Categories
شاعری

رستے میں کھو جانے والا اعتبار

ثاقب ندیم: چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
رستے میں کھو جانے والا اعتبار
چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ناراض ہے اپنے
ستر سالہ بُوڑھے خواب سے
اور سامنے بیٹھی ہوئی
رعونت میں غوطے کھاتی ریش سے
اُس کا جی چاھتا ہے کہ——–؟
لیکن افسوس کہ
اُس کی جیب میں رکھا اُسترا
راستے میں کہیں کھو گیا ہے
نہتے شخص کے خوابوں پر
کیا اعتبار کرنا، اور نہ ہی
اس کے غصے پر۔۔۔۔۔۔۔
استرے کی طرح
اس کا غصہ بھی راستے ہی میں کہیں
کھو سکتا ہے

Image: Henrietta Harris

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *