پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں اونچی آواز میں موسیقی سننے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین نے بلوچ طلبہ پر تشدد کیا ہے اور کمرہ نذر آتش کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 16 فروری کی شام ہاسٹل نمبر 4 کے کمرہ نمبر 110 میں مقیم بلوچ طالب علم جمیل احمد بگٹی کے موسیقی سننے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین کی جانب سے منع کیا گیا جس کی وجہ سے تنازعہ شروع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ریاضیات کے طالب علم سہیل شاہ دستی کے مطابق شعبہ سیاسیات کے جمیل احمد بگٹی نے آواز دھیمی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاہم موسیقی بند کرنے سے انکار کیا۔

اس پر مشتعل ہو کر جمعیت کے رکن "صائم” کی جانب سے کمرہ نذر آتش کیا گیا جس میں قیمتی سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ بلوچ طلبہ نے آگ لگانے والے جمعیت کارکن کو پکڑ لیا۔ پولیس کو موقع پر بلا کر ملزم کو ان کے حوالے کرنے کی کارروائی جاری تھی کہ اسی دوران جمعیت اراکین کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ حملے میں کئی بلوچ طالب علم زخمی ہو گئے۔ سہیل شاہ دستی کے مطابق جمعیت اراکین پستول لہراتے ہوئے آئے اور بلوچ طلبہ پر تشدد کیا۔ دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان نے اسے بلوچ اور پشتون طلبہ کے مابین لسانی بنیادوں پر تصادم قرار دیا ہے اور اس واقعے سے متعلق لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان جمعیت کے مطابق دونوں طلبہ گروپس یونیورسٹی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے آپس کی لڑائی کا ملبہ اسلامی جمعیت طلبہ پر ڈال رہے ہیں۔ تاہم بلوچ طلبہ اس تردید کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ بلوچ طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی پر غلبہ قائم رکھنے کے لیے واقعے کو غلط رنگ دے رہی ہے۔ پشتون اینڈ بلوچ ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین اس جھگڑے کے دوران 15 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق سو سے زائد جمعیت اراکین پستولوں اور لاٹھیوں سے مسلح پہنچے اور ان کے تشدد سے طلبہ زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والے طلبہ کو شیخ زائد ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ زخمی طلبہ میں جاوید، مزمل، حبیب، عالمگیر، قائم، عمران، نقیب، ابرار، اظہار بلوچ، ظریف، ہمایوں، احسن، الیاس، صدام اور احمد شامل ہیں۔

سولہ فروری کو ہونے والے اس واقعے کے خلاف 17 فروری کو پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کی جانب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، بلوچ سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی اس واقعے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے جمعیت اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔ سہیل شاہ دستی نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جامعہ پنجاب میں داخلہ لیا ہے جمعیت پنجاب میں نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہاں پڑھنے کے لیے آئے ہیں لیکن اگر جمعیت اراکین اسی طرح ان پر ظلم اور تشدد کرتے رہے تو وہ کب تک برداشت کریں گے؟

بلوچ اور پشتون طلبہ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین اس سے قبل بھی تین مرتبہ تصادم ہو چکا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ ایک سخت گیر اور بنیاد پرست مذہبی طلبہ جماعت ہے جو پنجاب یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم، تفریحی سرگرمیوں اور فنون لطیفہ کے پراگراموں پر اس سے پہلے بھی تشدد کا راستہ اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ برس کراچی یونیورسٹی میں بھی جمعیت کے اراکین نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بلوچ طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ اپنی من چاہی اخلاقیات نافذ کرنا چاہتی ہے تاہم بعض ذرائع اسے یونیورسٹی کی انتظامی سیاست سے جوڑ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ بلوچ اور پشتون طلبہ کے اتحاد سے خوف زدہ ہے اور اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہے، دوسری جانب جمعیت ذرائع اسے وائس چانسلر مجاہد کامران کی جانب سے ایک اور معیاد کی توسیع حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دے رہے ہیں۔

One Response

Leave a Reply

%d bloggers like this: