Categories
شاعری

میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میری آنکھوں سے دیکھو

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
کہیں پر ‘دور’ اک نقطہ سا روشن تھا
کہ جس میں غور سے دیکھیں تو اک ذرّہ دکھائی دے
زمیں کہیے ‘زماں کہیے’ کہ اپنا آسماں کہیے
سبھی کچھ اُس میں گم پایا
!وہ اک ذرّہ
کہ جس کی وُسعتوں کو بانٹ کر ہم نے
کئی خطّے بنا ڈالے
ہر اک خطّے میں ہم نے سرحدیں بھی خوب کھینچی ہیں
سو اک سرحد کے اندر بھی کئی ٹکڑے نظر آئے
کہ جن ٹکڑوں کے ٹکڑوں میں کہیں اک شہر بستا ہے
کہ جس کے ایک ٹکڑے میں کہیں کوئی محلہ ہے
کہیں اُس کے کسی حصّے میں اک چھوٹا سا گھر ہو گا
اور اُس گھر کے کسی کمرے کے کونے میں
کوئی اپنی حقیقت لکھ رہا ہو گا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By فیصل عظیم

فیصل عظیم کراچی میں اردو شاعروں کی تازہ پود سے تعلق رکھتے ہیں، اور اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے انجنیئر ہیں اور ایک ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ "میری آنکھوں سے دیکھو" 2006ء میں شائع ہوا۔ فیصل نے معروف شاعر شبنم رومانی کی ادارت میں چھپنے والے سہ ماہی "اقدار" کے ایسوسی‌ایٹ ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *