Laaltain

ریحانے جباری

22 اگست، 2016
Picture of Laaltain

Laaltain

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ریحانے جباری

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
نہیں، ایک مرد کی پرچھائیں کو
میں نے قتل کیا ہے
ہاں میں نے قتل کیا ہے
تیز دھار چاقو سے
تا کہ خون بہے
اور بہتا رہے
چوتھی منزل سے
تفتیش گاہ کے تہہ خانے تک
جہاں مجھے کئی بار زندہ مار ڈالا گیا
اور میں نے لکھ دیا
بیانِ حلفی میں
جو انہوں نے کہا
تا کہ بادوک زندہ رہے
اور کسی اور ٹین ایجر کو چیرا توڑا نہ جا سکے
جیل میں اور عدالت میں
موجود ہونے کے باوجود
خدا مجھے نہیں بچا سکا
خدا انسانوں کے لیے بنائے ہوئے قانون کے ہاتھوں مجبور ہے
آنکھ کے بدلے آنکھ
کان کے بدلے کان
جسم کے بدلے جسم
لیکن پرچھائیں کے بدلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری، بادلوں کی چھاؤں جیسی،
کم سِن روح کو پھانسی دے دی گئی
دیکھو تو، شب ختم ہونے سے قبل
میری صبح دار پر طلوع ہو چکی ہے
میرا بے سایہ جسم اب دھوپ چھاں کا محتاج نہیں رہا
ماں! مجھے دفن مت کرنا
قبروں کے شہر میں
ہوا کو دفن مت کرنا
اور ماتمی لباس پہن کر
رونا مت!
میں بے نشان رہنا
اور بے اشک بہنا چاہتی ہوں
اس زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں
جہاں ہوا، ابر اور آنسوؤں کی قبر بنائی جا سکے
مٹی میرا جوف، میرا اُطاق نہیں
ماں! دروازہ کھول
میرا راستہ ختم ہو گیا ہے!!

Image: Orkideh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *