Categories
شاعری

ریت کے دیس میں

مصطفیٰ ارباب: ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں

[blockquote style=”3″]

یہ نظم دنیا زاد کے شمارہ نمبر 42 میں شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]

ریت کے دیس میں
ہم
ریت سے بنے ہوئے لوگ ہیں
ہم نے
ریت سے روٹیاں بنانے کا فن ایجادکیا ہے
ہماری بے خواب آنکھوں میں
ریت اُڑتی رہتی ہے
ریت کے دیس میں
کوئی پردیسی ٹِک نہیں سکتا
یہاں رہنے کے لیے
ریت ہونا پڑتا ہے
ہوا چلتی ہے تو
ہمارے ریتیلے بدن سے
ریت اُڑنے لگتی ہے
ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
ہم بہت خوش ہیں
ہماری آنکھوں میں
آنسوؤں کی ایک بُوند بھی نہیں ہے
ہم نے سارے آنسو نچوڑ کے نکال دیے ہیں
صحرائے تھر میں
آبی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی

By مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب 1967 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنا ادبی کیریئر 1984 میں ایک افسانہ نگار کے طور پر شروع کیا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "خواب اور آدمی" 1999 میں شائع ہوا۔ سندھی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ سندھی اور اردو ادب کے مترجم بھی ہیں۔ ان کے ادبی کام برصغیر پاک و ہند کے مؤقر ادبی مجلات میں چھپ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *