Categories
نقطۂ نظر

عسکری پاکستان

پاکستان دنیا کے نقشے پر 1947 میں وجود میں آیا پھر پچیس سال بعد دسمبر کی سولہ تاریخ کو آدھا پاکستان واپس کر دیا گیا۔ جو باقی آدھا حصہ رہے گیا تھا وہ پنڈولم کی گیند کی طرح مفاد پرست طبقے کے درمیان جھول رہا ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کے وہ وجود میں تو ایک اکائی کی صورت آیا تھا مگر اس کے اندر اب جتنے پاکستان مضمر ہیں گنتے گنتے اڑسٹھ سال ہوگئے ہیں۔

 

درجنوں پاکستانوں کے بعد بچا کچھا پاکستان عام عوام کا پاکستان ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کا، عورتوں کا اور بلوچوں کا بھی پاکستان ہے لیکن وہ نقشے پر صاف دکھائی نہیں دیتا
ان میں سب سے زیادہ طاقتور پاکستان ‘عسکری پاکستان’ ہے، دوسرے نمبر پر پنجابیوں کا پاکستان ہے، تیسرا پاکستان ‘ملائیت پوش پاکستان’ ہے، چوتھا کالعدم تنظیموں اور طالبان کا پاکستان ہے، پانچواں پاکستان بحریہ ٹاونوں، ڈیفنسوں ہاوسنگ سوسائٹیوں کا پاکستان ہے، چھٹا منی لانڈرنگ مافیا کا ہے، ساتواں پاکستان سیاسی تاجروں کا ہے جو سیاست کی آڑ میں تجارت کرتے ہیں، آٹھواں پاکستان افسر شاہی کا پاکستان ہے، نواں پاکستان عدلیہ کا ہے اور پھر پاکستان کا کچھ حصہ امریکیوں، چینیوں اور سعودیوں کو بھی الاٹ کیا گیا ہے، اس کے بعد ذخیرہ اندوزوں، بجلی چوروں اور ٹھیکیداروں کا پاکستان ہے ان درجنوں پاکستانوں کے بعد بچا کچھا پاکستان عام عوام کا پاکستان ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کا، عورتوں کا اور بلوچوں کا بھی پاکستان ہے لیکن وہ نقشے پر صاف دکھائی نہیں دیتا۔

 

ان ان گنت پاکستانوں میں میں سب سے زیادہ طاقتورعسکری پاکستان ہے جو باقیوں کو سدھاتا ہے اور وقت پر وفاداری نہ کرنے پر ان کے خلاف ایکشن پلان تیار کرتا ہے۔ عسکری پاکستان میں آپ کو صرف خاکی باشندے ملیں گے جو بظاہر اس ریاست کے عام عوام سے ہمدردیاں اور دعائیں بٹورتے نظر آئیں گے، قدرتی آفات ہوں یا بلندوبالا کمرشل عمارتوں کے انہدم کے نتیجے میں دب جانے والے لوگوں کو نکالنے کا کام۔۔۔ جہادی پالنے ہوں یا مارنے ہوں، بلوچ غائب کرنے ہوں، شوگر ملیں لگانی ہوں، سیمنٹ کی فیکٹریاں چلانی ہوں بنک چلانے یا کبھی کبھا ہر دس سال بعد حکومت کرانی ہو خاکی کمپنی لمیٹڈ ریاست کے جملہ آئینی اور غیر آئینی امور سرانجام دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ یہ ریٹائر ہو کر بھی ریٹائر نہیں ہوتے کسی نہ کسی محکمے کا کوئی نہ کوئی عہدہ ان کے لیے خالی رہتا ہی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں “خاکی کمپنی” ریاست کے تمام اداروں کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے کیونکہ خاکی کمپنی نے پاکستان کی آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کی سیاسی جماعتوں، افسر شاہی، کالعدم تنظیموں، زرعی زمینوں اور ہاوسنگ سوسائٹیوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔

 

درحقیقت پاکستان میں “خاکی کمپنی” ریاست کے تمام اداروں کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے کیونکہ خاکی کمپنی نے پاکستان کی آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کی سیاسی جماعتوں، افسر شاہی، کالعدم تنظیموں، زرعی زمینوں اور ہاوسنگ سوسائٹیوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔
1947 کے بعد سے الحمد اللہ ریاست عدم تحفظ کا شکار رہی ہے، جس کے پیش نظر خاکی کمپنی روزاول سے ہی ریاستی محافظ کی کرسی سنبھال کر بیرونی خطروں کا اندرونی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ خاکی کمپنی نے یہ کردار آزادی کے فوراً بعد ہندوستان کے ساتھ پہلی جنگ کے نتیجے میں اپنا لیا تھا۔ ملک کی پالیسی ساز اشرافیہ آج تک خاکی کمپنی کی بنائی سیکیورٹی عینک لگا کر قومی سلامتی کو لاحق خطرات بھارت سے منسلک دیکھتی آئی ہے۔ اپنی غلطیوں کے ہاتھوں آدھا ملک گنوانے اور بقیہ آدھے میں اپنے ہی بنائے دہشت گردوں سے چھپتے پھرنے کے باوجود ہمارا ماننا یہی ہے کہ سات دہائیوں سے بھارتی قیادت نے مسلمانوں کے آزاد ملک کو تسلیم نہی کیا اور وہ پاکستان کے خاتمے کے درپے ہے۔ شاید پاکستان ہم نے اور پاکستانیوں کو عسکری پاکستان نے تسلیم نہیں کیا۔

 

خاکی کمپنی کو صرف بلٹ ہی نہیں بیلٹ کی سیاست بھی آتی ہے۔ اپنے ملک کی آزادی کے غیر آئینی ابتدائی سالوں سے لے کر آج کے آئینی دنوں تک یہ کمپنی سیاست میں شریک رہنے کی وجہ سے سیاسی طور پر بڑی مضبوط ہو چکی ہے۔ اس کمپنی کی مالی خودمختاری کا انحصار اس کی سیاسی خومختاری پر ہے۔ یہ شای واحد “سیاسی تنظیم” ہے جو منظم بھی ہے اور اس کے سیاسی اثر میں بلا روک ٹوک اضافے کا امکان ہے۔ یا کم از کم اس بات کا امکان ہے کہ ان کا سیاسی اثر و رسوخ اس وقت تک کم نہیں ہوگا جب تک ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

 

عسکری پاکستان میں “خاکی کمپنی” ریاست کے تمام اداروں میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔ سیاست اور معیشیت میں خاکی کمپنی کی شمولیت اپنے اقتدار کو طول دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اگست 2009 میں اپنی شائع ہونے والی کتاب “پاکستان میں مارشل لاء کی تاریخ” میں لکھتے ہیں کہ

 

عسکری پاکستان میں “خاکی کمپنی” ریاست کے تمام اداروں میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔ سیاست اور معیشیت میں خاکی کمپنی کی شمولیت اپنے اقتدار کو طول دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
“پاکستان اپنے قیام کے بعد پچھلے باسٹھ برسوں میں چار مرتبہ براہ راست فوجی اقتدار کے تجربے سے گزر چکا ہے ان چاروں ادوار میں جنرل ایوب خان(1969-1958) جنرل یحییٰ خان (1971-1969) جنرل ضیاالحق (1988-1977) اور جنرل پرویز مشرف (2008-1999) مملکت کے مقتدراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ مجموعی حثیت سے ان چارفوجی ادوار کی مدت بتیس سال سے کچھ اوپر بنتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ملک کی باسٹھ سالہ تاریخ کے نصف سے زیادہ حصے میں فوج ہی اقتدار میں رہی ہے۔ پاکستان میں ریاست کے کردار اور سیاست کے بالادست اداروں کی نوعیت اور اثر و اہمیت کو پیش و نظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہی ہوتا کہ وہ ادوار جن میں فوج براہ راست اقتدار میں نہی تھی ان میں بھی امور مملکت اور حکومت کے قیام اور ان کی معزولی کے پیچھے فوج کا ایک کلیدی کردار رہا ہے۔”

 

پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا میں مسلح افواج اپنی سیاسی طاقت کو آئینی اور قانونی تحفظ دیتی ہیں۔ آئین میں ایسی ترامیم لانے کے لیے اپنے سولین ساتھیوں استمال کیا جاتا ہے جن کی بقا کا دارومدار فوج پر ہوتا ہے۔ گو ہر عہدے کے فوجی کو اقتدار میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ پھر بھی اعلیٰ ترین اور درمیانی عہدوں کے فوجی افسران اور فوجی برادری کے دوسرے ارکان ریاست پر قابض رہتے ہیں۔ قانونی اور آئینی ترامیم جو افواج کے اضافی کردار کی توثیق کرتی ہیں، کے ذریعے مسلح افواج اب پالیسی کا آلہ کار نہیں رہتی بلکہ مساوی شریک کار بن جاتی ہیں اور حکمران اشرفیہ کے دوسرے ارکان کے ساتھ اقتدار اور وسائل میں شریک ہو جاتی ہیں۔ یوں مسلح افواج حکمران طبقے میں مستقل طور پر شامل ہو جاتی ہیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ حکمران طبقات فوج کے ساتھ شراکت ہی سے اپنا اثرو رسوخ حاصل کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح فوج کا اپنے کردار کو بدلنا اس کی بدلتی ہوئی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ خود کو سیاست اور نظم و نسق کا مستقل حصہ سمجھننے لگتی ہے۔ اسی طرح عسکری پاکستان میں خاکی کمپنی نے اپنا انصاف کا ترازوں متعارف کروا رکھا ہے جس کی طاقت کا ثبوت حال ہی میں یوں مہیا کیا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا دیا ہے جب کہ سول سیاسی پاکستان سالہاسال سے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل کو مذہبی لاڈ پیار کے جھولے میں جھلا رہا ہے۔

 

عسکری امور کی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ اپنی کتاب “Arms procurement and Military Buildup” میں لکھتی ہیں، کہ افواج وقتاً فوقتاً براہ راست سیاسی اقتدار حاصل کرتی ہیں۔ ایسی افواج مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان خود کو ایک توزان پیدا کرنے والی والی قوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ وہ اپنی مداخلت کا خود ساختہ اخلاقی جواز یہ پیش کرتی ہیں کہ قوم کی ترقی اور استحقام کے لیے ان کی مداخلت ضروری ہے۔ اندرونی اور بیرونی طور پر مملکت کے تحفظ کے سلسلے میں سیاسی فریقین کی صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شہبات پھیلائے جاتے ہیں اور سویلین بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے افواج خود کو نگران مقرر کر لیتی ہیں اور متواتر مداخلت کا جواز پیدا کرتی رہتی ہیں۔

 

افواج وقتاً فوقتاً براہ راست سیاسی اقتدار حاصل کرتی ہیں۔ ایسی افواج مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان خود کو ایک توزان پیدا کرنے والی والی قوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ وو اپنی مداخلت کا خود ساختہ اخلاقی جواز یہ پیش کرتی ہیں کہ قوم کی ترقی اور استحقام کے لیے ان کی مداخلت ضروری ہے۔
اس قدر اثر و رسوخ کے باوجود فوج کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ پرل مٹر Perl Mutter نے کسی ریاست میں فوجی اقتدار طویل نہ ہونے کی کئی وجوہ بیان کی ہیں مثلاً :

 

ا: مجودہ سماجی ساخت کو تسلیم کرناب: بیرکوں میں واپس پر رضامندی

ج : فوج کی آزاد سیاسی تنظیم نہ ہونا

د: فوجی حکومت کی طوالت محدود ہونے کا تصور

ن: پریشر گروپ کے طور پر فوج کا کردار

م: سویلین انتقام کا خوف

ہ: پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کا خیال

 

درج بالا نکات میں تیسرا نکتہ یعنی فوج کی آزاد سیاسی تنظیم کا نہ ہونا خاصا اہم ہے۔
چوں کہ فوج کی پیشہ وارانہ تربیت بیرونی خطرات سے مقابلے کے لیے ہوتی ہے اس لیے اس کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی سیاسی جواز نہی ہوتا۔ سیاسی جواز کے فقدان کا احساس فوج کو پس منظر میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے مگر اس کی بااثر حیثیت برقرار رہتی ہے۔ چناچہ بار بار مداخلت کا اخلاقی جواز پیش کرنے کے باوجود فوج زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔ سول سوسائٹی منتشر تو ہوتی ہے مگر اتنی کمزور بھی نہیں ہوتی کہ مسلح افواج کی مطلق العنان حکومت کو مسلسل اقتدار کی اجازت دے دے۔
Categories
نان فکشن

سترہ روزہ جنگ

یہ اس سلسلے کا تیسرا مضمون ہے، اسے وطن کے سجیلے جوانو کاپہلا اور دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
کشمیر سیل اور آپریشن جبرالٹر
1964ء میں پاکستانی فوج میں ’کشمیر سیل‘ قائم کیا گیا۔ایوب خان نے اس سیل کی سربراہی میجر جنرل اختر حسین ملک کے سپرد کی۔جنرل اختر نے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے ایک خفیہ منصوبہ تشکیل دیا۔ مارچ 1965ء میں بھارت نے کشمیر کو اپنے وفاق کا باقاعدہ حصہ بنا لیا جس کے بعدمئی اور جون 1965 میں پاکستانی فوج کی 19 بلوچ رجمنٹ سے خصوصی انسٹرکٹر آزاد کشمیر بھیجے گئے۔ ان انسٹرکٹرزنے دس سے بیس ہزار کشمیری رضاکاروں کو عسکری تربیت دی ۔ اس ’جبرالٹر فورس‘ کی ذمہ داری کشمیر یوں کو بغاوت پر اکسانا اور ایک عارضی انقلابی حکومت کا قیام تھا۔ پاکستان پالیسی سازوں کے مطابق اس موقعے پر کشمیری مسلمانوں کو بھارتی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانا آسان تھا۔ 24 جولائی 1965ء کو پاکستانی کمانڈوز کی سربراہی میں رضا کاروں نے کشمیر کی سرحد پار کرنی شروع کی۔ رضاکاروں کو طارق، غزنوی،صلاح الدین، قاسم اور خالد نامی یونٹس میں تقسیم کیا گیا تھا۔
منصوبے کے مطابق ان رضا کاروں نے 8 اگست کو پیر دستگیر صاحب کے عرس میں شریک ہونا تھا اور اگلے روز شیخ عبداللہ کی گرفتاری کے خلاف کشمیری رہنماؤں کی منعقد کردہ احتجاجی ریلی کا حصہ بننا تھا۔ اس ریلی کی آڑ میں انہوں نے ہوائی اڈے اور ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کرنا تھا اور اس موقعے پر ’نصرت‘ نامی یونٹ نے بھارتی افواج کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا تھا۔ان ’مجاہدین‘ کی حمایت کیلئے راولپنڈی میں ایک ’انقلابی کشمیری حکومت‘ قائم کی گئی اور ایک ’آزاد کشمیر ریڈیو‘ بھی شروع ہوا۔ اس منصوبے کی خبر صرف چند جرنیلوں اور اعلیٰ حکومتی ارکان کو تھی اور کشمیری رہنما ؤں سمیت پاکستانی فوج کے فارمیشن کمانڈر اس منصوبے سے بے خبر تھے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل موسیٰ اور چیف آف جنرل سٹاف، جنرل شیر بہادر اس منصوبے کو جنرل اختر ملک اور ذوالفقار بھٹو کی ناجائز اولاد قرار دیتے تھے۔ رضاکاروں کی قیادت کرنے والے کمانڈو کشمیر زبان بولنا تک نہیں جانتے تھے۔
بھارت نے پاکستان کی جانب سے جارحانہ کارروائی کی صورت میں جوابی حملے کا منصوبہ سنہ 1949ء سے تشکیل دے رکھا تھا اور اس منصوبے کو اس وقت کی بھارتی کابینہ نے بھی منظور کیا تھا۔
رضاکاران کسی قسم کی بغاوت برپا کرنے میں ناکام رہے، بلکہ اُلٹا کشمیری شہریوں نے اِس کارروائی کی خبر بھارتی حکومت کو دے دی۔کشمیر میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا اور جبرالٹر میں شریک زیادہ تر رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی فوج نے دو ہفتے کے اندر حاجی پیر پاس (جہاں سے پاکستانی رضاکار سرحد پار کر چکے تھے) پر پوزیشن سنبھال لی۔7 اگست کو پاکستانی فوج کے دستوں نے کارگل چوٹی پر قبضہ کر لیا جسے کچھ دن بعد بھارتی فوج نے شدید لڑائی کے بعد re-claim کر لیا۔ ا س صورت حال کے پیش نظر جنرل اختر نے آپریشن گرینڈ سلیم (Operation Grand slam) کے آغاز کی اجازت طلب کی، جو حاصل کرتے ہوئے ایک ہفتہ لگ گیا کیونکہ صدر ایوب خان سوات میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ ایوب نے اجازت نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کا مورال صحیح وقت پر لگائی گئی ضربیں نہیں سہہ سکے گا۔
65 کی جنگ؛ چند تلخ حقائق
میجر جنرل اختر ملک کی قیادت میں نوے پیٹن ٹینک اکھنور پر قبضے کیلئے روانہ کئے گئے۔ اس کارروائی کے دوران حیران کن طور پر میجر جنرل اختر کی جگہ میجر جنرل یحییٰ کو کمان سونپ دی گئی اور اس تاخیر کا فائدہ اٹھا کر بھارتی افواج نے اکھنور کا دفاع مضبوط کر لیا۔ جوابی کارروائی کے طور پر بھارتی فوج کی جانب سے Operation Riddle شروع کیا گیا جسکے مطابق لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کیا گیا۔آپریشن جبرالٹر کے منصوبہ سازوں نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سرحد پر حملے کا تصور ہی نہیں کیا تھا۔بھارت نے پاکستان کی جانب سے جارحانہ کارروائی کی صورت میں جوابی حملے کا منصوبہ سنہ 1949ء سے تشکیل دے رکھا تھا اور اس منصوبے کو اس وقت کی بھارتی کابینہ نے بھی منظور کیا تھا۔پاکستانی فوج اس جوابی حملے کیلئے تیار نہیں تھی اور ہنگامی حالت میں قصور کی جانب سے امرتسر پر حملہ شروع کیا گیا۔اس حملے میں پیٹن ٹینک استعمال ہوئے لیکن بھارتی فوج نے نہری پانی کا رخ موڑ کر ٹینکوں کو بے اثر کر دیا اور کھیم کرن کے اس معرکے میں چالیس سے زائد پاکستانی ٹینک ناکارہ بنا دیے گئے۔کھیم کرن کے محاذ پر دو پاکستانی رجمنٹیں دو مرتبہ فاتحانہ پوزیشن سے واپس بلائی گئیں اور اس دوران بھارتی دفاع مضبوط کیا جا چکا تھا۔سیالکوٹ محاذ پر پاکستانی انٹیلی جنس کا حال یہ تھا کہ اعلیٰ افسران کو بھارتی حملے کے درست مقام (Exact Location) کابھی علم نہیں تھا۔ موقعے پر موجود افسران کو جنرل ہیڈ کوارٹر GHQ کی جانب سے افرا تفری کے عالم میں غلط ملط پیغامات اور معلومات موصول ہو رہے تھے۔
بارود ختم ہو گیا
اس جنگ کے دوران فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے کشمیر سیل کا منصوبہ سنتے ہی استعفیٰ دینے کا ارادہ کیا لیکن ان کو اس عمل سے روکا گیا۔ ان کے مطابق جنگ کا یہ منصوبہ صرف چند جرنیلوں کے علم میں تھا اور اس منصوبے میں بھارت کی جانب سے جوابی کارروائی کا خدشے کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ جنگ کے چوتھے روز جنرل موسیٰ نے ایوب خان کو مطلع کیا کہ فوج کے پاس بارود ختم ہو چکا ہے۔ اس دوران امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے امداد بند کرنے کا اعلان کیا جا چکا تھا اور ایوب خان نے اس لڑائی کو ختم کروانے کی کوشش شروع کر دی۔ پاک فضائیہ کے پاس صر ف دو ہفتے کا ایندھن موجود تھا جبکہ بہت سے پیدل دستوں کے پاس ہیلمٹ تک نہیں تھے۔ ایک فوجی بٹالین کو سامان کی ترسیل کیلئے اونٹ استعمال کرنے پڑے۔جنگ کے دوران پاکستانی صدر اور وزیر خارجہ چین کے خفیہ دورے پر روانہ ہوئے جہاں انہیں پہاڑوں پر ٹھکانہ بنا کر گوریلا جنگ لڑنے کی تلقین سننے کو ملی۔ جنگ میں پاک فضائیہ اور بحریہ کی شاندار کارکردگی کے باعث پاک فوج صریح شکست کا شکار ہونے سے بچ گئی۔ بالآخر 23 ستمبر کو جنگ بندی کا اعلان ہوا، اس جنگ کے دوران فریقین کے ایک ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور دونوں جانب فتح کا دعویٰ کیا گیا۔
بریگیڈیئر عبدالرحمان صدیقی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ 60ء کی دہائی میں چھاؤنی کی لائبریریوں میں انگریزمصنفین کی کتابیں کم اور نسیم حجازی جیسے تاریخی فکشن نگاروں کی کتابیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔
جب تاریخ مسخ کی گئی
بریگیڈیئر عبدالرحمان صدیقی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ 60ء کی دہائی میں چھاؤنی کی لائبریریوں میں انگریزمصنفین کی کتابیں کم اور نسیم حجازی جیسے تاریخی فکشن نگاروں کی کتابیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کسی اعلیٰ درجے کے فوجی دماغ کی بجائے نسیم حجازی سے متاثر شدہ افسران کی حرکت لگتی تھی۔ منصوبہ بندی، حکمت عملی (Strategy) اور عملی کارکردگی(Execution) کے پیمانے پر آپریشن جبرالٹر اور ستمبر 1965ء کی جنگ ایک صریح ناکامی تھی، پاکستانی فوجی صرف پروپیگنڈے کے میدان میں کامیاب ہوئی۔جنگی ترانوں اور چنگھاڑتی اخباری سرخیوں نے قوم کو آخری وقت تک دھوکے میں رکھا، کئی معروف شعراء اور دانشور وں نے فوج کی قصیدہ گوئی جاری رکھی۔ سبط حسن نے فیض صاحب پر لکھی کتاب ’سخن در سخن‘ میں کہا: ’ایسی لغو اور مہمل جنگ کی رجز خوانی وہی شخص کر سکتا تھا جس نے اپنی عقل وفہم کو احمقوں کے حوالے کر دیا ہو۔ اس نام نہاد سترہ روزہ جنگ کے زمانے کا لٹریچر یکجا کر کے اگر خود ان ادیبوں، دانش وروں کے سامنے رکھ دیا جائے جو اس لٹریچر کے خالق تھے تو اُن کی گردنیں بھی شرم سے جھک جائیں مگر اس وقت تو اہلِ خرد پر دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ کوئی سنجیدگی سے سوچنے یا گفتگو کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ مفاد پرست اخبار گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے تھے اور فیض صاحب سے حُب الوطنی کا دستاویزی ثبوت طلب کیا جا رہا تھا۔‘
’جون 1964 ء کے بعد سے انٹیلی جنس ایجنسیاں انتخابی مہم کے دوران سیاسی راہنماؤں کی سرگرمیوں کی جاسوسی کرنے پر مامور ہیں، انکے لیے بھارتی فوج کی نقل وحرکت کی اطلاع رکھنا مشکل ہے‘۔
’بزدل،مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں ہم پر حملہ کر دیا‘ جیسے جملے ہر دوسرے اخباری کالم اور نصابی کتاب میں موجود ہیں لیکن آپریشن جبرالٹر کا ذکر بھولے سے بھی کسی سرکاری دستاویز میں نہیں ملتا۔ چونڈہ کی جنگ کے کارنامے زبان زدِ عام ہیں لیکن کھیم کھرن میں پاکستانی ٹینکوں کی المناک ناکامی کی جانب کوئی اشارہ موجود نہیں۔ پاک فضائیہ اور جونیئر افسران کی ثابت قدمی کی عدم موجودگی میں پاکستانی فوج کشمیر آزاد کرانے کے چکر میں لاہور اور سیالکوٹ گنوا بیٹھتی۔ انٹیلی جنس کی ناکامی پر ایوب خان نے ISI کے سربراہ سے 7 ستمبر کو جواب طلبی کی تو بتایا گیا کہ ’جون 1964 ء کے بعد سے انٹیلی جنس ایجنسیاں انتخابی مہم کے دوران سیاسی راہنماؤں کی سرگرمیوں کی جاسوسی کرنے پر مامور ہیں، انکے لیے بھارتی فوج کی نقل وحرکت کی اطلاع رکھنا مشکل ہے‘۔
معجزوں کی دریافت
چند غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تو سادہ کپڑوں میں ملبوس چند بھارتی افسران اصل میں لاہو ر جم خانہ پہنچ بھی چکے تھے اور ہماری دلیر افواج کو خبر تک نہیں تھی۔ وطن کی حفاظت کی خاطر جنگ کو بلا وجہ مذہبی رنگ دیا گیا، اور اس وجہ سے ہر تیسرے بندے کو کوئی غیر مرئی مخلوق پاکستان کی حفاظت کرتی نظر آئی(لاہور میں لوگوں نے داتا صاحب کو بھارتی فضائیہ کے حملے روکتے دیکھا تو سیالکوٹ میں عینی شاہدین کے مطابق امام علی الحق صاحب بھارتی توپوں کے گولے واپس پھینکتے رہے)۔بریگیڈیئر گلزار کی اس جنگ کے بعد لکھی گئی کتاب کے مطابق: ’اس جنگ میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ہمیں اسلام کے اولین ایام کی یاد تازہ کروا دی، جب جنگ بدر اور جنگ احد کے دوران لازوال قربانیاں دی گئی تھیں‘۔
سرکاری قصیدہ نویس الطاف گوہر نے جنگ کے بعد مختلف یونٹس کا دورہ کیا اور لکھا: ’مجھے ان دلیر مجاہدوں کی آنکھوں میں ایمان کی جھلک نظر آتی ہے‘۔ کرنل زیڈ اے سلہری نے ڈان اخبار میں لکھا: پاکستانی فوج کو صرف ایک جذبے نے آخری دم تک دشمن سے برسرپیکار رکھا اور اس جذبے کا نام اسلام ہے۔ ان قصے کہانیوں سے تنگ آ کر بریگیڈیئر قیوم شیر نے عبدالرحمان صدیقی کو بتایا: معجزے روز روز رونما نہیں ہوتے، یہ قصیدہ نویس ہماری فوج کے دماغ خراب کر رہے ہیں، کہ پاکستانی فوج غیر مرئی بزرگوں کی مدد سے ہی کسی کو شکست دے سکتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ قسمت نتیجے پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن یہ مت بھولیں کہ بھارتی فوجی بھی اتنے ہی پرجوش اور پیشہ ور ہیں جتنے پاکستانی فوجی۔ ہمیں برتری صرف اس لئے حاصل ہوئی کیونکہ ہم اپنی دھرتی پر لڑ رہے تھے۔
مشرقی پاکستان تنہا تھا
اس جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا تھا اور بھارت نے چینی رد عمل کے خوف سے مشرقی محاذ پر پیش قدمی نہ کی۔ اس سوتیلے پن کے باعث مشرقی پاکستان میں بے اعتنائی کے جذبات پیدا ہوئے۔ مرکزی حکومت کے مطابق مشرق کا دفاع مغرب کے ذریعے کیا جانا تھا، یعنی بھارت کو مغربی محاذ پر اتنا مصروف کر لیا جائے کہ وہ مشرقی محاذ کھولنے سے پرہیز کرے۔ یہ حکمت عملی بھی مجنوں کے خواب سے زیادہ قابل عمل نہیں تھی اور ستمبر 1965ء کے معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے لیے مغربی محاذ کی حفاظت بھی مشکل ہےیہی وجہ ہے کہ مشرقی حصے کی حفاظت عملی طور پر ناممکن تھی۔ اس جنگ کی باقاعدہ رپورٹ جنرل اختر ملک سے لکھوائی گئی جو آج تک جی ایچ کیو کے کسی تہہ خانے میں پڑی گل سڑ رہی ہے۔
(جاری ہے)

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

  1. A History of the Pakistan Army: Wars and Insurrections. Brian Cloughley
  2. Pakistan meets Indian Challenge. Gulzar Ahmed
  3. Jawan to General: Recollections of a Pakistani Soldier. Muhammad Musa
  4. The Military in Pakistan:Image and Reality, Brig (Rtd) A.R. Siddiqui
  5. Sukhan dar Sukhan, Sibte Hasan
  6. Crossed Swords: Pakistan, its army, and the wars within. Shuja Nawaz
  7. Rethinking the National Security of Pakistan: The Price of Strategic
    Myopia, Ahmed Faruqui
  8. Pakistan’s Drift Into Extremism. Hassan Abbas
Categories
نان فکشن

پنڈی سازش سے رن کچھ تک

اے وطن کے سجیلے جوانو کا پہلہ حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے۔

 

مارچ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس منظر عام پر آیا۔ فوجی بغاوت کے ذریعہ قتدار پر قبضہ کا منصوبہ تو اصل میں جہاد اور کشمیر کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجانے والے میجر جنرل اکبر خان کا تھا لیکن مقدمہ کی کاروائی کے دوران ملبہ کمیونسٹ پارٹی پر ڈال دیا گیا ( کیونکہ اس دور میں پاکستان کو ایک عالمی پالن ہار کی تلاش تھی اور امریکہ کو رام کرنے کیلئے کمیونزم کا ہوّا استعمال کرنا آسان تھا )۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اکبرخان کا منصوبہ کامیاب بھی ہو جاتا تو پرولتاریہ کی حکومت قائم ہونے کا کوئی امکان موجود نہ تھا اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی اس منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے چکی تھی۔ سازش کے حوالےسے دستیاب مواد کے مطابق ملک سے کرپشن کا خاتمہ عبوری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل تھا۔
سازش کے ابتدائی خدوخال
جنرل اکبر خان کے منصوبے کے تحت تمام اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کو گرفتار کر کے اقتدار ایک فوجی کونسل کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔نومبر 1949ء میں اکبر خان کی تعیناتی کوہاٹ میں تھی ۔ دسمبر کے پہلے ہفتے میں اٹک کے مقام پر اکبرخان اور ان کے ساتھیوں کے درمیان ملاقات میں یہ طے ہوا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دسمبر میں پشاور کے سرکاری دورے کے دوران گرفتار کر لیا جائے ۔گرفتاری کے بعدلیاقت علی خان سے ریڈیو پر اعلان کروایا جانا تھا کہ انہوں نے ہنگامی حالات کی وجہ سے استعفیٰ دے کر حکومت فوجی کونسل کے سپرد کر دی ہے۔وزیر اعظم کی گرفتاری کے بعد جی ایچ کیو سے کمانڈر انچیف، چیف آف سٹاف، تمام برطانوی افسران اور جنرل رضا کو گرفتار کر نے کے ساتھ تمام کور کمانڈروں کو راولپنڈی بلا کر گرفتار کر نا بھی منصوبے کا حصہ تھا۔اسی دوران لاہور سے گرنرجنرل کو گرفتال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سازش کے مطابق میجر جنرل نظیر احمد کو نیا کمانڈر انچیف مقرر کیا جانا تھا جبکہ فوجی کونسل میں بریگیڈیئر اکبر خان، برگیڈیئر صادق، برگیڈیئر لطیف، برگیڈئیر حبیب اللہ، ایئر کموڈور جنجوعہ اور لفٹیننٹ کرنل صدیق راجہ نے شامل ہونا تھا۔ ملٹری کونسل نے اقتدار سنبھالنے کے چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانے تھے۔ اکبر خان کے مطابق اس عمل کے محرکات ملک کی ابتر معاشی صورت حال، کشمیر کے معاملے پر حکومت کی کمزوری اور اندرونی وبیرونی حالات میں حکومت کی نااہلی شامل تھے۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم نے صوبہ سرحد کا دورہ کیا لیکن یہ منصوبہ برگیڈیئر حبیب اللہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
“حکومت کو جنگ کی الف-ب کا بھی علم نہیں”
انہی دنوں اکبر خان کو حکومت کی جانب سے کورس کیلئے برطانیہ بھیجا گیا اور واپسی پر چیف آف جنرل سٹاف بنا دیا گیا۔ اس دوران سازش کے باقی ارکان نے آپس میں رابطہ برقرار رکھا اور مزید افسران کو اس منصوبے کا حصہ بنایا۔ اکبر خان نے کئی ماہ منصوبے کی نوک پلک سنوارنے میں فروری 1951ء میں پنجاب رجمنٹ کے ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل اکبر خان نے کہا کہ موجودہ سیاسی حکومت کو جنگ کی الف بے کا بھی علم نہیں، کشمیر کی جنگ ہندو بنیئے کے خلاف تھی، اس میں اقوام متحدہ کو شریک کرنا غلط تھا۔ گزارے اور کچھ سویلین افراد کو بھی اس سازش سے آگاہ کیا۔
فروری 1951ء میں پنجاب رجمنٹ کے ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل اکبر خان نے کہا کہ موجودہ سیاسی حکومت کو جنگ کی الف بے کا بھی علم نہیں، کشمیر کی جنگ ہندو بنیئے کے خلاف تھی، اس میں اقوام متحدہ کو شریک کرنا غلط تھا۔
تقریر کے اختتام پر اکبر خان نے وہاں موجود افسران سے پوچھا کہ آیا وہ کشمیر کیلئے لڑنا چاہتے ہیں تو تمام افسران نے یک زبان ہو کر اثبات میں جواب دیا۔ 23 فروری 1951ء کو راولپنڈی میں اکبر خان کے گھر منصوبے کے بنیادی ارکان کا اجلاس ہوا۔ اتفاق سے اس روز جی ایچ کیو میں کسی ضروری امر پر اعلیٰ افسران کی میٹنگ ہونی تھی جس میں اکبر خان نے اپنی جگہ برگیڈیئر حبیب اللہ کو بھیج دیا۔ اس ملاقات سے کچھ روز قبل میجر یوسف سیٹھی اور اکبر خان نے سہالہ کیمپ کا دورہ کیا کیونکہ سازش منصوبے کے مطابق گرفتار شدہ افسران کو وہاں رہائش مہیا کی جانی تھی۔ اکبر خان نے کیمپ کی حالت کا مخدوش قرار دیا اور خیال ظاہر کیا کہ اسیران کو کمانڈر انچیف کی رہائش گاہ اور راولپنڈی سرکٹ ہاؤس میں رکھا جائے گا۔
23 فروری کی ملاقات
23 فروری کی ملاقات میں فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، محمد حسین عطا، کیپٹن خضر حیات، یوسف سیٹھی، میجر حسن گل، کیپٹن ظفراللہ پوشنی، لفٹیننٹ کرنل ضیاء الدین، صدیق راجہ اور کرنل ارباب شریک تھے۔ صبح کے ساڑھے دس بجے اکبر خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ وہ برما اور شام میں برپا ہونے والی فوجی بغاوتوں سے متاثر ہے اور اسکے خیال میں حکومت پاکستان نااہل اور کرپٹ ہے۔ تازہ منصوبے کے مطابق تین اور چار مارچ کی درمیانی رات کو وزیر اعظم نے راولپنڈی میں صوبائی انتخابات کے سلسلے میں قیام کرنا تھا، اسی رات وزیر اعظم،کمانڈر انچیف، میجر جنرل حیات الدین(کور کمانڈر 7 ڈویژن)، برگیڈیئر الطاف قادر (مقامی برگیڈ کمانڈر)، چیف آف سٹاف جنرل مکے اور دیگر سول وفوجی اہلکاران کو گرفتار کیا جانا تھا۔ تمام کور کمانڈروں کو فی الفور جی ایچ کیو طلب کیا جانا تھا اور انکو گرفتار کرنا مقصود تھا۔ اس دوران محمد حسین عطا کی زیر نگرانی ہزارہ ڈویژن میں موجود پانچ سو کمیونسٹ گوریلوں کو اسلحہ مہیا کرنا تھا تاکہ راولپنڈی میں واقعات پر قابو نہ پایا جا سکے تو گوریلا جنگ کا آغاز کیا جائے۔ کراچی میں ائر کموڈور جنجوعہ کے ذمے گورنر جنرل، وفاقی اور مقامی وزراء، گورنر سندھ اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی گرفتاری کا کام لگایا گیا۔ اسکے بعد وزیر اعظم نے پہلے سے لکھی تقریر ریڈیو پر قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کرنی تھی۔ تقریر کے متن میں یہ بات شامل تھی کہ ہنگامی حالات کے نتیجے میں فوجی کونسل حکومت سنبھال رہی ہے اور میں اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہو رہا ہوں، قوم اس نئی فوجی حکومت کے احکام پر عمل درآمد کرے۔
فیض صاحب نے اکبر خان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام موجودہ سیاسی حکومت سے بیزار ہیں اور فوجی حکومت کی پیروی کریں گے۔ سجاد ظہیر نے مشورہ دیا کہ ’انقلاب‘ کے بعد ملک کی دولت اور وسیع جائیدادیں برابری کے اصول پر تقسیم کی جائیں۔
فیض صاحب نے اکبر خان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام موجودہ سیاسی حکومت سے بیزار ہیں اور فوجی حکومت کی پیروی کریں گے۔ سجاد ظہیر نے مشورہ دیا کہ ’انقلاب‘ کے بعد ملک کی دولت اور وسیع جائیدادیں برابری کے اصول پر تقسیم کی جائیں۔ صدیق راجہ نے اس منصوبے سے اختلاف کیا اور کہا کہ اس سازش میں مشرقی پاکستان کے رد عمل کو فراموش کر دیا گیا ہے، جسکے باعث یہ منصوبہ قابل عمل نہیں۔
بونا پارٹ افسران
جنرل اکبر خان کے اس منصوبہ کا انکشاف ان کے ایک قریبی دوست اور صوبہ سرحد موجودہ ( خیبر پختونخواہ ) میں سی آئی ڈی کے انسپکٹرعسکر علی نے کیا، جس کے نتیجہ میں عملدرآمد سے قبل ہی جنرل اکبر خان، فیض احمد فیض ، بیگم نسیم ولی سمیت دیگر منصوبہ سازوں کو گرفتار کر لیاگیا۔راولپنڈی سازش کیس کے پیچھے عسکری قیادت میں سیاست دانوں کی صلاحیت اور اہلیت پر عدم اعتماد کا رویہ کارفرما تھا۔کشمیر کی جنگ کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی اور شائد آخری دفعہ سیاسی قیادت جنگی فیصلے کرنے کی مختار رہی تھی، لیکن بعدازاںفوج نے یہ اختیار ہمیشہ کیلئے ہتھیا لیا۔ اس سازش میں ملوث تمام اعلیٰ افسران کشمیر آپریشن کا حصہ رہ چکے تھے جو کشمیر کی جنگ پر سیاسی حکومت کے فیصلوں سے ناخوش تھے۔
ایوب خان نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ اس سازش کے پیچھے پاکستانی افسران کی جلد سے جلد ترقی کی خواہش تھی۔ ان کے مطابق ہر بریگیڈئریا جنرل فوری طور پر کمانڈر انچیف بننا چاہتا تھا۔ ایوب خان نے ایسے افسران کو ’بوناپارٹ‘ قرار دیا(جنرل شیر علی خان نے ایک برطانوی مصور سے اپنی تصویر نپولین بونا پارٹ کی طرز پر بنوائی تھی)۔
احمدی مخالف فسادات اور لاہور مارشل لاء
مارچ1953ء میں شہر لاہور میں احمدی مخالف فسادات پر قابو پانے کیلئے محدود پیمانے پر مارشل لاء نافذ کیا گیا۔ جنرل اعظم خان کے زیر قیادت فوجی دستوں نے کچھ ہی دن میں امن وامان کی صورت حال پر قابو پا لیا اور اسکے بعد “صفائی ستھرائی” کی مہم شروع کر دی۔ جنرل اعظم نے مقامی اخبارات کو سنسر کرنا شروع کیا اور ایک موقعے پر کالج ویونیورسٹی اساتذہ سے خطاب کیا اور تعلیمی نظام کی کمزوریوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سترّ روز جاری رہنے والے مارشل لاء کے دوران اعظم خان نے کسی برطانوی وائسرائے کی طرح عوام پر حکومت کی اور اپنی دھاک بٹھائی۔ اکتوبر 1954ء میں برطانیہ کے دورے کے دوران ایوب خان نے ملک کی تقدیر کا ایک خاکہ تیار کیا جسکے مطابق مشرقی اور مغربی پاکستان کو وفاق کے دو یونٹ بنانے کا منصوبہ موجود تھا۔ اسکے علاوہ ایوب خان چاہتا تھا کہ ملک کی افواج ایک سپریم کمانڈر کے زیر قیادت ہوں او ر وہ کمانڈر بیک وقت وزیر دفاع کا عہدہ بھی رکھتا ہو۔ واشنگٹن میں پاکستان کے پہلے ملٹری اتاشی، برگیڈئر غلام جیلانی کو ایوب خان نے جو ہدایت نامہ لکھا اس میں یہ الفاظ شامل تھے: قومی سلامتی کے اہم معاملات کو ہم اِن سویلینز کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
امریکی امداد اور افواج کی تنظیم نو
ایوب خان نے امریکی اخبار فارن افیئرز میں لکھا کہ یہ انقلاب جمہوری نظام کے خلاف نہیں بلکہ نظام کو غلط انداز میں چلانے والوں کے خلاف تھا۔
سنہ 1954ء میں وزارت دفاع کا قلم دان ایوب خان کے سپرد کیا گیا۔اسی برس پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مشترکہ دفاع کا معاہدہ اور بعدازاں سیٹو (SEATO) کے معاہدے پر دستخط کیے۔امریکہ کو کمیونزم کا ڈراوا دے کر پاکستان نے بھارت سے نبٹنے کی غرض سے جدید ہتھیار حاصل کیے۔امریکی حکام کو پاکستانی افواج کی بہادری اور نظم وضبط کے سبز باغ دکھا کر کروڑوں ڈالرکےعوض کے ہتھیاروں کا مطالبہ کیا گیا۔ فوجی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ امریکیوں کے سامنے بھارت کا نام بھی نہ لیا جائےتا کہ ہتھیار حاصل کرنے کی اصل وجہ کہیں ان پر عیاں نہ ہو جائے۔امریکہ کی جانب سے ابتدائی امداد تین کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کی شکل میں پاکستان آئی تو فوج کی جانب سے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا گیا۔ بعدازاں امریکہ کی جانب سے پاکستانی فوج کے پانچ نئے ڈویژن قائم کرنے اور انکی تربیت کرنے کیلئے سترہ (17) کروڑ امریکی ڈالر نوازے گئے۔فوجی امداد کے علاوہ 1954-59 کے دوران پاکستان کو امریکہ سے پچاسی(85) کروڑ ڈالر معاشی امداد کے طور پر بھی ملے۔فوجی امداد کی بدولت پچیس ہزار فوجیوں کیلئے رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں اور کھاریاں کے علاوہ جہلم میں چھاؤنیاں بنائی گئیں، فضائیہ کے چھے نئے سکواڈرن تشکیل دیے گئے اور پاک بحریہ نے بارہ نئے جہاز حاصل کیے۔
مارشل لاء سے رن کچھ تک
27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کا تختہ الٹا اور اس دن کو یوم انقلاب کا نام بعدازاں ایوب خان نے امریکی اخبار فارن افیئرز میں لکھا کہ یہ انقلاب جمہوری نظام کے خلاف نہیں بلکہ نظام کو غلط انداز میں چلانے والوں کے خلاف تھا۔ انقلاب سے قبل ایوب خان نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان جیسے گرم ممالک کیلئے جمہوریت موزوں نظام نہیں (راولپنڈی سازش کیس والے جنرل اکبر خان کا بھی کم وبیش یہی موقف تھا)۔مارشل لاء کے بعد ایوب نے تحریک پاکستان کے کارکنان اور چوٹی کے سیاست دانوں کو بدنام زمانہ قانون ایبڈو(EBDO) کے ذریعے نااہل قرار دیا۔ اس قانون کی زد میں آنے والوں میں حسین شہید سہروردی، خواجہ ناظم الدین، آئی آئی چندریگر، فیروز خان نون، عبدالقیوم خان، میاں ممتاز دولتانہ، ایوب کھوڑو، پیر الہیٰ بخش، جی ایم سید اور قاضی عیسیٰ شامل تھے۔ سیاست دانوں کو منظر عام سے ہٹانے اور انکو ہر برائی کی جڑ قرار دینے کی روایت یہیں سے شروع ہوئی۔
ایوب دور میں ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹیاں بننی شروع ہوئیں اور زرعی اصلاحات (Land Reforms) کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ ایکڑ زمین فوج کے قبضے میں چلی گئی۔
اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ایوب خان نے فوج کا نیا سربراہ چننے کا ارادہ کیا تو ذوالفقار علی بھٹو کے مشورے پر اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کا خطاب بھی دے ڈالا، حالانکہ ایوب نے اپنے ملک کے علاوہ کچھ فتح نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی جنگ جیتی۔ایوب خان نے امریکہ سے تعاون کا سلسلہ جاری رکھا اور سنہ 1961-62 میں پاکستان کے لئے پچاس کروڑ ڈالر امریکی امداد حاصل کی۔ ایوب دور میں ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹیاں بننی شروع ہوئیں اور زرعی اصلاحات (Land Reforms) کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ ایکڑ زمین فوج کے قبضے میں چلی گئی۔ستمبر 1962ء میں بھارت اور چین کے مابین سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں چینی افواج بھارتی حدود میں آسانی سے داخل ہو گئیں اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس تنازعے کے بعد امریکہ نے بھارت کو دی جانے والی فوجی امداد میں اضافہ کر دیا۔
اپریل 1965ء میں پاک بھارت سرحد پر موجود رن کچھ کے مقام پر پاکستانی فوج نے بھارتی دستوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔سندھ اور راجھستان کی سرحد پر رن کچھ، ریتلے ٹیلوں اور دلدلوں پر مشتمل علاقہ ہے۔یہ جگہ ماضی میں بحیرہ عرب کا حصہ تھی۔ اس علاقے میں کنجرکوٹ نامی قلعہ موجود تھا اور بھارتی افواج کے مطابق یہ قلعہ بھارتی علاقے میں شامل تھا جبکہ پاکستانی فوج کا بھی اس جگہ پر دعویٰ تھا۔دفاعی ماہرین کے مطابق کچ کے دلدلی علاقے کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی لہٰذا بھارتی فوج نے اس موقعے پر جارحیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔پاکستانی فوج اس ’فتح‘ کی بنا پر خوشی سے پھولے نہ سمائی۔محدود جھڑپوں کے بعد برطانوی وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے تصفیہ کرنے پر زور دیا اور ایک تصفیہ کمیشن قائم کیا گیا۔
(جاری ہے)

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

کتابیات
اس مضمون کی تیاری کے دوران درج ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے:
  1. The Rawalpindi Conspiracy 1951, Hassan Zaheer
  2. Image of Military in Pakistan, Brig (Rtd) A.R. Siddiqui
  3. Crossed Swords: Pakistan, its army, and the wars within, Shuja Nawaz
  4. Magnificent Delusions, Hussain Haqqani
  5. Chah-e-Yousaf se Sada, Yousaf Raza Gilani
  6. Rethinking the National Security of Pakistan: The Price of Strategic Myopia, Ahmed Faruqui
  7. Pakistan’s Drift Into Extremism. Hassan Abbas
  8. Friends not Masters, Ayub Khan
Categories
نان فکشن

!اے وطن کے سجیلے جوانو

[blockquote style=”3″]

پہلی جنگ عظیم کے دوران فرانس کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’جنگ جیسے اہم معاملے کو فوجی جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘ اس لئے فوج اور فوجی جرنیلوں کی استعداد کار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جاناضروری ہے۔لیکن فوج کو ہمارے معاشرے میں جو مقام حاصل ہے، اس کے پیش نظر فوجی افسران، خاص طور پر اعلیٰ افسران کی ذہنیت (اور ذہنی استعداد) کے متعلق اردو ذرائع ابلاغ میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور اسکی اعلیٰ کمان کی جنگی صلاحیتوں اور منصوبہ بندی پر اک نظر ڈالنے کی خاطر یہ سلسلہ مضامین پیش خدمت ہے۔ ان مضامین کی تیاری میں پاکستان کی تشکیل سے اب تک کے مختلف پاکستانی جرنیلوں اکبر خان، ایوب خان،فضل مقیم خان، موسیٰ خان،امیر عبداللہ خان نیازی، شیر علی خان پٹودی، اصغر خان، گل حسن، عبدالرحمان صدیقی، پرویز مشرف اور شاہدعزیز کی سوانح سے مدد لی گئی ہے۔

[/blockquote]

 

جون 1947ء کے اعلان تقسیم ہند کے مطابق مسلمان فوجیوں کو پاکستان جبکہ غیر مسلم افواج کو ہندوستان کی کمان میں دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔پاکستان کے حصے میں تینتیس(33) جبکہ بھارت کے حصے میں اٹھاسی(88) فوجی بٹالین آئے
بیسویں صدی میں دنیا بھر میں نئے ممالک جغرافیائی سرحدوں کی بنیاد پر تشکیل پائے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ان جغرافیائی حدود کا تحفظ ٹھہری۔ ایٹم بم کی ایجاد کے بعد جنگ عظیم اول کی طرز پہ خندقوں میں جنگ یا جنگ عظیم دوم میں وقوع پانے والی ٹینکوں کی جنگیں کافی حد تک متروک ہو گئیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جنگی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد تاج برطانیہ اپنی سابقہ نو آبادیوں کو خیر باد کہنے لگا اور برما، سری لنکا کے بعد برصغیر کی باری آئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی وساطت سے برصغیر میں داخلے اور 1857ء کی جنگ کے بعد تاج برطانیہ نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا کے طور پر استعمال کیا۔ ہندوستان کے شمالی اضلاع (موجودہ پنجاب، خیبر پختونخواہ) اور ہمالیہ کی آغوش میں واقع علاقے(موجودہ نیپال) سے انگریز فوج کو انگنت سپاہی حاصل ہوئے اور یہ سلسلہ 1857ء کی جنگ کے بعد بڑھایا گیا کیونکہ پنجابی اور پٹھان فوجی دستوں نے باغیوں سے نپٹنے میں اپنی شجاعت اور وفا داری ثابت کی تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں ہندوستانی دستوں کو پہلے افریقہ کے محاذ پر بھیجا گیا اور بعدازا ں یورپ کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا۔ حال ہی میں ہندوستانی فوجیوں کے فرانس کے محاذ سے مکتوب منظر عام پر آئے ہیں اور ان خطوط سے ہندوستانی فوجیوں کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس جنگ میں تیرہ لاکھ ہندوستانی فوجیوں نے حصہ لیا جن میں سے چوہتر(74) ہزار سپاہی مارے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کے آغاز سے دو سال قبل ہندوستانیوں کو مقامی افواج کا افسر بننے کی اجازت دی گئی اور ڈیرہ دھون میں واقع فوجی تربیت گاہ سے چنیدہ افراد کو مزید تربیت کیلئے انگلستان میں سینڈ ہرسٹ (Sand Hurst) بھیجا جاتا رہا۔
دوسری جنگ عظیم اور ہندوستانی سپاہ
دوسری جنگ عظیم میں ہندوستانی افواج کو افریقہ اور برما کے محاذوں پر بھیجا گیا البتہ ہندوستان کے اندرونی حالات اس وقت تک بدل چکے تھے۔ خطے کی مقبول ترین جماعت کانگرس نے سامراج کی جنگ کے خلاف جدوجہد شروع کر رکھی تھی اور کانگرس کے سابق صدر سبھاش چندر بو س نازی جرمنی کی مدد سے آزاد ہند فوج تخلیق دے چکے تھے۔ اس سیاسی خلا کا فائدہ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت نے اٹھایا او ر تاج برطانیہ کو جنگ کے دوران اپنی جماعت اور مسلمانوں کی مکمل وفا داری کا یقین دلایا۔ امریکی اور روسی افواج کی شرکت سے قبل برطانیہ اور فرانس کی افواج شکست خوردہ تھیں اور نازی جرمنی کے حمایتی اٹلی اور جاپان جنگ میں برتری حاصل کر چکے تھے۔1944-45میں برما کے محاذ پر ایوب خان نامی ایک مسلمان افسر کو ڈسپلن کی خلاف ورزی اور جنگی قابلیت کی نااہلی کی بنیاد پر جنگ سے واپس ہندوستان بھیجا گیاجبکہ اسی محاذ پر اکبر خان نامی مسلمان افسر کو شجاعت کی بنیاد پر تمغے سے نوازا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں ستاسی (87) ہزار ہندوستانی فوجی برطانیہ کی جانب سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ فروری سنہ 1946ء میں برطانوی نیوی میں موجود ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر اس بغاوت کو کچل دیا۔
آزادی اور تقسیم سپاہ
سنہ 1945ء میں کلیمنٹ ایٹلی نے چرچل کی جماعت کو پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار کیا اور سنہ 1946ء میں برطانوی نو آبادیات کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کیلئے سنہ 1947ء میں شاہ برطانیہ کے دور پار کے رشتہ دار اور دوسری جنگ عظیم میں مشرقی محاذ کے سربراہ ماؤنٹ بیٹن کو برصغیر کا وائسرائے منتخب کیا گیا۔ تقسیم ہند کے لیے تجاویز 1942ء میں کرپس مشن کی آمد سے شروع ہو چکی تھیں اور مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں کی نمائندہ جماعتیں اس سلسلے میں دس سال کے وقفے سے لاہور شہر میں قراردادیں پیش کر چکی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے موقعے پر تاج برطانیہ کیلئے مشکل ترین مرحلہ ہندوستانی فوج کو تقسیم کرنا تھا۔
تقسیم کے موقع پر فسادات سے نبٹنے کیلئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی گئی جس میں پاکستان کی جانب سے بریگیڈیئر ایوب خان جبکہ بھارت کی جانب سے ایک غیر مسلم بریگیڈیر کو کمان کیلئے منتخب کیا گیا۔ بریگیڈیئر ایوب خان مہاراجہ پٹیالہ کی بیگم کی زلف کے اسیر ہوئے اور اپنی ڈیوٹی فراموش کر بیٹھے۔
تم فوجی ہو سیاست کرنا تمہارا کام نہیں
ہندوستانی فوج میں اعلیٰ ترین مسلمان فوجی افسر اعزازی میجر جنرل اکبر خان تھا(برما والے اکبر خان سے انکا کوئی تعلق نہیں )۔ پاکستانی افواج کی سربراہی جنرل میسروی کے سپرد تھی جبکہ متحدہ ہندوستان کی افواج کی اعلیٰ کمان جنرل آکنیلک کے ہاتھ میں تھی۔جناح صاحب فوج کے سیاسی کردار سے متعلق واضح نقطہ نظر رکھتے تھے۔اصغر خان کے مطابق قیام پاکستان کے بعد جناح صاحب اور بر یگیڈئر اکبر خان ایک محفل میں موجود تھے تو اکبر خان نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کو حکومت سے متعلق مشورے دینے شروع کر دیےجس پر قائد اعظم نے اکبر خان کو سختی سے ٹوکا اور کہا کہ تم فوجی ہو، سیاست کرنا تمہارا کام نہیں ہے۔
قبائلی لشکر، کشمیر اور اکبر علی خان
امریکہ میں مقیم دفاعی تجزیہ نگار احمد فاروقی کے مطابق پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کے تین اہم جزو ہیں؛ بھارت کا خوف،دوست ممالک کی امدادکی امید اوراپنی عسکری صلاحیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد۔
اگر پاکستانی عسکری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 48 کی جنگ سے اب تک قومی سلامتی کی اس پالیسی کے باعث پاکستان اپنی سلامتی سے متعلق غلط عسکری فیصلے کرتارہا ہے۔
پاکستان نے غیر رسمی افواج (Irregular Forces) کا استعمال 70 ء یا 80ء کی دہائی میں نہیں بلکہ اپنے قیام کے چند ماہ بعد ہی شروع کر دیا تھا۔ کشمیر کے ہندو راجہ کے خلاف مسلمان آبادی کی تحریک سنہ 1931ء سے جاری تھی اور تقسیم کے موقع پر قیاس تھا کہ راجہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے گا۔ راجہ ابھی فیصلے سے متعلق افہام وتفہیم میں مگن تھا کہ وزیر ستان سے قبائلی لشکر(جو پشاور میں تشکیل دیا گیا) اور کشمیر کے ملحقہ علاقوں (اڑی،پونچھ) سے آزاد ہند فوج کے سابقہ اہلکاروں پر مشتمل فوج نے وادی کشمیر پر ہلہ بول دیا۔ جنگ سے قبل کرنل شیر خان نے فوج کی اعلیٰ کمان کو ایک رپورٹ بھیجی جس کے مطابق پاکستانی لشکروں اور فوجی دستوں کا مقصد، ہندو راجہ کے خلاف کشمیری آبادی کے جذبات کو مزید ہوا دینا، ہونا چاہیے تھا۔کشمیر میں آزاد دستوں کیلئے خصوصی GHQ تشکیل دیا گیا اورلڑائی میں شریک افسران خود ہی اپنے آپ کو ترقی نوازتے رہے اورمہینوں میں میجر سے جنرل بننے لگے۔
اس کارروائی کو پاکستان کی باقاعدہ فوج کی درپردہ حمایت حاصل تھی اور بریگیڈئر اکبر خان (جو اپنے آپ کو طارق بن زیاد کے تتمہ میں جنرل اکبر خان طارق کہلوانا پسند کرتے تھے) پاکستانی فوج اور قبائلی لشکر کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے رہے۔ پاکستانی لشکر سری نگر کے مضافات میں پہنچا تو قبائلیوں نے لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیاجس کے باعث مقامی کشمیری آبادی میں ان کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوئے اور فوج کی یلغار بھی رک گئی۔راجہ خورشید انور اور کشمیری لیڈران اس بحث میں مشغول رہے کہ سری نگر کی جانب فاتحانہ مارچ کی قیادت کون کرے گا اور دو روز تک بارامولا سے آگے پیش رفت نہ ہو سکی۔اس اثنا ء میں راجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اور ہندوستانی فوج سری نگر پہنچ گئی جس کے بعد پاکستانی اور ہندوستانی افواج میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا جو اقوام متحدہ کی کوشش سے اختتام کو پہنچی۔ بعدازاں اکبر خان صاحب نے پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے اور کشمیر آزاد کروانے کی خاطر ایک منصوبہ ترتیب دیا جو کہ تاریخ میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہے۔
جناح اپنی زندگی میں ایوب خان کو پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں مشرقی پاکستان کی کمان سے ہٹانے کا حکم نامہ جاری کر چکے تھے۔ ایوب خان کو ان کی جنگی اہلیت یا ذہانت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وفاداری اور سادگی کی بنا پر کمان سونپی گئی
پہلا پاکستانی کمانڈر انچیف
جنرل گریسی سنہ 1951ء میں ریٹائر ہوئے تو پہلے پاکستانی کمانڈر ان چیف کی تقرری کا وقت آیا۔کشمیر میں فوجی کارروائی کے دوران انگریز افسران کی ہچکچاہٹ پر بہت سے پاکستانی افسران سیخ پا تھے اور ’پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف‘ کے متعلق پیش گوئیاں اور سرگوشیاں فوجی حلقوں میں سنی جا رہی تھیں۔کشمیر میں ایک بٹالین کمانڈر کے مطابق ’ہم میں سے ہر افسر خالد اور طارق ہے‘۔یہ افسران فیلڈ مارشل آکنیلک کے اس خفیہ حکم نامے سے بے خبر تھے کہ برطانوی افسران کو پاک بھارت جنگ کی صورت میں غیر جانب دار رہنا ہو گا۔سول اینڈ ملٹری گزیٹ نامی اخبار میں اپنے چہیتے صحافیوں کے ذریعے بریگیڈئر اکبر خان، بریگیڈئر اعظم اور بریگیڈئر شیر خان انگریز افسران کے خلاف افواہیں پھیلاتے رہے۔اعظم خان کو 1950ء میں میجر جنرل بنا کر لاہور ڈویژن کی کمان دی گئی۔سینئر موسٹ پاکستانی جنرل، اکبر خان نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا اور انکے بعد انکے بھائی جنرل افتخار سب سے سینئر تھے۔ جنرل افتخار دسمبر 1949ء میں فضائی حادثے کا شکار ہوئے اور سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا کی سفارش پر فوج میں چوتھے نمبر پر سینئر جنرل ایوب خان کو یہ عہدہ نوازاگیا.والی سوات کے مطابق اسکندر مرزا نے اندھوں میں کانا راجا کے مصداق ایوب خان کا چناؤ کیا۔ایوب خان کے فوج کی کمان سنبھالنے کے چند ماہ بعد بھارتی افواج سرحدی علاقوں پر جمع ہوئیں تو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایوب سے کہا: ہم ان روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چکے ہیں، ایک ہی دفعہ جنگ کر کے اس قضیہ کو حل کر دینا چاہئے۔ اس پر ایوب خان نے تبصرہ کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ کرنے سے قبل
پیشہ ور سپاہیوں کی رائے بھی سن لینی چاہئے۔
(جاری ہے)

 

اے وطن کے سجیلے جوانو کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے۔
[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

کتابیات
اس مضمون کی تیاری کے دوران درج ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے:
  1. Rethinking the National Security of Pakistan: The Price of Strategic Myopia, Ahmed Faruqui
  2. World War One: the eastern wind (http://www.dawn.com/news/1136416)
  3. Pakistan Kesay Bana, Volume I,II., Hasan Jaafar Zaidi
  4. Crossed Swords: Pakistan, its army, and the wars within, Shuja Nawaz
  5. Pakistan’s Drift Into Extremism, Hassan Abbas
  6. The Image of Military in Pakistan, Brig(Rtd) A.R. Siddiqui
  7. Story of Soldiering and Politicking in India and Pakistan, Gen. (Rtd) Sher Ali Khan
  8. The Rawalpindi Conspiracy 1951, Hassan Zaheer