Categories
شاعری

کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے

خدا کے گھر میں نقب لگاکر
روٹیاں چرانے والے
جب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانے لگے
کئی دن سے بھوکے کتوں نے شور مچاکر
پہرے داروں کو آگاہ کر دیا

وہ تین تکونی بارگاہ میں پیش کئے گئے
تو انصاف کی اونچی مسند پر
تسبیح کے دانوں نے دستک دی
جو مسمار شہر سے برآمد ہوئے
اور سستے داموں خریدے گئے فتوؤں کا عکس
ایک دائرے میں
روحانی مسرت سے جھومنے لگا

سوچ کے سناٹے میں بیان کیا گیا
کائنات کا آخری دکھ
مگر خاموشی کے ساتھ طے کردی گئی
شہر کے وسطی چوک میں شورمچاتی
موت کے جشن کی تاریخ
اور پتھروں کی بارش کے ڈر سے
ڈسٹ بن میں پھینک دیاگیا
بھوک کا دستخط شدہ خط بھی

پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہو گئے

By حفیظ تبسم

حفیظ تبسم 10 جنوری 1990 کو ملتان کے نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ لکھنے کا آغاز اسکول کے زمانے میں کیا ۔ اب تک ان کے چار شعری مجموعے بالترتیب خوشبو کا جزیرہ (ہائیکو)، سرد موسم میں دھوپ کا کونا (ہائیکو)، دو سمندروں کے درمیان نظمیں، دشمنوں کے لیے نظمیں شائع ہو چکی ہیں۔
آج کل وہ فکشن اور تنقیدی مضامین لکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *