Laaltain

غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

الٰہیات

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت

غیر معمولی عورت

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

میں اگر تمہیں بتا پایا

وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا
وقت تو بس اتنا جانے کہ ہمیں کس بھاؤ پڑے گی
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

جنازے کا کرب

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو

دعوت

مجھے آسمان کی جانب مختصر رستہ مِل گیا ہے
جس رستے پہ صرف میں چلا ہوں۔
لیکن آج تمُ بھی میرے ساتھ چلو گی،
تم میرے بازو کی سوار بنو گی

ایک دوسرا عہد

ہم کسی بھی مفرور کی مانند ہیں
بہت سے پھولوں کی طرح جنہیں گننا محال ہو
اور بہت سے جانوروں کی طرح جنہیں یاد رکھنا ضروری نا ہو
یہ آج ہی ہے جس میں ہم حیات ہیں

ایک جابر کا سنگِ مزار

جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے