Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک

ماضی میں گستاخانہ خاکوں، لال مسجد، گستاخانہ فلموں، سلمان تاثیر کے بیان سمیت کئی معاملات پر ایسی سنسنی خیز کوریج دیکھنے کو ملی جو بالواسطہ طور پر اشتعال پھیلانے کا باعث بنی۔
زرد صحافت، صحافت کی وہ مسخ شدہ صورت ہے ہے جس میں مصدقہ و غیر مصدقہ خبروں کو سنسنی خیز انداز میں ذرائع ابلاغ کی زینت بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ دیگر خبروں کو چھوڑ کر اس سنسنی خیز خبر کی طرف متوجہ ہوں اور اخبار کی مانگ یا ٹی وی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ زرد صحافت کسی بڑے واقعہ یا کسی حادثے کی ایسی غیر ذمہ دارانہ اور دانستہ طور پر مسالے دار اور چٹ پٹی کوریج کا چلن ہے جو لوگوں میں سنسنی، اشتعال اور خوف پھیلانے کا بعث بنتا۔ زرد صحافی اسکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ جب ایک اخباریا ٹی وی چینل اپنی مانگ یا ریٹنگ بڑھانے کے لیے لوگوں میں سنسنی پیدا کرتے ہوئے اشتعال انگیز خبریں چھاپنے اور نشر کرنے کی پالیسی اپناتا ہے تو نہ صرف مثبت صحافتی اقدار مجروح ہوتی ہیں سماج میں انتشار، بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو تاہے۔ ایک چینل یا اخبار کی جانب سے اس قسم کی خبروں کی اشاعت دیگر اداروں کو بھی مجبور کرتی ہے کہ وہ بھی مقابلے میں ایسی ہی خبریں پیش کریں۔

 

ماضی میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ صحافت کے باعث ایک ایسی انتہا پسند روش اپنا لی گئی تھی جو دہشت گرد حملوں کی براہ راست کوریج میں بھی تامل کی روادار نہیں تھی۔ ماضی میں گستاخانہ خاکوں، لال مسجد، گستاخانہ فلموں، سلمان تاثیر کے بیان سمیت کئی معاملات پر ایسی سنسنی خیز کوریج دیکھنے کو ملی جو بالواسطہ طور پر اشتعال پھیلانے کا باعث بنی۔ سابق گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے موقع پر پاکستانی میڈیا پر البتہ ایک اور انتہا دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ اس واقعے کی رپورٹنگ کے دوران جس بالغ نظری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا گیا اس کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی معترف نظر آئے مگر اس خبر سے متعلق مکمل بلیک آوٹ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔متوقع رد عمل کو امن وامان کے قالب میں بدلنے کی خاطر تمام چینلز نے پھانسی کے بعد کی صورتحال کو ٹی وی سکرین پر دکھانے سے مکمل احتراز کیا جس سے ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ کیا کوئی اعتدال کا راستہ موجود ہے؟

 

Yellow Kidایک ایسا کارٹون تھا جو ایک ہنستا مسکراتا بچہ تھا جس کے اگلے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، کان بڑے بڑے تھے اور سر گنجا تھا جو ایک پیلے رنگ کی بڑی سی قمیص پہنے ہوئے تھا۔ یہ کردار اخبارمیں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مزاحیہ اور معنی خیز طریقے سے پیش کرتا تھا۔
سنسنی خیز صحافت اور آزاد مگر ذمہ دار صحافت کے مابین توازن کے قیام کے لیے اس موقع پر یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ زرد صحافت کیا ہے اور اس کا آغاز کیوں کر ہوا۔

 

زرد صحافت کی اصطلاح اس وقت رائج ہوئی جب 1896ء میں William Randolph Hearstاور Joseph Pulitzerکے درمیان اخباری پیشے میں مسابقت کاآغاز ہوا۔ J Pulitzerکےاخبار کا نام New York World اور W.R Hearstکے اخبار کانام New York Journalتھا۔ 1896ء میں J Pulitzer نے Yellow Kid کےنام سے ایک کارٹون (Comic Strip) اخبار میں اُس وقت شائع کیا جب اخبارات میں کارٹونز (Comic Strip) شائع کرنا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ Yellow Kidایک امریکی کارٹونسٹR.F Outcault کی تخلیق تھا۔ یہ پہلا امریکی کارٹون کردار تھا جو اپنے عہد میں مقبول ترین تھا۔ چونکہ R.F. Outcaultکا تخلیق کردہ کردارMickey Dugan کی قمیص کا رنگ پیلا تھا لہذا اپنے اصل نام کی بجائے Yellow Kid کے نام سے معروف ہوا۔

 

Yellow Kidایک ایسا کارٹون تھا جو ایک ہنستا مسکراتا بچہ تھا جس کے اگلے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، کان بڑے بڑے تھے اور سر گنجا تھا جو ایک پیلے رنگ کی بڑی سی قمیص پہنے ہوئے تھا۔ یہ کردار اخبارمیں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مزاحیہ اور معنی خیز طریقے سے پیش کرتا تھا۔ پہلے یہ کردار کارٹونز کے ساتھ ثانوی کردار کے طور پر ظاہر ہوتا تھا بعد میں اپنے مضحکہ خیز شباہت کے ساتھ سب پر سبقت لے گیا اور پورے امریکہ میں Yellow Kidکے نام سے معروف ہوا۔ یہ کردار اتنا مقبول ہو ا کہ اشتہاری کمپنیوں نے سیگریٹ، کھلونے، چیونگم غرض روزمرہ زندگی کی بہت سی چیزوں کی اشتہاری مہم میں اس کو بکثر ت استعمال کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں اس کارٹون کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے J Pulitzerاور W.R Hearstمیں اخبار ی جنگ شروع ہوگئی۔ اس کارٹون کی شہرت کے باعث دونوں اخبار مالکان میں شدید کاروباری رقابت پید اکر دی۔ بعد ازاں W.R Hearstنے ا س کارٹون بنانے والے کو بھاری تنخواہ دے کر اپنے اخبار میں بھرتی کر لیا۔ جس کے بعد J Pulitzerنے اس کارٹون Yellow Kid کی مشابہت رکھنے والا ایک کارٹون تخلیق کر کے اپنی اخبارمیں چھاپنا شروع کر دیا۔

 

اس مسابقتی دوڑ نے دونوں اخباروں میں بہت سی اختراعات کو جنم دیا۔ اخباری ایڈیٹرز نےا پنے اخبار بیچنے کے لیے بہت سے تراکیب سوچیں تاکہ شہر کے ہر گلی محلے کی نکڑ پر اسی اخبار کی فروخت ہو۔ وہ Yellow Kidکارٹون کے ذریعے بہت سی فرضی اور من گھڑت خبریں بھی چھاپتے رہے تاکہ دوسرے اخبارات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

 

سنسنی خیز رپورٹنگ میں حد سے تجاوز کے باعث صحافت کے معانی و مفہوم ہی بدل دیئے گئے تو اروِن وارڈمین نے اس اخباری کشمکش کو ییلو کڈ جرنلزم کا نام دیا جو بعد میں مختصر ہو کر ییلو جرنلزم رہ گیا۔
اسی عشرے میں جاری امریکہ اسپین جنگ بھی ان دو اخباروں کی رقابت سے متاثر ہوئی اور Yellow Kidنے اس جنگ میں رائے عامہ کو شدید متاثر کیا۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق اس ‘زرد’ صحافت کی وجہ سے امریکہ اسپین جنگ کے دوران امریکہ کے کیوبا سے تعلقات میں گہری دراڑ آگئی۔ W.R Hearstنے کیوبامیں جنگی صورتحال جاننے کے لیے اخباری رپورٹرز کی ایک ٹیم بھیج رکھی تھی جن کی فرضی اور نفرت انگیز رپورٹنگ نے امریکی عوام میں سنسنی اور اشتعال کو جنم دیا۔ W.R Hearst نے اس جنگ کے دوران اپنے اخبار میں کئی نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مضامین چھاپے۔ ایک موقع پر جب کیوبا میں موجود ایک اخباری نمائندہ نے اخبار کے مالک W.R Hearstکو ٹیلی گرام بھیجا کہ “اب ادھر کچھ خاص نہیں ہے” تو اخبار کے مالک W.R Hearst نے اپنے مشہور ترین ٹیلی گرام میں جواب دیا کہ “ You furnish the pictures and I’ll furnish the war “۔ W.R Hearst نے اس تمام صورتحال سے جہاں اپنے اخبار کی مقبولیت میں اضافہ کیا وہیں اس نے اپنے اخبار کے ذریعے اس جنگ کو اتنا ڈرامائی رنگ دے دیا کہ امریکی صدر کو جنگ میں حصہ لینے کے سرکاری بل پر دستخط کرنے پڑے۔ ستم ظریفی یہ ہےکہ اخباری مسابقت کی بنیاد رکھنے والے ان دونوں اخباروں میں سے ایک کے مالک J Pulitzer کے نام پر Pulitzer Award ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جو دیانت داری اور انتہائی جانفشانی سے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صحافیانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

 

Yellow Kid سے شروع ہونے والی صحافتی جنگ نے صحافت کے زریں اور اہم اصولوں کو پامال کیا۔ شروع میں دونوں اخبار مالکان Yellow Kidکے دعوے دار تھے کہ وہ اس کارٹون کی ملکیت کے حقوق رکھتے ہیں۔ ایک موقع پر معاملہ اتنا بڑھا کہ عدالت تک پہنچ گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ ہوا کہ Yellow Kidکا کردار دونوں اخبار شائع کر سکتے ہیں، عدالت کا یہ حیرت انگیز فیصلہ آج بھی معمہ ہے۔ اس فیصلے کے بعد Yellow Kidکی دونوں اخباروں میں اشاعت ہونے لگی۔ مقابلے کی دوڑ اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ دونوں اخباری مالکان نے صحافتی اصولوں کو بری طرح روند ڈالا۔ سالوں تک نیویارک ورلڈ اور نیویارک جرنل اپنے اپنے مفادات اور کاروباری رقابت کے ذریعے صحافت کے پیشے کی حرمت کو داغدار کرتے رہے۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیویارک پریس کے ایڈیٹر Ervin Wardman نے دونوں اخباروں کی اس صحافتی بددیانتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پہلے نئی صحافت یا ننگی صحافت قرار دیا۔

 

ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے ییلو کڈ سے لیا جاتا تھا۔
سنسنی خیز رپورٹنگ میں حد سے تجاوز کے باعث صحافت کے معانی و مفہوم ہی بدل دیئے گئے تو Ervin Wardman نے اس اخباری کشمکش کوYellow Kid Journalism کا نام دیا جو بعد میں مختصر ہو کر Yellow Journalism رہ گیا۔ Yellow Kid نامی یہ کردار 1895ء تا 1898ء نیویارک کے اخبارات میں شائع ہوتا رہا پھر یہ انتہائی مقبول و پسندیدہ کردار لوگوں کے ذہنوں سے آہستہ آہستہ محو ہونے لگا اور پھر وقت کی گرد میں کہیں گم ہوگیا اور آج Yellow Kid نامی معروف کردار R.F Outcault Gallery میں یاد گار کے طور پر موجود ہے اور آج کی صحافت کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہے۔

 

پاکستانی صحافت بھی کاروباری رقابت کے ہاتھوں اپنی درخشندہ روایات سے محروم ہوئی ہے۔ ایک زمانہ تھا ہمارے صحافیوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن آج کاروباری مسابقت کے باعث انہیں اپنے ہی مالکان اور ادارے کی جانب سے صحافتی اقدار کی خلاف ورزی پرمجبور کیا جاتا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے yellow kid سے لیا جاتا تھا۔ ہمارے صحافتی ادارے بھی ہماری حکومتوں پر پاک بھارت دوستی کے معاملے پراسی طرح سنسنی خیز خبروں اور تجزیوں کے ذریعے سخت گیر پالیسی اپنانے کے لیے دباو ڈال رہے ہیں جیسے نیویارک جرنل اور نیویارک ورلڈ کی خبریں جنگ کے دنوں میں امریکی انتظامیہ کو جنگ پر اکسا رہی تھیں۔ زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک بہت کچھ نہیں بدلا۔
Categories
نقطۂ نظر

ہمیں خود سے خطرہ ہے

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر کا یہ مضمون اس سے قبل ان کی اپنی ویب سائٹ ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکا ہے، ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

میں نے نیوز چینل دیکھنا بند کر دیا ہے، ویسے بھی خبروں کی تجارت ہمارے یہاں بہت چل نکلی ہے۔ یہ ایک اچھا سودا ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں، بہت سے زاویے ہیں۔ ابتدا میں مجھے ٹیلی ویژن پر ہونے والی بحث بہت ہی اچھی لگا کرتی تھی، بہت غور سے سنا کرتا تھا۔ مگر میں اس تبدیلی کا گواہ ہوں، جس میں پہلے پہل نیوز اینکر اس بحث کے تاروں کو جوڑنے والے ذریعے سے بڑھ کر ایک سوال طلب کرنے والا بابو بنا اور پھر دھیرے دھیرے غنڈہ بن گیا۔آپ کوئی بھی نیوز چینل لگائیے، نیوز چینلوں پر دندناتے، چیختے چنگھاڑتے نیوز اینکرز آپ کو سہماتے ہوئے، خوف کی ایک پرت چڑھانے کے لیے تیار رہیں گے۔ خبر سنانا، ایک بالکل الگ بات ہے، مگر اس پر اپنا تبصرہ پیش کرنا، اس کے حق میں فیصلہ دینا، کسی کو اچھا، برا ثابت کرنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں، جن کی وجہ سے نیوز چینلز کے اینکر حضرات اب ہمارے سماج میں ایک ایسے فرد کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے پولیس کی غضب ناکیوں اور غنڈہ گردیوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پولیس والا آپ سے رشوت لے سکتا تھا، آپ کو جیل میں ڈال سکتا تھا، مگر اب بس یہ ہوگا کہ ایک روز آپ اپنے گھر بیٹھے ہوں گے، کسی معاملے میں پولیس آپ سے تفتیش کرنے پہنچے گی اور وہاں خبر بنانے والی ایجنسی کا ایک دلال آپ کی ٹوہ میں موجود ہوگا اور پولیس جوں ہی آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، وہ اس خبر کو ہاتھوں پر آگ کی طرح رکھ کر بھاگنے کی صورت اپنے چینل پہنچے گا اور اس بات کی تصدیق کردے گا کہ ہاں بھئی! فلانے کے گھر پولیس پہنچی ہے۔ انسانی زندگی کے بالکل ذاتی معاملات میں دخل دینے کا پورا حق رکھنے والا یہ نیوز چینل اب ایک خبر بھاڑے کے ایک ٹٹو اینکر سے بنوائے گا اور پھر کچھ ہی دیر میں آپ ایک اچھے خاصے عزت دار شخص سے مجرم، دیش دروہی، فاشسٹ، سماج کے لیے خطرہ اور پھانسی کے حق دار شخص بن جائیں گے۔

 

میں اس تبدیلی کا گواہ ہوں، جس میں پہلے پہل نیوز اینکر اس بحث کے تاروں کو جوڑنے والے ذریعے سے بڑھ کر ایک سوال طلب کرنے والا بابو بنا اور پھر دھیرے دھیرے غنڈہ بن گیا۔
اس رویے سے زیادہ خطرناک مجھے یہ بات نظر آتی ہے کہ نیوز چینلز کے اسٹوڈیو میں کوئی شریف آدمی، جو ایک اچھے عہدے پر فائز ہے، بیٹھا ہے اور میڈیا کا اجارہ دار اینکر اس سے دھمکا دھمکا کر اپنی مرضی کے جوابات حاصل کرنا چاہ رہا ہے۔ اب ایسے میں اس کی زبان پھسلے، وہ گھبرا جائے، وہ پریشان ہو، ماتھے سے پسینہ پونچھے اور شامت اعمال اس کے منہ سے کوئی ایسا لفظ نکلے جس سے نیوز اینکر کو اپنی مرضی کا جواب بنانے کا موقع مل جائے، پھر ایک خبر تیار۔ نیچے فوراہی ایک پٹی چلنے لگے گی۔ دنیا کے تمام بڑے ذہن ایسے نیوز چینلوں کو طلاق دے چکے ہیں، بعضوں نے تو انٹرویو تک پر پابندی لگا دی ہے۔ آخر پیسے جمع کرنے کی دھن میں لوگوں کو اس طرح بے وقوف بنانے کا گر یہ نیوز چینلز کس طرح ایجاد کر لیتے ہیں۔ اس کا جواب شاید ہمیں اپنے ہی گریبانوں میں ملے۔ ہم لوگ وقت کے ساتھ بدلے نہیں، کچھ لوگوں نے ہمارے حق میں ہمیشہ سے جو فیصلہ کیا، ہم اسے چپ چاپ قبول کرتے چلے آئے۔ ایک دن کچھ لوگ اٹھے، انہوں نے کہا کہ ہم نے تمہیں غلام بنالیا ہے، ہم نے ان کی آقائی قبول کر لی، ایک روز کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ملک تقسیم کر دیا ہے، ہم نے ان کے اس فیصلے پر بھی اپنی کروڑوں جانیں قربان کر دیں۔ یہ ایسے ہی کچھ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں اپنا غلام بنائے رکھتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے جس طرح ہمیں ایک ملا، ایک پروہت کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہمارے اور خدا کے معاملات کے درمیان لٹھ لیے ہمیشہ کھڑا رہے، اسی طرح دنیاوی زندگی میں بھی ہمیں ایک ایسے نمائندے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جو ہماری بات کر سکے، ہماری زبان بول سکے۔ اگر کوئی نیوز چینل، ایسی خبریں دکھا کر ٹی آرپی لوٹ رہا ہے، جس سے نفرت پیدا ہوتی ہے، تو مان لیجیے کہ ہمارا نمائندہ ہماری ہی زبان پروس رہا ہے، جو کتنا ہی زہر آلود کیوں نہ ہو، مگر ہمیں اسے کھانے کی عادت ہے، شوق ہے، لت ہے۔ وہ ہمارا نمائندہ ہے، تو ہم بھی تو کہیں نہ کہیں ایسے ہی ہیں۔ بہت جلدی میں باتوں پر یقین کر لینے والے، بہت تیزی سے کسی کے حق میں فیصلہ کرلینے والے۔اس کی مثال اگر بہت سامنے کی دی جائے تو یہ ہو گی کہ اگر کسی عورت کو ہم سڑک پر سگریٹ پیتے، ٹھٹھہ لگاتے، پھٹی ہوئی ٹائٹ جینز پہنے دیکھ لیں تو اس کے حق میں جھٹ ایک فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔

 

جے این یو اور پھانسی گھاٹ پر لٹکتی حب الوطنی

 

آج سے پہلے میرا اس معاملے میں یہ موقف تھا کہ اگر اس ملک میں کسی نے ‘پاکستان زندہ باد’کے نعرے لگائے ہیں تو اس نے غلط کیا ہے اور اب بھی یہی مانتا ہوں کہ اس ملک میں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگنے چاہیے، بلکہ کوئی بھی ایسی بات جو ایک ساتھ بہت سارے ہندوستانیوں کی دل آزاری کا باعث بنے، اسے کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ مگر آج زی نیوز کے ایک صحافی کے اعتراف نے یہ بات صاف کر دی ہے کہ جس ویڈیو کو اس گناہ کا مرکزی حوالہ بنایا گیا، اس میں پاکستان زندہ باد کے نعرے موجود ہی نہیں تھے۔ سو ایسے میں وہ تمام لوگ جو وہاں تھے، کسی طرح قصور وار نہیں ہیں اور ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ اور اگر اس قسم کے نعرے اس میں موجود ہیں بھی، تو وہ کن لوگوں نے لگائے ہیں، ان کو کیا سزادینی چاہیے، اس کا فیصلہ ہمیں یا کسی اینکر کو نہیں عدالت کو کرنا ہے۔ میری ذاتی رائے میں جس ملک میں آپ رہتے ہیں اس کی ترقی کی فکر، اس میں امن کی بحالی کی خواہش اچھی بات ہے، ہمیں ملک پرستی کے بجائے ملک سازی پر دھیان چاہیےکیونکہ سخت گیر قسم کی ملک پرستی ایک خراب چیز ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مذہب پرستی بہت سی بربادیاں لایا کرتی ہے، میں سوچتا ہوں کہ ہم اس پرانی حالت سے آج تک کیوں نہیں نکل پائے جس میں ایک بے جان جھنڈے کو اٹھائے رکھنے والا علمبردار، اپنی جان گنوا کر اس جھنڈے کی حفاظت کیا کرتا تھا۔ میرے نزدیک کوئی بھی جھنڈا انسانی زندگی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس ذاتی رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں کسی اور کو جھنڈے کے احترام سے روکوں یا ملک پرست لوگوں کو برا بھلا کہوں۔ مگر اتنا دھیان رکھیے کہ آپ کی ملک پرستی کہیں کسی اور کے جان و مال کے نقصان کا سبب تو نہیں بن رہی ہے۔ اگر بن رہی ہے، اگر ایسا ہو رہا ہے، اگر اس سے بھی دہشت کے وہی تسمے پھوٹ رہے ہیں جو مذہب پرستی نے پیدا کیے ہیں تو پھر آپ کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

اگر کوئی نیوز چینل، ایسی خبریں دکھا کر ٹی آرپی لوٹ رہا ہے، جس سے نفرت پیدا ہوتی ہے، تو مان لیجیے کہ ہمارا نمائندہ ہماری ہی زبان پروس رہا ہے، جو کتنا ہی زہر آلود کیوں نہ ہو، مگر ہمیں اسے کھانے کی عادت ہے، شوق ہے، لت ہے۔
جہاں تک سوال ہے پھانسی کا، تو کسی بھی شخص کو پھانسی ملنی چاہیے یا نہیں۔اس کا فیصلہ صرف عدالتوں کو کرنا چاہیے، اگر آپ کی نظر میں عدالت اس کا فیصلہ کرنے کے لیے نا کافی ہے تو مان لیجیے کہ آپ جس جھنڈے کے لیے لڑ مر رہے ہیں، اس کا سارا غرور وہاں کے سیکولر آئین کی بدولت ہے، اور جب یہ آئین ہی تار تار ہوگیا تو اس جھنڈے کی عظمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اس کا وجود آپ نے خود خطرے میں ڈال دیا ہے، اس لیے خود سے سوال کیجیے کہ کیا یہ غداری کی ہی ایک صورت نہیں، کیا یہ آپ کی وہ نادان دوستی نہیں، جس سے بہتر کسی دانا کی دشمنی ہوتی ہے۔ اور پھر ہر شخص کو پھانسی دینے کی سوچ کیا دہشت گردانہ نہیں ہے، دہشت گرد اور کرتا کیا ہے، اس میں اور آپ میں صرف اتنا فرق ہے کہ وہ قانون کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کسی کو جان سے مار دینے کا فیصلہ خود کرتا ہے اور آپ کسی کو جان سے مارنے کے لیے قانون اور حکومت پر دباو بنانا چاہتے ہیں، تو پھر آپ میں اور دہشت گرد میں صرف بال برابر ہی تو فرق رہا۔ جب اپنا آئینہ گندا ہو، اس پر کیچڑ لگی ہو تو چہرے کی بدرونقی و بد صورتی کا الزام کسی اور پر دینے کا کیا مطلب ہے۔

 

پھانسی ایک ایسا مرض ہے، جس کے خلاف دنیا کے بڑے لوگ رہے ہیں۔ مثالیں بہت ہیں، مگر صرف اتنی بات سمجھیے کہ کسی کو جان سے مار دینے سے برائی جڑ سے ختم نہیں ہوسکتی، برائی ایک وائرس کی طرح ہے، جب آپ کے کمپیوٹر میں وائرس آتا ہے تو آپ اینٹی وائرس سے کام لیتے ہیں یا ہتھوڑا اٹھا کر اسی کو توڑ دیتے ہیں۔ اپنی عام زندگی سے کچھ سیکھیے، اپنے ارد گرد نظر ڈالیے، کیا ایسے لوگ نہیں ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بد سے بدتر گناہ کیے اور ایک عمر پر جاکر انہیں اس کی سنگینی کا احسا س ہوا اور وہ اچھے راستے کی طرف لوٹ آئے۔ پھانسی دے کر آپ انسان کو اس منزل سے دور کردیتے ہیں، جہاں اس کا احساس نہ صرف اس کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی اچھائی کا سبب بن سکے۔ اور پھانسی ہمارے ملکوں میں ویسے بھی سیاست کا ایک بڑا سہارا بنی ہوئی ہے، ہمارے سیاسی دوستوں کو جب محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو پھانسی دینے سے ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو گا تو وہ دیش دروہی، ریپ یا کسی اور جرم کی پاداش میں لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دیتے ہیں۔ پھانسی ایک آدمی کو دی جاتی ہے، مگر اس سے ایک قسم کا آکروش لوگوں میں پیدا ہوتا ہے، وہ جو اسے غلط سمجھتے ہیں، کسی بھی نظریاتی وجہ سے، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پھانسی سماجی نقطہ نظر سے بھی ایک تباہ کن فیصلے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

 

ہمیں ملک پرستی کے بجائے ملک سازی پر دھیان چاہیے کیونکہ سخت گیر قسم کی ملک پرستی ایک خراب چیز ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مذہب پرستی بہت سی بربادیاں لایا کرتی ہے
انسانی ذہن کا مسئلہ بڑا عجیب و غریب ہے، جب اسے اپنے آس پاس اندھیرا محسوس ہوتا ہے، تو ایک حد پر جاکر وہ اس اندھیرے کو قبول کرلیتا ہے، چاہے وہ موت کا ہی اندھیرا کیوں نہ ہو، ایسا بہت سے لوگ کرتے ہیں، روہت ویمولا نے بھی ایسا ہی کیا تھا، اس لیے موت مسئلے کا حل نہیں، اس اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ پھانسی اس اندھیرے کو کچھ ذہنوں میں اور گہرا کر دیتی ہے، اس لیے یہ نفسیاتی طور پر بھی خطرناک ہے۔ الغرض میں پھانسی کے جتنے بھی نقصانات گنوائوں کم ہے۔اور پھر ایسی جلد بازی کیوں مچی ہے ہمارے معاشرے میں، کسی نے اگر ملک کے خلاف نعرہ لگایا ہے تو اس سے وجہ پوچھیے، کوئی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے پوچھیے، معلوم کیجیے ، جانیے کہ آخر اسے ہمارے ساتھ رہنے میں تکلیف کیا ہے، کیوں وہ ہم سے الگ ہونا چاہتا ہے، اس کی اس تکلیف کو دور کرنے سے ہی مسائل ختم ہونگے۔ہمیں وہ ماحول پیدا کرنا ہوگا، جس میں کوئی بھی ہندوستانی ہمارے ساتھ رہتے ہوئے سماجی، نفسیاتی،مذہبی سطح پر خود کو تنہااور کٹا ہوا نہ سمجھے، اسے محسوس ہو کہ ہمیں اس کے اپنے ہیں، جن کے ساتھ اسے تقویت محسوس ہوتی ہے، ہمیں لوگوں کے حقوق کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر خبر پر چاہے وہ کیسی ہی کیوں نہ وہ، فوراً یقین کر لینے سے وہ ایک خبر نہیں رہ جاتی بلکہ ایک خنجر بن جاتی ہے، یہ خنجر صرف تباہی پیدا کرتا ہے۔

 

نعرہ کیا ہے، اس پربھی غور کیجیے، نعرے کے دو نفسیاتی پہلو ہیں، نعرے ایک جانب جھوٹے لوگوں کی قوت کا احساس کرانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں تو دوسری جانب سماج میں گھلے ہوئے کرب کے نمائندے ہیں۔ نعرہ پہلی صورت میں تب لگایا جاتا ہے، جب کسی پر اپنے گروہ ہونے کا رعب طاری کیا جائے اور دوسری صورت میں تب لگایا جاتا ہے، جب کسی سماج نے اجتماعی چیخ بلند کی ہو۔ آپ کے گھر میں کوئی درد سے کراہے، چیخے تو آپ اس پر تنگ ذہنی، کم قوت برداشت کا الزام لگاتے ہیں، اسے گھر سے باہر نکال دینے کی دھمکی دیتے ہیں یا پھر اسے ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں، یہ چیخ چاہے اس کے کسی درد کی وجہ سے ہویا ذہنی توازن بگڑنے کی وجہ سے، اس کا درد جسمانی ہو یا ذہنی، علاج تو اس کا ڈاکٹر ہی کے پاس ہوگا نا، اس لیے نعرے لگانے والوں کے دکھ اور درد کا علاج بھی ہمارے پاس ہے، کیونکہ سماج کے درد کا علاج کرنے والا تنہا ڈاکٹر صرف سماج ہی ہوا کرتا ہے۔ اگر آپ اس درد کا علاج نہیں کریں گے تو یہ متعدی مرض کل آپ تک بھی ضرور پہنچے گا یا تو پھر تیار رہیے اس دن کے لیے کہ جب آپ چیخیں لگا رہے ہوں اور یہی سماج، آپ کی جانب انگلی اٹھا کر کہہ رہا ہو کہ یہ شخص تو پاگل ہوا ہے، چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکائو، ہم اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔

 

ہمیں جنگ قبول نہیں، ہمیں نفرت قبول نہیں، ہمیں درد قبول نہیں، پھر آخر ہم پر یہ چیزیں کیوں مسلط کردی گئی ہیں
حکومتوں سے سوال کیجیے، ان سے پوچھیے کہ پانچ برس کی حکومت کا تسلسل پچھلے ستربرسوں سے جاری ہے، اسی طرح جس طرح سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے، مگر ہماری حالت کیوں نہیں بدلتی، ہمارے امراض کا علاج کب ہوگا، کب ہم غور کرنے کے لائق ہوں گے، کب تک ہماری امن، تعلیم اور ایک بہتر ذہن رکھنے والے سماج کی خواہشیں مذہب اور ملک پرستی کی گود میں لقوہ مارے بیٹھی رہیں گی۔ ہمیں جنگ قبول نہیں، ہمیں نفرت قبول نہیں، ہمیں درد قبول نہیں، پھر آخر ہم پر یہ چیزیں کیوں مسلط کردی گئی ہیں، اگر آپ سے یہ بھاری پتھر نہیں اٹھ رہا تو اسے چوم کر چھوڑتے کیوں نہیں۔کیوں جونک کی طرح ہمارا خون پچھلی سات دہائیوں سے چوسے چلے جا رہے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ کسی کی آواز، خواہ وہ ہمارے حق میں ہو یا ہمارے خلاف اس طرح دبائی جانی چاہیے، جس طرح آپ دبانے کا ہنر جانتے ہیں، آپ کا بہت اچھا طریقہ کار رہا ہے کہ اول کوئی مسئلہ سر ابھارتا ہے، پھر جب وہ بڑھ جاتا ہے اور اس کی لپٹیں آپ کے دامن تک پہنچنے لگتی ہیں تو آپ مذہب و ملک کی محبت کے جھوٹے توہین آمیز الزامات عائد کر کے ہمیں ہی آپس میں لڑوا دیتے ہیں۔ ہمیں نہ ملک کے لیے کرائے کے ٹٹووں کی ضرورت ہے، نہ مذہب کے لیے۔ خدا کے ساتھ اپنے معاملے میں ہم اکیلے ہوں گے، جس طرح زندگی کے معاملے میں ہیں اور اسی طرح ہمیں دھرتی کے معاملے میں ہونا چاہیے۔

 

ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری حفاظت کے نام پر جنگی ٹینکوں پر اتنا پیسہ برباد مت کیجیے ،بلکہ دن رات ایک کرکے محنت کرنے والے سپاہی کی تنخواہ بڑھائیے، اتنی کہ اس کے گھر میں پلنے والے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم ملنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہماری خاطرسی سی ٹی وی کیمروں، بندوقوں، لڑنے والے طیاروں کو خرید کر ہمارا گرو اور گورو مت بڑھائیے بلکہ ہمیں آپسی محبت اور بنیادی حقوق کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے ملک کا فخر عطا کیجیے۔ اور اگر ایسا نہیں ہو رہا ہے تو آپ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں، ہمارے نام پر اپنی جیبیں گرم کر رہے ہیں اور ہمارے ان پڑھ، جاہل اور لڑاکو ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت بھی کسی لمبے سے سفید ٹب میں ہلکے گرم پانی میں ننگے بیٹھ کر ہماری بربادی کا ایک نیا طریقہ سوچ رہے ہیں۔ اگر یہ جمہوریت ہے، جس کا سارا دارو مدار آپ کی اس جگاڑو طبیعت کے بل پر ہے تو معاف کیجیے، ہم اسے جمہوریت نہیں سمجھتے، نراج قرار دیتے ہیں، ایمرجنسی سمجھتے ہیں، ڈکٹیٹر شپ گردانتے ہیں۔ آپ نے تو ہندوستان کی عظیم الشان، رنگا رنگ تہذیب کو اس کگار پر پہنچادیا ہے کہ آج مسلمان ہی کیا سیکولر ہندو کو بھی کوئی شخص بہت آسانی سے پاکستانی قرار دے سکتا ہے، اسے دیش دروہی کہہ سکتا ہے، سر عام پیٹ سکتا ہے، اور اسے پھانسی پر چڑھانے کے لیے ماحول تیار کرسکتا ہے، اس کا کریئر تباہ کرسکتا ہے، بلکہ ضرورت پڑے تو لوگوں کا نمائندہ نیتا ہونے کے باوجود اسے گولی مار سکتا ہے اور اس قتل پر فخر کرسکتا ہے۔ہمیں ایسا ہندوستان کبھی نہیں چاہیے تھا، سو اگر آپ نے یہ ماحول پیدا ہونے دیا ہے تو پہلے خود سوچیے کہ گاندھی کے اس ملک میں سب سے بڑا غدار کون ہے۔

 

کچھ باتیں اردو والوں سے

 

ہمارا میر، ہمارا غالب، ہمارا منٹو، ہماری عصمت اور ہماری قرۃ العین حیدر اس دھرتی سے اگنے والے وہ سورج ہیں، جنہوں نے مذہب، ذات پات کے نام پر پلنے اور چلنے والی سیاست کے گلے پر انگوٹھا رکھنے کی ہمت کی ہے
یہ وقت ہندوستان پر برا ہے، ہندوستان جو ہمارا ملک ہے، ہمارا گھر ہے، اس میں کہیں مہنگائی، کہیں تعلیم، کہیں مذہب، کہیں آزادی اظہار کے نام پر ہمیں برباد کرنے کے بہت سے طریقے ایجاد کیے جارہے ہیں، انہیں مارکیٹ میں پہنچایا جارہا ہے، عام کیا جارہا ہے اور مقبول بنایا جارہا ہے۔ایسے میں ہم اردو والے، جن کی قربانیاں اس ملک کو آزاد کرانے میں کسی طور کم نہیں تھیں، آج کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری صرف اس کی آزادی تک نہیں تھی، ہمیں اسے ایک خوشحال، ترقی یافتہ ملک کی صورت میں دیکھنا ہے، ہم ایک سیکولر زبان کے ماننے والے ہیں، ہمارا میر، ہمارا غالب، ہمارا منٹو، ہماری عصمت اور ہماری قرۃ العین حیدر اس دھرتی سے اگنے والے وہ سورج ہیں، جنہوں نے مذہب، ذات پات کے نام پر پلنے اور چلنے والی سیاست کے گلے پر انگوٹھا رکھنے کی ہمت کی ہے، ہمیں ایک مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ہمیں شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتار ہا ہے، ہمارے رسم الخط کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے، ہماری آوازوں کا کبھی تمسخر اڑایا گیا ہے، کبھی ہمیں ایک پچھڑے ہوئے، مفلوک الحال طبقے کی نمائندگی کرنے والی زبان سمجھا گیا ہے، مگر ان سب باتوں کے باوجود ہم اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رسائل، اپنے اخبارات، اپنی آواز سب جگہوں پر اس ملک کی ترقی اور امن کے لیے کام جاری رکھیں۔ ہمیں ہندوستان میں رہنے والوں کی بربادی قبول نہیں، پڑوسی ملکوں کی دشمنی قبول نہیں، آزادی اظہار کو دبانے والی سازشیں قبول نہیں۔ مانا کہ ہماری آواز چھوٹی ہے، ہماری زبان کی اوقات کم ہے، جس کی وجہ ہماری ہی ترقی کے نام پر روپیہ بٹورنے والی، ہمیں صرف اٹھارہ سو ستاون سے پہلے کی تہذیب کا ایک کھوٹا سکہ سمجھنے والی، ہمیں تفریح ، رومانیت اور محبت جیسے چھچھور پن کی شاندار روایت کا قائم مقام منوانے والی کمپینیوں کا ہاتھ زیادہ ہے، مگر حقیقت ایسی نہیں ہے، ہم اتنے ہی سیکولر ہیں، جتنے گاندھی تھے، جنتے ابوالکلام تھے، ہم ہر سچے انقلاب سے جڑنے والے لوگ ہیں، ڈرنے والے نہیں۔ کوئی جیل ہمیں ڈرا نہیں سکی، کوئی عہدہ ہمیں للچا نہیں سکا، ہم ہندوستان کی ایک معزز زبان بولنے والے اچھے لوگ ہیں، اس لیے وقت ہے کہ اچھائی کا ساتھ دیں، کیونکہ برا وقت جیسا بھی ہو، گزر جائے گا۔ ہم صرف سچ سکھانے والے نہیں، سچ کو جینے والے لوگ ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت اور سنسنی خیزی

جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے
منہ کالا کروا ہی لیا ناں! مزید معلومات کے لیئے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیئے!
شرم و حیا کو تار تار کر ڈالا! مزید جاننے کے لیئے یہاں کلک کیجیئے!
قوم کی لٹیا ڈبو دی! دیکھیے ایک اور شرم ناک حرکت فلاں سیاستدان کی!
فلاں سیاسی پارٹی کی اصلیت سامنے آگئی، بقیہ صفحہ 8 کالم 9 پر پڑھیئے۔
قربِ قیامت کے آثار نمودار! مزید تفصیلات 9 بجے کے خبر نامے میں!
جانیئے! کہاں کھیلی، کیوں کھیلی، کس نے کھیلی، کس سے کھیلی، خون کی ہولی! خون کی ہولی!
پانی سے چلنے والی گاڑی ایجاد! نوبل پرائز ہمارا ہوا! فلاں صوبہ! فلاں دھرتی کا سپوت زندہ باد!
بھگوڑی بیوی، آشنا کے ساتھ فرار! پیچھے چھوڑ دی شوہر کی مردہ لاش!
آپ مانیں یا نہ مانیں منرجہ بالا سطریں حقیقی خبروں اور سرخیوں سے ماخوذ ہیں۔ اور ان کے بنانے والے ذرا بھی شرمندہ نہیں ہیں!

 

آپ کو مندرجہ بالا کوتاہیوں کے حق میں دیئے جانے والے انتہائی مقبول دلیل کی مثال دیتا ہوں، بقول کئی ’میڈیا پرسنز‘ کہ: ’آزاد میڈیا ایک شیر خوار، نونہال ہے، جس کے قیام کو صرف 12 سال ہی بیتے ہیں۔ اب اس طرح کا ناتجربہ کار ’میڈیا‘ غلطیاں نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔‘ اس بیانیے میں12 سال پرانے سے مراد، جیو نیوز سے شروع ہونے والا دور ہے۔ ایسے بیان دینے والے افراد صحافی نہیں، البتہ صنعتِ ابلاغ کے ملازمین ضرور ہوتے ہیں۔ یہ ایک صنعت کو جسے عاقل، بالغ افراد چلا رہے ہیں، انسانی بچے سے تشبیہہ دیتے ہیں جو عام منطقی مغالطوں کی ایک بھدی مثال ہے۔ میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا اور اس بناء پر ذرائع ابلاغ کو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی گنجائش نہیں دے سکتا۔

 

میرے خیال میں تو برِ صغیر میں صحافت کوئی 160 سالی پرانی حقیقت ہے۔ تحریک آزادی میں ہماری بے باک صحافتی روایت کا گراں قدر حصہ ہے۔ اس پیشے کی اہمیت کے پیش نظر بابائے قوم نے بھی ایک اخبار کی داغ بیل ڈالی تھی! یہ جو ہمارا سرکاری ٹی۔وی ہے، یہ بھی ابتداء میں ایک غیر سرکاری منصوبہ تھا لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا تھا۔ اگر اشارہ دیگر نجی اداروں کی طرف تھا تو، شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک بھی بہت پرانا ہے، پھر نجی ریڈیو چینلز کی بھی بھرمار رہی ہے۔ اور اگر رونا پیشہ ور صحافیوں کا ہے تو صحافت کی تعلیم کئی دہائیوں سے دی جا رہی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں کئی تعلیمی اداروں نے صحافت کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا ہے۔ پریس کلب جاکر پتہ کرلیجے کتنے اخبارات روزانہ چھپتے ہیں، کسی بزرگ صحافی سے پوچھ لینا سنسر شپ کیا ہوتی ہے، اور یہ بھی کہ سچ بولنے پر کیسی کیسی سزائیں ملی تھیں۔ روح کانپ جائے گی! اگر دیسی اخبارات پر اعتبار نہیں، تو بی-بی-سی ورلڈ نیوز، رائٹر اور اے-ایف-پی کا پوچھ لینا، ان اداروں پر تو اعتبار ہے ناں! ان میں بھی مقامی صحافی حضرات نے ہی خدمات انجام دی تھیں اور دے رہے ہیں، اور عالمی معیار کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لہٰذا یہ دلیل کے میڈیا تو ننھا منّا ہے غلط ثابت ہوتی ہے۔

 

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے۔ آج کے دور میں، زرد صحافت انتہائی معیوب لقب ہے اور یہ غیر معیاری سے لےکر، نا تجربہ کار اور غیر اخلاقی صحافت تک کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی سے مراد، ادارت کا وہ غیر معیاری طریقہِ کار اور ترجیحات ہیں جن کے ذریعے عام خبریں، حقائق اور معاملات کو عوام کے سامنے مبالغے کی حد تک بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً دو اہم شخصیات کی ملاقات کو حکومت کے دھڑن تختے تک پہنچا دینا۔

 

لوگوں کے جذبات سے کھیلنا، حقائق کو چھپانا یا بڑھا چڑھا کر بتانا، کسی واقعے کا صرف ایک رخ دکھانا یا بیان کرتے وقت معاملے کو سراسر بدل ڈالنا۔ مثلاً ایک جگہ، پولیس کے لیئے مختص نشستوں کو خالی دکھانا اور فوراً کہہ دینا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے غافل ہیں، حالانکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی مسئلے کو نمٹا رہے ہوں یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے کر جا چکے ہوں۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی بھی بات کی تصدیق نہ ہوسکی اور ادارے کو بدنام کردیا گیا۔ مزید نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی دوسرا چینل اس سے بھی زیادہ آدھی اور ادھوری ‘خبر’ پیش کرتا ہے اور سارا زور صرف سبقت لے جانے پر ہوتا ہے۔ سچائی سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ ایسی رپورٹنگ سے عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے، صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جنسی جرائم یا بے بنیاد سکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ پڑھنے والا اسے لذت کے حصول کے لیے پڑھے۔ اس ضمن میں جسمانی نمائش، گلیمر یا جنسی کج رویوں کی تبلیغ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

 

زرد صحافت کم و بیش، زر پرستی کی پیداوار ہے۔ ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔ جو چینل زیادہ دکھتا ہے، اس کا ایئر ٹائم اتنا ہی مہنگا بکتا ہے۔ یہ زیادہ دِکھنا ٹی-آر-پی یا ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ سسٹم کے ذریعے ماپا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ناپنا ہوتا ہے کہ کون سا چینل کس وقت زیادہ دیکھا گیا، اور بس! یہ سسٹم یہ نہیں ناپ سکتا کہ اگلے نے بعد میں چینل، یا اس پر چلنے والے پرگرام کی تعریف کی یا اس کو گالیاں دیں۔

 

میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔
پاکستان میں ٹی آر پی کا نظام بھی ناقص اور بے حد محدود ہے۔ پاکستان بھر میں کم و بیش 600 سے 800 گھرانوں میں یہ سسٹم نصب تھا، سنا ہے کہ حال ہی میں یہ تعداد 1000 سے 2000 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی گنتی کے ان گھرانوں میں جو چینل زیادہ دیکھا جا رہا ہےفرض کر لیا جاتا ہے کہ وہی پورے پاکستان نے دیکھا! ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی آر پی نظام کی تمام تر تنصیب شہری علاقوں میں ہے دیہی علاقہ جات کے رحجانات ماپنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔
اس نظام میں نمونے کا اس قدر مختصر ہونا ایک بہت بڑ ا مسئلہ ہے! سائنس و تحقیق بالخصوص عمرانیات میں کہا جاتا ہے کہ جتنا زیادہ وسیع اور متنوع نمونہ تحقیق کے لیے منتخب کیا جائے گاتحقیق کے نتائج اسی قدر معتبر ہوں گے۔ نمونے کے انتخاب کی شرح کی حد بھی مقرر ہے اور وہ حد ہے، 10 تا 20 فیصد۔ پاکستان بھر کے گھرانوں میں دیکھے جانے والے پروگراموں اور ٹی وی چینلوں کا اگر اندازہ لگانا ہے تو کلُ آبادی کا کم از کم 10 فیصد نمونہ منتخب کیا جانا چاہیئے۔ 22 کروڑ عوام کا دس فی صد دو کروڑ بیس لاکھ بنتا ہے، کہاں دو کروڑ بیس لاکھ اور کہاں محض دو ہزار۔۔۔۔ تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

 

اس ناقص نمونے کی بنیاد پر شروع کیے گئے ٹی وی پروگراموں کا معیار نہایت پست ہے۔ اس ضمن میں کئی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن میں سے ایک، ’آزاد، خودمختار اور ذمہ دار‘ ذرائع ابلاغ اور صحافت کی ترویج و تبلیغ ہے۔ سند یافتہ صحافیوں کی بھرتی کے باوجود زیادہ تر افراد بنیادی صحافتی اخلاقیات سے ناواقف ہیں یا انہیں اہمیت ہی نہیں دیتے جس کی ایک بڑی وجہ میڈیا مالکان کا کاروباری پس منظر ہے۔ آپ کسی بھی نام نہاد میڈیا پرسن سے پوچھ لیں وہ آپ کو اس بارے میں ککھ نہیں بتا سکے گا! اس کی تان جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے پر آکر ٹوٹ جائے گی۔ پاکستان میں دھکم پیل کر کے میڈیا حکومتی اثر سے آزاد و خودمختار تو ہوگیا ہے، لیکن ذمہ دار بالکل نہیں۔
چند ادارے میڈیا کو حقیقی طور پرآزاد و ذمہ دار بنانے کے لیئے کوشاں ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کو مزید تقویت پہنچانےکی ضرورت ہے۔ جو ادارے اس کاوش میں سرِ فہرست ہیں ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:

Individualland’s FIRM – Free Responsible & Independent Media
Mishal Pakistan’s Pakistan Media Credibility Lab
IoBM’s PCMF – Pakistan Citizens Media Forum

ان اداروں کی موجودگی خوش آئیند ہے، لیکن ان کا اثر و رسوخ بے حد محدود ہے۔ میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ صحافت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہی کردار ادا کرے جو اس کو زیب دیتا ہے تو ہمیں صحافت کو اشتہارات کی غلامی سے آزاد کروانا ہوگا!
Categories
نقطۂ نظر

A Pakistani Guide on Writing a News Report about Sexual Harassment in India

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]Imagine you are working as a content writer or reporter in a very competitive newsroom in Pakistan, and you are tasked with writing a news report about an incident of sexual harassment committed by a prominent Indian. The event includes complex details and information which you think is unnecessary to share with your readers. It is in such a situation that our primordial sentiments of ‘Indian enmity’ can provide you with ample support to easily complete this task in just 5 minutes.

The following is a step-by-step guide on how to write a news report in Pakistan about sexual harassment (or any other crime or ‘sin’) committed by an Indian celebrity:[/vc_column_text][vc_row_inner css=”.vc_custom_1445771097247{margin-left: 20px !important;}”][vc_column_inner el_class=”” width=”1/1″][vc_column_text]

1. First and foremost, investigate their views about Pakistan, Pakistanis, Pakistani artists, Pakistani latrines, etc.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445769419922{margin-top: -20px !important;background-color: #dbdbdb !important;}”]

2. If you find nothing on this, or their views about Pakistan are positive, you don’t need to write the news report at all.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445770822765{margin-top: -20px !important;}”]

3. If by any chance, you find that they have previously expressed negative views about Pakistan or Pakistanis, then hurray, you’ve hit the jackpot! From here on, the job is easy.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445771834518{margin-top: -20px !important;background-color: #dbdbdb !important;}”]

4. Present this person in your ‘news report’ as an enemy of the entire country.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445770859305{margin-top: -20px !important;}”]

5. Throughout your report, you may use the phrase ‘Pakistan mukhalif’ as an adjective whenever the person is mentioned.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445769660218{margin-top: -20px !important;background-color: #dbdbdb !important;}”]

6. Although a hasty mention of the event which you are actually reporting is not necessary, for the sake of upholding good journalistic practice you can add a phrase or even an entire sentence about it.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445770887960{margin-top: -20px !important;}”]

7. Though post-modernism is an artistic and philosophical movement, it also provides us the freedom to eradicate conservative journalistic formats and standards. So, it is perfectly acceptable if your news report is not strictly objective. From this event you should easily deduce that these sorts of events are becoming a norm in India, and Indian society as a whole is heading towards the deepest pits of immorality, indecency and shamelessness.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445771502938{margin-top: -20px !important;background-color: #dbdbdb !important;}”]

8. Your new report should be rounded off with two conclusions:

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445771540135{margin-top: -30px !important;margin-left: 10px !important;background-color: #dbdbdb !important;}”](i). Indians who are against Pakistan, or anything remotely Pakistan-related, are inherently and genetically immoral.

(ii). A poetic (or divine) justice is awaiting every Indian who fits into the above category.[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445770933447{margin-top: -20px !important;}”]

9. Great! You’ve successfully created a stunning piece of journalism which will not only get printed by any mainstream media group but will undoubtedly get thousands of likes, abusive comments and heavy web traffic.

[/vc_column_text][/vc_column_inner][/vc_row_inner][/vc_column][vc_column width=”1/3″ css=”.vc_custom_1445771927256{background-color: #dbdbdb !important;}”][vc_empty_space height=”300″][vc_column_text css=”.vc_custom_1445774630981{margin-top: 8px !important;margin-right: 8px !important;margin-bottom: 8px !important;margin-left: 8px !important;}”]On October 23, 2015 Express News published an insensitive report regarding the Indian singer Abhijeet Bhattacharya’s sexual harassment case. Although, there is no doubt that;
1. Indo-Pak relationship is getting worse
2. And religious fanaticism is on the rise in India
But to popularize its content, mainstream Pakistani media these days is heavily and needlessly reporting events from these two angles which has nothing to do with either Indo-Pak relations or religious fanaticism in India.
[/vc_column_text][vc_empty_space height=”300″][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_row_inner css=”.vc_custom_1445783028220{margin-top: -20px !important;}”][vc_column_inner el_class=”” width=”1/1″][vc_column_text]

Finally, this article will draw two conclusions of its own:

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445783057828{margin-top: -20px !important;margin-left: 20px !important;}”]

1. According to Alexa, the Urdu website of Express News is ranked at 15 in Pakistan right after Wikipedia and Twitter. While we should avoid passing any sweeping statements, it is hard to ignore that a large proportion of this traffic has been attracted by just feeding the masses what they really want to hear; by sugarcoating the actual facts and by giving exaggerated opinions and analysis.

[/vc_column_text][vc_column_text css=”.vc_custom_1445783070873{margin-top: -20px !important;}”]

2. The recent rise in religious fanaticism in India does not mean that if Indians are losing their shit, it necessarily implies that our shit should also hit the fan.

[/vc_column_text][/vc_column_inner][/vc_row_inner][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_empty_space height=”50″][vc_single_image image=”13192″ alignment=”center” border_color=”grey” img_link_large=”yes” img_link_target=”_blank” css_animation=”bottom-to-top” img_size=”300×256″][/vc_column][/vc_row]