وراداتِ کلبی بسلسہ ہائے فروغ کلبی: قسط اول (اسد رضا)

جیسے جیسے بکر کی عمر بڑھ رہی تھی اس کی ذہنی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا جس کا بڑا سبب فلسفہ اور جون ایلیا کی شاعری تھی۔
دی جون ایلیا

ابو بکر: جون پرشور تضادات کا ایسا مجموعہ تھے جس کا کیفتی اظہار صرف شاعری میں ممکن ہے۔ انہوں نے چن چن کر اپنے آپ میں وہ سب جمع کر لیا تھا جس کا بار شعر تو اٹھا سکتا ہے لیکن زندگی نہیں اٹھا سکتی۔
جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

تصنیف حیدر: جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔
مکاشفہ — جون ایلیا

جون ایلیا: فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے
زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے
تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے
داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے
زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے
تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے
داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے
سوشل میڈیا اور جون ایلیا کا زوال

شامل شمس: جون ایک مثال بن تو چکے ہیں لیکن ایک زوال پذیر معاشرے میں۔ فیس بک زدہ شاعر دھڑا دھڑ قافیہ بندی کر رہے ہیں، بے تکی نثری نظمیں کہہ رہے ہیں اور ہر کوئی راشد، فیض اور ناصر بنا ہوا ہے۔
اَلایَلَلّی

جون ایلیا:میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
لوحِ وجود

جون ایلیا: یہ زندہ بنیاد شہر ہے اور میں اس کے نیچے دبا پڑا ہوں
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
لوحِ طمع — جون ایلیا

جون ایلیا: جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
لوحِ آمد — جون ایلیا

جون ایلیا: کہا گیا ہے کہ میں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہُوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا