Categories
شاعری

دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

نصیر احمد ناصر: دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

بچے معصومیت سے پوچھتے ہیں
مرنے کے بعد
جانوروں کی روحیں کہاں جاتی ہیں؟
کیا مچھلی کی روح
سمندر سے چلی جاتی ہے
اور پرندے
درختوں کی شاخوں کا روپ دھار لیتے ہیں؟
بچے خیال ساز ہوتے ہیں
نظریہ کار نہیں
وہ ارتقا اور تناسخ کا فلسفہ نہیں سمجھتے
وہ نہیں جانتے
کون کس جنم میں کیا تھا اور کیا ہو گا
انھیں کیا معلوم
کہ دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی!!

Image: Do Ho Suh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

One reply on “دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے”

Hindi translation- Shameem Zehra
دنیا چالاک لوگوں کے لئیے بنی ہے
“दुनिया चालाक लोगों के लिए बनी है”
नसीर अहमद नासिर

बच्चे भोलेपन से पूछते हैं
मरने के बाद
पशुओं की आत्माएं कहाँ जाती हैं ?
क्या मछली की आत्मा समुद्र से चली जाती है?
और पक्षी
वृक्षों की शाखाओं का रूप धार लेते हैं ?
बच्चे विचारों को व्यवस्थित करते हैँ
दृष्टिकोण निर्माण नहीं करते
वे क्रमागत- विकास और पुनर्जन्म का दर्शन नहीं समझते
वे नहीं जानते
कौन किस जन्म में क्या था और क्या होगा ?
उन्हें क्या मालूम
कि दुनिया ऐसे लोगों से भरी पड़ी है
जिनका भोज्य (खुराक)
निष्पाप आत्माएं होती हैं
वो पशु-पक्षियों की हों या इनसानों की !!

हिन्दी अनुवाद- शमीम ज़हरा

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *