Categories
شاعری

سفید بادل

نصیر احمد ناصر: سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
سفید بادل
سفید بادل عجیب شکلیں بنا رہے ہیں
وہ ریچھ دیکھو
وہ ہاتھیوں کی کئی قطاریں
وہ بوڑھا بابا کوئی کھڑا ہے
وہ جیسے بچے کئی غباروں سے کھیلتے ہوں

سفید بادل ہوا کے جھولے پہ جھولتے ہیں
کبھی سمٹتے ہیں رنج و غم سے
کبھی خوشی سے یہ پھولتے ہیں
عجب دوگیتی میں ہیں معلق
نہ آسماں کو نہ اس زمیں کو یہ بھولتے ہیں

سفید بادل ازل سے یونہی بھٹک رہے ہیں
سنا رہے ہیں عجیب قصے
عظیم کہنہ عمارتوں میں
قدیم روحوں کا اک جہاں تھا
بس ایک سیال روشنی تھی
بس ایک منظر دھواں دھواں تھا
رکا ہُوا سا کئی زمانوں کا کارواں تھا

سفید بادل سیاہ دھبوں میں ڈھل رہے ہیں
افق پہ طوفاں مچل رہے ہیں
زمیں کے اوپر، زمیں کے نیچے
ہزارہا روگ پَل رہے ہیں
سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں!!

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *