Categories
شاعری

بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو کبھی موسم بنا لینا

پرندے کی چہک لے کر
اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو
کبھی موسم بنا لینا
کبھی کھڑکی کے شیشوں پر
برستی بارشوں سے اک ذرا سی بوند لے لینا
اسے جگنو بنا لینا
کسی چھوٹی سی خواہش سے یہ دل آباد کر لینا
کبھی خوابوں کے پھولوں کو
سرہانے رکھ کے سو جانا
کبھی تنہائیوں کو اوڑھ کر چپکے سے رو لینا
اکیلے میں ستاروں کو
کبھی ہمراز کر لینا
کبھی آوارہ پھرتی رات کو مہمان کر لینا
کبھی پیڑوں کو ہمسایہ بنا لینا
کسی ساحل کے پتھر کو کبھی ہمراہ کر لینا
اسی سے کھیلتے پھر گھر کے دروازے پہ آ جانا
اسے کچھ سوچ کر اندر بھی لے آنا
پرانی یاد کے ٹکڑوں سے اک مفلر بنا لینا
ادھوری خواہشیں بے نام نظموں میں چھپا کر
کاغذی چڑیاں بنا لینا
انہیں پھر شہر کی گلیوں مکانوں میں اڑا دینا
یونہی بے کار سے ان مشغلوں سے
دل کو بہلاتے گزر جانا

By سرمد صہبائی

سرمد صہبائی پاکستان کے معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ہدایت کار ہیں۔ آپ کی نظم اپنے جدید محاورے اور تازہ فضا کے باعث جانی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیلی ڈرامہ 1968 میں پاکستان ٹیلی وژن میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد لکھا۔ آپ کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ فلم "ماہ میر" کے لیے لکھا گیا آپ کا سکرپٹ ناقدین اور ناظرین سے داد وصول کر چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *