شہدائے پاراچنار کے لیے ایک نظم

(مشتاق علی بنگش، پاراچنار) تشنہ لب ، ضعفِ دست و پا لے کر جس فریضے نے شل کیا تھا بدن اُس کے ضامن سوال کرتے ہیں وقتِ افطار لاش اپنوں کی ہم اُٹھائیں گے اے خدا لیکن کب جنازہ سُپردِ خاک کریں اِس قدر سخت ہو گئی ہے زمیں دست و بازو کا زور جاتا […]