Laaltain

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی ہے اسے کیا پڑی ہے کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جوتوں اور […]

ابعادیت

نصیر احمد ناصر: کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے

عدالت کو کیا معلوم!

نصیر احمد ناصر: عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

نصیر احمد ناصر: اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

مَرے ہوؤں کی موت

نصیر احمد ناصر: جو پہلے سے مر چکے ہوں
ان کے مرنے کا اعلان عجیب لگتا ہے

ونڈو شاپنگ

نصیر احمد ناصر: تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں

ٹائم کیپسول

نصیر احمد ناصر: کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا

بابے کی ہٹی

نصیر احمد ناصر: میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے

نظم خدا نہیں

نصیر احمد ناصر: نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے