے کہاں کے مزدور تھے۔ عجب سی بھاشا بولنے والے ٹھیکیدار تھے۔ جیپ پر گھومنے والے سرکاری اہلکار تھے۔ خاکی وردی والے رائفل والے سکیورٹی گارڈز تھے، تعینات، مستعد۔

باؤنڈری وال[boundary wall] اور چینلنک فینس[chain-link fence] باڑ کے باہر کھڑے ہکّا بکّا، نشہ اترے مرد تھے، جھنڈ کے جھنڈ۔ باڑے کے اندر ہنکائے گئے جانور۔ بس ایک فرق تھا، یہ باڑے کے باہر تھے۔ ان کے پاس اب کچھ نہیں تھا، نہ پیسہ، نہ کھیت۔ اور ان کو اپنے مطابق ہانکنے کے لیے جلدی ہی کچھ سماج وادی مورچوں کے کارکن جُتنے والے تھے، کچھ دلال۔ ان کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے۔ زمین کے بدلے نوکری کا نعرہ بلند کرنے والوں کی بھیڑ۔ کچھ کو کام ملے گا، صاف صفائی کا، مینٹیننینس maintenance]/دیکھ ریکھ[ کا، باغبانی کا، مزدوری کا۔ جنگل کے جنگلی جانوروں کو پالتو بنانے کا۔

ارتقا کے راستے پر اتنی قربانی کا تو حق بنتا ہے صاحب۔ پروجیکٹ کے ٹیمپرری temporary]/عارضی[ ٹاؤن شپ کے کلب میں بیٹھ کر، سگریٹ کے دھوئیں کے چھلّے اڑاتے جام سے جام ٹکراتے، بلڈی میری اور جِن وِد ووڈکا کے نشیلے گھونٹ بھرتے، ٹینس کے ایک گیم کے بعد صاحب لوگ ایسی کتنی گرماگرم بحث سے اپنا ہاضمہ درست اور بھوک تیکھی کریں گے۔ میگزینز اور اخباروں میں دھواں دار، طرار رپورٹنگ ہو گی۔ میدھا پاٹکر اور ارُندھتی راے، سندرلال بہگنا اور بابا آمٹے کو یاد کریں گے۔ انفراسٹرکچر درست کرنے کی بات ہوگی۔ چین جب گئے تب دیکھا، ابھی ہم انفراسٹکچر میں کتنا پیچھے ہیں، سڑک، بجلی پانی۔ امریکہ اور یورپ تو خیر چھوڑ ہی دیں ابھی۔ گلوبل پاور ہونے کے لیے پہلا قدم کیا ہے، جیسی بحث ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں پسینہ چُھڑوائیں گی۔ پر ان قبائیلیوں کو کون یاد کرے گا؟

)کوئی لڑکی جو کسی لڑکے کے پیچھے پاگل ہوتی وہاں پہنچی اور پاگل ہو گئی ان کے لیے؟ کیوں بھئی؟ کیوں بھلا؟ ایسی بےوقوفی کا مطلب کیا۔ اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر، مارکن کی موٹی ساڑی پہن کر گاؤں میں رہ کر کیا کر لے گی آخر؟ کوئی ڈُمری کو پڑھا دے گی، کسی بوڑھے کی حق کی لڑائی کے لیے مانِک پرکیتھ کے دفتر پہنچ کر لکھا پڑھی کرے گی، کسی کا معاوضہ جلدی مل جائے اس کی لڑائی لڑے گی۔ اپنے حصہ کا جتنا بن پڑتا ہے اتنا بھر کرے گی اور کیا۔ بم بابو سوچتے ہیں۔ خوب سوچتے ہیں آج کل۔ خوب خوش بھی رہتے ہیں۔ خوب مست ہونے والی خوشی نہیں۔ بس ٹھہرے، ہوے پانی جیسے ساکن خوشی۔ آتما جڑا جائے ایسی خوشی۔ چائے کا پانی چڑھاتے ہیں۔ سورج ڈوبنے کو ہے۔ ڈوبتے سورج کو تاکتے ہوے چائے پینے کی خوشی، دن بھر کے تھکان سے چور ہونے کی خوشی۔ سانجھ ڈھل رہی ہے۔ بس یہ لڑکی آ جائے، دن بھر کی تھکی ہاری ہو گی۔ بم بابواپنایت سے سوچتے ہیں۔ دور پروجیکٹ ٹاؤن شپ میں جگرمگر بتیاں چمچما رہی ہیں۔ باؤنڈری وال کے اس پار ابھی بھی پیلا مٹ میلا اندھیرا ہے۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *