تعلیم برائے فروخت

صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا
نمل؛ تدریسی شعبوں کی سربراہی سابق فوجیوں اور ریٹائرڈ اساتذہ کے سپرد

ہائیر ایجوکیش کمیشن کی پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی جامعات کی توثیق کے لیے ضروری ہے کہ ہر شعبے میں ایک پروفیسر، ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، دو اسسٹنٹ پروفیسر اور دو لیکچرر ضروری ہیں لیکن یونیورسٹی کے بیشتر شعبوں میں کوئی پروفیسر موجود نہیں