Categories
شاعری

عریاں بدن کا مستور چہرہ

عریاں بدن کا مستور چہرہ
وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
تم جس چہرے کے ساتھ مجامعت کرتے ہو
وہ اسے تھوڑی دیر بعد نالی میں بہا دیتی ہے
تم اسے
کبھی بھی پہچان سکتے ہو
بو سونگھ کر
مگر تم ایسا نہیں کروگے
تم اسے جعلی پرفیوم تحفہ میں دوگے
تاکہ وہ اپنا چہرہ کبھی نہ ڈھونڈ سکے