Categories
شاعری

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے
صبح اٹھتے ہی زد کر تی ہے
اور مجھے دھونس دیتی رہتی ہے
اگر ایسا نہیں کیا
تو میں نفرت سے دوستی کر لوں گی
اور یہ دل جو ایک کونے میں سکڑا پڑا ہے
فریاد کرتا رہ جائے گا
مجھے اس پر ترس آتا ہے
تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
کب تک میں تمہاری قید جھیلوں گی
ہر چیز کی انتہا ہوتی ہے
مجھے اب اس خول میں نہیں رہنا
مجھے جانے دو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *