Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)

دن نکل آیا، مجھے کافی ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا۔ جلدی تیار ہو کر کمپنی میں گیا اور ایک آزاد ذہن سے ‘آدمی’ کی میکنگ کے کام میں اپنے آپ کو جھونک دیا۔ دن بھر شوٹنگ کرنے کے بعد رات میں یا تڑکے اٹھ کر میں سنیریو لکھنے بیٹھا کرتا تھا۔ دن رات مجھ پر تو بس یہی ایک دُھن سوار رہتی کہ کیسے فلم کا ہر سین پُراثر ہو گا، کیسے ہر سین ناظرین کے ذہن پر انمٹ چھاپ چھوڑ جائے گا۔ ہر سین لینے سے پہلے ہی اُس کے کرداروں اور کیمرے کی چھوٹی سے چھوٹی ہلچل کیسی ہو، اس کا مکمل خاکہ میرے من میں تیار رہتا تھا، ایک دم صاف اور واضح۔

چکلہ بستی میں گھومتے پھرتے سمے آخر میں ہماری ملاقات جس ویشیا سے ہوئی تھی اس نے زور دے کر کہا تھا کہ ہم لوگ اگرچہ جسم بیچتے ہیں، ہر دن صبح بھگوان کی پوجا کیے بنا پانی تک نہیں پیتے۔ اس کی بات سن کر تب ہم لوگ کافی دنگ رہ گئے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ مہذب سماج کی نظروں میں گری ہوئی اور بدنام ہو چکی ان عورتوں کی جو مذہبی ذہنیت ہے، ناظرین کے سامنے بِنا کہے آ جائے۔ لہٰذا ایک چُھپا ہوا مزاحیہ سین میں نے سکرین پلے میں جوڑ دیا : ہیروئین والی چال میں ہی دو ویشیائیں سویرے پوجا کرتے کرتے بیچ ہی میں اپنے کوٹھوں کے دروازوں پر آ کر کل رات آئے کسی گاہک کے بارے میں زوروں سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو اتنا طیش آ جاتا ہے کہ پوجا کا خیال بُھلا کر آرتی کا دِیا ہاتھ میں لیے ہی وہ دروازے پر آ کر پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑاتی رہتی ہے اور پھر اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں جھگڑے میں الجھی دوسری ویشیا بھی پوجا کی گھنٹی ہاتھ میں لیے اپنے دروازے پر آ کر پہلی ویشیا کو کافی بھلا برا کہہ کر پھر اندر چلی جاتی ہے اور پوجا کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر یوں ہی میں نے جاری رکھا۔

ویشیاؤں کے کوٹھوں پر مختلف مذاہب اور جاتیوں کے لوگ جایا کرتے ہیں۔ اس ویشیا کے کوٹھے پر گاہکوں کو ہوٹل سے چائے لا کر دینے والے چھوکرے کے منہ سے یوں ہی مذاق میں ایک بے معانی بکواس گیت گوایا تارے۔۔ نا۔۔ نانو۔۔ نانو۔۔

کیسر اپنے کوٹھے پر آئے مختلف صوبوں کے شوقین گاہکوں کے سامنے ‘اب کس لیے کل کی بات’ گانا گاتی ہے۔ سبھی رسیا گاہک خوش ہو کر اس پر پیسوں کی برسات کرتے ہیں۔ وہ سب لوگ کوٹھے پر سے چلے گئے ہیں، یہ سین دِکھتا ہی نہیں۔ دکھائی دیتی ہے صرف ان کی کیسر پر کی گئی پیسوں کی برسات۔ اس سے تو کتنی ہی باتیں بِنا کہے اشارے سے ہی من پرنقش ہو جاتی ہیں؛ جیسے ابھی کچھ ہی لمحے پہلے وہاں جمی محفل میں آئے کیسر کے چہیتے اس کی اپنی نگاہ میں صرف چند چاندی کے سکے ہیں، زندگی چلانے کے محض ذرائع ہیں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تھکی ماندی کیسر غیر متغیر من اور چہرے سے دھیرے دھیرے ان سِکّوں کو بٹورتی دکھائی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

گنپت کیسر کو دھندا چھوڑ دینے کے لیے کہتا ہے اور اسے پہلے کے برعکس کچھ مزید مہذب بستی کی ایک چال میں لے آتا ہے۔ گنپت ایک معمولی آدمی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ بھی اس نے کوئی بہت بڑا کام کر لیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے من میں یہ ڈر بھی سمایا ہوا ہے کہ اس عورت کے ساتھ کسی پہچان والے نے اپنے کو دیکھ لیا تو بہت درگت بن جائے گی۔ اسے نئے کمرے میں پہنچا کر، گنپت یہ کہتا ہوا چلا جاتا ہے کہ ”شام کو اندھیرا ہونے کے بعد آؤں گا۔” یہاں ‘شام’ کے ساتھ ہی ‘اندھیرا ہونے کے بعد’ یہ لفظ رکھنے کے کارن گنپت کے من میں چھپا وہ ڈر بھی اپنے آپ ظاہر ہو گیا کہ وہ چاہتا ہے، اسے وہاں آتے کوئی دیکھ نہ لے۔ کیسر شام ہونے تک اس کی راہ تکتے تکتے اوب جاتی ہے۔ یوں ہی وہ کمرے میں جلائی موم بتی کی موم کی بوندوں سے’ ٢٥٥’ کا ہندسہ زمین پر بناتی ہے۔ یہ گنپت کے پولیس بیج کا نمبر ہوتا ہے۔ اندھیرا ہونے کے بعد گنپت اس کے کمرے کی طرف جانے کی ہمت بٹورتا ہے۔ لیکن پاس ہی کے کمرے میں گنپت کا کوئی دور کا رشتےدار گاؤں سے آ کر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ برآمدے میں اپنا بستر بچھانے کی تیاری کر رہے اس رشتےدار کو دیکھتے ہی گنپت کی ساری ہمت پست ہو جاتی ہے۔ وہ اس بوڑھے رشتےدار سے منھ دیکھا حال احوال پوچھ کر کیسر سے ملے بِنا ہی واپس چلا جاتا ہے۔

کئی بار ذہن کی الجھی ہوئی گتھی اشارتاً سین میں ہی زیادہ پُراثر معلوم ہوتی ہے۔ گنپت کو اس طرح لوٹتا دیکھ کر کیسر مایوس ہو کر اپنے پرانے کمرے میں چلی آتی ہے اور مجبور ہو کر اپنا پہلا دھندا پھر شروع کرتی ہے۔ گنپت اس کے کوٹھے پر آتا ہے۔ اس سمے وہاں دو گاہک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کیسر کی اُن کے لیے منگوائی گئی چائے میں بڑی اکڑ کے ساتھ روپے کا سکہ ڈالتے ہیں اور کیسر سے کہتے ہیں، اپنے ہاتھوں چائے پلاؤ۔ کیسر ہنستے ہنستے ایک بانہہ ان کے گلے میں ڈال کر انھیں چائے پلاتی ہے اور پیالی میں ڈالا روپیہ نکال لیتی ہے۔ تبھی اس کی نظر دروازے پر کھڑے گنپت کی طرف جاتی ہے۔ وہ اسے بھی پوچھتی ہے، “چائے لو گے؟” گنپت ‘ہاں’ کرتا ہے۔ کیسر چائے کی پیالی اس کے سامنے لے کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ گنپت پیالی میں ایک سکہ ڈال کر وہ گرم چائے غصے میں کیسر کے منھ پر دے مارتا ہے اور تمتما کر وہاں سے لوٹ جاتا ہے۔ اب کیسر کو بھی غصہ آتا ہے۔ وہ تنتناتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کا جواب مانگتی ہے۔ گنپت آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنے ڈنڈے میں جو چمڑے کا پٹا لگا ہوتا ہے اس کا ایک کوڑا کیسر کی جانگھ پر جما دیتا ہے۔ کیسر بھی غصے میں سڑک پر پڑا ایک بورڈ اٹھا لیتی ہے اور گنپت کو مارنے کے لیے اٹھاتی ہے لیکن وہ اسے مار نہیں سکتی۔ اور سڑک کے ایک کھمبے پر ہی اپنا غصہ اتارتی ہے۔ اس بورڈ کو وہیں پھینک کر وہ تنکتی ہوئی چلی جاتی ہے۔

گنپت اس کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور اپنی ہی جانگھ پر اسی پٹے کا ایک کوڑا کس کر جما لیتا ہے۔ محسوس کرنا چاہتا ہے خود کہ کیسر کو کتنے زور سے لگا ہو گا وہ کوڑا۔ پھر اس سمت کی طرف دیکھتا رہتا ہے جدھر کیسر گئی ہے، اور جانگھ ملتا جاتا ہے۔

دھیرے دھیرے گنپت آگے بڑھتا ہے۔ راہ میں ایک مکان کی دیوار پر اس نے کیسر سے ملاقات کرنے کے بعد ایک ایک لکیر کھینچی ہے۔ ان لکیروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں کتنی بار ملے تھے۔ وہاں پہنچنے پر گنپت پھر ایک بار کیسر جدھر چلی گئی تھی، ادھر دیکھتا ہے اور اپنے ہاتھ کے ڈنڈے سے اس دیوار پر ایک اور لکیر بنا دیتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس بار ہوئی ملاقات آپسی جھگڑے والی تھی۔ گنپت کے اس فعل سے اس کے من کی گہرائی میں کیسر کے لیے کتنی محبت ہے یہی بات ابھر کر آتی ہے۔ اس طرح غصہ اور موہ سے پرے نا قابل بیان اعلیٰ جذبات کا ملا جلا احساس واضح ہو جاتا ہے اور علامتی تخیل اپنے کلائمکس تک پہنچ جاتا ہے۔

گنپت اپنے گاؤں میں اپنے کھیت پر جانے کو تیار ہوتا ہے۔ کیسر بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے۔ دونوں ایک جھونپڑی میں رات بھر کے لیے قیام کرتے ہیں۔

فلم ‘آدمی’ کا پوسٹر

وہاں پھیلی خاموش تنہائی کے کارن کیسر سوچتی ہے کہ گنپت اب اسے اپنی بانہوں میں بھر کر پاس سلائے گا۔ وہ جھونپڑی کے اندر سے بے کار ہی کچھ بولنے کی کوشش کرتی ہے۔ جھونپڑی کے اندر اکیلی کو بڑا ڈر لگ رہا ہے، ایسا بہانہ بھی بناتی ہے۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ دیکھ کر کہ باہر سے گنپت کا کچھ بھی جواب نہیں آیا، وہ یہ دیکھنے کے لیے کہ آخر گنپت اکیلا باہر کر کیا رہا ہے، جھونپڑی کے دروازے پر آتی ہے۔ دیکھتی ہے، گنپت تو ایک کمبل اوڑھ کر گھوڑے بیچ کر سو گیا ہے۔ اس سیدھے سادے ضدی گنپت کی طرف سراہنا بھری نظر سے دیکھتے دیکھتے کیسر جھونپڑی کی دہلیز پر بیٹھ جاتی ہے۔

ضبط کے سلیقے کا پران ہوتا ہے۔ اس لَو سین کو ٹالنے کے کارن ساری فلم کو ہی ایک غیرمتوقع موڑ مل جاتا ہے۔ گنپت کی بھولی بھالی شخصیت اور بازاری کیسر کو مرد کے بارے میں جیون میں پہلی بار دیکھنے کو ملا یہ ایک دم نرالا پہلو، دونوں نتائج اس لَو سین کے کارن برابر حاصل ہو گئے۔ فلم میں ایک بھی سین مستحکم نہیں رہتا۔ ہر منٹ نوے فٹ یا ہر سیکنڈ چوبیس تصویروں کی رفتار سے ساری پٹی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔ اتنے محدود سمے میں کرداروں کے سوبھاؤ کی نزاکت بھری باریکیوں کو پیش کرنے والے سین کی رچنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کبھی کبھی تضاد پیدا کر کے بھی ایک دم صحیح نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے: گنپت محسوس کرتا ہے کہ وہ کیسر سے پیار کرنے لگا ہے۔ وہ اپنے دوست بابا صاحب سے پوچھتا ہے، “کیا تم اپنی پتنی سے پیار کرتے ہو؟” وہ دوست بھی پرانے دھرے کا آدمی ہوتا ہے۔ کہہ دیتا ہے، “دھت، میں کیا جانوں پیار وار کیا ہوتا ہے؟” اور فوراً ہی وہ اپنی پتنی کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ اس کی پتنی پچھواڑے میں کپڑے دھو رہی ہے۔ وہ غصے میں وہاں جاتا ہے اور پتنی کے ہاتھوں سے دھونے کے سارے کپڑے چھین کر پھینک دیتا ہے اور اسے لگ بھگ کھینچتا ہوا زبردستی کمرے میں لے جا کر سلاتا ہے۔ کہتا ہے، “کل سے اسے بخار ہے۔ کہا تھا پڑی رہو، تو جا کر کپڑے دھونے بیٹھ گئی۔ ایسی پتنی سے بھی بھلا کہیں پیار کیا جاتا ہے؟” پتنی کو اچھی طرح سے کھٹیا پر لٹا کر پیار سے کمبل اوڑھا دیتا ہے اور پھر کہتا ہے، “میں تو اس سے پیار ویار قطعی نہیں کرتا!” قول و فعل میں باہمی تضاد دکھا کر مزاح پیدا تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ڈائریکٹر جس بات پر زور دینا چاہتا ہے ناظرین کے من میں برابر بیٹھ جاتی ہے۔

کچھ سین اُن کی شوٹنگ کے ڈھنگ کے کارن کمال کے دل چھو لینے والے ہو جاتے ہیں:

کیسر کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر گنپت اسے اپنی ماں کے پاس لے آتا ہے۔ ماں بچاری بہت ہی سیدھی سادی، بھولی بھالی ہے۔ دیکھتے ہی اسے کیسر پسند آ جاتی ہے۔ وہ اپنی کلسوامنی بھوانی (دیوی) سے فیصلہ مانگتی ہے۔ بھوانی کی مورت پر دونوں طرف ایک ایک پھول رکھا جاتا ہے۔ دائیں جانب کا پھول گرا تو بھوانی کو بہو پسند اور بائیں جانب کا گرا تو ناپسند۔ پھر گنپت کی ماں اپنا اِکتارا اٹھاتی ہے اور آنکھیں بند کر ‘جگدمب، جگدمب’ نام پکارنا شروع کرتی ہے۔ گنپت اور کیسر آنکھیں پھاڑ کر بےصبری سے دیکھتے ہیں کہ بھوانی کیا فیصلہ دیتی ہے۔ بھوانی کے بائیں جانب کا پھول تھوڑا سا ہلتا ہے۔ گنپت کا دھیرج ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنے من مطابق فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دائیں جانب کے پھول کو پھونک مار کر ہوا دیتا ہے۔ زور کی پھونک لگنے کے کارن دائیں جانب کا وہ پھول نیچے گرتا ہے۔ بھوانی نے دایاں پھول گرا کر بہو کو پسند کیا، یہ دیکھ کر گنپت کی ماں کو بہت خوشی ہوتی ہے۔

اس کے بعد گنپت رات کی باری کے لیے کام پر چلا جاتا ہے۔ گنپت کی ماں کیسر کو یہ مان کر کہ وہ جیسے ابھی سے اس کی بہو ہو چکی ہے، گنپت کو کھانے پینے کا کیا کیا اور کن کن باتوں کا شوق ہے بڑی ممتا سے سمجھانے لگتی ہے۔ ماتا جی کو بولتے بولتے نیند آنے لگ جاتی ہے۔ لیکن کیسر سو نہیں پاتی۔ گنپت نے کس طرح زبردستی اور جھوٹے پن سے بھوانی کا دایاں فیصلہ حاصل کیا، اسے کھائے جاتا ہے۔ وہ کروٹ بدلتی ہے تو اس کا ہاتھ اچانک پاس رکھے اِکتارے پر پڑتا ہے۔ اِکتارے کی آواز سے کیسر بےحد چونک جاتی ہے۔ دودھ کے دھوئے، بے داغ ذہن کی اس بڑھیا کو دھوکا دینے کا خیال بھی کیسر کے لیے نا قابل برداشت ہو اٹھتا ہے اور وہ آدھی رات ہی گنپت کے گھر سے اکیلی نکل جاتی ہے۔

بعد میں گنپت باؤلا بنا اسے کھوجتا پھرتا ہے۔ وہ اس کی پرانی چال پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ساری چال کی سفیدی کا کام جاری ہے۔ گنپت کیسر کے کمرے میں جاتا ہے۔ وہاں کیسر نے پہلے کبھی اس کی یاد میں اسکا ٢٥٥ نمبر دیوار پر لکھ رکھا تھا، اسے دیکھتا ہے۔ تبھی رنگ ساز کا برش اس ہندسے پر سے پھرتا ہے۔ وہ ٢٥٥ کا ہندسہ مٹ جاتا ہے۔ اس ایک ‘ٹچ’ نے ان کے کارن درد ناک احساسات ظاہر کر دیے۔

گنپت وہاں سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیون میں اس کا پیار ہی جیسے کسی نے مٹا دیا ہے۔ مایوسی اسے خود کشی کے لیے مائل کرتی ہے۔ گنپت کی تیز قدمی، دکھ بھری نظر میں دکھائی دینے والے ارادے، اور پاس ہی تیزی سے بہتی جانے والی ندی کی دھارا کے الگ الگ کونوں سے لیے گئے کلوز اپ تیز رفتار سے پردے پر دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً اس سارے سین کی شدت بہت ہی بڑھ جاتی ہے۔ قابل جگہوں پر قابل علامتوں کا استعمال کرنے سے منظر بے حد دل کو چھو جاتا ہے۔ ناظرین بھی یہی مانتے ہیں کہ اب گنپت خود کشی کرے گا۔ وہ اپنے دلوں کو تھام لیتے ہیں۔ تبھی اس کا پولیس والا دوست اسے روکتا ہے اور خود کشی کے وچار سے اسے نکالتا ہے۔ وہاں سے وہ دونوں شراب کے اڈے پر جاتے ہیں۔ اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے گنپت ایک بوتل اٹھا لیتا ہے۔

میں جب جرمنی میں تھا، اس سمے کی بات یاد آئی۔ وہاں میں اکیلا تھا اور اسی طرح گہری مایوسی میں ڈوبا تھا۔ تب میں نے بھی اسی طرح شراب کی بوتل منگوائی تھی۔ اس سمے من میں وچاروں کا جو طوفان کھڑا ہوا تھا، وہ جوں کا توں میں نے گنپت کے متر کے مکالمے کے روپ میں دے دیا۔ آخر گنپت شراب کی بوتل زمین پر دے مارتا ہے، توڑ دیتا ہے اور زندگی کا سامنا کرنے کے لیے سچے معنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔

اس بیچ کیسر ہمیشہ پیسہ اینٹھنے والے اپنے شرابی ماما کو قتل کر ڈالتی ہے۔ بدقسمتی سے وہ گنپت کے ہاتھوں ہی پکڑی جاتی ہے۔ اس پر قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ مقدمے کی کارروائی کا سین، وکیلوں کے دلائل، گواہوں کے بیان، زبان دانی اور مکالموں سے یہ بھرپور تھا۔ اسے ویسا ہی فلمایا جاتا تو بھاشن ہی بھاشن ہو جاتے۔ لہٰذا میں نے اس سین کا شوٹنگ لکیر سے ہٹ کر عدالت کی کانچ کی بند کھڑکیوں کے باہر سے کیا۔ نتیجتاً عدالت کے اندر جاری سبھی کرداروں کی سرگرمیاں تو برابر دکھائی دیں لیکن لفظوں کے جنجال سے فلم بچ گئی۔ بولتی فلم کا دور شروع ہونے کے بعد خاموش فلم سا لگنے والا یہ سین پہلی ہی بار فلمایا گیا تھا۔ چاہتا تو تھا کہ اسے ایسا ہی رہنے دوں۔ لیکن سوچا کہ کہیں ناظرین یہ نہ سوچ لیں کہ سنیما گھر کا ساؤنڈ سسٹم ہی فیل ہو گیا ہے، اور وہ ‘آواز آواز’ کی چیخ و پکار سے واویلا نہ کھڑا کریں، اس سین کو میں نے ماحول کے مطابق آرٹسٹک بیک گراونڈ میوزک سے جوڑ دیا۔

لیکن ابھی فلم کا بنیادی مقصد کامیاب نہیں ہوا تھا۔ محبت کی ناکامی کے کارن مایوس ہو کرغم کو ہلکا کرنے کے لیے شراب کا عادی ہو جانا یا خودکشی کے لیے راضی ہونا آدمی کی بزدلی کی نشانی ہے، یہ بتانے تک تو میرا مقصد کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن اس سے بھی آگے جا کر میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ محبت کی ناکامی کے کارن دل ٹوٹ بھی گیا، تو بھی اس محبت کی یاد کو دل کے کسی کونے میں سنجو کر آدمی کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے اور جیون بِتاتے رہنا چاہیے۔ یہ انمول پیغام میں کسی بھاشن یا لیکچر کے ذریعے نہیں دینا چاہتا تھا، ورنہ سارا گُڑ گوبر ہو جاتا۔ کافی سوچا، لیکن کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ رات رات جاگتا رہا۔ لیکن من میں آیا ایک بھی خیال آخر ٹھیک سے جچا نہیں۔ ایک بار تو ساری رات کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی گزار دی۔ صبح ہوتے ہوتے تھوڑی سی آنکھ جھپکی اور جاگا تو فلم کے آخری سین کا پورا آئیڈیا لے کر ہی:

پولیس پریڈ جاری ہے۔ کیمرے میں دکھائی دے رہا ہے کہ گنپت سخت اور کٹھور چہرے سے دیگر پولیس سپاہیوں کے ساتھ پریڈ کر رہا ہے۔ چلتے چلتے وہ نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرا بھی نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرے میں گنپت کے ڈسپلن میں تیزی سے پریڈ کرتے جا رہے قدم دکھائی دیتے ہیں، اس کی چپلیں دکھائی دیتی ہیں۔ کسی گذشتہ سین میں یہ چپلیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں اور کیسر خود انہیں ٹھیک کر کے لائی ہے، اس کی یاد میں گنپت کے چہرے پر احساسات ابھر آتے ہیں۔ چپلوں پر سے نظر ہٹا کر وہ پھر سامنے دیکھ کر سینہ تان کر پریڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گنپت کے آگے پیچھے ہلنے والے ہاتھ ہی اہم مقصد دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس یونیفارم پر کانسٹیبل کے جو فیتے لگے ہوتے ہیں، وہ بدل کر حوالدار کے اور پھر جمعدار کے ہو جاتے ہیں۔ بِنا ایک بھی شبد کے سارا ارادہ صرف اشارے دیتے سین اور علامتوں کی مدد سے بتانے کی میری کوشش ہوتی کامیاب ہو گئی۔ یہ آخری سین اس فلم کا انتہائی نقطہ ہو گیا۔

اس فلم کی ایڈیٹنگ میں بھی نئے طریقے اپنانا طے کیا۔ لمبائی ناپ کر فوٹو کاٹنے کا پرانا طریقہ تیاگ دیا۔ سین میں موجود احساسات اور ان کے مطابق ضروری رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ہی میں فلم بھی کاٹنے لگا۔ شاٹ فلم گھر میں جتنی رفتار سے دکھایا جانے والا ہے، اسی رفتار سے میں اسے اپنے ہاتھوں کے اوپر سرکاتا جاتا اور جہاں ایسا لگتا کہ بس یہ شاٹ اتنا ہی ہونا چاہیئے، وہیں اسے کاٹ کر اگلے شاٹ کو جوڑ دیتا۔ اس طریقے کے کارن ایڈیٹ سین پہلے کے مکینیکل طریقہ کار سے ایڈیٹڈ منظروں کے برعکس نتیجہ خیز اور پُراثر معلوم ہوتے تھے۔

ایڈیٹنگ کا کام پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ تبھی بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر جلدی میں پُونا آئے۔ سینٹرل سینما میں اس سمے جاری فلم کی آمدنی یکایک کم ہو گئی تھی۔ وہاں دوسری فلم لگانا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں کسی دوسری کمپنی کی فلم لگاتے تو ہم لوگوں کو تب تک انتظار کرنا پڑتا، جب تک کہ وہ فلم وہاں سے ہٹا نہیں لی جاتی۔ آئندہ فلم ریلیز کرنے کی اعلانیہ تاریخ ابھی پورے تین ہفتے بعد کی تھی۔ ابھی ‘آدمی’ کی ایڈیٹنگ، بیک گراونڈ سنگیت وغیرہ کئی کام باقی تھے۔

میں نے فیصلہ کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “تھئیٹر کو ہاتھ سے جانے مت دیجیے۔ آپ نے جو تاریخ طے کی ہے، اس دن آپ کو نئی فلم ریلیز کرنے کے لیے ضرور مل جائے گی۔”

بابوراؤ میرے فیصلے سے مطمئن ہو کر فوراً ممبئی لوٹ گئے۔

اس رات میں نے ہمیشہ کی طرح دس بجے کام بند نہیں کیا۔ ایڈیٹنگ مشین پر بیٹھا تھا، اٹھتے اٹھتے سویرا ہو گیا۔ اٹھتے سمے اپنے معاون کو ہدایت بھی دے دی کہ ٹھیک ایک گھنٹے بعد کام پھر شروع کرنا ہے۔ تب تک وہ سب کاموں سے فارغ ہو لیں۔ میں خود تو آدھے گھنٹے بعد ہی پھر کام پر آ گیا۔ اس کے بعد سورج کئی بار اُگتا گیا، ڈوبتا گیا۔ راتیں ہوتی گئیں، بیتتی گئیں۔ مجھے دیگر کسی بات کا ہوش ہی نہ تھا۔ بس دُھن ایسی سوار ہو گئی تھی کہ طے سمے پر فلم کے سارے کام پورے کرنے ہیں، دیگر کوئی بات نہ تو سوجھتی، نہ سہاتی تھی۔ بھوک، پیاس، نیند، سب کہیں کھو گئے۔

کہیں میری یہ غنودگی ٹوٹ نہ جائے، یہ سوچ کر میرے سبھی معاون سمے کا دھیان مجھے کبھی نہیں دلاتے تھے اور بھوکھے پیاسے رہ کر میرے ساتھ برابر کام کیے جا رہے تھے۔ کام کی اس مدہوشی میں، اپنے انڈر کام کرنے والے لوگوں کو دو روٹیاں سمے پر کھانے کو ملیں، اس لیے جیون میں پہلی بار میں نے رِسٹ واچ باندھنا شروع کیا۔ فلم کو تیزی سے آگے پیچھے سِرکاتے سمے کبھی کبھار اس پر میری نظر پڑ گئی اور شام کو چار پانچ بجے کے بجائے ان لوگوں کو دوپہر دو ڈھائی بجے بھوجن کی بریک ملنے لگی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے دماغ میں پوری فلم کے فارمولے ہوتے تھے۔ ہر سین کی رچنا، اس کی رفتار وغیرہ کے بارے میں مسلسل وچار جاری رہتا تھا۔ نتیجتاً نیند تو مجھے کبھی نہیں آتی تھی۔ لیکن میرے بیچارے معاون فلم جوڑنے کے لیے ہی دن رات میرے پاس کھڑے رہتے تھے۔ دو تین بار تو ایسا ہوا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی نیند آ جانے کے کارن گر پڑے۔ تب سے میں نے ان کی دو شفٹیں کر دیں، اور ان کے لیے آٹھ آٹھ گھنٹوں کی باری باندھ دی۔ ایک کام کرتا تب دوسرا سو لیتا تھا۔ میں دیگر کام دھرم اور کھانے وغیرہ کے لیے آدھا پونا گھنٹہ نکالتا اور باقی سمے اپنے کام میں کھو جاتا تھا۔

پھر بھی سارا کام سمے پر پورا ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیلینڈر پر لال کراس لگا رکھی تاریخ ہر روز دیکھ کر ہی میں سارے کاموں کو نبٹاتا جا رہا تھا۔ ایک ہفتہ گیا۔۔۔ ریلیز کی تاریخ چار دن پر آ گئی۔ اس بیچ جاری کی ہوئی دو باریوں کا سسٹم بھی بند کرنا پڑا۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کے لوگ اپنے اپنے کام ذرا بھی نہ سستاتے ہوئے دن رات کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔ ہرسین کی آخری ایڈیٹنگ ہو چکی تھا۔ بغل کے کمرے میں نگیٹووں کو کاٹ کاٹ کر گراریوں پر چڑھانے کا کام جاری تھا۔ تیار گراریوں پر بیک گراونڈ میوزک کے نقش کرنے کا کام ماسٹر کرشن راؤ اور وسنت دیسائی من لگا کر کر رہے تھے۔ پل میں ایڈیٹنگ روم میں، تو دوسرے ہی لمحے بیک گراونڈ میوزک کے ساوئنڈ ریکارڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں میری بھاگ دوڑ جاری تھی۔ آخری چھ سات دنوں میں سبھی کاریگروں اور کام گاروں نے بڑی لگن اور عقیدت سے کام کیا۔ ان کی دلی تعاون کو میں کبھی بُھلا نہیں سکتا۔

‘آدمی’ کو ریلیز کرنے کی تاریخ آ گئی، تب بھی اس کی پوری کاپی تیار نہیں ہو پائی تھی۔ پھر بھی میں نے بمبئی فون کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے ٹھاٹھ سے کہہ دیا کہ دوسرے دن صبح دس بجے فلم سنسر کے پاس ضرور پہنچ جائے گی۔

پُونا کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں رات کا شو ختم ہونے کے بعد میرے سبھی ساتھی مددگار، کلاکار، کاریگر، ‘آدمی’ کی ٹرائل ریلیز دیکھنے کے لیے پُرجوش انتظار کر رہے تھے۔ میں سویرے پانچ بجے ہماری لیب سے فلم کی پہلی پانچ چھ گراریاں لے کر تھئیٹر پہنچا۔ آگے کی گراریوں پر کیمیکل روم میں عمل جاری تھا۔ جیسے جیسے پوری ہو جائیں، انھیں تھئیٹر پر لے آنے کی ہدایت دیے کر میں چلا آیا تھا۔

ٹرائل ریلیز فوراً شروع کی۔ میرا دھیان لگاتار گھومتی جا رہی گھڑی کی سوئیوں پر تھا۔ سمے ہو چلا، تو میں نے آگے کی گراریوں کی راہ دیکھے بنا ہی دیکھ چُکی پہلی پانچ چھ گراریوں کو ساتھ لے کر بمبئی جانا طے کیا۔ میں کار سے بمبئی کو لے روانہ ہوا۔ آگے کی گراریوں کو لے کر فوراً بمبئی چلے آنے کی اطلاع میں نے بھاسکرراؤ کو دے دی۔

کار میں فلم کے ڈبے رکھ دیے، اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو ہدایت دی کہ کار تیز رفتار سے چلائے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چہرے پر آنے لگی۔ لگاتار تین ہفتے سختی سے روکی گئی نیند کب مجھ پر حاوی ہو گئی، پتہ ہی نہ چلا۔

گاڑی رکی اور میں جاگا۔ گاڑی سینٹرل سینما کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ بابوراؤ پہلے تو میری طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل جاگتے رہنے کے کارن چہرہ تھک کر چور ہو گیا تھا۔ میں نے انہیں فلم کے پانچ چھ ڈبے تھما دیے۔ بابوراؤ انہیں لے کر سیدھے سنسر بورڈ گئے۔

کہیں سنسر نے کچھ شاٹس نکال دینے کے لیے کہا تو؟ سینٹرل سینما میں بیٹھے بیٹھے میں گھبرا رہا تھا۔ پہلا شو ساڑھے تین بجے کا تھا۔ تین پچیس ہو گئے۔ تھئیٹر ناظرین سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ سینٹرل سینما کے مالک عابد علی اور ان کے ساتھی کے۔ مودی، تھئیٹر کے منیجر اور دیگر سبھی ملازم فلم کے ڈبوں کا پرجوش انتظار کر رہے تھے اور اپنے اپنے کمرے کے دروازے پر ہی کھڑے تھے۔

تبھی انٹرویل تک کی فلم کی گراریاں آ پہنچیں۔ میں پروجیکٹر کمرے میں ایک بے یارومددگار آدمی جیسا بیٹھا تھا۔ عابد علی نے درخواست کی کہ میں تھئیٹر میں بیٹھ کر فلم دیکھوں۔ لیکن ناظرین میں بیٹھ کر یہ فلم دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ ڈر لگ رہا تھا۔

فلم کی پہلی گراری شروع ہو گئی۔ پروجیکٹر کے بغل میں ہی ایک اور جھروکا تھا۔ میں اس میں سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ پردے پر پربھات’ کا ٹریڈ مارک دکھائی دیا۔ بھیری کے سُر سنائی دیے، اور ساتھ ہی ناظرین کی تالیوں کی گونج بھی سنائی دی۔ ناظرین بڑی امید سے آئے تھے۔

پردے پر ایک عورت اور ایک مرد کے پاؤں چلتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان کے نقشِ پا سے کیچڑ پر ابھرے حروف ‘آدمی’ پردے پر دکھائی دیتے ہی کریڈٹ دکھانے کا یہ نیا خیال لوگوں کو پسند آ گیا، انہوں نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ اب تو میرا دل اور بھی دھڑکنے لگا۔ پردے پر ڈائریکٹر کا نام دکھائی دیتے ہی ناظرین نے تالیوں سے اتنی زوردار داد دی کہ سن کر میرے ہاتھ پاؤں کی ساری طاقت جاتی رہی۔ میں دھرم سے پاس رکھے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ میرے آنسو بہہ نکلے۔ پروجیکٹر آپریٹر نے مجھے آنکھیں پونچھتے دیکھ لیا اور فوراً ہی کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ لیکن مجھے تو کولڈ ڈرنک پینے تک کی بھی ہوش نہیں تھی۔ میرے تھکے ماندے من میں ایک ہی سوال الٹا سیدھا ناچ رہا تھا: ‘کیا ناظرین کی امیدوں کو میں پورا کر سکوں گا؟’ نظر زمین پر گڑی تھی۔ کوئی میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بابوراؤ پینڈھارکر تھے۔ فلم کے آگے کے سارے حصے وہ سنسر کو دکھا کر لے آئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے فخر سے سینہ تان کر مجھے سلام کیا اور کہنے لگے، “شانتارام بابو، پتہ نہیں کن الفاظ میں آپ کو مبارکیں دوں؟”

میں نے ایک دم معصوم بچے کی طرح ان سے پوچھا، “سچ؟ سچ مچ اتنی پسند آئی آپ کو ‘آدمی’ ؟”

“جی! جی ہاں! جی ہاں!!” انہوں نے زور دے کر کہا۔

ان کی بات پر یقین نہیں ہو رہا تھا مجھے۔ ہو سکتا ہے وہ محض مجھے سمجھا بجھا رہے ہوں۔ غیر یقینی کا یہ احساس میری آنکھوں میں انہوں نے بھی شاید دیکھ لیا اور سمجھاتے ہوئے بولے، “چلیے، اٹھیے۔ اب آپ یہاں نہ بیٹھیے۔” پروجیکٹر کمرے کے پاس ہی ایک کمرا تھا، اس میں وہ مجھے لے گئے۔ میرے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھ کر بولے، “لگتا ہے آپ نے کل سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں ہے۔ پہلے آپ اطمینان سے کھا لیجیے۔ تب تک فلم کو ناظرین کیسی کیسی داد دے رہے ہیں، میں دیکھ آتا ہوں۔”

کمرے میں میں اکیلا تھا۔ میں نے ان کھانے پینے کی طرف صرف دیکھ لیا۔

فلم ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے کس کر گلے لگا لیا اور رندھی آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، فلم دیکھ کر باہر آئے سارے ایگزیمینرز ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ اس موضوع پر ایسی فلم کا بنانا صرف اکیلا شانتارام ہی کر سکتا ہے!”

پھر کیا تھا! اب تک بڑی کوشش کر تھام رکھے آنسو پھر بہہ نکلے۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بابوراؤ نے کہا، “اب آپ یہاں اس طرح آنسو بہاتے نہ بیٹھیے، چلیے، میرے ساتھ باہر آئیے۔ کافی لوگ آپ سے ملنے کے لیے باہر انتظار کر رہے ہیں۔”

“اجی، لیکن اس شکل و صورت میں؟ کل سے میں نہایا تک نہیں۔۔۔”

باہر جانے کے لیے میں آنا کانی کر رہا تھا۔ تبھی کیشوراؤ داتے کمرے میں آئے۔

میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے، “بھئی واہ! کیا کمال کا فن پارہ بنا یا ہے آپ نے!”

میں نے ان کی طرف بھی اسی سوالیہ نظر سے دیکھا۔

“اجی شانتارام، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟ چلیے، باہر چلیے۔”

وہ دونوں مجھے لگ بھگ کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ مجھے دیکھتے ہی سامنے ہی کھڑے چندر موہن نے دوڑ کر مجھے عملی طور پر کندھوں پر اٹھا لیا اور نہایت خوشی سے وہ پاگل سا ناچنے لگا : “یہ ہیں ہمارے انّا! میرے گرو! انّاصاحب یہ پِکچر بیس سال آگے کی ہے۔”

اس کے بعد کافی ناظرین اور ناقدین بھی ملے۔ تھوڑے بہت فرق سے سبھی نے یہی رائے ظاہر کی۔ سبھی لوگ کافی پُرجوش ہو گئے تھے۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں بہت بیمار ہو گیا ہوں، کوئی طاقت نہیں رہی ہے۔ میں نے بابوراؤ کو بتایا، “میرے ہاتھ پاؤں میں کپکپی چھوٹ رہی ہے۔ مجھے گھر پہنچائیے۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔”

میں گھر گیا اور ایسے سو گیا کہ دوسرے دن سویرے گیارہ بجے ہی جاگا۔ بابوراؤ میرے جاگنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بعد کے شو کے سمے ہوئی کئی مزیدار باتیں وہ بتانے لگے : پہلے دن کے آخری شو کے لیے بامبے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے اور دیوکا رانی آئے تھے۔ انٹرویل کے سمے ہمانشو رائے یہ چِلّاتے ہوئے ہی باہر آئے کہ “کہاں ہے وہ چُنی لال کا بچہ؟” بامبے ٹاکیز کے منیجر سر رائے بہادر چنی لال انٹر ویل ہونے سے پہلے کچھ دیر تک ان کے ساتھ بیٹھ کر ‘آدمی’ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ہمانشو رائے چنی لال جی کو اتنی بے چینی سے کھوج رہے ہیں، بابوراؤ پینڈھارکر لپک کر آگے بڑھے اور پوچھا، “کیوں، آخر بات کیا ہے؟” اس پر ہمانشو جھنجھلا کر برس پڑے، ” دیٹ رائے بہادر کا بچہ ہیڈ ٹیلیفونڈ می آفٹر سینگ فرسٹ شو سیئنگ ‘آدمی’ از ہمبگ۔ آئی وانٹ ٹو تھریش دیٹ فیلو فار سیئنگ بکواس ٹو سچ اے ماسٹر پیس !”

(That Rai Bahadur ka Bachha had telephoned me after seeing first show saying ‘Admi’ is humbug. I want to thrash that fellow for saying bakwas to such a masterpiece.)

لیکن ڈر کے مارے کہیں دبکے بیٹھے چنی لال جی ہمانشو رائے کو آخر تک کہیں بھی نہیں ملے! اتنا کہہ کر بابوراؤ قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ میں بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو گیا۔ میرا خیال ہے، شاید پچھلے ایک مہینے میں پہلی بار میں من سے کھل کر ہنس پایا تھا۔

بابوراؤ نے کہا، “اب چلیے، اٹھیے پہلے داڑھی بنا لیجیے۔ ذرا آئینے میں دیکھیے تو سہی، کتنی بڑھ چکی ہے داڑھی۔”

میں نے اپنا عکس دیکھنے کے لیے آئینہ دیکھا۔ آئینے سے کوئی اجنبی سنیاسی ترانٹ اور لال سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ پل بھر تو میں اپنے آپ کو پہچان بھی نہ سکا۔ پھر تیزی سے داڑھی بنانے میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد فون ٹھنکا۔ بابوراؤ نے فون اٹھایا۔ ان کی بات میں نے سن لی۔ کہہ رہے تھے، “ذرا رکیے، شانتارام بابو یہاں ہیں۔ آپ انہی سے بات کر لیجیے۔” رسیور میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بابوراؤ نے بتایا، “پولیس داروغہ رانے۔”

میں نے فورا رسیور پر ہاتھ رکھ کر چونک کر پوچھا، “پولیس داروغہ؟ کیوں؟” کچھ ڈرتے ڈرتے ہی میں نے فون کان سے لگایا اور ذرا سی ناخوشی سے ہی “ہیلو” کیا۔ اس طرف سے زور سے پُرجوش آواز آئی، “کانگریچلیشنس!” مجھے اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے پھر پوچھا، “جی، کیا فرمایا آپ نے؟”

“اجی، ‘آدمی’ کے لیے آپ کو بدھائیاں! سب لوگ ہم پولیس والوں کو بے حیا اور انسانیت نہ رکھنے والے راکھشس مانتے ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے اس ‘آدمی’ کے ذریعے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم لوگ بھی آدمی ہی ہیں! ہم سبھی پولیس والوں کی طرف سے دلی شکریہ!” کہتے کہتے ان کا گلا رندھ گیا۔ بھاری آواز میں انہوں نے کہا، “گاڈ بلیس یو!” اور انہوں نے فون بند کر دیا۔ ایسے ایسے غیر متوقع لوگوں سے اتنی دلی مبارکباد پا کر میں تو سُن پڑ گیا۔ کافی دیر تک کرسی پر ویسا ہی بیٹھا رہا۔ داڑھی آدھی بنی تھی اور آدھے حصے پر لگا صابن سوکھتا جا رہا تھا۔

بمبئی کے سبھی اخباروں نے ‘آدمی’ کی تعریف میں اپنے کالم بھر دیے تھے۔ بابوراؤ نے ان سبھی اخباروں کو میرے سامنے پھیلا کر رکھا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے، “پڑھ کر دیکھیے بھی، اخباروں نے کیا کیا لکھا ہے؟”

کیا کہہ رہے ہیں اخبار والے؟”

اجی، ایسے ٹھنڈے پن سے کیا پوچھ رہے ہیں آپ؟ ‘آدمی’ کی تعریف کے لیے لفظ نہیں مل رہے ہیں انہیں!”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

“کسی نے کچھ تو تنقید کی ہوگی نا؟”

“بالکل نہیں۔ سب نے ایک مت سے رائے ظاہر کی ہے، فیصلہ دیا ہے : بہت ہی ایکسیلنٹ!”

میں نے ان سبھی اخباروں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا، “تب تو کیا پڑھنا!”

“اجی، آپ ذرا صحت مند ہو جانے کے بعد پڑھیے۔ اس تنقید کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چلے گا، آپ نے ‘آدمی’ میں کیا کیا، کِیا ہے!”

ان کی بات صحیح تھی۔ ‘آدمی’ میں میں نے کیا کیا کِیا ہے میں بُھلا بیٹھا تھا۔ میرا دماغ سُن سا ہو گیا تھا۔ جسم میں کوئی خوشی، جوش نہیں رہا تھا۔ ‘آدمی’ کے بارے میں کسی نے دو لفظ کہے نہیں کہ میرے آنسو بہہ نکلتے تھے۔ اتنا جذباتی ہو گیا تھا میں!

آخر میں پُونا آ گیا۔ پُونا کے ڈاکٹر بھڑکمکر نے میری صحت کی جانچ کی اور تشخیص بتائی: ‘نروس بریک ڈاؤن’!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)

بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔

آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔

ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔

بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔

میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔

جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔

شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔

اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔

ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”

وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔

زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔

شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔

میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔

شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”

دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔

دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”

انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔

“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”

شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”

یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”

لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”

کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”

میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”

شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔

آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”

یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”

میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”

“جی ہاں، انّا۔”

“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”

‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔

شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!

اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”

اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔

ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”

میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”

حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”

میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔

میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”

وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!

میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”

“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔

گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔

کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔

شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 18: تجرباتی فلموں کے عہد کا آغاز (ترجمہ: فروا شفقت)

ہمارے جیون میں ایسا حادثہ پیش آیا تھا، جسے دنیا شاید نہ مانے، ہم سب لوگ من ہی من بہت ہی مایوس ہو گئے تھے۔ اتنے سالوں کا ساتھی ہم سے دور ہو گیا تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں ہی اس ڈیپریشن کو جھیل کر پھر کام میں جُٹ گیا، اور پورے زور و شور سے جُٹ گیا۔ یہ کام تھا نئی کہانی بنانا، نیا خیال پیش کرنا، فلم میکنگ میں ایک نیا تجربہ کرنا۔ ن۔ہ۔آپٹے کے ‘دنیا نہ مانے’ ناول پر نئی فلم بنانے کے کام میں لگ جانا ہی ڈیپریشن سے آزاد ہونے کا بہترین حل تھا۔

سکرین پلے شکل لینے لگا: ماتا پِتا کی موت کے کارن یتیم اور بے سہارا ہوئی ہروئین کی شادی دَھن کا لالچی اس کا ماما (ماموں) ایک امیر بوڑھے وکیل سے کر دیتا ہے۔ اس نوجوان لڑکی کے سارے احساسات جل کر خاک ہو جاتے ہیں۔ اپنے ساتھ کی گئی اس ناانصافی کا انتقام وہ بہت ہی شدت سے لیتی ہے۔ اس کے ایسے متشدد طرزِ عمل کے کارن اُس کے لیے اُس کے پتی اور گھر کے دیگر لوگوں کے من میں ایک طرح کی دہشت چھا جاتی ہے۔۔۔

اصل ناول میں دکھایا گیا تھا کہ ہروئین کا شادی سے پہلے ایک دوسرے نوجوان کے ساتھ پریم ہے۔ اس پریم کو جتانے والے کئی سین بھی ناول میں تھے۔ لیکن سکرین پلے بناتے سمے میں نے ان سبھی سین کو رد کر دیا۔ اس کا کارن میری رائے میں یہ تھا کہ فلم میں وہ ہی پریم سین رہتے تو شادی کے بعد اُس کی طرف سے کی گئی جدوجہد اس شادی سے پہلے پیار کے تعلق کے کارن کی گئی معلوم ہوتی۔ اس سے ہیروئین کی مورتی ایک دم معمولی ہو جاتی۔ وہ ناانصافی کا انتقام لینے کے لیے نہیں، محبت کی ناکامی سے پیدا ہوئی ناکامی کے کارن جدوجہد کررہی ہیروئین معلوم ہوتی۔ یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ساتھ کی گئی ناقابل معاف ناانصافی کے انتقام کے لیے اس نے خود داری کے ساتھ جو جدوجہد کی اُسی کو فلماؤں۔ بھارتی فلموں میں رومینٹک سین بہت ہی سستے ہو چلے تھے۔ اس لیے میں نے اسی پٹی پٹائی راہ پر چلنے سے انکار کر دیا۔ میں نے طے کیا کہ اپنی سماجی فلم میں ایک بھی رومینٹک سین نہیں رکھوں گا۔ یہ ہی کیوں، لفظ محبت تک کا کہیں استعمال نہیں کروں گا اور پھر بھی فلم عام لوگوں کے دلوں کو برابر چھوتی چلی جائے اس طرح اُس کی تخلیق کروں گا۔ یہ ایک دم نرالا چیلنج میں نے اپنے آپ کو دیا۔

سکرین پلے لکھ کر تیار ہو جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح اپنے ساتھیوں کو وہ پڑھ کر سنایا۔ سن کر داملے، فتے لال دونوں سوچ میں پڑ گئے۔ فتے لال جی نے کہا، “شانتارام بابو، اس میں تو ایک بھی لَوسین نہیں ہے، لوگوں کو یہ فلم کس طرح پسند آئے گی ؟”

داملے جی نے بھی اُن کی حمایت کی، “یہ ہماری پہلی ہی سماجی فلم ہے۔ یہ فیل ہو گئی تو ہماری بڑی بے عزتی ہو گی!”

“ویسا کچھ بھی ہونے نہیں جا رہا ہے، لیکن مان لیجئے کہ یہ فلم فیل ہو جاتی ہے تو یہ یقین جانیے کہ لوگ اس تجربے کو ‘اے گریٹ فیلیئر’ ہی کہیں گے۔” میں نے کہا۔

بھارت کی پہلی تجرباتی فلم (avant-garde cinema/ experimental film) کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ اس فلم میں سبھی مستعمل طور طریقوں کا استعمال نہیں کروں گا اور کاروباری کامیابی کے لیے کسی طرح سمجھوتا نہیں کروں گا۔ فلم کے لیے یہ ٹریٹمینٹ من میں پکا ہوتے ہی مجھے ہر سین کو پیش کرنے کے نئے اور انقلابی خیالات سوجھنے لگے اور من میں اٹھتی ہر نئی بات کو میں دھڑلے کے ساتھ عمل میں لانے لگا۔

فلم میں کسی سین کو اٹھانے کے لیے بیک گراونڈ میوزک دینے کا پرانا طریقہ کار میں نے چھوڑ دیا۔ اس میں سوچ یہ تھی کہ سین کا احساس بڑھانے کے لیے دیا جانے والا بیک گراونڈ میوزک سہج نہیں، غیر فطری ہوتا ہے۔ اس کے کارن سین کی حقیقت کم ہو جاتی ہے۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر جیون میں ہمیشہ سنائی دینے والی آوازوں کا ہی استعمال کر لیا جائے۔ اُسی کے مطابق ہیروئین نِیرا کو گانے کا شوق ہونے کے کارن وہ کلاسیکل میوزک کے گراموفون ریکارڈز بجا کر ان کی لےَ پر گانا گاتی ہے، ایسے دیگر سین میں نے سکرین پلے میں جوڑے۔

اس فلم کے ہر میوزک سین کے لیے میں نے نت نئے خیال کا تجربہ کیا: نِیرا شادی کے بعد سسرال آتی ہے۔ وہاں کاکا صاحب کی چھوٹی بھانجی سے اس کی گاڑھی دوستی ہو جاتی ہے۔ نِیرا کے جیون میں اس ننھی بچی کی دوستی کے کارن کافی رس پیدا ہو جاتا ہے۔ نیرا کے سسرال آنے کے بعد کچھ سمے بیت جاتا ہے، یہ بات مجھے فلم میں دکھانی تھی۔ یہ مَیں موسم پر مبنی ایک گیت کےذریعہ دکھانا چاہتا تھا۔ لیکن اس گیت کے لیے مجھے آرکسٹرا کا استعمال نہیں کرنا تھا۔ وہ ننھی بچی اس کے اسکول میں سِکھایا گیا موسم کا گیت گاتی ہے۔ ہیروئین نیرا کمرے میں رکھا پانی کا لوٹا، گلاس اور لکڑی کا چھوٹا ڈنڈا لےکر ان کو جل ترنگ جیسا بجاتی ہے اور اس گیت کا تال سُروں میں ساتھ دیتی ہے۔ ایسا سین میں نےسوچا۔ سنگیت کا یہ تخیل اس زمانے میں ایک دم انوکھا تھا۔

آگے چل ایک سین میں ایک بھکاری کا گانا ہے۔ اس سین کو میں نے راہ چلتے بھکاری جس طرح اپن ٹین کی ڈبیاں بجا بجا کر گاتے ہیں، اور ایک ساتھی گلے میں کہیں کا ٹوٹا پرانا ہارمونیم باندھے اس کا ساتھ دیتا ہے، اسی طرح کا سین میں نے لیا۔ یہ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ اس کے لیے پہلے کیشوراؤ بھولے نے ایک دُھن کھوجی تھی، لیکن ان کی دُھن مجھے پسند نہیں آئی۔ لیکن تبھی امرتسر کے میرے ایک چاہنے والے نے کچھ گیتوں کے فونو گرافس مجھے تحفے میں بھیجے۔ ایک دن میں انہیں سننے بیٹھا۔ ان میں “آئے مدینہ” نامی ایک گیت کی دُھن مجھے بے حد پسند آئی۔

میں نے کیشوراؤ بھولے کو بھی وہ دُھن سنائی۔ انہوں نے بھی اسے پسند کیا۔ اسی دُھن پر منشی عزیز نے گیت تخلیق کر دیا:

“من صاف تیرا ہے یا نہیں پوچھ لے جی سے، پھر جو کچھ کرنا ہے تجھے کر لے خوشی سے، گھبرا نہ کسی سے۔”

اس کے بعد اسی ارادے پر مراٹھی گیت شانتارام آٹھولے نے لکھ دیا۔

فلم کے کریڈٹ ناموں سے ہی یہ ناظرین کے دل و دماغ کو جکڑ سکے ، اس لیے میں نے دکھایا کہ شروع میں کیمرے کے چوکھٹے میں ایک گراموفون آتا ہے۔ اس کے بعد ہیروئین کا ہاتھ اس چوکھٹے میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ فونوگراف چالو کرتی ہے۔ اس میں لیریکل سنگیت سنائی دینے لگتا ہے۔ گراموفون پر رکھا فونوگراف جب گھومنے لگتا ہے تو اس کے مرکزی حصے پر چپکا نام بتانے والا لیبل بھی گھومتا گھومتا باہر آتا ہے اور کیمرے کے پاس آ کر ساکت ہو جاتا ہے۔ اس پر ٹیکنیشنز اور ڈائریکٹر کے ناموں کی رہمنائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر سمے اسی طرح لیبل کیمرے کے پاس آ کر رکتا ہے اور آخر میں اس پر فلم کا نام آتا ہے۔

اس کے بعد کے سین میں بڑھاپے کی طرف ڈھلتی عمر کا ادھیڑ ہیرو اپنے لیے پتنی طےکرنے کے لیے ہیروئین کے ماما کے گھر آتا ہے۔ وہاں وہ اب بھی میں جوان ہوں کی ادا سے خضاب لگا کر کالی کی ہوئی اپنی مونچھوں پر تاؤ دے کر یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ ابھی اس کی شادی کی عمر ہے۔ تبھی سڑک سے جاتا کوئی پھیری والا آواز دیتا ہے ‘ق۔۔ل۔۔ئی۔۔’ ہیرو چونکتا ہے۔ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا اس کا ہاتھ فوراً نیچے ہو جاتا ہے، جیسے بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ اس خاص پس منظر میں آواز کے سین سے میں نے یہ بتایا تھا کہ جس طرح قلعی لگانے سے برتن روپہلے ہو جاتے ہیں، اسی طرح ہیرو کی روپہلی مونچھیں خضاب کی قلعی کرنے کے کارن کالی سیاہ دکھائی دے رہی ہیں۔

فلم کے آخر میں ہیرو کو اتنی ادھیڑ عمر میں شادی کرنے کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ اپنے سہاگ کی اصل (حقیقت) دبلی اور بوڑھی ہے، یہ جان کر نِیرا سہاگ سِندور لگاتے سمے ہمیشہ ہچکچاتی رہتی ہے۔ آخر اس کا بوڑھا وکیل پتی خود ہی یہ کہتا ہوا کہ، ”تم اب سے سہاگ سِندور مت لگایا کرو”، اس کے ماتھے پر لگا خوش قسمت سِندور مٹا دیتا ہے۔ ہیرو کے من میں اس سمے یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر عورت بیوہ ہو جاتی ہے، تو ممکنہ طور پر اپنا دوسرا بیاہ رچا سکتی ہے اور سُکھی ہو سکتی ہے۔ اُن دنوں سفید پوش سماج میں بیاہتا کو طلاق نہیں ملتی تھی۔ ماتھے کے سہاگ سِندور کا اس طرح مٹائے جانے کا ہیروئین کے من پر زبردست صدمہ پہنچتا ہے۔ بھارتی عورت کے بنیادی سنسکاروں کو دھچکا لگتا ہے۔ اس کا کلیجہ تھرّا اٹھتا ہے۔ اسی سمے سڑک پر مری مائی کا کوئی بھگت بھگوتی کوخوش کرنےکے لیے اپنے ہی بدن پر جم کر کوڑے لگاتا ہے۔ کوڑوں کی کڑکتی آواز کا بیک گراونڈ آواز ناری کی ذہنی تکلیف کا اظہار بہت ہی پراثر ڈھنگ سے کرتا ہے۔

اسی طرح مختلف نئے خیالات کو پیش کرتے ہوے اس نئی فلم میں مَیں نے بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر بیک گراونڈ آواز کے ذریعے سے سین کی ڈرامائیت کو سجانے کی کوشش کی ۔ یہی نہیں اس فلم کے ذریعے میں نے یہ بھی دکھا دیا کہ معمولی استعمال کی چیزوں کو بھی فلم کا اٹوٹ انگ بنایا جا سکتا ہے۔ کونکن جا کر نئی شادی کر آیا بوڑھا ہیرو کچہری سےجب گھر لوٹتا ہے، تو راستے میں کئی واقف لوگ اوچھے انداز سے اُسے نئی شادی کے بارے میں پوچھنے لگتے ہیں۔ ان کو ٹالنے کے لیے وہ اپنی چھتری کا استعمال کرتا ہے۔ چھتری کھول لیتا ہے اور دور سے کوئی واقف آتا دکھائی دیا کہ کُھلی چھتری کی اوٹ میں اپنا منھ چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح منھ چھپاتے چھپاتے اور واقف کاروں کی پھبتیوں سے بچتے بچاتے وہ اپنے گھر آ جاتا ہے۔ دروازے پر ہی اس کا بوڑھا نوکر کھڑا ہوتا ہے۔ وکیل اپنی ہی خوابیدگی میں کھویا کھویا چھتری تان کر ہی گھر میں گھستا ہے اور نوکر سے بھی منھ چھپا لیتا ہے۔

مالک کے اس الجھے ہوے طرز عمل سے حیران نوکر منہ کھولے دیکھتے ہی رہ جاتا ہے۔ وکیل دیوان خانے میں آتا ہے۔ دیوار پر لگی پرانی گھڑی آدھ گھنٹہ بیتنے کا کچوکا دیتی ہے۔ ہیرو اپنی خوابیدگی سے جاگ جاتا ہے اور چونک کر چھتری ایک طرف کرتا ہوا گھڑی کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔

بات یہ تھی کہ میں خود بھی خیالات کی خوابیدگی میں کھو کر کافی بھلکڑ بن جاتا تھا۔ اپنے اسی سوبھاؤ کے کارن ہی ہیرو کو چھتری تان کر گھر میں بھیجنے کا سین شوٹ کرتے سمے مجھے سوجھا تھا۔ کیشوراؤ داتے نے اپنی مسحور کن اداکاری سے اِس میں جان ڈال دی۔ دیوان خانے میں لگی اس گھڑی کے وجود کا استعمال میں نے پوری فلم میں ہر ایک کے روپ میں کئی بار کیا۔ وہ گھڑی ہیرو کی طرح ہی پرانی اور بوڑھی ہوگئی ہے۔ فلم میں ایک سین دکھایا تھا : ہیرو کی چاچی نِیرا کو دھوکا دے کر وکیل (ہیرو) کی کوٹھڑی میں بند کر دیتی ہے۔ وکیل اپنی سہاگ رات منانے کے لیے کمرے میں جانے لگتا ہے۔ وہ دروازے کی کنڈی کو ہاتھ لگاتا ہی ہے کہ نِیرا کمرے کی کنڈی چڑھا کر اندر سے بند کر دیتی ہے۔ وکیل کنڈی کھولنے کے لیے نِیرا کو ڈانٹ کر کہتا ہے۔ نیرا بھی اتنی ہی سختی سے اسے چیلنج دیتی ہے، “آپ چپ چاپ یہاں سے واپس نہ لوٹے، نہیں تویقین جانیے کہ کمرے میں رکھی لالٹین کا سارا تیل انڈیل کر میں سارے گھر کو آگ لگا دوں گی!”

بے بس وکیل باہر کے دیوان خانے میں ایک آرام کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ غصے کے مارے ہانپنے لگتا ہے۔ ہر سانس پھولی پھولی سی آتی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک ٹک اور ہیرو کا ہانپنا دونوں کی لےَ ایک ہو جاتی ہے۔ تبھی ‘گھرس س گھر س س’ بڑی آواز ہوتی ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل گیا ہوتا ہے۔ پل بھر وکیل کو ایسا لگتا ہے، جیسے اس کے دل کی گھڑی بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے دل کو ٹٹولنےلگتا ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل جانے کی اس آواز سے تھئیٹر کے ناظرین بھی چونک جاتے تھے۔ کئی لوگ تو پردے پر دکھائی دے رہے ہیرو کی طرح اپنا سینہ بھی ٹٹولنے لگتے تھے۔ پوری فلم میں جب جب وہ گھڑی بند ہو جاتی ہے، وکیل اس کا پینڈولم زور سے ہلا کر اسے چالو کرتا رہتا ہے۔

فلم کے آخری سین میں گھڑی کا زیادہ سے زیادہ تجربہ کیا تھا: ہیرو وکیل کو اپنی بھول معلوم ہو چکی ہے۔ اس کے من میں طوفان اٹھا ہے۔ کس طرح نِیرا پھر جیون میں سکھ کے راستے پر چل پائےگی۔ اس کی پریشانی میں پریشان وہ کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بےچین من سے گھومتا رہتا ہے۔ آخر تھک کر وہ ایک کرسی پر بیٹھتا ہے۔ سامنے کی دیوار پر گھڑی کی ٹک ٹک ٹک جاری رہتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی رات ہو جاتی ہے۔ کمرے میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ من ہی من کچھ فیصلہ کر وکیل اٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ سے گھڑی کا پینڈولم روک کر گھڑی بند کر دیتا ہے۔ اپنے دل کی دھڑکن اپنے ہی ہاتھوں بند کرنے کا اشارہ دے دیتا ہے۔

اس سارے سین میں ہیرو کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہلوایا تھا۔ پھر بھی اس میں موجود جدوجہد، ہیرو کا کیا گیا فیصلہ وغیرہ سب باتیں بِنا کسی لفظ کے ٹھیک سے کہی جاتی ہیں۔ اس پرانی گھڑی کا استعمال بطور ایک علامت کے میں نے پوری فلم میں کر لیا۔ یہاں تک کہ وہ گھڑی فلم کا ایک جاندار کردار بن گئی!

اس گھڑی کی طرح وکیل کے کمرے میں رکھے بڑے آئینہ کا استعمال بھی میں نے ڈرامائیت بڑھانے کے لیے کیا۔ آدمی جب پس و پیش میں پڑ جاتا ہے تب آئینے میں پڑنے والا اُس کا عکس جیسے اُس کا دوسرا من ہے، اور وہ اس کی تکون کو کاٹتا رہتا ہے۔ اس مقبول سین کو اور بھی زیادہ پُراثر بنا کر میں نے پُرجوش احساس کا اخراج فلمایا۔

وکیل اپنی سفید ہوئی مونچھوں کو خضاب لگا کر کالا کر رہا ہے۔ تب اس کا عکس اس سے سوال کرتا ہے، ”تم اپنے سفید ہوے بالوں کو اس طرح کالا تو کر لو گے، لیکن تمہارے بوڑھے ہوے من کو پھر سے جوان کیسے کر پاؤ گے؟” وکیل اور اس کے عکس میں نوک جھونک ہو جاتی ہے۔ وکیل آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ پاس ہی رکھا ایک پیپرویٹ اٹھا کر اپنےعکس پر دے مارتا ہے۔ آئینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس میں دو تین دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اب دو تین عکس وکیل کی کِھلّی اڑاتے ہنستے ہوے نظر آتے ہیں۔ وکیل اور بھی گرم ہو جاتا ہے، کسی اور بھاری چیز کو آئینے پر دے مارتا ہے۔ اب آئینہ ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے۔ وکیل مڑ کر جانے لگتا ہے، لیکن تبھی بہت سارے لوگوں کی طنز بھری ہنسی سنائی دیتی ہے۔ وکیل پھر پلٹ کر دیکھتا ہے کہ آئینے کے زمین پر بکھرے ایک ایک ٹکڑے میں اس کے اپنے ہی عکس اسے چِڑا کر ہنس رہے ہیں۔

اس فلم میں اس طرح جدت لیے فلمائے گئے ہر ایک سین، بیک گراونڈ ساؤنڈ، بے جان چیزوں کا جاندار استعمال وغیرہ اتنی نئی نئی باتیں تجربے میں لائی گئیں کہ ان سب کا بیان کرنے بیٹھوں تو ایک پوری کتاب بن جائےگی۔

ناول کے اوریجنل ٹائٹل ‘نا پٹناری گوشٹ’ کی ہندی تبدیلی کچھ باغی انداز سے کی—’دنیا نہ مانے’۔ مراٹھی ورژن کا نام ایک دم گھریلو، سگھڑ اور علامتی رکھا– ‘کُنکو’۔ ‘دنیا نہ مانے’ کو ہم نےسب سے پہلے کلکتہ میں ریلیز کیا۔ اس سمے میں بمبئی میں بخار سے بیمار پڑا تھا۔ کلکتہ سے تار آیا: ”دنیا نہ مانےکو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا ہے۔”

تار پڑھ کر میرے تو خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ کتنا بڑا خطرہ اٹھایا تھا! میں نے ایک ایسی فلم بنائی تھی جو سماج کے قدیم چلن کو ایک دم جنجھوڑ دے گی۔ ایسی فلم جس میں عام دلچسپی کے ناچ، گانے یا محبت کے سین کا ایک بھی سین نہیں۔ یہ خطرہ بہت بھاری پڑ سکتا تھا۔ ہم سبھی فلم کی کامیابی کے بارے میں شُبہ میں تھے۔ لیکن میرے اس نڈر تجربے کے کامیاب ہونے کے آثار دکھائی دینے لگے۔

چونکہ سینٹرل سینما میں ہماری ‘تُکارام’ اب بھی بھیڑ مسحور کر رہی تھی، ہم نے ‘دنیا نہ مانے’ کو بمبئی کے ‘کرشن’ سینما میں ریلیز کیا۔ اس کے علاوہ اور ایک تجربہ کر کے دیکھا۔ ‘کرشن’ سینما کے ساتھ ہی بمبئی کے فورٹ علاقے میں ‘ایکسلسئر’ سنیما گھر میں بھی ایک ہفتہ کے لیے اس کی پیشکش کا انتظام کیا۔ ان دنوں فورٹ علاقے کے سبھی سینما گھروں میں صرف انگریزی فلمیں ہی دکھائے جاتی تھیں۔ وہ ایک دو ہفتے ہی چل پاتیں۔ انہیں دیکھنے والے ناظرین زیادہ تر غیر ملکی ہوتے یا مغربی تہذیب میں پلے بھارتی۔ مڈل کلاس کے عام لوگوں کے جیون پر مبنی ہماری یہ فلم وہاں کی ایلیٹ ناظرین کو کہاں تک راس آتی ہے، ہمیں شُبہ تھا۔

دو چار دن بعد ہی پیراماؤنٹ فلم کمپنی کے مالک چھوٹو بھائی دیسائی مجھ سے ملنے کے لیے ہی پُونا آئے۔ کہنے لگے، ”شانتارام، بمبئی کے سبھی فلم والے بولتے ہیں کہ تمہارا نیا فلم پربھات کے نام پر بہت ہوا تو تین چار ہپتا (ہفتہ) چلےگا، اس سے زیادہ نہیں۔ ہم نے بولا بیشٹ (Best) چلےگا۔ اُن فلم والوں کے ساتھ ہم نے ایک بیٹ (Bet) ماری ہے ہزار روپیے (روپے) کی۔ تمہیں کیا لگتا ہے، ہم بیٹ جیت جائے گا یا ہارے گا؟” اس کی مزیدار باتیں سن کر مزہ آیا۔ میں نے انہی کے لہجے میں بے فکر ہو کر کہہ دیا، “تم بیٹ جیتےگا۔ ایک دم پکا۔”

اور چھوٹو بھائی واقعی میں بیٹ جیت گئے۔ ‘دنیا نہ مانے’ ایکسلسئر میں لگاتار چار ہفتے ہاؤس فل چلی۔ وہ بھی وہاں دوسری امریکی فلم ریلیز کرنا پہلے طے ہو چکا تھا، اس لیے وہاں سے اسے ہٹانا پڑا۔ پر کرشن سینما میں بھی یہ فلم پورے ستائیس ہفتے چلی، بھارتی فلمی دنیا کی تاریخ میں ‘دنیا نہ مانے’ پہلی سماجی فلم تھی، جو لگاتار اتنے ہفتے چلی۔

اس کے بعد ‘دنیا نہ مانے’ سارے ہندستان میں ریلیز ہوئی۔ وینس فلم فیسٹول میں بھی اِسے دکھایا گیا اور وہاں کے پنچوں اور ناقدین نے اس کی بہت بہت تعریف کی۔ لیکن ہمارے ملک میں اس فلم کو لے کر کافی بھلا بُرا کہا گیا۔ ملک کے کونے کونے سے ایک سے زیادہ پتر آئے۔ لگ بھگ ہر پتر میں پتر لیکھک نے آپ بیتی لکھی تھی۔ مدراس سے ایک ایرانی نے لکھا تھا:

“میں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔ میری مالی حالت اچھی ہے۔ میں نے حال ہی میں شادی کی ہے۔ میری پتنی عمر میں کافی جوان ہے، مجھ سے وہ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھ آیا ہوں، اور پتنی کے اِس سلوک کا مطلب میری سمجھ میں آگیا ہے۔ اب میں اس کے درد کو اچھی طرح سمجھ پا رہا ھوں۔ اپنی غلطی میں نے پتنی کے پاس مان لی ہے اور اگر وہ چاہے، تو اسے اس شادی کے بندھن سے آزاد کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ ویسے میں نے پتنی کو بتا بھی دیا ہے۔ آپ نےاس فلم کے ذریعے سے یہ جو مہان سماجی کام کیا ہے، اس کے لیے آپ کو دلی مبارک باد!”

کانپور سے ایک عورت نے لکھا تھا کہ یہ فلم دیکھنے کے بعد وہ بہت ہی غصہ ہو گئی۔ اپنے پتر کے ذریعے اس نے مجھے کافی آڑے ہاتھوں لیا تھا:

”آخر ہماری تہذیب کے خلاف اس فلم کی شوٹنگ آپ نے کی ہی کیوں؟ بھارتی ناری جنم سے ہی برداشت کرنے والی ہوتی ہے، وہ پتی مخالف بھی ہے۔ اس کے سامنے اس طرح ایک باغی ناری کا آدرش پیش کرنا کبھی مناسب نہیں۔ اس کارن ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہماری ریت کی تباہی ضروری ہو جائےگی۔ اچھا ہو کہ آپ اس طرح کی فلم بنانا بند کر دیں، ورنہ ہمیں آپ کی فلموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا!”

اس پتر کے کارن میرے من میں سوال پیدا ہوا کہ کیا واقعی میں نے کوئی غلطی کی تھی؟ اس سوال کا جواب وجیواُڑا سے آئے ایک اور پتر میں ملا۔ یہ پتر بھی ایک ناری نے ہی لکھا تھا:

”میرے سسرال میں مجھے بہت سزائیں دی جاتی ہیں۔ میرا پتی ایک الکوحل سے پرہیز کرنے والا نوجوان ہے، لیکن وہ اپنے ماتا پِتا سے بہت ڈر کر رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شادی شدہ ہو کر بھی میں اپنے آپ کو ایک دم بے سہارا محسوس کرتی ہوں۔ جیون سے کوئی لگاؤ نہیں رہ گیا ہے۔ لیکن کل آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ فلم دیکھی اور اس کی ہیروئن کی طرح اپنا دامن صاف رکھتے ہوے مجھ سے ہو رہی نا انصافی کا انتقام لینے کا فیصلہ میں نے کیا ہے۔ اس طرح کی فلم بنا کر آپ ہم جیسی کمزور عورتوں کو ذہنی طاقت دیتے رہیں!”

اس زمانے میں اس طرح کا طوفان ‘کُنکو’ اور میرے خلاف بھی زوروں سے اٹھا تھا۔

‘موج’ کے ١٩٣٨ کے دیپاولی (دیوالی) خاص نمبر میں م۔و۔رانگنیکر نے میرے ساتھ ہوا اپنا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ اس کے کچھ اقتباس یہاں دے رہا ہوں، تا کہ مجھ پر جوتنقید ہو رہی تھی اس کا کچھ اندازہ لگایا جا سکے۔ رانگنیکر نے لکھا تھا:

“۔۔۔شانتارام بابو کے اس غرور سے اُن کی انا کے بارے میں ہمیشہ quote کئے جانے والے چند لفظوں کی یاد تازہ ہو آئی۔” “میں جس پتھر پر سِندور چڑھا دوں، اس کو بھگوان بنا کر ہی چھوڑوں گا۔” شانتارام بابو کو ایسا کہتے quote کیا جاتا تھا! لیکن اپنےاس گھمنڈ کے بارے میں انہوں نے کہا، ”آپ سچ کہتے ہیں رانگنیکر جی، مَیں اس طرح ڈینگ ہانکتا رہتا ہوں، یہ تو مَیں نے پڑھا ہے اور سنا بھی ہے۔”

“شانتارام بابو اِس جملے کو کافی کچھ اکتاہٹ سے کہہ گئے، لیکن فوراً بولے، “جواب میں اس کے ساتھ کہوں گا کہ ہمارے سٹوڈیو میں کام کرتے ہوے جو اس فلمی دنیا میں نام کما گئے، ان میں سے ایک بھی اداکار پتھر نہیں تھا!”

“۔۔۔تو کیا یہ مان لیں کہ وہ پتھر اور سِندور والا جملہ کسی ایرے غیرے نے ہی شانتارام بابو کو بتا کر شائع کر دیا تھا؟ اس کی مناسب وضاحت شانتارام بابو نے اب بھی نہیں کی ہے، ایسا سمجھ کر میں نے پھر وہی سوال دہرایا۔”

“اس پر شانتارام بابو نے کہا، ‘اس طرح کے بے بنیاد لیکھوں کا ذکر ہی ہم کیوں کرنے بیٹھیں؟ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ سپیکر اپنے سننے والوں پر اثر ڈالنے کے لیے من چاہی اناؤنسمنٹ کرجاتا ہے، لیکھکوں کا حال بھی ویسا ہی ہے۔”

“لیکھکوں کی بات اٹھی تو۔۔۔ و۔س۔ کھانڈیکر کے ایک انٹرویو میں ‘پربھات’ کی سستی مقبولیت کی کِھلّی اڑاتے ہوے کی گئی بکواس یاد آئی۔ اس انٹرویو میں کھانڈیکر نے اپنی (ہنس پکچرز کی) فلم ‘جوالا’ کے وقار کی مشعل اونچی کرتے ہوے کہا تھا، ” ‘امرت منتھن’ کا بنیادی موضوع تشدد اور ہیرو راجگرو تھا۔ اس کے باوجود اس میں لمبے رومینٹک سین گھسائے گئے ہیں۔ اسی طرح ‘امر جیوتی’ میں چرواہوں کی شہزادی کا رومانس بے مطلب گھسا دیا گیا ہے۔ لیکن ‘پربھات’ کی اس سستی مقبولیت کے ٹارگٹ سے ہماری ‘ہنس’ کمپنی کا آدرش سیدھا سادہ مختلف ہے۔ ‘ہنس’ دانشورانہ سطح پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔”

“۔۔۔تو اس سستی مقبولیت کے بارے میں شانتارام بابو سے ان کی راۓ جاننا ناگزیر ہی تھا۔ اس پر انہوں نے کہا، ”کھانڈیکر جی اتنے اچھے لیکھک ہیں کہ ان کے اس ذکر کا جواب انہوں نے خود ہی اپنے اس انٹرویو کے دوران “جھاڑ بُہار” (رومینس) کی حمایت میں دے دیا ہے۔”

“شانتارام بابو کا یہ جواب سنتے ہی مجھے’جوالا’ میں ڈالے گئے کچھ مزاحیہ سین کی حمایت میں کھانڈیکر جی کے الفاظ یاد آئے۔ ‘جوالا’میں ایک جھاڑنے بُہارنے کا سین تھا۔ دانشورانہ سطح کے ماحول میں اس سین کی جیسے تیسے حمایت کرنے کی کوشش میں کھانڈیکر جی نے کہا تھا، ” ‘جوالا’ میں اصل میں مزاح کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن لوگوں کی مانگ کو دیکھتے ہوے وہ سین بعد میں اس میں جوڑا گیا۔”

“میں نے کھانڈیکر کے یہ الفاظ جیسے بھی یاد آ رہے تھے، شانتارام بابو کو سنائے۔ تب انہوں نے کہا، ”اب آپ ہی دیکھیے، کھانڈیکر جی اس میں نا قابل تردید روپ سے قبول کر گئے ہیں کہ ہماری مقبولیت نہایت اونچی قسم کی تھی، لہذا کھانڈیکر جی کی طرف سے گئی ہماری تنقید مسخری کے ڈھنگ کی اور صرف دانشور کسرت سی ہی لگتی ہے۔”

” کھانڈیکر جی کے ساتھ ساتھ مزاح کی بات چلی تو قدرتی طور پر مجھے اترے جی کا لکھا ‘پراچا کوّا’ ناٹک یاد آیا اور میں نے شانتارام بابو سے پوچھا، آپ نے ‘پراچا کوّا’ دیکھا ہے؟”

“شانتارام باپو نے اس کاجواب ‘نہ’ میں دیا اور فوراً مجھ سے ہی سوال کیا کہ آپ آخر ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا، ”اس ناٹک میں پربھات کی ہیروئین کو ٹارگٹ کرتے ہوے ایک جملہ ہے— سالی کیا چیخ رہی ہے۔ اور ‘کُونکو’ فلم کا ذکر گدھوں کی بارات کہہ کر کیا گیا ہے، اس لیے۔” اس پر شانتارام بابو نے فوراً کہا، ”اچھا اچھا، اب میری سمجھ میں آیا کہ اس ناٹک کمپنی کے مالک مجھ سے یہ ناٹک دیکھنے کی درخواست باربار کیوں کئے جا رہے تھے!”
“۔۔۔شانتارام بابو نے مجھ سے پوچھا، ”کیا یہ سچ ہے کہ ایک تماشا گھر کے افتتاح کے سمے اُن لوگوں نے اترے جی کو ایک قلم گفٹ کی تھی؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ اس پر شانتارام جی ایک دم تالی بجا کر بولے، “تب تو آج کل اترے اسی قلم سے لکھتے ہوں گے!”

یہ تو رہی رانگنیکر جی کی بات۔ ماما وریرکر نے بھی ایک اخبار میں ‘کُنکو’ پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے اپنی تنقید میں لکھا تھا کہ نارائن ہری آپٹے کے اصل ناول میں ہیروئین کی جو محبت کا پہلو تھا، فلم میں قطعی نہیں لیا گیا ہے۔ لہذا کہانی کی روح ہی تباہ ہو گئی ہے۔ لگتا ہے کہ شانتارام جی نے اپنی ‘کُنکو’ فلم میں اس ناول کےلیکھک کا گلا پورا کاٹ دیا ہے۔ ایک مشہور لیکھک کی’کُنکو’ کی کہانی پر ایسی بچگانہ تنقید کی جانے کی بات سن کر میری واقعی میں کچھ تفریح تو ضرور ہی ہوئی۔ نارائن راؤ آپٹے اسے پڑھ کر جھنجھلا اٹھے۔ انہوں نے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ان دونوں لیکھکوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور آخر میں کہا کہ، ”شانتارام بابو نے میرے ناول کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، وریرکر کی رائے کے مطابق انہوں نے میرا گلا بالکل ہی کاٹا نہیں ہے، بلکہ میری گردن اچھے طرح اونچی ہو گئی ہے۔”

مطلب یہ تھا کہ ‘کُنکو’ فلم نے سماج کے سبھی طبقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تنقید اور تبصروں کی جب یہ دُھلینڈی (ہندوتہوار) کھیلی جا رہی تھی، ڈیلکارنے جی کی ایک کتاب میں نے پڑھی۔ اُس کی ایک خوش بیانی نے ایسی تمام تنقیدوں کے لیے میرے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کر دی۔ خوش بیانی تھی ”تمہاری الٹی سیدھی تنقید ہو رہی ہے، تب مان لو کہ تم کام کرتےہو۔ اصل میں زندہ ہو۔ مر چکے لوگوں کے بارے میں سبھی اچھا ہی بولا کرتے ہیں۔” اس خوش بیانی کا مجھ پر اتنا اثر پڑا کہ آج تک مجھے یا میری فلموں کو لےکر اگر کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا، پھر مجھے بھی کہیں کچھ غلطی ہو جانے جیسا لگتا ہے۔ جان بوجھ کر کی گئی سطحی تنقید کی طرف میں دھیان ہی نہیں دیتا۔ تنقید کا اپنے کام کی ترقی کی نظر سے میرے لیے کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے اندر ایک کٹھور نقاد کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے۔ وہ نقاد مجھے وہ ساری غلطیاں صاف بتلا دیتا ہے، جو میری تنقید اور ناقدین کو بھی دکھائی نہیں دیتیں۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بارے میں ایک اور یاد ہے: یہ فلم جنوب میں ریلیز ہوئی، تب مدراس میں ہندی پرچار سبھا کے صدر ستیہ نارائن مجھ سے ملنے پُونا آئے۔ انہوں نے میرا دلی شکریہ ادا کیا۔ اس شکریہ کا کارن میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے، “جنوب میں آپ کی اس فلم کے کارن ہندی پرچار سبھا کا کام بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں ہماری ہندی کلاسز میں شامل ہونے کے لیے اس لیے بھیڑ کیے جا رہے ہیں کہ آپ کی بنائی ہندی فلم کو وہ اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔”

اس فلم کے بارے میں اور ایک بہت ہی چُھو لینے والی یاد ہے۔ وہ اتنی سُندر ہے کہ آج بھی اس کی یاد سے تن من باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ کھیل کھیل میں کتاب میں کسی صفحے کے اندر رکھا ہوا پیپل کا پتہ، برسوں بعد اس کتاب کے صحفے الٹتے سمے مل جانے پر اس میں پڑی مہین، نزاکت بھری جالی دار نقاشی دیکھ کر تن من جذباتی ہو جاتا ہے نا، ٹھیک اسی طرح میری حالت اس یاد کےکارن آج بھی ہو جاتی ہے۔

ایک دن سویرے ہی میں اپنےگھر کے دیوان خانے میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔ تبھی نوکر نےآ کر بتایا کہ باہر کوئی بوڑھے سجن آئے ہیں اور آپ کا نام لے کر انگریزی میں کچھ پوچھ رہے ہیں۔ میں باہر آیا۔ جنوبی ڈھنگ کا صافہ باندھے ایک کافی بزرگ مہاشے دروازے پر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “میں جنوب میں گُنٹور کا رہنے والا ہوں اور وہاں سے صرف وی۔ شانتارام جی سے ملنے آیا ہوں۔ مہربانی کر کے انہیں باہر بلائیے۔”

“آپ کو ان سے کیا کام ہے، جان سکتا ہوں؟”مَیں نے تجسس سے پوچھا۔

“بات ایسی ہے کہ مَیں نے اُن کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھی اور اس فلم سے میں اتنا متاثر ہو گیا کہ صرف ان سے ملنے کے لیے ہی گُنٹور سے پُونا آگیا ہوں۔”

اب میں تذبذب میں پڑا، کیسے ان مہاشےکو بتاؤں کہ میں ہی شانتارام ہوں۔ لیکن مجھ سے ملنےکی ان کی دلی خواہش کو دیکھتے ہوے مجھے آخر بتانا ہی پڑا۔ “جی، میں ہی ہوں شانتارام۔”

“آپ۔ شانتارام ہیں؟ ‘دنیا نہ مانے’ کے ڈائریکٹر؟ نا ممکن!”

مجھے سن کر ہنسی آ گئی۔ اب میں نے ہی اُن سے الٹا سوال کیا، “کیوں؟ میں شانتارام نہیں ہوں، ایسا آپ کیوں مان رہے ہیں؟”

“اس لیے کہ ‘دنیا نہ مانے’ میں اس بوڑھے وکیل کے احساسات، اس کی خواہش، پچھتاوا وغیرہ سب کچھ اتنی گہری نظر سے فلمایا کیا گیا ہے کہ ضرور ہی اس کا ڈائریکٹر کوئی اچھا تجربہ کار اور بوڑھا ہو گا۔ جائیے، مجھ سے مذاق نہ کیجئے اور اندر جا کر شانتارام جی کو چند منٹوں کے لیے ہی سہی، باہر بھجوا دینے کی مہربانی کیجئے۔ انہیں ابھی اس سمے فرصت نہ ہو، تو میں یہاں بیٹھ کر انتظار کرتا ہوں۔ لیکن ان سے ملے بنا یہاں سے ہرگز جاؤں گا نہیں۔”

کیسے ان مہاشے کو سمجھاؤں کہ میں ہی اصل میں شانتارام ہوں، بالکل ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی باہر سیتارام بابو کلکرنی ہمارے گھر ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ مجھے دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر انہوں نے سہج آواز دی۔ “کہیے شانتارام بابو، کیا ہو رہا ہے؟”

سنتے ہی اس بزرگ مہاشے کی آنکھیں حیرت سے کُھلی ہی رہ گئیں۔ انہوں نے کہا، “آپ ہی وی۔ شانتارام ہیں؟ اور اتنے جوان؟ (اس سمے میری عمر ہوگی کوئی چونتیس سال۔ لیکن عمر کے مقابلے میں میں کافی چھوٹا لگتا تھا) اجی، آپ تو عمر میں اتنے بچگانے لگتے ہیں، پھر بھی آپ نے ایک بوڑھے کے من کو پردے پر اتنی آسانی سے کیسے فلمایا؟ سچ بتاتا ہوں، آپ کو سلام کرنے کے لیے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہے۔ آپ کو دلی مبارک باد!”

ہچکچاہٹ کے مارے میں سمٹ سا گیا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی وہ مہاشے کرسی سے اٹھے، جیب سے ماچس نکالی، ایک تیلی جلائی۔ پاس میں ہی رکھے پوجا کےسامان سے کچھ اگربتیاں جلائیں اور مجھ سے کہنے لگے، “آپ کرسی پر بیٹھیے۔ منتروں کے ساتھ میں آپ کی پوجا کرنا چاہتا ہوں۔”

اس آدمی کے بولنے اور طرزعمل کا آخر کیا مطلب ہے، سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، اس طرح کی پوجا کی رسموں پر میرا کوئی عقیدہ نہیں ہے آپ کو فلم پسند آئی اور یہ بتانے کے لیے آپ اتنی لمبی یاترا کر کے یہاں آئے، اس کے لیے میں آپ کا دل سے شکر گزار ہوں۔”

مہاشے میری بات سے کافی ناامید لگے۔ پھر بھی دلی احساس سے بولے، “آپ چاہیں تو اسے پوجا نہ مانیے، آشیرواد ہی سمجھیں۔ ایک بوڑھے کی دعائیں بھی کیا آپ کو پسند نہیں؟”

آشیرواد! دعائیں! کیسے انکار کرتا؟ ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے ہی آگے کہا، “بیٹھیے نا کرسی پر۔”

ایک کٹھ پتلی کی طرح میں کرسی پربیٹھ گیا۔ انہوں نے اگربتیوں کو دروازے کی چوکھٹ پر کسی چھید میں لگا دیا۔ جیب سے کوئی پڑیا نکالی اور اس کے اندر رکھی بھبھوت (راکھ) میرے ماتھے پر لگا دی۔ میرے ہاتھ میں ایک لیموں دیا اور بولے، “یہ بھبھوت اور پرساد بھگوان تِرُپتی بالاجی کا ہے۔ اس کی کرپا سے آپ ‘دنیا نہ مانے’ جیسی اچھی فلمیں بناتے رہیں اور ان کے بنانے کے لیے تِرُپتی آپ کو لمبی عمر اور اچھی صحت دے!”

اس بوڑھے مہاشے نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر آشیرواد کے لیے مضبوطی سے رکھے۔ میرا گلا رِندھ آیا۔ آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے انہیں ایک دم جُھک کر پرنام کیا۔

کافی دیر تک میں ان کے سامنے سر جھکائے جھکا رہا۔ جذباتی ہو جانے کے کارن منہ سے لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ کچھ دیر بعد آنکھیں پونچھ کر میں نے اوپر دیکھا، وہ مہاشے چلے گئے تھے۔ میں فوراً دروازے تک گیا، لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیے۔ اسی جذباتی حالت میں میں دروازے پر کھڑا رہا جیسے کسی منتر سے متاثر ہو گیا تھا۔

اس عمر کے مہاشے کے بے اعتنا انداز سے دیے گئے آشیرواد اور گاؤں گاؤں سے ملے سینکڑوں ترغیب بھرے خطوں کے کارن سماج میں بیداری پیدا کرنے والی اسی ڈھنگ کی تجرباتی فلمیں بنانے کے لیے میرا حوصلہ بڑھ گیا۔

ایک بار بمبئی جانے کے لیے پُونا اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ میری نظر کسی کو وداع کرنے کے لیے آئے وِنائک پر پڑی۔ اسے دیکھتے ہی پچھلی یادیں من میں ابھر آئیں۔

جرمنی سے لوٹ کر کولھاپور آنے پر ایک دن میں مائی سے ملنے گیا تھا۔ انہوں نے ممتا سے مجھے سہلایا اور خود گرم گرم روٹیاں بنا کر مجھے کھلائی تھیں۔ مائی کی اس ممتا کا کارن پوچھے بِنا مجھ سے نہیں رہا گیا۔ “مائی سچ بتانا، میں جب یہاں نہیں تھا، بابوراؤ اور وِنائک کو اس طرح ‘پربھات’ چھوڑ کر کیا جانا چاہیئے تھا؟ کیا انہوں نے ٹھیک کیا تھا؟”

مائی نے فوراً کہا، “انہوں نےغلطی کی۔ ارے تم ولایت سے لوٹ آتے، تمہارے ساتھ بنا کسی لاگ لپیٹ کے وہ باتیں کر لیتے۔ کیا تم ان کی بھلائی میں روڑا اٹکانے والے تھے؟”

پھر میری طرف دیکھ کر وہ ہی بولیں، “تم ضرور سوچ کر پریشان ہوے ہوگے۔ ہے نا؟”

“سچ مائی، میں بہت پریشان رہا۔ لیکن آج تم سے یہ سب سن کر جی کا غبار جاتا رہا۔” لیکن سچ تو یہ تھا کہ مائی کی ممتا بھری باتوں کے باوجود بابوراؤ اور وِنائک کے لیے میرے من کا غبار ذرا بھی کم نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کی بنائی فلمیں اسی غبار کے کارن میں نے دیکھی تک نہیں تھیں ۔پر کچھ ہی دن پہلے وِنائک کی ڈائریکٹ کی ‘برہمچاری’ میں نے ضرور دیکھی تھی۔ وِنائک نے اس فلم سے طنزیہ و مزاحیہ فلموں کا دروازہ فلمی دنیا میں کھول دیا تھا۔

پھر میری نظر اس کی طرف مڑ گئی۔ وہ بھی کچھ بوکھلایا سا مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ دوڑ کر میرے پاس آیا اور پرنام کرنے کے لیے جھکا۔ میں نے اسے پیار سے گلے لگایا اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا، “وِنائک، میں نے تمہاری ‘برہمچاری’ فلم دیکھی ہے۔ تم نے اپنی خود مختار شخصیت بنا لی ہے۔ تم پر مجھے بہت ناز ہو آیا فلم دیکھنے کے بعد!” وِنائک کی آنکھیں ساون بھادوں برس گئیں۔

‘پربھات’ کو ایک کے بعد ایک لگاتار ملتی گئی کامیابیوں کے کارن ہم سبھی معاشی نقطہ نظر سے بہت آسودہ ہو گئے تھے۔ ہم سبھی حصہ داروں نے اپنے اپنے حصہ میں کافی بڑا منافع جوڑ لیا تھا۔ منافع کا بٹوارا بھی کر لیا تھا۔

تبھی داملے جی اور فتے لال جی کے پاس کونکن کے رتناگری میں ایک پاور ہاؤس بنوانے کی تجویز آئی۔ اُس میں ہم لوگ اگر کچھ پونجی لگاتے تو اس پر ہمیں بارہ فیصد سود ملنے والا تھا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی فلم میکنگ اور اس سے وابستہ کاموں کے علاوہ دوسرے کسی کاروبار میں حصہ نہیں لے گا۔ اس کے علاوہ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ہم میں سے کوئی دوسرا کاروبار نہیں کرے گا۔ یہ دفعہ بندش تھی۔ اس لیے داملے جی کو یہ تجویز حصہ داروں کی بیٹھک میں رکھنا پڑی۔ فلم میکنگ سے حاصل دھن اس طرح کسی دوسرے کاروبار میں لگانا اور وہ بھی صرف اسی خیال سے کہ گھر بیٹھے سود ملتا رہے، مجھے قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے تڑاخ سے کہا، “آپ کا سارا پیسہ مجھے دیجیے، میں اسے ‘پربھات’ میں ہی لگاتا ہوں۔ اس پر میں آپ کو بارہ کیوں سو فی صد سود دیتا ہوں!”

“اجی، کیا کہہ رہے ہیں آپ، شانتارام بابو؟” فتے لال جی نے تلملا کر کہا۔

“ایک دم صحیح فرما رہا ہوں۔ ہم لوگوں نے سینما کاروبار سے جو دھن حاصل کیا ہے، اس کو کسی دوسرے کاروبار میں لگانے کا مطلب ہے ہمارا اپنے کاروبار پر اب یقین نہیں رہا ہے! اس سے تو اچھا ہو کہ ‘پربھات’ کے قیام کے سمے ہم نے ‘پربھات نگر’ بنانے کا جو سپنا دیکھا تھا، اسی کو ہم سچ کریں۔ پانچ چھ ماہ پہلے میں نے کوڈیک کمپنی کو امریکہ میں ایک پتر بھیجا ہے۔ ایک بڑا اور اپ ڈیٹد کیمیکل روم بنانے کا پلان ان سے منگوایا ہے۔ بھارت کے کئی فلم میکر اس کیمیکل روم میں اپنی فلموں کی ڈیولپنگ کروا سکتے ہیں۔ نتیجتاً ہماری پونجی پر پچاس فی صد سود تو ضرور ہی حاصل ہو سکتا ہے۔”

داملے جی نے کہا، “لیبوریٹری وغیرہ بنوا کر دوسروں کے کام کرتے رہنے کی نسبت ہمیں اپنی فلموں کی تعداد بڑھانی چاہیئے۔”

“میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ صرف فلم کی تعداد بڑھانے کے چکر میں ہم اپنی فلم کی خوبیاں کہیں کم نہ کر بیٹھیں۔”
داملے جی کو میری بات جچی نہیں۔ فتے لال اور سیتارام پنت چپ بیٹھے رہے۔

آخر میں داملے جی نے مجھ سے ایک بہت ہی تیکھا سوال کیا، “دوسرے فلم میکرزکا کام ہمیں نہ ملا تو اتنی بڑے کیمیکل روم میں آپ کیا دھوئیں گے؟”

میں نے جھنجھلا کر کہہ دیا، “آپ کی دھوتیاں دھوئیں گے!” اور میں فوراً وہاں سے چلا آیا۔

اس کے بعد کئی دنوں تک ہم آپس میں بولتے نہیں تھے۔ داملے جی کی بات اس طرح بہت ہی روکھے ڈھنگ سے دو ٹوک کاٹ دی، اس کا رنج مجھے ستا رہا تھا۔ لگتا تھا شاید میں انہیں اپنی بات ٹھیک ڈھنگ سے سمجھانے میں ناکام رہا ہوں۔

ایک دن ناراضی کی اس الجھن کو میں نے ہی پہل کر سلجھا لیا۔ میں کسی کام کے بہانے داملےجی اور فتے لال جی کے کمرے میں پہنچ گیا اور ان سےمعافی مانگی۔ داملے جی بھی سمجھاتے ہوے بولے، “شانتارام بابو، اس طرح ذرا ذرا سی بات پر آپا کھونے سے کام کیسے چلےگا؟ آپ ذرا ہماری نظر سے بھی تو سوچیں۔ ہم اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ بھگوان کی دیَا سے جو کچھ ملا ہے، اسے سنبھالتے سنوارتے زندگی کے باقی دن آرام سے بِتائیں یہی ہماری تمنا ہے۔ اس میں کیا غلط ہے؟”

“لیکن ‘پربھات’ کے قیام کے سمے آپ سب نے مجھے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپیہ ہو جائے تو اس کے بعد مجھے پربھات نگر وغیرہ جو بھی بنانا ہو اس میں آپ لوگ رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، اس کا کیا ہو گیا؟ داملے ماما، مہربانی کر کے یہ دھیان میں رہے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ بھگوان کی دیَا سے نہیں، ہماری اپنی محنت سے اور کاروباری ایمانداری کے کارن ملا ہے۔ اسی بَل پر ہم اور بھی زیادہ کما سکیں گے۔” میں نے خود اعتمادی کے ساتھ کہا۔

“وہ سب تو ٹھیک ہی ہے جی۔ لیکن آپ عمر میں کافی جوان ہیں۔ ambitious ہیں اتنا جوش اب ہم میں کہاں؟”
اس طرح کی باتوں کا بھی بھلا کیا جواب ہو سکتا ہے؟

میں نے کِھلّی اڑاتے ہوے ہنس کر کہا، “تب تو آپ ایک کام کیجئے۔ پھر میرے من کے ambitions اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ لوگ جوان دِکھنے کے لیے سفید بالوں کو خضاب لگا کر کالا بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح کا کوئی خضاب آپ میرے لیے لیتے آئیے، جو میرے کالے بالوں کو سفید بنا دےگا اور میں بھی بوڑھا دِکھنے لگوں گا۔”

میرا سر بُھنّانے لگا۔۔۔ آخر کیا کرنے سے داملے اور فتے لال دونوں میرے ساتھ خوشی اور امنگ لے کر ‘پربھات’ کا دائرہ اور بڑا کرنے میں جُٹ جائیں گے؟۔۔۔ ہم چاروں اب بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیش رو ہوے تو کافی لمبی منزل طے کر سکتے ہیں۔۔۔ ‘تُکارام’ جیسی اور ایک آدھ فلم اِن دونوں کو ڈائریکشن کے لیے سونپ دی جائے تو کیسا رہےگا؟ ۔۔۔ پھر میرا مطلب پورا ہو جائے گا؟ ان کی شہرت اور نیک نامی اور بڑھ ہی سکتی ہے۔ ان کا ambition بھی بڑھےگا۔۔۔

میں نے فوراً داملے جی فتے لال سے فلم کے بارے میں بحث شروع کی۔ وہ دونوں خوش ہو گئے۔ سب کی راۓ سے طے رہا کہ ‘پربھات’ کی پہلی خاموش فلم ‘گوپال کرشن’ کی کہانی پر مبنی ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ دو ایک دن میں ہی چند سین میں تبدیلی کر ہم نے کہانی کا فارمولا طے کیا۔ فوراً وشیکرن جی کو بلا بھیجا۔ انہیں نئی فلم کا خیال سمجھا دیا کہ سکرین پلے بناتے سمے من میں یہ استعارہ/ میٹافر یقینی کریں کہ کنس کو برٹش سامراج، کنس کے سپہ سالار کیشی کو نوکر شاہی اور کرشن کو عوام کی علامت کے روپ میں پیش کرنا ہے۔

ایک دن شام کو وشیکرن کے ساتھ ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے پر بحث کی بیٹھک ختم کر میں گھر لوٹا، تو ایک لڑکا برآمدے میں ہی میرے انتظار میں بیٹھا تھا۔

کچھ بوکھلایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا، “دادا صاحب نے آپ کو بُلایا ہے۔۔۔”

میں ٹھیک سے سمجھا نہیں۔ تذبذب میں اُس سے پوچھا، “کون دادا صاحب؟ اور مجھے کس لیے بُلایا ہے انہوں نے؟”
اب کچھ سنبھل کر لڑکے نے کہا، “دادا صاحب فالکے جی نے آپ کو بُلا بھیجا ہے۔”

Categories
نان فکشن

شانتاراما باب 17: شرط جیتی، مگر (ترجمہ: فروا شفقت)

ہمیشہ کی نسبت کچھ جلدی جاگ کر میں تڑکے ہی اخبار پھینکنے والے لڑکے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔

‘تُکارام’ کل ہی ہمارے نئے ‘پربھات’ تھئیٹر، پُونا میں ریلیز ہو چکی تھی۔ اس دن کمپنی میں کچھ غیر ملکی مہمان آنے والے تھے۔ اس لیے ‘تُکارام’ کے پہلے شو میں مَیں تھئیٹر جا نہیں پایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے تک تو پہلا شو ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے آفس سے نیچے آ گیا۔

سامنے والی بینچ پر داملے جی اور فتے لال مایوس ہو کر بیٹھے تھے۔ میرا کلیجہ کانپ اٹھا۔ جلدی جلدی ان کے پاس پہنچ کر میں نے پوچھا، “کیا حال ہیں ‘تُکارام’ کے؟”

“کچھ مت پوچھیے!” فتے لال جی نے کہا۔

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہی کہ ‘تُکارام’ کے لیے لوگوں میں قطعی کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری پربھات کی نئی فلم کے پہلے شو کے لیے آج تک جو بے شمار بھیڑ اُمڈ آیا کرتی تھی، وہ اس سمے نہ جانےکہاں غائب ہو گئی تھی۔ تھئیٹر آدھے سے زیادہ خالی پڑا تھا۔”

“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے۔ آج رات کا شو میں خود لوگوں میں بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔ آپ بھی چلیے ساتھ میں۔”

رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔ فلم شروع ہو گئی۔ جو اِکّا دُکّا ناظرین بیٹھے تھے، وہ میری توقع کے مطابق جگہ جگہ پر فلم کے سبھی حصوں کی برابر داد دے رہے تھے۔ چونکہ ناظرین کی تعداد ہی بہت کم تھی، ناظرین کی یہ داد بھی کافی کمزور لگتی تھی، لیکن تھی ضرور۔ میرا من اُتھل پُتھل ہونے لگا۔

پچھلے مہینے لوناؤلا میں بابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ ہوئی وہ بات یاد آئی۔

‘تُکارام’ فلم نہ چلی تو ڈائریکٹ کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عہد میں نے کیا تھا۔ میرا وہ عہد سن کر بابوراؤ پینڈھارکر کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرے ضدی سوبھاؤ سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مجھے سمجھانے بُجھانے کی انہوں نے کافی کوشش کی، “اجی شانتارام بابو، ایک آدھ فلم کبھی کبھار نہیں چلتی۔ لیکن اس کے لیے اپنی ساری ڈائریکشن ہی داؤ پر لگانے کا کھیل بے کار ہی کیوں کھیل رہے ہیں آپ؟”

اپنے غصے پر قابو پاتے ہوے میں نے کہا، “بابوراؤ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی جُوا نہیں کھیلتا! میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں ہوں، جو ہاتھ کے پانسے زمین پر پھینک کر اپنے لیے مناسب دان کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ صرف شرط لگانے یا مقابلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے جذبہ سے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ اس فلم کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے اور اس کے باوجود اگر یہ نہیں چلتی، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہی ہونا چاہیے کہ اس موضوع پر اب مجھے کوئی گیان ویان نہیں رہا ہے۔ تب تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ فلم میکنگ اور ڈائریکشن کرنا میرے بس کے باہر کی بات ہے!”

“آپ کی ان باتوں سے میں قطعی متفق نہیں ہوں۔ آپ پہلے اپنا وہ خوفناک عہد واپس لیجیے بھلا!” بابوراؤ نے کافی مِنت بھری التجا کی۔

“نہیں، یہ ایک دم ناممکن ہے۔ میں نے محض عہد برائے عہد نہیں کیا ہے، اس کے پیچھے خیالات کی ایک یقینی سمت ہے۔” میں انہیں وِچاروں میں کھویا تھا کہ ناظرین نے دل سے داد دی۔ سامنے پردے پر تُکارام اور جِجاؤ کا وہ برگد کے پیڑ کی چھایا والا سین آیا تھا۔ جو چند ناظرین اس سمے فلم دیکھ رہے تھے، انہیں وہ سین بہت پسند آیا۔ اس کے بعد تو فلم میں زیادہ سے زیادہ رنگ بھرتا گیا۔ ناظرین اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے گئے۔

فلم ختم ہوئی۔ میں لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا اپنی کار میں جا بیٹھا۔ داملے جی اور فتے لال بھی ساتھ ہو لیے۔ میں نے انہیں بتایا، “پکچر بہت اچھی چلنے والی ہے۔ لوگ چمتکاروں سے بھرپور سنت فلموں سے اوب گئے ہیں۔ شاید یہی سوچ کر کہ ‘تُکارام’ بھی اسی کیٹیگری کی ایک فلم ہو گی، انہوں نے شروع میں بھیڑ نہیں کی۔ ایک بار انہیں معلوم ہو گیا کہ ‘تُکارام’ کچھ نرالی ہی سنت فلم ہے، آپ دیکھیں گے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔”

بولتے بولتے میں چپ ہو گیا۔ من میں سوال اٹھا تھا لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جائے؟ فلم کا گراف کم ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!

ہم لوگ گھر پہنچے، میں نے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ ہماری فلموں کے پرچارک اور ایڈورٹائزنگ کا کام دیکھنے والے داتار جی کو فوراً لے آؤ۔

بیچارے داتار صاحب، اس تذبذب میں کہ اتنی رات بیتے انہیں کیوں بلایا گیا ہے، آنکھیں ملتے ملتے آ پہنچے۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے ان سے کہا، “داتار، کل سویرے کے ‘گیان پرکاش’ میں پہلے صفحے پر اشتہار چھپ کر آنا چاہیئے اور اس اشتہار پر بولڈ عنوان چاہیئے: ‘تُکارام اور جِجاؤ کا برگد کے نیچے ‘لَوسین’ سمجھے؟”

“کیا؟” داتار حیرت کے کارن لگ بھگ چیخ پڑے۔ ان کی نیند رفو چکر ہو گئی۔ بیچارے مجھے ہی سمجھانے لگے، “لیکن شانتارام بابو، اس طرح کے اشتہار میں ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔”

“وہ خطرہ اٹھانے کے لیے میں تیار ہوں! آپ فوراً ہی اشتہار چھپوانے کا انتظام کریں!”

داتار ‘گیان پرکاش’ نامی مقبول روزنامے کے منتظم تھے اور اسی لیے میں یہ کام کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔

میں دروازے پر کھڑا تھا۔ سامنے سے اخبار ڈالنے والا چھوکرا آتا دکھائی دیا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے ‘گیان پرکاش’ کا تازہ شمارہ لگ بھگ چھین ہی لیا۔ پہلے ہی صفحے پر اشتہار تُکارام جِجاؤ کے لَو سین والے عنوان کے ساتھ چھپا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پُونا کے مذہب پرست لوگوں میں اس اشتہار کےکارن کیا ہی سنسنی مچ جائےگی، میں من ہی من خوش ہو رہا تھا۔

شام کے چھ بجے میرے آفس میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون پر فتے لال جی بات کر رہے تھے۔ بڑے جوش سے کہہ رہے تھے، “تُکارام کا دوپہر والا شو کل کی نسبت کافی اچھا رہا۔ ابھی چھ بجے والے شو میں تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے ہیں۔”

میں نے پُرجوش ہو کر پوچھا، “تُکارام دیکھ کر لوٹتے سمے لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں؟”

“فلم کے بارے میں تو لوگ اچھا بول رہے ہیں۔ آپ کے اس اشتہار نے کافی مدد کر دی ہے!”

“ہیلو، لوگ اس اشتہار کے بارے میں کیا بولتے ہیں؟” میں نے پُرامیدی سے پوچھا۔

“کئی لوگ تو اشتہار میں ‘لَوسین’ لفظ پر اعتراض اٹھا رہے تھے۔ لیکن اب کھیل ختم ہونے پر لوگ اس اشتہار کی سوجھ بوجھ کے لیے داتار کی تعریف کر رہے ہیں!”

تو اس کا مطلب یہ رہا کہ میرا تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا تھا!

روز بہ روز’ تُکارام’ دیکھنے کے لیے آنے والوں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔

پُونا میں ‘تُکارام’ کو ریلیز ہوے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ بمبئی کے ‘سینٹرل’ سینما کے مالک کے۔کے۔ مودی اور عبدل علی مجھ سے ملنے پُونا میں میرے گھر پر آ پہنچے۔ چُھوٹتے ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا، “شانتارام، ‘تُکارام’ کے لیے سینٹرل سینما میں کتنے ہفتے رکھ چھوڑوں؟”

“آپ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں؟”

وہ گول مول جواب دینے لگے، “نہیں نہیں، ویسی تو کوئی بات نہیں ہے، لیکن بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں بتایا کہ پہلے آپ سے پوچھ لینے کے بعد ہی فائنل کیا جائے۔”

“یعنی بابوراؤ پینڈھارکر کو بھی ‘تُکارام’ کی کامیابی پر شُبہ ہے۔ تو ویسا صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟ میں آپ سے کہتا ہوں، ‘پربھات’ کی کسی بھی کامیاب فلم کے لیے آپ جتنے ہفتے رکھتے ہیں، اتنے ہی ہفتے اس فلم کے لیے بھی بِنا کسی اگر مگر کے آپ رکھ چھوڑیں۔” یہ بات میں نے تھوڑا ڈپٹ کر سختی سے کہی۔

دونوں انہی قدم واپس لوٹ گئے۔ آخر بات میری ہی سچ نکلی۔ بمبئی، پُونا میں ‘تُکارام’ کو چلے پچیس ہفتے پورے ہو رہے تھے۔ تب ‘تُکارام’ کے سلور جوبلی فیسٹول اشتہار میں بطور ڈائریکٹر کے داملے جی اور فتے لال جی کے فوٹو چھپوانے کا انتظام میں نے کرا دیا۔ میری پکی رائےتھی کہ فلم کے اشتہار میں ڈائریکٹر کا صرف نام اور کلاکاروں کے فوٹو ہونے چاہیئں۔ اسی لیے میری ڈائریکٹ کی گئی کسی بھی فلم کے اشتہار میں اپنی فوٹو بطور ڈائریکٹر کے دینا میں برابر ٹالتا آیا تھا۔ لیکن اس سمے میں نے اپنی رائےکو چُھپایا۔ کارن یہ تھا کہ داملے جی، فتے لال جی کو ‘تُکارام’ بنانے کی inspiration میں نے دی تھی۔ اس میں میرا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ان کے ناموں کا بھی اچھا پرچار ہو اور میرے لیے ان کے دل میں کہیں حسد یا جلن ہو، تو دور ہو جائے۔

بمبئی کے سینٹرل سینما میں ‘تُکارام’ فلم نے آج تک کی ریلیز ہوئی سبھی فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ سینٹرل سینما میں تو وہ پورے ستاون ہفتے تک چلتی رہی۔

‘تُکارام’ کی اس بے مثال کامیابی کی خوشی داملے جی، فتے لال جی کی نسبت مجھے ہی زیادہ ہوئی۔ ‘تُکارام’ کے پچاسویں ہفتے کے سمے بابوراؤ پینڈھارکر میرے یہاں آئے اور خود کہنے لگے، “آپ نے شرط جیت لی۔ کمال کاحوصلہ اور خود اعتمادی ہے آپ میں۔ بھئی مان گئے۔ آپ کومبارک باد دوں تو کیسے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔”

لگ بھگ اسی سمے ‘امر جیوتی’ فلم وینس میں انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے لیے بھیجی گئی تھی، اس طرح کی انٹرنیشل فلم ریلیز میں بھیجی گئی وہ پہلی بھارتی فلم تھی۔ وہاں اسے عزت ملی۔ Appreciation letter بھی ملا۔ بھارت میں بھی’ امر جیوتی’ کو ایک سے زیادہ مشہور اداروں کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے۔

اس کے بعد کے برس میں ‘تُکارام’ کو بھی وینس فلم فیسٹول کے لیے بھیجا گیا۔ اس کو بھی ‘آنریبل مینشن’ کا رتبہ حاصل ہوا۔ اس کا شمار معزز فلموں میں کیا گیا۔

اس بیچ ہم نے ایک اور فلم بنائی ‘وہاں’۔ ویدک زمانے میں آریاؤں اور غیرآریاؤں کےبیچ جدوجہد پر وہ مبنی تھی۔ آریہ لوگ بھارت میں فاتح ویروں کی طرح آئے اور بھارت کے مقامی غیر آریوں کے ساتھ انہوں نے غلاموں جیسا برتاؤ کیا۔ اُس وجودیت کی جدوجہد پر مکمل کہانی تخلیق کی گئی تھی۔ باصلاحیت فتے لال جی کو نیا موضوع مل گیا۔ انہوں نے اس زمانے کے معقول کاسٹیوم، کپڑے لتے وغیرہ بنوا لیے۔ مین کریکٹر کے لیے ‘پربھات’ میں نووارد اداکارا الہاس کو چُنا گیا۔ الہاس بہت ہی سڈول اور پُرکشش شخصیت تھا۔ڈائریکٹر تھے، کے۔ نارائن کالے۔

اصل میں کے۔ نارائن کالے کا فرق ایک نقاد کا تھا۔ وہ لیکھک اور اداکار بھی تھے۔ لیکن ان کے اندر کا نقاد فلم میں بھی انہیں ہربات میں بال کی کھال نکالنے میں مدد کرتا تھا۔ ایک دن الہاس کے کسی سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اوپر کی گیلری میں کھڑے ہو کر میں بھی شوٹنگ دیکھ رہا تھا۔ کے۔ نارائن کالے الہاس سے کہہ رہے تھے، “دیکھو الہاس، اس سین میں تمہیں پچاس فیصد دکھ اور پچاس فیصد غصےکی اداکاری کرنی ہے، سمجھے؟”

الہاس بالکل ہی نیا تھا۔ اس نے سڑی بولی میں کالے جی سے کہہ دیا،” آپ کا یہ پچاس فیصد کا حساب اپنی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ آخر مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انّا صاحب بتاتے ہیں، اسی ڈھنگ سے بتائیے۔”

کالے ویسے تُنک مزاج ہی آدمی تھے۔ وہ ماتھا ٹھوکتے ہوے پاس رکھی ایک کرسی پر دھم سے بیٹھ گئے۔ الہاس بھی بیچارہ چکرا گیا۔ کام رُک گیا۔ میں فوراً نیچے آیا۔ الہاس کو سارا سین ٹھیک سے سمجھا کر بتایا، اسے اچھے موڈ میں لایا۔ کالے جی بھی تھوڑے موڈ میں آ گئے۔ شاٹ پورا ہوا۔ وہ ٹھیک ویسے ہی آیا تھا جیسا کہ کالے جی چاہ رہے تھے۔

شام کو میں نے کالے جی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہنستے ہنستے کہا، “کالے جی، آپ کی وہ پرسینٹیج والی ڈائریکشن مہربانی کر کے بند کیجئے بھئی۔ آدمی کے احساسات کی بھی کیا کبھی پرسینٹیج ہوتی ہے؟ میرے خیال سے تو آپ کلاکاروں کو سین میں موجود احساسات کا معنی سمجھا کر بتا دیں اور باقی سب کچھ کلاکاروں پر چھوڑ دیں، تو اچھا رہے گا۔ کبھی کبھار ضرورت پڑ جائے تو آپ انہیں خود اداکاری کر کے دکھا دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے کلاکاروں سے جیسی چاہیں اداکاری کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں جھوٹی ترغیب دیجیے۔ آپ توجانتے ہیں میں کتنا غصیل آدمی ہوں، لیکن آپ نے مجھے سیٹ پر کبھی کسی پر غصہ کرتے دیکھا ہے؟”

“انّا، یہ سب تار پر چلنے کی کسرت کرنا آپ ہی جانتے ہیں۔”

“اجی، آپ بھی کر لیں گے۔ کوشش کر کے تو دیکھیے نا؟”

“ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کوشش کر کے!” کالے جی نے ہنستے ہنستےکہا۔

وہ فلم تھی تو اچھی، لیکن ناظرین کو وہ خاص پسند نہیں آئی۔ کالے جی نے اس فلم کو جو ٹریٹمینٹ دیا وہ کچھ ذہین تھا۔ پھر بھی اس فلم نے ہمیں پیسہ کافی دیا۔

فلمی دنیا میں ہمیں لگاتار کامیابیاں ملتی گئیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ اس دنیا کے کچھ ذلیل دماغ والے لوگ ہماری فلم کے بارے میں کہنے لگے کہ، “پربھات کی فلم تو اس میں استعمال میں لائےجانے والے عالیشان سین کے کارن ہی چلتی ہیں، ویسے باقی ان میں ہوتا ہی کیا ہے!” لہذا اس بار میں نے اس چنوتی کو قبول کرنا طے کیا ۔ من ہی من ٹھان لیا کہ آئندہ فلم کا موضوع ایسا چنوں گا کہ اس میں عالیشان سین، پُرکشش کاسٹیوم وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی!

نئی کہانی کے بارے میں سوچنے لگا، کئی دنوں سے من میں محفوظ لیکن پورا نہ ہو پایا ایک سپنا تھا کہ ایک خالصتاً سماجی فلم بناؤں۔ اسے اب پورا کرنےکا فیصلہ کیا۔ میری شوقیہ خواہش تھی کہ کہانی ایسی ہو جو مڈل کلاس لوگوں کےجیون کو چُھو لے اور اس میں کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے جو دیکھنے والے ہر شخص کو اس کی اپنی مشکل معلوم ہو۔ کے۔ نارائن کالے نے سجھاؤ دیا کہ نارائن ہری آپٹے کے ناول ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) پر آئندہ فلم بنائی جائے۔ سن کر میں ایک دم اُچھل پڑا۔ اس ناول کی کہانی مجھ پر برسوں سے حاوی تھی۔

میں نے اس ناول کے لیکھک کو پُونا بلا لیا۔ ناول کے کاپی رائٹس کے بارے میں لین دین کا سودا پورا کیا۔ سکرین پلے میں ناول کی کن کن باتوں کو میں چھوڑنے والا ہوں، اس کی انہیں معلومات دیں۔ کسی زمانے میں سماج میں کھلبلی مچا دینے والے اپنے اس ناول پر اب فلم بننےجارہی ہے، اس کی خوشی میں ہی وہ اپنے گاؤں لوٹ گئے۔ اس ناول پر ایک تجرباتی فلم بنانا میں نے طے کیا۔ سکرین پلےکو زیادہ سے زیادہ پُراثر کیسے بنایا جائے، اسی وِچار میں مَیں تھا کہ ایک غیرمتوقع خبر کےکارن ہم سبھی ہکے بکے رہ گئے۔ کیشوراؤ دھایبر نے ہم سب کے نام ایک نوٹس بھیجا تھا کہ انہیں ‘پربھات’ کی حصہ داری سے آزاد کیا جائے۔

کیشوراؤ دھایبر ویسے تھے تو بہت ہی محنتی۔ لیکن خود مختار روپ سے فلم بنانا ان کی اوقات کے باہر کی بات تھی۔ وہ تو میری درخواست تھی کہ وہ پربھات کےحصے داربنیں۔ لہذاحصہ داری چھوڑنے کے ان کے نوٹس کو پڑھ کر مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ کمپنی چھوڑ کر باہر جانے میں انہی کا نقصان کتنا ہے، یہ میں نے انہیں کافی واضح روپ سے سمجھایا تھا۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ پھر یہ بات بھی میں نے ان کے دھیان میں لائی کہ پارٹنرشپ لیٹر کے اصولوں کے مطابق کوئی حصہ دار ‘پربھات’ چھوڑ کر جا نہیں سکتا۔ لیکن اپنی ضد پر اڑے تھے۔ آخر مجبور ہو کر انہیں کانٹریکٹ سے آزاد کرنا ہی پڑا۔

لگ بھگ اسی سمے ہمارے ہمدرد نارائن ہری آپٹے کا مجھے ایک پتر ملا۔ پتر اس طرح تھا:

تاریخ: 21-1-1937
مسٹر شانتارام بابو کی خدمت میں، پیار بھرا نمسکار۔ اِدھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُدھر آپ بھی ٹھیک ہوں گے۔ ایسی خواہش کرتا ہوں۔

کسی اہم وجہ سے یہ خط نہیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن لکھے بِنا رہا نہیں جا رہا تھا، اس لیے لکھ رہا ہوں۔ شری کیشوراؤ دھایبر کمپنی چھوڑ کر جانے والے ہیں، اس کا اشارہ مجھے پہلے ہی مل چکا تھا۔ لیکن بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ کسی جھمیلے کے بارے میں چرچا نہ کرنا میرا دستور رہا ہے، اور نہ ہی ایسے معاملوں میں اپنی ناک گُھساتا ہوں، جس سے کچھ بھی تعلق نہ ہو۔ اِس دستور کو میں نے ہر جگہ نبھایا ہے۔ ‘پربھات’ میں بھی اِسے توڑا نہیں ہے۔

لیکن اخباروں میں جب اس خبر کی چرچا پڑھی، من کو دکھ ہوا۔ دوسری کسی بات میں من لگانا ناممکن ہو گیا۔ سوچا، یہ کیا سے کیا ہو گیا ہے! آپسی میل جول کو برابر بنائے رکھنا ہم ہندو لوگوں کو کیا آتا ہی نہیں؟ ‘پربھات’ کےلگ بھگ سبھی اہم لوگوں سے میرا تعلق رہا ہے۔ آپ سےخاص رہا۔ آپ کےسوبھاؤ کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی اس بات سے کافی دکھ ضرور ہی ہو رہا ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہادر اور فرض شناس شخص دل توڑنے والے واقعات پر آنسو نہیں بہاتے۔ لیکن میرا اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس کے کومل احساسات ختم نہیں ہوتے، بلکہ اوروں کی نسبت زیادہ سلجھے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی باتوں سے من ہی من دکھی ہوے بنا نہیں رہتا۔ اسی لیے کیشوراؤ کے اس خیال پر کافی افسوس ہو رہا ہے۔

اب مجھے بیتی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ سن ١٩٣٢ء میں آپ نے مجھے ‘امرت منتھن’ کے لیے بلایا تھا۔ خط لکھا تو آپ نے تھا۔ لیکن اس کا جواب کیشوراؤ دھایبر کے نام منگوایا تھا ۔یعنی آپ کیشوراؤ کو بڑا پن عطا کرنا چاہ رہے تھے۔ آگے چل کر بھی کئی بار میں نے دیکھا کہ کہانی کی چرچا ہو، مکالمہ لکھنا یا سننا ہو، ہر موقع پر آپ نے کیشوراؤ کے ساتھ بڑے بھائی کا سا برتاؤ کیا اور انہیں برابر عزت دی۔ ہر بات میں آپ ان کی عزت کرتے تھے۔ آپ کی شرافت سے میں پہلے سے ہی واقف تھا، لیکن آپ کی سمجھداری اور زندہ دلی ایسے موقعوں پر میں نے پہلی بار محسوس کی۔ میں کتنا خوش تھا، بیان نہیں کر سکتا۔ تب سے میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا آیا ھوں کہ ‘پربھات’ مہاراشٹر کا ایک آدرشی ادارہ ہے۔ شہرت اور شان و شوکت دن دوگنی رات چوگنی بڑھنے والی ہے۔ اس بات کے لیے میں من ہی من آپ پانچوں (حصے داروں) کو دعا بھی دیتا رہا ہوں۔ لیکن اچنبھا اس بات کا ہےکہ سن ١٩٣٥ء میں یہ سارا منظر بدل گیا۔ ‘راجپوت رمنی’ کی کہانی میں نےجیسے تیسے لکھ تو دی، لیکن من کا اطمینان جاتا رہا۔ اُس سمے بھی میں نے آپ کو لکھا ہی تھا۔

تبھی سے مجھے لگ رہا تھا کہ ‘پربھات’ میں ‘کالی’ گُھسا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ خیر! کرم گتی ٹارے ناہیں ٹرے ( قسمت میں لکھی کو کون ٹال سکتا ہے)۔ بےکار افسوس کرنے سے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن من ہی تو ہے، بے چین ہو ہی جاتا ہے۔

اور ایک بات من میں آ گئی ہے، اسے بھی لکھ ہی دیتا ہوں۔ تب میں ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) کے لیے آیا تھا۔ دوسرے دن فتے لال جی کے گھر دعوت تھی۔ ہم لوگ چرچا پوری کر نیچے آئے تھے۔ کار آنے والی تھی۔ سامنے والی بینچ پر سیتارام بابو، داملے ماما، صاحب ماما بیٹھے تھے۔ میں کار میں بیٹھا اور آپ ان تینوں کے پاس گئے۔ تبھی من میں خیال آیا کہ ارے، کیشوراؤ کہاں ہیں؟ اور تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ سوچا —’کیا خوب!’ کیشو کا ہیرا جڑاؤ سے کیسے گِر گیا۔ میں کچھ تو ضرور جانتا ہوں۔ اس میں کہیں نہ کہیں ایک ناری ہے! کبھی فرگیوسن کالج میں بحث چھڑی تھی کہ کیا عورت مرد کی راہ میں روڑا ہے؟ کیشو راؤ کے کریکٹر کو دیکھتے ہوے کہنا پڑے گا کہ عورت نہ صرف مرد کی ترقی کی راہ میں روڑا ہے، بلکہ اُسے جَل سمادھی (water grave) دلانے والی ایک خوفناک چٹان ہے! مرد عام طور پر بہت قصور وار یا ہوس ناک نہیں ہوتا، لیکن ایک ناری کے چکر میں آنے پر وہ کتنا نادان بن سکتا ہے، اس کی کیا یہ جیتی جاگتی مثال نہیں؟ کیشوراؤ ایک دم گھناؤنے تو نہیں ہیں، استعفٰی دینے کے لائق بھی کہاں ہیں؟ لیکن کیا چمتکار ہوگیا دیکھیے، بےچارہ کام سے جاتا رہا! دنیاداری کی حالت کیا ہے، اور ایک یہ مہاشے ہیں کہ میٹھے بھوجن کی تھالی کو لات مار کر چلے جانے کی نادانی کر رہے ہیں!

کون کِسے کیا کہہ سکتا ہے! ہر ایک اپنا اپنا سوچنے پر قادر ہے۔ پھر بھی مجھے من ہی من ضرور لگتا ہے کہ کیشوراؤ اپنے ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی یہی کہےگا۔

سارا قصہ یاد آتے ہی بہت تکلیف ہوتی ہے۔

کل کیشوراؤ اپنی کوئی فلم بنانےکی کوشش کریں گے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں۔ بطور ایک لیکھک کے وہ مجھے مدعو کریں گے اور دھندھے کی بات مان کر میں اسے شاید قبول بھی کر لوں گا۔ لیکن من کبھی خوشی محسوس نہیں کرے گا!

جو من میں آیا، صرف اپنے پن کے احساس سے آپ کو لکھ دیا۔ اس سمے آپ شاید کافی دوڑ بھاگ میں ہوں گے۔ اس میں ایک اور پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہ رہا تھا، لیکن لکھے بِنا رہا بھی تو نہیں جا رہا۔

یہاں لگتا ہے ایک خطرے کی اطلاع آپ کو دے ہی دوں۔

مجھے پکا شُبہ ہے کہ پربھات کمپنی کے بارے میں، اس کی فلموں کے بارے میں جو بھی بھونڈا مذاق یا تنقید کی جاتی ہے، زیادہ تر کمپنی کا نمک کھانے والوں میں سے ہی کسی کے دماغ کی اپج ہوتی ہے۔ میں کسی کا نام لینا نہیں چاہتا، لیکن کئی بار تو اپنی آستین میں ہی سانپ ہوتا ہے۔ ہر گروہ میں کالی بکری ضرور ہوتی ہے۔ کانا پُھوسی کرنا، اِدھر کی اُدھر لگا دینا، ہر بار اپنی ہی اہمیت بڑھانے کا جتن کرنا، فائدے کی ہی فکر کرنا، منہ دکھاوے کی میٹھی باتیں کرنا، گھر میں لالے پڑتے ہیں لیکن باہر بڑی پوشیدگی بگھارنا وغیرہ، حرکتوں سے باز نہ آنے والا کوئی نہ کوئی آپ کے آس پاس ضرور رہتا ہے۔ وہی آپ کی مذمت کے رخنے ڈالتا رہتا ہے۔ لہذا خبردار ہوں، احتیاط سے رہیےگا اور ہرآدمی کو اس کی اہلیت کے لائق جگہ پر ہی رکھیےگا۔ یہ میں نے آپ کو ہدایت دینے کے لیے نہیں لکھا ہے، نہ ہی کسی کی چغلی کھانے کے لیے۔ صرف آپسی محبت کےکارن ہی صاف لکھا ہے۔ آپ کی ‘پربھات’ کی ہمیشہ جیت ہو، یہی د لی خواہش کرتا ہوں۔ مہربانی کر کے اس پتر کو اپنے لیٹربکس میں نہ رکھیں۔ ضرورت ہو تو۔۔۔ منع تو نہیں کرتا، لیکن!

مخلص

ن۔ہ۔آپٹے

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

 

[divider]باب 16: ڈائریکشن داؤ پر[/divider]

 

“اپنی اس فلم کو ‘مہاتما’ نام دےکر مہاتما گاندھی کے نام کا کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا ہے!” مشہور لکھاری اور بیرسٹر کنہیالال منشی نے جلتا ہوا طعنہ مارتے ہوئے کہا۔

‘مہاتما’ فلم کو سنسر کی قینچی سے صحیح سلامت آزاد کیا جائےاورسنسر بورڈ کی طرف سے ہم لوگوں کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی ہے اسے دور کیا جائے، ایسی مانگ کرنے کے لیے میں ان سے ملنے گیا تھا۔ لیکن پہلی سلامی میں ہی انہوں نے مجھے پورا چِت کر دیا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ پھر بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے کہا، “مہان کام کرنے والے سبھی قدیم اورجدید آتماؤں (لیڈروں) کو مہاتما خطاب دیا جا سکتا ہے۔ ویسا ان کا حق بھی ہوتا ہے۔ تین سو برس قبل مہاراشٹر میں چھوت چھات کے خاتمے کا کام کرنے والے سنت ایکناتھ کو ہم نے مہاتما کہا تو کون سا غلط کام کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کے سوا اور کسی کو مہاتما نہیں کہنا چاہیے؟”

میری یہ ایک دم تیکھی بات شاید منشی جی کو پسند نہیں آئی۔ ‘مہاتما’ فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بہت بےچین ہو گیا۔ کبھی لگتا کہ اتنی لگن سے بنائی ہوئی یہ فلم، اس میں کاٹ پیٹ کرنے کے بجاے ویسے ہی ڈبے میں بند کر رکھ دوں۔ لیکن سبھی نقطۂ نظر سے وِچار کرنے پر آخر سوچا کہ بال گندھرو جیسے کلاکار نے صرف قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا قبول کیا ہے، تو کیا میرے اس فیصلے سے ان کا مقصد ناکام نہیں ہو جائے گا؟ سنت ایکناتھ یا چھوت چھات جیسے متنازعہ موضوع کا انتخاب ہم نے کیا تھا۔ فلم کے موضوع اور اس کے بنانے کے بارے میں بال گندھرو نے مجھ پر پورا بھروسا کیا تھا۔ ایکناتھ کی اداکاری بھی انھوں نے من لگا کر کی تھی۔ ایسی حالت میں غصے میں ہوش کھو کر میں ‘مہاتما’ کو ریلیز کرنا منسوخ کر دیتا ہوں تو معاشی کٹھنائیوں میں گھِرے اس مہان اداکار کے لیے کیا یہ بھروسا توڑنا نہیں ہو گا؟

من مسوس کر میں نے بابوراؤ پینڈھارکر کو فون کیا اور بتایا،”اس عقل مند اور مذہبی سنسر کے بچے کی مرضی کے مطابق ‘مہاتما’ میں جو بھی کانٹ چھانٹ کرنی ہو، کر لیجیے اور کسی طرح اسے پاس کروا لیجیے۔ لیکن اسے یہ بھی صاف صاف بتا دیجیے کہ ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے جاتے ہیں، اس سین کو جوں کا توں رکھنا ہی پڑے گا۔ وہ ایک تاریخی سچ ہے اور اس کو سنسر بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی طرف سے پورے زور سے کہیے گا اور پھر بھی وہ نہیں مانتے ہیں تو انھیں دھمکی دیجیے گا کہ شانتارام نے کہا ہے کہ اس سین کو آپ نے ذرا بھی چھوا تو میں خود بمبئی آ کرعام جلسہ کروں گا، اخباروں میں آواز اٹھاؤں گا اوراس معاملے کے خلاف عوامی تحریک چھیڑوں گا۔ آپ لوگ مجھے گرفتارکرا لو گے تو بھی پرواہ نہیں۔”

بمبئی میں ‘مہاتما’ ریلیز تو ہوئی، لیکن اس کا نام ‘دھرماتما’ کر دیا گیا۔ سماج بدلنے والوں اورناظرین نے اسے بہت پراثر اور چھو لینے والی فلم کے روپ میں عزت دی۔ اس کے بعد یہی فلم بمبئی صوبے سے باہر پہلے والے ‘مہاتما’ کے ہی نام سے ریلیز کی گئی اور مزے کی بات تو یہ رہی کہ اس کا ایک بھی سین نہ تو سنسر نے کاٹا، نہ ہی کسی سین کو انھوں نے چھوا۔ ان دنوں بھارت میں مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سنسر بورڈ تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں جنمے ایک مہان سماج سُدھارک سنت کے جیون پربنی فلم پر مہاراشٹر کے ہی سنسر بورڈ کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور ہریجن سیوک مہاتما گاندھی کے پیروکار کہلانے والے لوگوں کے کنٹرول میں چل رہی ممبئی سرکار نے اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی!

کچھ مذہبی لوگوں کی مخالفت کے باوجود یہ فلم مہاراشٹر میں بہت ہی اچھی چلی۔ یہی نہیں، پنجاب، کلکتہ، مدراس وغیرہ صوبوں میں بھی ناظرین نے اس کو کافی سراہا۔ ‘مہاتما’ کا سارا خرچ وصول ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگی۔ بعد میں سارا منافع ہی منافع رہا۔ معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو آدھا منافع دے دیا گیا۔ کامیابی سے وہ قرض سے آزاد ہو گئے اور ہمیں بھی اطمینان ملا کہ ہم نے اپنی ایک اخلاقی ذمےداری کو پورا کر دیا۔

معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو اہم کردار دے کر ہم نے ایک اور فلم بنانے کا وِچار کیا۔ ان کی بےانتہا نرم فطرت کے لائق کسی کہانی کی میں کھوج کرنے لگا۔ فتےلال جی کا کہنا تھا کہ بال گندھرو کے لیے کسی اور سنت کے جیون پر ہی اور ایک فلم بنائی جائے۔ سنتوں کے جذبات کو وہ نہایت خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فتے لال جی کی بات سے میں بھی اتفاق کرتا تھا۔ سنت تُکارام کے جیون پر مبنی فلم بنائی جائے اور اس میں تُکارام کا کردار بال گندھرو کو دیا جائے، ایسا میں سوچنے لگا۔

لیکن تبھی ایک دن بال گندھرو میرے پاس آئے اور کہنے لگے، “انّا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں رہا زنانہ کردار کرنے والا اداکار، لہذا مردانہ کردار میں دیکھ کر انھیں بہت اَٹ پٹا سا لگا۔ کم سے کم اب اگلی فلم میں مجھےعورت کا کرداردیا جائے، ایسا ان تمام محبت کرنے والوں کی درخواست ہے۔”

بال گندھرو کی یہ بات سن کر میں تو ٹھنڈا پڑ گیا۔ سمجھ نہیں پایا کہ ان کے کان بھرنے والے ان کے نام نہاد بھکتوں کی اس عقل پر ہنسوں یا ترس کھاؤں! فلم کے ذریعے سے کلاکار کی مورتی کئی گنا بڑی ہوکر پردے پر تصویر ہوا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کلاکار کتنا ہی بہترین ہو، ایک عورت جیسی جذباتی اداکاری کرنے کی وہ کتنی ہی کوشش کرے، ایک عورت جیسا دکھائی دینا اس کے لیے ناممکن ہی ہے۔ مجھے تو بال گندھرو کا یہ خیال قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ “آپ اپنے مشیروں کے کہنے میں نہ آئیے۔ اسٹیج اور فلم میں بہت فرق ہے۔ فلم میں آپ کا زنانہ پارٹ اچھا نہیں دکھائی دے گا۔ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے۔”

میری صاف گوئی بال گندھرو کو راس نہیں آئی۔ بگڑ کر بولے، “بھگون، اپنے مِتروں کی رائے سے میں بھی متفق ہوں۔ آپ اگلی فلم میں مجھے زنانہ کردار دینے کے قابل نہیں ہیں تو اچھا ہو کہ آپ مجھے دوسری فلم کے معاہدے سے آزاد کر دیں۔”

اپنے ساتھیوں سے اس موضوع پر بحث کر، میں نے بال گندھرو کو ہمارے معاہدے سے آزاد کر دیا۔ بعد میں کانوں کان خبر ملی کہ کولہاپور کے رائل ٹاکیز کے مالک نے بال گندھرو کو زنانہ کردار دے کر ایک مقبول ناٹک پر مبنی فلم بنا لی ہے۔ سب سے حیرت اور دھکا اس بات سے لگا کہ ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ طریقہ کار میں کیسی irony تھی کہ جس بابوراؤ پینٹر نے سن ١٩١٨ء میں اپنی پہلی فلم ‘سیرندھری’ میں عورتوں کا کام عورتوں سے ہی کرایا تھا، وہی فنکار آج ایک مرد کو زنانہ کردار دینے کا سیدھا سادہ غیرفنکارانہ کام کر بیٹھا تھا! مجھے اس پر کافی رنج ہوا۔

بال گندھرو اور بابوراؤ پینٹر جیسے دو دو کلاکاروں کے اکٹھ سے بنائی گئی وہ فلم لوگوں کو قطعی نہیں بھائی اور بری طرح فیل ہو گئی۔

’امرت منتھن’ اور ‘دھرماتما’ فلم کو ملی بھاری کامیابی کے کارن ‘پربھات’ کے ساتھ ہی میرے نام کا بھی ڈنکا بجنے لگا تھا۔ ناظرین مجھے ترقی پسند ڈائرکٹر کے طور پر پہچاننے لگے تھے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے لین دین کا سارا کاروبار میں ہی دیکھا کرتا تھا۔ کمپنی میں کاروبار کی خاطر آنے والے سبھی کلاکار، لیکھک، غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے میرے دیگر ساتھیوں کے پاس نہ جا کر سیدھے میرے ہی پاس آتے تھے۔ میں اپنے سبھی ساتھیوں سے اُن وزیٹرز، جینٹلمینوں کا تعارف کرا دینے سے کبھی نہیں چُوکتا تھا۔ اس بات کے لیے میں بہت ہی احتیاط برتتا کہ ساتھیوں کو کسی بھی صورت میں حقارت محسوس نہ ہو۔ لیکن کئی بار وہ خود ہی پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ میری مقبولیت اپنے ساتھیوں کو شاید کہیں نہ کہیں چبھنے لگی ہے، اس کو میں کبھی کبھار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے پیچھے شاید وہ لوگ اس پر بات بھی کرنے لگے تھے: “جسے بھی دیکھو، سیدھا شانتارام بابو کے پاس ہی جاتا ہے۔ اور بابو بھی ہم سب کو ٹال کر اپنی ہی اہمیت بڑھانے کے جذبے سے پیش آتے ہیں۔ فلم کا موضوع، کرداروں کا انتخاب وغیرہ ساری باتیں وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی کیوں، شوٹنگ کے سمے کیمرا کہاں رکھنا ہے، شاٹ کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں بھی وہ ہدایات دیتے ہیں۔” فتے لال جی نے یہ سب باتیں مجھے سنائی تھیں۔

ایک دن جب ہم سب لوگ فرصت میں اکٹھے ہو گئے تھے، تب یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں نے اسی موضوع کو اٹھایا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، خود آگے ہو کر میں اپنی مشہوری کبھی نہیں کیا کرتا۔ اخبار میں دیے جانے والے اشتہاروں میں بھی بطور ڈائرکٹر اپنی فوٹو چھاپنے کو میں نے ہی منع کر رکھا ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی بول لیتا ہوں، اس لیے ہمارے کاروبار سے جُڑے غیرملکی یا دوسرے صوبوں کے لوگ مجھ سے مل لیتے ہیں۔ کئی بار تو آپ ہی لوگ انہیں میرے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ کاروبار کی باتیں یا خط و کتابت آپ میں سے کوئی دیکھتا نہیں، اس لیے مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی اس کام کو اپنے ذمے لے لے۔ پھر فلم بنانے پر اپنا دھیان زیادہ فوکس کرنا میرے لیے ممکن ہو جائے گا۔”

میری ویسے تو بہت ہی سیدھی معلوم ہونے والی لیکن صاف باتیں سن کر سب لوگ چپ بیٹھے رہے، لیکن اس کام کی ذمےداری لینے کے لیے ایک بھی آگے نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے بات چھیڑی شوٹنگ کے سمے فوٹوگرافر کو میری طرف سے جانے والی ہدایات کی۔ میں نے ان سب سے بِنا ہچکچاہٹ کے پوچھا، “کیا آپ میں سےکوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیٹ پر کام کرتے، کسی سین کے لیے مجھے ضروری معلوم ہونے والے کون کس طرح کے ہوں، یہ بتاتے سمے میں آپ میں سے کسی کے بھی ساتھ سختی سے پیش آیا ہوں؟ یا آپ کو بےعزت کرنے کے لیے کبھی کچھ بولا ہوں؟” سب کا جواب ‘نہیں’ میں ہی آنا تھا، سو آ گیا۔ تب میں نے انہیں بتایا، “فلم کی شوٹنگ میں سیٹ پر سب سے اہم ڈائرکٹر ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کے دماغ میں فلم کے سبھی فارمولے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی ہدایات کے مطابق شوٹنگ ہو، تبھی فلم اچھی بن پائے گی۔”

اسی بیٹھک میں میں نے آگے چل کر تجویز رکھی کہ اگلی ڈائرکشن ہم میں سے کوئی اور شخص کرے۔ اس کے تحت کام کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی بھی ظاہر کر دی۔ سب کی رائے رہی کہ اگلی فلم کی ڈائرکشن دھایبرجی کریں۔ مجھے یہ فیصلہ بہت اچھا لگا۔

دوسرے دن فتےلال جی نے دھایبرجی کا ایک پیغام سنایا کہ، “میں جب ڈائرکشن کروں، شانتارام بابو سیٹ پر نہ آئیں، ان کی موجودگی میں میں سہما سہما سا محسوس کروں گا۔”

دھایبرجی کے اس پیغام کے کارن مجھے کچھ برا تو لگا، لیکن اپنے آپ کو جیسے تیسے سنبھال کر میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں سیٹ پر نہیں آؤں گا۔ اتنی ہی فرصت مل جائے گی، جب میں کافی کچھ پڑھ لوں گا۔ پھر اگلی فلم کی کہانی اور سکرین پلے بھی تو لکھنا ہے، وہی کر لوں گا۔”

اُن دنوں میں کافی بےچین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ سوچتا، آخر دھایبرجی نے مجھے ٹالا کیوں؟ اور دوسرے ساتھیوں نے بھی انہیں کی بات مان لی! کیوں؟ کیا میری صاف گوئی سے ان کے دل کو ٹھیس لگی؟ ہو سکتا ہے کہ میرے سوبھاؤ میں جو ہٹ دھرمی ہے، ایک طرح کا اتاؤلاپن ہے، کچھ تُنک مزاجی ہے، ایک بار کیے گئے فیصلے پر فوراً عمل کرنے کی جو فطرت ہے، پتا نہیں یہ خوبیاں ہیں یا خامیاں۔۔۔ انھیں کے کارن شاید ایسا ہو رہا ہو۔ مجھ سے کچھ ایسی باتیں ہو گئی ہوں، جن کے کارن میرے ساتھیوں کو ٹھیس لگی ہے۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر تو ویسا ہرگز نہیں کیا۔ اور مان لو کیا بھی ہو، تو سواے ‘پربھات’ کے لیے اندرونی لگاؤ کے، کوئی کارن ان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔ من میں خدشہ جاگا۔۔۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت ہم لوگوں نے جس آپسی حسد اور جلن کو دفنا کر ہی پربھات کی عمارت کھڑی کی تھی، وہی حسد اور جلن اب پھل پھول کا کھاد پانی پاتے ہی اُگ گئی ہے اور وہ پودا سر اٹھانے لگا ہے؟

اس خدشے کو دور کرنے کا ایک ہی حل تھا۔ ان سب لوگوں کو کافی مقبولیت ملنی چاہیئے۔ کیشوراؤ دھایبر ‘راجپوت رمنی’ بنا ہی رہے تھے۔ ان کی طرح داملے، فتےلال جی کو بھی کسی فلم کی ڈائرکشن سونپنی چاہیے۔ انھیں بھی ‘پربھات’ فلم ڈائرکٹرکے روپ میں عزت ملنی چاہیے۔

کچھ ہی دنوں میں ‘راجپوت رمنی’ ریلیز ہو گئی۔ لیکن وہ لوگوں کو راس نہیں آئی۔ دھایبرجی کی اس ناکامی کے کارن داملے اور فتےلال جی خودمختارروپ سے ڈائرکشن کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میں نے ہی زور دے کر کہا، “آپ کس بات سے ڈرتے ہیں؟ آپ کی خواہش ہو تو میں آپ کی مدد کروں گا۔”

میری اس یقین دہانی کے کارن انہیں کافی دھیرج بندھا۔ انھوں نے ڈائرکشن کی ذمےداری قبول کی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے موضوع کی تلاش کرنے لگے جو ان دونوں کو پسند آئے اور ان سے سنبھلے بھی۔

کبھی فتےلال جی نے ہی سُجھایا تھا کہ بال گندھرو کی اہم کردار والی دوسری فلم سنت تُکارام کے جیون پر بنائی جائے۔ لہذا میں نے وہی موضوع فلم کے لیے لینے کا سجھاؤ رکھا۔ ان دونوں نے میرا سجھاؤ ایک دم مان لیا۔ داملے جی کے مِتر شری شِورام واشیکر کو ہم نے فوراً ہی کمپنی میں بلا لیا۔ انھیں سنت تُکارام کا سکرین پلے لکھنے کو کہا۔

لگ بھگ اسی سمے میری آئندہ فلم کی کہانی پوری ہونے جا رہی تھی۔ عورت کو خودمختاری ملے، عورت اور مرد کا سماج میں برابری کا مقام ہو، اس وِچار کی زوردار حمایت کرنے والی ایک غیرمعمولی اور مزے کی کہانی اس بار میں نے چُنی تھی۔

وہ ١٩٣٥ء کا زمانہ تھا۔ کئی عورتیں ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل جیسے پیشوں میں اہلیت سے شرکت کر رہی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کملا نہرو جیسی عورتیں سیاست میں بھی دھڑلے سے حصہ لے رہی تھیں۔ پھربھی عورت کی لا محدود آزادی (Women’s Lib) کے خیالات ان دنوں سماج کے گلے اترنے والے نہیں تھے۔ ایسی صورت میں عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے کے انتہائی جدید اصول پر مبنی فلم کو کامیاب بنانا بہت ٹیڑھی کھیر تھا۔ اسی لیے میں نے پوری فلم کا پس منظر کسی خاص مقام اور وقت سے جڑے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی کہانی نہایت من گھڑت لگے، لیکن ہو میرعملی مقصد ثابت کرنے والی۔ یہ سوچ کر میں نے سمندری ڈاکوؤں کے دریائی جیون پرہی اس کہانی کی تخلیق کی۔ نتیجتاً منظرووں کی شوٹنگ کرتے وقت میں بھی اپنے کافی نئے خیالات کا استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مخصوص پس منظر اصلی معلوم ہو،اس لیے میں نے اس فلم کو صرف ہندی زبان میں ہی بنانا طے کیا۔

موضوع کی جدّت کے کارن فتےلال جی کی تخیلاتی طاقت کے پَر نکل آئے۔ مختلف منظروں کے سکیچیز میں ان کا ٹیلنٹ ایسا روپ لیتا کہ کئی بار میں بھی دنگ رہ جاتا تھا۔ عورت کی خودمختاری کے آدرش سے بھری ہیروئن سودامنی کا جوشیلا کام کرنے کے لیے بہت دنوں بعد پھر دُرگا کھوٹے کو مدعو کیا گیا۔ شانتا آپٹے اور واسنتی کو سودامنی کی اہم داسیوں کے رول دیے گئے۔

اس فلم میں تمام عورت جاتی سے نفرت کرنے والے وزیر کی ایک اثردار شخصیت تھی۔ چندرموہن سے کیے گئے معاہدے کی مدت بھی اب ختم ہونے کو تھی۔ کمپنی سے وداع ہونے سے پہلے ایک اچھا، زبردست کردار دینے کا وعدہ میں نے اسے کر رکھا تھا۔ اسی کے مطابق میں نے عورت سے نفرت کرنے والے لنگڑے وزیر کا کام اسے دیا۔ یہ کام بھی ویسے مشکل ہی تھا۔ بیساکھیاں لے کر میں نے اسے سکھایا کہ اس کام کو کس طرح کرنا چاہیے۔

سین تیار کیے جانے لگے۔ اداکاراؤں کے کپڑے وغیرہ سیے جانے لگے۔ دُرگا کھوٹے، شانتا آپٹے اور واسنتی کے لیے فتے لال جی نے پشاوری شلوار اور اوپر تنگ جیکٹ، ایسا مردانہ ٹھاٹ باٹ کا لیکن کافی مدہوش کرنے والا لباس بنوانے کے لیے کہا تھا۔

ایک دن شانتا آپٹے کی میک اپ میں مدد کرنے والی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی، “شانتا بائی نے نئے کپڑے پہن لیے ہیں اور دیکھنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ میں شانتا بائی کے کمرے میں گیا۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ میری آہٹ سنائی پڑتے ہی وہ پلٹی اور منہ پُھلا کر بولی، “دیکھیے نا، آپ کےدرزی نے یہ جیکٹ کیسی سی رکھی ہے!” اتنا کہہ کر اس نے اپنے ہاتھوں میں کس کر تھامے جیکٹ کے دونوں کنارے کھلے چھوڑ دیے، واقعی میں جیکٹ کی سلائی میں بہت ہی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ سامنے کے دونوں حصوں میں کافی فاصلہ رہ جاتا تھا۔ اس میں سے اس کے دونوں پستان صاف کھلے نظر آتے تھے۔ لیکن شانتا بائی میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈھٹائی سے میں حیران رہ گیا اور بولا، “آپ کی جو مددگار ہے، اُس کے ہاتھوں اس جیکٹ کو واپس سلائی ڈپارٹمنٹ میں بھجوا دیجیے اور درزی کو کہلوا بھیجیے کہ آپ کا ناپ ٹھیک سے لے اور اس کے مطابق جیکٹ کو پھر سی کر لائے۔” اور زیادہ کچھ کہے بنا ہی میں اس کمرے سے فورا باہر نکل آیا۔

دوسرے دن شانتا آپٹے میرے کمرے میں آئی اور چٹکی لیتے شوخی سے پوچھنے لگی، “آپ کل اتنے گھبرا کیوں گئے تھے؟”

کل ہوے اس واقعے کے کارن میں ابھی غصے میں ہی تھا، اس لیے میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی آپ بیتی کا رونا رونے لگی۔ اس کا بڑا بھائی اس کا سرپرست، رکھوالا، استاد، سب کچھ تھا۔ بالکل ہی معمولی بہانے پر وہ بات بات میں اسے بینتوں سے پیٹتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے کہتے اس نے ایک دم سہج انداز سے اپنی ساڑی اوپر اٹھائی اور اپنی کھلی جانگھ پرپڑے بینت کے کالے نیلے نشان مجھ کو دکھانے لگی۔

اتنی ملائم جگہ پر انگلی کی موٹائی کے مار کے نشان دیکھ کر میں بھی متاثر ہو گیا اور اس سے پوچھا، “آپ یہ سب برداشت کیوں کر لیتی ہیں؟”

مختلف نظر سے مجھے دیکھتے ہوے اس نے کہا، “کسی ممتا بھرے مرد کا سہارا مل گیا، تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”

اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔ یوں ہی کچھ گول مول سا جواب دیا، “اجی، نہیں نہیں! آپ کا بھائی آپ کی بھلائی کی خاطر ہی شاید دوڑدھوپ کرتا ہو گا۔ اس کے من میں کسی طرح کی دُوری نہیں ہو گی، یہ بھی تو ممکن ہے۔۔۔” اور کسی کام کے بہانے میں اسے آفس میں ہی چھوڑ کر باہر کھسک گیا۔

اس واقعے کے بعد میں شانتا آپٹے کے ساتھ ایک فاصلہ رکھ کر ہی پیش آتا۔ کام کے علاوہ الگ کہیں پر بھی اس سے ملاقات نہ ہو، اس کی احتیاط برتتا گیا۔ پھر بھی ‘میک اپ والے نے اچھا میک اپ نہیں کیا’ جیسے کئی بہانے بنا کر وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتی رہی۔

اسی طرح ایک دن اس کے بلا بھیجنے پر اس کے کمرے میں گیا تو یہ مہامایا صرف ایک کچھا پہنے ہی میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پاس ہی پڑا گاؤن اس کی کایا پر پھینک کر میں نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی، “شانتابائی، آئندہ آپ نے پھر کبھی ایسی حرکت کی تو ‘پربھات’ کے ساتھ آپ نےجو معاہدہ کیا ہے اس کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے میں آپ کو ہماری کسی فلم میں کوئی کام نہیں دوں گا۔”

میری ‘امرجیوتی’ فلم کی رچنا پوری ہو چکی تھی۔ اسی سمے شِورام واشیکر ‘سنت تُکارام’ کا سکرین پلے بھی پورا لکھ کر لے آئے۔ میں نے اس کہانی کو سنا۔ انھوں نے سنت فلموں کی عام دھارا کی طرح اس میں چمتکاروں پر کافی زور دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح کی چمتکاروں سے بھری سنت فلموں سے عوام اب اوب چکی تھی۔ میں نے واشیکرجی سے کہا کہ اس سکرین پلے کو وہ ایک اور رخ دیں اور تکارام کے جیون پر مبنی نئے سرے سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کریں جس میں تُکارام ایک آدمی کے روپ میں زیادہ ابھر کر سامنے آ سکیں۔ تکارام کی رحم دل شخصیت، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت وغیرہ خوبیوں کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے والی خاندانی محبت اور ممتابھرے منظروں کو لے کر ایک دل چھونے والی کہانی تُکارام کے جیون پر لکھنے کا میرا وچار بہت پہلے سے تھا۔

لہٰذا میں نے تُکارام کا کردار اور ان کے ابھنگوں (قدیم مراٹھی ادب میں گیتوں کی ایک صنف) کی داستان خرید لی۔ دن میں ‘امر جیوتی’ کی شوٹنگ کر لوٹنے کے بعد رات میں دو ایک بجے تک جاگ کر میں نے تُکارام کا جیون اوران کے ادبی ذخیرے کا مطالعہ کیا۔ واشیکرجی کو پھر بلا کر ان کے ساتھ اس پر کافی بحث کی۔ آہستہ آہستہ سیدھی سادی لیکن پراثرکہانی معلوم ہونے لگی۔

اس کے بعد سب سے اہم سوال آ کھڑا ہوا کہ تُکارام اور ان کی پتنی جِجاؤ کے کام کے لیے لائق شخص کہاں سے ڈھونڈے جائیں۔

کبھی ناٹک کہانیوں میں زنانہ کردار کرنے والے وِشنو پنت پاگنیس اب بمبئی میں کسی کیرتن منڈلی کے ساتھ بھجن گایا کرتے تھے۔ کسی سے سُن رکھا تھا کہ وہ بھجن بہت ہی رسیلے ڈھنگ سے گاتے ہیں۔ میں نے وِشنوپنت کو پُونا بلا لیا۔

یہ آدمی بھجن گاتے سمے اتنا مگن ہو جاتا تھا کہ سننے والوں کے احساسات بھی بھکتی رس میں شرابور ہو جاتے تھے۔ مجھے لگا، تُکارام کا کام کرنے کے لیے وِشنو پنت پاگنیس ہی سب سے اہل شخص ہیں۔ داملےجی اور فتےلال کی رائے اس کے الٹ تھی۔ انھوں نے وِشنو پنت کے ناٹکوں میں کیے گئے زنانہ کردار دیکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تُکارام کا مردانہ کرداران سے کرا لینا بہت مشکل کام ہو گا۔ چونکہ داملےجی اور فتےلال اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ان کی رائے کو مان کر ہم نے چند اور آدمیوں کو بھی پرکھا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی میری نظر میں اہل ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں وِشنو پنت پاگنیس کو ہی تُکارام کا کام دینے کی درخواست میں نے کی۔

تُکارام کی پتنی ٹھیٹھ دیہاتی تھی، اس لیے ہمارے آرٹسٹ ڈیپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کرنے والی اَن پڑھ تانی بائی کو اس کردار کے لیے ہم نے چنا۔ اوپر سے بہت ہی منھ پھٹ اورجھگڑالو، لیکن اندرسے بےحد ممتا بھری رنگیلی دیہاتی عورت کے کردار کے لیے وہ عام شکل و صورت والی دیہاتی عورت مجھے پوری طرح اہل معلوم ہوئی۔

اس فلم کا میوزک ڈائرکٹ کرنے کی ذمےداری کیشوراؤ بھولے کو سونپی گئی۔ اس فلم میں ایک سین کے معقول بولوں والے کسی ابھنگ کی مجھے تلاش تھی: تُکارام ایک کھیت میں رکھوالے کا کام کر رہا ہے۔ فصل کی رکھوالی کرتے سمے وہ ایک ابھنگ گاتا ہے۔ لیکن تُکارام کے بارے لکھی کہانی میں ہمیں اس ارادے کو پیش کرنے والا ایک بھی ابھنگ نہیں ملا۔ لہذا ہار کر میں نے ‘امرت منتھن’ کے سمے ہماری کمپنی میں آئے شاعر شانتارام آٹھولے سے اس سین کے لیے معقول ابھنگ کی تخلیق کرنے کو کہا۔ ان کے لکھے ابھنگ کے بول تھے:

آدھی بیج ایکلے۔
بیج انکرلے روپ واڑھلے
ایکا بیجاپوٹی ترو کوٹی کوٹی۔
پری انتی برہم ایکلے۔۔۔
(معنی: آغاز میں بیج اکیلا ہی ہوتا ہے۔ اس کے پودے پھوٹتے ہیں، پودے بڑھتے ہیں، لمبے لمبے درخت کی شکل لیتے ہیں، لیکن بیج ہوتا تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح مخلوقات عالم کو جاری و ساری کر مختلف روپ اختیار کرنے کے بعد بھی وہ پرماتما ایک ہی ہوتا ہے۔)

میں نے ابھنگ پڑھا اور فوراً کہہ دیا، “یہ گیت ایک دم مقبول ہو گا!”

وِشنو پنت پاگنیس نے اس کو آواز دی۔ ان کی طرف سے اس ابھنگ کو دی گئی دھن بڑی رسیلی تھی۔ میں نے سنتے ہی اسے قبول کر لیا۔ کیشوراؤ بھولے سے نہ بنوانے کے کارن وہ بہت زیادہ ناراض تو نہیں ہوئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بات انoیں بُری ضرور لگی۔

آگے چل کر ایسے ہی ایک سین پر آخری ابھنگ کی دھنیں کیشوراؤ بھولے اور وِشنوپنت پاگنیس دونوں نے الگ الگ دیں۔ داملے فتےلال طے نہیں کر پا رہے تھے کہ دونوں میں سے کس کی دھن زیادہ اچھی ہے۔ آخر انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا۔ میں نے دونوں دھنیں دھیان سے سن لیں۔ بھولے کی بنائی گئی دھن ویسے تھی تو اچھی، لیکن پاگنیس جی کی بنائی گئی دھن یقیناً ہی زیادہ اچھی تھی، مدھر بھی تھی۔ پھر بھی اپنے میوزک ڈائرکٹرکا وقار بنائے رکھنے کے خیال سے میں نے اپنی رائے کے خلاف فیصلہ دیا، “کیشوراؤ کی دھن اچھی ہے۔”

‘تُکارام’ کی بنیادی تیاری پوری ہو گئی۔ داملےجی اور فتےلال جی ‘تُکارام’ کی مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ اور اس بیچ کچھ دھیما پڑا اپنی ‘امر جیوتی’ فلم کا کام میں نے تیزی سے شروع کر دیا۔

‘امر جیوتی’ کی ہیروئن سودامنی عورت کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں کے عروج پر ہے۔ نہ صرف عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے، بلکہ مرد کو عورت کی غلامی میں باندھنے کا آدرش سامنے رکھ کر وہ اس کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا پسینہ بہاتی رہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سودامنی اپنے تمام زنانہ احساسات کو مار کر ایک طرح کی مصنوعی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ یہ سین کچھ تو غیرفطری اور کچھ نفسیاتی تھے۔ ان کی شوٹنگ کرتے سمے میں نے کئی شاٹس ایک دم غیرمعمولی طریقہ کار سے لیے۔ خصوصا کیمرے کے متنوع کونوں اور اس کی رفتار کا استعمال میں نے نفسیاتی ڈھنگ سے کیا۔

فلم کے دوران کسی کردار کا کوئی مکالمہ سہج نہ ہوتا تو کیمرا گھڑی کے ‘پینڈولم’ جیسا ٹیڑھا ہو جاتا۔ نتیجتاً پردے پر وہ شخص اپنے پاگل پن کا عکاس بن کر ناظرین کو ترچھا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے جیسے اس کے وِچار سلجھتے جاتے، پردے پر وہ شخص پھر سیدھا اور نارمل نظر آتا۔ آج اس طرح کے شاٹ لینے کے سسٹم کو ‘پینڈولم شاٹ’ یا ‘لنگر سین’ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا کامیاب استعمال میں نے سن ١٩٣٦ء میں کیا تھا۔ اس زمانے کے جانکار ناظرین نے اس سسٹم میں موجود ارادے کو دل سے سراہا تھا۔

فلم کے آخری سین میں مایوس سودامنی ایک جہاز پر سوار ہو کر ساگر میں کہیں دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جہاز کی پتوار سے ٹک کر کھڑی ہے۔ آنکھوں میں زمانے بھر کی ناامیدی ہے۔ سامنے ساگر کی لہریں ہلکورے لے رہی ہیں، چٹان پر جا کر ٹوٹ رہی ہیں، بکھر رہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر سودامنی کہتی ہے، “لہریں کتنی تیزی سے آ رہی ہیں۔۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔۔ آ رہی ہیں۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔ کیا یہی میری زندگی ہے؟”

اس کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھا اس کا فلسفی ساتھی شیکھر سودامنی سے کہتا ہے، “نہیں سودامنی، لہر آئی، پتھروں سے ٹکرائی، اترائی اور لوٹ گئی، یہ درست ہے۔ لیکن اس کے برابر آنے اور ٹکرانے سے پتھر ذراذرا گھستا ہوا ختم ہوئے بنا نہیں رہے گا۔”

“لیکن، یہ کام تو نہ جانے کتنے برسوں میں پورا ہو گا! پھر آدمی کو اپنے مقصد کی کامیابی پر کیسے اطمینان ہو گا؟ اس کی بےاطمینانی کیسے دور ہو گی؟”

“اس کی بےاطمینانی کا اطمینان اس کی لگاتار کوشش میں ہے۔ اجالے کو قائم رکھنے کے لیے دیے سے دیا جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم نے اپنا کام نندنی کو سونپ دیا ہے۔ اسی میں تمہارے جیون کی کامیابی ہے۔۔”

دامنی کے چہرے پر اطمینان کا احساس چمکنے لگتا ہے۔ کیمرا دھیرے دھیرے دور جاتا ہے۔ دامنی کے جسم سے ایک ننھی سی روشنی نکلتی ہے۔ وہ دوسرے دیپک کو جلاتی ہے اوربجھ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک روشنی سے دوسری روشن جلانے کی ایک لڑی ہی شروع ہو جاتی ہے، اس سین کے پس منظر میں ایک معمولی دھن میں گیت سنائی دیتا رہتا ہے:

کارج کی جیوتی سدا ہی جرے
اک جن جائے، دوجا آئے، پھر بھی جیوتی جرے
جیوتن کی اس لگاتارمیں
کرتا ہی وِہرے۔۔۔
(کاموں کی جیوتی سدا جلتی ہی ریتی ہے/ کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
ایک جاتا ہے دوسرا آجاتا ہے۔ دنیا کے کام دھندھے کبھی نہیں رکتے، کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔)

دیپک کی اس علامت کو دکھا کر ہی ‘امر جیوتی’ فلم شروع ہوتی ہے : پہلے ایک قدیم ڈھنگ کا دیپک کیمرے کی نظر میں آتا ہے، وہ دوسرے دیے کو روشن کرتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک دیگر دیپ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی روشنی سے ہی فلم کا نام ‘امر جیوتی’ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔

‘امر جیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام تیزی سے چل رہا تھا کہ ایک دن داملےجی اور فتےلال جی ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ وہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا، “پاگنیس اور تانی بائی سے ہم کافی دنوں سے ریہرسل کرا رہے ہیں، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ان دونوں سے اپنے اپنے کردار بن پائیں گے۔ اچھا ہو کہ آپ ایڈیٹنگ کا یہ کام کچھ دن کے لیے ملتوی رکھیں اور ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں آ کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ آپ چاہیں تو خود ریہرسل لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی طے کریں کہ ان دونوں کو یہ اہم کردار دینے ہیں یا نہیں۔”

میں نے ‘امرجیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام فوراً روک دیا اور پہلے ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں گیا۔ وِشنوپنت اور تانی بائی دونوں سے ریہرسل کرانا میں نے شروع کیا۔ داملےجی اور فتےلال جی کی بات صحیح تھی۔ ان دونوں سے کام برابر بن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو اداکاری کر کے دکھائی۔ وہ دونوں میرے بتائے مطابق اداکاری کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

ایک دن ریہرسل سے پہلے وِشنو پنت پاگنیس میرے کمرے میں آئے اور بڑی منتیں کرتے ہوئے کہنے لگے، “انّا، یہ کام مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔ آپ تکارام کے رول کے لیے کوئی اور آدمی کھوجیں۔”

پاگنیس ہار گئے تھے، لیکن میں نہیں ہارا تھا۔ ان کا حوصلہ بڑھانے اور پھر خوداعتمادی جگانے کے لیے میں نے جھوٹ کہہ دیا، “کل میں نے آپ کا کام دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اس کام کو ضرور ہی اچھی طرح کر لیں گے۔ آپ صرف ایک کام کریں، تُکارام کی چال ڈھال کی، چلنے پھرنے کی، اٹھنے بیٹھنے اور بولنے چالنے کی حرکت میں کر کے دکھاؤں، ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کریں۔”

میرے کہنے کے کارن ان میں ضرور ہی کہیں اعتماد جاگا ہو گا۔ دوسرے ہی دن سے وہ من لگا کر کام کرنے لگے۔

پہلے دن تو ان سے کام کچھ ٹھیک سے بن نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ان کا جوش بڑھانے کے لیے میں ہر روز کہتا، ’’آج آپ کا کام کل سے زیادہ اچھا بن پڑا ہے۔‘‘ انہیں اس طرح میں برابر ترغیب دیتا گیا۔

ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر ایک بار ناامید ہو کر پاگنیس نے کہا، “نہیں جی انّا، آپ جیسا کام مجھ سے نہیں بن سکتا!”

سچ کہا جائے تو میں بھی کچھ کچھ ناامید ہو چلا تھا۔ لیکن پاگنیس کی بہت ہی مدھر آواز، رسیلی گائیکی سٹائل اور اٹوٹ گائیکی میں جھلکنے والی شیرینی ان کے فریق کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔ میں نے پھر کمر کسی اور انہیں حقیقت میں اپنے آپ کو دھیرج دلاتے ہوئے کہا، “آپ تو بیکار ہی نا امید ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ کے کام میں ہر روز برابر ترقی دکھائی دے رہی ہے۔ چلیے آج میں آپ کو پھر اداکاری کر کے دکھاتا ہوں۔ باریکی سے دھیان دیجیے۔ اس پر غور کیجیے۔ رات میں ویسا ہی کر کے دیکھیے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں، کل آپ اس سین کو ایک دم مکمل ڈھنگ سے کرنے والے ہیں!”

دوسرا دن آیا۔ کل کر کے دکھائے گئے سین کی ریہرسل کرنے کا سمے آ گیا۔ پاگنیس اس سین میں ایک دم سو فیصد نہ سہی، لیکن اپنا کام کافی سدھے ڈھنگ سے کر رہے تھے۔ میں نے انہیں دلی شاباشی دی۔

شروع شروع میں تکارام کی پتنی کا کام کرتے سمے بوکھلا جانے والی تانی بائی کو بھی اداکاری سکھانے میں میں نے کافی محنت کی۔ مشق سے انھیں بھی اپنا کام اتنے سدھے ہوئے ڈھنگ سے کرنا آ گیا کہ ان کی جاندار ایکٹنگ سے کئی بار داملےجی اور فتےلال جی بھی دھنگ رہ گئے۔

تُکارام کی شوٹنگ شروع کرنے کے ایک دن پہلے پاگنیس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے، انّا، کل آپ شوٹنگ کے سمے موجود تو رہیں گے نا؟”میں نے کہا، “اجی وِشنوپنت، اب تو آپ کی اداکاری ایک دم سیدھی سی ہونے لگی ہے۔ پھر بھی آپ سے کس طرح کام کرا لینا چاہیے، داملےجی اور فتح لال جی کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے۔ اب شوٹنگ کے سمے آپ کو قطعی دقت آنے والی نہیں۔‘‘

“وہ تو سب ٹھیک ہی ہے، لیکن کم سے کم میرے کام کے سین کے سمے تو آپ ضرور ہی موجود رہا کیجیے گا۔ میرا کام اتنا ہی اچھا بن پڑے گا۔” یہ سوچ کر کہ داملےجی اور فتےلال جی کو میرا موجود رہنا ممکنہ طور پر پسند نہیں آئے گا، میں نے اس ذمےداری کو ٹالنا چاہا، لیکن پاگنیس جی کی درخواست کے سامنے میری ایک نہ چلی۔

ایک بار تو پاگنیس نے مجھے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا۔ ایک اہم سین کی شوٹنگ جاری تھی۔ کام کرتے سمے پاگنیس اچھی طرح کھو گئے تھے۔ میں نے ان سے کہا، “واہ، وِشنوپنت، بہت ہی کمال کر دیا آپ نے!”

اس پر وہ سہج انداز سے کہہ گئے، “انّا، آخر اس ناچیز کی ہستی ہی کیا ہے، آپ کے بنا؟ آپ نے سکھایا ویسا ہی میں نے کر دکھایا۔ آپ میرے گرو ہیں!” یہ کہہ کر پاگنیس نے میری حالت اور بھی مشکل بنا دی۔ بھگوان جانے اسے سن کر داملےجی اور فتےلال جی نے کیا کیا نہیں سوچا ہو گا! میں سیٹ پر پھر لمحہ بھر بھی نہیں ٹھہرا۔

‘امر جیوتی’ فلم بمبئی میں ریلیز ہوئی۔ شروع میں دیپ کی روشنی سے بننے والی فلم کے کریڈٹ نام والے کارڈ دیکھ کر ناظرین اتنے جذباتی ہو جاتے تھے کہ ‘ڈائرکشن وی شانتا رام’ کا رڈ دکھائی دیتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے سینما ہال گونج اٹھتا۔

اس فلم میں ماسٹر کرشن راؤ کا دیا گیا سنگیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ خاص کر شانتا آپٹے کے گائے گئے ‘سنو سنو اے ون کے پرانی’ (سنو اے بن کے باسی) گیت کے اسی ہزار فونوگراف ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس گیت نے گراموفون ریکارڈ کی بِکری کا ریکارڈ قائم کیا۔

چندرموہن کو کچھ برس قبل دیے گئے قول کے مطابق، اس فلم میں اس کی لنگڑے وِلن کے کردار کے کارن وہ پھر مقبولیت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ فلم ناقدین نے دُرگا کھوٹے کی بہت ہی سلجھی ہوئی ایکٹنگ کی بھی تعریف کی۔ ‘امرجیوتی’ دیکھنےکے بعد ناظرین اتنے جذباتی ہوجاتےتھےکہ میں تھیٹرمیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈ لیتے اور مجھے دلی مبارکباد دیتے۔ ساتھ ہی سبھی پوچھتے، “آپ کی اگلی فلم کون سی ہے؟”

ان سبھی انتہائی پُرجوش شائقین کو میں ایک ہی جواب دیتا، “اجی، ابھی ابھی تو اس فلم کی ذمےداری کا بوجھا ڈھو کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب ذرا کھلی ہوا میں سانس تو لینے دیجیے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے بارے میں اپنی خواہشات کا بوجھ آپ خوشی سے میرے سر پر ڈالیے گا!”

‘امر جیوتی’ کا ڈنکا سارے دیس میں بجنے لگا۔ ادھر پُونا میں تُکارام’ فلم کے ایک نہایت مدھر اور ممتابھرے فیملی سین کی شوٹنگ چالو تھی:

سورج ماتھے پر آ چکا ہے۔ تُکارام کی پتنی ان کے لیے دوپہر کا کھانا سر پر لیے پہاڑی چڑھ کر اس برگد کے پیڑ کے نیچے آ بیٹھتی ہے جہاں تُکارام بھگوان کا دھیان لگا کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تُکارام کچھ حیرت کے انداز سے پوچھتا ہے:

“تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں؟”

بھولی بھالی جِجاؤ شرما کر جواب دیتی ہے، “مردوں کو بھلا یہ باتیں کاہے کو سمجھ میں آویں؟ اس کے لیے تو انھیں بھی ہم جیسی عورت ہی بننا پڑے ہے!”

اس کے بعد وہ بڑے پیار سے تُکارام کو جوار کی روٹی کا سوکھا کھانا پروس کر کھانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس کا پیار دیکھ کر تُکارام گدگدا جاتا ہے اور کہتا ہے، “اسے کہتے ہیں نا سچا پیار! یہی ہے سچی بھکتی! اس بھکتی کے زور پر جیسے تم نے مجھے کھوج کر پا لیا، اسی طرح میں بھی اپنے پانڈورنگ (وِشنو کا ایک اوتار) کو کھوج کر پا سکوں گا!”

جِجاؤ پانڈورنگ کا نام سن کر جھنجھلا اٹھتی ہے اور ایک روٹی پروستی ہے۔ تُکارام روٹی کا پہلا ٹکڑا توڑتا ہے اور جِجاؤ کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی کافی درخواست کرتا ہے۔ وہ شرما کر ‘نا نا’ کہتی رہتی ہے۔ تُکارام روٹی کا نوالہ جِجاؤ کے منھ کے پاس لے جاتا ہے۔ جِجاؤ لجّا کے مارے گڑی جاتی ہے اور بہت ہی حیا کے انداز سے اس غیرآباد بَن میں آس پاس یہ دیکھ لیتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، اور بعد میں فوراً ہی تُکارام کے ہاتھ کا وہ نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔

تُکارام کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے کھاتے وہ کسی انوکھے جذبے کی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں اپنے سے ہی بڑبڑاتی ہے، “بہت میٹھا، بہت میٹھا لاگے ہے!”

اس کا وہ پیار دیکھ تکارام اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوا کہتا ہے، “واقعی یہ میرا اچھا نصیب ہے کہ تم نے مجھے ایسی پتنی دی، ہے پانڈورنگا!”

“پانڈیا نے دی؟ اجی وہ خوب دے گا! میرے باپو نے دی ہے تم کو۔ پانڈیا لاکھ کہے گا مجھے اپنی بیٹی۔ نام نہ لیجا اس موے کلموہے کا میرے سامنے۔۔ ” جِجاؤ ایک دم غصہ ہو کر بولنے لگتی ہے۔

تُکارام پوچھتا ہے، “جِجاؤ، کیا سچ مچ تم میرے وِٹّھل کی بھکتی نہیں کرتی ہو؟”

“دھت، وِٹھل ہوئے گا تمرا دیوتا۔ ہوئے گا تمرے واسطے بہت بڑا، پر میرا دیوتا تو تمرے وِٹھل سے بھی بڑا ہے گا۔”

“اچھا؟ نام کیا ہے تمھارے دیوتا کا؟”

“میرے دیوتا کا نام؟ (شرما کر غصے کی اداکاری کرتے ہوئے) اب روٹی کھاؤ بھی چپ چاپ۔ (تُکارام کو پیار سے دیکھتی ہے) میرا دیوتا اِہاں بیٹھو ہے گا میرے سامنے، روٹی کھا رہو ہے۔ تمرا دیوتا کھاتا ہے روٹی تمرے سنگ؟” تُکارام لاجواب ہو کر جِجاؤ کو دیکھتا رہتا ہے۔

’تکارام’ فلم کے بارے میں فتےلال جی کے گھرایک بار بحث چل رہی تھی اور میں اس سین میں پورا رنگ گیا تھا۔ اوپر لکھے لفظ بولتا جا رہا تھا اور واشیکر بیٹھے اسے لکھتے جا رہے تھے۔

شوٹنگ کے سمے اس جذباتی سین کا شاٹ داملے فتےلال سے ویسا نہیں بن پا رہا تھا جیسا کہ بننا چاہیے تھا۔ اس سین کے لیے ضروری مدھرتا اور سہج، سچے، اور نرمل پیار کی اداکاری وِشنو پنت اور گوری (تانی بائی کا فلمی نام) سے امید کے مطابق نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی کوشش کرنے کے باوجود یہ حال تھا۔ آخر داملے فتے لال کی خواہش کے مطابق میں نے اس شاٹ کی شوٹنگ کی۔ فلم کا یہی بنیادی نقطہ ثابت ہو گیا۔

‘تُکارام’ فلم کے ڈائرکٹر تھے تو داملے فتےلال، لیکن مجھ پر تو یہی دھن سوار ہو گئی تھی کہ یہ فلم میری اپنی ہے۔ اس لیے اس کے چھوٹے سے چھوٹے سین پر بھی میں باریکی سے دھیان دیتا تھا۔ اسی وچار سے ایک سے ایک نئے نئے خیالات سوجھتے تھے۔ ان سبھی خیالات کو میں کھلے طور پر داملےجی اور فتے لال کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ سب میں گہرے تعلق کے جذبے سے ہی کر رہا تھا۔
اس فلم کا ایک سین:

چھترپتی شواجی مہاراج وِٹّھل مندر میں تُکارام کے گائے جا رہے ابھنگوں کو سننے میں مگن ہو گئے ہیں۔ تبھی شِواجی کو پکڑنے کے لیے مسلمان سپاہی مندر پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ لیکن مندرمیں بیٹھا ہر شخص انھیں شِواجی معلوم ہوتا ہے۔ اس احساس کے کارن سپاہی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور ‘توبہ توبہ’ کہتے ہوئے گھبرا کر لوٹ جاتے ہیں۔ نام سنکیرتن کے رنگ میں رنگے شِواجی کا تحفظ اپنے وِٹھو رائے نے ہی کیا ہے، ایسا مان کر تُکارام کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اسی لطف میں وہ گانے ناچنے لگتا ہے:
“وانو کتی رے سدیا، وٹھورایا، دن وتسلا۔۔۔” (بھجن)

تُکارام کی یہ میٹھی خوشی موجود سارے لوگوں پر چھا جاتی ہے۔ دیوالئے (مندر) اسی خوشی میں شرابور ہو جاتا ہے، باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ اسی آنند کی انتہا ہوتی ہے۔ سچدانند، یونی پرماتما، وہ پرماتما (پرماتما کے نام ) وہ سانولا سلونا وِٹھورایا بھی اس لطف میں مجسم ظاہر ہو کر تُکارام کی گائیکی کی لَے اور تال پر ڈولنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ اس سرخوشی کے منظر کا یہ شاٹ اس سین کا کلائمکس تھا۔ لیکن سب لوگوں کے ساتھ وِٹھوبا بھی خوشی سے چُور ہوکر ناچے، یہ خیال داملے فتےلال کو پسند نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس سین کو اسی ڈھنگ سے فلمانے کی ضد کر لی۔ میں نے ایسا بھی کہہ دیا کہ ناظرین کو پسند نہ آیا تو اس شاٹ کو ہم لوگ بعد میں فلم سے نکال دیں گے۔ میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور اپنے بیٹے پربھات کمار کو، جو وِٹھوبا کی مورتی کے جیسا ہی بونا، سانولا اور بڑی بڑی آنکھوں والا تھا، وِٹھوبا کا لباس پہنا کر اس سین کو فلما ہی لیا کہ وِٹھوبا کی پتھر مورتی زندہ ہو اٹھی ہے اور تُکارام کے گانے کے ساتھ ناچنے لگی ہے۔

تکارام کی شوٹنگ مکمل ہونے آئی تھی۔ اب ایک دم آخری سین کی شوٹنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں تُکارام بینکٹھ (آسمان) چلے جاتے ہیں۔ اس سمے کسی ضروری کام سے میں ممبئی گیا تھا۔ اچانک پُونا سے فون آیا۔ فون پرملی خبر سے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ سٹوڈیو میں بنایا گیا جہاز، اسے اوپر کی طرف کھینچنے والے رسے ٹوٹ جانے کے کارن وِشنو پنت پاگنیس اور دوسرے کلاکاروں اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ نیچے گر پڑا تھا۔ بمبئی کا کام ادھورا چھوڑ کر میں پہلی گاڑی سے پُونا لوٹ گیا۔ وِشنو پنت کو کوئی خاص چوٹ ووٹ نہیں آئی ہے، یہ بات مجھے اسٹیشن پر ہی معلوم ہو گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ جلدی جلدی میں سیدھا سٹوڈیو جا پہنچا۔

وِشنوپنت سٹوڈیو کے ایک کمرے میں آرام کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھے اور میرے گلے لگ کر جذباتی ہو کر بولے، “انّا، میں بال بال بچ گیا! آپ یہاں ہوتے تو جہاز ہرگز نہ گرتا! میں داملےجی اور فتے لال جی سے کہہ ہی رہا تھا کہ انّا کے بمبئی سے لوٹ آنے کے بعد ہم لوگ اس سین کو لیں لیکن انھوں نے میری بات مانی نہیں!”

وِشنو پنت بہت ہی گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں حوصلہ دیا، “دیکھیے، وِشنو پنت، آخر یہ تو ایک حادثہ ہے۔ کسی کے یہاں رہنے یا نہ رہنے سے وہ ہوا، ایسی بات نہیں ہے۔ آپ بالکل گھبرائیے نہیں۔ ڈبل رسا باندھنے کا انتظام کرتے ہیں۔ تب تو بنے گی نا بات؟”

کچھ دنوں بعد، سب کچھ منظم کر لیا گیا اور پھر اسی سین کو پوری احتیاط سے فلما لیا گیا۔ ‘تکارام’ کی ایڈیٹنگ پوری ہوئی۔ پرنٹ تیار ہو گئے۔ شہر کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں ہم لوگوں نے رات کے بارہ بجے ‘تُکارام’ دیکھا۔ پہلے ٹرائل کے بعد میں نے کچھ منظروں کو تھوڑا آگے پیچھے کیا۔ کچھ منظروں کو کاٹا چھانٹا۔ اس سمے ہی بابوراؤ پینڈھارکر ‘تکارام’ دیکھنے کے لیے ہی پُونا آئے تھے۔ وہ فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے لوناولا گئے۔ مجھے بھی انہوں نے کچھ دن آرام کے لیے لوناؤلا آنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔

‘تُکارام’ کا سارا کام ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر کی اس دعوت کو قبول کر میں لوناؤلا گیا۔

یہ توقدرتی ہی تھا کہ حال ہی میں پوری کی گئی ‘تُکارام’ فلم کے بارے میں وہاں بات چیت چھڑ جاتی۔ ٹرائل ریلیز کے بعد ‘تُکارام’ کے بارے میں کیشوراؤ دھایبر نے بابوراؤ پینڈھارکر کے پاس جو وِچار ظاہر کیے تھے، بابوراؤ نے مجھے بتا دیے:

“جھانجھ منجیرا کوٹتے رہنے والے سنتوں کی فلموں کے دن کبھی کے لد چکے ہیں۔ ایسی حالت میں داملے جی، فتےلال جی کو شانتارام باپو نے ناحق سنت فلم بنانے کے جھمیلے میں ڈال دیا! لیکن یہ شانتارام جی نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ داملےجی فتےلال جی کو انہیں نیچے گرانا تھا! اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ داملے فتےلال جی کو کچھ بھی آتا واتا نہیں! وہ اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے! ہمیشہ وہ ہی بادشاہ بنے رہیں، اس لیے! آپ دیکھتے جائیے، یہ فلم ایک دم بری طرح فیل ہونے جا رہی ہے!”

ویسے تو مجھے کچھ کچھ بھنک مل چکی تھی کہ ‘راجپوت رمنی’ کی ناکامی کے بعد میرے بارے میں یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ لیکن میرے پیچھے اس طرح کے الزام لگائے جانے سے میں جل بھن گیا۔ اپنے بارے میں اس طرح کے اوچھے وچار سن کر میرا تو خون کھولنے لگا۔ میں نے آپے سے باہر ہو کر کہا:

“بابوراؤ، تب تو آپ ضرور دیکھیں گے اورسبھی دیکھیں گے، فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!”

اس پر بابوراؤ پینڈھارکر بھونچکے سے میرا منھ تاکتے ہی رہ گئے۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے ڈھائی بجے ہوں گے۔ دور اُفق پر بمبئی بندرگاہ کی بتیاں ٹمٹماتی نظر آنے لگی تھیں۔ میں انہیں بڑی امیدبھری نظر سے دیکھ رہا تھا۔من میں آیا کہ جہاز کو ایک زور کا دھکا ماروں تاکہ وہ فوراً کنارے لگ جائے۔ جہاز سویرے ساگرکنارے پر لگنے والا تھا، لیکن میں اتنا بےصبر ہو گیا تھا کہ رات بارہ بجے ہی اٹھا اور نہا دھو کر اکیلا ہی ڈیک پر چہل قدمی کرنے لگا تھا، کسی پاگل کی طرح۔

سویرے جہاز کنارے پر لگنے لگا۔ جرمنی جاتے سمے مجھے اکیلا چھوڑ گئے لوگ اب پھر پاس آتے دکھائی دیے۔ سب سے پہلے وِمل دکھائی دی، جو کمار اور سروج کو ساتھ لیے بھیڑ میں مجھے کھوجتی نظر آئی۔ ایک الجھا سا خیال من کو چھو کر گیا کہ شاید وِنائک اور بابوراؤ پینڈھارکر کم سے کم میرا استقبال کرنے کے لیے تو بندرگاہ پر آئے ہوں گے، اس لیے میں انہیں بھی بھیڑ میں کھوجنے لگا۔ میری امید بےسود رہی۔

تبھی بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ جہاز پر آتے دکھائی دیے۔ اُن کے ساتھ وِمل بھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دوڑ کر آئی اور آس پاس کے لوگوں کا ذرا بھی لحاظ یا لجا کیے بنا ہی سیدھے آ کر مجھ سے کس کر لپٹ گئی۔ میں حیران رہ گیا۔

ایک پبلک مقام پر سدھ بدھ کھو کر اس کا میرا اس طرح سواگت کیا جانا مجھے من ہی من اچھا لگا۔ میں نے بھی اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ خود مجھ سے دور ہو گئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ شرم کے مارے اب وہ گڑی جا رہی تھی۔ ہمارے جیون میں سب لوگوں کے سامنے اس طرح گلے لگنے کا یہ اکلوتا منظر تھا!

بعد میں، رات کی تنہائی میں، میں نے اسے میٹھی شکایت کرتے ہوئے کہا، “تم تو ایسے لگ رہی تھیں کہ میں نہیں، تم ہی پردیس جا کر آئی ہو!”

“وہ کیسے؟”

“جہاز کے ڈیک پر کسی اینگلو لڑکی کی طرح مجھ سے کس کر لپٹ جو گئی تھیں!”

“پتا ہے؟ آپ جرمنی میں تھے، تب یہاں سب لوگ مجھے چِڑھا رہے تھے کہ لوٹتے سمے آپ ایک گوری میڈم ساتھ لانے والے ہو! آپ کو جہاز پر دیکھا، آپ کے ساتھ کوئی بھی تو نہیں آیا تھا اور پھر کیا ہوا مجھےخود ہی ہوش نہیں رہا۔”

”چھوڑو! پگلی کہیں کی!” محض کچھ کہنا ہے اس لیے کہہ تو گیا، لیکن من کہنے لگا: ”جینی میرے ساتھ بھارت آتی تو؟”

وطن پر پاؤں رکھتے ہی ایک بری خبر ملی۔ ہماری ‘سیرندھری’ رنگین فلم ناظرین کو قطعی نہیں بھائی تھی۔ اس کی رنگین کاپی پہلی بار جرمنی میں دیکھی تھی، تبھی فلم کی کامیابی کے لیے میرے من میں شبہ جاگا تھا، جو اب میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ صحیح ثابت ہوا۔ اتنی ساری محنت، پریشانیاں، سب بےسود ہو گئے تھے!

بابوراؤ پینڈھارکر اور وِنائک نے کولہاپور دربار کی قائم کردہ ‘راجا رام مووی ٹون’ نامی نئی کمپنی میں زیادہ تنخواہ پر نوکری قبول کر لی تھی۔ یہ جان کر کہ انہوں نے صرف زیادہ تنخواہ پانے کے لیے ‘پربھات’ تیاگ دیا تھا، مجھے اور بھی برا لگا۔ اتنی تنخواہ تو انہیں ‘پربھات’ میں بھی مل سکتی تھی اور سب کی محنت سے ‘پربھات’ کو حاصل وقار کا بھی فائدہ انہیں ملتا، وہ الگ۔ اسی حوالے سے بابوراؤ پینڈھارکر نے مجھے بمبئی کے ایک اخبار میں چھپی خبر دکھائی۔ اس کی سرخی تھی: ‘پربھات کے بنیادی ستون ڈھے گئے! پربھات گر گئی۔’ اس خبر کو پڑھتے ہی میں نے یقین سے کہا، “پربھات کے سچے ستون ہیں سب کی محنت، مسلسل عمل اور ایمانداری۔ جب تک یہ سلامت ہیں، ‘پربھات’ سبھی کٹھنائیوں کو پار کرتی ہوئی کندن سی تپ کر نکھرےگی!”

میں پُونا آ گیا۔ ماں، باپو، میرے تینوں چھوٹے بھائی اور ان کے علاوہ کچھ عام کلاکار اور ٹیکنیشن کولہاپور چھوڑ کر پُونا رہنے کے لیے آ گئے تھے۔

پُونا پہنچتے ہی پہلے میں اپنے گھر گیا۔ باپو کافی تھک چکے تھے۔ ان دنوں سارے پُونا شہر میں جاڑے کے بخار کی وبا سی پھیلی ہوئی تھی۔ باپو بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ انہیں جوش دلانے اور جلدی صحت مندی کی امید جگانے کے لیے میں نے کہا، “باپو، آئندہ سات آٹھ مہینوں میں آپ کے لیے اپنا مکان بن کر تیار ہونے جا رہا ہے، آپ جلدی اچھے ہو جائیے۔”

پردیس سے میرے سلامت لوٹ آنے سے ہی ان کی آدھی بیماری ٹھیک ہو گئی تھی۔ میرے منھ سے گھر کے بارے میں یہ باتیں سن کر اس حالت میں بھی ان کا حوصلہ اور بڑھا۔ لیکن پھر بھی کچھ ناامید سے ہو کر باپو نے کہا، “ارے، تب تک میں زندہ رہوں تب نا!”

میں نے فوراً کہا، “باپو، آپ نہ صرف اس بنگلے کے بننے تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سال تک زندہ رہنے والے ہیں اور ایک دم صحت مند!” یہ سن کر باپو نے میرے سر پر ممتا سے ہاتھ رکھ کر آشیرواد دیا۔ میری بات جیسے پیشین گوئی ثابت ہوئی۔ ماں اور باپو اس بنگلے میں تیس برس سے بھی زیادہ سمے تک سکون سے رہے۔

میں فوراً نیا سٹوڈیو دیکھنے کے لیے کمپنی کےمقام پر گیا۔ سٹوڈیو کی تعمیر پوری ہو چکی تھی۔ فلم میکنگ کے مختلف کاموں کے لیے الگ کمرے بنائے گئے تھے، ان میں اس ڈپارٹمنٹ کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر مختلف قسم کی سہولتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سبھی تعمیری کاموں میں داملےجی کی ہنرمند دیکھ ریکھ اور سوجھ بوجھ جگہ جگہ جھلک رہی تھی۔ میں داملےجی کے اس کام سے اتنا جذباتی ہو گیا کہ میں یہ بھول ہی گیا کہ وہ بزرگ ہیں اور میں نے ان کی پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دے دی۔

کمپنی کے کئی ماہرین کولہاپور چھوڑ کر پُونا نہیں آئے تھے۔ نتیجتاً ہم نے ان کے کاموں کی ذمےداری اب ہم پانچوں ساجھےداروں کے ان رشتےداروں کو سونپنے کا فیصلہ کیا جو آج تک کمپنی میں ہرفن مولا بن کر جو بھی کام نظر آتا، کرتے چلے آ رہے تھے۔

آہستہ آہستہ میں نے اپنے ساتھیوں کو جرمنی میں ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ میری غیرموجودگی میں ہوئے واقعات کے کارن میرے ساتھی ہمت کھوتے جا رہے تھے۔ ان کی ہمت پست ہو چلی تھی، لیکن میرے پختہ ارادے سے انہیں کافی دھیرج بندھ گئی۔ نئی فلم کی کہانی اور خیال میں نے سب کے سامنے رکھا۔ قرون وسطیٰ کے راج کے پس منظر میں اس فلم کے کہانی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ فلم کا نام جرمنی میں ہی میں نے طے کر رکھا تھا: ‘امرت منتھن’۔ اس کے راج گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاَپ لینے کے لیے لایا گیا ٹیلی فوٹو لینز میں نے سب کو دکھایا۔

فتےلال جی کی فنکارانہ پنسل بجلی کی رفتار سے پوشاک اور منظروں کی لکیریں کھینچنے لگی۔ ‘امرت منتھن’ ہم نے ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں میں بنانا طے کیا۔ بنیادی کہانی لکھنے کے لیے میرے عزیز ناول نگار ہری نارائن آپٹے کو میں نے پُونا بلا لیا۔ ان کے ساتھ کہانی پر بحث شروع کی۔ اس بحث سے ‘امرت منتھن‘ کا سکرپٹ اچھی طرح شکل لینے لگا۔

قرون وسطیٰ کا راجہ اور اس کی بیٹی دونوں کافی ترقی پسند خیالات کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس ان کا راج گرو دھرم اور قدامت کا کٹر اور سخت حامی ہوتا ہے۔ دھرم اور قدامت شکنی کرنے والے کو بےرحمی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے وداع کر دیتا ہے۔ نہ صرف راج خاندان کے سب لوگوں کو، بلکہ دیگر بھولے بھالے لوگوں کو بھی اپنی آنکھوں کی دھاک میں رکھتا ہے۔ ایک طرف راجہ اور اس کی لڑکی کے نئے وِچار اور دوسری طرف دقیانوسی راج گرو کی قدامت پرستی، ان کی کشمکش پر ‘امرت منتھن’ کی کہانی تیار ہوئی۔ اس فلم کے ہندی مکالمے اور گیت لکھنے کے لیے اتّر ہندوستان کے ایک لیکھک محمد پوری ‘ویر’ کو بلا لیا۔

اب ہمیں مراٹھی اور ہندی دونوں فلموں میں راج گرو کی اداکاری کر سکنے والے اچھے اداکار کی تلاش تھی۔ اس کے علاوہ ایک نئے میوزک ڈائرکٹر کی بھی ضرورت تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب لوگ مجھے اچانک مل گئے۔ مہاراشٹر میں ‘ناٹیہ منونتر’ نامی ایک نیا ناٹک ادارہ بنا تھا۔ اس نے’آندھلیانچی شالا’ ( نابینا سکول) ناٹک سٹیج کیا تھا۔ میں اسے دیکھنے گیا تھا۔ اس ناٹک میں میں نے اسٹیج کے مشہور اداکار کیشوراؤ داتے کی اداکاری پہلی بار دیکھی۔ میں اس سے بہت ہی متاثر ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس ناٹک کے گیت اور بیک گراؤنڈ میوزک بھی مجھے مدھر اور نئے ڈھنگ کے لگے۔ اس کے میوزک ڈائرکٹر تھے کیشوراؤ بھولے۔ دوسرے دن میں نے ان دونوں کو ‘پربھات’ میں بلا لیا اور ان کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا۔ اسی سمے دلّی سے چندر موہن ووٹل نامی ایک نوجوان میرے سامنےآ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ سال پہلے اس سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ دلّی کی کسی فلم ڈسٹری بیوٹنگ کمپنی کی طرف سے وہ کولہاپور میں کسی کام سے آیا تھا۔ اس کمپنی میں وہ ایک معمولی کلرک تھا۔ اس کی آنکھیں بہت متجسس اور آواز بہت ہی کسی ہوئی اور رعب دار تھی۔

چندر موہن نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز امرت منتھن میں ولن کے کردار سے کیا

دونوں باتوں کا مجھ پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔ میں نے اسے اسی سمے کہا تھا، “اس کلرکی میں کہاں پڑے ہو، اس میں رکّھا ہی کیا ہے؟ ایک مکمل اداکار کے لیے ضروری سبھی باتیں تم میں ہیں۔ تم ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ یقین دلاتا ہوں، ایک اچھے اداکار کا نام کماؤ گے!”

اُس وقت اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن آج وہی چندرموہن میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اسے براہ راست سامنے کھڑا پا کر مجھے تو ایسا لگا جیسے میری فلم کا ‘راج گرو’ ہی سامنے آ گیا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ کچھ سالوں کے لیے معاہدہ کر لیا۔ میں نے ‘امرت منتھن’ کے مراٹھی ورژن میں کیشوراؤ داتے اور ہندی میں چندرموہن کو راج گرو کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔

اس فلم کےوِلن راج گرو کو بہت ہی نرالی ادا میں پیش کرنا تھا۔ آج تک کی سبھی فلموں کے ولن کے لیے غصہ، کراہت کے جذبات ہی ناظرین کے من میں جاگتے تھے۔ لیکن میں نے طے کیا کہ کہانی کو میں اس طرح موڑ دوں گا کہ ‘امرت منتھن’ کے اس راج گرو کے لیے ناظرین آخر میں ایک احترام کا جذبہ لے کر جا ئیں گے، اگرچہ وہ ایک ولن ہے۔ لیکن یہ کہنا آسان تھا، کرنا بہت کٹھن۔ اسے کس طرح کیا جائے، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ نارائن راؤ آپٹے کے ساتھ میں نے اس پر کافی بحث کی۔ آخر میں مجھے ایک خیال سوجھا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا، اپنے تک ہی اسے محدود رکھا۔ ایسا کرنے کے بھی کچھ کارن تھے۔

اس نئی کہانی کا کام چالو تھا، تب ہم نے اپنے نئے سٹوڈیو کے لیے آڈیو ریکارڈنگ کی جدید مشینری اور کیمرا خرید لیا۔ آج تک ہم کیمیائی عمل پرانےطریقۂ کار کے مطابق کیا کرتے تھے۔ اس کی جگہ پر ہاتھ لگائے بنا ہی سارا عمل کرنے والے اور بجلی سے چلنے والے آلات ہم نے پُونا میں ہی بنوا لیے۔ صرف نیگیٹو پرنٹ بنانے والا جدید پرنٹر ہم نے غیرملکی درآمد کیا۔

امرت منتھن کا ایک پوسٹر

فطری طور اس وجہ سے فلم میکنگ کا کام شروع ہونے میں کچھ دیری ہو جاتی، لہٰذا ‘پربھات’ میں اس سمے آخر کیا چل رہا ہے اور ہماری نئی فلم ‘امرت منتھن’ کتنی محنت سے بنائی جا رہی ہے، اس کی جھلک لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک شارٹ فلم بنانے کا خیال میرے من میں آیا۔ شارٹ فلم بھی ایسی بنانی تھی جسے دیکھ کر ناظرین کی دلچسپی برابر بڑھتی ہی رہے۔ ایسی شارٹ فلم ہم نے بنائی اور اسےگاؤں گاؤں میں پیش کیا۔

لوگ اب ہماری ‘امرت منتھن’ کا بڑی بےتابی سے انتظار کرنے لگے۔

‘امرت منتھن’ کا سکرین پلے اور مکالمے تیار ہوتے ہی میں نے سبھی کلاکاروں سے مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ یہ ریہرسل ہر روز ہونے لگی۔ فلم کے گیتوں کی دھنیں بننے لگیں۔ ان دھنوں کے مطابق ‘ویر’ نے ہندی گیت لکھ دیے۔ مراٹھی فلم رائٹنگ کے لیے نارائن راؤ آپٹے کی سفارش پر ایک نوجوان شاعر شانتارام آٹھولے پربھات میں شامل ہو گیا۔

میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے کے پاس ہندی اور مراٹھی کے چنندہ گیتوں کے گراموفون ریکارڈز کی اچھی کولیکشن تھی۔ عام طور پر وہ انہیں ریکارڈز سے کہانی کے سین کے مطابق دھنیں تیار کر لیتے اور پھر ان دھنوں کے مطابق بول لکھواتے تھے۔ کبھی میں انہیں کسی گیت کو ایک آدھ نئی دھن دینے کے لیے کہتا تو وہ مجھے دوسرا گراموفون ریکارڈ سنواتے اور دھن پسند کرنے کے لیے کہتے۔ میوزک ڈائرکشن کا یہ سسٹم مجھے خاص پسند نہیں تھا۔ لیکن میرا ہمیشہ کا ایک دستور تھا کہ ایک بار کسی کو ساتھ لے لیا تو اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کر اس کی قابلیت کے مطابق اس سے زیادہ سے زیادہ اچھا کام کروا لینا۔ اسی لیے میں نے انہیں وقت وقت پر حوصلہ دیا اور کہانی کا جاندار سنگیت بنوا لیا۔ لیکن کہنا پڑےگا کہ فلم کے گیتوں اور آرکسٹرا کی مناسب ایڈجسمنٹ کے فن کی مکمل اپچ کیشو راؤ کے اپنے بنیادی ٹیلنٹ کا کمال تھا۔ اس کے علاوہ سین کے مطابق اس کے جذبات کو نقطۂ عروج تک لے جانے کے لیے کس انسڑومنٹ یا ساز کا استعمال کہاں کتنا کرنا چاہیے، اس کا فیصلہ کرنے والے وہ ایک ماہر میوزک ڈائرکٹر تھے۔

ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر پُونا آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کسی سمے میرے زیر کام کرنے والےگجانن جاگیردار نے ’امرت منتھن’ کی تھیم پر ‘سنہاسن’ نامی ایک فلم جھٹ پٹ بنا لی اور اسے ریلیز بھی کر ڈالا ہے۔ اس خبر سے میں ذرا بھی سٹپٹایا نہیں، کیونکہ یہ کہانی میں کس ڈھنگ اور طریقے سے فلمانے جا رہا ہوں، اس کا راز سوا میرے کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہانی کا آخر تو میں نے ایک راز کے روپ میں صرف اپنے ہی پاس سنجو رکھا تھا: راج گرو کی بدسلوکی سے تنگ لوگ اسے جان سے مار ڈالنے کے لیے مندر کی طرف آتے ہیں۔ ان کی قیادت کرتا ہے راج گرو کا ذاتی بھروسہ مند، لیکن اصل میں راجہ کے لیے وفادار، سردار وشواس۔ خنجر تان کر اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر لمحہ بھر کو تو راج گرو چونک جاتا ہے، لیکن اسے ڈرا دھمکا کر پوچھتا ہے، “کون؟ وشواس، تم؟” سب کو قابو میں اور اپنی دھاک میں رکھتی آئی راج گرو کی وہ نظر وشواس کو سونگھتی نِہارتی ہے۔ پردے پر اس کی آنکھوں کی پُتلیوں میں وشواس کا عکس صاف ابھر آتا ہے۔ عکس میں اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے: وشواس کا من ڈانواڈول ہو گیا ہے، خنجر تانے اس کا ہاتھ کچھ نیچےکی طرف آتا جا رہا ہے۔۔۔ پھر اس کی وفاداری جاگتی ہے۔ پھر خنجر تان کر وہ آگے آتا ہے اور اسے راج گرو کی آنکھوں میں گھونپ دیتا ہے، پوری ملامت کے ساتھ! راج گرو چیخ کر کچھ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ڈھک لیتا ہے۔۔۔ راج گرو کی نظر میں ہمیشہ زندہ رہی دھاک ختم ہو جاتی ہے! اس کے بعد راج گرو لڑکھڑاتا ہوا اپنے نجی مندر کی طرف جاتا ہے۔ دروازہ بند کر لیتا ہے اور دیوی کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے، “ہے بھگوَتی، آج تک میں نے جو کچھ کیا اس میں میرا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا۔ یہ سب کچھ میں نے صرف تمہارے لیے، دھرم کی حفاظت کے لیے ہی کیا تھا۔ پھر بھی میں تمہیں خوش نہیں کر سکا۔ اس لیے اب میں اپنی بَلی چڑھاتا ہوں۔ اس بلیدان سے تم خوش ہوؤ اور دھرم کی حفاظت کرو!”

مندر کے باہر ستائے ہوے لوگ مندر کا دروازہ توڑ کر اندر گھس آتے ہیں۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سب بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ راج گرو کا سر کٹا دھڑ بھگوتی کے سامنے پڑا ہے اور اس کے ہاتھ کٹے ہوئے سر کو بھگوتی کے چرنوں پر چڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ بےجان، شانت ہو جاتا ہے۔

مجھے یقین تھا کہ راج گرو اپنی سوچ پر کتنا اٹل، کٹّر تھا، ناظرین کے من پر اس کے اس بلیدان کی وجہ سے یہ انمٹ روپ سے نقش ہو جائے گا۔اس سین کی شوٹنگ میں نے ایک دم آخر میں کی۔ اس کے مراٹھی مکالمے میں نے خود اُس دن سویرے لکّھے اور اس کا ہندی ورژن چندرموہن سے کروا لیا۔

ہمیشہ کی طرح کمپنی میں نئی فلم کے آخری کام تیزی سے چل رہے تھے۔ جانچ کے لیے کمپنی میں ہی ‘امرت منتھن’ کی پہلی ریلیز دیکھی تو مجھے خاص اطمینان نہیں ہوا، لہٰذا اس میں پھر کچھ جوڑتوڑ کر، خرابیوں کو کم کرتے ہوئے فلم کی رفتار کو اور بڑھانے کے لیے میں پھر ایڈیٹنگ کرنے بیٹھ گیا۔ ویسے تو فلم جیسی ہے ویسی ہی ناظرین کو پسند آئے گی، اس کا نرالاپن اثردار ثابت ہو گا اور ‘پربھات’ کا فخر بڑھانے میں مددگار ہو گا، اس میں مجھے شبہ نہیں تھا، لیکن ہمارے سبھی ساتھیوں کو اس کی کامیابی کے بارے میں بھاری شبہ تھا۔

ستھِر فلم ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ پنت دھرم ادھِکاری نے بھی ٹیسٹ ریلیز کے وقت ‘امرت منتھن’ دیکھی تھی۔ وہ اور داملےجی گہرے دوست تھے۔ انہوں نے داملےجی سے صاف لفظوں میں کہہ دیا، “مجھے ‘امرت منتھن’ قطعی پسند نہیں آئی ہے!”

داملےجی نے کہا، “شانتارام بابو اس میں کچھ کانٹ چھانٹ کر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فلم زیادہ اثردار ہو گی۔”

“اجی چھوڑیے ان باتوں کو۔ کچھ بھی کریں، گدھے کا گھوڑا تھوڑے ہی بن جائےگا،”

پنت دھرم ادھِکاری نے ذلت آمیز لہجے میں کہا۔

اس دن شام کو داملےجی نے پنت دھرم ادھکاری کی باتیں انہیں کے لفظوں میں مجھے بتا دیں۔ سن کر میں قہقہہ مار کر ہنسا اور داملےجی سے میں نے کہا، “پنت جی کو اندھی عقیدت اور رجعت پسندوں پر حملہ کرنے والی یہ فلم پسند آ ہی نہیں سکتی۔ لیکن ان کے جیسے مذہبی براہمن کو وہ بھائی نہیں، اسی میں فلم کی ترقی پسندیت کی جیت ہے!”

‘امرت منتھن’ بمبئی میں پہلے ہندی میں ریلیز کی گئی۔ ٹکٹ کھڑکی پر ناظرین کی بےحد بھیڑ تھی۔ تینوں شو کے لیے تھئیٹر کے اندر اور باہر بےشمار بھیڑ جمع ہوتی اور پھر بھی ہزاروں لوگ ٹکٹ نہ ملنے کے کارن ناامید ہو کر لوٹ جاتے۔

‘امرت متھن’ کا آخری سین لوگوں کے دلوں کو چھو جاتا تھا۔ میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا۔ ایک سیدھے سادھے نئے ڈھنگ کے ولن کی پُراثر تصویر پہلی بار فلم میں ابھر آئی تھی۔ چونکہ چندرموہن کی یہ پہلی ہی فلم تھی، اس کے کام میں کچھ نوسِکھیاپن ضرور معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کی متجسس اور کُھبنے والی آنکھیں، آنکھوں کے بڑے بڑے کلوزاَپ اور اس کی وزن دار آواز کی انمٹ چھاپ ناظرین کے من پر نقش ہو گئی۔ چندرموہن ایک ہی رات میں شہرت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ چندرموہن کی طرح شانتا آپٹے بھی اس فلم کے کارن بےحد مقبول ہو گئی۔ اس فلم میں اس کے گانے اور اداکاری دونوں کو ناظرین نے سراہا۔ ‘شیام سندر’ میں اس کی بےجان اداکاری دیکھنے کے بعد لوگوں کو اس سے زیادہ امید نہیں تھی۔ اننت ہری گدرے نے تو اس کے کام کی تعریف کرتے سمے کمال کر دیا۔ اپنے ادبی میگزین ‘نربھیڈ’ میں انہوں نے ‘امرت منتھن’ کا پورے صفحے کا جائزہ لکھا۔ اس پر موٹی سرخی تھی:

“شانتا میں بھی ڈالے رام
واقعی میں ہیں شانتارام۔”

یہ منچلی سرخی مجھے قطعی پسند نہیں آئی۔ آگے چل کر ایک بار اُن سے ملاقات ہو گئی، تو اس سرخی پر میں نےاعتراض بھی اٹھایا۔ لیکن گدرےجی الٹے مجھ سے ہی اسی مدعے کو لے کر جھگڑا کرنے لگے، “آپ بھی خوب ہیں، آخراس سرخی میں غلط یا برا کیا ہے؟ ‘شیام سندر’ میں اس کے کام میں کوئی رام نہیں تھا اور اس فلم میں آپ کی ڈائرکشن کے کارن اس کے کام میں ہمیں وہ رام دکھائی دیا، اور اسی لیے ایک دم خالص جذبے سے ہی ہم نے ویسا لکھا!”

اب اس Correspondent کے سامنے کوئی کیا کہے؟ اپنا سر!

سارے دیس میں ‘امرت منتھن’ نے دھوم مچا دی۔ بمبئی میں تو وہ پورے تیس ہفتے چلی۔ ہر ہفتے کو فلم کے جیون کا ایک سال مان کر پچیسویں ہفتے میں ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر نے ‘امرت منتھن’ کی سلور جوبلی منائی اور زبردست پرچار کیا۔ سلور جوبلی کو پار کر اور کچھ ہفتے چلنے والی وہ پہلی ہندی فلم تھی۔

‘امرت منتھن’ نے پھر ایک بار ‘پربھات’ کا نام چوٹی پر پہنچا دیا۔ کچھ اہم لوگوں کے ‘پربھات’ چھوڑ کر چلے جانے کے کارن پربھات کے مستقبل کے بارے میں خدشے کے شکار لوگوں کو اس فلم نے منھ توڑ جواب دیا۔

اس کے بعد من میں پھر ایک بار اچھی سماجی فلم بنانے کا خیال آنے لگا۔ پہلے بھی کبھی یہ خیال آیا تھا لیکن ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن اس بار فتےلال جی نے ضد کی کہ خاموش فلموں کے زمانے میں بنائی ‘چندر سینا’ پر ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ اس کہانی کے لیے انہوں نے کافی نئے نئے خیالات پر مبنی سین، پوشاکیں، زیور وغیرہ کا ایک کچا چٹھا بنا لیا تھا۔ اہِراون اور مہِراون کی پاتال نگری کو اثرانگیز بنانے کے لیے انہوں نے اپنی پنسل، سنکھ سیپیوں اور موتیوں کی مدد سے ایک نرالی ہی دنیا بنا لی تھی۔ وہ فینٹسی واقعی غیرمعمولی اور دلکش تھی۔ ہم سب لوگ کافی خوشی سے ‘چندر سینا’ فلم بنانے میں لگ گئے۔ میں نے بھی سوچا کہ اس فلم کی قدیم کہانی کو اپنے سماجی وچاروں کے مطابق نیا رنگ دوں۔ خاموش فلم چندرسینا کی طرح بولتی فلم چندر سینا میں بھی موجود پیغام یہی تھا کہ لوگوں کو شراب پینے کے برے نتیجے سے بالواسطہ طریقے سے آگاہ کیا جائے۔ جنوب کے ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی مانگ پر ہم نے بولتی فلم ‘چندرسینا’ کے مراٹھی اور ہندی ورژنوں کےساتھ ہی تمِل ورژن بھی بنانا طےکیا۔ تمل فلم میں کام کرنے کے لیے کلاکاروں کو مدراس سے پربھات میں لایا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ ٹیکنیشین بھی اس امید سے آئے کہ انہیں بھی کچھ نئی باتیں سیکھنے کو مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو ‘پربھات’ میں اپنے قیام کے دوران فلمی فن کی اتنی باتیں سیکھیں کہ انہوں نے مدراس لوٹ کر کافی شہرت کمائی۔ رام ناتھ اور شیکھر جیسے کچھ ٹیکنیشینوں اور کہانی کاروں نے بی ریڈّی کے ساتھ مل کر ‘واہونی فلم کمپنی’، کے لیے ‘سمنگلی’ جیسی فلم بنائی۔ اس فلم کے کارن جنوب کی فلم انڈسڑی کو فنکارانہ طول و عرض اور سمت مل گئی۔

اہراؤن مہراؤن کی پاتال نگری کے محل کا سین سٹوڈیو میں بنایا گیا تھا۔ چندرموہن اہراؤن کا کام کر رہا تھا۔ شوٹنگ شروع ہوئےآٹھ دس دن ہو چکے تھے۔ ایک دن سویرے ہم لوگ اس دن کی شوٹنگ کی تیاری کر رہےتھے۔ سبھی کلاکار ٹھیک سوا نو بجے میک اپ کر سٹوڈیو میں حاضر ہوئے۔ سین کو سمجھا کر بتانے کے لیے میں نے چندرموہن کو آواز دی۔ میرے معاون راجہ نے نے ڈرتے ڈرتے بتانے لگا، “چندرموہن آج ابھی تک کام پر آیا نہیں ہے۔”

میں غصے میں چلّایا، “کیوں نہیں آیا؟”

تبھی ہمارے منیجر آئے اور انہوں نے مجھے رجسٹرڈ ڈاک سے آیا ایک لفافہ تھما دیا۔ وہ چندرموہن کی طرف سے ہمیں دیا گیا نوٹس تھا۔ وہ ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔

نوٹس پڑھ کر مجھے بہت ہی غصہ آیا۔ پھر بھی میں نے پاٹھک جی سے کہا، “آپ چندرموہن کے گھر جائیے اور اسے کام پر آنے کو کہیے۔ لیکن اس نے ہمارے منیجر کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ “میں اب کام پر نہیں آؤں گا۔ مجھے بمبئی کے ایک بڑے پروڈیوسر نے کافی اچھی تنخواہ پر بلوا لیا ہے۔”

پاٹھک جی واپس آئے۔ سر جھکا کر انہوں نے چندرموہن کا پیغام سنایا۔

اب میں آپے سے باہر ہو گیا۔ کمپنی کے ایکٹنگ ڈپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کر رہے ایک اداکار کو میں نے فوراً چندرموہن کے کردار کے لیے ضروری میک اپ کر آنے کو کہا۔ کسی کے بنا پربھات کا کوئی کام نہ رک پائے، اس کا تو میں نےعہد کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں نے اسی وقت پہلے آٹھ دس دن کی شوٹنگ رد کرنے کا فیصلہ کیا اور وکیل کی معرفت چندرموہن کے نوٹس کا جواب بھجوا دیا: “تم اس طرح پربھات کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ قانوناً تمہیں آئندہ فلم کے لیے کی گئی تمہاری آٹھ دس دن کی شوٹنگ کا ہرجانہ دینا پڑے گا، کیونکہ اب وہ ساری شوٹنگ رد کرنی پڑی ہے۔”

چندرموہن ہمارا جوابی نوٹس پڑھ کر کافی ہڑبڑا گیا۔ اس نے فوراً پیغام بھیجا کہ ”معاہدے سے آزاد ہونے کے لیے میں اپنے نزدیک کے رشتےدار سر تیج بہادر سپرو کی مدد لوں گا۔” یہ بیرسٹر سپرو صاحب اُس زمانے کی کافی بڑی ہستی تھے۔

لیکن میں نے چندرموہن کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ میں تو اس بات پر تُلا ہوا تھا کہ چندرموہن کی طرف سے ڈالی جا رہی اس ضرررساں روایت کو جڑ سے اکھاڑ دوں۔ کسی کلاکار کا اس طرح پیش آنا کمپنی کے لیے کافی خطرناک تھا۔

‘چندرسینا’ تیار ہو گئی۔ ٹرائل ریلیز سب نے دیکھی۔ کاپی میں کافی غلطیاں تھیں۔ فلم کا سنسر اور عام ریلیز نزدیک آ گئی تھی۔ دو تین دن ہی باقی تھے۔ دھایبر اس فلم کے فوٹوگرافر تھے۔ انہوں نے جلدی جلدی نیاپرنٹ بنایا اور بنا ٹیسٹ کیے سنسر اور ریلیز کے لیے بمبئی بھیج دیا۔

بمبئی میں ‘کرشن’ سنیما میں اس وقت ’امرت منتھن’ خوب چل رہی تھی، اس لیے ‘چندرسینا’ کا پردرش مِنروا میں کیا گیا۔ ریلیز کے وقت میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”فلم کے گیت اور مکالمے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتے۔ لگاتار ایک طرح کی گھرررر کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔”

میں فوراً بمبئی گیا اور ‘چندرسینا’ کا پرنٹ اچھی طرح سے جانچا پرکھا۔ فلم کی کاپی پر ساؤنڈ ریکارڈنگ کی لکیریں بہت ہی دھندلی نقش ہوئی تھیں۔ دھایبرجی نے شاید کسی غلط فہمی کےکارن ساؤنڈ پٹی اتنی گہری اور کالی نہیں رکھی تھی جتنی کہ رکھنی چاہیے تھی۔ اسی کارن یہ سب جھمیلا ہو گیا تھا۔ مکالمے اور سنگیت ناظرین تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش فلم ’چندر سینا‘ کی یاد ناظرین میں ابھی تازہ تھی، اس لیے کہانی میں انہیں کچھ بھی نیاپن شاید معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سین اور پوشاک وغیرہ میں کافی فینٹسی ہونے کے باوجود لوگوں کو یہ فلم قطعی پسند نہیں آئی۔ ہم سب کا اندازہ ایک دم غلط ہو گیا۔ ساؤنڈ پٹی کو ٹھیک کر ’چندر سینا‘ کا ایک نیا پرنٹ ہم نے دو تین دن میں ہی بمبئی بھیج تو دیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ہماری یہ فلم بری طرح فیل ہو گئی۔

فلم چندرسینا کا پوسٹر

میرے ambitious سوبھاؤ کے کارن ہمیں ایک اور دردناک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک جرأت آمیز نئے خیال سے بنی کہانی کا المناک نتیجہ تھا۔ برلن سے میں نے کارٹون فلموں کے لیے خاص مشینری خرید کر بھجوائی تھی۔ والٹ ڈِزنی کے ‘مکی ماؤس’ کے ڈھنگ کا ایک کارٹون بنانے کے ارادے سے خریدی گئی وہ مشینری اب ہمارے پاس پہنچ گئی تھی۔ کارٹون فلم کے لیے میں نے ایک تخلیقی ٹیکنیشین کا انتخاب کر طرح طرح کے تجربے کرنے شروع کیے۔ ‘مکی ماؤس’ کی طرح ہی کسی مزیدار جانور کو چن کر اس پر کارٹون بنانے کی سوچی۔ لومڑ بہت چالاک جانور مانا جاتا ہے، اس لیے ہم نے طے کیا کہ ایک فلم بنائی جائے، جس کا نام ہو ‘جمبو کاکا’۔ اس کے لیے ایک مناسب چھوٹی کہانی تیار کی۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق کلاکاروں سے جمبو کاکا اور دیگر کرداروں کی ہلچلوں کے کئی سٹِل فوٹو سیلولائڈ پر بنوا لیے۔ شوٹنگ کے لیے لائے گئے خاص کیمرے کے ذریعے ہم نے ان سب تصویروں کو فلما لیا اور نو سو فٹ کی ایک فلم (اینیمیشن) تیار کی۔ اس پر بہت مناسب بیک گراؤنڈ میوزک کو بھی ریکارڈ کر لیا۔ اس فلم کو ٹرائل ریلیز میں پہلی بار دیکھا تو مکی ماؤس کے مقابلے میں وہ بالکل ہی نارمل معلوم ہوا، لیکن ہمارا وہ پہلا تجربہ تھا اور اس لیے تسلی بخش لگا۔

ہم نے اس ‘جمبو کاکا’ کارٹون کو بمبئی اور دوسرے شہروں میں ریلیز کیا۔ لیکن چونکہ مخصوص معزز لوگوں کے علاوہ ایسے کارٹون دیکھنےکی عادت عام ناظرین میں نہیں تھی، مخصوص ناظرین کے تاثرات ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ فلم اگرچہ چھوٹی سی تھی، پر اس کے بنانے پر پیسہ خرچ ہوا تھا، لہٰذا ہم نے اپنی فلم دکھانے والوں سے اس فلم کی ریلیز کے لیے کُل آمدنی کا پانچ فیصد زیادہ دینے کی مانگ کی۔ لیکن ہمارے فلم دکھانے والوں نے ہمیں جوابی ڈاک سے جواب دیا کہ، ’’ناظرین آپ کی بنیادی فلموں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کارٹون فلم میں انہیں کوئی مزہ نہیں آتا۔ لہٰذا مہربانی کر کے ایسی کارٹون فلم دکھانے کے لیے نہ بھیجیں۔‘‘ ہم نے کارٹون فلموں کا کام کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دیا اور کارٹون فلم کے ٹیکنیشنوں کو اس سسٹم کا مزید مطالعہ کر والٹ ڈزنی کی بنائی فلموں جیسے صاف کارٹون بنانے کی کوشش جاری رکھنے کو کہا۔ بھارت کی پہلی کارٹون فلم بنانے کا کریڈٹ ‘پربھات’ کو ملا تو، لیکن اس کا استقبال اتنا ٹھنڈا رہا کہ ہمارے سارے جوش پر پانی پھر گیا۔

لیکن انہیں دنوں ‘امرت منتھن’ نے عوامی ذہن پر ایسا جادوکر رکھا تھا کہ ’چندر سینا’ اور ‘جمبو کاکا’ کی ناکامی پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ یہی نہیں، دَھن کا جو بہاؤ ہمارے پاس چلا آ رہا تھا، اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔

ماں باپو کے لیے ایک چھوٹا سا بنگلہ بن کر تیار ہو گیا۔ تعمیر کے بعد وہ دونوں جب اس میں رہنے کے لیے گئے، تب ان کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھےتھے۔ ان کی خوشی دیکھ کر میں بھی شادکام تھا اس کے ساتھ ہی پربھات سٹوڈیو کے سامنے والی کھلی جگہ میں ہم پانچوں ساجھےداروں کے بھی پانچ الگ بنگلے بنائے گئے۔کولہاپور چھوڑ کر ہمارے ساتھ پُونا رہنے کے لیے آئے کام کرنے والے کاریگروں کے لیے اسی احاطے میں ایک دومنزلہ مکان بنوایا گیا۔

اس طرح پربھات نگر بسانے کا میرا سپنا پورا ہو چلا تھا۔ میں نے لوہے کی گول گول شکل کی کئی طشتریاں بنوا لیں۔ ہر طشتری پر پربھات کا لوگو نقش کرا لیا۔ اس پر ‘پربھات نگر’ حروف بھی سرخیوں میں لکھوا لیے۔ پیچھے ایک تیر بھی پرنٹ کیا، جس کی نوک پربھات نگر کی طرف جانے والی سمت کا اشارہ کرتی تھی۔ پُونا کے لکڑی پل سے لے کر ہمارے سٹوڈیو تک راستے کے ہر بجلی کے کھمبے پر یہ طشتریاں میں نے فِٹ کروا دیں۔ اس راستے آتے جاتے وقت ان طشتریوں کو دیکھ کر میں ایک بچے کی طرح خوش ہو جاتا تھا۔

ہمارے ‘پربھات’ کی روشنی اب پورے دیش میں پھیل چکی تھی۔ ہمارا جدید سٹوڈیو دیکھنے کے لیے دوردور سے لوگ آنے لگے تھے۔ ملک کے کونے کونے سے آنے والے ان لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ہمارے کام میں مشکل پیدا ہونےلگی۔ آخر ہم نے اعلان کیا کہ ہمارا سٹوڈیو عوام کے دیکھنے کے لیے ہر بدھوار کو صبح کھلا رہے گا۔

انہیں دنوں اخبار میں پڑھا کہ “سبھی مراٹھی لوگوں کے پیارے گائیک اداکار نارائن راؤ راج ہنس عرف بال گندھرو نے بھاری قرض کے کارن اپنی گندھرو ناٹک منڈلی بند کر دی ہے۔”

کچھ معزز لوگوں نے ہمیں سجھاؤ دیا کہ کیوں نہ ہم بال گندھرو کو اہم کردار دے کر دو ایک فلمیں بنائیں۔ سجھاؤ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسی فلم پر ہوئے خرچ کے بھگتان کے بعد بچے منافعے میں ‘پربھات’ اور بال گندھرو کا آدھا آدھا ساجھا ہو۔ سچ پوچھا جائے تو ہمیں اتنے جھنجھٹ میں پڑ کر فلم بنانےکی ضرورت نہیں تھی، لیکن بال گندھرو جیسا ایک مہان کلاکار معاشی کٹھنائیوں میں پھنسا ہو، اس کی مدد کرنا اپنا فرض مان کر ہم نے بال گندھرو کے ساتھ دو فلموں کا معاہدہ کر لیا۔

بال گندھرو ناٹکوں میں عورت کا کردار کرتے رہے تھے۔ لیکن اب تو فلموں میں عورتوں کے کردار عورتیں ہی کرنے لگی تھیں۔ ایسی صورت میں انہیں عورت کردار میں پردے پر دکھانا بڑا عجیب سا لگتا۔ وہ نہ عورت، نہ مرد معلوم ہوتے تھے، لہٰذا انہیں زنانہ کردار دے کر کوئی فلم کامیاب نہیں ہو گی، اسے میں من ہی من اچھی طرح سے جان گیا تھا۔ وہ قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے فلم کا کاروباری نظر میں کامیاب ہونا نہایت ضروری تھا، دوسری صورت میں وہ مقصد ہی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے یہ بات نارائن راؤ کو اچھی طرح سے سمجھائی۔

بال گندھرو فلموں میں عورتوں کے کردار نبھاتے تھے، شانتا راما نے انہیں ایک اصلاح پسند مذہبی رہنما کے طور پر متعارف کرایا

بال گندھرو کا رنگ روپ، سوبھاؤ، سب کچھ بہت ہی شانت اور ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک انتہائی محبت بھرا تھا۔ میں کھوجنے لگا ان کے اسی سوبھاؤ کے مطابق اور ‘پربھات’ کی روایت کے مطابق ایک کہانی، جس میں انہیں کردار دیا جا سکے۔ کافی دنوں پہلے میرے من میں چھوت چھات کی روک تھام کے موضوع کو لےکر ایک فلم بنانے کی بات آئی تھی۔ فلم کے ذریعے سے اس مصیبت کی طرف میں سماج کا دھیان مرکوز کرانا چاہتا تھا۔کولہاپور کے راجہ شاہُو مہاراج نے اپنی ریاست میں چھوت چھات پر کافی کام کیا تھا۔ ان کے اس کام کا میرےذہن پر عجیب اثر پڑا تھا۔ اِدھر مہاتما گاندھی بھی سارے ملک میں اسی کام کے لیے عوامی بیداری کی مہم چلا رہے تھے۔

کے نارائن کالے نے اس ضمن میں میرے سامنے ایک مشورہ رکھا کہ ’’جات پات پر نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو ہری کا کوئی(ذات پات کی بنیاد پرکوئی نہیں برتری نہیں ہے جو ہری کا جاپ کرتا ہے، ہری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے)، اس یقین کے ساتھ جیون بتانے والے مہاراشٹر کے سنت ایکناتھ کے جیون پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ سنت ایکناتھ تین سو سال پہلے اسی چھوت چھات کو مٹانے میں لگے تھے۔ ان کا یقین اور سیکھ یہی تھی کہ آدمی صرف اس لیے نیچا نہیں ہو جاتا کہ اس کا جنم مہار یا ماتنگ سماج میں ہوا ہے۔ یہی ثابت کرنے کے لیے سنت ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے گئے تھے۔ مہاراشٹر کے وہ اولین سماجی مصلح تھے۔ بات کچھ مجھے جچ گئی۔ کالےجی کا مشورہ مان لیا گیا۔ میں نے سنت ایکناتھ کے بھجن، بھاروڈ (روایتی موضوعات پر تاثراتی ڈھنگ سے رچا لوک گیت) وغیرہ لٹریچر منگوا کر پڑھ لیا اور اسی کی بنیاد پر میں نے اور کالے جی نے بیٹھ کر ایک کہانی تیار کی۔

سٹیج پر ہمیشہ ساڑھی پہن کر ہی کام کرنے والے بال گندھرو کو دھوتی اور کرتا پہنایا گیا۔ مونچھیں لگوا دی گئیں۔ سر پر چوٹی رکھ کر باقی سارا سر ان دنوں کے پنڈتوں کے ڈھنگ سے منڈوا دیا گیا۔ اوپر سے پگڑی بھی پہنا دی گئی۔ کیشوراؤ دھایبر کے سالے وِنائک راؤ گھورپڑے کی ایک بہت ہی سندر اور چلبلی لڑکی تھی، وَسنتی۔ اس کو ایک مہار کی لڑکی کا کردار دیا گیا۔

میں نے نئے میوزک ڈائرکٹر کی کھوج شروع کی۔ ہمارے میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے زیادہ تر پرانے مشہور گانوں کی دھنوں پر ہی نئی دھنیں بناتے تھے اور کلاسیکی موسیقی کی راگداری پر مبنی دھن بنانا تو ان کے بس کے باہر کی بات تھی۔

بال گندھرو جیسا رسیلا گایک اور سنت ایکناتھ مہاراج پر بنیادی لٹریچر لکھنا درکار ہو، تب تو میوزک ڈائرکٹر ایسا ہونا ہی چاہیے تھا جو بال گندھرو کی گائیکی مہارت کے ساتھ انصاف کر سکے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ فلم کا سنگیت بھی ایک دم اعلیٰ درجے کا ہو۔ یہی سب سوچ کر میں نے مشہور گایک اور میوزک ڈائرکٹر ماسٹر کرشن راؤ کو اس فلم کا سنگیت سنوارنے کا کام سونپا۔ اس کے علاوہ مشہور طبلہ استاد احمد جان تِھرکوا کو، جو ناٹکوں اور محفلوں میں بال گندھرو کی سنگت کرتے رہے تھے، ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں کام پر رکھ لیا۔

ماسٹر کرشن راؤ اصل میں نئی تخلیق کرنے والے میوزک ڈائرکٹر تھے۔ جب تک بال گندھرو اور میں مطمئن نہ ہو جائیں، وہ ایک ہی گیت کو ایک سے زائد دھنوں میں سنایا کرتے تھے۔

اس فلم کا ٹائٹل ہم نےرکھا ‘مہاتما’۔ اس کی ریہرسل تیزی سے ہونے لگی۔ بال گندھرو اتنے آزادخیال تھے اپنا بڑا ہونا بُھلا کے نئے اداکاروں کی طرح ساری باتیں مجھ سے سمجھ لیتے تھے۔ ان کے جیون میں مرد کردار کا کام کرنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔ فطری طور پر ان کی چال ڈھال میں زنانہ پن آ گیا تھا، اسے دور کرنے کے لیے مجھے کافی محنت کرنی اور کروانی پڑی۔ پوری فلم میں سنت ایکناتھ کی جذباتی وقار اور عقل کے ساتھ ایک روپ ہو کر کام کرنے کی وہ بھرپور کوشش کرتے تھے۔ لیکن کبھی کسی سین کی ایکٹنگ ٹھیک سے نہ ہو پاتی، تو وہ خود مجھ سے وہ اداکاری کر دکھانےکو کہہ دیتے تھے۔

ایک دن ایک بہت ہی جذباتی سین کی ریہرسل پورے رنگ پر آ چکی تھی۔ میں نے بال گندھرو کو ایکناتھ کی اداکاری کر کے دکھائی اور دوسرے ہی لمحے ننھی وسنتی کو مہار لڑکی کی اداکاری بھی کر کے دکھائی۔ بال گندھرو میرے پاس آئے میری پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “انا، واہ واہ! کیا کمال ہے۔ پل میں آپ ایکناتھ بن جاتے ہو، اور دوسرے ہی پل ننھا سا بالک بھی!”

بال گندھرو جیسے مہان کلاکار سے اس طرح شاباشی ملنے پر مجھے بہت اچھا لگا۔ کمپنی کے دیگر سبھی کاریگر اور کلاکار مجھے عزت سے ‘انا’ مخاطب کرتے تھے۔ لیکن بال گندھرو کے منھ سے بھی وہی خطاب سن کر میں بہت ہی مشکل میں پڑ گیا۔ میں نے شائستگی سے ان سے کہا، “میں گندھرو ناٹک منڈلی میں نوکری کرتا تھا، تب تو آپ مجھے ‘شانتا’ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ آج بھی آپ مجھے اسی طرح شانتا بلایا کریں، وہی اچھا لگے گا! وہ آپ کے چرنوں میں بیٹھ کر میں جو کچھ سیکھ پایا، اس کا اس انڈسٹری میں کافی استعمال ہو رہا ہے۔ آپ کےاس احسان کو جب میں دل سے قبول کرتا ہوں، آپ مجھے ‘انا’ کہیں، یہ ٹھیک نہیں!”

بال گندھرو کو میری بات قطعی منظور نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “بھگوَن، اس سمے آپ ‘شانتا’ تھے۔ آج آپ اپنے بل بوتے پر اور کارکردگی دکھا کر بڑے ہو گئے ہیں۔ ریہرسل کراتے سمے آپ جس طرح کھو جاتے ہیں، اسے دیکھ کر مجھے آسانی سے لگا کہ آپ کو ‘انا’ کہہ کر ہی مخاطب کروں!”

ان کی دلیل لاجواب تھی! اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔

‘مہاتما’ کی شوٹنگ شروع ہوئی اور ایک دن اچانک ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر سٹوڈیو میں آئے۔ ہم سب نےان کا دلی استقبال کیا۔ جل پان ہوا۔ وہ بال گندھرو سے اچھی طرح واقف تھے۔ بال گندھرو کے ‘دروپدی’ ناٹک کے سین بابوراؤ پینٹر نے تیار کیے تھے۔ بابوراؤ کی اس بےمثال ملاقات کی یاد میں ہم نے ایک فوٹو کھنچوا لیا، جس میں ان کے لیے اپنا احترام ظاہر کرنے کے لیے ان کے ساتھ کرسی پر نہ بیٹھتے ہوئے باقی سب لوگ پیچھے کھڑے رہے اور میں سامنے زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا۔

اپنے سبھی ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ناچتا ہوا میں نے پایا۔ آخر بابوراؤ پینٹر کے اس طرح اچانک ہمارے یہاں آ دھمکنے کا کارن کیا ہو سکتا ہے؟ راز کیا ہے؟ ہم سب لوگ امید کر رہے تھے کہ سیٹھ پربھات فلم کمپنی، وہاں کی مشینری، کمپنی کا احاطہ، ہماری بنائی فلموں وغیرہ کے بارے میں کچھ تو رائے ظاہر کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

کچھ سمے بعد وہ جانے کو تیار ہوئے۔ انہوں نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا، “مجھے دس ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔”

وہ یہ رقم فوراً چاہتے تھے۔ رقم لینے کے لیے کل آؤں گا، کہہ کر وہ چلےگئے۔ اس کے بعد میں نے ساتھیوں کو بابوراؤ کی گئی رقم کی مانگ کے بارے میں بتا دیا۔ ہم سب کو ان کا یہ طریقہ عجیب و غریب لگا۔

دوسرے دن وہ پُونا سٹوڈیو میں آئے۔ میں نے ایک لفافے میں وہ رقم انہیں دے دی۔ سیٹھ نے لفافہ جیب میں ڈالا اور بنا کسی سے کچھ بولے وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔۔۔

‘مہاتما’ کے سکرین پلے میں میں نے ایک ڈھونگی سادھو بابا کا کردار تخلیق کیا۔ اس سادھو بابا کے کچھ کارنامے میں نے خود دیکھے تھے، اسی طرح کے ڈھکوسلاباز سادھو باباؤں کے طریقے کو جوں کا توں لے لیا تھا۔ پچھلے دنوں ایک بار دادا مہاراج کے ساتھ بیتے اس واقعے کے بعد ایک امیر بیوپاری کسی باباجی کو ہمارے یہاں لے آیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے چیلے چپاٹے بھی تھے۔ اس سمے کا ایک بہت ہی بھونڈا سین یاد بن کر رہ گیا تھا: اس باباجی کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اس کے سامنےکچھ پھل ول رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کیلا لیا، تھوڑاسا کھایا، اور بعد میں بچا ہوا کیلا پاس ہی کھڑے ایک چیلے کو دے دیا۔ اس نے اس جوٹھے کیلے کو باباجی کا پرساد مان کر ماتھے سے لگایا اور کچھ حصہ اپنے دانتوں سے کاٹ کر باقی کیلا دوسرے چیلےکو تھما دیا۔ یہی سلسلہ جاری رہا۔ وہ کیلا گھومتا ہوا آخر میرے پاس کھڑے ایک سجن کو دیا گیا۔ تب اس میں کیلا بہت کم اور چھلکا کافی زیادہ رہ گیا تھا۔ مجھے اس بھونڈے رواج پر بہت ہی گھن آ گئی۔ متلی سی آنے لگی۔ یہ دیکھ کر کہ سادھو باباجی کا وہ پرساد کھانے کی نوبت اب مجھ پر بھی آنے جا رہی ہے، کسی کام کے بہانے میں وہاں سے چپ چاپ کھسکا۔

اس گھناؤنے سین کو جوں کا توں ‘مہاتما’ میں فلمانا میں نے طے کیا۔ مراٹھی ‘مہاتما’ میں اس بھوندو سادھو کا کام میں نے اداکار کیلکر کو دیا اور ہندی ورژن میں چندرموہن کو، جی ہاں، چندرموہن کو!

’چندر سینا’ کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد ایک دن چندرموہن سویرے ہی میرے گھر پر آیا اور نم آنکھوں سے اس نے ایک دم میرے چرن چھو لیے۔ اپنےغلط رویے کی اس نے مجھ سے معافی مانگی۔ چندرموہن میرا بنایا ہوا کلاکار تھا۔ میں نے ہی اسے گھڑا تھا۔ وہ میرا اپنا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے اوپر اٹھایا اور کہا، “تم نے مجھ سے دلی معافی مانگی ہے، اب میرا سارا غصہ اتر گیا ہے۔”

کچھ لمحے تو چندرموہن کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ کہیں سپنا تو نہیں، یہ تاثر اس کی آنکھوں میں دکھائی دیا۔ لیکن میں نے اسے یقین دلایا، یقین دہانی کرائی۔

“معاہدے کے مطابق ‘پربھات’ کی آخری فلم کا کام پورا کر تم باہر کی فلمی دنیا میں قدم رکھو گے تو تمہارا نام یقینی ہی مقبولیت کی چوٹی پر چمکے، اسی طرح کا کردار میں تمہیں دوں گا!”

اسے دیا گیا وہ وعدہ آگے چل کر ‘امر جیوتی’ فلم میں میں نے پورا کیا۔

‘مہاتما’ فلم پُراثر بنے، اس وجہ سے میں نے اسے اپنے خاص ڈائرکشن سٹائل سے من لگا کر سجایا سنوارا تھا۔ ایک سین تھا: پیٹھن گاؤں کے مہار کی ایک لڑکی جائی کے گھر کھانے پر جانا ایکناتھ قبول کر لیتے ہیں۔ مہاراج کے دعوت نامہ قبول کر لینے کے کارن جائی تو خوشی کے مارے پاگل ہوئی جاتی ہے۔ وہ سارے گاؤں کی گلیوں سے ناچتی گاتی جاتی ہے اور راستے میں ملنے والے ہر آدمی کو بہت خوش ہو کر بتاتی پھرتی ہے، “کل آویں گے ناتھ ہمارے گھر پر، بھوجن پر۔” جائی کی ان خوشیوں کے کارن سب لوگ متاثر ہو جاتے ہیں، ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں، خوشی کے آنسو بہنے لگتے ہیں اور خوشی کےاس نزدیکی موقعے پر ہی ‘انٹرویل’ ہوتا ہے۔

انٹرویل کےبعد فلم آگے بڑھتی ہے۔ مہار ٹولا خوشی سے مست ہو گیا ہے۔ گھر کا ہر پھٹا پرانا چیتھڑا مہار لوگ دھو دھو کر صاف کرنے میں لگے ہیں۔ عورتیں اپنی اپنی جھگی جھونپڑی کے سامنے کا گھر آنگن لیپ پوت کر چمکانے میں جٹی ہیں۔ جھاڑ پونچھ جاری ہے۔ مہار ٹولےکا بچہ بچہ کسی نالے تالاب میں نہا نہا کر صاف بننے کی کوشش میں ہے۔ جدھر دیکھو، خوشی ہی خوشی ہے۔ ایک امنگ بھرا سماں بنتا جا رہا ہے۔ یہ دونوں سین بےشمار خوشی سے بھرے تھے۔ ‘مہاتما’ کا ایک اور دل چھونے والا سین تھا:

ایکناتھ مہاراج کے گھر پر شرادھ (ختم) ہے، لیکن سبھی براہمنوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا ہے، اس لیے دوپہر بیت جاتی ہے، غروب سمے ٹل جاتا ہے، دیپ جلانے کا وقت آ جاتا ہے، تب بھی ایکناتھ کے پُرکھوں کی آتما کو احترام دینے کے لیے کوئی بھی براہمن کے گھر شرادھ کے لیے آتا نہیں۔ سبھی براہمن لوگ اسی اکڑ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ بےعزتی کا مارا ایکناتھ ہاتھ جوڑ کر چرنوں میں آ گرے گا اور گڑگڑا کر منتیں کرے گا۔ ادھر ایکناتھ کے باڑے کے باہر مہار اور ماتنگ لوگ اس امید سے راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب براہمنوں کا بھوجن ہو، اور کب انہیں جوٹھی مٹھائی وغیرہ کھانے کو ملے۔ آخر ایکناتھ مہاراج ان سب لوگوں کو اپنے باڑے میں بلاتے ہیں اور اس پرجوش جنتا کو قطاروں میں بٹھا کر پورا کھانا پروستے ہیں، جس میں ایکناتھ کی خوش اخلاق بیوی اور نوکر شریکھنڈ بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔

اس سین کی شوٹنگ جاری تھی، تبھی اچانک مجھے ایک اور محبت بھرا سین ڈالنے کا خیال سوجھا۔ بھوجن جاری ہے۔ بوندی کے لڈو پروسے جا رہے ہیں۔ کھانے میں بڑوں کے ساتھ دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایک بچہ لڈو اٹھا کر منھ میں بھرتا ہے اور اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لڈو کچھ سخت بنے ہیں۔ بچہ اسے توڑ نہیں پاتا، اس کے پاس ہی بیٹھا دوسرا کچھ بڑا سا بچہ اس کا لڈو لے لیتا ہے اور اپنے منھ میں ڈال کر توڑتا ہے۔ اس کے ٹوٹتے ہی لڈو کا ایک ٹکڑا اس کے منھ میں آتا ہے۔ سب کو لگتا ہے کہ اب یہ بچہ پورا لڈو صاف کر جائےگا۔ تبھی وہ بچہ بڑی ممتا اور محبت سے لڈو کا وہ ٹکڑا چھوٹے بچے کے منھ میں ڈالتا ہے اور اسی طرح اس کو کھلاتا جاتا ہے۔

شبدوں کے سبھی طول و عرض کو پار کرتا ہوا ڈائرکٹر کہیں خاموش سین کو بھی بےحد پُراثر بنا سکتا ہے، اس سوچ پر میرا عقیدہ ایسےسین کی شوٹنگ کےکارن ہی روز بہ روز بڑھتا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی میں محسوس کرنے لگا کہ کچھ سین کو علامتی روپ دینے سے وہ بہت ہی بامعنی بن جاتے ہیں۔ ‘مہاتما’ فلم میں آخر میں ایک سین ہے کہ سنت ایکناتھ اور ان کے دیو صفت پنڈت بیٹے میں ایک مذہبی مناظرہ ہوتا ہے۔

ایکناتھ کے دیو شاستر( دینیات) میں کامیاب بیٹے کا خیال ہوتا ہےکہ اپنے قدامت شکن باپ کا منھ دیکھنے سے وہ بھرشٹ ہو جائے گا، اس لیے بحث کے وقت وہ بیچ میں ایک پردہ لگوا لیتا ہے۔ ایکناتھ روشنی کی طرف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پرچھائیں سامنے پڑتی ہے اور اس پرچھائیں میں سے ان کا لڑکا اپنی پنڈتائی بگھارتا دکھائی دیتا ہے۔ بھید، چاتر ورنیہ، پرانیوں میں ویاپت اچنیچتا وغیرہ (مذہبی) موضوعات پر دونوں میں کافی دھواں دھار شاستر ارتھ (مناظرہ) ہوتا ہے۔ اس منظر کے فلمانے میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ لڑکا کتنا ہی مہان پنڈت کیوں نہ ہو، وہ اس دنیا میں اس انسان پرست مہاتما کی پرچھائیں سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میرے من کے اس ارادے کے اضافی اور بھی کئی معنی اس منظر سے نکالے جائیں گے، لیکن کیا کبھی کوئی تخلیقی انسان اپنی کسی سرشت کے سبھی طول و عرض کو الفاظ دے پاتا ہے؟

فلم پوری ہو گئی۔

اسے سنسر کے لیے میں خود بمبئی لے گیا۔ سنسر کے ایک ممبر نے ‘مہاتما’ دیکھی۔ اس نے فیصلہ دیا: ”چونکہ یہ فلم ذات پات جیسے متنازعہ سوال پر بنی ہے، میں اکیلا اس کو پاس کرنےکی ذمےداری نہیں لیتا۔ سنسربورڈ کے سبھی ارکان کو فلم دکھانی ہو گی۔” ممبر کا وہ فیصلہ سن کر تو میرے پیٹ میں بل پڑنے لگے۔ ‘سوراجیاچے تورن’ فلم کے سمے ہوا سارا گھٹناچکر پھر ایک بار آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ من میں خدشہ جاگ اٹھا کہ کہیں پھر ویسا ہی نہ ہو جائے۔

اور آخر میں میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا! سنسر کے سبھی ممبروں نے فلم دیکھی اور اپنی رائے دی: اس فلم کےکارن اونچی ذاتوں کے ہندوؤں میں غصہ پھوٹ پڑےگا، ذات پرستی بڑھےگی، ملک میں بےاطمینانی پھیلےگی اور نتیجتاً امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا! اس لیے سنسر بورڈ کا فیصلہ ہے: ‘مہاتما’ فلم پر مکمل پابندی!’
)جاری ہے(

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 14: آف ویدر زہن!” (ترجمہ: فروا شفقت)

تار میں لکھا تھا، “گووندراؤ ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر، لیلابائی، وِنائک اور کچھ اور کلاکاروں اور ٹیکنیشینوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ پُونا آنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ جلدی بھارت لوٹ آئیے۔” تار کے نیچے داملےجی کا نام تھا۔

کچھ لمحے تو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کہاں ہوں، کیا کر رہا ہوں۔ زیادہ تنخواہ دینا قبول کرنے کے بعد بھی آخر یہ سب لوگ استعفیٰ کیوں دے بیٹھے ہیں؟ خاص کر بابوراؤ پینڈھارکر اور میری بھکتی کرتے ہوئے مجھ سے محبت بھی کرنے والے ونائک جیسے لوگوں نے بھی میری غیرموجودگی میں، جب میں یہاں دور پردیس میں ہوں تب، استعفیٰ دے دیا؟

آخر کیوں؟

اُفا اور آگفا کمپنی کے بھیجے گئے موٹی موٹی رقموں کے بِل، باپو کی بیماری اور ایسے میں ہی کولہاپور کے اس تار نے تو مجھے حیران کر دیا۔ بےچین من سے میں کمرے میں ہی ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا رہا۔ تیزی سے ڈگ بھرتا رہا۔ میری دندناہٹ کے لیے وہ کمرہ چھوٹا پڑنے لگا۔ آخر میں باہر سڑک پر آ گیا اور فٹ پاتھ پر تیزی سے چہل قدمی کرنے لگا۔ چلتا ہی جا رہا تھا کہ راستے میں ایک سنیماگھر دکھائی دیا۔ وہاں ‘میڈم بٹرفلائی’ فلم لگی تھی۔ سوچا، کچھ تفریح ہو جائے گی۔

لیکن اس دن بدقسمتی ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی تھی۔ اس فلم کی کہانی ایک جاپانی عورت کی کہانی پر مبنی تھی۔ وہ جاپان میں آئے ایک امریکی فوجی سے پیار کرنے لگتی ہے۔ دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ تبھی اس امریکی فوجی کو دیس لوٹنے کا حکم ملتا ہے۔ جاتے وقت وہ فوجی اپنی جاپانی بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ ملک لوٹتے ہی امریکی سرکار سے اجازت حاصل کر میں تمہیں اُدھر بلا لوں گا۔ وہ انتظار کرتی رہتی ہے۔ کافی دن بیت جاتے ہیں۔ لیکن اس سپاہی کا کوئی خط نہیں آتا۔ آخر ہار کر وہ ایک نوکیلی تلوار اپنی چھاتی میں گھونپ کر ہاراکری (خودکشی) کر لیتی ہے، جاپانی رواجوں کے مطابق۔

میں اس لیے فلم دیکھنے گیا تھا کہ دل و دماغ کو کچھ شانتی ملے گی، لیکن وہاں ٹھیک برعکس ہو گیا اور میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ بےچین ہو کر لوٹ آیا۔ جاپان ایک مشرقی دیس ہے۔ وہاں کی وہ عورت میری بہن ہی تو ہوئی۔ ہیروئین کے ساتھ دھوکہ کیے جانے کی وجہ سے اسے ہاراکری کرنی پڑتی ہے۔۔۔ سر پھٹا جا رہا تھا۔

اس ساری گھبراہٹ سے آزادی پانےکا راستہ کیا ہے؟ کسی سے سُن رکھا تھا کہ ایسے درد کی دوا شراب ہے۔ درد بےقابو ہو گیا تو شراب کے نشے میں اسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ میں ہمیشہ کے ہوٹل میں گیا۔ ویٹریس کھانے کا آرڈر لینے کے لیے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے اس سے کہا، “پہلے میرے لیے شراب لے آؤ۔” وہ جانتی تھی کہ میں کبھی شراب نہیں پیتا، لہٰذا وہ منھ پھیلائے مجھے دیکھتی رہی۔ میں اس پر لگ بھگ چلّا اٹھا، “شراب لاؤ!”

میرا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔ چہرے پر زبردستی ہنسی لاتے ہوئے اس نے پوچھا،
“کون سی لاؤں؟ کس برانڈ کی؟”

شراب کے ایک بھی برانڈ کا مجھےعلم نہیں تھا۔ لیکن بڑا رعب گانٹھتے ہوئے میں نے فرمایا، “کوئی سی بھی! لیکن ہو اچھی سٹرانگ! تمہاری پسند کی ایسی کوئی بھی شراب لے آؤ، جس کا نشہ فوراً سوار ہو جائے۔” وہ جلدی جلدی چلی گئی۔

کھانے کا وہ ہال لگ بھگ ستر اسی فٹ لمبا تھا۔ وہ اس کے پرلے سرے پر ایک دروازے سے اندر چلی گئی۔ میں سوچنے لگا، اب وہ شراب لے کر آئے گی۔ دو چار پیگ چڑھا لینے کے بعد ضرور مجھ پر نشہ سوار ہو جائے گا۔ پھر شانتی محسوس ہو گی۔ بہت ہی اتاؤلے من سے میں ویٹریس کی راہ دیکھنے لگا۔

کھانے کے کمرے کا وہ جھولتا دروازہ ہلا۔ ایک ٹرے میں شراب کی بوتل اور ایک بَڑھیا باریک نکیلے کنارے والا شراب پینے کا گلاس رکھے وہ چلی آ رہی تھی۔ سر میں خیالات کا چکر گھومنے لگا۔

“اب اس بوتل میں رکھی شراب میں پیوں گا۔ نشہ چڑھے گا۔ نشے میں جھوم کر میں کہیں گر پڑوں گا۔ اس کے بعد سر میں اٹھ رہا وِچاروں کا طوفان شاید شانت ہو جائے گا۔۔۔ کم سے کم کچھ سمے کے لیے تو شانت ہو ہی جائے گا۔۔۔ لیکن آج میرے سامنے جو سوال منھ کھولے کھڑے ہیں، کیا وہ اس نشے میں حل ہو جائیں گے؟ کبھی نہیں! پھر تم کیا کرو گے؟ نشہ اتر گیا تو پھر شراب پیو گے۔۔۔ پھر نشہ۔۔۔ شراب اور پھر لگاتار شراب پی پی کر سُدھ بُدھ کھو کر آخر کسی گندی نالی میں نڈھال ہو کر پڑے رہو گے! کیا یہی کرتے رہو گے؟”

“نہیں! نہیں!” میں زور سے چلّایا۔ ویٹریس میری ٹیبل کے پاس شراب کی بوتل اور گلاس لیے کھڑی تھی۔ وہ حیران سی، تذبذب میں پڑی مجھے گھور رہی تھی۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میں نےکہا، “اس بوتل کو واپس لے جاؤ۔ مجھے شراب نہیں چاہیے۔ یہ بوتل تمھیں انعام دیتا ہوں۔ اسے تم اپنے گھر لے جاؤ۔”

میں نے اس کی ٹرے میں شراب کی بوتل قیمت کے مارک رکھ دیے۔ اوپر ٹِپ کےطور پر اور دس مارک رکھے اور ہوٹل سے سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا۔ جسم پر پہنے سارے کپڑے اتار پھینکے اور بستر پر بےسُدھ جا دھمکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر سے سارا جسم سائیں سائیں کرتا جل رہا ہے۔ جان تڑپ رہی تھی۔ لگاتار کروٹیں بدلتا میں بےچین ہو رہا تھا۔ کیا کروں، کیا نہ کروں۔ کیا ہو رہا تھا؟ پلنگ کے نیچے جیسے کسی نے سو سو چولہے جلا رکھے تھے اور ان کی آنچ میں روم روم جھلسا جا رہا تھا۔ جَل بِن مچھلی جیسی حالت ہو گئی تھی۔ دم گھٹتا جا رہا تھا۔ آخر میں پلنگ پر اٹھ بیٹھا اور منھ سے چیخ نکلی، “ہے بھگوان!”

آدھی اور طوفان بھری رات میں راہ بھولے مسافر کو اچانک بجلی کوندھتے ہی اس چکاچوندھ میں راستہ دکھائی دیتا ہے، بھگوان کو پکار دیتے ہی میری حالت ویسی ہی ہو گئی۔ میں ہر دن صبح نہانے کے بعد بھیگے بدن شری وشنو کی مورتی کو یاد کر یکسوئی سے ان کا دھیان کیا کرتا تھا۔ اسی کی مجھے یاد آئی۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور عرض کرنے لگا، “ہے بھگوان، میرے من کو شانتی دو، میرا سُلگتا ماتھا شانت کرو!”

آنکھیں کھلیں تو سویرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا۔ پتا نہیں کب سو گیا تھا۔ لیکن اب مجھے ایک دم تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ تن من کی ساری تھکان غائب ہو گئی تھی۔ من کو دکھ دینے والی ہر مصیبت کا سامنا کرنے کی شکتی جاگ اٹھی تھی۔ بھگوان کی پرارتھنا میں میرا اعتماد سو گنا ہو گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی جیون کا ایک مہامنتر مجھے مل گیا تھا کہ “مصیبتیں چاہے جتنی آئیں، تھک ہار کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ایسے سمے زیادہ جوش اور امنگ کے ساتھ پورے جوش سے ان مصیبتوں کا سامنا کر آگے بڑھنا ہی سچی کوشش ہے!”

ہندوستان سے بھجوائے پیسے ہاتھ آتے ہی میں نے اُفا اور آگفا کے بِل بنا کوئی بھاؤتاؤ کیے چکا دیے۔ ‘پربھات’ کے غیرمعمولی لوگوں کے استعفیٰ دینے کے کارن پیدا ہوئی صورت حال سے راستہ نکالنے کا طریقہ من میں جاگ اٹھا اور سوچا کہ اس کٹھنائی سے پار ہونے کا حل ایک ہی ہے: ایک زبردست فلم بنانا۔ میں اسی نظریے سے سوچنے لگ گیا۔

بچپن میں بَھوانی کو بکرے کی بلی چڑھائی جاتے میں نے دیکھا تھا۔ دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے جانور بلی چڑھانے کا رواج آج بھی کافی جگہ پر جاری تھا۔ دیش کے کچھ حصوں میں تو نَربلی بھی دی جاتی تھی۔ یہ غیرانسانی رسم پرانے زمانے سے آج تک سارے ہندوستان کی مختلف دیوالیوں میں جاری تھی۔ سوچا کہ انہی قابلِ مذمت رواجوں پر چوٹ کرتے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنےکی کوشش کرنے والی کہانی اپنی آئندہ فلم کے لیے چنوں۔ اس کہانی کی تخلیق میں من ہی من کرنے لگا۔

غریب اندھا اعتماد کرنے والے لوگوں پر اپنی تیکھی اور چبھتی نظر سے دھاک جمائے بیٹھا دھرم گُرو اس کہانی کا مرکزی نقطہ تھا۔ جرمنی آنے پر دھرم گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاپ لینے کے لیے ضروری ٹیلی فوٹو لینز کے بارے میں مَیں نے پوچھ تاچھ شروع کر دی تھی۔ پیٹرسن مجھے ایک لینز بنانے والی کمپنی میں لے گئے۔ ان کے پاس ایک لینز تو تیار تھا، لیکن اس سے وہ نتیجہ ممکن نہ ہوتا جو میں چاہتا تھا۔ لہٰذا اسی لینز میں کچھ ترمیم تبدیلی کر، تین سو ملی میٹر والا لینز پندرہ دنوں بعد مجھے دینے کے لیے کمپنی راضی ہو گئی۔ اسی کمپنی میں کارٹون فلم بنانے کے لیے ضروری مشینری بھی تھی۔ والٹ ڈزنی کی ‘مکی ماؤس’ اور دوسری کارٹون فلم سیریز سے میں بھی کافی متاثر ہو چکا تھا۔ چاہ تھی کہ بھارتی پس منظر پر اس طرح کے کچھ نئے تجربے کروں، اس لیے کارٹون شوٹنگ کے لیے ضروری کیمرے اور دوسرے ساز و سامان کا آرڈر بھی میں نے اس کمپنی کو وہیں دے دیا۔

اب اور پندرہ دن برلن میں رکنے کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ ‘پربھات’ کا ساتھ چھوڑ گئے کلاکاروں کی جگہ پر قابل کلاکاروں کو لینےکا وِچار من میں آیا اور اس کے مطابق مزید قابل ناموں کی کھوج میں بیٹھے بیٹھےکرنے لگا۔

مراٹھی فلم ‘شیام سندر’ میں ایک نوجوان لڑکی شانتا آپٹے نے رادھا کا کام کیا تھا۔ اس فلم میں اس کے گائے ہوئے گیت بھی بہت اچھے تھے۔ اس کی گائیکی بھی اچھی تھی۔ لیکن اس کی اداکاری میں کوئی جان نہیں تھی۔ پردے پر تو وہ ایسی لگتی جیسے چلتی پھرتی لاش ہو۔ اخباروں نے اپنے جائزوں میں اس کے بارے میں بہت ہی بُری رائے ظاہر کی تھی۔ اس شانتا آپٹے کو ‘شیام سندر’ میں وہ کام کرنے آنے سے پہلے میں نے ایک بار دیکھا تھا۔ اس کا گانا بھی سنا تھا۔ اس سمے مجھے ایسا تو ضرور لگا تھا کہ ہو نہ ہو، اس میں کچھ خاص بات ہے، پر اس کے باوجود ہیروئن کے کام کے لیے اس کے موزوں ہونے پر مجھے شُبہ تھا۔ ہیروئن کی کھوج کرتے کرتے مجھے نلِنی ترکھڈ کی یاد آئی۔ نلِنی کبھی ایک بار مجھ سے ملی تھیں۔ اچھی پڑھی لکھی تھیں اورکافی دلکش لگتی تھیں۔

میں نے فوراً ہی داملےجی کو تفصیلی خط لکھا: “آئندہ فلم کے لیے من میں ایک بہترین اور اثردار کہانی شکل لے رہی ہے۔ اس کے لیے اب ہمیں نئے کلاکاروں کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔ ‘شیام سندر’ میں رادھا کا کردار نبھانے والی شانتا آپٹے کو بلا کر اس کے ساتھ قرار کر لیجیے۔ اس کے علاوہ نلِنی ترکھڈ کا بمبئی کا پتا بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم کر لیجیے۔ بمبئی پہنچتے ہی میں خود ان سے بات کروں گا۔ ولن کے لیے اداکاری میں انتہائی قابل کلاکار کی ضرورت پڑے گی۔ میری کہانی میں ولن کا کردار ایک اہم کردار رہے گا، لیکن اس کے لیے فی الحال تو میری آنکھوں کے سامنے کوئی بھی لائق شخص نہیں ہے۔ ہیرو کے کام کے لیے کسی کسے ہوئے ڈیل ڈول کے نوجوان کی کھوج کرتے رہیے۔ اسے گانا ضرور آنا چاہیے۔ میوزک ڈائریکٹر کا انتخاب میرے پُونا لوٹنے کے بعد سب کی رائے سے کریں گے۔۔۔”

اب تو میں واپس وطن لوٹنے کے لیے مچلنے لگا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کب واپس جاتا ہوں اور اپنے نئے کام کو شروع کرتا ہوں۔ اسی جوش سے برلن میں اپنے خاص کاموں کو ایک ایک کر نبٹانے میں جُٹ گیا۔ ایک دن مجھے افیفا سے خط ملا کہ ‘سیرندھری’ کی بنِا استعمال کی ہوئی نگیٹو کے ڈبے وہیں پڑے ہیں، ان کا کیا کرنا ہے؟ مجھے افیفا میں ایک بار جانا تھا ہی۔

دوسرے دن سویرے میں افِفا پہنچا۔ جینی وہیں تھی، لیکن لگتا تھا وہ غصے میں ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے میں نے اس کا حال تک نہیں پوچھا تھا۔ وہ مجھ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں دکھائی دی۔ نیگیٹو کی جانچ پڑتال میں سمے ضائع نہ ہو، اس وجہ سے جینی نے فرصت کے سمے میں وہ کام پہلے ہی پورا کر رکھا تھا۔ کام کرنے کی اس کی اس تیاری کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف اپنے طرز عمل کو میں کچھ اٹ پٹا سا محسوس کرنے لگا۔ میں اس کے پاس گیا۔ جیب سے ایک ہزار مارک کے نوٹ نکال کر اس کے سامنے کر دیے۔

اس نے پوچھا، “یہ کیا ہے؟”

میں نے کہا، “تم نے اتنے اپنے پیسے یہاں کا سارا کام کیا، اس کے لیے یہ انعام!”

اس نے غصے میں کہا، “تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دیس میں اپنےپن کو انعام دیا جاتا ہے؟” پھر کچھ رُک کر بولی، “یہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لو۔ اب سے تمہارا کوئی بھی کام مجھ سے نہیں ہو گا! تمہاری مدد کے لیے میں کسی اور لڑکی کو بھیج دیتی ہوں!” اتنا کہہ کر وہ دروازے کی طرف جانے لگی۔

میں نے اسے پکارا، “رکو، جینی، بات سنو!” اس کے پاس جا کر میں نے اسے اپنی تکلیفوں کی ساری کہانی سنائی۔ سن کر اس نے میرا ہاتھ جذباتیت سے کس کر تھاما اور مجھ سے معافی مانگی۔ پھر ہم دونوں نیگیٹو کے ٹکڑے جانچنے کے کام میں لگ گئے۔

شام کو ایڈیٹنگ روم کے دروازے پر کسی نے دستک دی اور اس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ اندر آئی۔ میں نے اسے نیگیٹو کے سبھی ٹکڑوں کو جلا دینے کے لیے کہا اور افیفا کا اُس دن کا کرایہ چُکتا کر میں باہر آ گیا۔ جینی وہاں میرا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پوچھا، “اب کیا پانسیوں جاؤ گے؟”

“نہیں۔ اب میں یہاں سے پاس ہی ایک ہوٹل میں رہتا ہوں۔”

باتیں کرتے کرتے ہم لوگ میری کار کے پاس آ گئے۔ اب جینی پہلے سے کافی اچھی انگریزی بولنے لگی تھی۔ میں نے یہ بات اسے بتائی۔ اس پر اس نے کہا، “تمہارے ساتھ اچھی طرح باتیں کر سکوں، اس لیے میں نے رات کی انگریزی کی کلاس ‘جوائن’ کی ہے۔”

میں نے کار کا دروازہ کھولا اور جینی سے اندر بیٹھنے کے لیے کہا، “آؤ، تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔” کار چل پڑی۔ جینی نے شوخ ادا سے پوچھا، “تمہارے ہوٹل میں کھانا تو ملتا ہے نا؟”

میں نے کہا، “جی ہاں، ملتا ہے۔”

“تو چلو، آج میں تمہیں دعوت دیتی ہوں۔ اور ہاں، تمہیں میرے ساتھ کھانا نہ کھانا ہو، تب تو مجھے میرے گھر پر چھوڑ دو!”

اب جا کر کہیں اس کی بات کا اشارہ میری سمجھ میں آیا۔

کھانے کے بعد جینی نے ہنستے ہنستے پوچھا، “تمہارا ہوٹل والا کمرہ دیکھنے کے لیے آؤں تو کیسا رہے گا؟”

“بہت اچھا، چلو،” میں نے کہا۔ ہم دونوں کمرے میں آئے۔ کمرے میں آتے ہی جینی نےمجھے کس کر گلے لگایا اور باربار، لگاتار مجھےچومتی رہی۔ “جینی،جینی” کہتے ہوئے میں نے اسے الگ کیا۔

جینی ہنس رہی تھی۔ مجھےخدشہ ہوا کہ کہیں اسے پاگل پن تو نہیں ہو گیا؟ اس نے مجھے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! وہ ایک دم برہنہ تھی! اتنی سفید سنگ مرمریں کایا میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ مدہوش نظارہ بکھیرتی وہ میرے ٹھیک سامنے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔

ایک پل تو من میں خیال آ ہی گیا کہ میں بھی اپنے سارے کپڑے اتار کر پھینک دوں۔ اٹھوں اور جینی کی گوشت پوست کی کایا کو حصار میں باندھ لوں۔ لیکن نہیں، ایسا سوچنے سے کام نہیں چلےگا۔ مجھے اپنے من پر قابو پانا ہی ہو گا، یہ میرا راستہ نہیں۔ میرا راستہ ہے، میرا اپنا کام، میری اپنی کلا، میرا اپنا آدرش، میرا گرمایا خون دھیرے دھیرے شانت ہونے لگا۔ وہ اسی حالت میں سامنے کھڑی تھی، مدہوش نظارہ اور ہونٹوں پر ملائم مسکراہٹ لیے۔

میں نے ہڑبڑا کر پوچھا، “جینی، تمہارا ارادہ آخر کیا ہے؟”

“میں تمہیں بہت چاہتی ہوں، تم سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔”

“لیکن جینی، یہ ناممکن ہے، نہایت ناممکن ہے!”

اب اس کی آنکھوں میں چنگاریاں چمکنےلگی تھیں۔ بولی، “تم ایک دم روکھے آدمی ہو۔ پتھر ہو۔ اپنا سب کچھ تمہیں قربان کرنے آئی لڑکی کو ٹھکرا کر تم نسائیت کی بےعزتی کر رہے ہو۔” اتنا کہہ کر وہ تلملاتی ٹائلٹ کی طرف چلی گئی۔

نسوانی کردار کا یہ نیا اظہار دیکھ کر میں بوکھلا گیا۔ میرا گلا سوکھ گیا۔ اٹھا، کمرے میں گھنٹی تھی، اسے دبایا۔ بوائے آیا۔ اس سے میں نے دو کولڈ ڈرنک لانے کے لیے کہا۔

کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔ آخر ٹائلٹ کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور اسے پکارا۔

کچھ دیر بعد وہ باہر آئی۔ اس کی آنکھیں رو رو کر لال ہو گئی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لا کر صوفے پر بٹھایا۔ بھنووں کے بیچ کی جگہ کو انگلیوں سے دباتے ہوئے بھاری آواز میں اس نےکہا، “مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے، شانتارام! مجھ سے جو کچھ ہو گیا اور میں نےکٹھورتا سے تمہیں جو کچھ کہہ دیا، اس کے لیے مجھے معاف کرنا!”

میں نےاس کے ہاتھوں میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ جرمن میں دانکے (شکر گزار ہوں) کہہ کر، وہ اسے ایک ہی سانس میں پی گئی۔

کچھ دیر بعد وہ جانے کو کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے رُکنے کے لیے کہا۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ڈرائیور میری کار کو گیرج میں رکھ کر کبھی کا چلا گیا تھا۔ لہٰذا جینی کے لیے اب سُرنگی ریل سےجانا لازمی تھا۔ میں نے اوورکوٹ پہن لیا اور اسے سٹیشن تک چھوڑنے گیا۔

اس کے کچھ دن بعد ٹیلی فوٹو لینز بن کر تیار ہو گیا۔ میں نے اسے آزما کر دیکھا۔ لینز اچھا بنا تھا۔ آخر برلن سے میری رخصتی کا دن آیا۔ امیریکن ایکسپریس کمپنی نے میرا سارا بھاری سامان، ‘سیرندھری’ کے باقی پرنٹس اور میری موٹرکار سیدھے جہاز پر چڑھانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ میں ریلوے سٹیشن پر آیا۔ میری ریزرو جگہ جس ڈبے میں تھی، جینی اس کے پاس پہلے سے ہی آ کر کھڑی تھی۔ میں اس کے پاس گیا۔ اس کا چہرہ ایک دم گمبھیر تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے منھ سے بھی لفظ نہیں نکل پا رہے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بِنا بولے تکتے ہی رہے۔

گارڈ نے سیٹی بجائی۔ میں ڈبےکی پٹری پر چڑھنے جا ہی رہا تھا کہ جینی نے مجھے کس کر بانہوں میں لپیٹ لیا۔ بہت زیادہ جذباتی ہیجان سے اس نے مجھے چوم لیا۔ پھر اس کی گھٹتی سی آواز سنائی دی، “مجھے معاف کرنا۔۔۔ آخری کِس، تمھاری یاد میں۔۔۔ لیکن تم مجھے بُھلا دینا۔ تمہاری پتنی کو میری نیک تمنائیں!”

اس سے پہلے کہ میں کچھ جواب دیتا، گاڑی چل پڑی۔ میں ڈبے میں چڑھ گیا۔ جینی کی آنکھیں ساون بھادوں برسا رہی تھیں۔ ہاتھ سے رومال ہلاتے ہوئے گلے سے اس نے جرمن میں کہا، “آف ویدر زہن، ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)

وداعی کے یہ لفظ سن کر میرا بھی جی بھر آیا۔ آنکھیں چھلک گئیں۔۔۔ اس کی محبت بھری اور جذباتی وداعی سے مغلوب ہو کر میں نے بھی کہا، ” آف ویدر زہن!” اور جیب سے رومال نکال کر ہاتھ اٹھا کر میں اسے ہلانے لگا۔

گاڑی نے تیز رفتار پکڑ لی۔ جینی لگاتار رومال ہلاتی جا رہی تھی اور اس سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ دس پندرہ سیکنڈ میں وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی، لیکن اس کےالفاظ کانوں میں برابر گونجتے رہے :” آف ویدر زہن! ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)

(جاری ہے)

Categories
نان فکشن

شانتاراما – باب 13: رنگ میں بھنگ (ترجمہ: فروا شفقت)

“شانتاراما” برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور سہ ماہی ‘آج’ کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ ‘آج’ کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے سوال کا جواب سننے کے لیے میں بے چین ہو گیا تھا۔ پیٹرسن نے سر جھکا لیا اور نظر چراتے ہوئے افسردگی سےکہا، “تم امید اور حوصلہ مت ہارنا! پہلے ‘اُفا’ سٹوڈیو میں چل کرہم لوگ پرنٹ دیکھتے ہیں۔ ‘اُفا’ کے کلرکیمیکل روم کے ہیڈ ڈاکٹر ولف وہاں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔” انہوں نے پھر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے تھپتھپا دیا۔

میں کسی کٹھ پتلی کی طرح باہر کھڑی کار میں جا کر بیٹھ گیا۔ موٹر بیبلسبرگ کی جانب تیز دوڑنے لگی۔ رنگین پرنٹ دیکھنے کے لیے میں اتنا بےچین ہو رہا تھا کہ میں نے ڈرائیور کو گاڑی اور تیز چلانے کے لیےکہا۔ سپیڈ انڈیکیٹر سوئی سو کے ہندسے کو چھونے لگی۔ پورے سفر میں ہم دونوں ایک دم خاموش بیٹھے تھے۔

آخر سائیں سائیں کرتی ہوئی کار صفائی سے موڑ لے کر اُفا سٹوڈیو کے داخلی دروازے سے صحن میں جا کر رکی۔ ڈاکٹر ولف ہماری راہ ہی دیکھ رہے تھے۔

ہم تینوں ایک چھوٹے تجرباتی سنیماگھر میں گئے۔ ‘سیرندھری’ کا پہلا حصہ پردے پر دکھائی دینے لگا اور پردے پر جو کچھ دِکھ رہا تھا، وہ تو میرے تصور سے بھی بدتر تھا! رنگ میں بھنگ ہو گیا تھا۔ فلم میں سارے رنگ ایسے لگ رہے تھے جیسے پوت دیےگئے ہوں۔

دس منٹ میں پہلا حصہ ختم ہوا۔ میرے تو لفظ ہی جیسے کھو گئے تھے!

ڈاکٹر ولف کو صرف جرمن زبان ہی آتی تھی۔ وہ اور پیٹرسن آپس میں جرمن زبان میں بول رہے تھے۔ بیچ بیچ میں پیٹرسن ولف کی بات مجھےانگریزی میں سمجھاتے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ ہم لوگوں نے شوٹنگ کے وقت رنگ کے نقطہ نظر سے کیمرے کے لینز کے لیے مناسب فلٹرز نہیں لگائے تھے۔ نتیجتاً ساری شوٹنگ کسی نوسِکھیے کی کی ہوئی لگتی تھی۔ میں نے ساری ہمت اکٹھی کر کے پیٹرسن سے پوچھا، ” کیا اس نیگیٹو کے اچھے پرنٹ نہیں بنیں گے؟”

میرے اس سوال پر پیٹرسن اور ولف آپس میں پھر بحث کرنے لگے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آخر ان کی بحث سے کیا نتیجہ اخذ ہونے والا ہے، میں باری باری ان کے چہرے دیکھتا رہا۔

کچھ سمے بعد پیٹرسن نے بتایا، “ہم لوگ بائی پیک سسٹم کی فلم تیار کرنے والی آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشنوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ تمہاری اس خراب نیگیٹو کے اچھے پرنٹ بنیں، اس لیے خاص نئے املشن کی پازیٹو فلم بنانا کہاں تک ممکن ہے، دیکھتے ہیں۔‘‘

میرے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر ڈاکٹر ولف نے پیٹرسن سے کہا، “شانتارام کو کہو کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھے پرنٹ بنانے کی ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے۔ خاص نئی پازیٹو فلم بننے میں پندرہ بیس دن لگ جائیں گے۔ کہنا کہ تب تک اپنی فلم کی آگے کی گراریاں تیار کرو۔”

ولف کی یہ ہمت بندھانے والی باتیں سن کر کچھ تو جان میں جان آ گئی۔

ہم واپس برلن جانے کو نکلے۔ کار میں مَیں تو ایک دم چپ بیٹھا تھا۔ میرا دکھ جان کر پیٹرسن بھی چپ تھے۔ دماغ میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا: جھک ماری جو اس رنگین فلم کی جھنجھٹ میں پڑے۔ ولف نے ٹھیک ہی تو کہا کہ شوٹنگ کسی نوسکھیے کی کی ہوئی لگتی ہے۔ صرف جانکاری کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہی تو ہم لوگوں نے شوٹنگ کی تھی۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ گرامر کی کتاب پڑھ کر کوئی ناول لکھ مارے!

ہم لوگ برلن کب پہنچے، پتا ہی نہ چلا۔ پیٹرسن سُرنگی ریل کے اسٹیشن پر اتر گئے اور میں سیدھے اپنے کمرے میں آ گیا۔

کھانے کی کوئی چاہ نہیں تھی۔ آج کے سارے واقعے کا بیان تفصیل کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو لکھ بھیجنا میرا فرض تھا۔ بیٹھا، لیکن لکھتے لکھتے رک گیا۔ ایسی کیا خوش خبری ہو گئی ہے، جس کی خبر اپنے ساتھیوں کو دینے بیٹھا ہوں؟ جو لکھ رہا ہوں، کوئی مبارک خبر تو ہے نہیں۔ یہ دکھی خبر آج ہی انہیں معلوم ہو جائے، تو انہیں بھی اسی ناامیدی کی حالت میں رہنا پڑےگا جس میں آج میں رہ رہا ہوں۔ اور کل کو خوش قسمتی سے نئی پازیٹو پر اچھا پرنٹ بن آیا، تب تو سارا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔

ادھورا لکھا پتر میں نے پھاڑ کر پھینک دیا۔

دوسرے دن میں افیفا میں اپنے ایڈیٹنگ روم میں پہنچا۔ جینی کے چہرے پر سوال صاف دکھائی دیا۔ میں نے اسے کل کا سارا واقعہ سنایا۔ سن کر اسے بھی بہت دکھ ہوا۔

جینی اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمت بندھانے لگی۔ یہ جان کر کہ اس پردیس میں میرے من پر چند مدُھر لفظوں کی مرہم پٹی کرنے والا کوئی تو ہے، میں نے کافی راحت محسوس کی۔ پھر، سواے جینی کے ایسا کام کر سکنے والا اور کون تھا؟ دوسرے دن سے جینی طے شدہ وقت سے کافی پہلے دفتر آ کر کام کرنے لگی۔ اس کے لیے وہ اوورٹائم کا پیسہ نہیں لیتی تھی۔ زیادہ وقت کام تو وہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ ایڈیٹنگ روم کے کرائے میں میری کچھ بچت ہو سکے۔

آٹھ دن بعد پیٹرسن آفس میں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشن ہماری نگیٹو کا معائنہ کر کےاس کے لیے مناسب قسم کے ایملشن کی پازیٹو نمونے کے طور پر بنا رہے ہیں۔ یہ خبر کافی دلاسا دینے والی تھی۔

پیٹرسن کے چلے جانے کے بعد جینی بتانے لگی، “اب تم فکر نہ کرو، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔”

ہم دونوں پھر نئے جوش سے کام میں جُٹ گئے۔ کھانے کا وقت بیت گیا۔ جینی نے یاد نہیں دلایا۔ کچھ دیر بعد میرا دھیان گھڑی کی طرف گیا۔ کام کی دُھن میں مَیں اس طرح کھو گیا تھا کہ بچاری جینی کو بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ میں اسے وہاں سے پاس کے کسی ریستوران میں لے گیا۔ کافی اصرار کرتے ہوئے اسے میں نے بھرپیٹ لنچ کرایا۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی۔

دوسرے دن میں آفس پہنچا تو پایا کہ جینی مجھ سے بھی پہلے آ کر کام میں لگ گئی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی اور اس نے مجھے چوم لیا۔ میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا ہی رہ گیا۔ پس وپیش میں مَیں نے اس سے پوچھا، “یہ کیا کِیا تم نے؟”

“کل تم نے جو لنچ دیا تھا نا، اس کے لیے شکریہ!” یوں کہہ کر وہ ہنستے ہنستے پھر کام میں جُٹ گئی۔ میں نے سوچا کہ شاید یہاں کسی کے اس طرح کھانا کھلانے پر اس کا شکریہ کرنے کا یہی طریقہ ہو گا۔

‘سیرندھری’ کا پرنٹ پتا نہیں اچھا بنتا ہے یا نہیں، اس کی فکر میں تھا، تبھی ایک بات سوجھی کہ اس کے گیتوں کے فونوگراف بنا لیے جائیں۔ اپنا تو یہ فطری دھرم ہی رہا ہے کہ چِنتا میں ڈوبا ہوں یا پریشانیوں سے گَھر جاؤں تو من نئی امنگوں کی اونچی اونچی اڑان بھرنے لگتا ہے۔ فونوگراف بنانے کا خیال اسی فطری دھرم کے مطابق من میں آیا تھا۔ فلم کی اوریجنل ساؤنڈ پٹی سے اس طرح گیتوں کا فونوگراف بنانا کہاں تک ممکن ہے، اس کی پوچھ تاچھ میں نے پیٹرسن سے کی تھی۔ پیڑسن نے محتاط انداز سے کہا تھا کہ برلن کی مشہور سیمنز کمپنی سے معلوم کرتے ہیں۔ آج دوپہر اس کام کے لیے سیمنز کمپنی میں جانا تھا۔

میں نے اپنا خیال سیمنز والوں کے سامنے رکھا۔ کمپنی کے ٹیکنیشینوں کو وہ جنچ گیا، لیکن اس کی کامیابی کے بارے میں انہیں بھی شبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح افیفا میں گیا اور کام میں کھو گیا۔ دوپہر کی چھٹی کا وقت ہو گیا۔ جینی میرے پاس آئی۔ اس نے مجھے کس کر پکڑ لیا اور پھر چوم لیا۔

میں نے اس سے پوچھا، “آج پھر کیا ہو گیا؟”

“آج میں نے تمھیں لنچ دیا ہے!” کہتی ہوئی شوخ بھری ہنسی ہنستے ہنستے وہ وہاں سے بھاگ گئی۔

اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف آداب کا رسمی معاملہ نہیں ہے۔ لیکن جینی کا اس طرح پیش آنا مجھے قطعی پسند نہیں آیا۔ ایک بارسوچا، اُسے اُس کے ایسے طرز عمل پر اچھی پھٹکار سنا دوں۔ افیفا کے ڈائریکٹر کو بھی اس طرح کے عجیب طرزعمل کی بات بتا کر اپنے لیےکوئی اور مددگار دینےکی مانگ کروں۔ لیکن جینی کی طرح من لگا کر مہارت سے کام کرنے والی دوسری لڑکی ملنا مشکل تھا۔ پھر یہ بھی تو ممکن تھا کہ اس کا اس طرح پیش آنا سطحی ہو، کھلنڈرےپن کا اشارہ ہو۔ میں اس سے جواب طلب کروں اور اُس کے من میں ویسی کوئی بھاؤنا ہی نہ ہو، تو سُبکی کیا میری ہی نہیں ہو گی؟ جو بھی ہو، میں نے طے کیا کہ یہ معاملہ یہیں ختم کیا جائے، اور بات کو آگے قطعی بڑھنے نہ دیا جائے۔

جینی لوٹ آئی تو میں نے کہا، “میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”

“تو کرو نا!” جینی نے کہا۔

”ابھی نہیں، شام کو کام ختم ہونے کے بعد،” اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے میں نے کہا اورکام میں جُٹ گیا۔

شام کو ہم دونوں پہلے ایک جرمن فلم دیکھنے گئے۔ بعد میں اسے میں برلن کے بڑے ہوٹل ‘کیمپینسکی’ میں کھانا کھلانے کے لیے لے گیا۔ کھاتے وقت میں نے اس سے پوچھا، “جینی، تم میرے ساتھ اس طرح کیوں پیش آئیں؟ مجھے کیوں چومتی ہو؟”

’’اس لیے کہ تم مجھے بھا گئے ہو!‘‘ اس نے آزادروی سے ہنستے ہوئے کہا۔

’’تو میں نے ٹھیک ہی سوچا تھا کہ تمھارے من میں یہ احساس جاگا ہے۔ لیکن دھیان سے سنو، میری شادی ہو چکی ہے۔”

اس پر اس نے فوراً کہا، ’’اس میں کیا ہرج ہو سکتا ہے؟ میں نے تمھارے دیس کے بارے میں، انڈین لوگوں کے بارے میں کافی پڑھا ہے۔ تم لوگ دو دو، تین تین عورتوں سے شادی کرتے ہو، تمھاری کتنی عورتیں ہیں؟”

میں نے کہا، “صرف ایک۔”

“تو ٹھیک ہے، میں تمھاری دوسری بیوی بنوں گی۔”

میرا نوالہ منھ میں ہی دھرا رہ گیا۔ پانی کا بڑا سا گھونٹ نگل کر میں نے کہا، “میرے دو بچے بھی ہیں۔”

“مجھ سے بھی تمھارے اور بچے ہوں گے۔” اس نے اپنے ہمیشہ سے آزاد انداز میں، بنا کسی جھجک کے کہا۔ “میں بھی بہت چاہتی ہوں کہ تمھارے جیسا براؤن رنگ کا میرے بھی ایک بچہ ہو۔”

عورت اور مرد میں ایسے موضوع پر اتنی بےجھجک باتیں ہوں، اس سے میں تو پورا لاعلم تھا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ جینی کی حوصلہ شکنی کے لیے میں نے یوں ہی مذاق میں کہا، “اور وہ بچہ میرے جیسا براؤن نہ ہو کر تمھارے جیسا سفید پیدا ہو گیا، تو؟”

“تو ہم پھر کوشش کریں گے، باربار کوشش کرتے رہیں گے!”

میں تو بالکل ٹھنڈا پڑ گیا سن کر۔ ایسے جواب کے بعد پھر کبھی اس سے بحث کرنے کی جھنجھٹ میں نہ پڑنے کا فیصلہ میں نے کیا۔

کھانا ختم ہوا۔ جینی کو اس کے گھر چھوڑنے کے لیے ہم کار میں بیٹھے۔ گاڑی اس کے گھر کے پاس آئی۔ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے میں نے ہینڈل کے پاس ہاتھ بڑھایا۔ جینی نےاپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا اور بولی: “آف ویڈرزہن!”

میں نے دل سے کہا، “آف ویڈرزہن!” پھر اس نے خود ہی پھرتی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر گئی۔

‘سیرندھری’ کے رنگین پرنٹ برابر بنتے ہیں یا نہیں، اِس کی فکر میں مَیں تھا اور ادھر یہ ایک اور سنگین معاملہ کھڑا ہو گیا تھا!

دوسرے دن ‘اُفا’ سٹوڈیو سے پیغام آیا کہ “نئی ایملشن کی پازیٹو پر ‘سیرندھری’ کے پرنٹس بنائے جا چکے ہیں اور وہ کافی تسلی بخش ہیں۔ دیکھنے کے لیے آؤ۔”

جینی کو بھی سن کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ اسے ہاتھوں سے روک کر دور ہی کھڑی کرتے ہوئے میں نے ہدایت دی، “پہلا کام! دوسری گراری تیار کرنا شروع کرو!”

وہ سہم گئی۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہ دے کر میں فوراً لیبارٹری سے باہر آ گیا۔ کار میں جا بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا، “بیبلسبرگ، اُفا سٹوڈیو۔”

عام راستہ پیچھے رہ گیا، اب کاروں کے لیے مخصوص سڑک پر ہماری کار دوڑ رہی تھی۔ میں بہت ہی خوشی میں تھا۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ اس کی جگہ پر جا بیٹھا اور خود کار چلانا شروع کیا۔ بیبلسبرگ پہنچنے کی مجھے اتنی جلدی تھی کہ میں کار کی رفتار بڑھاتا ہی گیا، سو، ایک سو بیس، ایک سو چالیس، ڈیڑھ سو، سپیڈ انڈیکٹر سوئی چڑھتی جھکتی جا رہی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد میری سیٹ کے نیچے کچھ گرم گرم لگنے لگا۔ پہلے تو میں نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن جب سیٹ بہت زیادہ گرم ہو کر جلانے لگی تو میں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ لیکن گاڑی اتنی تیز رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اسے روکتے روکتے کچھ سمے تو لگ ہی گیا۔ دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ ہی میری سیٹ کے نیچے سے آگ کی لپٹیں لپلپاتی اٹھیں۔ ڈرائیور نے پھرتی دکھا کر جلتی سیٹ نکال باہر پھینکی اور کار میں رکھا کپڑا ریڈئیٹر کی ٹنکی کے پانی میں بھگو کر آگ بجھا دی۔

گاڑی میں کیا نقص پیدا ہو گیا، اس کی چھان بین ڈرائیور کرنے لگا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے ایگزاسٹ جام ہو گیا تھا۔ اس کی نلی صاف کروانے میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگ گیا۔

اُفا سٹوڈیو پہنچا تو وہاں ولف اور پیٹرسن میری راہ دیکھ رہے تھے۔ ہم نے فوراً نیا پرنٹ دیکھا۔ رنگ کی نظر سے وہ سو فیصد تو نہیں آیا تھا، لیکن کافی تسلی بخش لگ رہا تھا۔ ولف نے کہا، “نگیٹو کی جو بھی گراریاں تیار ہیں، کل یہاں لیتے آنا۔ اور ہاں، ہر روز دوپہر لنچ کے بعد پرنٹ دیکھنے کے لیے آتے رہنا۔”

میں نے ولف کو بہت بہت شکریہ کہا۔

کمرے میں آتے ہی میں نے کولہاپور کے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ پرنٹ اچھے بننے والے ہیں۔ بمبئی میں فلم ریلیز کی تاریخ پکی کرنے کے لیے بھی لکھ دیا۔

کافی دنوں بعد من پر سے سارا تناؤ ہٹ گیا تھا۔ لہٰذا اس رات میں جیسے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ سویرے دس بجے جاگا۔ نہانے دھونے سے نبٹ کر باہر نکلا، لنچ کے بعد مجھے اُفا سٹوڈیو میں پہنچنا تھا۔ پہلے میں افیفا گیا۔ نیا پرنٹ بہت ہی تسلی بخش آنے کی خبر جینی کو دی، وہ خوشی سے اچھل پڑی، میری طرف بڑھنے لگی۔ پوری طرح سے معلوم ہو گیا تھا کہ ایسے موقع پر وہ اب کیا کرےگی۔ لہٰذا میں تھوڑا سا ایک طرف ہٹ گیا اور جینی سے کہا، “تم آگے کی گراریاں تیار کرو۔کل گیارہ بجے میں انہیں لے کر جاؤں گا۔” اتنا کہہ کر تیار گراریوں کےکچھ ڈبے اٹھا کر میں وہاں سے چل پڑا۔ جینی میرے ساتھ ایڈیٹنگ روم کے دروازے تک آئی اور بولی، “بیبلسبرگ جانے سے پہلے لنچ کر کے جانا۔ بھوکے نہ رہنا۔”

اس کے کہنے پر عمل کرتا تو مجھے دیر ہو جاتی، لہٰذا راستے میں پھلوں کی ایک دکان سے میں نے کچھ سیب خرید لیے۔ کار میں دو تین سیب میں کھا گیا۔ آگے چل کر یہی سلسلہ میں نے چار پانچ ہفتے تک جاری رکھا۔ اس طرح روز روز سیب کھا کر میں اتنا اوب چکا تھا کہ پھر دس پندرہ سالوں تک سیبوں کو چھوا تک نہیں۔

آخر ’سیرندھری’ کا ایک پورا پرنٹ تیار ہو گیا۔ ولف نے کہہ دیا کہ اب اس سے بہتر پرنٹ نکالنا ممکن نہیں۔ چلو، یہ بھی کیا کم تھا کہ جہاں کوئی بھی پرنٹ بننے کی امید نہیں رہی تھی، کم سے کم کچھ تو تسلی بخش پرنٹ بن سکا۔ مجھے اسی کی خوشی ہو رہی تھی۔ میں نے پہلی بار ‘سیرندھری’ فلم پوری دیکھی۔ ہماری دوسری فلموں کے مقابلے میں وہ مجھے اثردار معلوم نہیں ہوئی۔ یہ پتا نہیں رنگ اتنے اچھے ابھر نہ پانے کی وجہ سے تھا یا کسی اور کارن سے۔ رہ رہ کر ایک خیال ستاتا تھا کہ پتا نہیں ناظرین اس فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کریں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اب سوچتے رہنے سے بھی کیا ہونے والا تھا!

میں نے تار دے کر بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) کو مطلع کیا کہ پرنٹ تیار ہو گیا ہے اور اسے ہوائی ڈاک کے ذریعے بمبئی بھجوا رہا ہوں۔

رنگین فلم کا پرنٹ اُفا سٹوڈیو میں جب بن رہا تھا، رنگوں کا کیمیائی عمل کس طریقہ کار سے کیا جاتا ہے، اس کا مجھے بہت تجسس تھا۔ میں نے ولف سے درخواست کی کہ وہ جانکاری مجھے دی جائے اور ساری مشینری بھی دیکھنے دی جائے۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا، “یہ تحقیق ہم نے بہت محنت اور پیسہ خرچ کر کے کی ہے۔ اس کا راز ہم اور کسی کو کبھی نہیں بتائیں گے۔” میں بہت نااُمید ہو گیا۔

لیکن ہماری یہ باتیں ولف کے ایک معاون نے سن لی تھیں۔ ایک بار ولف کی غیرحاضری میں اس نے نہ صرف مجھے پورا کیمیکل روم دکھایا، بلکہ سارا اُفا سٹوڈیو اور وہاں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں کون سا کام کس طرح ہوتا ہے، یہ بھی دکھایا۔ اُفا سٹوڈیو بہت بڑا تھا اور بےشمار جدید آلات اور سہولیات پر مشتمل بھی۔ فلم میکنگ کے ڈپارٹمنٹ میں کافی سال بِتا چکنے کے کارن میں فوراً سمجھ لیتا کہ کون سا کام کرتے سمے کیا کٹھنائی آتی ہے، اور اسے یہ لوگ یہاں کس طرح دور کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر ولف کے اس معاون نے سبھی ڈپارٹمنٹ ہیڈز سے میرا تعارف بھی کرایا۔ لہٰذا کبھی ‘سیرندھری’ کے کسی پارٹ کا پرنٹ تیار ہونے میں دیر ہوتی تو میں سٹوڈیو کے احاطے میں آزاد روپ سے کہیں بھی آتا جاتا تھا۔ نتیجتاً کافی باتیں سیکھنے کا موقع مجھے ملتا گیا۔ ہم لوگوں کا تجربہ یہ تھا کہ مشکل سے مشکل معلوم ہونے والی باتوں کو بنانے کے لیے ہمیں بہت زیادہ دَھن اور محنت لگانی پڑتی تھی اور پھر بھی متوقع نتیجہ ہاتھ آتا ہے، ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہاں اس سے کہیں کم محنت اور دَھن لگا کر معمولی چیزوں کی مدد سے اس سے بھی بہتر نتیجہ یہ لوگ حاصل کرتے تھے۔ یہ گُن سیکھنے لائق تھا۔ ہر روز سونے سے پہلے میں دن میں دیکھی ہر بات کی مجموعی جانکاری اپنی ڈائری میں نوٹ کر رکھتا تھا۔ آگے چل کر اسی ڈائری میں درج کئی نئی نئی کھوجوں کو میں پُونا میں بنے ہمارے نئے سٹوڈیو میں عمل میں لایا۔ نتیجتاً ہماری سبھی فلموں کی سطح سسٹم کے نقطہ نظر سے کافی بہترین ہو گئی تھی۔

اس بیچ سیمنز سے پیغام آیا کہ آزمائشی فونوگراف تیار ہیں۔ انہیں دیکھ کر اور سن کر میرا تن من کِھل اٹھا۔ میرا خیال سچ اور کامیاب ہو گیا تھا۔ میں نے فوراً ہر فونوگراف کی ایک ایک ہزار کاپیاں بنانے کا آرڈر دیا۔

‘سیرندھری’ کی فونوگراف پر ہر گانےکا پہلا مصرع دیوناگری میں لکھنا ضروری تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ہاتھ سے وہ مصرع لکھ دیا اور پھر لیبلوں کے لیے ان کا بلاک بنوایا۔

آج تک بھارتی فلم کے گیتوں کا فونوگراف کسی نے نہیں بنایا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ فونوگراف بازار میں دستیاب ہو جاتے ہیں تو ان گیتوں کے ساتھ فلم کی بھی مقبولیت بڑھےگی۔ یہی سوچ کر بھارتی فلم سنگیت کا ایک نیا جہاں میں نے کھول دیا۔ فلمی سنگیت کو آج حاصل مقبولیت، اس میں لگائی جانے والی پونجی، اور اس کا فلم انڈسٹری کو مل رہا نفع وغیرہ باتوں کا آج خیال کرنے پر لگتا ہے کہ ضرور ہی جس سمے مجھے یہ خیال سوجھا، وہ بہت ہی خوش قسمت لمحہ ہو گا!

“سیرندھری” کے گیتوں کے فونوگراف بہت زیادہ کامیاب رہے۔ پھر بھی کئی سالوں تک گراموفون کمپنیاں اوریجنل ساؤنڈ پٹی پر سے گیتوں کے گراموفون بنانے سے گریز کرتی تھیں۔ انہی گیتوں کے فونوگراف کے لیے وہ ان کلاکاروں سے دوبارہ گراموفون کمپنی میں گوا لیتی تھیں اور اس گائیکی سے فونوگراف بناتی تھیں۔ لیکن آج فلموں کے سبھی فونوگراف سیدھے فلم کی ساؤنڈپٹی سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اوریجنل ساؤنڈپٹی سے سیدھے فونوگراف بنانے کے اُن دنوں معجزاتی اور تجرباتی ظاہر ہونے والے میرے خیال پر آج مجھے سچ میں بڑا ناز ہے۔

کچھ دنوں بعد رنگین عمل اور خاص روپ سے بنائے اس پازیٹو کے بِل اُفا سٹوڈیو اور آگفا کمپنی کی طرف سے آئے۔ انہوں نے ہماری نگیٹو کی خرابیوں کا فائدہ اٹھا کر من چاہا بِل بنایا تھا۔ بِل میں موٹی رقمیں پڑھ کر میں تو بالکل ہی حیران ہو گیا۔ میرے پاس اتنے جرمن مارک نہیں تھے۔ لیکن پرنٹ تیار ہو گئے تھے اور بِلوں کی ادائیگی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے بمبئی تار دے کر اور مارک بھجوانے کو کہا۔

اُفا سٹوڈیو میں جا کر میں نے ڈاکٹر ولف کے ساتھ ان بِلوں کے بارے میں بات کی۔ اس سمے ولف میرے ساتھ بہت ہی روکھےپن سے پیش آئے۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا! میں وہاں جلابُھنا بیٹھا تھا، تو ولف نے میرے بارے میں شاید کچھ کہا۔ سن کر وہاں بیٹھے اور سبھی لوگ زور سے قہقہے لگانے لگے۔

میں نے ولف کے معاون سے سب کے ہنسنےکا کارن جاننا چاہا۔ اس نے ولف کی اجازت سے جرمن زبان میں کہے گئے اُس جملے کا مطلب مجھے بتایا: ’’ولف کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی بہتات جو ہے۔” ولف کی اس پھبتی کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔ میں آگ بگولا ہو گیا، لیکن چہرے پر ذرا بھی شکن نہ دکھاتے ہوئے میں نے ہنستے ہنستے کہا، “اِدھر جرمنی آنے سے پہلے میرا بھی خیال یہی تھا۔ لیکن یہاں پہنچنے پر میں نے پایا کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی نسبت جرمنی میں سفید مونہے بندروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے!”

ولف کے معاون نے میری بات کا بھی جرمن زبان میں ترجمہ کر انہیں سنایا۔ لیکن چونکہ یہ طنز میں نے ہنستے ہنستے لوٹایا تھا، انہیں بھی اسے ہنس کر ہی ٹالنا پڑا۔

لیکن اس کے بعد ولف میرے ساتھ ایک دم ٹھیک طرح سے پیش آنے لگے۔

ان فونوگراف کے بنانے کے سمے میں نے سیمنز کمپنی کے پتا نہیں کتنے چکر لگائے تھے۔ وہاں میں نے ایک اچھی بات دیکھی۔ کمپنی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے آدمی کو دوسرے ڈپارٹمنٹ میں کام کر رہے آدمی سے کوئی بات چیت کرنی ہو تو وہ انٹرکام پر بات کر لیتا تھا۔ اس سے سمے کی کافی بچت ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ہر کارخانے کے باہر سٹول پر بیٹھے اونگھنے والے آفس بوائے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ اب ہماری ‘پربھات’ کمپنی پُونا جانے والی تھی۔ ہمارا احاطہ بھی کافی وسیع ہونے جا رہا تھا۔ ایسی حالت میں اپنی کمپنی کو جدید بنانے کے لیے ایسے ہی انٹرکام فون سسٹم کا بڑا استعمال ہونے والا تھا۔ یہی سب سوچ کر میں نے فوراً سیمنز کمپنی کو خودکار فون مشینری کا آرڈر دے دیا اور اسے جتنی جلدی ہو سکے بھارت بھجوا دینے کی ہدایات دے دیں۔

یہ سب کر کے میں اپنے پانسیوں پر واپس آیا تو وہاں گھر سے آیا ایک پتر میرا انتطار کر رہا تھا۔ پتر وِمل کا تھا۔ لکھا تھا، ‘پتاجی کی صحت پھر خراب ہے۔ حالت پریشان کن ہو گئی ہے۔ آپ جلدی لوٹ آئیے۔” میں نے خط پر لکھی تاریخ دیکھی۔ وہ تین چار ہفتے پہلےکی تھی۔ من میں طرح طرح کے خدشات اٹھنے لگے۔ باپو کے لفظ یاد آنے لگے: “شانتارام، ہم لوگوں کا سارا جیون کرائے کے مکان میں ہی گزر چکا ہے۔ من بہت چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہمارا اپنا کوئی مکان ہو۔ اب تو ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ دم نکلے تو ہماری اپنی چھت کے نیچے۔۔۔” میں فوراً ڈاک گھر گیا اور بمبئی میں بابوراؤ پینڈھارکر کو تار دیا : “پُونا کے اپنے سٹوڈیو کے قریب ہی کہیں ماں اور باپو کے لیے ایک بنگلہ بنانا چاہتا ہوں، جگہ خرید لیجیے۔”

ڈاک گھر سے کمرے پر لوٹا ہی تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھول کر دیکھا، تو پانسیوں کی مالکن ہاتھ میں تار کا ایک موٹا لفافہ لیے کھڑی تھیں۔ جرمن بھاشا میں اس کو شکریہ کہہ کر میں نے تار لے لیا۔ تار پورے دو صفحوں کا تھا اور کولہاپور سے آیا تھا۔ لکھا تھا کہ میرے لیے ضرورت سے زیادہ مارک امیریکن ایکسپریس بینک بھجوا دیے ہیں۔ پڑھ کر اچھا لگا۔ راحت بھی محسوس کی۔

تار کا پہلا صفحہ پڑھ کر پلٹ دیا۔ دوسرا پنّا پڑھنے لگا اور بجلی کا بھیانک دھچکا لگنے کا سا احساس ہوا! میں دھڑام سے پیچھے رکّھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔

ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”

تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔

ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔

مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔

لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔

اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔

مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:

رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔

اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”

آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔

اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔

اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!

کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔

کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”

ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔

‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔

انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔

انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔

لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔

انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔

مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔

اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔

اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔

اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔

مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔

کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔

میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”

لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔

اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘

اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔

بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”

جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”

میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”

“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”

بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”

ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔

فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”

بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔

ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”

سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”

ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”

ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔

جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 10: بھیری گونج اٹھی (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پیچھے رہنے سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ اپنی ہی بات پر بے سود اڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔  فلمی دنیا میں بولتی فلموں کے وجود کو قبول کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بولتی فلموں کے مقبول ہونے کے دو کارن تھے۔ پہلا تھا ہمارے دیس میں بےانتہا ناخواندگی۔ ان دنوں ممکنہ طورپراسّی نوےفیصد لوگ ان پڑھ تھے۔ خاموش فلموں میں مکالموں کی جو تختیاں دکھائی جاتی تھیں،اَن پڑھ عوام انہیں پڑھ نہیں پاتی تھی۔اس لئے وہ خاموش فلموں کا آدھےسےزیادہ لطف نہیں لےپاتی تھی۔ اس کے برعکس بولتی فلموں کے سبھی مکالمےسیدھاسنائی دینےکی بدولت وہی اَن پڑھ عوام بولتی فلموں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتی تھی۔ اس کےعلاوہ بولتی فلموں میں دوسرا چارم تھا سنگیت کا۔ سنگیت بھارتی جیون کے ساتھ اس طرح گُھلا ہے کہ گھر گھر میں جنم سے لےکرموت تک ہر موقع پر گائے جانے والے گیت ہر صوبےکی زبان میں ہوتےہیں۔ خوشی کے موقع پر تو گانےاور ناچنے کا انعقاد بھارتی ثقافت کی رِیت رہا ہے۔ لہذاہم نے بھی اپنی فلموں کو ‘آواز’ دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک بار فیصلہ کر لینے کے بعد پھر تاخیر کرنا ہمیں پسند نہیں تھا۔ہم نےفوراًاپنے ڈسٹری بیوٹرزسے کہا اورامریکہ سےطرح طرح کی ساؤنڈ مشینوں کی معلومات منگوالیں۔ بھارت میں جو پہلی بولتی فلم ‘عالم آرا’ بنائی گئی تھی، اس میں اوردیگر بولتی فلموں میں بھی، منظر فلمانےکے کیمرے میں ہی فلم کے ایک کنارے پر ساؤنڈ ریکارڈربھی ہوتا تھا۔ لہذا بولنے والوں کے ہونٹوں کی حرکات کے ساتھ ہی ان کی آواز بھی بے عیب میل کھاتی تھی۔اس میں کوئی غلطی نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ ایڈیٹرکو پوری آزادی نہیں مل پاتی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اچھا ہواگر ساؤنڈریکارڈ کا انتظام کیمرے میں ہی نہ ہو،الگ ہو۔ شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈ الگ الگ فلموں پر کیا جائے تاکہ ڈائریکشن اورایڈیٹنگ میں کافی آزادی مل سکے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کی آزاد سہولت والی’آڈیو کمیکس’ نامی مشین منگوائی جائے۔ اس نظام میں سہولت یہ تھی کہ ساؤنڈ ریکارڈر اورکیمرہ ایک ہی ساتھ، ایک ہی رفتار میں چلائے جا سکتے تھے اور اس طرح دوگنی رفتار یعنی اِنٹرلاک موٹرزہمیں دستیاب ہوتے تھے۔

داملے ممبئی گئے۔ وہاں انہوں نے آڈیو کیمیکس ساؤنڈ ریکارڈر کے بارےمیں باریکی سےپوچھا اور ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکرسے ساری مشینری امریکہ سے منگوانے کے لیے کہا۔ وہ مشینری جہاز کے ذریعے بھارت میں آنے میں چار مہینے لگنے والےتھے، خوش قسمتی سے اسی وقت کولہاپورمیں بجلی آ گئی، شہرکی مخصوص امیر بستیوں میں اورہائی وے پر بجلی کے دیپ روشن ہوگئےتھے۔ ہمارانیا کیمرہ اور ساؤنڈ ریکارڈر چلانے کے لیے ضروری بجلی بالکل صحیح وقت پر دستیاب ہو گئی تھی۔

اب تو کمپنی کا کام کافی بڑھ گیا تھا۔ پرانا ٹھکانہ اب ناکافی ہونے لگاتھا۔ وہ مقام بھی کولہاپور کی بیچ کی بستی میں تھا۔ وہاں ہمیشہ شوروغل ہوتا ہی رہتاتھا۔ اب ہمیں بولتی فلموں کو فلمانا تھا۔ یعنی کرداروں کے مکالمےاورگانے بھی ریکارڈ کرنے تھے۔ لہذافلمانے کے لئے شانت احاطے کی ضرورت تھی۔

مہاراشٹر فلم کمپنی کی پہلی ساجھےدارشریمنت تانی بائی کاگلکرکےگاؤں کےباہر کافی بڑے احاطے والا ایک بنگلہ تھا۔  ہمیں وہ ہرنقطہ نظر سے بہت ہی با سہولت لگا۔ اس بیچ تانی بائی نے مہاراشٹر فلم کمپنی سے اپنی ساجھےداری ہٹا لی تھی۔ پھر وہ ہمارے کیشوراؤ دھایبرکی نزدیکی رشتےدار بھی تھیں۔ نتیجتا ًوہ جگہ ہمیں مناسب کرائے پر مل گئی۔

فوراً ہی نئی جگہ پر ہم نے اپنا نیا سٹوڈیو بنانے کا کام پرشروع کر دیا۔ اس بار ہم نے سٹوڈیو پر کپڑے کی چھت نہیں ڈالی، اُس کے بجائے دھندلے شیشوں کا استعمال کیا۔ سین کھڑے کرنے والے بڑھئیوں کے لئے ایک بڑی سی جگہ پرچھت لگوا دی۔ مرکزی بنگلے میں میک اپ روم اور کاسٹیوم کےلئے الگ کمرے طے کر دیئے۔ کیمیکل روم، ایک اچھا بڑا سا کارخانہ، بابوراؤ پینڈھارکر کے لئے ایک مینجمنٹ روم، اداکاری اور سنگیت کی مشق کرنے کے لئےدودیوان خانوں وغیرہ کا بھی پربندوبست کردیا۔ اس کے علاوہ میوزک ڈائریکشن کے لئے ایک الگ کمرہ دیا۔ اس طرح سے وہ نیا بنگلہ ہم نے اپنی کمپنی کے متنوع کاموں کے لئے آراستہ کیا۔

ہماری پہلی بولتی فلم کے لیے موضوع زیر بحث آیا۔ بچپن میں، میں نے حق پرست راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی’ستوپریکشا’ نامی ایک ناٹک دیکھا تھا۔اس کہانی نے مجھے بہت ہی متاثرکیا تھا۔ معصوم من پراس کی انمٹ چھاپ پڑی تھی۔ بعدمیں خاموش فلموں کے نقش اول داداصاحب فالکے کی بنائی’راجا ہریش چندر’فلم بھی میں نے دیکھی تھی۔ اس وقت تو وہ مجھے بہت ہی ڈھیلی لگی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایک ہی کہانی پر لکھے گئے ناٹک اور بنائی گئ خاموش فلم کا متضاداثر میرے من پر کیوں پڑا تھا؟ میں اسی نتیجہ پرپہنچاکہ ناٹک میں مکالمےتھے، اسی لئے اس کا اثر پڑتا تھا۔ خاموش فلم میں لکھے ہوئے مکالمے ناظرین کو پڑھنے پڑتے تھے، جن کا کوئی اثر ذہن پر نہیں پڑتا تھا، پڑنا ممکن بھی نہیں تھا۔ لہذاراجا ہریش چندر کی حق پرستی کو بولتی فلم کے ذریعے موثرروپ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہی میں نے اسی کہانی کا انتخاب ہماری پہلی بولتی فلم کے لئے کیا۔ ایسے حق پرست راجا ہریش چندر کا آدرش لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے سماجی فلموں کے آغاز کے ہمارے مقصد کواور بھی تقویت ملنےوالی تھی۔

ہم نے طے کیا کہ ہماری یہ پہلی بولتی فلم مراٹھی اور ہندی دونوں ورژن میں بنائی جائے۔ کہانی کے انتخاب کے بعد پھر ایک بارکرداروں کے انتخاب کا سوال کھڑاہوا۔ آج تک خاموش فلموں میں کامیاب رہے ہمارے کلاکاربولتی فلموں کے لئے بیکار ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لِلابائی چندر گڑی اور بابوراؤپینڈھارکرکےعلاوہ باقی سارے کلاکاران پڑھ ہی تھے۔ ان کے لئے رواں مکالمہ بولنا ناممکن ہی تھا۔ پھر بولتی فلموں کے اہم کرداروں کے لئے ایسے کلاکاروں کا انتخاب کرنا ضروری تھا،جو گائیکی میں بھی قابل ہوں۔

ہم اسی سوچ میں پڑے تھے کہ ایک دن مائی نے مجھے بلا بھیجا۔ اس طرح خاص بلاوا بھیجنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دیکھتے ہی مائی نے ساڑی کا پلو آنکھوں سے لگا لیا اور لگاتار بولتی ہی گئیں، بولتی ہی گئیں۔ اس کے تیسرے بیٹے وِنائک نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی،اورکسی اعلی آدرش سے متاثر ہوکر کولھاپورکےودیاپیٹھ ہائی سکول میں بغیرتنخواہ پڑھانے کا کام شروع کیا تھا۔ مائی کا کہنا تھا، “ارے، ہم کوئی زمیندارجاگیردارتھوڑے ہی ہیں، جو یہ دیوانہ خیراتی کام کر رہا ہے؟ گھر میں تو کئی بار دو وقت کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس کے یہ ڈھنگ! شانتارام، تم ذرا اسے بلا کر اچھی طرح ڈانٹواور پوچھواس سے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ اور ہاں، تم اسے اپنی فلم کمپنی میں کوئی کام دے دو۔” وِنائک پر مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے
بابوراؤسےپوچھا، “تم کیوں نہیں اسے آڑےہاتھوں لیتے؟”بابوراؤ نے کہا، “وہ میری کچھ نہیں سنےگا۔ وہ تو، مجھے بھی آدرشوں کی اونچی اونچی باتیں سناتا رہتا ہے۔”

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔

میں نے وِنائک کو بلا بھیجا۔ اسےکافی پھٹکارااورکھری کھری سنا دیں۔ ونائک شروع سے ہی بہت جذباتی فطرت کاآدمی تھا۔ صحیح وقت کا بیان میں نے کافی بے رحمی کے ساتھ اس کے سامنے کیا۔ میری پھٹکار بھی ممتا سے بھری ہے، مائی سے مجھے بےحد پیاراور عزت ہے، یہ باتیں اس کے دھیان میں آ گئیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا۔ آخر اس نے ودیاپیٹھ میں قبول کیا ہوا کام کسی اور کےذمے کر دیا اور وہ پربھات فلم کمپنی میں کام کے لئے آ گیا۔

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔ وہ گاتا بھی اچھا تھا۔ شروع میں تو وہ بطوراداکار کمپنی میں آیا۔ لیکن گائیکی میں اس کی قابلیت کی وجہ سے گائیک اداکارکےروپ میں اس نےاپنی پہلی ہی بولتی فلم میں اچھی خاصی کمائی کی۔ ‘ایودھیا کا راجا’ فلم میں وہ لڑکی بنا تھا۔ اس میں اس کا گایا گیا گانا ‘آدپرش نارائن’ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ میں نے اسے بطورمعاون ہدایت کار کام پر لے لیا۔ میں جو بھی کام بتاتا، اسے وہ پوری اطاعت سے نبھاتا۔ میری ڈائریکشن کی شوٹنگ سے اچھی طرح واقف ہونے کےبعد کئی بار ڈائریکشن کےمعاملات میں وہ کچھ سجھاؤ بھی میرے سامنےرکھنے لگا۔ میں نےپایا کہ اس کے مخصوص سجھاؤ بہت ہی عملی اورمکمل ہوتے تھے۔

گووندراو ٹیمبے

بولتی فلموں کے کارن اب فلمی دنیا میں میوزک ڈائریکشن کی ایک نئی پوسٹ تیار ہو گئی تھی۔اسے نبھانےوالےکسی اہل شخص کی ہمیں تلاش تھی۔ مشہور ہارمونیم پلیئر اور موسیقارگووندراؤٹیمبے گندھرو ناٹک منڈلی سے کافی پہلے ہی الگ ہوگئےتھے انہوں نے اپنی ایک شِوراج سنگیت ناٹک منڈلی چلائی تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو گئی تھی۔ لہذاکولہاپورمیں ٹیمبے جی صرف آرام کرتے تھے۔ وہ باذوق آدمی تھے، شاعر تھےاورگیتوں کو بڑی ہی مدھردُھنیں دینےمیں ماہر بھی۔ لیکن دِقت یہ تھی کہ انہیں پربھات فلم کمپنی میں مدعو کریں تو کیسے، اور کون مدعوکرے؟ بات یہ تھی کہ انہیں گووندراؤٹیمبےکی گندھرو ناٹک کمپنی میں میں کبھی نوکر تھا، اور وہ میرےمالک۔ آج پربھات فلم کمپنی میں وہ میوزک ڈائریکٹر بن کرآتے بھی ہیں، تو وہ میرے نوکر ہو جاتے۔ کیا وہ اسے قبول کریں گے ؟ دِقت یہی تھی۔ آخر کافی سوچ وچار کے بعد انہیں مدعو کرنے کا کٹھن کام ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر پر چھوڑدیا۔ انہوں نے اس نازک گتھی کو بخوبی سلجھالیا۔ گووندراؤنےمیوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری بخوشی قبول کی۔ وہ کمپنی میں حسب معمول آنے لگے۔ہم لوگ بھی انہیں وہی عزت واحترام دیتے تھے،جو ناٹک کمپنی کے مالک ہونے وقت انہیں ملتا تھا۔

گووند راؤ جی ٹیمبے کے واقف شری بھولے نامی ایک گائیک اداکار کو ہم نے پونا سے ہریش چندر کا کام کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس وقت لِلابائی کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تارامتی کے کام کے لئے کسی اور کو لینا ضروری ہو گیا تھا۔ تبھی اخباروں میں دُرگا کھوٹے نامی ایک نوجوان لڑکی کے نام کی چرچا میں نے پڑھی تھی۔ بمبئی میں”ٹریپڈ’ نامی فلم میں اس نے کام کیا تھا۔ یہ بولتی فلم فیل ہو گئی تھی،لیکن درگا کھوٹے کے کام کی سبھی اخباروں نے بڑی تعریف کی تھی۔ مجھے اس کا خیال آیا۔

درگا کھوٹے کے والد سالسیٹرلاڈ سے گووندراؤ کا اچھا تعارف تھا۔ ان کے ساتھ میں بمبئی میں لاڈ صاحب کے گھر گیا۔ مجھے باہر کے کمرےمیں بیٹھاکرگووند راؤ درگابائی سے باتیں کرنے کے لئےاندر چلے گئے۔ درگا بائی نے ہماری کمپنی کی فلم میں کام کرنا قبول کر لیا۔تب گووندر راؤ نے مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے انہیں کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھ لیا، ان کا ڈیل ڈول اور شکل و صورت رانی تارامتی کے کام کے لئے ایک دم موزوں معلوم ہوئی۔ لین دین کا معاملہ اور شرائط ہم نے اسی بیٹھک میں طے کر لیں۔ رانی تارامتی کے کام کے لئے تین مہینوں کے لئے ہم نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دینا قبول کیا۔

ہم دونوں درگابائی کے گھر سے باہر آ گئے۔گووند راؤ کہنے لگے، “درگابائی پوچھ رہی تھی اس بولتی فلم کی ڈائریکشن کون کرنے والا ہے؟” تب میں نے بتا دیا، “وہ جوباہر بیٹھے ہیں نہ، وہ کریں گے۔” اس پر انہوں نے کہا، “کون؟ وہ؟ باہر بیٹھا چھوکرا؟”

اور گووند راؤ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

ان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا، “اب آئندہ بولتی فلم کے لئے کسی بھی اداکارا کے یہاں جانا ہو، تو میں کمپنی سے گھنی مونچھیں اورداڑھی لگوا کرہی آؤں گا،تاکہ آپ کی طرح رعب دار دکھائی دوں۔”

ان دنوں مہاراشٹر میں ہر جگہ مہاراشٹر ‘کٹمب مالا’ نامی کتھا مالا کافی مشہور ہو چکی تھی۔ اس مشہور کتھامالا کے ایڈیٹر تھے، ن۔ وی۔ کلکرنی۔ میں نےانہیں ہماری بولتی فلم کی کہانی لکھنےکی دعوت دی۔ گیت نگاری گووندراؤنےہی کی۔

نئے سٹوڈیو کا قیام، نئے ساؤنڈسسٹم کی خرید، بولتی فلم کے لئے ضروری دیگر سازو سامان کی انسٹالیشن وغیرہ میں بولتی فلموں کے لیے ہمارا خرچ، ہماری پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لہذا مزید ہمت نہ دکھاتے ہوئے ہم نے بمبئی میں اس سے پہلے سے ریلیز اور مشہور ہو چکے بولتی فلموں کی طرح راجا ہریش چندر کی کہانی بھی اسی ناٹک نما اسلوب میں لکھ کر تیار کی۔ ہندی ورژن کے مکالمے لکھنے کے لئے ایک اردو ناٹک کار کوبمبئی سے بلا لیا۔ ان صاحب نے دیگرتمام کمپنیوں کی طرح ہندی سکرپٹ میں شعروشاعری کی بھرمار کر دی۔ مکمل ریہرسل کےوقت انہوں نےہمارے کلاکاروں کواردو شعرو شاعری پیش کرنے کا طریقہ ٹھیک اسی ڈھنگ سے سکھایا، جیساکہ سٹیج پر خاص جوشیلی ادا میں کن الفاظ پر،زور دیا جاتاہے۔ بیچارے ہریش چندر،تارامتی، اور برہم رشی وشوامتر کو بھی ہم نے اردو میں اپنے مکالمے بولنے کے لئے مجبور کیا۔

‘گوپال کرشن’ کے بعد کے زمانے میں دھارا کے الٹ تیرنے والے ماہر تیراک کی مانند میں تیزی سے ہاتھ مارتے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن اس بار پھر ایک بار کمپنی کے وجود کا سوال منہ کھولے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ لہذا منجدھارمیں مالی بدحالی کے بھنور کو ٹال کر آگے نکل جانے میں ہی عقل مندی تھی۔ اس لئے کچھ دیرتک پر دھارا کے ساتھ بہتے جانا ہی ضابطہ تھا، ضروری بھی تھا۔ میرے تخلیقی من کو اس کا خاص قلق ہوتا تھا۔

بولتی فلم کے خاص منظروں کی مکمل ریہرسل شروع ہو گئیں۔ درگابائی بہت ہی کھلے من کی اچھی پڑھی لکھی اورکھاتے پیتے گھرانے کی تھیں۔ پھر بھی کمپنی کے ہر چھوٹے بڑے کارکن کے ساتھ وہ ملنساری سے پیش آتیں۔ کام سیکھنے میں ذرا بھی نہ ہچکچاتیں۔ مکمل ریہرسل کے وقت اپنے کام کی ساری خوبیوں کو خاص ڈھنگ سے سیکھتیں اور کوئی انہیں ان کی غلطی سمجھا دیتا تواس غلطی کو سدھارنے کی دلی کوشش کرتیں۔گانا وانا انہیں خاص نہیں آتا تھا پھر بھی گانے کا ریاض اتنا من لگا کر کرتی تھیں کہ اس فلم میں ان کی گائی لوری ’بالاکا جھوپ ییئی نہ’، (منے، کاہے نہ آوے نندیا) فلم کی نمایاں خوبی بن گئی تھی۔

اس کے برعکس ہریش چندر کا کام کرنے والے گائیک اداکار گولے ریہرسل کےوقت ایک دم ہمت ہار جاتے تھے۔ میں انہیں کافی دلاسہ دیتا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ آخر انہوں نے وِنائک کے ذریعے مجھے کہلوا بھیجا، “مجھے نہیں لگتا،فلم میں کام کرنا میرے بس کا روگ ہے۔” میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ایک دم بد دل ہو گئے اور واپس پونا چلے ہی گئے۔اب پھر سے ایک نئی دقت آ پڑی۔ ہریش چندر کا کام کون کرے؟ فوراً خیال آیاکہ گووند راؤخود تو سٹیج کے مشہور اداکار تھے اور منجھے ہوئے گائیک بھی۔وہ فلم میں کام کرنا قبول کرتے ہیں، تو کیا ہی کہنا، سونے پرسہاگہ ہو جائےگا۔ گووند راؤ کو بابوراؤنے راضی کر لیا۔ پھر نئے سرے سے ریہرسل ہونے لگی۔

گووند راؤ کی تعریف میں کہنا ہوگا کہ اگرچہ وہ عمرمیں مجھ سے کافی بڑے تھے اورمیں عمرمیں ان سے بہت چھوٹا تھا، بطورایک ڈائریکٹرمیرے دئیے گئے سبھی احکامات کو وہ کھلے من سے قبول کرتےاوران کےمطابق ہی برابر کام کرتے تھے۔گووند راؤ کی یہ کھلی شخصیت ان ریہرسلزکےوقت اور بھی،زیادہ اجاگرہو گئی تھی۔ ہم دونوں کے بیچ ہنسی مذاق بھی ہونے لگا تھا۔ایک شام ہم لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے، انہوں نے سہج انداز سے مجھ سے پوچھا،

“شانتارام بابو، سگریٹ پیو گے؟”
“نہیں۔”
ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے دوسرا سوال کیا، “اچھا، تھوڑی شراب تو چلتی ہے نا؟”
“نہیں! نہیں!بالکل نہیں!”

“اور سنا ہے عورت کے بارے میں آپ ایک دم سادھو ہیں؟ کیسے انسان ہیں آپ! یہ ناک کی سیدھ میں جانے والا جیون بھی کوئی جیون ہے؟ یہ تو ایک دم بجلی کے سیدھے کھمبےکا سا جیون ہوا! ورنہ مجھے دیکھو، میرا جیون ہے بے رحم فطرت کےکسی درخت کی طرح۔ ادھر سے پتے پھوٹ رہے ہیں، ادھر سے ٹہنیاں بڑھ رہی ہیں، سیدھی ہوں، ٹیڑھی ہوں، لیکن ہیں سبھی ایک دم سہج اور فطرت کے اصول کے مطابق!”

گووند راؤ کےان سہج اورفطری رنگ ڈھنگ سےاچھی طرح واقف ہونے کی وجہ میں اپنی ہنسی دبا نہیں سکا۔ سب سےمزے کی بات یہ کہ گووندراؤبھی جی کھول کر میرےساتھ ہنسنے لگے۔

آڈیو کمیکس کمپنی کا ساؤنڈریکارڈر،اس کے ساؤنڈ سسٹم کا سارا سازوسامان، ساؤنڈ اور سین شوٹنگ کی فلم پٹیوں کی ایڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی ‘مووی اولا’ مشین وغیرہ سبھی مشینری لےکر داملے جی کولھاپورپہنچے۔ ہماری یہ ساری مشینری منگوائے جانے کی خبر ملتے ہی، اردیشِرایرانی نے ایک دندناتابیان دیا کہ اس دوہرے نظام کے ذریعے کی گئی شوٹنگ میں ہونٹوں کی جنبش اورآوازکامیل ناممکن ہے۔ سچ کہوں تو ایسے کھرے پن کی وجہ سے ہم لوگ بھی سٹپٹاہی گئےتھے۔

شوٹنگ کیمرے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ ریکارڈرکا ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے پانچ چھ شاٹس ڈرتےڈرتےلےلیے۔ ان پر ہمارےکیمیکل روم میں کیمیائی عمل کیااوربعد میں انہیں مووی اولا پر چڑھا کرپردے پر دیکھنا شروع کیا۔ اردیشِرایرانی کی طرف سے ظاہر کیا گیا خدشہ ایک دم بے بنیاد ثابت ہوا۔ تصویراورآوازدوالگ الگ پٹیوں پرنقش کئےتھےاور اس کے باوجود کرداروں کےہونٹوں کی جنبش اوران کی آوازمیں پوراتال میل تھا۔ کہیں پرتھوڑا بھی جھول نہیں آیا تھا۔ اس سے ہمارا جوش کافی بڑھ گیا۔

لیکن ادھر معاشی کٹھنائیوں نے ہمیں گھیرلیا تھا۔ خرچہ پوراہوتاہی نہیں تھا۔ مشینری کے آلات خریدنے کے لیے قرض لیا تھا، کاریگروں اورکلاکاروں کی تنخواہ رُکی پڑی تھی، اس پر فلم میکنگ کا روزانہ خرچ۔۔۔ مختلف مصیبتیں تھیں۔ کم سےکم شوٹنگ کی نگیٹو پر ہونےوالاخرچ کم کرنے کے لیے ہم اس کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ اس کے لیے شوٹنگ سے پہلے میں سبھی کلاکاروں اورتکنیک کاروں سے کڑی مکمل ریہرسل کروا لیتا تھا۔ جہاں تک ہو سکے دوبارہ شاٹ لینا نہ پڑے،اس کا یہی مقصد رہتا تھا۔ اس سے فلم کا خرچ کم سے کم رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سمے کی بچت کے لیے ہم لوگ ہر شاٹ پہلے مراٹھی میں اور اس کے فورابعد ہندی نہیں، اردو میں لے لیا کرتے تھ۔

اس زمانے میں گانے کی ساؤنڈ ریکارڈنگ اور سین کی شوٹنگ ایک ساتھ کرنا پڑتی تھی۔ فلم میں کام کرنے والے کلاکارخود گاتےاوراداکاری بھی کیا کرتے-اہم موسیقار کرداروں کا گروہ سٹوڈیو میں ہی کیمرے کی نظر سے ہٹ کر کسی اوٹ میں کھڑا ہوتا تھا اوروہیں سے گانے والے کی سنگت کرتا تھا۔ گیت شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے تک شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں کیمرے چلتے رہتے تھے۔ صرف شوٹنگ کیمرے کو ٹرالی پر رکھ کر درمیانے شاٹ، کبھی فل لینتھ، تو کبھی کلوزاپ کی ضرورت کے لیےآگے پیچھے کیا جاتا تھا۔ ہلچل بس یہی ہوتی تھی۔چار ساڑھے چار منٹ کے چلنے والے اس شروع کے شاٹ میں،کیمرہ والا، گانےوالا یا کردار تھوڑی بھی غلطی کرتا، تو پھر شروع سے آخر تک وہی سلسلہ چلانا پڑتا تھا۔

ایک دن گووندراؤ ٹیمبے کا ہریش چندر کا گیت فلمانا تھا۔ گووندراؤ اعلی پائے کے گائیک تھے۔ انہیں اسٹیج پر وقت کی قید نہ مانتے ہوئے جتنی دیر چاہا گانے کی عادت تھی۔ لیکن یہاں فلمی دنیا میں وقت کی قید بہت معانی رکھتی تھی۔ میں نے گووندراؤ کو گانا وقت پر ختم کرنے کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھایا تھا، کہا تھا، “میں کیمرے کے پاس کھڑا رہوں گا۔ ہر ایک منٹ کے بعد میں آپ کو ایک، دو، اس طرح انگلیاں دکھا کر اشارہ کرتا رہوں گا۔ میری چار انگلیاں دکھائی جاتے ہی آپ اپنا گانا مناسب ڈھنگ سے ختم کیجئے۔”

انہوں نے میری باتیں دھیان سے سن لیں۔ اُن کو من ہی من دہرا لیا اور میری ہدایات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اب گووندراؤوقت کے بارے میں کوئی جھنجھٹ کھڑا نہیں کریں گے۔

گانے کی ریہرسل ہو گئی۔ کیمرے کی سرگرمی بھی پکی ہو گئی۔ گووندراؤنے اپنی سنہرے فریم والی عینک اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میں نے چِلا کر سب کو ‘خاموش’ رہنے کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنی اپنی مقررہ جگہ پر ٹھیک کھڑے ہوگئے۔”سٹارٹ”، میں نے اشارہ کیا۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈنگ الگ دونوں کیمرے چالو ہو گئے۔ وِنائک نے سین نمبر اور شاٹ نمبر کہہ کر ‘کلیپ’ماری۔ خاص سنگیت بھی شروع ہو گیا۔ گووندراؤ کا سُر بہت ہی بڑھیا لگا تھا۔ کیمرے کی حرکت میرے خاموش اشاروں کے مطابق ہونے لگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ میں نے ایک منٹ ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے لگا کہ گووندراؤ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ وہ گانے میں ایک دم کھو گئے تھے۔ گانے کے بھاؤ کے مطابق ان کی اداکاری بھی بہت ٹھیک سے چل رہی تھی۔ دو منٹ ہو گئے۔ میں بہت خوش تھا۔ تیسرا منٹ بیتا۔۔۔چارمنٹ ہو گئے۔ میں نے گانا ختم کرنے کا اشارہ گووندراؤ کو کیا۔ لیکن وہ گانے میں اتنے کھو گئے تھے کہ میرے اشاروں کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ اس لئے گاتے گاتے ان کی نظر جس طرف بھی جاتی، اسی سمت میں کتھک نرتک کی طرح اچھل کود کر میں انہیں گیت ختم کرنے کے اشارے کرتا گیا۔ لیکن بھگوان کا نام لو، پانچ منٹ ہوگئے، گووندراؤرکنےکا نام ہی نہیں لےرہے تھے۔میراکتھک ناچ اب تانڈو میں بدل گیا تھا۔ لیکن میں جتنا بھی کودتا پھاندتا، گووندراؤ کا گانا اور رسیلا بنتا جا رہا تھا۔ میری ساری کوششیں بیکار گئیں۔ہار کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر میں مایوس ہوکر دھم سے نیچے بیٹھ گیا۔ تبھی کیمرا چلانے والے فتے لال زور سے چلائے “فلم ختم ہوگئی۔”گووندراؤ چونک کر رک گئے اور غصے میں آکر بولے، “یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے آپ نے؟ اب جاکر کہیں میری آواز فلم کے مطابق سدھ گئی تھی، اور ادھر آپ کی فلم ختم ہو گئی؟کہاں ہے وہ شانتارام بابو؟” میں تو ان کے سامنے ہی کیمرے کے پاس گردن لٹکا کر سرتھامے بیٹھا تھا۔ گم سم، چپ!مجھے دیکھنے کے لیے گووندراؤنے اپنی عینک منگوا لی۔

ایودھیا کا راجہ کا ایک منظر

اسےوہ آنکھوں پر رکھنے جا ہی رہے تھے کہ میں نے فوراً اٹھ کر، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ایسے انداز سے کہا، “واہ گووندراؤ! آج تو آپ کی آواز ایک دم بڑھیا سدھی تھی۔ آپ کا گانا بےمثال رہا!”

یہ سن کر ان کا غصہ شانت ہو گیا، بولے، “تبھی تو! عینک لگی نہ ہونے کے کارن آپ کا چہرہ مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا، لیکن آپ ہاتھ اٹھاتے ضرور تھے، اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے گانے کی داد دے رہے ہیں اور اسی لئے میں گاتا چلا گیا۔”

میں نے من ہی من کہا، “کرم پھوٹےمیرے!”

ہماری شوٹنگ انیس دن چلتی رہی۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈ دونوں کی فلموں پر کیمیکل روم میں روز کیمیائی عمل کیے جاتے تھے۔ دھایبرجی نے ان کے پرنٹس تیار کئے۔ دوسرے سین کی شوٹنگ کرنے تیاریاں ہونے تک میں نے سوچا، تصویر اور آواز پٹیوں کو ٹھیک سے ساتھ ساتھ جمع کرکے ان کی ایڈیٹنگ کیوں نہ پوری کر لی جائے۔ مووی اؤلا پر میں ایڈیٹنگ کے لیے بیٹھ گیا۔

تصویر اورآوازپٹیوں کےالگ الگ ر ولوں کو مووی اولا پر چڑھایا۔ شوٹنگ سکرپٹ کے مطابق کس شاٹ کو کہاں کاٹنا ہے، طےکرلیااورنشان بھی لگا لیے۔ پہلے ہی شاٹ میں کرداروں کےہونٹوں کی حرکت اورآواز کاتال میل نہیں بیٹھا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈیٹنگ مشین پر رول چڑھانے میں مجھ سے کوئی بھول ہو گئی ہے۔ میں نے رول اتار لیے اورپھرٹھیک سے چڑھا دیے۔ دونوں پٹیوں کا ٹیسٹ پھرشروع کیا۔لیکن دونوں پٹیوں میں قطعی کوئی میل نہیں بیٹھتا تھا۔ ہونٹوں کی شروعات حرکت کے ساتھ آواز کو ملا لینے پر دونوں پٹیوں کی لمبائی میں فرق آ جاتا۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اردیشرایرانی جیسے تجربہ کار فلم ڈائریکٹرنے یہ سسٹم غلط ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ صحیح تھا؟ نہیں!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید ایک ادھ شاٹ غلط ہو گیا ہوگا۔ من میں پھر تھوڑی امید جاگی۔ اگلا شاٹ ٹھیک سے دیکھا۔ لیکن وہی حال۔ پاگل کی طرح میں ایک کے بعد ایک شاٹ اور ایک کے بعد ایک رول جانچتا گیا۔ لیکن ایک بھی شاٹ میں تصویراورآوازکا میل نہیں بیٹھ پارہا تھا۔ میرے تو دیوتا کوچ کر گئے۔

تبھی داملے وہاں آ پہنچے۔ میں نے انہیں کچھ شاٹس دکھائے۔ انہیں دیکھتے ہی داملے ایسے بیٹھ گئے جیسے ہذیان ہو گیا ہو۔ کچھ دیر بعد پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچا، وہ مشینری روم میں گئے۔ کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈرایک ساتھ چالو ہوں اس کے لیے وہاں جو اوربجلی پر چلنے والےدیگرآلات رکھے تھے،ان کا داملے ٹھیک ٹھیک معائنہ کرنے لگے۔

کچھ لمحوں بعد میں بھی اس کمرے میں پہنچ گیا۔ داملے پسینے پسینے ہو گئے تھے۔انہوں نے ساری مشینری کی پھر جانچ پڑتال کی، دیکھا بھالا۔ کسی میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا۔داملے جی نے مجھے بے چینی سے پوچھا، “شانتا راما بابو، ہم نے تجربے کے لیے جو شروع کے شاٹس لیے تھے، ان میں تصویراورآوازکی فلمیں ایک سی لمبائی کی تو تھیں نا؟ ان میں ہونٹوں کی ہلچل کا آواز کے ساتھ برابر تال میل بیٹھا تھا نا؟”

میں نے “ہاں” کہہ تو دیا لیکن میں بھی کچھ سٹپٹاہٹ میں ہی تھا۔

ہم دونوں ایڈیٹنگ روم میں گئے۔ وہاں نئی شاٹس کی فلموں کو ہم نے پھر مووی اولا پر چڑھایا۔ ان فوٹوزمیں تصویر اور آواز کا ایک دم ٹھیک تال میل بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر داملے نے کہا، “اچھا، اب آپ گھر جائیے۔ ان انٹرلاک موٹرز میں کیا خرابی آ گئی ہے، میں دیکھ لیتا ہوں۔”

میں گھر گیا۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ کمرے میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر چکر کاٹتا رہا۔ مجھے اس طرح پریشان دیکھ کر وِمل نے پوچھا بھی، بات کیا ہے، لیکن میں نے کچھ ٹال مٹول جواب دے دیا۔ دن بھر کے کام کے مارے تھکی ماندی ہونے کے کارن وہ سو گئی۔ میں کمرے میں ٹہلتا تھا۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انیس دن کی محنت، وقت، شوٹنگ، سب کچھ بے کارہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ شوٹنگ کی گیارہ ہزار فٹ اور ساؤنڈ ریکارڈر کی بھی اتنی ہی لمبائی کی فلم بیکار گئی تھی۔ یعنی بائیس ہزار فٹ فلم ہم نے برباد کر ڈالی تھی۔ ادھر ایک ایک پیسے کے لیے کمپنی ترس رہی تھی۔ ہم بھی فلم کے ہر فٹ کاپورااستعمال کرنے کی احتیاط برت رہے تھے۔ اور ایسے میں یہ بربادی! کیا آڈیوکمیکس ساؤنڈریکارڈرکاہماراانتخاب غلط تھا؟ اگر تھا،تواب شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں ایک ساتھ کر سکنے والا نیا کیمرا کہاں سے لایا جائے؟ اس کےلیے ضروری رقم کہاں سے حاصل کی جائے؟ پھر نیا کیمرا لانا بھی ہو، تو امریکہ سےمنگوانا پڑےگا۔اس کے آنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ یعنی تب تک کیا کمپنی کے لوگوں کو بنا کسی کام کے تنخواہ دی جائے گی؟ ویسے ہی پیسے کے لالے پڑرہے تھے۔ تو کیا کمپنی کو تین چار مہینے بند رکھنا ہوگا؟ میرے من میں وچاروں کا انبار لگا تھا۔ کھڑکی سے باہر کہیں دور دیکھنے کی میں کوشش کر رہا تھا۔ لیکن باہر گھنا اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں کب بستر پر آکر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگی، معلوم نہیں۔

سپنے میں ایک پاگل سا نوجوان سر جھکائے آگے پیچھے ڈول رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے بچپن میں کئی بار دیکھا تھا۔ اس کا نام تھا نیل کنٹھ۔۔ بعد میں وہ کولہاپور کی کمہار گلی میں دت سوامی کے مندر میں بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کھانے کے لیے کچھ دے دیا تو کھا لیتا تھا، ورنہ بھوکا رہ کر دن بھر بس اسی طرح ڈولتا رہتا تھا۔ لوگ اسے ‘نیلو مہاراج’ کہنے لگے تھے۔ اس نیلو مہاراج کی حال ہی میں وفات ہو چکی تھی۔ سپنے میں اسی نیل کنٹھ نے سر اٹھا کر میری اور دیکھا، اور وہ کہنے لگا،”بے کار کی الجھن میں کیوں پڑتے ہو؟ فکر نہ کرو، سب کچھ ایک دم ٹھیک ہونےوالا ہے!”

یہ لفظ سن کر میں جاگ اٹھا۔ سپنے میں بات یاملاقات وغیرہ ہونے پر میرا قطعی یقین نہیں تھا، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جو ہوتا ہے! مجھے بھی اس سپنے نے ہمت بندھائی۔نہانے دھونے سے نبٹ کر میں فوراً مشینری روم میں پہنچا۔ داملےجی بہاں رات بھر مشین میں آئی خرابی کھوجتے رہے۔ کوشش تو وہ پوری کر رہے تھے، لیکن غلطی پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔سٹوڈیو میں ہریش چندر کے محل کا منظر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کام کو پہلے بند کروایا۔ اتنے دنوں سے جاری شوٹنگ سب کا سب بیکار ہو جانے کی بات کانوں کان ہر جگہ پھیل گئی تھی۔ ساری کمپنی پرڈپریشن بری طرح چھا گیا تھا۔ میں بھی ایک کمرے میں گہری فکر میں کھو گیا۔

کچھ دیر بعدایک چھوکرا بھاگتے بھاگتے مجھے کھوجتا ہوا آیا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس نے کہا، “داملے ماما نے کہلا بھیجا ہے کہ آلے میں جو خامی تھی، اس کا پتہ چل گیا ہے۔ دونوں موٹریں اب ٹھیک چل رہی ہیں۔”

سن کر میں دوڑ کر مشینری روم میں گیا۔ داملے سارا کام ختم کر پسینہ پونچھ رہے تھے۔ میں نے داملے کو کس کر گلے لگا لیا۔ ان کے چہرے پر رات بھر کام کرنے کے کارن تھکان صاف دکھائی تو دے رہی تھی،لیکن سکون اس سے بھی زیادہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “خاص کوئی بات نہیں تھی، شانتارام بابو۔ صرف ایک سوئچ ذرا ڈھیلا ہو گیا تھا، اسی کے کارن یہ سارا جھمیلا ہو گیا!”میں نے انہیں آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا اور میں اسی دن بمبئی گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی پہلا کام میں نے یہ کیا کہ آگفا کمپنی میں گیا۔ ریگےجی سے ملا۔ بے جھجک ہوکر انہیں سارا معاملہ بتایا۔ انہوں نے میری پیٹھ سہلاتے ہوئے ہمت بندھائی، “کوئی بات نہیں! فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو آپ کی بولتی فلم کوپورا کرنے کے لیے جتنی بھی کچی فلم لگے، ہم آپ کو ادھار دے دیں گے۔” سن کرمیرا حوصلہ کچھ بڑھا۔ پھر میں نے ہمارے ڈسٹری بیوٹربابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ سوچ بچار اورمشورہ کرکےکچھ رقم کابندوبست کرلیا۔

میں کولہاپور واپس آ گیا۔ ہریش چندر کے محل کی شوٹنگ پھرسےشروع کر دی۔ اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برت کرمیں ہردن شوٹنگ پوری کرنے کے بعد رات بارہ ایک بجے تک بیٹھ کراس دن کی شوٹنگ کی ایڈیٹنگ بھی پورا کر لیتا تھا۔ مقصد یہ ہوتا کہ مان لو پھر کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی ہو، تو فورا اسی دن اسے ٹھیک کر لیا جا سکے۔

سٹوڈیو کے باہر کے کھلے میدان میں کاشی کے غلاموں کے بازار کا منظر تیارکیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کو کاشی کے گنگاناتھ مہاجن کا کردار دیا۔ تہذیب کے نام پر صفائی کے ساتھ بُرے کام کرنے والے وِلن سامنے لانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ میری یہ سوچ میں نے بابوراؤ کو بتائی۔ انہیں وہ بہت پسند آئی۔ اس خیال کو انہوں نے ڈھال لیا اور اپنی اداکارانہ مہارت سے اس میں ایسی جان ڈال دی کہ (فلم میں) گنگاناتھ مہاجن یادگاربن گیا۔

غلاموں کے بازار کی شوٹنگ ختم ہوئی۔ پھرمرگھٹ کا منظربنایاجانےلگا۔ ہریش چندر کے مرگھٹ کے مناظر کو فلمایا جانے لگا۔ ہریش چندر کا ڈوم مالک مرگھٹ کا بھی سردار تھا۔ اس ڈوم کے یہاں ایک بار ناچ گانے والوں کا ایک گروہ آتا ہے اور گانا گاتا ہے۔ اس سین کو فلماتے سمے ہی کولہاپورمیں ڈوم مداریوں کی ایک تماشہ پارٹی آئی ہوئی تھی۔ انہیں ہم نے کمپنی میں بلوا لیا اورسیدھا شوٹنگ کے لیے کھڑا کر دیا۔ ان میں ایک لڑکی سے وہیں کچھ لوک گیت سن لیے۔ ان لوک گیتوں میں سے ایک ٹھیٹھ دیہاتی،چٹخداراورپھڑکتی دھن کا لوک گیت چن لیا۔ اس گیت کی دھن پر وہ لوگ ناچنے لگے۔ لیکن فلم کے لیے مخصوص وقت کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ گووندراؤ ٹیمبے کی گائیکی کے بارے میں جو بُرا تجربہ ہوگیا تھا، من میں تازہ تھا۔ اس لئے ان دیہاتی فنکاراؤں کو ٹھیک وقت پر کیسے روکا جائے، ایک الجھن ہی تھی۔

میں نے اپنا ڈائریکٹر کا پہناوا بدل لیا۔ پھٹی دھوتی اور سر پر ایک مٹ میلی دھجی باندھ کر میں بھی ان میں سےایک ڈوم بن گیا۔ میں کیمرے کی طرف پیٹھ کئے کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی گھڑی چھپا لی۔ ناچتے ناچتے بیچ بیچ میں میری طرف دیکھتے رہنے کی ہدایت انہیں دی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ میرے ہاتھوں کا اشارہ سمجھ کر گیت گانا بند کرنا۔ شوٹنگ چالو ہو گئی۔ گانا اچھا تھا۔ رقص بھی چٹخدارتھا۔ کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کلاکار اور کاریگر ‘پربھات’ کا سخت ڈسپلن توڑ کررقص گیت کے تماشے کو دیکھنے کے لیے شوٹنگ کی جگہ پہ جمع ہو گئے تھے۔ اصل مراٹھی کے لوک گیت کے الفاظ تھے بھی بڑے مزیدار، جن کا مطلب تھا۔۔۔

“کودو کٹکی جیو نار کے لیے بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے۔۔۔”

فلم کی شوٹنگ اور مراٹھی ہندی ورژن کا کام پورا ہوا۔ مراٹھی میں اس بولتی فلم کا نام “ایودھیچا راجہ” اور ہندی میں “ایودھیا کا راجہ” رکھا گیا۔

فلم کو پہلے ٹرائل روپ میں آپس میں ہی دیکھنے کا دن طے ہوا۔ رات ہو گئی۔ فلم کی مکمل کاپی تیار ہو رہی تھی۔ ہم سب لوگ بے حد اتاولے ہو رہے تھے۔ ذہنی تناؤ تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ بیچ میں ملے وقت میں بھی ہم لوگ کسی سے بات نہیں کر رہے۔ مکمل فلم کو تیار کرتے کرتے بھور ہو گئی تھی۔ سبھی چپ چاپ بیٹھے فلم تیار کی جانے کا انتظارکر رہے تھے۔

کمپنی کے باہر والے کھلے احاطے میں ہم لوگ اپنی پہلی بولتی فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ پربھات کے لوگو کا پہلا شاٹ چالو ہو گیا۔ تانپورے کی آواز سنائی دینے لگی۔ اسی جھنکار کی لے پر پربھات دیوی نے اپنی بھیری اٹھائی، وہ اسے اپنے ہونٹوں تک لے گئیں۔ اور بھیری سے نکلی دیسی راگ کی سریلی دھن نے سارے ماحول کو بھر دیا۔

خاموش فلم کے لیے بنایا گیا وہ لوگو ساؤنڈ ریکارڈ یعنی بولتی فلموں کے لیے اتنا مناسب ثابت ہوگا، کسی نے سوچا نہیں تھا۔ بھیری کو سر مل گئے۔ ہماری ‘پربھات’ کی بھیری سامنے لگے پردے پر گونج رہی تھی۔ اس خاموش لوگو سے پرزوراور پہلی سُریلی لہر سے میرا تن من پر جوش ہو گیا۔ اسی لمحے ہمارے منتخب ناظرین کےگروہ نے والہانہ داد دی، “واہ واہ!” ساتھ ہی سارااحاطہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔

بولتی فلم پوری ہو گئی۔ آخرمیں پھر سے ‘پربھات’ کا لوگوپردے پر آیا۔ پربھات کی بھیری پھر ایک بار اپنا سریلا سُر ماحول میں بکھیر رہی تھی۔ میں نے پورب کی طرف دیکھا۔ مشرقی افق بھی اس وقت پربھات کی لالی سے لال لال ہو رہا تھا۔

بولتی فلم واقعی میں بہترین بنی تھی۔ اس کے مکالمے،گیت، سب کچھ بہت اچھا فلم ہو گیا تھا۔ سبھی کلاکاروں اور تکنیک کاروں نے اپنا کام پورے دل سے کیا تھا۔ لیکن۔۔۔۔من میں اتنے دن سے دبی پڑی وہی بے چینی پھر ابھر آئی۔ میری رائے میں ‘ایودھیا کا راجا’ حقیقت میں ایک فلم نہیں تھی۔ وہ ناٹک فلم تھی۔ سین اور اداکاری کے مقابلےوہ مکالموں اورگیتوں سے کھچاکھچ بھراپڑا تھا،لدا لدا سا لگ رہا تھا۔حقیقی معنی میں وہ صرف ‘بولتی فلم’ تھی۔ لیکن اس الجھے خیال کے کارن کہ اس طرح کی بولتی فلم بنائے بنا وہ کامیاب ہو ہی نہ سکےگی، میں نے پربھات فلم کمپنی کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وہ ناٹک کی طرز کی بولتی فلم پورا کی تھی۔

ہندی ورژن ‘ایودھیا کا راجا’ تو سو فی صدی ڈرامائی تھی۔ مراٹھی ورژن کچھ کم ناٹکی تھا۔ بچوں کی کہانی ہوتی ہے نا، ٹھیک ویسی ہی تھی ان دو ورژن کی کہانی : ایک تھا راجا۔ اس کی دو رانیاں تھیں۔ ایک تھی اس کی چہیتی اور دوسری تھی اَن چاہی : لیکن میرے بارے میں یہ کہانی تھوڑی سی مختلف تھی ہندی ورژن بالکل ہی اَن چاہا تھا، تو مراٹھی ورژن تھا تواَن چاہا ہی، لیکن تھوڑا کم اَن چاہاتھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ کیا دیکھنے والے ان دونوں ان چاہی رانیوں کو پسند کریں گے؟کمپنی کی بگڑی گرہستی (گھر)کو کیا یہ رانیاں پھر ٹھیک سے بسائیں گی؟

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 9: بہاؤ کے الٹ

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..

‘گوپال کرشن’کو غیرمتوقع کامیابی ملنے کی وجہ سے ساری کمپنی میں جان آ گئی۔ کمپنی کا کام بھی بڑھ گیا۔ آج تک ساری خط و کتابت میں ہی دیکھا کرتا تھا، لیکن اب کام بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے خط و کتابت کی طرف کافی دھیان دینے کی فرصت مجھے نہیں مل پا رہی تھی۔ ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر سے ملاقات ہو گئی۔ مہاراشٹر فلم کمپنی سے ناطہ توڑنے کے بعد انھوں نے بمبئی جاکر ‘وندے ماترم’ نامی فلم بنائی تھی۔ لیکن سینسر کی قینچی نے اس کی ایسی درگت بنا دی تھی کہ وہ ایک دم فیل ہو گئی۔ لہٰذا اس وقت وہ بالکل بے کار بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، “کیا آپ ‘پربھات’ میں مینیجر کا کام قبول کریں گے؟” انہوں نے بےکار کی بحث میں نہ پڑ کر فورا ‘ہاں’ کہہ دی۔ بابوراؤ پینڈھارکر ہمارے مینیجر بن کر روز سارا کاروبار دیکھنے لگے۔ خط و کتابت کی بھی فکر مجھے نہیں رہی۔

‘گوپال کرشن’ کولھاپور میں ریلیز ہونے جا رہی تھی۔ ہم چاروں کی خواہش تھی کہ بابوراؤ پینٹر اسے دیکھ کر ہمیں دلی آشیرواد دیں۔ ہم چاروں انھیں مدعو کرنے گئے۔ اس وقت صحت خراب ہونے کی وجہ سے بابوراؤ پینٹر اسپتال میں بھرتی کیے گئے تھے۔ ہم نے اپنی خواہش ظاہر کی۔ ہمیشہ کی طرح وہ خاموش رہے۔
فتے لال جی نے پھر صبر کے ساتھ پوچھا، “تو آپ صحت حاصل کر لینے کے بعد تو آئیں گے نا؟”

پھربھی کوئی جواب نہیں ملا۔ ہم لوگ بڑی امید سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے،اور ایک وہ تھے جو کہیں اور دھیان لگائے خاموش پڑے تھے۔ کچھ لمحوں بعد انتہائی ناراض ہو کر، ‘اچھا’، کہہ کر ہم لوگ چلے آئے۔

اس کے دوچار دن بعد بابا گزبر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا، “بابوراؤ کا رویہ بھی کتنا عجیب ہے! آپ لوگ انھیں مدعو کرنے گئے تھے، اس کے کچھ ہی وقت بعد میں ان کے پاس گیا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، پربھات فلم کمپنی کےمالک آئے تھے، میں زندہ ہوں یا مر گیا، دیکھنے کے لیے۔” اور اس کے بعد انہوں نے جو کہا اسے سن کر میں ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔ انھوں نے کہا تھا، “یہ لوگ مجھ سے جو کچھ سیکھ کر گئے تھے، سارا ایک ہی فلم میں ختم کر بیٹھے ہیں! اب دیکھتے ہیں، آگے کیا کر پاتے ہیں!”

اب آئندہ فلم کیا ہو؟ اس کے لیے کہانی کیا چنی جائے؟ ‘گوپال کرشن’ کو ریلیز کرنے بمبئی گیا تھا، تب وہاں میں نے ایک ماردھاڑ والی فلم جان بوجھ کر دیکھی تھی، جو بمبئی کے ایک اولین پروڈیوسر نے بنائی تھی۔ ماردھاڑ سے بھرپور اسٹنٹ فلم میں ہیرو کا کام،مہاراشٹر فلم کمپنی میں میرے تحت ایڈیٹنگ کاکام کرنے والا وِٹھل ہی اب ماسٹر وٹھل کے نام سے کرتا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، ڈنڈے بازی کی جو تربیت اسے ملی تھی،اس کا پورا استعمال کرتے ہوئے ماسٹر وٹھل اس زمانے کے ناٹکوں کے لیے ضروری ہو چکا تھا۔ اسٹنٹ فلموں میں مصنوعی اور مشکل منظروں کی بھرمار ہوا کرتی تھی اور ناظرین کو سستی تفریح مہیا کرنا ان کا مقصد ہوا کرتا تھا۔ زوردار تلوار چلا کر ایسی فلموں کا ہیرو دشمن کے بیس پچیس سپاہیوں کو ڈھیر کر دیتا تھا۔ زمین سے بارہ پندرہ فٹ اونچی دیوار پر نیچے سے چھلانگ لگا کر وہ آرام سے بھاگ نکلتا تھا۔ اُن دنوں ایسی فلم کے لیے لوگوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔

اتنے سستے جوش کی اس فلم کو دیکھنے پر مجھے تو گھن سی آنے لگی۔ میں ‘ساوکاری پاش’ جیسی آدرشی فلم بنانے والی مہاراشٹر فلم کمپنی کے سنسکاروں (اقدار) میں پلا بڑھاتھا۔ مجھ جیسے شخص کو ناچار ایسا لگنے لگا کہ بھونڈی شہرت کے پیچھے پڑ کر صرف پیسہ کمانے کے خیال سے بنائی جانے والی فلموں کا منہ توڑ جواب ایک بہترین فلم تیار کر کے دیا جائے۔

‘گوپال کرشن’ بناتے وقت فلم میکنگ میں رائج دھارا(روایت) سے بڑی صفائی سے، تیزی سے ہٹ کر میں نے اوروں کی توقع سے آگے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش میں کہیں دوچار ہاتھ کچھ مختلف سمتوں میں آڑے ٹیڑھےچلا دیے تھے۔ ‘گوپال کرشن’ میں،میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن اب سستی مقبولیت کی کشش مٹا کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ دھارا کی مخالف سمت میں تیرتے ہوئے ایک اچھی سی سٹنٹ فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ دل و دماغ کو نہ بھانے والے جھوٹ موٹ کے منظروں کو بڑھاوا نہ دیتے ہوئے، ناظرین کے جوش کو ہر پل بڑھاتے ہی جانے والی فلم کا میں تصور کرنے لگا۔ اس کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ کہانی کی رچنا اس طرح کی کہ اس اسٹنٹ فلم کے ناظرین تھریلڈ ہوکر حیران رہ جائیں۔ لیکن سٹنٹ فلموں کو ہی پسند کرنے والے ناظرین کو مسحور کرنے کے لیے میں نے اس فلم کا نام رکھا ‘خونی خنجر’، اس بھڑکیلے نام رکھنے پر مجھے تب بھی بڑی ہنسی آتی تھی۔

اس فلم میں میں نے ڈائریکشن کے کچھ خاص ‘ٹچِز’ دکھائے تھے۔ ایسے منظروں میں ایک تھا :کھل نائک (ولن) ہیروئین کو پکڑ کر اپنے محل میں لے آتا ہے۔ وہ اس سے زیادتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادتی کا یہ منظر میں نے پٹے پٹائےاسٹائل سے ولن اور ہیروئن میں ہاتھاپائی دکھا کر نہیں لیا۔ میں نے دکھایا، کھل نائک(ولن) نائکا (ہیروئین )کی طرف جانے لگتا ہے۔ نائکا ڈر کے مارے دیوار کی اور منھ پھیر کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ولن میان سے تلوار کھینچ لیتا ہے اور اس کی نوک سے نائکا کی چولی کے پیچھے کے بند کاٹ دیتا ہے۔ نائکا اپنے سینے کو ہاتھوں سے ڈھک کر پیٹھ دیوار سے ٹکا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ ولن پھر اس کے پاس آتا ہے اور تلوار سے اس کی ٹانگ پر سے ساڑھی پھاڑ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساڑھی کے پھٹے دونوں حصے الگ ہو کر گر جاتے ہیں اور دکھائی دیتی ہے اس کی گوری گوری ٹانگ اور پیر، جیسے کیلے کے پیڑ کا ملائم نزاکت بھرا تنا ہو۔

اس ڈھنگ سے فلمایا گیا یہ منظر سنسر کو اتنا شہوت انگیز معلوم ہوا کہ انھوں نےہمیں اسے پورا کا پورا نکال دینے کا حکم دیا۔ ہم نے انھیں کافی سمجھا کر بتایا تب جا کر کہیں اس منظر کو فلم میں رکھنے کی اجازت انھوں نے دی۔ لیکن اس کی لمبائی کافی کم کر دی۔

اسی فلم میں ایک شاٹ بہت ہی لمبا لیا گیا تھا۔ فلمی دنیا کی آج کی اصطلاح میں اسے ’لِنگرِنگ شاٹ’ کہا جاتا ہے۔فلم کا ہیرو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے۔ کمرے میں وہ اکیلا ہی دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کی لمبائی چوڑائی ناپتا پھرتا ہے۔ یہ شاٹ کافی لمبا چلانے میں میرا ارادہ تھا ہیرو کا اکیلاپن اور نہ کٹنے والا، بور کر دینے والا وقت، ایک ساتھ ناظرین کو متاثر کرے۔ اس کا اثر بھی ناظرین پر اچھا دیکھا گیا۔ ‘خونی خنجر’ میں زیادتی کا وہ سین اور کمرے کا وہ لنگرنگ شاٹ آگے چل کر میرے سٹائل کے خاص ‘ٹچز’ مانے گئے۔

‘خونی خنجر’ کی ہدایتکاری کرتے وقت میں نے اس بات کی احتیاط برتی تھی کہ میں پھر وہ ہی غلطیاں نہ کر بیٹھوں، جو ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی تھیں۔ لیکن اس بار میں نئی غلطیاں کر بیٹھا۔ اس بار بھی مجھے ضرور لگا کہ میں تھوڑا زیادہ چوکنا رہتا یا زیادہ سوچ کر کام کرتا، تو ان غلطیوں کو روکا جا سکتا تھا۔ یہی حال ہے، تو پھر میرے سے ایسا کیوں ہو جاتا ہے؟ میرے وچاروں میں، کام میں کہیں نہ کہیں کچھ کمی کیوں رہ جاتی ہے؟ یہ سوچتے سوچتے پھر آنسو بہانے کا وہی موقع آ پڑا! لیکن اس بار مجھے روتا دیکھ کر وِمل ہنسنے لگی۔ مجھے اس پر بڑا غصہ آیا۔ اس نے کہا، “آپ کی پہلی فلم کی غلطیاں کسی کے بھی دھیان میں نہیں آئی تھیں، تو اس فلم کی غلطیوں کو بھی کوئی پکڑ نہیں پائے گا!”

“کوئی نہ پکڑ پائے تو اپنی بلا سے، مجھے جو وہ دکھائی دے رہی ہیں؟” اس پر وِمل نے کچھ نہیں کہا۔ ایک بڑا سا رومال صرف میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے پوچھا، “یہ کس لیے؟”شرارتی ہنسی ہنستی ہوئی بولی، “آنکھیں پونچھنے کے لیے!” میں نے اس کے گال پر ایک کس کے چانٹا لگا دیا۔ روتے روتے وہ مجھ سے دور ہو گئی۔ یہ بھی خوب رہی، میں بعد میں سوچنے لگا۔ غلطیاں کروں میں، اور چانٹا کھائے وِمل؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ لیکن یہ خیال میرے من میں اس رات نہیں، دوسرے دن آیا!

سویرے میں جب سٹوڈیو گیا، تب کولھاپور دربار کا ایک سپاہی ایک لفافہ لے کر آیا۔ اس کے اندر جو لکھا تھا، اسے پڑھ کر میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میرے باقی ساتھی پوچھنے لگے، ‘بات کیا ہے؟’ میں نے انھیں بتایا، ہمیں ‘گوپال کرشن’فلم کے لیے جن گایوں کی تلاش تھی، وہ گائیں ہمیں دینے کے لیے مہاراجہ صاحب نےحکم دے دیا ہے!” یہ جان کر ہنستے ہنستے سبھی لوٹ پوٹ ہو گئے۔ تب تک تو ہماری ‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو چکی تھی اور اب دوسری فلم ‘خونی خنجر’ بھی جلد ہی بمبئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی!

بمبئی میں ‘خونی خنجر’ ریلیز ہو گئی۔ وہ چلی بھی خوب۔ اس فلم کو طوفانی کامیابی ملی۔ نتیجتاً دوسرے پروڈیوسروں کی بنائی اسٹنٹ فلموں میں بھی مصنوعی پن کم ہونے لگا۔ خالص تفریح کے لیے بھی ‘خونی خنجر’ آئندہ کئی فلموں کی ایک طرح سے innovation بن گئی۔

خونی خنجر’ کو ملی کامیابی کی وجہ سے ہم لوگوں کا حوصلہ اور بھی بڑھ گیا۔ اب کچھ نئی اور ایکشن فلمیں بنانے کا وچار میرے من میں آیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے اس ‘تلی لیلی’ والے منظر کی وجہ مقبولیت بنے اننتیا کو اہم کردار دےکر ایک فلم بنانے کا میں نے طے کیا۔ اننتیا اس وقت پانچ سال کا تھا،اس کا فلمی نام ہم نے رکھا ‘بجربٹو’۔

اس فلم کو میں پریکٹیکل فلم اس لیے مانتا ہوں کہ ایک ننھے سے بچے کو خاص کردار دے کر بنائی گئی وہ پہلی ہی فلم تھی۔ میرے دوسرے خالہ زاد بھائی بھالاجی پینڈھارکر کہانی لیکھک اور ناٹک کار تھے۔ انہیں میں نے اپنا یہ وچار بتایا، جو انھیں بھی بہت پسند آیا۔ انھوں نے جلد ہی میرے خیال کے مطابق ایک بڑھیا کہانی لکھ دی۔ اس فلم کا نام تھا ‘رانی صاحبہ’۔

اس فلم کو بھی لوگوں نے خوب پسند کیا۔ ‘پربھات’ فلم کمپنی کا نام اب لگ بھگ ہر زبان پر آنے لگا تھا۔

سال ڈیڑھ سال کا ہی وقت گزرا تھا، پربھات کی مالی حالت روز بہ روز بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ اب ہم میں سے ہر ایک کے لیے گھریلو خرچ کے لیے ہر ماہ ڈیڑھ سو روپے لینا ممکن ہو گیا تھا۔ کمپنی کے سبھی نوکروں کی تنخواہ بھی ہم لوگوں نےبڑھا دی۔

آئندہ فلم کو اور بھی بہتر ین کیسے بنایا جائے، اسی کی فکر ہم لوگ کرنے لگے۔ وہ زمانہ تھا مہاتما گاندھی کی آزادی تحریک کا۔ اس تحریک کی ہوا پورے ملک میں زوروں سے بہنے لگی تھی۔ کیا مرد، کیا عورتیں، ہاتھوں میں کانگریس کا جھنڈا لیے سرِعام سڑکوں پر آتے اور پولیس کا کھل کر سامنا کرتے تھے۔ ان پر لاٹھی چارج ہوتا، کئی بار تو گولی بھی چلائی جاتی تھی۔ کئی لوگ گھائل ہوتے تھے۔ ریاست ہونے کی وجہ سےکولھاپور میں اس تحریک کی آنچ اتنی نہیں پہنچتی تھی۔ لیکن تحریک کا سارا حال اخبارات سے ہمیں بھی معلوم ہوجاتا تھا۔ تحریک کی خبریں پڑھ سن کر مجھے تو بہت ہی جوش آتا تھا۔ من میں آیا کہ کیوں نہ اسی ریاستی تحریک کی عکاسی کرنے والا موضوع ہی ہماری آئندہ فلم کے لیے چنا جائے؟ میں نے طے کر لیا کہ کسی تاریخی موضوع کی اوٹ سے اسی نشانے کو سادھا جائے۔
ہم مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے شواجی مہاراج ایشٹ دیوتا کی مانند پوجنے کےقابل ہیں۔ اب تک جتنی بھی تاریخی فلمیں بنائی گئی تھیں، ان میں شواجی مہاراج کو لڑائی کے احکامات دینےوالے رہنما کے روپ میں ہی فلمایا گیا تھا۔ بہروپیا پردے پر پیش کی گئی شواجی کی یہ مورتی مجھے قطعی قبول نہیں تھی، اس لیے میں نے ایک ایسی کہانی کا انتخاب کیا، جس میں ویر شواجی کوجان کی بازی لگا کر اپنےآپ کو لڑائی کے میدانوں میں جھونک دینےوالا، دشمن پر وِجے پانےوالا، ہوا سے باتیں کرنے والے گھوڑے کو ایڑ لگانے والا غصیلا جوان لیڈر دکھایا جا سکتا تھا۔ شواجی نے کچی عمر میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے تورنا قلعہ جیت لیا اور وہاں آزادی کی بنیاد رکھی۔ اس انتہائی جوش دِلانے والے موضوع پر پہلی تاریخی فلم بنانے کا ہم لوگوں نے فیصلہ کیا۔ سب کی درخواست تھی کہ اس فلم میں شواجی کا کردار میں ہی کروں۔

مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، گھڑدوڑ وغیرہ کی مجھے اچھی خاصی مشق ہو گئی تھی۔ شواجی مہاراج کی تاریخی کالی گھوڑی کی طرح ہی دِکھنے والی ایک جوان اور تیز کالی گھوڑی جت ریاست کے راجا صاحب سے ہم نے حاصل کر لی۔شواجی مہاراج کا وادھیا نامی ایک لاڈلا کتا تھا، ایسا ہم لوگوں نے تاریخ میں پڑھا تھا۔ میں نے اس ایماندار کتے کا بھی اپنی فلم میں استعمال کرنے کا طے کیا۔ ٹھیک ویسا ہی ایک کتا جت ریاست کے ہی ایک گڈریے کے پاس ہمیں مل گیا۔ سارا انتظام ٹھیک کر کے ہم نے شوٹنگ شروع کی۔

ظاہر ہے کہ مجھے شواجی کا کردار اور ڈائریکشن دونوں کام کرنے پڑتے تھے۔ کئی بار باہر شوٹنگ کے وقت میں گھوڑی پر سوار ہو کر شواجی کا کردار نبھاتے نبھاتے کیمرے کے پاس پہنچ جاتا اور سین کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں ضروری ہدایت دیتا۔ دوسرے کرداروں کو بھی اداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا۔ اس کے بعد وہ سین میری ہدایت کے مطابق برابر لیا جاتا ہے، اسے دھائبر دیکھتے تھے اور فتح لالجی کیمرا چلاتے تھے۔ فلماتے وقت ہم لوگ ایک ساتھ دو کیمرے الگ الگ سمتوں میں رکھتے تھے۔ اپنی جان کی ذرہ بھر پروا نہ کر میں اس کالی گھوڑی کو اتنی زور سے ایڑ لگا کر دوڑاتا کہ اس پر نظر بھی نہیں ٹھہر پاتی تھی۔ آئیمو کیمرے پر گھوڑے کے ساتھ ہی فولو کیے شاٹس تو بےپناہ، بہت ہی پُراثر آئے تھے۔

فلم میں کام کرنے کے لیے ہم لوگوں نے گڈریے کےجس کتے کو چنا تھا، وہ توایک دم انجان ہوتے ہوئے بھی اتنا چالاک اور سمجھدار تھا کہ اس کا ہر ایک شاٹ اس نے بتائے گئے ڈھنگ سے ایک دم سمجھدار آدمی کی طرح کیا۔ اسے واقعی شیواجی مہاراج کا ہی کتا مان کر ہم سب لوگ وادھیاہی کہنے لگے تھے۔

اس فلم کا نام ہم نے ‘سوراجیاچے تورن’ (آزادی کا وندنوار) رکھا۔ فلم کے پہلی ٹرائل ریلیز کے بعد میں ہمیشہ کی طرح اندر ہی اندر ٹوٹ گیاتھا۔ اس بارہمیشہ کی مانندکچھ زیادہ کیونکہ ہیرو بھی میں اور ڈائریکٹربھی میں ہی تھا۔ ‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے بعد اگلی فلم کی ریلیزکےوقت میں بمبئی نہیں جاتا تھا۔ مکتب کے طالب علم جس طرح اپنے امتحان کے نتیجہ کا انتظارکرتارہتا ہے، اسی طرح میں کولھاپور میں ہی لوگوں کا ردعمل جان لینے کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ اس بار بھی میں فلم کے ساتھ بمبئی نہیں گیا تھا۔ سنسر کے ایک ممبرنےفلم دیکھی اور کہا کہ جب تک سنسر بورڈ کے سبھی افراد اسے دیکھ نہیں لیتے، اسے عام نمائش کے لیے ریلیزنہیں کیا جا سکتا۔ انگریز سرکار ‘سوراج’ لفظ کے لیے بہت ہی خائف ہو گئی تھی۔ اسی لیے باوجود اس کے کہ سنسرکاممبر مہاراشٹری تھا،فلم کوقبولیت عطا کرنے کی ذمہ داری وہ اپنےپر نہیں لینا چاہتا تھا۔

کولھاپور میں یہ خبرملتے ہی میں فورا بمبئی گیا۔ اسی دن صبح سنسربورڈ کے سبھی ممبر میجسٹک سنیما میں فلم دیکھنے کے لیے آئے، سنسر بورڈ کے چیئرمین انگریز تھے اور ممبئی کے پولیس کمشنر بھی۔ باقی سبھی ممبر بھارتی تھے۔ آڈیٹوریم میں جانے سے پہلے کمشنر نے تھئیٹر کے باہر لگے ‘سوراجیا چے تورن’ کے پوسٹر اور فوٹو دیکھے تھے۔ ایک تصویر میں شواجی جھنڈا پھاڑتے دکھائے گئے تھے۔ اسے دیکھتے ہی انگریز کمشنر ایک دم آگ بگولا ہو گئے۔ وہ لگ بھگ چلّائے، ’’نو، نو! دس کانٹ بی پاسڈ’! اور اسی جھلاہٹ میں وہ تھئیٹر میں آ کر فلم دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے۔

میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ فلم دیکھ کر سبھی لوگ باہر آئے اور چلےبھی گئے۔ میں ان کی آمد اور باہر چلے جانے کی طرف کسی کٹھ پتلی کی طرح گردن اِدھر سے اُدھر ہلا کر دیکھتا رہا۔ سب کے بعد سنسر ممبر میرے پاس آئے اور سر جھکا کر بولے، “دی پکچر از بینڈ!” میں دھم سے وہیں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ پاؤں میں کوئی جان نہیں رہی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤپینڈھارکرممبر سے باتیں کرتے کرتے دروازے تک انھیں چھوڑنے گئے۔

تھوڑی دیر بعد لوٹ کر بابوراؤ پینڈھارکرکہنے لگے، ان لوگوں کا اصرار ہے کہ سب سےپہلے ہمیں اپنے فلم کا ‘سوراجیاچے تورن’ نام بدلنا ہوگا۔ کچھ سین اور ٹائٹلز کے کچھ جملوں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ جھنڈا پھاڑنے کا آخری سین تو پورا ہی نکال دینا ضروری ہے!

میں بینچ پر بیٹھا تھا، اچھل کر کھڑا ہو گیا اور غصے میں کہنے لگا، “میں کوئی بھی سین کاٹنے کو تیار نہیں ہوں! فلم جیسی بنی ہے، ویسا ہی دکھانے کی اجازت ملنی چاہیے!” میرا غصہ دیکھ کر بابوراؤ اس وقت کچھ بولے نہیں۔

شام کو میرا غصہ کافی اتر گیا تھا، بابوراؤ پینڈھارکر پھر میرے پاس آ کر بیٹھے۔ مجھے سمجھانے لگے، “سنسرکی خواہش کےمطابق ہم فلم میں تبدیلی نہیں کرتے ہیں توفلم کی عام نمائش ناممکن ہونے والی ہے۔ ”

“اس طرح اسے بےسرپیر کاٹنے میں کیا دھرا ہے؟ اگر جیسا ہے، ویسا ہی اسے ریلیز نہیں کرنے دیا جاتا، تو میرا سجھاؤ ہے کہ فلم کو ڈبے میں بند رہنے دیں۔ ہمارا دیس جب آزاد ہو گا، تبھی ہم اس کو ریلیز کریں گے!” میں بھی ہٹیلے بچے کی سی ضد پر اتر آیا۔

بابوراؤ پے نے پھر کہا، “پتا نہیں سوراج(آزادی) ملنے کے لیے ابھی کتنے سال رکنا پڑے گا! تب تک اس فلم کو ڈبے میں بند رکھ کر ہمارا کام کیسے چلے گا؟ اچھا، ایسا کرتے ہیں، آزادی ملنے کے بعد آپ اسی موضوع کو لے کر اپنی مرضی کے مطابق نئی فلم بنائیے۔ آج فلم کا نام بدلنے سے اس کی کہانی تھوڑاہی بدل جائےگی! شواجی تو شواجی ہی رہےگا نا؟ جھنڈا پھاڑنے کا وہ آخری سین نکال بھی دیا، تب بھی تورنا قلعہ جیت کر شواجی نے سوراج کی بنیاد رکھی، یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آ ہی جائے گی۔”

میں سوچنے لگا، میں چاہتا تھا کہ سوراج کے حصول کے لیے شواجی مہاراج نے جو کوشش کی، اس کا اثر اس زمانے کے عوامی ذہن پر پڑے اور اس کے کامیاب روپ سے عوامی بیداری ہو۔ میری یہ خواہش اس فلم کو ریلیز کرنے سے ہی پوری ہو سکتی تھی۔

میں نے چپ چاپ ‘سوراجیاچے تورن’ کی فلم لے کر واپس کولھاپور جانا ہی مناسب سمجھا۔

سنسر کی ساری کہانی اپنے سبھی ساتھیوں کو میں نے بتلا دی اور ہاتھ میں قینچی لئے سنسر کی خواہش کے مطابق فلم میں کاٹ چھانٹ شروع بھی کر دی۔ آخر وہ جھنڈا پھاڑنے کا سین آیا۔ اسے کاٹنے کی میری ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ لگتا تھا،جیسے اپنے بچے پر قینچی چلا رہا ہوں! میں قینچی پھینک کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھیں بھرآئیں۔ سبھی ساتھی کسی بچےکوسمجھانے احساس سے مجھے سمجھانے لگے۔ آخراس سین کو کاٹنے کا کام میں نے دھائبر کو سونپ دیا۔ دھائبر نے اس سین کو کاٹ کر فلم سے الگ کردیا۔

سب کی رائے سے فلم کا نیا نام ‘ادےکال’طے کیا گیا۔ اس کے مطابق ٹائٹلز لکھ کر فلم میں جوڑ دیئے گئے۔ ‘ادےکال’ کی کاپی لےکر کوئی بمبئی گیا۔

فلم میں کی گئی بھاری چھنٹائی کے کارن اس کے لیے میرا کوئی چاو نہیں رہا تھا، نہ ہی کوئی جوش۔ لوگوں کے ردعمل کے بارے میں کوئی خاص خواہش بھی میں نے نہیں رکھی تھی۔لیکن بمبئی سے حاصل ہونے والی خبریں بہت ہی حوصلہ افزاء تھیں۔ فلم کا نام بدل دئیے جانے اورکئی منظروں کو نکال دیئے جانےکے باوجود عوامی ذہن پر اس کا اچھا اثر پڑ رہا تھا۔ فلم میں متحرک،طاقتور، نوجوان شیواجی کی مورتی لوگوں کے ذہن پر صحیح روپ میں نقش ہو رہی تھی۔ نئے آئمو کیمرے سے لئے گئےتیز گھڑدوڑکےشاٹس پر تو لوگ بےحد خوش تھے، طوفانی رفتار سے گھوڑے دوڑتے چلے جانےکے سین آتے ہی لوگ تالیوں کے ساتھ جوش کا اظہارکرتے تھے۔ وادھیا کتے کا کام بھی لوگوں کو بہت پسند آیا تھا۔ ان اطلاعات کےکارن میرے من پر چھایا ڈپریشن دھیرے دھیرے چھٹ گیا۔ ہم سب لوگ بڑی خوشی سے کمپنی میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔۔۔

اندھیرا کب ہو گیا، پتہ بھی نہیں چلا کہ کمپنی کا ایک نوکر دوڑتاچلاتاآیا اور روتے روتے کہنے لگا، “وادھیا اک جھٹکا دے کے بڑی تیزی سے پتہ نہیں کتےبھاگ گوا۔ وا کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگت رہن، پر چکما دے کے وہ کتے گائب ہوئی گوا، واکو کوئی پتہ نہ ملو ہے۔”(واڈیا اک جھٹکا دے کر بڑی تیزی سے پتہ نہیں کہاں بھاگ گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگتے رہے، پر چکمہ دے کر وہ کہاں غائب ہو گیا، مجھے کوئی پتہ نہ ملا)۔

ہم نے کولہاپر کی سبھی سمتوں میں وادھیا کو ڈھونڈ لانے کے لئے آدمی بھیجے۔ اخباروں میں اشتہار دے کر اس کی فوٹو شائع کرائی اور اسے ڈھونڈ کر لانے والے کو مناسب انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔ یہ سوچ کر کہ کہیں وادھیا اپنے پرانےمالک کے پاس نہ چلا گیا ہو، ہم نے جت کو بھی ایک آدمی بھیج دیا۔ وادھیا خاص کر مجھ سے کافی ہل مل گیا تھا۔ اس کے اس طرح یکایک چلے جانے سے مجھے تو کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ‘ادےکال’ میں نہیں نہیں، ‘سوراجیاچےتورن’ میں اس نے تو ایک سدّھے ہوئے اداکار کی طرح کام کیا تھا۔ ہمارے دیگر فنکاروں کی طرح عام لوگ بھی اسے چاہنے لگے تھے۔ میں تو یہ بھی سوچنے لگا تھا کہ وادھیا کو اہم کردار دےکر کوئی فلم بنائی جائے۔ لیکن سب تباہ ہو گیا! بھیجے گئے سبھی آدمی واپس آ گئے۔ کسی کو وادھیا نہیں ملا تھا۔

معجزوں پر میرا قطعی یقین نہیں، لیکن اس وقت پر بس ایسا بھی وچارمن میں آیا که ہو نہ ہو، شایدشواجی مہاراج کا وادھیا ہی اس فلم میں کام کرنے کے لئے آیا تھا اور کام ہوتے ہی وہ واپس چلا گیا!

لیکن شاید ہماری دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ترقی کو نظر لگانے کے لئےہی، یا کہیں اس کامیابی نشے میں چور ہوکر ہمارا دماغ خراب نہ ہو جائے،اس لئے ہی، ہماری فلم ‘جلم’ (ظلم) ایک دم فیل ہو گئی۔ اس کی ڈائریکشن دھایبر نے کی تھی۔ پھر بھی میں نے اور ہمارے سبھی ساتھیوں نے اس کے لئےپوری لگن سے کام کیا تھا۔ میں ڈائرکٹرنہیں تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھاکہ اس فلم سے میرا کوئی سروکار نہیں تھا۔ میں دھایبر کی ڈائریکشن میں مدد کرتاتھا۔ ظلم کی ناکامی کے لئے ہم سبھی ذمہ دار تھے۔

“جلم” کی ناکامی سے ہمیں دکھ دکھ ہوا، لیکن ہم امید نہیں ہارے۔

ہماری پہلی تینوں فلمیں چھوٹے بڑے شہروں میں دھوم مچا رہی تھیں اور اس لئے ہمارےسامنے کوئی معاشی کٹھنائی نہیں تھی۔ میری ڈائریکٹ کی گئی فلم کی کامیابی کے باعث میرے سبھی ساتھیوں نے میرے اسٹائل اور موضوع کے انتخاب کی سمجھ بوجھ کی بہت تعریف کی، سراہا بھی اور ان معاملوں میں وہ مجھ پر پورا بھروسہ کرنے لگے۔

شواجی مہاراج تورنا کے بعد ایک کے بعد ایک گڑھ جیتتے چلے گئے تھے ہماری’پربھات’ کمپنی بھی ایک کے بعد ایک، ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلموں کو بنا کرکر لوگوں کے دلوں کو جیتتی گئی۔ اسی بیچ ہمیں کولہاپر میں خبریں ملی کہ اب سنیما ‘بولنے’ بھی لگا ہے، ‘گانے’ بھی لگا ہے۔ بمبئی میں کسی امریکی کمپنی کی
‘جیز سنگر’ نامی ایک بولتی فلم لگی ہے۔ مغربی تہذیب کی گرفت میں آئے اپر کلاس کے لوگ اس پر مرے جا رہے ہیں۔لہذا میں، داملے، فتے لال اور دھائبر بولتی فلم دیکھنے بمبئی گئے۔

وہ فلم ایک امریکی ناٹک پر مبنی تھی۔ اس لئے ایسا لگتا تھا جیسےہم کوئی ناٹک ہی دیکھ رہے ہیں۔ ایک امریکی اداکار نے کالے نیگرو کا میک اپ کرکے ہیرو کا کام کیا تھا۔ آخرمیں اس نے ایک گانا بھی گایا تھا۔ آج تک فلموں میں حرکات، اداکاری اور پریکٹس پر کافی زور دیا جاتا تھا۔ ان کے ماحول میں صرف بک بک ہی کئے جانے والی اس بولتی فلم کا میرے من پر تو کوئی اثر نہیں پڑا۔

لگ بھگ اسی وقت ایک اخبار نے میرا انٹرویو شائع کیا۔ اس میں انٹرویو کرنے والے نےبولتی فلموں کے بارے میں مجھ سے اپنے تاثرات ظاہر کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس نے درست تاثرات مانگے تھے۔ میں نے بھی بالکل صاف لفظوں میں بتا دیا، “چونکہ بولتی فلم ایک نیا تجربہ ہے، ناظر آج اس پر مرا تو جا رہا ہے، لیکن ان کا نیاپن ختم ہوتے ہی وہ لوگوں کو خاص مسحور نہیں کر پائےگا۔ فلمی دنیا میں خاموش فلموں کوآج جو فنکارانہ مقام حاصل ہے، وہ میری رائے میں پکا ہے اور آگے بھی اسی طرح رہےگا، اس میں مجھے ذرا بھی شبہ نہیں ہے۔”اور اسی طرح بغیر کسی شبہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کی ایک نئی فلم کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ لیکن چونکہ مقابلہ بولتی فلموں سے تھا، ہم نے اپنی خاموش فلم کو ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے ایک حیرت انگیز اور نفیس دیومالائی کہانی کاانتحاب کیا۔ رام چندر جی پاتال میں اہراون مہراون نامی دو راکھشس بھایئوں کی ریاست میں جاتے ہیں۔ وہاں کی راج کماری ان پر فدا ہو جاتی ہے۔ یک زوجیت کا احترام کرنے والے رام جی پرایک آفت ہی آ جاتی ہے۔ ہنومان جی کے حکم سے راج کنیا چندرسینا کا پلنگ کپڑے کے ذریعے ایک دم کھوکھلا بنا کر رکھا جاتا ہے اور رام چندر کی اس مصیبت سے نجات ہو جاتی ہے۔ آخر میں رام جی ان دونوں راکشسوں سے جنگ کرتے ہیں۔ جنگ میں زخمی ہوئے اہراون اور مہراون کے تن سے رسنے والے خون کی ہر بوند سے ہزاروں اہراون مہراون پیدا ہوتے ہیں۔ آخر میں رام چندر جی ان سب کو ختم کر دیتے ہیں،اس فلم کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے میسور ریاست کی ہاسپیٹ نامی جگہ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں شاہی وجےنگر کے کچھ تاریخی کھنڈرات ہیں۔ ہماری دیو مالا فلم کے ماحول کے لئے وہ بہت مفید معلوم ہوئے۔ ہم سب کو وہاں لے جانے کے لئے دو خاص بسوں کا انتظام کرنا پڑا۔ بسوں میں داملے، میں، فتے لال،دھائبر، بابوراوپینڈھارکر،کاسٹیوم ڈیزائنر شری پتی راو کاکڑے، میک اپ کرنےوالے لوگ، فن کار وغیرہ شوٹنگ کے لئے ضروری سبھی سامان کے ساتھ سوار تھے۔ بسیں جنوبی سمت چل رہی تھیں۔ میری بیوی وِمل مولت کرناٹک کی تھی۔ بیاہ کے بعد آج تک میں اسے کولہاپورکے باہر کبھی نہیں لے جا سکا تھا۔لہذا سوچا، اس بار اسے بھی ساتھ لے جاؤں۔ لیکن میں صرف میں اپنی ہی بیوی کو ساتھ لیتا چلوں، یہ بات ٹھیک نہیں لگی۔ اس لئے میں نے سجھاؤ دیا کہ داملے، فتےلال، دھائبر بھی اپنی اپنی بیویوں کو ساتھ لیتے چلو۔سب کو میری بات جچ گئی لیکن فتےلال جی مسلمان تھے اور ان کی پتنی ہمیشہ پردے میں رہتی تھی اور داملےجی کی بیوی کسی گھریلو کام کی وجہ سے آ نہیں پائی۔ اس طرح ہمارےسفرمیں میری پتنی ومل اور دھائبر کی پتنی ہی ہمارے ساتھ ہو لی تھیں۔

سفرشروع ہوا۔ علاقہ نیا تھا۔ لہٰذا ہماری بسیں صحیح راستے پر صحیح سمت میں چلیں، اس لیے میں نے اپنے ساتھ راستے کی رہنمائی کرنے والا ایک نقشہ بھی رکھ لیا تھا۔ سکول میں جغرافیہ میرا پسندیدہ مضمون رہا تھا، اس لیے نقشہ دیکھ کر راستہ بتانے کا کام میں نے بڑی شان سے لے لیا تھا۔ کئی بار دوراہے یا تراہے آتے تو ہماری بسیں رک جاتی تھیں۔ پھر میں نیچے اترتا۔ نقشہ کھول کر بتاتا، کس سمت میں جانا مناسب ہو گا۔ ایک تراہے پر میں بھی الجھ گیا۔ تینوں میں سے کون سا راستہ صحیح ہو گا، میری بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں نے داملے جی کو بھی اترنے کے لیے کہا اور پھر ہم دونوں نے مل کر طے کیا کہ ہماری بسیں کس راستے جائیں۔

بسیں پوری رفتار سے بھاگتی رہیں۔ ایک گھنٹہ ہو گیا، دوسرا بھی بیت گیا۔ لیکن نقشے میں ہم نے اگلے پڑاؤ کا جو گاؤں دیکھا تھا، وہ آنے سے رہا۔ پھر فتے لال جی نے بسوں کو روکنے کا حکم دیا۔ “مجھے لگتا ہے، شاید ہم لوگ غلط راستے پر آ گئےہیں۔ شانتارام باپو،نقشہ دیکھتے وقت آپ نے اسے کہیں الٹا تو نہیں پکڑا تھا؟ اسی طرح چلتے رہے تو ہمپی کے بجائے ہم لوگ کولہاپور واپس پہنچ جائیں گے!” بس میں سبھی لوگ اس بات پر زور سے قہقہے لگانے لگے۔ میں جھینپ گیا اور پھر نقشہ کھول کر دیکھنے لگا۔ تبھی کوئی راہگیر ادھر سے گزر رہا تھا۔ فتے لال جی نے اس سے پوچھا، “بابا، ہم لوگ کدھر جا رہے ہیں؟” اب وہ بچارا کیسے بتاتا، ہم کدھرجا رہے تھے! وہ تو منھ کھولے ہم لوگوں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ فتے لال جی نے اس سے پھر وہی سوال کیا۔ تب وہ آدمی بولا، “اجی میں کیا جانوں تم لوگ کس طرف جا رہے ہو؟” اتنا کہہ کر ہنستے ہنستے وہ چلا گیا۔ حقیقت میں یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟ ایسا اس سے پوچھنا چاہیے تھا، یہ بات بعد میں ہمارے دھیان میں آئی۔
تبھی مجھے بھی اپنی غلطی معلوم پڑ گئی۔ ہم راستہ بھول گئے تھے۔ بسوں کو پھر واپس موڑ لیا اور پھر اسی تراہے پر آنے کے بعد صحیح راستہ لے کر ہمارا آگے کا سفر جاری رہا۔ بیچ میں پنگھٹ پر رک کر سب لوگ سکون کے ساتھ جوار کی روٹی اور پیاز کا بیسن کھاتے تھے۔ اس طرح اتنی لمبی یاترا ہم لوگوں نے ہنستے کھیلتے پوری کر لی۔ آخر ہم لوگ ہاسپیٹ پہنچ گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر نے یہاں ہم سب کے رہنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ بھوجن کا بھی انتظام تھا۔ ہاسپیٹ سے ہمپی گاؤں بالکل پاس تھا۔ دوسرے دن سویرے ہی ہم ہمپی پہنچ گئے۔

راستے کے دونوں طرف کھلے میدان میں طرح طرح کے پتھر بےشمار بکھرے پڑے تھے۔ کچھ بڑی بڑی چٹانیں چھوٹے پتھروں کے سہارے ساکت کھڑی تھیں۔ دیکھنے سے تو ایسا لگتا تھا کہ ذرا سا دھکا لگا اور یہ وشال(عظیم) چٹانیں نیچے لڑھکیں گی لیکن اسی حالت میں وہ چٹانیں سینکڑوں سالوں سے آندھیوں طوفانوں کے تھپیڑے کھا کر دھوپ اور بارش میں اپنا توازن سبھالے کھڑی تھیں۔ جیسے خود کھڑی ہوں۔ میں نے جھاڑ جھنکاڑ کے ایک سے زیادہ جنگل دیکھے ہیں، لیکن پتھر چٹانوں کا یہ سامراجیہ جیون میں پہلی بار دیکھ رہا تھا!

وہاں سے ہم لوگ وجےنگر کے تاریخی کھنڈر دیکھنے کے لیے گئے۔ دیکھ کرحیران رہ گئے ہم لوگ۔ کیا کیا نہیں تھا وہاں؟ پتھر پر نزاکت سے نقاشی کھدے مکان، دروازے، بازار، راستے وغیرہ، ماضی کی شان کے گواہ کھنڈر!اتنی شاندارکلاکاری کے وہ نمونے، ان کے کلاکاروں کوشاہی سرپرستی دے کر ان سے ایسی فنکارانہ تخلیق کروا لینے والے فیاض راجا کی فنکاری دیکھ کر ماضی کی یاد سے من میں جذبات کا جوار سا اٹھا۔ وجےنگر کے ان آثار قدیمہ اور کھنڈروں کو دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی۔ فلم کے کس سین کی شوٹنگ کہاں کرنی چاہیے، اس کا فیصلہ کر ہم لوگ اپنے ٹھکانے پر لوٹ آئے۔

دوسرے دن شِوراتری تھی۔ کسی کی زرخیر عقل میں وچار آیاکہ شِوراتری کے دن بھنگ چھنے۔ مجھے تو ایسے پروگراموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، معلوم اتنا ہی تھا کہ بھنگ پینے سے بھی نشہ چڑھ جاتا ہے۔ داملے اور فتےلال کبھی کسی ناٹک کمپنی میں پردے پینٹ کرنے کا کام کرتے تھے، تب شِوراتری پر کہتے ہیں بھنگ پینےکا رواج تھا، اس کے مطابق ان دونوں نے تھوڑی تھوڑی چھانی تھی۔ بابوراؤ پینڈھارکر اور کیشوراؤ دھایبر ایسے کاموں میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ جب سبھی نے شِوراتری پر بھنگ چھاننے کا طے کر ہی لیا، تو ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنا مجھے نامناسب لگا۔

بھنگ چھن کر تیار ہو گئی۔ سبھی نے “بم بھولے” کہہ کر چڑھا لی۔ مجھے بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سب نے مل کر ایک سازش کی۔ کسی کو ٹھنڈائی کا گلاس دے کرمیرے پاس بھیج دیا۔ لانے والے نے کہا، “اس میں اور کچھ بھی نہیں، صرف دودھ، بادام اور دوسری ایسی ہی چیزیں ملائی گئی ہیں۔” میں نے اس آدمی کو ڈپٹ کر پوچھا، “کیوں، اس میں کہیں بھنگ بھی تو گھول کر نہیں لائے؟” وہ خوفزدہ ہو گیا، ڈر کے مارے اس نے اصل بات مجھے بتا دی۔ اس کے بعد اس نے میرے لیے جسے بھنگ کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، ایسی ٹھنڈائی کا گلاس لا کر دیا۔ میں سب کے سامنے اسے پی گیا۔ سب کا خیال تھا کہ میں نے بھی جے شنکر کر لیا ہے۔ اس دن ہماری پارٹی کے ہر ایک فرد نے مالک سے لے کر معمولی نوکر تک بھنگ کا آکنٹھ پان کیا، صرف عورتوں نے بھنگ کو چھوا تک نہیں۔

اس کے بعد ہم کچھ چنندہ لوگ شوٹنگ کے مقام پکے کرنے کے لیے بس میں بیٹھے۔ بس ابھی ہاسپیٹ کی حدود سے باہر نکل ہی رہی تھی که کچھ لوگوں کو زور کی الٹیاں ہونے لگیں۔ ڈرائیور بھی بیچ بیچ میں سر لٹکانےلگ گیا۔ میں نے چلا کر اسے گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ اسے ہٹا کراس کی جگہ پر میں گاڑی چلانے بیٹھا۔ واپس ہمارے کیمپ آ گیا۔ سب کو جیسے تیسے بس سے اتارا۔ سب لوگ باہر کے صحن میں ہی سو گئے۔

نوکر چاکر سبھی نے کھل کر بھنگ پی تھی، لہٰذا پانی لانے کے لیے بھی کوئی پاس میں نہیں تھا۔ آخر میں نے ومل سے پانی منگوا لیا۔ سب کو پانی پلانے کے لیے ان کے پاس گیا اور دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دم لاش سے پڑے تھے۔ سب کے چہروں پر چھائی مردنی دیکھ کر میں بہت ڈر گیا۔ ایک پڑوسی کو میں نے ڈاکٹر بلانے کے لیے روانہ کیا۔ مسز دھائیبر تو بہت ہی ڈر گئی تھیں۔ وِمل کے چہرے پر بھی ڈر صاف ابھر آیا تھا۔ اسے شک تھا کہ شاید میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے اور کچھ ہی لمحوں میں میں بھی سب کی طرح نڈھال ہوکر گرنے والا ہوں۔ مجھے لگا کہ کولھاپور سٹوڈیو کو تار دے کر ان سب لوگوں کے خاندان کو پہلی گاڑی سے بلا لوں۔ تار کے فارم نکالنے کے لیے میں وِمل سے میرا بیگ لے آنے کو کہا۔ بیگ میرے ہاتھ میں دیتے وقت اس نے بھی کچھ ہچکچاتے پوچھا، “آپ کو تو کچھ ہو نہیں رہا؟”

“نہیں میں نے بھنگ پی ہی نہیں ہے۔” میں نےکہا۔ سن کر اسے بڑی راحت محسوس ہوئی ہو گی۔ پھر بھی اس نے کہا، “شریمتی دھایبر کہہ رہی تھیں، شانتارام باپو کا واقعی کمال ہے۔ ہمارے وہ (یعنی دھائبرجی) بھی آڑے پڑ گئے ہیں، لیکن لگتاہے شانتا رام نے بھنگ ہضم کر لی ہے۔ شاید ان کو نشہ پانی کرنے کی عادت ہے۔” سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ مجھے بالکل پورے ہوش میں دیکھ کر شریمتی دھائبر کو ومل سے حسد ہونا بھی فطری تو تھا!

تبھی ڈاکٹر آ گئے۔ اتنے سارے لوگوں کی حالت جانچ کر انھیں انجکشن وغیرہ دیتے دلاتے چار پانچ گھنٹوں کا وقت نکل گیا۔ میں نے فکرمند ہو کر ڈاکٹر سے پوچھا، “کیا ان لوگوں کے گھروالوں کو بلوانے کی ضرورت ہے؟”

“بالکل نہیں۔ یہ لوگ چوبیس گھنٹوں کے بعد اپنے آپ ٹھیک ہو جا ئیں گے۔ چنتا (فکر) کرنے کی کوئی بات نہیں،” ڈاکٹر نے دلاسا دیا۔ میری جان میں جان آ گئی۔ ومل نے میرا بستر لگوا دیا۔ وہ باربار مجھے کچھ آرام کر لینے کی صلاح دیتی رہی،اصرارکرتی رہی، لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی، رات بھر میں صحن کی لمبائی ناپتا رہا۔

کاسٹیوم ڈیزائنر شری پت راؤ کاکڑے کو سب سے پہلے ہوش آیا۔ شاید انھوں نے کچھ کم لی تھی۔ پھر بھی ان کا نشہ پوری طرح سے اترا نہیں تھا۔ بھنگ کے نشے میں آدمی ایک ہی بات کو لگاتار کرتا جاتا ہے۔ ہنسنے لگا تو پھر ہنستا ہی رہتا ہے، رونے لگا تو روتا ہی جاتا ہے۔ اب ان کاکڑے صاحب کو لگ رہا تھا کہ میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے، اس کے نشے میں لگاتار میں اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر چکر کاٹ رہا ہوں اور اب بس دھڑام سے کہیں گرنے ہی جا رہا ہوں۔ اس لیے میں جدھر جاتا، ادھر ہی کاکڑے اپنے دونوں ہاتھ میری دونوں بانہوں سے کچھ دور تان کر میرے پیچھے پیچھے چلا آتا تھا، تاکہ وہ مجھے گرنے سے بچا سکے۔
دوسرے دن سویرے سبھی لوگ تھوڑی تھوڑی ہلچل کرنے لگے۔ شام تک سب کو ہوش آ گیا۔ میرے من کا بھاری بوجھ اتر گیا۔ میں کافی تھک چکا تھا۔ اس دن شام کوجو سویا تو دوسرے دن سویرے ہی جاگا۔ جاگ کر دیکھتا کیا ہوں، سبھی لوگ میری طرف کافی فکرمند ہو کر دیکھ رہے تھے۔ فتےلال جی نے کہا، “ہم نے سوچا کہ آپ کو چوبیس گھٹے دیری سے بھنگ کا نشہ چڑھا اورآپ بےہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ لیکن نہیں، آپ تو گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے۔” اس پر سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ومل دروازے پر کھڑی تھی۔ صرف اپنا پتی بھنگ سے اچھوتا رہا، اس کا فخریہ احساس اس کے چہرے پر مسکرا رہا تھا۔

سب لوگ مکمل چنگے ہو گئے۔ لیکن ہمارا میک اپ مین شنکر گوڑ بچارا ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ بھنگ اسی نے چھانی تھی۔ سب کو دینے کے بعد نیچے بھنگ کا جو گاڑھا نچوڑ رہ گیا، شنکر اسی کو پی گیا تھا۔ یوں بھی بھنگ کا نشہ ہوتا ہے کڑک، اس پر یہ مہاشے نیچے کا گاڑھا گاڑھا پی گئے، وہ تو اور بھی ظالم ہو گا۔ دو تین دن بیت جانے پر بھی شنکر ہوش میں نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکٹر کو پھر بلوایا۔ شنکر کا علاج شروع کروایا۔ چوتھے دن جا کر کہیں اسے ہوش آیا۔ لیکن وہ پاگل جیسا کرنے لگا۔ آگے چل کر میک اپ کا کام وہ کرتا تو تھا، لیکن اس کے دماغ پر جو اثر ہو گیا، وہ مستقل تھا۔ شنکر ہمیشہ کے لیے بے کارہو گیا تھا۔

وجےنگر کے کھنڈروں میں اور میدان میں باہر شوٹنگ پوری کر سب لوگ محفوظ کولھاپور لوٹ آئے، شنکر گوڑ کا ایک دلی ڈیپریشن ساتھ لیے!

اس کے بعد کتنی ہی شِوراتری آئی اور گئی، کسی نے بھنگ کا پروگرام کرنے کا نام بھی نہیں لیا۔

اس ‘چندرسین’ فلم میں داملے اور فتےلال نے اپنی ساری مہارت داؤ پر لگا دی تھی اور کئی سین اتنے حیرت انگیز اور عظیم بنائے تھے، پوشاک اتنی زیادہ دیدہ زیب بنائی تھی کہ ان کی آرٹ ڈائریکشن بھی اس فلم میں ایک بڑی کشش بن گئی تھی۔

میں نے بھی طے کیا تھا کہ ڈائریکشن کے شعبے میں کچھ نئی کرامات کروں گا۔ پچھلی بارجب ممبئی گیا تھا، وہاں منروا میں ایک جرمن فلم دیکھی تھی “ورائٹی”، اس میں کیمرہ چلتی پھرتی ٹرالی پر رکھ کر شوٹنگ کی گئی تھی۔ شاٹس کی وہ رفتار دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا۔ ٹرالی کا استعمال کرتے ہوئے کچھ شاٹس خود لینے کی خواہش جاگ اٹھی تھی۔ اس لیے میں نے بھی اپنے تخیل سے ایک چار پہیوں والی ٹرالی بنوا لی۔ فتح لال جی نے ٹرالی پر کیمرہ رکھ کر اسے آگے پیچھے، آڑا ترچھا چلاتے وقت کیمرے کا ہینڈل گھماتے رہنے کی پریکٹس کی۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس فلم کے ممبئی میں ریلیز کی تاریخ پہلے سےہی طے ہو گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سارا کام نبٹانے میں اتنی جلدبازی ہوئی کہ کیمیائی عمل کے بعد “چندرسین” کے کچھ آخری منظروں کی فلم سُکھانے کے لیے بھی کافی وقت نہیں رہا۔ لہٰذا ہم لوگوں نے پونے تک تیسرے درجے کا ایک پورا ڈبہ گاڑی میں اپنے لیے بک کرا لیا اور اس میں پوری فلم کھول کر اسے سُکھاتے سُکھاتے پونے پہنچ گئے۔

چندرسین ‘ تو اتنا چلا کہ اس نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ان دنوں ٹرالی کے استعمال کی بات ہماری فلمی دنیا کے لیے ایک دم نئی تھی۔ ناظرین کی تو کیا، بڑے بڑے لیجنڈری فلمی ناقدین کی سمجھ میں وہ تکنیک نہیں آئی۔ انھوں نے اخباروں میں “چندرسین” کی تنقید میں لکھا کہ اس فلم میں سین کبھی آگے، کبھی پیچھے تو کبھی آڑے چلتے دیکھ کر ناظر دنگ رہ جاتا ہے۔ ناقدین کے اس نتیجے سے ہم سبھی کا اچھا خاصا منورنجن(تفریح) ہوا، ‘چندرسین’ نے پربھات کی شہرت میں چار چاند لگا دیے۔ نہ صرف بھارت میں، بلکہ برما میں بھی ‘چندرسین’ نے خاموش فلموں سے ہونے والی آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔

ہم سب لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ بولتی فلموں کے بارے میں ایک سنسنی خیز خبرآئی۔ بمبئی کی امپیریل کمپنی نے اردیشر ایرانی کی ڈائریکشن میں ‘عالم آرا‘ نامی ایک بولتی فلم بنائی ہے اور سماج کی مختلف طبقوں کے پرھے لکھے، ان پڑھ سبھی ناظرین نے اسے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ سپر ہٹ خاموش فلموں کا چار ہفتے چلنے کا ریکارڈ کہیں پیچھے چھوڑ کر یہ بولتی فلم اب آٹھویں ہفتے میں بھی بے پناہ بھیڑمسحور کیے جا رہا ہے!یعنی؟ کیا بولتی فلموں کے بارے میں میرا اندازہ غلط ہو گیا؟بولتی فلم کامقابلہ کرنے کےلیےزیادہ تعداد میں خاموش فلمیں بنائی جائیں ایسامجھے ایمانداری سے لگتا تھا، میرے دیگر ساتھی بھی یہی چاہتے تھے۔ لیکن بمبئی سے دوسری خبر آئی۔ مدن اینڈ کمپنی کا بنائی ہوئی’لیلیٰ مجنوں‘ بولتی فلم ویلنگٹن تھئیٹر میں لگی ہے اور وہ بھی ‘عالم آرا’ کی طرح ہی دھوم مچا رہی ہے!
یہ خبرسن کرمیری سوچنے کی طاقت کو زبردست دھچکا لگا۔ پربھات فلم کمپنی کےآغاز سے لے کر آج تک فلم کے بارے میں میرے سبھی اندازے لگ بھگ صحیح نکلے تھے۔ ان فلموں کو ملی زبردست کامیابی کی وجہ سے میری خود اعتمادی بھی بڑھی تھی۔ لیکن اس خبر نے تو اس خود اعتمادی کو ہی گہنا دیاتھا۔ میں نے ہر پہلو پر وچار کیے بنا ہی بولتی فلموں کے لیے اپنی رائے اخباروں میں جابرانہ طور پر ظاہر کی تھی۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہونے والا تھا؟ بولتی فلم کا جو شاندار سواگت(استقبال) ہو رہا تھا، وہ فلمی دنیا کی نظر سے اہل ہے یا نا اہل اس کا وچار کرنے کے لیے وقت بھی کہاں بچا تھا؟ بمبئی سے ایک کے بعد ایک،لگاتار خبریں آنے لگی تھیں:بولتی فلموں کا زمانہ آ گیا ہے۔ بولتی فلموں کی لہر شدت سے اٹھ رہی ہے ۔۔۔۔