ایدھی، قندیل بلوچ اور ناکام ریاست

فوزیہ نے قندیل بلوچ بن کر معاشرے کی صرف اس حس کو جگایا جو عورت کا جسم دیکھ کر قوت پکڑتی ہے۔
ایک عورت کو متنازع ہونے کا حق ہے

اگر شاید مرد ایک عورت تخلیق کرتے تو عین ممکن تھا ان کی بہنیں، مائیں اور بیٹیاں محض مٹی کاایک تودہ ہوتیں، اور ان کی لونڈیاں کنیزیں اور بیویاں محض سینہ یا محض کولہے یا محض سرین یا محض فرج یا محض ہونٹ ہوتیں۔
