جنید جمشید کے خواتین کے حوالے سے بیانات محض ایک فرد یا صرف تبلیغی جماعت کا نقطہ نظر نہیں بلکہ پدرسری معاشرے کی ان اقدار کا مشترکہ اظہار ہے جو ان معاشروں میں پنپنے والے تمام مذاہب کا خاصہ ہے۔ مذہبی فکر اور مبلغین مذہب خواہ وہ سامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں یا غیرسامی مذاہب سے سبھی کے ہاں عورت دوسرے درجے کی انسان اور جنس قرار پائی ہے۔ باقاعدہ مذاہب پدرسری معاشروں میں پروان چڑھےاور ان کی تشکیل کا تمام تر عمل مردوں کے سپرد رہا یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مذہبی کتابوں میں عورت کا تذکرہ مرد کے تابع اورکم تر جنس کے طور پر ملتا ہے۔

جنید جمشید اور ان کے قدماء اس غلط فہمی پر یقین رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ عورت کو خدا نے ایک کم تر جنس کے طور پر پیدا کیا ہے اور خدا نے ہی عورت کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت مرد سے کم تر قرار دی ہے۔
جنید جمشید اور ان کے قدماء اس غلط فہمی پر یقین رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ عورت کو خدا نے ایک کم تر جنس کے طور پر پیدا کیا ہے اور خدا نے ہی عورت کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت مرد سے کم تر قرار دی ہے۔ ان اصحاب کے خیال میں عورت کی تخلیق محض مرد کی تسکین اور افزائش نسل کے لیے ہے۔ ان کے نزدیک عورت کی تخلیق سے لے کر عقل و خرد کے ناقص ہونے تک ہر موقع اور معاملے میں خدا نے مردوں کو مقدم قرار دیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک عورت مذہب، معاشرت، خانگی امور ، جنسی تعلقات، سیاست، معیشت غرض ہر معاملے میں مردوں کے فیصلوں کی پابند ہے اور مردوں کی مطیع ہے۔

احادیث اور قرآنی آیات کی من مانی تشریحات کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت نے عورت کو ہمیشہ عوامی، سیاسی، معاشی، مذہبی اور معاشرتی زندگی سے بے دخل کیا ہے۔ یہ رویہ اسلام کو جدید دنیا کے لیے قابل قبول بنانے میں حائل بڑی روکاوٹوں میں سے ایک ہے کیوں کہ موجودہ دنیا شعور کی جس سطح پر ہے وہاں عورت کے کم تر جنس ہونے کا تصور کسی ذی فہم کے لیے درست نہیں۔ بدقسمتی سے اسلامی فقہ کی تشکیل کے وقت جو معاشرتی خامیاں مسلم فکر کا حصہ بنیں انہیں دور کرنے کی کوئی قابل ذکر کوشش سامنے نہیں آئی۔جدت پسند مسلم مفکرین کی اکثریت بھی عورت کے معاملے میں قدامت پرست ہی رہی ہے۔

مسلم معاشروں کی اکثریت تاحال عورت کے حوالے سے پدرسری اقدار کو خداکاحکم قرار دے کر اپنائے ہوئے ہے اور یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اسلام کی تشریح عرب ثقافت کی تشریح نہیں ہونی چاہیے۔ عرب، ایران اور ہندوستان میں اسلام کی تشکیل اور ترویج کے دوران مقامی پدرسری اقدار کو مقدسات کا درجہ دے کر عورت کو مرد کا محکوم اور مطیع بنانے کا عمل خود اسلام کے پیغام مساوات کے خلاف ہے۔ اسلام کی قدامت پسند تشریح طالبان، بوکوحرام، داعش، امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی،طارق جمیل اورجنید جمشید کی صورت میں کبھی متشدد تو کبھی پرامن صورت میں عورت کی مساوی حیثیت سے انکار کا باعث بن رہی ہے۔

اسلام کی قدامت پسند تشریح طالبان، بوکوحرام، داعش، امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی،طارق جمیل اورجنید جمشید کی صورت میں کبھی متشدد تو کبھی پرامن صورت میں عورت کی مساوی حیثیت سے انکار کا باعث بن رہی ہے۔
مذہبی فکر پر مردوں کے غلبے کے باعث عورت کے لیے مذہب امور میں اپنی آواز بلند کرنے، رہنمائی کرنے یا معاملات دین میں اجتہاد کرنے کے راستے مسدود کیے جاچکے ہیں۔ ایک جانب مرد مسلمان عورت کی آزادی کو محدود کر رہےہیں تو دوسری جانب مسلمان عورت اپنے حق اور برابری کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ بیشتر صورتوں میں عورت اس بات سے آگاہ بھی نہیں کہ مذہبی اقدار کے نام پر اس کا استحصال کیا جارہا ہے۔ وہ مذہب اور خدا کا حکم سمجھ کر مسلسل مرد کی مطیع اور فرمانبردار بنی ہوئی ہے ۔ ایک جانب مرد عورت کو اپنی باندی بنائے رکھنے پر مُصر ہے تو دوسری جانب مسلمان عورت اس قید کو اپنے لیے خدائی حکم سمجھ کر اس پر قانع و شاکر ہے۔

جنید جمشید کو اس بات کا جواب دینا ہوگاکہ کیا احترام کے نام پر امتیازی سلوک، تعصب اور ناانصافی جائز قرار دیے جاسکتے ہیں؟ اگر جنید جمشیدکا خیال ہے کہ خدااور اسلام نعوذ باللہ مرد اور عورت میں تفریق، امتیازی سلوک یا ناانصافی کے قائل ہیں تو انہیں اپنے عقیدے اور اپنی فقہ پر نظرثانی کرنی چاہیئے نہ کہ خدا کے نام پر عورت کے استحصال کی حمایت کرنی چاہیئے۔ مرد علمائے دین اور مردانہ برتری کی قائل عالمات اگر خدا کے نام پر عورت کو محکوم بنائے رکھنے اور حقوق نسواں کی نفی کرنے کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق سمجھتے ہیں تو مسئلہ یقیناً خدا کے پیغام میں نہیں بلکہ ان علمائے دین کی تشریحات اور نقطہ نظر میں ہے۔

قدامت پرست مذہبی فکر کے حامل مردوخواتین خصوصاً جنید جمشید اور طارق جمیل کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ذات کے اسلام پر اثرات کی تحقیق ضروری ہے۔ یقیناً ان دونوں جلیل القدر صحابیات کے اسلامی فکر پر اثرات کسی بھی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات سے کم تر نہیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکی۔ اور مسلم معاشرہ بہت جلد پدرسری روایات کے تحت عورتوں کو کم تر حیثیت دینے لگا۔

اگر جنید جمشیدکا خیال ہے کہ خدااور اسلام نعوذ باللہ مرد اور عورت میں تفریق، امتیازی سلوک یا ناانصافی کے قائل ہیں تو انہیں اپنے عقیدے اور اپنی فقہ پر نظرثانی کرنی چاہیئے نہ کہ خدا کے نام پر عورت کے استحصال کی حمایت کرنی چاہیئے۔
روایتی مسلم علماء کے لیے امینہ ودود، راحیلہ رضا اور غزالہ انور جیسی باہمت خواتین کا راستہ بہت دیر تک روکنا ممکن نہیں ہوگاجو تمام تر مخالفت کے باوجود مخلوط اجتماعات کی امامت کررہی ہیں۔ مسلم عورت آج یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ آخر کس جواز کے تحت اسے اس دنیا میں مساوی آزادی اور رہنمائی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ اسلام، دنیا اور خدا جتنے مردوں کے ہیں اتنے ہی عورت کے بھی ہیں ۔ محض مردانہ برتری کے فرسودہ تصورات کے تحت عورت کو کم تر قرار دینے کا رویہ نہ تو خدا کی منشاء ہے نہ انسانی عقل کے مطابق ہے۔ اسلام میں نہ صرف عورت کی رہنماحیثیت کی گنجائش موجود ہے بلکہ اس حوالے سے ضرورت بھی ہے کہ معیشت، ریاست، معیشت ، معاشرت اور خانگی امور اور مذہب میں بھی عورت کی مرد کے برابر حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور رہنمائی اور شرکت کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

3 Responses

  1. Nasir Mahmood

    Read Quran and Islam before spreading your stinky thoughts and
    fear Allah, Junaid Bhai is one of very few people in Pakistan who are not just by name muslims, like yourself, but an honest and
    practical man.
    You have no clue what so ever, what he said about women on
    TV, you are totally out of the loop.

    جواب دیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: