Categories
شاعری

ایک نظم اپنے اداس شہر پر

تنویر انجم: ٹیڑھی کمزور دیواروں سے دور بیٹھوں
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
ایک نظم اپنے اداس شہر پر
چلے گئے وہ سب
میرے شہر سے
جو بنا سکتے تھے
سیدھی مضبوط دیواریں
ان شہروں کو
جہاں مل سکتا ہے انھیں
زیادہ معاوضہ
سیدھی مضبوط دیواروں کا
رہ گئی ہیں میرے شہر میں
اب صرف ٹیڑھی کمزور دیواریں
ٹیڑھی کمزور تہذیب کی علامت
میرے شہر کی دیواریں

دوڑ رہی ہیں
اونچی نیچی سڑکوں پر میرے شہر کی
بسیں، سائیکلیں اور گاڑیاں
اندھا دھند
تصادم کے خوف سے بے نیاز
ایک دوسرے کا راستہ کاٹتی ہوئی
اذیت سے بھرے دلوں کا عکس ہیں
میرے شہر کی
اونچی نیچی سڑکیں

میرے شہر کے ساحل پر
چل رہی ہیں
مون سون کی ہوائیں
اتنی تیز
ہلادیں قلم
اڑا دیں کاغذ
شاعری کی دشمن ہیں
میرے شہر کے ساحل سے چلتی
مون سون کی ہوائیں

ٹیڑھی کمزور دیواروں سے دور بیٹھوں
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر

By تنویر انجم

تنویر انجم اُردو نثری نظم کا نمایاں نام ہیں۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ تنویر انجم نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا اور شعبہٗ تدریس سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *