Laaltain

آپ کے حسن کے نثار مگر۔۔

29 ستمبر، 2014
Picture of Laaltain

Laaltain

صحافت ہمیشہ سے ایک ایسا حمام ہے جس میں کچھ اصحاب کو ہر ایک پاکی کا غسل کرتا نظر آتا ہے اور کچھ کو اس مشہور کہاوت کے مصداق سب “ویسے” ہی نظر آتے ہیں۔ اگر میرا لکھا آپ کو بھایا تو میں حق کی صدا، اور اگر میں وہ لکھ بیٹھا کہ جس کو پڑھ کر آپ سے بیٹھا نہ جائے تو پھر میں حرام کھاؤ، بکاؤ، لفافہ اور ان گالیوں کے سوا کچھ ایسی گالیوں کا مستحق بھی کہ جو شرفاء کے ہاں مستعمل نہیں۔
انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو اپنے کالم میں ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر کھڑا کیا اور پھر “سیاہی سیاہی” کر دیا۔
غیر مہذب دنیا میں گالی پہلے زبان سے دی جاتی تھی، اور گالی کی عمر اور اس کا پھیلاؤ صرف کہنے سننے والے تک ہوتا تھا، مگر اب “عالمگیر تہذیب” میں گالی بھی عالمگیر ہو چکی ہے۔ زبان سے نکلی گالی سماعتوں سے ٹکراتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اپنا اثر کھو دیتی تھی یا اپنا اثر ایک آدھ شخص تک تا عمر برقرار رکھتی تھی۔ مگر اب گالی ہارڈ یا سافٹ keys سے نکلتی ہے، ورلڈ وائیڈ ویب پر ورلڈ وائڈ جاتی ہے اور انگلیوں کی جنبش سے جنم لیتی گالی کو آنکھیں سنتی ہیں اور یوں یہ گالی ٹیگ یا شیئر ہو کر پھیلتی جاتی ہے۔
یہ گالیاں کبھی اصلی اور کبھی جعلی اکاؤنٹ سے دی جاتی ہیں، لیکن دل سے دی جاتی ہیں۔ گالی دینے والے کو یقین ہوتا ہے کہ “دل سے جو ٹھاہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔” سوشل میڈیا پر گالیاں دینے والے عام طور پر کسی سیاسی جماعت، کسی طبقۂ فکر کے ماننے والے لوگ ہوتے ہیں جو مخالف کو اپنی محبت سے نوازتے رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ صرف انہی خبروں یا آراء پر نظر رکھتے ہیں جو ان کے حق میں یا ان کے خلاف ہیں اس کے سوا کیا لکھا اور کہا جا رہا ہے، انہیں کچھ سروکار نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا سے باہر کی دنیا میں follower کبھی گالی نہیں دیتا، لیکن سوشل میڈیا پر اکثر followers ہی گالی دیا کرتے ہیں۔ مگر رواں ہفتے ایک مختلف بات ہوئی۔ ایک بہت ہی بڑے صحافی نے جس کو ایک زمانہ follow کرتا ہے، خود followers کو پیچھے چھوڑ دیا۔
“کوبرا کے پھن سے کالم لکھنے کے دعویدار” جیّد صحافی نے ایک کالم لکھا اور ان کا وہ کالم موجودہ حالات میں ان کی ہر تحریر سے کہیں بڑا ہِٹ ثابت ہوا۔ ویسے تو ان کی ہر تحریر کمال ہوا کرتی ہے۔ کاٹ دار الفاظ ہمیشہ ان کے قلم کی نوک کے سامنے دست بستہ دل میں یہ تڑپ لیے موجود رہتے ہیں کہ ہم میں سے جو جنبشِ قلم سے حضرت کے صفحے پر منتقل ہوا وہ امر ہو جائے گا۔ ان کی تحریر میں ایسا حسن ہے کہ قاری نثار۔
کہیں آپ یہ لکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے بغیر نون لیگ ایسی ہی ہے جیسے زردی کے بغیر انڈا، جیسے گاڑی بغیر انجن، جیسے نعل کے بغیر گھوڑا اور جیسے وِگ کے بغیر آپ کے “تقریباً ہم نام” سیاستدان۔
انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو اپنے کالم میں ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر کھڑا کیا اور پھر “سیاہی سیاہی” کر دیا۔
انہوں نے لکھا کہ کپتان کی پیٹھ میں تاریخ کے اس نازک موڑ پر خنجر گھونپا گیا ہے۔ یہ ان کا خیال ہے اور اس سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ جاوید ہاشمی کے بیانات سے اور فیصلوں سے تحریک انصاف کو دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ ضمنی انتخابات میں جاوید ہاشمی کے مخالف کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے اور اس کام کو انہوں نے عظیم عبادت قرار دیا۔ یہاں تک بات ٹھیک تھی کہ یہ ان کے خیالات ہیں اور ان کے اظہار کا حق وہ محفوظ رکھتے ہیں۔ مگر میری ناقص اور بہت ہی ناقص رائے میں اس سے آگے بڑھ کر جو انہوں نے رقم کیا وہ مجھ سمیت بہت سوں کے لیے ہضم کرنا ناممکن ہے۔ کیوں؟ میں ان سے عرض کرتا ہوں؛
آپ نے جاوید ہاشمی کو مجہول، بوگس، بدبودار باغی اور “ہمیشہ بکاؤ” قرار دیا۔ آپ نے ناصرف پی ٹی آئی سے ان کی بغاوت کو جعلی لکھا بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اپنے “سابق آقاؤں” سے مل کر بھاؤ بڑھوانے میں ہفتوں سے مشغول تھے۔ آپ نے انہیں ایک سابق حکمران کے فوجی بوٹ کا تسمہ لکھا اور موجودہ کے جوتے کا تلوا لکھا۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ بوڑھا یونیورسٹی کے دنوں میں آپ کا ہم عصر تھا۔ آپ کی ان حالیہ باتوں پر یقین کرتے ہوئے جاوید ہاشمی اور بہت سے دیگر سیاستدانوں کو سیاست کا وہ کچرا مان لیا جائے جو تاریخ کے ڈسٹ بن میں دفن ہونے جا رہے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو پھر 25 دسمبر 2011ء کے بعد ہفتوں تک لکھے گئے آپ کے معرکہ آرا کالموں کا جائزہ لیا جائے، جن میں کہیں آپ یہ لکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے بغیر نون لیگ ایسی ہی ہے جیسے زردی کے بغیر انڈا، جیسے گاڑی بغیر انجن، جیسے نعل کے بغیر گھوڑا اور جیسے وِگ کے بغیر آپ کے “تقریباً ہم نام” سیاستدان۔ 26 دسمبر 2011ء کے کالم میں آپ نے لکھا کہ جاوید ہاشمی سیاست اور جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ذہن سے کھرچ کر کون سے ڈسٹ بن میں ڈال دوں،
آپ صرف صحافی نہیں، بہت سوں کی نظر میں میرِ صحافت ہیں۔ جو سیاستدان کر رہے ہیں، انہیں کرنے دیں۔
استاد محترم آپ کا دس جنوری 2012ء کا کالم جس میں آپ نے لکھا کہ؛
ایوان سے نکلے، سرِ بازار بھی آئے
سردار وہی ہے جو سرِ دار بھی آئے
اور اس شعر کے بعد آپ نے جاوید ہاشمی کو سیاست کا سردار، باکردار اور جی دار لکھا۔ میں یہ بھی ماننے کو تیار ہوں کہ ایک فرد کے بارے میں دوسرے فرد کی رائے اس کے فیصلوں اور اس کی چالوں کے ساتھ بدل جاتی ہے تو آپ رائے بدل دیتے، یہ لکھ دیتے کہ دھوکا کھایا، لیکن آپ نے تو بطور خاص انہیں آج “ہمیشہ کا بکاؤ” قرار دے ڈالا ہے۔ باغی کو داغی میں بدلنے کا کام عوام کی نظر میں ایک اور مخدوم نے انجام دیا جو سیاست میں بھی ان کے حریف تھے اور پارٹی میں بھی۔ مگر آپ، آپ صرف صحافی نہیں، بہت سوں کی نظر میں میرِ صحافت ہیں۔ جو سیاستدان کر رہے ہیں، انہیں کرنے دیں۔ ہمارے الفاظ سے تو یہی صدا سدا آنی چاہیے؛
ان کا جو کام ہے، وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا تو کام “صحافت” ہے، جہاں تک پہنچے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *