Categories
نقطۂ نظر

مشرف کی بریت؛ بلوچستان کے زخموں پر نمک پاشی

مشرف کی بریت بلوچستان کے باسیوں کے لیے ایک مایوس کن یاددہانی ہے کہ وہ اس ریاست کے مساوی شہری نہیں اور ان کے قاتلوں کو سزا دینا موجودہ سیاسی اور عدالتی نظم کے بس کی بات نہیں۔ خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی نے سابق آرمی چیف اور آمر پرویز مشرف کو ساتھیوں سمیت اکبر بگٹی کے قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف ایک مرتبہ بھی اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اس امر سے یہ اندازہ لگانا ہرچند مشکل نہیں کہ مشرف کی بریت کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور کن خفیہ ہاتھوں نے اس مقدمے سے مشرف کی جان چھڑانے میں مدد کی۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کا مقدمہ نہیں تھا اکبر بگٹی بلوچستان کے بہت بڑے سیاسی رہنما تھے جن کے قتل کے بعد بلوچستان میں لگی آگ پر آج تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ اکبر بگٹی کے بارے میں ایک روایتی پنجاب پسند پاکستانی ذہنیت کا پرچار کر کے باقی صوبوں کے عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ظالم سردار اور پاکستان دشمن تھے۔ جبکہ درحقیقت اکبر بگٹی قیام پاکستان کے وقت اگر جناح کا ساتھ دیتے ہوئے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا ووٹ نہ دیتے تو آج شاید بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ ہوتا۔ ایسے آدمی کو ایک آمر کے کہنے پر غدار سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھی شیخ مجیب کو غدار ٹھہراتے ٹھہراتے ہم نے اسے علیحدگی پسندی پر مجبور کر دیا تھا اور یہ بھی اس وقت کے ریاستی بیانیے کا نتیجہ تھا۔

 

مشرف کی بریت بلوچستان کے باسیوں کے لیے ایک مایوس کن یاددہانی ہے کہ وہ اس ریاست کے مساوی شہری نہیں اور ان کے قاتلوں کو سزا دینا موجودہ سیاسی اور عدالتی نظم کے بس کی بات نہیں۔
مشرف اس معاملے میں کیسے بے قصور ثابت ہوا؟ یقیناً آئینی ماہرین آنے والے دنوں میں اس سوال پر بحث کریں گے، فی الحال تو یہ عدالتی فیصلہ ملکی تاریخ کے سیاہ ترین عدالتی فیصلوں میں ایک اور المناک فیصلےکا اضافہ ہے۔ عدلیہ کی جانب سے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں انصاف کے پلڑوں کو جھکا دینا کوئی نئی بات نہیں۔ عدلیہ نے ہمیشہ انصاف کے بنیادی تقاضوں سے منہ موڑتے ہوئے آمروں اور فوجیوں کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔ وکلا تحریک اور افتخار چوہدری کی بطور چیف جسٹس بحالی کے بعد جو امیدیں تھیں، ان کا گلا خود افتخار چوہدری کی عدالت نے گھونٹ دیا۔ گو اس زمانے میں عدالتوں خصوصاً عدالت عظمیٰ نے ماضی کے برعکس خفیہ اداروں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی مقدمات سنے لیکن ان مقدمات کا نتیجہ صفر رہا، نہ لاپتہ افراد بحال ہوئے اور نہ آئین شکنی کرنے والوں کو سزا مل سکی۔ خیال تھا کہ کسی بھی قسم کے دباو کے بغیر فیصلے ہوں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا، خاکی وردی کی آستین پر جمے خون کے دھبے عدالتی لانڈری نے ایک بار پھر دھو دیئے ہیں۔

 

فوجی کارروائی کے دوران مارے جانے والوں کی “قانونی حیثیت” اور مارنے والوں کے “مواخذے” کی خواہش شاید اس ملک میں واقعی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ مشرف کی بریت بلوچوں کے لیے یقیناً ایک تکلیف دہ امر ہے۔ مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی نے نہ صرف اسے کھلم کھلا للکارا تھا بلکہ اس کی کشتی میں پہلا سوراخ بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بگٹی کو مشرف کے کہنے پر “قتل” کیا گیا لیکن تعجب ہے عدالت پر جسے نہ تو مشرف کے وہ بیانات دکھائی دیئے جن میں وہ ریاستی طاقت کے بل بوتے پراکبر بگٹی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھا اور نہ ہی ان کے ٹی وی انٹرویو جن میں وہ کھلم کھلا اکبر بگٹی کو بم سے نشانہ بنانے کی بات کرتے تھے۔ قانون اور ریاست کی بالادستی کے نعرے لگاتے سیاستدان یقیناً مشرف کو احتساب کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔

 

آپ بلوچستان کے نوجوانوں سے کیسے پاکستان کے قانون و آئین کو ماننے اور اس پر پابند رہنے کا تقاضہ سکتے ہیں جب مشرف جیسا آئین شکن آمر اسی آئین اور قانون کی گرفت سے باآسانی بچ نکلتا ہے۔
مشرف کی پشت پر موجود فوج کی خاموش حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہ درپردہ حمایت بلوچ عوام کو وفاق سے اور فوج سے مزید متنفر کر رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست مفاہمت کے لیے عرصہ دراز سے اکبر بگٹی کے ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو سزا دینا کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن یہ عدالتی نظام تو ڈاکٹر شازیہ کا ریپ کرنے والے ایک کیپٹن حماد کو سزا نہیں دے سکا سابق جرنیل کو کیسے دیتا؟ ہم نے اس ملک میں ایک وزیر اعظم کو پھانسی لگتے دیکھا، ایک وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں پہنے اٹک کے قلعے میں پابند سلاسل دیکھا، نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو ریاستی جبر کا شکار ہو کر ہلاک ہوتے دیکھا لیکن کبھی کسی فوجی آمر کا احتساب ہوتے نہیں دیکھا۔ آمروں کو ہم نے ہمیشہ سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوتے دیکھا۔ سقوط ڈھاکہ کے مجرم یحیٰ خان اور جنرل نیازی ہوں یا پرویز مشرف، شاید قانون ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہی مفلوج ہو جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے معاملات دراصل سویلین قیادت کے اختیار میں نہیں ہیں۔

 

آپ بلوچستان کے نوجوانوں سے کیسے پاکستان کے قانون و آئین کو ماننے اور اس پر پابند رہنے کا تقاضہ سکتے ہیں جب مشرف جیسا آئین شکن آمر اسی آئین اور قانون کی گرفت سے باآسانی بچ نکلتا ہے۔ بندوق کے زور پر مشرقی پاکستان کو ساتھ رکھنے کی کوششوں کا نتیجہ بھی بنگلہ دیش کی صورت میں ایک علیحدہ ملک کے قیام کی صورت میں نکلا تھا۔ سقوط ڈھاکہ اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی اکائیاں جبر کی بنیاد پر یکجا نہیں رہتیں لیکن یہ سبق ہم نے آج تک نہیں سیکھا۔ آپ اکبر بگٹی یا بالاچ مری کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کے نظریات اور خیالات کو نہیں۔ خیالات اور نظریات کبھی بھی بندوق کے زور پر کچلے یا ختم نہیں کیے جا سکتے۔ ذہن بدلنے کے لیے اس احساس محرومی کو ختم کرنا پڑتا ہے جو ریاست کے باشندوں میں استحصال، جبر اور ناانصافی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس محرومی طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ حقوق کی فراہمی اور ناامصافیوں کے ازالے سے ختم ہوتا ہے۔

 

نواب اکبر بگٹی کو صوبائی خود مختاری، صوبے کے وسائل پر رائلٹی میں اضافہ اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے جیسے جن مطالبات کی بناء پر ملک دشمن قرار دے کر مارا گیا ان پر مذاکرات کی میز پر گفتگو ہو سکتی تھی لیکن مشرف نے طاقت کے خمار میں ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اکبر بگٹی کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔
مشرف اگر قانون کی گرفت سے آزاد اپنے بنگلے میں مزے سے سگار پیتا زندگی کے شب و روز گزارے گا تو محض بلوچستان میں نہیں بلکہ ملک کے گوشے گوشے میں موجود افراد کے دلوں میں نہ صرف قانون کا احترام ختم ہو گا بلکہ قتل و غارت کے ملزموں کو پابند سلاسل کرنے کا اخلاقی جواز بھی باقی نہیں رہے گا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ مشرف نے ملک و قوم کے لیے ایسی کیا گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی بنا پر اسے سلاخوں کے پیچھے رکھنے کی بجائے بنگلوں میں ریاستی تحفظ کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔ ان کے دور آمریت میں فوجی جوان اور افسر وردی پہن کر باہر نکلنے سے جھجھکتے تھے، انہوں نے اپنے ادارے کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا، طالبان کے لیے دُہری پالیسی اپنائی تھی جس کی وجہ سے آج پاکستان دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے۔ اس سب کے باوجود مشرف کا قانون کی دسترس سے دور ہونا ناقابل فہم اور حیران کن ہے۔ اگر مشرف کو قانون کی گرفت سے بچانے کا مقصد محض ایک ادارے کی بالادستی کے تصور کو قائم رکھنا ہے تو یہ ایک ناقص حکمت عملی ہے کیونکہ بالادستی محکوموں اور غلاموں پر قائم رکھی جا سکتی ہے آزاد معاشروں اور ذہنوں پر نہیں۔ بلوچستان کے مسائل کو تو ریاستی سنسر شپ کے ذریعے دبا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہاں سب ٹھیک ہے لیکن مشرف کے جرائم محض بلوچستان تک محدود نہیں، کارگل جیسی جنگی حماقت، منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹنا، آئین سے غداری، این آر او، بینظیر کا قتل، طالبان سے متعلق دُہری حکمت عملی اور ایمرجنسی کے نفاذ سمیت متعدد ایسے جرائم ہیں جن پر مشرف کا عدالتی اور سیاسی محاسبہ ضروری ہے۔ ایسے لاتعداد جرائم ہیں جو مشرف کے کھاتے میں ہیں۔ لاتعداد گم شدہ افراد کے ورثا آج بھی مشرف سے اپنے پیاروں کا حساب چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوان اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں گردانتے ہیں لیکن شاید ریاست اپنی غلطیوں پر نادم نہیں۔

 

نواب اکبر بگٹی کو صوبائی خود مختاری، صوبے کے وسائل پر رائلٹی میں اضافہ اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے جیسے جن مطالبات کی بناء پر ملک دشمن قرار دے کر مارا گیا ان پر مذاکرات کی میز پر گفتگو ہو سکتی تھی لیکن مشرف نے طاقت کے خمار میں ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اکبر بگٹی کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔ گو اکبر بگٹی کے ہتھیار اٹھانے اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے اقدامات بحث طلب ہیں لیکن اگر وہ مجرم بھی تھے تو انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے کی بجائے عدالت میں یا کسی تحقیقاتی کمیشن میں اپنے دفاع کا حق دیا جانا چاہیئے تھا۔ مشرف نے محض اپنی ذاتی اور اپنے ادارے کی انا کی تسکین کے لیے اپنے ادارے، عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ مشرف کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے بلوچستان کو ایسی آگ میں جھونکا جس کی شدت سے آج بھی یہ صوبہ جل رہا ہے۔ ایسے میں بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل کی خاطر مشرف پر مقدمہ نا صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق چلنا چاہیئے تھا بلکہ اسے دیگر مجرموں کی طرح عدالتی پیشیوں پر پیش ہونے کا بھی حکم دیا جانا چاہیئے تھا۔ اگر ارباب اختیار بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں تو ریاست کو خود اکبر بگٹی کیس کو سپریم کورٹ کے کسی تحقیقاتی کمیشن کے سپرد کرنا چاہیے تا کہ اصل حقائق سے پردہ اٹھنے کے ساتھ ساتھ اکبر بگٹی کے قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

My Three Heroes

By Tahir Malik

my-three-heroes-inner

There is no single definition of a hero.

In my opinion, however, a hero is someone who leads his people to reality. Political heroes in particular help their nations become pragmatic. With this definition, I consider General Zia-ul-Haq, General Pervez Musharraf and President Asif Ali Zardari to be my heroes. Their rule, governance and leadership have certainly helped me better understand the nature of power and how my country has found itself where it is today.

General Zia’s rule opened my eyes to the ways in which leaders exploit religion as a tool to reign. Although they talk of a system that offers equal opportunity, education, justice, self-respect, security and progress for all (according to the teachings of Islam), what they actually do is contrary to what they claim. Since the creation of our country, there has been heated debate over whether Pakistan was created in the name of Islam, as a welfare state for Muslims. This thought was reflected in the general elections of March 1977. The political slogan of the PNA (political alliance against Zulfiqar Ali Bhutto) was the promised implementation of an ‘Islamic system’.

PNA claimed that the elections declaring the PPP victorious had in fact been rigged and launched a massive movement to dissolve the ZAB government, which eventually turned into a movement for the restoration of Islam in Pakistan. During this time, the whole country descended into chaos. Bhutto tried to curb the movement forcibly, but also tried unsuccessfully to negotiate with PNA. Finally on 5th July, then Army Chief General Ziaul Haq imposed Martial Law and ended up ruling the country for the next 11 years.

After coming to power, General Zia vowed to apply Islam as per the people’s desire by introducing religion in almost all public spaces. His most enduring gifts to the country have been the blasphemy laws, the Ramzan Ordinance, the Hudood Ordinance and Zakat/Namaz committees to ensure that prayers are made obligatory in government offices. He banned alcohol in the army, and Western dressing was discouraged in government offices. He was the first to start his speech at the UNO with the recitation of the Quran. He was also the pioneer of the ‘Jihad’ against the ‘evils’ of Communism in Afghanistan.

He attempted to help the Muslims in China and Sunnis in Iran, and was a great supporter of the freedom struggle in Kashmir. He was a bosom friend of Saudi Arabia. He greatly undermined the Pakistani film and music industry to rescue the country from Western and Indian influences. He ensured pardah in general, and particularly on PTV. Above all, ‘Hasool-e-Rizk-e-Halal Ibadat Hai’ (money earned through fair means is piety) was printed on Pakistani currency during his era.

Nevertheless, his rule did not deliver. His Islamization failed to bring economic justice and progress on many levels. On the contrary, his time in power created a new class of supremely rich generals, smugglers and real estate tycoons. Instead of pouring state resources into education, Zia introduced a private education system. Hence, the common man was compelled to spend a major chunk of his earning on his children’s education. His dictatorship helped introduce drugs, smuggling, terrorism, sectarianism, contempt against vernacular languages, cultures, dances and celebrations in the country. In short, his attempts at bringing Islam to Pakistan had no real benefit for the average Pakistani. This certainly helped me and many others understand how Islam was exploited simply as a hollow slogan to retain power, but did not put an end to the common man’s miseries.

My second star is General Pervez Musharraf who helped me understand how the military considers it a right to rule supreme in the country. Since 1947, the nation has been taught to glorify the Pakistan Army as a defender of Islam and Pakistan. During the 60s, it was commonly said that the Pakistan Army and American ammunition form the best military in the world. According to the grapevine, Hindus and Jews have been bent upon wreaking mayhem in Pakistan as it is the fort of Islam, and the Pakistan Army is our only safeguard against these nefarious designs.

However everything changed after 9/11. After befriending the fighters of the Afghan ‘Jihad’ during the 80s, a telephone call from the US changed Pakistani policy completely. We were then told that the Pakistan Army was suddenly a frontline ally in the ‘War against Terror’. With this U-turn, Musharraf provided our new allies with secret information and use of the country’s airbases without any written agreement. Thousands of NATO war planes flew from Pakistan to kill the terrorists in Afghanistan. The Ambassador of Afghanistan in Pakistan was handed over to America as a prisoner, although before 9/11 he was considered an ambassador of a brotherly Muslim country. Musharraf’s policy after 9/11 certainly aided me in understanding the mindset of rulers. For them it is vested interests that matter most.

The third supremo is President Asif Ali Zardari, who provided me with great insight on civil bureaucracy. I used to revere civil servants as benefactors of the common man. I somewhat naively believed that in a democratic setup the citizens are the real rulers. But then I saw the power outages, the lack of water and gas, the near collapse of the Railways and PIA, and the dismal state of the Steel Mills and WAPDA. The police could not ensure law and order. So where is public service?

The Zardari government proved that the job of civil employees is not to serve, but to enact. Their duty is to take salaries and perks, but there is no obligation to do anything for the public good. They are not accountable, since no one dares to question their duties and responsibilities.

Zardari’s PPP is spending Rs. 240 billion on bureaucracy. In addition to that Rs. 129 billion are allocated for pensioners. Moreover, every year the tax ratio increases. During the first four years of the PPP government, tax collections doubled from about Rs.1008 billion in June 2008 to nearly Rs. 2000 billion in June 2012. Also, remittances are another lifeline of the government in meeting its expenses. They have remitted unprecedented amounts in the last two years, from around $9 billion in 2009-10 to over $13 billion in 2012.

Where is this money going? The government has earmarked Rs. 31 billion in this fiscal year for Pakistan Railways to meet its losses. The losses of PIA were Rs. 157 billion on 30 November 2012. The Defence Minister has said that the national airline is facing continuous losses due to corruption, mismanagement and overstaffing. He said that at present only 26 airports out of a total of 43 are functional, and only 5 of them are profitable. And to top this off, the PPP government has recently approved a 40 percent increase in the salaries of PIA employees.

According to the Railways Minister, when the PPP government came to power, total losses were Rs.16.85 billion which have now surged to Rs. 31 billion, with an average of Rs 2.58 billion per month.

The payable debt liability of Pakistan Steel Mills reached Rs. 82 billion on 31 October 2012, up from Rs. 75 billion four months ago, even after receiving a Rs. 14.6 billion bailout package from the federal government in July last year.

According to the World Bank, the Sui Southern Gas Company Limited (SSGCL) has reportedly lost $160 million (Rs. 15 billion) in 2011-12 alone owing to system losses. WAPDA debt is almost 400 billion. The whole nation is suffering from the effects of loadshedding, overbilling and poor services. But the Zardari government has dealt with this by rewarding these poor performances by 40 percent Revised Pay Scales in 2012, in addition to which house rent allowance was raised to 50 percent.

After this I have no reason to believe that civil employees are here to work for the betterment of the people of Pakistan. It took time, but my third hero helped me understand the real services rendered by civil servants to the nation.

 

(The writer could be reached at writetomalik@gmail.com.)

 

Published in The Laaltain – April 2013 Issue