Categories
شاعری

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

[blockquote style=”3″]

سر سیرل ریڈ کلف جب ہندوستان آیا تو اسے ایک اجنبی سرزمین کی تقسیم اور انہیں اقتدار کی منتقلی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تقسیم اور انتقالِ اقتدار کے لیے اس کے پاس محض پانچ ہفتے کا وقت تھا۔ ریڈ کلف کے ریڈ کلف کو بہت سے لوگ تقسیم کے دوران ہونے والے خون خرابے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور ہندوستان اور پاکستان دونوں کی جانب سے اس پر جانبداری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ آڈن کی یہ نظم ریڈکلف کے فیصلوں اور تقسیم کے عمل میں اس کے کردار پر ایک زبردست تنقید ہے۔ یہ نظم طنزیہ آہنگ میں ہے اور یہ 1966 میں لکھی گئی۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: یاسر چٹھا

 

جب اس (ریڈ کلف) نے اپنے اہم مقصد کے لئے اس سر زمین پر قدم رکھے
تو کم از کم اس وقت تک
وہ کسی کا طرفدار نہ تھا
اسے اس سر زمین کے حصے بخرے کرنے کو بھیجا گیا
جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے
ان کے بیچ اُسے منصفی کرنا تھی
جن کی غذائین باہم مختلف تھیں
جن کے معبود قطعی طور پر آپسی میل تک نہیں کھاتے تھے
لندن میں ہی اسے بتا دیا گیا کہ
“وقت بہت ہی کم ہے،
بلکہ یہ اس نہج پر ہے کہ
صلح و تفہیم کا کوئی امکان باقی نہیں،
اب کسی عقل کو ہاتھ مارنے کا محل باقی نہیں۔
وقت اور حالات نے اب صرف
بَٹوارہ ہی مقدر ٹھہرا دیا ہے۔
وائسرائے کا بھی یہی خیال ہے
اور اس کا اپنے نام کے خط میں بھی
یہی لکھا پاؤ گے
کہ وائسرائے سے جس قدر دُوری پر رہو گے،
بھلے میں رہو گے۔
سو ہم نے آپ کے لئے الگ قیام گاہ کا بندو بست کیا ہے۔
ہم آپ کو مدد و مشورہ کے لئے چار جج دیں گے؛ دو مسلمان اور دو ہندو
لیکن کہیں بھول نا جائے کہ
قولِ فیصل آپ کو ہی سزاوار ہے۔”

 

وہ ( ریڈ کلف) ایک بہت بڑی حویلی میں اکیلے آن گُھس بیٹھا،
جس کے باغوں کے چاروں طرف پولیس دن رات گشت پر مامور رہتی
کہیں کوئی شر پسند،
کوئی قتل کے ارادے سے ادھر نا آن ٹپکے۔
اُس نے اپنے کارِ عظیم کو ہاتھوں ہاتھ لیا؛
کام بھی ایسا کہ
اس کے ہاتھ کروڑوں انسانوں کی قسمت لکھنے کا قلم تھما تھا۔
اس کو دیئے گئے نقشے وقت کے ہاتھوں پِٹے ہوئے، ہارے ہوئے، گئے گزرے پارچے تھے؛
اور مردم و خانہ شماری کی ساری کتابیں
اور حساب کھاتے قریب قریب سر تا پا
غلطیوں سے اٹے تھے۔
لیکن ان کی جانچ کا وقت کس کے پاس تھا، قضیات کو پرکھنے اور
ان پر فیصل ہونے کی کس کو فرصت تھی۔
اوپر سے موسم بھی تو بلا کا گرم تھا۔
رہی سہی کسر اس کو لاحق پیچش کی مروڑوں نے
اُس کی دوڑیں لگوا کے پوری کی ہوئی تھی۔
لیکن سات ہفتوں کی مار میں یہ کام فِشوں چکر ہوا؛
سرحدوں اور سِیماؤں کی کترنیں بن چُکیں۔
پورے کا پورا برّعظیم آن کی آن میں بَٹ چُکا۔

 

اگلے دن کا سورج انگلستان پِدھارنے کا چڑھا۔
جہاں پہنچتے ہی ایک سکہ بند و پیشہ ور وکیل کی طرح
کسی عام سے مقدمے کی مِثل
اِس مہان بٹوارے کا مقدمہ بھی اُس نے پلک جھپکنے میں
اپنی یاد سے محو کردیا۔
اس نے یہاں کا پھر کبھی مُنھ نہ کرنا تھا،
وہ اپنے کلب کے دوستوں کو بتا چلا تھا
کہ واپس لوٹنے کا معنٰی
بجُز سیدھے گولی کا نشانہ بننے کے
کچھ اور نا تھا۔

Image: “Hail and Welcome.” Leader 24 March, 1947
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: یاسر چٹھہ

 

چوسر، لانگلینڈ، ڈگلس، ڈنبر ساتھ تمہارے
باقی کے قدماء، تم کیسے کامیاب رہے،
درد سلانے کی دواؤں یا غم غلط کرنے کے آسروں کے بغیر،
روزانہ کے بغلی خطروں میں گِھرے جادو ٹونے کرنے والوں اور والیوں سے،

 

جذامیوں سے، اہلِ کلیسا سے، سرحد پار کے بھاڑے کے فوجیوں سے،
جیسے جلے بُھنے سے وہ آتے، کیسے لکھتے رہے آپ اتنے رہ کے پُرمسرت، ترحمِ خودی میں چہرہ پر شکنیں لائے بغیر؟
پیچ در پیچ آپ کی عبارتیں گو کہ تھیں لیکن بیہودہ نا ہر گِز ہوئیں،

 

کار ہائے جنس سے تمسخرانہ برت کی لیکن صفحات کو متعفّن نا کیا، تمہاری گُلو گرفتہ پروازیں، لاجواب عالی مرتبت خوشمزگی، جب کہ ہمارے عہد کے تخلیق کار،
جسمانی سکون کے بازوؤں میں محصور
مامون ہیں بہ انداز خود تمام خرافات سے

 

اپنی افضل ترین حالت میں بھی اکثر کج خلق،
الجھے ہوئے، سنگ بنے اپنی کریہہ اناؤں کے ہاتھوں۔
ہم سب پوچھتے ہیں، پر شاید ہی کوئی ہے جو یہ بتائے کہ سب عَہدوں میں سے
ہمارے وقت کو ہی کیوں پاتے ہیں سب باقی زمانوں والے

 

ایک ایسا عہد جو ہو شدید تنفّر آور۔
بغیر اس کے بے حس انجنوں کے، تم ہرگز مکین ہو سکتے نہیں میری کتابوں کی شیلفوں کے،
عین ممکن ہے یہ میرے کان اُچک لیں اور میرا اُداس گوشت چپکے سے ہڑپ کر جائیں۔
میں اب بخوشی صرف ایسا بنوں گا

 

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔

Image: Ford Madox Brown
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شہر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شہر

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: فیاض احمد

 

گاوں میں جہاں سے ان کے لڑکپن آئے
ضررت کی تلاش میں
اُنہیں سکھایا گیا تھا
ضرورت فطرتاََ ایک سی ہوتی ہے
اِس سے قطعٔ نظر کہ اسے کیسے اور کس سے پورا جائے۔

 

شہر، اگرچہ ایسا کوئی یقین نہیں رکھتا
سب کو خوش آمدید کہتا ہے، جیسے وہ اکیلا آیا ہے۔
ضرورت کی فطرت دکھ کی طرح
بالکل ہر ایک کے اپنے مُطابق ہوتی ہے

 

اور (شہر) انہیں بہت کچھ پیش کرتا ہے
ہر کوئی اپنی حالت کے موافق ترغیب لیتا ہے
اور ساری کاریگری میں مہارت حاصل کرنے کو رُک جاتا ہے

 

عدم وجود کے با وصف،
کھانے کے وقت دھوپ میں، فوارے کے بنیرے پربیٹھے
گاؤں سے آتے بچوں کو دیکھا
اور قہقہ لگایا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ ہمہ تن چشم ہوا اور دیکھے
شاہ زادوں کے قدم اٹھانے کے انداز، ازواج و طفلان کے بیان؛
مکرّر کھولِیں پرانی مرقدیں اپنے قلب کے دُروں سے سیکھنے کو
کہ کون سے قانون تھے وہ جن کی نا خلفی سے جاں سے گئے سب مرحومین؛

 

اور بعد بہتیرے تذبذب آیا اس نتیجہ پر:
“سب اسیرانِ کُرسی فلسفی غلط ہیں،
کسی اور سے محبت خلجان جَنتی ہے،
سب نوحے ہیں شیطان کا رقص۔”

 

اور دو زانو ہوا بَر رُوئے تقدیر، اور کامران ہوا، اس طرح
کہ جلد سرفراز ہوا بادشاہی پہ سب مخلوقوں کی:
مگر، جھٹکا کھائے خزاں کے بُرے خواب سے، دیکھا،

 

نیچے اترتا خالی صحن میں
عین اُسی کے مسخ نین و نقوش کا اک سایہ
جو رویا، پھر دیو ہیکل ہوا، اور بھرّائی آواز میں گویا ہوا، ہائے وائے۔

Image: Mark M Mellon
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں اگر تمہیں بتا پایا

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں اگر تمہیں بتا پایا

[/vc_column_text][vc_column_text]

وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا
وقت تو بس اتنا جانے کہ ہمیں کس بھاؤ پڑے گی
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

جب مسخرے اپنے کرتب شروع کریں تو کیا ہم رو لیں
جب سازندے اپنے ساز چھیڑیں تو کیا ہم لڑکھڑا لیں
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا

مجھے ہر گز ناکامیوں، کامرانیوں کی کِتھائیں نہیں سنانی ہیں
کہ مجھے تم سے میرے بیان کی حدوں سے پرے کی کیفیتی محبت ہے
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

ہوائیں جب چلتی ہیں، وہ کہیں سے تو آتی ہوں گی
کیوں پتّے گلتے سڑتے ہیں، کچھ وجہیں تو ہوں گی
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا۔

 

شاید گُلاب دل سے اُگنے کی آشا رکھتے ہیں
منظر نیت باندھے سنجیدہ ہے ساکت رہنے کو
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

پل بھر کو فرض کرو کہ سب شیر بھاگ نکلتے ہیں
سب ندیاں اور سپاہی کہیں دُور فرار ہو جاتے ہیں
کیا وقت پھر بھی کچھ نہیں کہے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا؟
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

[/vc_column_text][vc_column_text]

اس طرح کی ایک چھٹے بادلوں والی صاف آسمان کی رات
روح کو آزاد اونچا اڑانے کو کافی ہوتی ہے
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد
گھنٹہ گھر کا منظر کافی متاثر کرتا ہے
ہلکے سے بور کرنے والے
اٹھارہویں صدی جیسے احساس کی مانند

 

بڑی ٹھنڈ سی پڑتی تھی احساسِ نو بلوغیت کو
کسی شرم سے تہی نظر کی ٹکٹکی سے
جو کام میں نے کیئے، نہیں ہوسکتے تھے
اتنے صدمہ دینے والے کہ جس قدر وہ لوگ مدعی ہیں
اگر وہ آج بھی یہیں موجود ہوتے
صدمے زدہ لوگوں کے مرنے کے اتنے عرصے بعد بھی

 

اب، مرنے کو تیار ہوں
لیکن پہلے ہی اس مرحلے پہ ہوں
جب بندے کو نوجوانوں سے بیزاری شروع ہوجاتی ہے
میں خوش ہوں کہ آسمان میں موجود وہ نقطے
بھی گِنے جائیں گے
مخلوقاتِ عہدِ وسطٰی میں

 

رات کے بارے سوچنا ایک نرم گرم احساس ہے
جیسا کہ سوچنا ایک اولڈ ہوم کے متعلق
نا کہ کسی رواں مشین کے شَیڈ کے بارے فکر مند ہونا
انتہائی پرانے عہد سے بھی پہلے کی سرخ روشنی
جا چُکی عظیم تر سلطنتِ روما کی طرح
یا پھر سترہ برس کی میری عمر کی طرح

 

بھلے ہم جتنا بھی اچھا جانیں
وہ متین انداز کہ جس میں
لکھا کلاسیک لکھاریوں نے
پر پھر بھی صرف جوانوں اور امیروں
ہی میں دم ہے کہ وہ چھیڑیں سُر
حادثات و المیاتِ حیات کے

 

وقتِ موجود بھی باہر کی جانب کِھسکتا جا رہا ہے
عین ماضی کے عمل کی طرح، یہ پھر سےایک غلط کاری ہے
اس کی سسکیوں پہ کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں
اور سچ تو چھپا کبھی رہ نہیں سکتا
کسی نے اپنے درد کو چُنا
وہی ہوا جو نا ہوتا تو اچھا ہوتا

 

عین اس رات کو ہوتی ایک ایسی چیز سے
جو کسی جانے مانے ضابطے کی ضبط سے پرے ہے
کسی وقوعہ نے پہلے ہی دے مارا ہے
اپنا پہلا سا “نا” کا شبد سیدھا ان ضابطوں کے چہروں پر
جو ہم نے حق جانے تھے اسکول میں
بابت اپنی حیاتِ ما بعد طوفانِ نوح کے

 

لیکن ستارے اوپر دمکتے ہیں
اپنی اخیر کو جانے اور فکر میں گِھرے بغیر
میں گھر واپس بستر کو لوٹتا ہوں
یہ پوچھتے پچھاتے، کیا فیصلے ہونے کو ہیں
میری ذات کے متعلق، میرے احباب کی بابت
اور ان ریاست ہائے متحدہ کے متعلق

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جنازے کا کرب

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنازے کا کرب

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھہ

 

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو

 

چکرانے دو بَر سَر بِلکتے جہازوں کو
دو لکھنے کھرچ کھرچ انہیں سنیہا یہ
کہ “وہ جان کی بازی ہار گیا”
ہار کر دو سفید کریپ سے آزاد کبوتروں کی گردنوں کو
دو پہننے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو سیاہ رنگ دستانے

 

وہ تھا میرا شمال، میرا جنوب، میرے سب شرق و غرب
میرے کام کاج کے دن، اور میرا آرام دن اتوار کا
میرا نصف دن، میری آدھی شب، میری گفتگو، میرا نغمہ
مجھے یقیں تھا کہ محبت کو ہے دائمی قرار
لیکن یہ میری فاش غلطی تھی۔

 

ستاروں کی اب کسے ہے چاہ، انہیں گُل کر دو
چاند کو سمیٹ لو، سورج کو پھوڑ ڈالو
بھر کے پھینک دو دور سمندر کو، لپیٹ ڈالو سب درختوں کو
کچھ بھی اب کسی کام کا نہیں۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک دوسرا عہد

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک دوسرا عہد

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھہ

 

ہم کسی بھی مفرور کی مانند ہیں
بہت سے پھولوں کی طرح جنہیں گننا محال ہو
اور بہت سے جانوروں کی طرح جنہیں یاد رکھنا ضروری نا ہو
یہ آج ہی ہے جس میں ہم حیات ہیں

 

کتنے سارے ہیں جو کہتے ہیں “ابھی نہیں”
کتنے سارے ہیں جو بھول چکے ہیں کہ کیسے
کہنا ہے کہ “میں ہوں” اور ہو جائیں گے
گُم تاریخ میں اگر ان سے ہو سکے تو

 

جھکتے ہیں عہدِ رفتہ کے گزرے انداز میں وہ
ایک خاص وقت سے چپکے جاتے ہیں
کھسر پھسر کرتے ہیں وہ قدماء کی طرح اپنی ترقی کے زینوں پہ بڑھتے ہوئے
“میرے” اور “ان کے” یا “ہمارے” اور “اور باقی سب کے” والے

 

بالکل اس طرح کہ جیسے وقت ان کی مرضی کا غلام ہے
جیسے وہ انہیں ہی کی ملکیت میں ہو
بالکل اس طرح جیسے وہ کسی وقت خاص سے ناتہ جُڑائی میں بالائے سہو ہوں

 

کچھ انوکھا نہیں کہ بُہتے دکھ سے مرتے ہیں
بہت سے بڑی تنہائی کا شکار ہو کے مرتے ہیں
کسی نے بھی نہیں مانا اور نا ہی جھوٹ کو پسند کا جانا
کوئی دوسرا عہد دوسری جانوں کو ہی اپنے میں جینے دیتا ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک جابر کا سنگِ مزار

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک جابر کا سنگِ مزار

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھا

 

ایک نوع کی کاملیت کے پیچھے وہ تھا
اور شاعری جو اس نے اختراع کی سمجھنے میں آسان تھی
انسانی حماقتوں کو کھوجنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا
اور وہ بہت شوقین تھا بری افواج و بحری بیڑوں کا
جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]