Laaltain

نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔

ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

ہمارے لیے تو یہی ہے

سید کاشف رضا: ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

سید کاشف رضا: تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں

اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے

تصنیف حیدر کے نام ایک خط

سید کاشف رضا:جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔