Categories
شاعری

قبرستان کے نل پر

شارق کیفی:
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں
قبرستان کے نل پر
بلا سبب بڑبڑا رہے ہو
جو پھنس گئے ہو
تو کم سے کم اب ثواب ہی ڈھنگ سے کما لو
کہا تو تھا میں نے
نل چلانے میں کوئی ساجھا نہیں کرے گا
مگر تم اپنی ترنگ میں تھے
ارے وہ حالات اور تھے جن میں ہر کوئی
ہر قدم پہ کاندھا بدل رہا تھا
بہ اب تو تدفین ہو چکی
بھیڑ مطمئن ہے
کہ آج بھر کا ثواب اس نے کما لیا ہے
تو کون آگے بڑھے گا بولو
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *