Categories
شاعری

غیر حاضر مالک مکان

شاعر ۔ چارلس سیمیِچ
ترجمہ ۔ حسین عابد

یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

وہ چاہے تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑے
اس عجیب وغریب احساس میں
جو آ لیتا ہے ہمیں کبھی کبھی
کہ کوئی بڑا مقصد پوشیدہ ہے
یہاں ہمارے قیام میں
جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں
اور ہر شئے کی مرمت ہونے والی ہے

کم از کم وہ ایک تختی تو لگا سکتا تھا
’’ کاروباری دورے پر روانہ‘‘
جسے ہم دیکھ سکیں
قبرستان پر، جس کا کرایہ وہ وصول کرتا ہے
یا رات کے آسمان پر
جس کے نام ہم اس کی شکایتیں بھیجتے ہیں

Image: Nguyen Thai Tuan

Categories
شاعری

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

اپنی راکھ، چنگاریوں اور جلی ہوئی لکڑیوں کو ہِلاتے جُلاتے

 

ایک غازہ مَلی ہوئی آنکھ، ایک بار آدھی پگھلی، بعدازاں جم گئی ہوئی
سوچتے بچارتے
ان خیالات کے متعلق، جو چکنا چور ہو جاتے ہیں
توجہ کی نظر کے پہلی ہی بار مٓس کرنے سے

 

کھڑکی پہ پڑنے والی روشنی، کتنی مربع شکل اور عین پہلے ہی جیسی
بالکل ہمیشہ جیسی، پوری طرح توانا، اور اس کھڑکی کا قالب
خلا میں باندھی ایک مچان جوکہ آنکھوں کے اوپر جھکنے کے واسطے ہے

 

جسم کے آسرے کے واسطے، اپنے پرانے کام کرنے کی شکل میں ڈھلے
سُرمئی ہوا میں چھوٹی چھوٹی مسافتیں کرتے
سُن شُدہ اس دھندلائے سے حادثے سے
اس مہلک، حقیقی گھاؤ کی کیفیت کے اندر سے گذر آنے کے
نِسیان کی لاچاری کے زیرِ اثر

 

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

 

بڑھاپا آہستگی سے ملبوس ہو جاتا ہے
موت رات کی بھاری خوراکِ دوا پر
بستر کے ایک کونے پہ بیٹھتی ہے

 

اپنا ریزہ ریزہ چُن کے اکٹھا کرتی ہے
اور اپنی قمیص میں ٹانک لیتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

الٰہیات

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

الٰہیات

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

نہیں، یہ سانپ تو بالکل ہی نہیں تھا”
جس نے حوا کو سیب خوری کے لئے بہکایا تھا
یہ تو سراسر حقائق کی توڑموڑ ہے۔

 

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت۔

 

اب بھی سانپ
جنت میں پیٹ بھرے مستِئ خواب میں ہے
اور خدا کی طعن و تشنیع کا منتظر ہے۔”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

غیر معمولی عورت

[blockquote style=”3″]

اس نظم میں مایا اینجلو کا اپنی ذات پر اعتماد اور یقین واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور عام عورت کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ عورت کواُس کے غیر معمولی پن اُس کی شخصیت کے سحر، پُر اسراریت اور خوبصورتی کا احساس دلانا چاہ رہی ہیں۔ عورت جسے مردانہ حاکمیت پر استوار معاشروں میں دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔ اس نظم میں حد سے زیادہ پُر اعتماد اور اپنی شخصیت کی خوبیوں سے آشنا دکھائی دے رہی ہے اور شاید مایا اینجلو ہر عورت کو ایسا ہی غیر معمولی طور پُر اعتماد دیکھنا چاہتی ہیں۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غیر معمولی عورت

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا ایجلو
تعارف و ترجمہ: رابعہ وحید

 

حسین عورتیں حیرت زدہ ہیں کہ میری (سحر زدہ شخصیت) کا راز کس چیز میں ہے
میں نہ تو پُر کشش ہوں اور نہ ہی میرے خد و خال
کسی ماڈل (گرل) سے مطابقت رکھتے ہیں
لیکن جب میں اپنی (سحر زدہ شخصیت) کا راز انہیں بتانا شروع کرتی ہوں
وہ سوچتی ہیں کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری بانہوں کی دسترس میں ہے
یہ میرے کولہوں کے احاطے میں ہے
یہ میرے اٹھتے ہوئے قدموں میں ہے
میرے ہونٹوں کے کٹاؤ میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر یقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

میں بھی کمرے میں جاتی ہوں
ایک مرد کے پاس
اُسی پُر سکون انداز میں جیسے تم مطمئن کرنے جاتی ہو
اُن محبوبوں کو جو تمہارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
یا گھٹنوں کے بَل جھکے ہوتے ہیں

 

پھروہ میرے گرد اشتیاق سے جمع ہو جاتے ہیں
جیسے شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے کے گرد

 

میں کہتی ہوں
یہ میری آنکھوں کی دہکتی ہوئی آگ ہے
اور میرے دانتوں کی چمک ہے
میری بَل کھاتی ہوئی کمر ہے
اور میرے پیروں میں بھری مستی ہے

 

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

خود مرد بھی حیرت زدہ ہیں
کہ ان کو مجھ میں کیا دکھائی دیتا ہے
وہ بہت کوشش کرتے ہیں
لیکن وہ میری ذات کی پُر اسرایت کو نہیں چھو پاتے
جب میں ان پر اپنی (ذات) آشکار کرتی ہوں
تو وہ کہتے ہیں
ہم پھر بھی کچھ نہیں دیکھ پائے

 

میں کہتی ہوں
یہ (سحر) میری کمر کے خَم میں ہے
میری مسکراہٹ کے چمکتے سورج میں ہے
میرے پستانوں کے اُبھار میں ہے
میرے پُر وقار نازو ادا میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیریقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

اب تم سمجھ سکتی ہو
صرف اسی وجہ سے میرا سر کبھی نہیں جھکا
میں چیختی چلاتی نہیں
یا ادھر ادھر اچھلتی نہیں پھرتی
یا مجھے کبھی حاکمانہ انداز میں بات نہیں کرنا پڑتی
تمہیں تو اس بات پر ہی نازاں ہو جانا چاہیے
جب تم مجھے اپنے پاس سے گزرتا ہُوا دیکھو

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری ایڑیوں کی ٹک ٹک میں پوشیدہ ہے
مرے گھنگریالے بالوں میں ہے
میری ہاتھ کی ہتھیلی میں ہے
میری نوک پلک سنوارنے کی ضرورت میں ہے
کیوں کہ میں ایک عورت ہوں
غیر معمولی_______
وہ غیر معمولی عورت_______
میں ہی ہوں

Image: Amy Toensing
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ساکت زندگی (آوازیں)-پیڈرو سیرانو کی ایک نظم

[blockquote style=”3″]

پیڈرو سیرانو مونٹریال، کینیڈا، میں 1947 کو پیدا ہوئے۔ نیشنل آٹونومس یونیورسٹی میکسیکو میں فلسفہ و ادب کی فیکلٹی میں پروفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں تازہ ترین 2009 میں شائع ہوئی ہے۔ شاعری کے متعدد مجموعہ جات میں ان کی نظمیں شامل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے خود بھی کئی شاعری کے مجموعوں (anthologies) میں بطور مدیر اور معاون مدیر کام کیا ہے۔ کئی معتبر جرائد کے مدیرِ اساسی ہیں۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ساکت زندگی (آوازیں)

[/vc_column_text][vc_column_text]

پیڈرو سیرانو: پیڈرو سیرانو
مترجم: یاسر چٹھہ

 

سب جُزئیاتی فرق ہی میں ڈھکا ہے
سب روشنی کے کھیل ہی کا باسی ہے
سب شاہد کے ارادے کی معطلی سے ہی جُڑا ہے۔

 

آپ دنیا پہ ایسے نظر گاڑتے ہیں
کہ جیسے یہ قائم رہنے کے واسطے ہے
کہ جیسے عملوں کی بار بار کرنی تخم کی
بار آوری کر دے گی
کہ جیسے گلیاں چُھونے کی حس سے معمور
حوالے ہوں۔
آپ ایسے دیکھتے ہیں جیسے آپ یہاں دائم موجود رہیں گے۔
آپ اسی انداز ہی سے تو دیکھتے ہیں، بغیر کسی دلیل کے سہارے کے،
بے گانے ہو کر ہر برپا ہوتی ہونی سے، پس یہی ہے
انداز آپ کے دیکھنے کا،
آپ خود کو ہی دیکھتے ہیں، آپ اپنی ہی پشت کو دیکھتے ہیں۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
انگریزی سے ترجمہ: رابعہ وحید
ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو

 

ایک مکڑی کا جالا
شبنم کے قطروں کے
چھوئے جانے کے خوف سے تن گیاہے
اُٹھا کے لے جانے والی بالٹی میں
لبالب بھرا ہُوا پانی
شام کے پہلے ستارے کا جھلملاتا عکس دکھا رہا ہے
ٹیلوں کے گرد اپنی سانس کے
گرم ہالے بناتی ہوئی گائیں
اپنے گھر جا رہی ہیں

 

جن کے بڑے بڑے وجود
خون کا بہتا ہُوا
گہرا دریا لگ رہے ہیں
جو سنبھال رہی ہیں
کہ اُن کا دودھ چھلک نہ جائے

 

“چااااند_____چاند، چاند”
تم چلّانے لگی_____
چاند ایک مصوّرکی طرح خود کو دیکھتے ہوئے
____چونکتے ہوئے پیچھے ہٹا
اپنے وجود کے فن پارے کی
داد وصول کرنے کے لیے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں اگر تمہیں بتا پایا

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں اگر تمہیں بتا پایا

[/vc_column_text][vc_column_text]

وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا
وقت تو بس اتنا جانے کہ ہمیں کس بھاؤ پڑے گی
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

جب مسخرے اپنے کرتب شروع کریں تو کیا ہم رو لیں
جب سازندے اپنے ساز چھیڑیں تو کیا ہم لڑکھڑا لیں
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا

مجھے ہر گز ناکامیوں، کامرانیوں کی کِتھائیں نہیں سنانی ہیں
کہ مجھے تم سے میرے بیان کی حدوں سے پرے کی کیفیتی محبت ہے
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

ہوائیں جب چلتی ہیں، وہ کہیں سے تو آتی ہوں گی
کیوں پتّے گلتے سڑتے ہیں، کچھ وجہیں تو ہوں گی
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا۔

 

شاید گُلاب دل سے اُگنے کی آشا رکھتے ہیں
منظر نیت باندھے سنجیدہ ہے ساکت رہنے کو
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

پل بھر کو فرض کرو کہ سب شیر بھاگ نکلتے ہیں
سب ندیاں اور سپاہی کہیں دُور فرار ہو جاتے ہیں
کیا وقت پھر بھی کچھ نہیں کہے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا؟
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جنازے کا کرب

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنازے کا کرب

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھہ

 

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو

 

چکرانے دو بَر سَر بِلکتے جہازوں کو
دو لکھنے کھرچ کھرچ انہیں سنیہا یہ
کہ “وہ جان کی بازی ہار گیا”
ہار کر دو سفید کریپ سے آزاد کبوتروں کی گردنوں کو
دو پہننے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو سیاہ رنگ دستانے

 

وہ تھا میرا شمال، میرا جنوب، میرے سب شرق و غرب
میرے کام کاج کے دن، اور میرا آرام دن اتوار کا
میرا نصف دن، میری آدھی شب، میری گفتگو، میرا نغمہ
مجھے یقیں تھا کہ محبت کو ہے دائمی قرار
لیکن یہ میری فاش غلطی تھی۔

 

ستاروں کی اب کسے ہے چاہ، انہیں گُل کر دو
چاند کو سمیٹ لو، سورج کو پھوڑ ڈالو
بھر کے پھینک دو دور سمندر کو، لپیٹ ڈالو سب درختوں کو
کچھ بھی اب کسی کام کا نہیں۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دعوت

[blockquote style=”3″]

لائبر فالکو 1906 میں مونٹی ویڈیو، یوروگوائے میں پیدا ہوئے۔ پوری زندگی کافی غربت میں گذاری لیکن اپنے ہم وطنوں سے بڑی محبت سمیٹی۔ یہی محبت ان کا سرمایہ رہی۔
لائبر فالکو اپنے حلقئہِ احباب میں مرکزی اہمیت کے حامل تھے۔ ان کے احباب ہی ان کی نظموں کے مخاطبین کے طور پر رو پذیر ہوتے رہے۔ اور یہی عمر بھر ان کی مالی اعانت بھی کرتے رہے۔ لائبر فالکو کے انہی رفقاء کے توسط اور معاونت سے ہی بعد از رخصتِ جہاں ان کی تصانیف نے کتابی شکل اختیار کی۔ آپ اس دنیا سے 1955 میں کُوچ کر گئے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دعوت

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: لائبر فالکو
مترجم: یاسر چٹھہ

 

مجھے آسمان کی جانب مختصر رستہ مِل گیا ہے
جس رستے پہ صرف میں چلا ہوں۔
لیکن آج تمُ بھی میرے ساتھ چلو گی،
تم میرے بازو کی سوار بنو گی۔
تم، لڑکی، اور میرے سب دوست،
ہم سب، بانہوں کو ہار کرکے۔
مجھے بہ جانبِ آسمان آسان رستہ مل گیا ہے۔
تمُ سب آؤ گے، ہم سب ہمجولی جائیں گے۔
ہم سب ہمجولی، بانہوں کو ہار کر کے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک دوسرا عہد

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک دوسرا عہد

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھہ

 

ہم کسی بھی مفرور کی مانند ہیں
بہت سے پھولوں کی طرح جنہیں گننا محال ہو
اور بہت سے جانوروں کی طرح جنہیں یاد رکھنا ضروری نا ہو
یہ آج ہی ہے جس میں ہم حیات ہیں

 

کتنے سارے ہیں جو کہتے ہیں “ابھی نہیں”
کتنے سارے ہیں جو بھول چکے ہیں کہ کیسے
کہنا ہے کہ “میں ہوں” اور ہو جائیں گے
گُم تاریخ میں اگر ان سے ہو سکے تو

 

جھکتے ہیں عہدِ رفتہ کے گزرے انداز میں وہ
ایک خاص وقت سے چپکے جاتے ہیں
کھسر پھسر کرتے ہیں وہ قدماء کی طرح اپنی ترقی کے زینوں پہ بڑھتے ہوئے
“میرے” اور “ان کے” یا “ہمارے” اور “اور باقی سب کے” والے

 

بالکل اس طرح کہ جیسے وقت ان کی مرضی کا غلام ہے
جیسے وہ انہیں ہی کی ملکیت میں ہو
بالکل اس طرح جیسے وہ کسی وقت خاص سے ناتہ جُڑائی میں بالائے سہو ہوں

 

کچھ انوکھا نہیں کہ بُہتے دکھ سے مرتے ہیں
بہت سے بڑی تنہائی کا شکار ہو کے مرتے ہیں
کسی نے بھی نہیں مانا اور نا ہی جھوٹ کو پسند کا جانا
کوئی دوسرا عہد دوسری جانوں کو ہی اپنے میں جینے دیتا ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک جابر کا سنگِ مزار

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک جابر کا سنگِ مزار

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
ترجمہ: یاسر چٹھا

 

ایک نوع کی کاملیت کے پیچھے وہ تھا
اور شاعری جو اس نے اختراع کی سمجھنے میں آسان تھی
انسانی حماقتوں کو کھوجنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا
اور وہ بہت شوقین تھا بری افواج و بحری بیڑوں کا
جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]