Categories
نقطۂ نظر

مذہب کا موجودہ دائرۂ عمل

[blockquote style=”3″]

چودھری محمد علی ردولوی ایک زبردست عالم اور اردو کے ادیب و افسانہ نگار تھے۔انہوں نے اردومیں سب سے پہلے ہم جنس پرستی پر ‘تیسری جنس’کے عنوان سے ایک کہانی بھی لکھی تھی، جو کہ بہت مشہور ہوئی۔ترقی پسندتحریک کے اجلاس میں انہوں نے افتتاحی تقریر بھی دی تھی، جس کو کہا جاتا ہے کہ بعد میں کنہی وجوہ پر شائع نہیں کیا گیا بلکہ پوری طرح نظر انداز کردیا گیا۔صاف گوادیب ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مسلمانوں بلکہ انسانوں کے درمیان مصالحت کی کوئی بہترین صورت نکلے اور لوگ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں کسی مخصوص مذہب و مسلک سے وابستہ ہونے کے باوجود سیکولر رویے کے حامل ہوں ، ان کا زیر نظر مضمون اردو ادب کے شمارے سے ماخوذ ہے۔جناب اطہر فاروقی، جنرل سکریٹری ،انجمن ترقی اردو ہند کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

ایک آزاد خیال مصنف نے مسخرہ پن کیا ہے۔ پہلے انجیل مقدس سے حسبِ ذیل جملہ نقل کیا ہے۔ خدائے عزّ و جل نے چھ دنوں میں دنیا بنائی اور فرمایا کہ ’’خوب بنی‘‘۔ اس کے بعد اپنا قول لکھتا ہے کہ ’’اب آکر دیکھیں تو کیا دیکھیں‘‘ دریدہ دہنی سے قطع نظر کرکے اگر دیکھا جائے تو یہ شوخی کسی اور چیز پر صادق آتی ہو یا نہ ہو، اسلام کے لیے ضرور موزوں ہے۔ اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔ نہ کہنے والا ہی محسوس کرتا ہے کہ میں پوری بات کہہ چکا۔

 

اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔
اگر اس کا رونا روئے تو جواب میں حضرات علما کے پاس تالیف قلوب کا عمدہ نسخہ ہے۔ اصول دین تمام فرقہ ہائے اسلام میں ایک ہیں، خدا ایک، رسول ایک، قبلہ ایک، قرآن ایک۔ پھر آپ کو شکایت کس بات کی؟ انسانوں کے طبائع مختلف ہیں لہٰذا خیالات میں کچھ نہ کچھ اختلاف تو ہووے گا۔ اس سے نفس اسلام پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ ایسا چلتا ہوا فقرہ ہے کہ زیادہ تر لوگ مرعوب ہوکر چپ ہوجاتے ہیں اور معترض کو تسکین ہو یا نہ ہو لیکن زبان گلہ ضرور بند ہوجاتی ہے۔ میں نے بھی مسکت مگر غیر تسکین بخش جملے اکثر مذہبی حضرات کے منہ سے سنے ہیں اور پیچ و تاب کھاکر رہ گیا ہوں۔ میں نے تو یہی غور کیا ہے کہ یہ حربہ ہمیشہ اس وقت کام میں لایا جاتا ہے، جس وقت مخلوط صحبت ہوتی ہے۔ اگر خالص جلسہ ہو تو بلا ارادہ طرزِ گفتگو دوسرا ہوجاتا ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اگر ہوسکے تو دوسرے کو خفا نہ کرو۔ ضمناً یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ ایسے اعتراض کو کیوں تسلیم کرو جس میں مدمقابل کے نقصان کے ساتھ اپنے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔

 

اگر اکھاڑے میں دو پہلوان نہ ہوں تو کشتی کا لطف کیوں کر آئے۔ اگر یہ فروعی اختلاف نہ رہ گئے تو فرقہ علما کی ضرورت بہت کم ہوجائے گی، پیشے کی صورت ہی نہ باقی رہے گی۔ بالکل کاغذ کے پھول کی سی حالت ہوجائے گی، کہ دیکھنے میں بالکل ویسا ہی مگر سونگھنے (کذا) سے رہ جاتا ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ انگلستان میں دو اخبار تھے جن میں اتنی سخت چلی ہوئی تھی۔ اور وہ جلی کٹی ایک دوسرے کو سناتے تھے کہ نفس مسئلہ کو چھوڑکر لوگ گرماگرم الفاظ کے مزے لیتے تھے۔ اور اخبار کی بکری خوب ہوتی تھی۔ قضائے کار ایک اڈیٹر مرگیا ساتھ ہی دوسرا اخبار بھی بند ہوگیا۔ لوگوں کی دل چسپی جاتی رہی۔ دریافت سے معلوم ہوا کہ مرحوم مغفور خود ہی بہ نفس نفیس دونوں اخبار نکالا کرتے تھے۔

 

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔

 

خدا کی وحدانیت میں معنی پہنائے۔ رسول کی رسالت میں توجیہیں لگائے۔ مخالفت اختلاف رائے کی حد سے نہیں بڑھتی۔ اگر کہیں فروعات میں اختلاف ہوا تو دوسرے فرقہ والے خون کے پیاسے ہیں۔ کافر مارنے کا ثواب گھر ہی میں حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر خدا ناکردہ فروعی فرق دور ہوجائے تو سیکڑوں حضرات والا صفات بھوکوں مرجائیں۔ مریدین، معتقدین، مقلدین ہاتھ سے نکل جائیں، ججمانی خاک میں مل جائے اور مذہب روزی کا ٹھیکرا نہ بن سکے۔ ذاتی اغراض تھے جنھوں نے مذہب کے بہتّر ٹکڑے کردیے اور وہی خود غرضیاں ہیں جو آج ملنے نہیں دیتیں۔ اسی وجہ سے کلام اللہ پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا اور حدیث شریف کے نام سے مسلمان مرعوب کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث شریف حضرت امام بخاری سے مروی ہے، یہ امام جعفر صادق سے منقول ہے۔ مجال ہے کہ اتنے اتنے بڑے ناموں کے بعد کوئی دم مارسکے حالاں کہ جانتے ہیں کہ دو تین، انتہائی چار احادیث ایسی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ الفاظ بھی جناب رسالت مآب صلعم کے ہیں، باقی میں صرف مفہوم ہے۔ الفاظ حضرات راویان کے ہیں جن کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ معصوم عن الخطا تھے۔ بہت سے مہتم بالشان اسمائے گرامی ہیں جن کی نسبت ان سے بھی بڑے افراد اسلام نے شک ظاہر کیا ہے، لیکن چوں کہ وہی حضرات ایک ایک فرقے سے مختص ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ ان کی صحت بیان پر جان دینے کو تیار ہیں۔ ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے۔ گویا قرآن میں ’’سورۂ منافقون‘‘ ہی غائب ہے گویا دائرۂ اسلام میں ایسے لوگ تھے ہی نہیں جو پشت در پشت لڑتے چلے آئے تھے اور ایک بارگی یہ دیکھ کر کہ رسول اللہ کی فوج ہماری فوج سے زبردست ہے اور اگر کامیابی کی امید ہوسکتی ہے تو اسی طرح کہ مسلمان ہوجاؤ۔ طُرفۃ العین میں مسلمان ہوگئے اور اپنے مقاصد میں بھرپور کامیاب ہوئے۔ جب یہ حال بہترین زمانے کا ہو تو بعد والوں کے لیے کیا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن نہیں، اگر ان حضرات کی روایات میں شک کیا جائے تو فرقہ بندی کیوں کر قائم رہ سکتی ہے۔

 

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔
روایات کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ اختلاف رائے دو طرح سے ممکن ہے۔ ایک یہ کہ انسان غلطی کر جائے، دوسرے یہ کہ عمداً غلط بیانی کرے۔ فرض کیجیے پانی کھڑے ہوکر پینا چاہیے یا بیٹھ کر، مثال کے طور پر عرض کیا جاتا ہے کسی نے کھڑے ہوکر پانی پیا، کسی صحابی نے کہا کہ آنحضرت صلعم کے سامنے ایک مرتبہ مجھے کھڑے ہوکر پانی پینے کا اتفاق ہوا تھا اور جناب ختمی مآب صلعم نے فرمایا تھا کہ بیٹھ جاؤ۔ پانی پینے والے نے یہ مزید احتیاط کسی دوسرے صحابی سے دریافت کیا، انھوں نے اپنی یاد پر زور دے کر فرمایا کہ نہیں تو ایک بار میدانِ جنگ میں خود رسالت مآب صلعم نے پانی مانگا تھا اور کھڑے ہی کھڑے نوش فرمایا تھا۔ ان دو روایات میں گمان کیا جاسکتا ہے کہ دونوں حضرات صحیح فرماتے ہوں۔ لیکن آیا آخری حکم ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کا تھا یا ہاتھ باندھ کر۔ وضو میں آنحضرت صلعم پاؤں دھوتے تھے یا مسح فرماتے تھے۔ اس میں اگر اختلاف ہے تو معاف کیجیے گا۔ عمداً غلط بیانی کا یقین ہے۔ جب تک دو راویوں میں سے ایک نے جھوٹ کی پُٹہ نہ دی ہو ممکن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ کوئی فریق یہ نہیں کہتا کہ دونوں طریق جائز و رائج تھے۔

 

علم الالفاظ میں یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ آیا ایک زبان کی دو لفظیں پوری طور سے مترادف المعنی ہو بھی سکتی ہیں۔ عربی میں گھوڑے کے بہت سے نام ہیں۔ اونٹ کے ناموں کی انتہا نہیں۔ شراب کے لیے نہ معلوم کتنے الفاظ موجود ہیں۔ لیکن کوئی کہہ سکتا ہے کہ تمام الفاظ ہر پہلو سے ایک ہی کیفیت دل میں پیدا کرتے ہیں۔ نود و نُہ (۹۹) اسمائے حسنہ ہیں، ہر نام اسم ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن از روئے صفات سننے والے کا دل و دماغ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے کہنے والے کی اور ہر نقل کرنے والے کی آواز کی زیادتی وغیرہ وغیرہ۔ اس کا چہرہ، حالت سوال کرنے والے پر وقتی اثرات۔ جواب دینے والے پر جو کیفیات قلبی اور دماغی پیدا ہوئے ہیں۔ موسم وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور اور اسی قبیل کے سیکڑوں امور پر غور کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ روایت کس قدر مشکل چیز ہے اور روایت پر اندھا دھند عقیدت کتنا سخت معاملہ ہے۔

 

ایک دوسرا امر بھی قابلِ لحاظ ہے۔ اپنے ہم عصروں کی نظر کسی شخص پر اُس طرح نہیں پڑتی جیسی بعد والوں کی ہوتی ہے۔ نہ اُن کے دلوں میں اس کی وہ اہمیت ہوسکتی ہے جو سیکڑوں برس گزرنے کے بعد جب تاریخ اپنا حکم سنادیتی ہے تب ہوئی ہے۔ ۲۳ برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔

 

ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ دو احباب آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ اور ایک کا قول دوسرے سے نقل کرتے ہیں اور وہ تیسرے سے نقل کرتا ہے۔ اور وہ اول کہنے والے سے جب تحقیق کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ فرق الفاظ میں یا ترتیب میں ایسا نکلتا ہے کہ قائل کو درست کرنا پڑتا ہے۔ حالاں کہ کسی بیان کرنے والے کی نیک نیتی میں شک نہیں ہوتا۔ یہ اس وجہ سے کہ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔

 

روایات کی تفتیش ممکن ہے بعض موقعوں پر زمان رسالت میں بھی ہوئی ہو، لیکن اصل ضرورت بعد کو شروع ہوئی۔ اگر ذاتی اغراض سے قطع نظر کرکے مان بھی لیا جائے کہ خود راویوں کے خیالات کا اثر بلا ارادہ بھی ان کے حافظے پر نہیں پڑا، تب بھی غور و تامّل کی جا ہے کہ آیا وہ باتیں جو مختلف مواقع پر مختلف کیفیتوں کے تحت ہیں، کلام کے مختلف سلسلوں میں سنی گئی تھیں، برسوں کے بعد اسی طرح سے پیش بھی ہوسکتی ہیں؟ آواز کا اتار چڑھاؤ الفاظ پر مختلف درجے کا زور جس سے معنی بدل جاتے ہیں، نقل بھی کیا جاسکتا ہے؟

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسروں کے اقوال اور جناب رسالت مآب صلعم کے ارشادات ایک طرح نہیں سنے گئے ہوں گے۔ لیکن آیا انسان ہر زمان و مکان میں ایک ہی طرح دماغ کو ہر بات یاد رکھنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ آپ دھوپ میں چل کر آتے ہیں اور راستے میں جوتا کاٹتا ہوتا ہے او رکسی سے الجھن کی نوبت آجاتی ہے تو آپ کا مزاج ہرگز اس طرح کا نہیں رہتا جیساکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہوا خوشگوار ہو اور بی بی نے پیار کیا ہو۔ اور گھر سے باہر نکلتے ہی کسی شخص نے خلاف امید آپ کی خدمات پر اظہار احسان مندی کیا ہو۔ یہ وہ امکانات ہیں جن سے کوئی محفوظ نہیں۔ یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ اگر آپ کی طبیعت کا رجحان ایک طرف ہے تو حافظہ انھیں باتوں کو پیش کرتا ہے جو اس خیال کی ممد ہیں۔ دوسرے رخ کی باتیں صرف اس وجہ سے یاد آتی ہیں کہ کڑی سے کڑی ملی ہے۔ لیکن جب تک ارادہ کرکے ان پر نظر نہ ڈالو۔ آخر الذکر باتوں کا عکس لوح دل پر ہلکا پڑتا ہے۔ ایماندار آدمی ہمیشہ یہ احتیاط کرلیتا ہے کہ دوسرے پہلو کی باتوں کو بھی تول لیتا ہے اوریہ ہی خیالات ہم کو راویان رضوان اللہ علیہم کی طرف سے رکھنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ صرف فروع میں اختلاف کو جگہ دی ہے۔ فرائض میں اختلاف قریب نہیں آنے پایا۔ ہمارے یہاں بھی زراعت (کذا) کے اصول موجود ہیں جو اپنے وقت میں کافی اور وافی تھے۔ لیکن وہ معلوم کس کو ہیں، صرف انھیں حضرات کو جو سنّی عالم یا شیعہ مجتہد یا صوفی باصفا کہلاتے ہیں اور صرف دوسروں کی کمائی پر زندہ رہتے ہیں۔ دست بوسی کرواتے ہیں اور صدر کی جگہ کو اپنی میراث جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخی جانچ پڑتال کا اگر کوئی نیا طریقہ نکلے تو اس کو برتنا بدتر از کفر ہے۔ خود ان کے یہاں نئی سے نئی کتاب جو درس میں شامل ہے وہ بھی کئی سو برس کی ہے، مگر باوجود ان باتوں کے یہ خیال کہ اختلافات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ عمداً لائے گئے ہیں، ایک اور وجہ سے بھی مضبوط ہوتا ہے، وہ یہ کہ فرائض جس میں خود مفتی کے دائرۂ اسلام سے خارج ہو جانے کا خوف تھا اس میں اختلاف کہیں نہ پائیے گا۔

 

تئیس برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔
ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت قرآن شریف بھر میں ڈھونڈھ ڈالیے کہیں نہ پائیے گا۔ مگر اس میں حضرات علما نے فرق نہیں آنے دیا۔ رکوع، سجود، سلام وغیرہ میں بھی تفرقہ نہ دکھائی دیا۔ ہاں البتہ فروع میں اگر ایک ہی شان رہنے دیتے تو مابہ الامتیاز کون چیز ٹھہرتی۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ تشہّد اور سلام شیعہ سنّی سب کے یہاں ایک طرح سے فرض میں داخل ہے اور دونوں پڑھتے ہیں جس میں کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔ لیکن دونوں سے کہیے تو کہ ادل بدل کر پڑھیں۔ دلوں پرحضرات مولویان کا وہ سکّہ بیٹھا ہے کہ منہ میں زبان مشکل سے پھرے گی۔

 

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔ ہر چیز میں یہ ہی احوال ہے۔ ہر کس از دست غیر نالہ کنند/ سعدی از دست خویشتن فریاد۔ اس مقام پر ایک اپنی ذاتی سرگذشت بیان کردوں۔ گو کہ اس میں ذاتی مباہات اور افتخار کا پہلو نکلتا ہے۔ جیساکہ ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب نے طنزاً فرمایا تھا مگر اس کی پروا نہ میں نے تب کی تھی نہ اب کرتا ہوں۔ اگر مطالب بیان ہوجائیں تو ایک فرد کی تعریف یا مذمت دنیا میں کیا وقعت رکھتی ہے۔

 

خوش نصیبی سے مجھ کو ایک مرتبہ دولت حج نصیب ہوگئی تھی۔ طواف و سعی وغیرہ سنی اور شیعہ دونوں معلّمین کے ساتھ کرتا تھا بلکہ زیادہ سنّی ہی معلّمین کے ساتھ اتفاق ہوتا تھا کیوں کہ میں وہیں ٹھہرا تھا اور کثرت بھی انھیں حضرات کی تھی۔ اور غور کرکے پیچ و تاب کھاتا تھا کہ چند ضروری الفاظ میں صرف افتراق پیدا کرنے کے لیے کس قدر زوائد مستحبّات کے نام سے ٹھونس دیے گئے تھے۔ بہرحال مضی ما مضی۔

 

منا کی واپسی پر طواف اور سعی کرنے کے بعد سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، مگر شیعوں کے یہاں طواف نساء علاحدہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ اس میں میری شریک زندگی کے اوپر بھی طعنہ زنی ہوتی اور یوں بھی مجھ کو شیعوں کی فقہ عموماً زیادہ پسند ہے۔ لہٰذا میں نے تلاش کرکے شیعہ معلم کے ساتھ طواف کرلیا، اب رہی سعی، اس میں ذرا لمبی دوڑ ہے اور معلم صاحب بیچارے ادھیڑ عمر کے آدمی اور موٹے بھی تھے، فرمانے لگے کہ میں تمھاری نیت درست کروا دوں گا اس کے بعد تم سعی سنّی معلم کے ساتھ کرسکتے ہو۔ میں راضی ہوگیا۔ سنّی معلمین عربی میں نیت کرواتے ہیں۔ آپ نے بالکل وہی فارسی میں شروع کروائی۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت نیت ارادہ دلی ہے جس میں زبان کی شرط نہیں۔ یا نیت میں عربی میں کروں گا جو میرے پیغمبر کی زبان ہے یا اردو میں کروں گا جو میری ماں کی زبان ہے۔ آخر فارسی میں کیوں کروں۔ بیچارے کھسیانے ہوگئے۔ خدا ان کو معاف کرے اور مجھ کو بھی معاف کرے۔

 

ایک طریقہ اس اختلاف کو بڑھانے اور قائم رکھنے کا اور بھی ہے یعنی مناظرہ۔ اکثر ارشاد ہوتا ہے کہ دنگل بد دیا جائے۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بہتر مفاہمت کی کون ترکیب ہوسکتی ہے۔ لیکن اس سے بڑا دھوکا دوسرا ہو نہیں سکتا ہے۔ مناظرے کے لغوی معنی یہ ہیں ’’فکر کردن در حقیقت و ماہیت چیزے‘‘ یعنی دو آدمی اپنے اپنے خیالات ایک دوسرے پر ظاہر کریں جس میں نہ جنبہ داری ہو نہ اپنی رائے کو صحیح منوانے کی کوشش۔ اپنے خیالات کی پچ نہ کی جائے اور مقابل کی رائے بالکل اسی نظر سے دیکھی جائے جیسے غور کرنے سے پہلے خود اپنی رائے کو دیکھتے ہیں آیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مناظرے اس انداز سے کیے جاتے ہیں؟ اس معاملے میں تجربہ جو کچھ بتاتا ہے وہ تو یہ ہے کہ بجائے صحیح نظریہ دریافت کرنے کے، کوشش کرکے لوگ مباحثہ اس طرح کرتے ہیں جیسے دو پہلوان اکھاڑے میں اترتے ہیں جہاں صرف یہ نیت ہوتی ہے کہ جس طرح ممکن ہو دوسرے کو نیچا دکھایا جائے اور شکست بچانے کی جو امکانی کوشش ہوسکتی ہو اٹھا نہ رکھی جائے۔ یہ طریقہ بھی مغربی منطق کے تحت میں آتا ہے جس کی غلطی ظاہر ہے اگر بجائے معقول کرنے کی کوشش کے مناظرے اس طرح ہوا کرتے کہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تو کچھ اچھا نتیجہ ضرور نکل آتا۔ جیسے میاں بی بی کے اختلاط میں موتیوں کا ہار ٹوٹ جائے اور دونوں فریق موتی جمع کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اس کے بعد جو ہار گوندھا جائے وہ انشاء اللہ تعالیٰ پہلے سے بہتر ہو۔ مگر بدقسمتی سے مناظرے کے یہ معنی اس وقت مفقود ہوگئے جب منطق کا رواج ہوا۔ اب تو مناظرے سے مقصود وہ طریق ہے جس میں ہر فریق کا وکیل صرف اپنے موافق دلائل دے اور سننے والے کو رائے قائم کرنا مشکل پڑے۔ خلفائے بنی عباس کے زمانے میں بڑے بڑے مناظرے قرار پائے اور آج تک یہ سنت خلفائے بنی عباس کی جاری ہے۔ کبھی بھی ایسا ہوا ہے کہ سو گتھیاں بڑھانے کے سلجھاؤ کی کوئی بھی صورت نکلی ہو۔

 

بسیار کاز مودم ازوے نہ بود سو دم
من جرب المجرب حلت بہ النّدامہ

 

قرآن کو سمجھنے کے لیے علوم متعارفہ اور اصول موضوعہ کے جاننے کی ضرورت نہیں صرف نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ بچہ نہ خود بول سکتا ہے نہ ماں کی زبان سمجھتا ہے لیکن چوں کہ دونوں طرف نیک نیتی ہوتی ہے اس لیے دونوں ایک دوسرے کا مفہوم خوب سمجھ لیتے ہیں اور اس زمانے کی تعلیم بعد کی تمام تعلیموں پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔ اسی طرح ام الکتاب کا حال ہے کہ روز مرہ کی زبان میں آیا ہے۔ علمی زبان میں نہیں آیا ہے۔ تم کو بتایا گیا ہے کہ تم خود تدبر کرو، غور کرو اور سمجھ لو۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ جہاں نہ سمجھ میں آئے اہل الذکر سے پوچھ لو۔ اہل الذکر کے معنی کے لیے سمندر کی تہ میں یا پہاڑوں کی چوٹی پر جانے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ قرآن کی مزاولت تم سے زیادہ رکھتے ہیں، انھیں لوگوں سے دریافت کرتے رہو۔ اگر ایک سے تسکین نہ ہو تو دو سے پوچھو۔ دو سے تسکین نہ ہو تین سے پوچھو۔ یہاں تک کہ تمھارے دل کو اطمینان ہوجائے۔

 

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔
آخر اپنے معاملات میں کیا ہوتا ہے۔ جس معاملے میں رائے نہیں قائم ہوتی سمجھ دار آدمی ایک سے مشورہ کرتا ہے، دو سے مشورہ کرتا ہے، تین سے مشورہ کرتا ہے یہاں تک کہ رائے قائم ہوجاتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کرتا کہ اندھا دھند اپنے مشیر کار کا پیرو ہوجائے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ سمجھ دار نہیں کہلاتے۔ مذہب کے معاملات میں برسہا برس کی غلط روی کی وجہ سے یہ ہوگیا ہے کہ اس میں برخلاف دیگر معاملات کے تقلید ہی کی لکڑی سے راستہ ٹٹولتے ہیں جو بالکل خلافِ فطرت اور اسی وجہ سے خلافِ حکمِ خداوندی ہے۔

 

ایسا کیوں ہوگیا ہے، اس کے وجوہ صاف ہیں۔ جو شخص کچھ بھی واقف کاری رکھتا ہے، جانتا ہے کہ تمام معاملات زندگی کی طرح اسلام میں بھی اختلاف کی بڑی وجہ خود غرضی ہوئی ہے۔ خود غرضی کا مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ ہر شخص نے بدنیتی کے ساتھ جعل و فریب ہی تیار کیا گو ایسوں کی بھی کمی نہیں رہی بلکہ یہ مطلب کہ جو رائے اپنی نظر میں صحیح ہوئے اس کو قوی کرنے میں دوسرے پہلو پر نظر کم کی گئی۔ ایسا ہونا فطرت کے نقائص میں سے ہیں جو صرف بہ نظرِ عبرت دیکھی جاسکتی ہیں۔

 

ایک تو کڑوا کریلا دوسرے نیم چڑھا، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یورپ کے نئے علوم داخل ہوئے۔ اب کیا تھا منطق کے وہ زور بندھے کہ بادشاہوں کے دربار سے لے کر مُلاّ کے مکاتب تک سب اسی رنگ میں رنگ گئے اور وہ علم جو رائے کو خطا سے بچانے کے نام سے آیا تھا، غول بیابانی کا کام کرنے لگا۔ منطق ایسے بلند پایہ علم کے لیے ایسی بات کہنا چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔ مگر یہ اعتراض نفس علم پر نہیں ہے بلکہ انسانی طبائع پر ہے۔

 

انگریزی قوانین کی بنا منطق پر ہے۔ عدالتوں میں جس طرح کا انصاف ہوتا ہے اور جو کارروائیاں احاطۂ عدالت کے اندر پہنچ کر ناگزیر ہوتی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں کہ بغیر جھوٹ کی چاشنی کے ہانڈی مزیدار نہیں اترتی۔ حالاں کہ ضابطۂ قانون میں منطق کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا ناممکن ہے۔

 

کلامِ خدا میں متشابہات ہیں جن کا علم سوا خدا کے خاص بندوں کے کسی کو نہیں ہے اور نہ وہ ہماری زندگی میں ہمارے لیے ضروری ہیں۔ دوسرا حصہ محکمات کا ہے اور وہی اصل کتاب ہیں جو ہماری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ وہ بالکل صاف ہیں۔ کہو کہ خدا ایک ہے۔ جو شخص موحد ہے وہ جنت کا مستحق ہے۔ چیزیں تولنے میں ڈنڈی مت مارو۔ کسی کے گھر کے اندر جاؤ تو پکار لو، وغیرہ وغیرہ۔

 

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔ یہ خامی کسی کے بس کی نہیں ہے لیکن اگر ہر شخص کے ہاتھ میں لفظی اور صحیح ترجمہ پہنچ جائے تو اس اندھی کوٹھری سے تو غنیمت ہوگا۔ اگر کسی کتاب کی شرحیں، فرہنگیں، تفسیریں نہ ہوں تو بڑی مشکل درپیش ہو۔ لیکن کلام خدا کی سیکڑوں تفسیریں موجود ہیں۔ تاریخیں موجود ہیں، روایتیں موجود ہیں، جن کی بنا پر قرآن کے معنی ہم پر کھلتے ہیں۔ مختلف رائے رکھنے والے، مختلف عقائد رکھنے والے، مختلف روایتوں کو صحیح ماننے والے، اسلام میں مختلف فرقوں کے قائم کرنے والے، سب ہی کچھ تو موجود ہے اگر آدمی ان سب پر نظر ڈال لے تو قرآن کے مفہوم سمجھنے میں وہ خامی جو غیر زبان کی وجہ سے آن پڑی ہے بہت کم ہوجائے۔ عقل سلیم جو بات سب سے زیادہ خدا لگتی دیکھے گی، خود ہی قبول کرلے گی۔

 

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔
متذکرہ بالا خیالات کو غلط ثابت کردینا مناظرے اور مباحثے میں کوئی مشکل بات نہیں لیکن میرے معروضے کی کسوٹی یہ نہیں ہے۔ اس کی کسوٹی اگر ہے تو حسبِ ذیل ہے۔ آپ سنّی، شیعہ، وہابی وغیرہ وغیرہ حضرات کی تفسیریں دیکھیے اور کلام پاک کا ترجمہ پڑھیے، اس کے بعد غور فرمائیے کہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اگر آپ محسوس کریں کہ پہلے سے زیادہ آپ کے دل و دماغ پر روشنی پڑی تو خیر، ورنہ میرا کہنا ازسرتاپا غلط۔ ہر شخص مافی الضمیر اس طرح ادا کردینے پر قادر نہیں ہے کہ دوسرے کے دل میں اسی طرح سے اتر جائے، لیکن دماغ کم و بیش ہر آدمی رکھتا ہے۔ خالی محتاجی اس کی ہے کہ (کذا) ‘بہ اعتبار عینک’ ہم صرف دوسرے کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور جو ’نیت امام کی وہ میری‘ پر پشتوں سے کاربند ہیں۔

 

لیوتھر کے پہلے انجیل صرف علمی زبانوں میں تھی جس کی وجہ سے پادریوں کا عیسائیوں پر وہی اثر تھا جو آج ہمارے یہاں ہے۔ مختلف زبانوں میں انجیل کا ترجمہ ہوجانے کے بعد یہ بات مٹ گئی، لیکن ان کے یہاں یہ غضب ہوا کہ ترجمہ بعض خود غرضیوں کی وجہ سے غلط کیا گیا۔ دوسرے کی غلطی سے فائدہ اٹھاکر اگر ہم اس کی احتیاط کرلیں تو اس نقصان کا خدشہ نہ رہے۔ عیسائیوں کے یہاں عمدہ ترجمے کہیں خواب و خیال میں بھی نہیں تھے۔ ہمارے یہاں ماشاء اللہ اس وقت عمدہ ترجموں کی کمی نہیں۔ صرف ان کو علاحدہ چھاپ دینے کی ضرورت ہے کہ جن کو لوگ بلاوضو بھی چھو سکیں اور علاوہ ایصالِ ثواب کے واقف کاری بڑھانے کے لیے بھی کام میں لاسکیں۔

Image: Sadequain

Categories
نقطۂ نظر

پاکستان پر شامی جنگ کے خون آشام سائے

ہفتہ بھر پہلے آدھی رات کے لگ بھگ جرمن خبر رساں ادارے کی جانب سے ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں ایرانی پاسداران کی جانب سے شام کی لڑائی میں پاکستان سے اہل تشیع کو بھیجے جانے کی تفصیلات درج تھیں۔ امتیاز احمد صاحب نے اس تحریر کو بہت تلاش و تحقیق کے ذریعے مکمل کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس سارے معاملے کو ایرانی پشت پناہی حاصل ہے اور جو افراد پاکستان سے گئے ہیں ان میں پاراچنار کے رہائشیو ں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی وقت یہ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ اس خبرکا ردعمل پاراچنار پر حملے کی صورت میں ظاہر ہو گا اور حالیہ دھماکہ اندیشہ درست کرگیا۔

 

پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔
پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔ فروری 1979 کا شیعہ اسلامی انقلاب خطے میں موجود دیگر بااثر سنی ریاستوں کے لیے تب شدید خطرے کی شکل اختیار کر گیا جب ایرانی حکومت نے نظریہ ولائت فقیہ کی پیروی کو تمام شیعہ مسلمانوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ ایک سیاسی نظریہ ضرورت کو جب مذہب و مسلک کا تحفظ میسر آیا اور اسے حکومتی آشیرباد ملی تو عوام کی کثیر تعداد اسے اذن الٰہی سمجھنے لگی۔ رفتہ رفتہ ایران کے بااثر مذہبی دانشور مرتضیٰ مطہری کی تحریریں اثر کرتی گئیں اور انقلاب کے لیے فکری بنیادیں طے کرنے والے ڈاکٹر علی شریعتی کی علمی فکر پس منظر میں چلی گئی۔ خوش قسمتی یا شومئی قسمت آٹھ سال تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے خاتمے پر ایرانی حکومت کی انقلابی شکل برقرار رہنے سے مشرقِ وسطیٰ کے عام شیعہ مسلمان پر بہت گہرا اثر ہوا اور ایران سے باہر رہنے والے شیعہ مسلمانوں نے اپنے شناختی تحفظ کے لیے ایران سے ایک خاص طرح کی روحانی وابستگی جوڑ لی۔ ایرانی حکومت نے بھی بانہیں پھیلا کر ان توقعات کا خیرمقدم کیا۔ سوویت افغان جنگ کے نتیجے میں پر پھیلائے ہوئے سعودی عرب کے لیے خطے میں بدلتی ہوئی یہ صورت حال کسی طرح قابل قبول نہیں تھی اور یوں خطے میں باقاعدہ سنی شیعہ سیاسی تنازع سر اٹھانے لگا جوپہلے صرف عربوں اور ایرانیوں کے روایتی نسلی اور مسلکی اختلاف تک محدود تھا۔

 

لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں لبنان پر اسرائیلی قبضے کے خلاف حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تصویر اس وقت واضح کرنی شروع کردی جب امریکی قیادت میں عالمی اتحاد نے کویت کو آزاد کروانے کے لیے ایران کے مضبوط مخالف صدام حسین کے پر کاٹ دیئے تھے۔ یہ منظر تو واضح ہو چلا تھا کہ جلد یا بدیر صدام کی رخصتی کے بعد ایران عراق اور شام کے رستے لبنان میں ایک مضبوط تزویزاتی گڑھ قائم کر لے گا اور اس طرح اسرائیل کو واضح طور پر دھمکانے سے وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کا سپہ سالار بن بیٹھے گا۔ ایران کی مذہبی حکومت کے لیے یہ سارا راستہ سیدھا تھا اور اس سیدھے رستے میں رکاوٹیں ڈالنا ان تمام ممالک کے لیے لازم تھا جنہیں خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرورسوخ سے براہ راست خطرات لاحق تھے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد فلوجہ کی پہلی بغاوت، انصار السنہ کا قیام، عراق میں منظم فرقہ واریت کے پانچ سال، عراق میں امریکہ کا کیمپ بوکا، شام کی عوامی بغاوت میں القاعدہ کی شمولیت اور اب داعش ۔

 

ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے بین الریاستی تعلقات کسی سماج میں قائم انفرادی یا اجتماعی تعلقات کی طرح تو ہوتے نہیں ہیں کہ اخلاقی پابندیوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ محدود وسائل پر ریاستوں کے باہم دست وگریباں تعلق میں حق پر وہی ہے جو آخرش کار فاتح ہو۔ اس طرح مشرق وسطی کے مائی باپ بننے کی لڑائی نے پچھلے تیس سالوں میں پاکستان کے علاوہ بھی جس جس میدان کو رنگین کیا ہے اس کے دھبے پاکستان تک پہنچےہیں۔ حالیہ قصہ شام کا ہے۔ نوے کی دہائی کے اواخر جب موجودہ چہرے ہی حکمران تھے پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی ایک مخصوص فرقے کے نمایا ں افراد آئے روز قتل ہورہے تھے اور یہ واضح تھا کہ اس ٹارگٹ کلنگ کا ردعمل ہوگا اور اسی انداز میں ہوگا۔ اور وہ ہوا ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ پارا چنار میں نوے کی دہائی میں ہی جب فرقہ وارانہ قتل و غارت عروج پہ تھا تو ایرانی اور سعودی مہربانیوں کی بنا پر ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ اور بظاہر امن کے زمانے میں بھی مسجد و منبر انہی علماء کے تسلط میں رہا جومذہبی عبادت گاہوں سے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
ہمارے مغرب میں موجود برادر ہمسایہ اسلامی جمہوریہ سے فارغ التحصیل علمائے کرام نے اسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ کے سیاسی مقاصد کو مقاصدِ امام کا نام دیتے ہوئے اپنے ہم مسلک نوجوانوں کو ہتھیار وں کا رستہ دکھایا اور جس کا جہاں داؤ چلا، کی کہانی شروع ہوئی۔ اب جو مظلومیت کے پیرو تھے وہ بھی ظالم بننے لگے اور جو ظالم کہلاتے تھے وہ بھی مظلوم ہوگئے۔

 

ریاض اور جدہ سے نوجوان بھرتی ہو کر شام لڑنے جارہے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا سے بھی شام میں جہاد کا شوق بلانے والوں کو بلائے جاتا ہے وسط ایشیائی بھی پیچھے نہیں، لبنانی اور عراقی بھی وہاں ہیں۔ ایران ایک گروہ کا سرخیل ہےتو سعودی عرب دوسرے کا۔ پڑھتے دونوں کلمہ ہیں ذرا گہری نظر سے جھانکو تو علم ہوتا ہے کہ اگر ایک گھر دو لاکھ روپے پاکستانی تنخواہ دیتا ہے تو دوسرا ایک لاکھ بیس ہزار۔ اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ بھوکے کا دین روٹی ہے۔

 

کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت ‘ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت’ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ زیارات مقامات مقدسہ کروائی جائے گی اور دوسرا انعام آخرت ہے۔
بلانے کا نعرہ صدائے استغاثہ ہے جو امام عالی مقام کی بہن کا ہے یہاں کے لوگ ان کے بھائی علمدار کی نسبت سے ان کے مزار کی حفاظت کو جارہے ہیں۔ ایک ہزار پہنچے ہوئے ہیں کچھ مارے گئے کچھ لڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل داعش کے ساتھ لڑنے کے شوقین بھی پاکستان سے بھرتی کیے جاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے جہادیوں کے لیے زرخیر خطہ رہا ہے۔

 

اگر نیشنل ایکشن پلان والے یہ پڑھ رہے ہیں تو عرض ہے کہ فیس بک پہ ‘لواء زینبیون‘ کا صفحہ ہے جہاں سے یہ بھرتی جاری ہے قم میں کس کو ملنا ہے ؟ اس کا رابطہ نمبر اس صفحے پر درج ہے۔ چار دن پہلے کے اعلان پر کوئی بیس کے لگ بھگ افراد نے جانے کی حامی بھری ہے جانے والے ایک نوجوان کا فیس بک پروفائل دیکھا تو ایک سیلفی اپ لوڈ تھی اس تبصرے کے ہمراہ ‘جہاد مقدس پہ جانے سے پہلے، ممکن ہے یہ میری آخری سیلفی ہو’۔

 

قانون نافذ کرنے والے اگر ابھی یہ سلسلہ روک لیں تو بھلائی ہے ورنہ جو شام کے ان مزارات )ان مزارات کی تاریخی حیثیت سے قطع نظر( کی حفاظت کے لیے مرنے جارہے ہیں وہ اگر جنت البقیع کے مزارات کو سنبھالنے پہنچ گئے تو کیا ہوگا؟ نہ وہاں موجود مزارات کی صحت پہ کسی کو کوئی شک ہے اور نہ ہی برادر اسلامی ممالک کی ترجیحات پوشیدہ ہیں!!
Categories
نقطۂ نظر

سبیل سے بندوق تک

1986-87میں میری عمر سات برس تھی۔ ہمارے محلے میں سنی اکثریت میں تھے اور شاید دو چار شیعہ خاندان بھی آباد تھے یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ہمیں یہ تقسیم معلوم ہی نہیں تھی کہ کون شیعہ ہے اور کون سنی اور یہ ہوتا کیا ہے۔ ہمارے ہاں محرم کے مہینے کا آغاز ختم قرآن، دعا اور منتیں مانگنے جیسی مذہبی رسوم کی ادائیگی سے شروع ہو تا تھا۔ ایک دفعہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ ہم یہ سب اہتمام کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اہل بیت جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ ہے اس مہینے میں ہم ان کو نہ صرف یاد کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی خدمت بھی کرتے ہیں جو ان کی یاد کا اہتمام کرتے ہیں۔

 

شاید محلے کے سب بچوں کی تربیت بھی اس طرح ہی ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ محرم کے آغاز سے ہی ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اور دس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔ ادھر ادھر سے جو معلوم پڑا وہ یہ تھا کہ امام بارگاہ جسے ہم تب امام باڑہ کہتے تھے کہ قریب ایک نئی مسجد بنی ہے۔ اور اس مسجد والوں نے کہا ہے کہ اگر اہل تشیع جلوس نکالیں گے تو ہم ان نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے ابو سے یہ سوال کیا کہ ان کے جلوس کے لیے تو ہم سبیلیں لگاتے تھے مگر اب یہ بندوقیں کس نے لگا دیں؟ مگر ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ سبیلوں کا سلسہ ختم ہوتا گیا اور بندوقوں کا سلسلہ شرو ع ہو گیا۔۔۔۔۔۔ ہم بڑے ہو گئے اور ہمیں پتا چل گیا کہ تقسیم کیا ہوتی ہے۔

 

ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اوردس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔
مگر آج میں سوچتا ہوں کہ تقسیم کی اس آگہی نے ہمیں کتنا فائدہ دیا؟ کبھی کبھی کوئی آگہی کتنا کرب دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

 

تقسیم کرنے والوں نے ملانے والوں کا بٹوارہ کر دیا۔ ہم نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور اطہارِ اہل بیت کو تقسیم کر دیا۔ یہ میرا ہے اور وہ تمہارا۔ محبتیں نفرتوں میں بدل گئیں۔
بر صغیر میں تعزیے کی قریب چھ سو سال پرانی سنی اور شیعہ میراث کو کس کی نظر لگ گئی۔۔۔۔۔۔ وہ تعزیہ جس کو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندو راجاؤں نے بھی فروغ دیا اس کو تشدد کی ایسی ہوا لگی کہ تعز یے کی جگہ جنازے اٹھنے لگے۔

 

مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف یادگار چشتی میں لاہور کے تعزیوں کے بارے میں لکھا ہے ’سُنی کیا شیعہ کیا سب ہی مجلسِ امام برپا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے دوست، غر یب غر باء کو کھا نا کھلا تے اور پھر رات بھر مرثیہ خوانی ہوتی اور فجر کو (مجلس) بر خاست ہو تی تھی اور ۔۔تعزیہ۔۔ شیعہ سنی سب بنا تے ہیں پھر دوسرے دن تعزیو ں کی گشت کرتے ہیں۔

 

لاہور میں دھرم پورہ ہندوؤں اور سکھوں کا مذہبی مرکز تھا۔ یہاں بھی ہندو اور سکھ تعزیے بنا کر برآمد کرتے تھے۔ بعد میں ہندووں کی بجائے سنی المسلک عقیدت مند اسی جگہ نو محرم کی رات کو تعزیے سجاتے جو عاشورہ تک جاری رہتے۔ ساری رات حلیم کی دیگیں تیار کی جاتیں۔ جو دس محرم کی صبح کو بانٹی جاتیں۔ روہڑی سندھ میں بھی تعزیوں اور جلوسوں کی روایت صدیوں پرانی ہے اور وہاں آج بھی سنی اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی امام حسین کی یاد مناتے ہیں۔

 

اگرچہ برصغیر میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ تفریق تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی موجود تھی لیکن اس مخاصمت کی نوعیت اس قدر شدید نہیں تھی جو آج ہے۔ ساٹھ کے عشرے میں چلائی گئی “جاگ سنی جاگ پاکستان تیرا ہے ” جیسی تحریکوں نے فرقہ واریت کو ہوا دی اور پھر انقلاب ایران کے بعد اسی کے عشرے میں پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سنی شیعہ اختلاف کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں جارحانہ کردار ادا کیا۔ 1979 میں جنرل ضیاء الحق کے نافذ کیے گئے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس نے سنی شیعہ اختلافات کو مزید ہوا دی جس میں سنی اورشیعہ فقِہی اختلاف کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ یہی آرڈیننس تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تخلیق کا سبب بنا اور 5 جولائی 1980 کو اسلام آباد میں شیعہ کنونشن منعقد کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے ان اقدامات نے ملک کے اندر نہ صرف ایران اور سعودی عرب کے اثر و رسو خ کو پنپنے کا موقع دیا بلکہ فرقے کی بنیاد پر قتل و غارت کی بنیاد بھی رکھی۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کی مالی امداد اورتربیت کے ذریعے اختلافات کو تشدد کا راستہ پکڑنے میں سہولت مہیا کی گئی۔ “سواد اعظم اہل سنت”، “انجمن سپاہ صحابہ” اور مولانہ حق نواز جھنگوی کی متشدد اور شدت پسند تکفیری فکر کو اسی دور میں تقویت ملی۔ سپاہ محمد جیسی تنظیمیں بھی اسی متشدد فکر کے ردعمل کے طور پر سامنے آئیں۔ تحریک جعفریہ کے علامہ عارف الحسینی اور مولانا حق نواز جھنگوی کے قتل نے تشدد کی لہر کو ایسی ہوا دی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

 

1980سے لے کر آج تک ہزاروں افراد اس تشدد کی نظر ہوئے لیکن 2010 کے بعد اہل تشیع کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا، پورے ملک میں امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کراچی، بلوچستان، اندرون سندھ، پنجاب، کوہستان اور گلگت میں لوگوں کو بسوں سے اتار کر بے دردی سےقتل کیا گیا، امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے اور ممتاز شیعہ شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ کرم ایجنسی اور گلگت کی طرف سفر کرنا دشوار ہو گیا، زائرین کے لیے مقامات مقدسہ تک کا زمینی سفر غیر محفوظ ہو گیا اور لوگ افغانستان کے راستے کرم ایجنسی میں اپنے گھروں کو جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

 

لاہور میں دھرم پورہ ہندوؤں اور سکھوں کا مذہبی مرکز تھا۔ یہاں بھی ہندو اور سکھ تعزیے بنا کر برآمد کرتے تھے۔ بعد میں ہندووں کی بجائے سنی المسلک عقیدت مند اسی جگہ نو محرم کی رات کو تعزیے سجاتے جو عاشورہ تک جاری رہتے۔ ساری رات حلیم کی دیگیں تیار کی جاتیں۔ جو دس محرم کی صبح کو بانٹی جاتیں۔
اس سارے منظرنامے نے عام لوگوں میں نفرتوں کی خلیج کو بڑھاوا دیا۔ مذہب اور فرقے کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا گیا۔ ‘شیعہ کافر شیعہ کافر’ کے نعرے دیواروں پر نظر آنے لگے۔ مساجد کے ایسے نام رکھے جانے گئے جن سے فرقہ وارانہ وابستگی صاف ظاہر ہونے لگی۔ جنرل ضیاء کے دور میں فرقہ وارانہ مواد پر پابندی کی بجائے ایک فرقے کی سرکاری سرپرستی کی گئی۔ مذہبی جماعتیں اتنی مضبوط ہو گئیں کہ ملک کی سیاسی جماعتیں بھی انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی مدد کی محتاج ہو گئی ہیں۔ آج بھی بہت سے سیاست دان اور جماعتیں کھلے عام ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

 

اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں جہاں ایک زمانے تک محرم کے دوران سنی اور شیعہ اپنے اپنے طریقے سے جلوس نکالتے اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو یاد کرتے تھے اب وہاں تکفیری مدارس کی بہتات ہے۔ قرآن و حدیث کی وہ آیات اور احادیث جن میں محبت، برداشت اورصبر کی تلقین کی گئی تھی انہیں پس پشت ڈال کر ایسی تشریح کو فروغ دیا گیا جس سے مذہبی اختلاف کو مزید ہوا ملے ۔

 

جو ہمیں پڑھایا گیا وہ اس طرح تھا:
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا:
’’میرے صحابہ ہدایت کے ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کسی کی پیروی اور اقتداء کرلو گے تم سیدھی راہ پالو گے‘‘۔
(عبد بن حميد، المسند، ج1، ص250، رقم الحديث783)

 

اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، صحابہ میں شامل ہیں لیکن ان کے متعلق یوں ارشاد ہوا کہ
اور اہل بیت کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ۔
’’بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے‘‘۔
لیکن فرقہ وارانہ تقسیم نے نہ صرف شخصیات کو تقسیم کیا بلکہ آیات کو بھی تقسیم کیا۔ ایک مشترکہ میراث کے حاملین کے مابین روایات، اسناد اور مقدسات کی تقسیم سے زیادہ اذیت ناک کیا ہو سکتا ہے۔ بد قسمتی صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی عزت و عظمت سے متعلق آیات و احادیث سنیوں کی میراث اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہما سے محبت سے متعلق ارشادات اہل تشیع کی وراثت قرار دے دیئے گئے ہیں جو ہرگز مستحسن امر نہیں۔

 

اللہ تعالی اور آقائے کائنات نے جو تعلیم دی تھی اس کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ۔
اللہ رب العزت نے امت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا:
’’ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو‘‘۔
(البقرة، 2: 143)

 

ہم نے اختلاف کے نام پر گالم گلوچ اور فساد کا بازار گرم کر دیا۔ خون کی ندیاں بہا دیں۔ جو امن سکھانے اور پھیلانے آئے تھے انہوں نے تفرقہ کی بنیا د پر عرب دنیا سمیت برصغیر میں جنگ کا میدان گرم کر رکھا ہے۔
جبکہ دوسری طرف صحابیت کے تاجدار صدیق اکبر رضی اللہ، ولایت کے تاجدار مولا علی رضی اللہ سے یہ فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گلی میں جارہے ہیں اور سیدنا امام حسن علیہ السلام کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور کہہ رہےہیں کہ مجھے اپنے باپ کی قسم! حسن، مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ ہے، علی تمہاری شبیہ نہیں ہے۔ حضرت علی یہ سن کر ہنس دیئے‘‘۔
(صحیح بخاری، ج3، ص1370، الرقم:3540/3349)