Categories
نقطۂ نظر

ترقی کے نام پر لاہور کی تباہی نامنظور

[blockquote style=”3″]

اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر کا موجودہ منصوبہ کس طرح لاہور کی آبادی، شناخت اور ورثے کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس موضوع پر یہ تحریر “لاہور، میٹرو اور آپ” کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]

یہ دور لاہور اورلاہوریوں کے لیے دورِ ابتلاء ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اب تک لاہور کے سینکڑوں ہزاروں رہائشیوں کو ان کی رہائش گاہوں اور روزگار سے محروم کر چکا ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کی خاطر اب تک معذور بچوں کے سکول سمیت ہزاروں گھر، دکانیں، یتیم خانے، کلینک اور سکول گرائے جا چکے ہیں اور ملتان روڈ، پرانی انار کلی ، لکشمی چوک، میکلوڈ روڈ، شالامار روڈ، جی ٹی روڈ اور دیگر مقامات پر ہزاروں مزید رہائشی اور تجارتی عمارات اورنج ٹرین کے راستے میں آنے کی وجہ سے گرائے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

 

پرانی انار کلی میں گھروں کی مسماری کا دلخراش منظر
پرانی انار کلی میں گھروں کی مسماری کا دلخراش منظر
بے گھر ہونے والے افراد میں بنگالی بلڈنگ، جین مندراور کپورتھلہ ہاوس میں مقیم مہاجر خاندان بھی شامل ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ 1947 میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یہ افراد 2016 میں اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں بے گھر ہونے کا دکھ سہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

 

حکم امتناعی کے باوجود کپور تھلہ میں مسماری کا عمل جاری
حکم امتناعی کے باوجود کپور تھلہ میں مسماری کا عمل جاری
اورنج میٹرو ٹرین کے لیے تعمیرات کے باعث شالامار، بدھو دا آوا، گلابی باغ گیٹ وے اور جنرل پوسٹ آفس سمیت کئی تاریخی عبادت گاہیں بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے، اورنج ٹرین کی تعمیر سے متاثر ہونے والی تاریخی عمارات اور مقامات کی تعداد 16 کے قریب ہے اور ان سب کو ملکی اور عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ان عبادت گاہوں میں سینٹ اینڈریوز چرچ، دی کیتھیڈرل چرچ آف دی ریزوریکشن اور موج دریا کا مزار(تعمیر شدہ 1591) بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض تاریخی مقامات صدیوں قدیم ہیں۔

 

چوبرجی کو درپیش خطرات اس ضمن میں ایک واضح مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ چوبرجی کی عمارت 1646 میں تعمیر کی گئی تھی اور اسے National Antiquities Act 1975 کے تحت تحفظ حاصل ہے لیکن اورنج میٹرو گزرگاہ کی تعمیر کی وجہ سے اسے شدید خطرات لاحق ہیں۔ میٹرو گزرگاہ کی بنیادیں کھڑی کرنے کے لیے کی گئی کھدائی کا چوبرجی سے فاصلہ صرف پچاس فٹ ہے۔ میٹرو کے لیے تعمیر کیا جانے والا پُل چوبرجی کی عمارت سے محض تیس فٹ کے فاصلے سے گزرے گا۔ چوبرجی کے قریب اس پُل کی اونچائی 36 فٹ ہو گی۔ تعمیرات کے دوران پیدا ہونے والا ارتعاش محفوظ حد سے دس گنا زیادہ ہے، جبکہ تعمیر کیا جانے والا پُل نہ صرف اس عمارت کے نظارے میں روکاوٹ بنے گا بلکہ اس پر سے گزرتی ریل سے پیدا ہونے والا ارتعاش چوبرجی کی عمارت کو شدیدنقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔

 

چوبرجی کے قریب تعمیر کا منظر، میٹرو ٹرین سے تاریخی عمارات کو شدید خطرہ ہے
چوبرجی کے قریب تعمیر کا منظر، میٹرو ٹرین سے تاریخی عمارات کو شدید خطرہ ہے
لاہور کی تمدنی شناخت اس کی صدیوں پرانی تاریخی عمارات، باغات تہوار اور یہاں کے لوگوں کی جیتی جاگتی ثقافت ہے۔ لاہور کی یہ زندہ ثقافت یہاں کی آبادیوں، مزارات، مساجد، امام بارگاہوں، چرچوں، سکولوں، دکانوں اور ڈھابوں کے آس پاس سانس لیتی ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اس ثقافت کو لاہور کا ورثہ اور شناخت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کی خاطر رہائشی آبادیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، اور اس کے بدلے دیے جانے والے معاوضے کو (اگر معاوضہ دیا گیا) ایک آبادی کے اجڑنے کے غم کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
تعمیرات کے اس کنکریٹ جنگل کو ترقی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ پرانی انار کلی میں اس منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان نقصانات اور اس بڑے پیمانے پر لوگوں کے متاثر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ 2007 میں دو سالہ تحقیق کے بعد تجویز کیے گئے راستے اور ٹیکنالوجی کے مطابق تعمیر نہیں کیا جا رہا۔ اورنج ٹرین کی تعمیر کے لیے 2007 میں تشکیل دیے گئے منصوبے میں چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تجویز کیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا مقصد چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک کے راستے میں آنے والی آبادیوں، دکانوں، تاریخی عمارات اورمیکلوڈ روڈ جیسے مصروف تجارتی مرکز کو تباہی سے بچاناتھا۔ ہم موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملتان روڈ پر زیب النساء کے مقبرے سے شالیمار تک کی ریل گزرگاہ سرنگ بنا کر تعمیر کرے اور آبادیوں سے باہر راستے پر پُل تعمیر کرے۔ سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کے لیے درکار اضافی رقم بہت زیادہ نہیں ہو گی، کیوں کہ اس طرح موجودہ منصوبے کے مطابق تعمیرات کے لیے زمین خریدنے کے لیے درکار رقم بچائی جا سکتی ہے۔ سرنگ کی تعمیر کو موجودہ منصوبے کے مطابق پُل کی تعمیر کے مقابلے میں اس لیے بھی زیادہ موزوں قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ سرنگ کی تعمیر کے باعث لاہور کے ثقافتی ورثے اور انسانی جانوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان سے بھی بچاو ممکن ہو گا۔

 

لیکن ابھی سب تباہ نہیں ہوا ہے، لیکن اگر یہ منصوبہ اسی رفتار اور اسی انداز سے جاری رہا تو ہم سب کچھ گنوا بیٹھیں گے۔ اس لیے پنجاب حکومت کی یہ دلیل کہ اس منصوبے کو اس لیے مکمل ہونے دیا جائے کیوں کہ تعمیراتی کام کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے، مکمل طور پر مسترد کر دی جانی چاہیئے۔ اگر اس منصوبے کی تعمری نہ روکی گئی تو درج ذیل نقصانات لاہور اور لاہوریوں کو برداشت کرنا ہوں گے:

 

• لاہور کے ثقافتی ورثے سے مزین گزرگاہ ہمیشہ کے لیے تباہی کا شکار ہو جائے گی جہاں 11 تاریخی مقامات ایسے موجود ہیں جن کے تحفظ کے لیے عدالت سے حکم امتناعی جاری کیا جا چکا ہے۔ تاریخی مقامات کی اس تباہی سے لاہور ہمیشہ کے لیے اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت اور سیاحوں کی آمد سے ہونے والی اربوں روپے کی آمدنی سے محروم ہو جائے گا۔

 

• شہری علاقوں میں حرات کے جمع ہو جانے (Urban Heat Island Effect) کے باعث شہر کے درجہ حرارت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو سکتا ہے، گنجان آباد علاقوں میں درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ بیماریوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔

 

• منصوبے کی موجودہ شکل میں تعمیر کے باعث ایک مربوط ماس ٹرانزٹ سسٹم کی بجائے ایک ٹکڑوں میں بٹا غیر مربوط نظام آمدورفت وجود میں آئے گا جو مستقبل میں لاہور کی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ ایسے منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے لاہور کبھی بھی ایک ایسا شہر نہیں بن سکے گا جہاں ٹرانسپورٹ کی معیاری، موثر اور ضرورت کے مطابق سہولیات دستیاب ہوں۔

 

• پرانی انارکلی، میکلوڈ روڈ، لکشمی اور نکلسن روڈ پر مشتمل لاہور شہر کا ایک بڑا علاقہ خستہ حالی اور شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گا۔ اس علاقے میں اورنج میٹرو ٹرین کی تعمری کے باعث جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہو گی اور یوں یہ منصوبہ شہر کی تعمیر نو کی بجائے تخریب نو کاباعث بنے گا۔

 

• اس منصوبے کی تعمیر جاری رہنے سے ہزاروں مزید افراد اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔

 

اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔
منصوبے کی اس طرح تعمیر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو معقول مشاورت اور رہنمائی مہیا نہیں کی گئی۔ ایل ڈی اے اور دیگر سرکاری ادارے اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول اور دیگر معاملات میں منافع خوری کر رہے ہیں جو لاہور کے غرباء اور وزیر اعلیٰ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔ اس بناء پر لاہور کے شہری یہ درخواست کررہے ہیں کہ حکومت پنجاب اگر خود کو ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت سمجھتی ہے تو لاہور میں بسنے والوں کے مطالبات کو سنے، عام شہریوں اور ماہرین کی پیش کردہ تجاویز پر غور کرے اور اس منصوبے کی مزید تعمیر سے پہلے عوام اور ماہرین سے کھل کر اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات چیت کرے۔ جمہوریت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ عام شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا جائے خصوصاً ایسے منصوبوں سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے جن سے عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہوں۔ لاہور کسی ایک حکم ران یا ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں اور نہ ہی اگلے انتخابات جیتنے کی خاطر اس کے مستقبل کو یوں داو پر لگایا جا سکتا ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر ہی ان مسائل کا واحد حل ہے اور یہی طریقہ اختیار کرنے کی تجویز حکومت کی جانب سے رقم ادا کر کے کرائے گئے سروے میں بھی دی گئی ہے۔

 

اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔ اس وقت دلی میں سترہ ٹنل بورنگ مشینیں زیر زمین کام کر رہی ہیں جب کہ حکومتِ پنجاب زمانہ حال کے تقاضوں کے مطابق عوام کی ضروریات اور امنگوں کا ساتھ دینے کے معاملے میں بہت پیچھے ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی بجائے کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کا صرف اس لیے استعمال کہ اس کے ذریعے2018 کے انتخابات سے قبل اورنج ٹرین منصوبہ مکمل کر لیا جائے لاہور کے شہریوں کو منظور نہیں۔

 

لاہور لاہوریوں کا ہےاور لاہور کے شہری اپنے شہر کے ثقافتی ورثے اور شناخت کو قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر اور شہر کو ایک مربوط عوامی ٹرانزٹ نظام فراہم کرنے کے لیے لاہور کے تمدنی مزاج اور ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنا اور اس کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مربوط ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر تک موجودہ سڑکوں پر مزید بسیں چلا کر بھی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

Image: Pakistan Today and Lahore, Metro aur Aap

Categories
نقطۂ نظر

لاہور کا مقدمہ

[blockquote style=”3″]

لاہور کا یہ مقدمہ، لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان سوالات کو جواب حکومت سے حاصل کیجیے اور پھر اس منصوبے سے متعلق کوئی رائے قائم کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

[/blockquote]

حکومت پنجاب اب تک ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز رکھ کر موجودہ ڈیزائن کے مطابق اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیرات کرانے میں بے حد کامیاب رہی ہے۔ ایک جانب کام کی اس سبک رفتاری کے باعث حکومت اس منصوبے کے لیے نشان زد گھروں، دکانوں اور کاروباروں کے مکینوں اور مالکان کو ناامید کرنے میں کامیاب رہی ہے اور دوسری جانب اس تیزی کی وجہ سے شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہے ہیں، علاوہ ازیں اب تک تیس سے زائد افراد ان تعمیرات کے دوران منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کے قفدان کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

لاہور ہائی کورٹ میں اورنج میٹرو ٹرین کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیرجانبدار ماہر کی جانب سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خلاف قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس منصوبے کو روکا جا سکتا ہے۔
اوقات کار اور ان قیمتی جانوں کے ضیاع کی زمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی پوچھا جانا چاہیئے کیوں کہ یہی حکومت گزشتہ آٹھ برس سے صدیوں پرانے ثقافتی تہوار بسنت پر اسی دلیل کے تحت پابندی عائد کیے ہوئے ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اورنج میٹرو ٹرین کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیرجانبدار ماہر کی جانب سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خلاف قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس منصوبے کو روکا جا سکتا ہے۔ اس تحریر کا مقصد اور نج میٹرو ٹرین سے متعلق شہری حقوق کے معاملے پر بحث اور موجود جمہوری نظم میں شہری شرکت کو بڑھانے کے لیے اہم سوالات اٹھانا ہے۔

 

شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے میٹرو کے خلاف احتجاج کا ایک منظر
شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے میٹرو کے خلاف احتجاج کا ایک منظر
منصوبہ بندی برائے ٹرانسپورٹ

 

1- حکومت 2007 میں لاہور کے لیے بنائے گئے اس مربوط ماس ٹرانزٹ نظام کےمنصوبے کو کیوں استعمال نہیں کر رہی جو دو برس کی تحقیق اور نوے لاکھ ڈالر حکومتی رقم استعمال کر کے تیار کیا گیا تھا۔ 2007 کے اس منصوبے میں لاہور کو تباہی سے بچانے کے لیے چوبرجی تا انار کلی-لکشمی-میکلوڈ روڈ-جی ٹی روڈ (سلطان پورہ) کا حصہ زیر زمین سرنگ کی صورت میں تجویز کیا گیا تھا۔

 

2- حکومت سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کر رہی، جو اگرچہ پُل کی تعمیر اور کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کی نسبت مہنگی ہے مگر لاہور، اس کے قدیمی علاقے اور ثقافتی ورثے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ یہ اس لیے بہتر ہے کیوں کہ ایک تو لکشمی چوک جیسے علاقوں میں اس ٹیکنالوجی سے بنائے گئے راستے پر پل کے ذریعے ٹرین گزرنے کے برعکس زیادہ رفتار سے ٹرین چلائی جا سکتی ہے اور اس طرح زیادہ مسافروں کو سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ دوسرا میکلوڈ روڈ جیسے گنجان علاقوں میں جہاں زمین بے حد مہنگی ہے، کم زمین خریدنا پڑے گی؛ اور تیسرا یہ کہ اس طرح ان علاقوں میں آسان رسائی کے باعث جائیداد کی قمیت بڑھتی جب کہ اس کے برعکس پُل کے ذریعے ٹرین گزارنے کے باعث یہاں زمین کی قیمت گرے گی اور آبادی کا رحجان ان علاقوں کی جانب کم ہوگا۔

 

حکومت سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کر رہی، جو اگرچہ پُل کی تعمیر اور کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کی نسبت مہنگی ہے مگر لاہور، اس کے قدیمی علاقے اور ثقافتی ورثے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
3- اس ماس ٹرانزٹ نظام کی چاروں گزرگاہوں کو اگلے پچاس برس کے لیے کارآمد رکھنے کی غرض سے آپس میں کس طرح جوڑا جائے گا؟ حکومت نے 2007 کی مجوزہ منصوبہ بندی جس میں مختلف گزرگاہوں کے مابین زیرزمین مشترکہ سٹیشن (اورنج اور پرپل کے درمیان-ریلوے سٹیشن اور ائرپورٹ کے بیچ) کا قیام شامل تھا پر عمل کرنا گوار نہیں کیا۔ موجودہ نقشے کے مطابق، اورنج لائن کا سٹیشن ریلوے اسٹیشن سے 500 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس سے ماس ٹرانزٹ نظام کی روح فوت ہو جاتی ہے۔ اس دوری کی وجہ سے مسافروں کو اپنا سامان پیدل اٹھا کر یا رکشے پر لاد کر سٹیشن تک لے جانا پڑے گا۔

 

زمین کا حصول اور انسانی حقوق

 

1۔ کیا حکومت ایک ایسے منصوبے جس کا راستہ اور تکنیک 2007 کے مجوزہ منصوبے کے مطابق نہیں ہے، کے لیے شہر کے گنجان علاقوں میں ایک ہزار کنال زمین حاصل کر کے لوگوں کو بے گھر اور ان کے روزگار تباہ کر سکتی ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جبکہ اصل تکنیک (زیر زمین سرنگ) کا مقصد اس نقصان سے بچنا ہو؟ بہتر متبادل موجود ہونے کی صورت میں کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے من پسند منصوبے کی بنیاد پر شہریوں کی زندگیاں تباہ کرنے اور انہیں بے گھر کر سکتی ہے، جب کہ عوام اور ماہرین اس منصوبے کے خلاف ہوں؟

 

2۔ حکومت کس طرح اپنے ہی قوانین توڑ سکتی ہے، شہریوں کو ڈرا دھمکا سکتی ہے، لوگوں کو موزوں معاوضہ اور پیشگی نوٹس دیئے بغیر غیر قانونی طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے اور کس طرح کہہ سکتی ہے کہ متاثرہ لوگوں کو معاوضہ ڈی سی نرخ (بازاری نرخ سے نہایت کم پر) کے مطابق بعد کی تاریخوں میں دیا جائے گا؟ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے مطابق ریاست ترقیاتی منصوبوں کے لیے املاک خرید سکتی ہے لیکن اس کے لیے شہریوں کوپیشگی تحریری نوٹس دینے، متبادل رہائش کا انتظام کرنے کے لیے مناسب وقت دینے اور بازاری نرخ سے پندرہ فی صد زائد قیمت ادا کرنے کی پابند ہے۔ جی ٹی روڈ پر ڈیرہ گجراں تا سلطان پورہ اور نکلسن روڈ پر ریاست نے لوگوں پر دباو ڈال کر گھر خالی کرنے پر مجبور کیا ہے، پولیس کے ذریعے ڈرایا دھمکایا ہے اور گھر مسمار کر دیئے ہیں۔ ریاست گردی کے اس عمل کے دوران ایک ایسے کلینک کو بھی گرا دیا گیا ہے جس کے لیے حکم امتناعی کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

 

حکومت کس طرح اپنے ہی قوانین کو توڑ سکتی ہے، شہریوں کو ڈرا دھمکا سکتی ہے، لوگوں کو موزوں معاوضہ اور پیشگی نوٹس دیئے بغیر غیر قانونی طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے
3۔ لاہور شہر کے بیچ و بیچ ایک پُل کے ذریعے مسافر ٹرین گزارنے سے آس پاس کی زمین کی قیمت گرجائے گی۔ یہ منصوبہ شہر کو زیرزمین سرنگ کی تعمیر کی صورت میں ملنے والی ممکنہ نئی زندگی بخشنے کی بجائے انحطاط کا شکار کر دے گا۔ کیا حکومت کو لاہور کو انحطاط کا شکار کرنے اور چوبرجی-پرانی انار کلی-لکشمی-میکلوڈ روڈ- ریلوے سٹیشن اورشالامارسے محروم کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا حکومت اس توڑ پھوڑ کی بجائے ان علاقوں کے شہریوں کے لیے شہری سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کی زمہ دار نہیں؟

 

ثقافتی ورثہ، شناخت اور مزاج

 

1۔ کیا کسی حکومت کو یہ حق یہ حاصل ہےکہ وہ لاہور جیسے شہر کا مزاج تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے، خاص کر کہ جب اس کے شہریوں کا بھی اعتماد میں نہ لیا گیا ہو؟ کیا ریاست لاہور کے صدیوں پرانے ثقافتی ورثے (آبادیوں اور یادگار تاریخی عمارتوں) کو تباہ کر سکتی ہے؟

 

2۔ ترک سیاحت کا پہلا پڑاو ہونے کے ناطے استنبول ہر برس بیس سے تیس ارب ڈالر زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتا ہے، حکومت کیوں کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کے استعمال اور پُل کے ذریعے ٹرین گزار کر لاہور کے(چوبرجی، موج دریا سرکار، لکشمی اور شالامار سمیت 25 تاریخی مقامات پر مشتمل) تہذیبی دھارے کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے؟

 

حکومت کیوں تاریخی مقامات کے حوالےسے اپنے تعمیراتی منصوبے کی تفصیلات لاہور کے شہریوں سے چھپا رہی ہے جو لاہور کے ورثے کے حقیقی نگہبان ہیں؟
3۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے (کمشنر لاہور کے بیان کے مطابق) کہ وہ تاریخی مقامات پر اورنج میٹرو لائن کی تعمیرات سے ہونے والے اثرات کے سلسلے میں مسلسل یونیسکو کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے یونیوسکو کے خط کا جواب دے دیا ہے۔ لیکن حکومت نے تاحال عالمی ورثہ قرار دیئے گئے مقامات (جیسے چوبرجی) کے قریب تعمیراتی کام روکا ہے۔ یہ امر National Antiquities Act 1975، اور ورلڈ ہیریٹیج کنونشن 1972 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے اب تک یونیسکو کو لکھے گئے خط کی تفصیلات بھی لاہور بچاو تحریک کو فراہم نہیں کیں۔ حکومت کیوں تاریخی مقامات کے حوالےسے اپنے تعمیراتی منصوبے کی تفصیلات لاہور کے شہریوں سے چھپا رہی ہے جو لاہور کے ورثے کے حقیقی نگہبان ہیں؟ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے تحفظات یوں آرام سے نظرانداز کر دئیے ہیں گویا پاکستان دنیا سے کٹا ہوا کوئی جزیرہ ہے۔

 

شہریوں کے تحفظات کے باوجود میٹرو کے لیے توڑ پھوڑ اور تعمیرات جاری ہیں
شہریوں کے تحفظات کے باوجود میٹرو کے لیے توڑ پھوڑ اور تعمیرات جاری ہیں
ماحول اور صحت

 

1۔ گزشتہ برس کراچی میں گرمی کی لہر سے ایک ہزار افراد کی ہلاکت اور دلی اور بیجنگ میں شدیدفضائی آلودگی کی مثالیں سامنے ہوتے ہوئے بھی پنجاب حکومت کیوں شہر کے بیچ میں کنکریٹ کے ایسے پُل کھڑے کرنا چاہتی ہے جن سے شہر کا درجہ حرارت اور آلودگی میں اضافے کا امکان ہے؟ ان تعمیرات سے سینکڑوں درخت کٹنے کا بھی اندیشہ ہے۔ کیا حکومت لاہور کو بھی کراچی کی طرح ہر قسم کے سبزے سے محروم کرنا چاہتی ہے؟ کیا حکومت گزشتہ برس تمام دنیا کے پیرس میں اکٹھے ہونے اور ماحولیاتی تغیرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کے فیصلے کا کیا مطلب ہے؟

 

میٹرو ٹرین کی زد میں درخت بھی آ رہے ہیں
میٹرو ٹرین کی زد میں درخت بھی آ رہے ہیں
قانونی ضابطہ کار اور جمہوریت

 

1۔ کیا وجہ ہے کہ شہریوں کو اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق تب ہی پتہ چلتا ہے جب ان کے گھر اور دکانیں نشان زد کر دئیے جاتے ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ تین روز بعد ان کے گھر گرا دئیے جائیں گے؟ کیا یہ ریاست کی (قانونی) ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں خاص کر جن کے گھر اس گزرگاہ کے آس پاس قائم ہیں کو اس منصوبے پر پہلے سے مکمل طور پر اعتماد میں لے؟ کیا یہ بھی ریاست کا فریضہ نہیں کہ وہ، جن کے گھر یا دکانیں گرائی جا رہی ہیں انہیں گرائے جانے سے قبل مناسب وقت، خدمات اور معاوضہ ادا کرے؟

 

کیا وجہ ہے کہ شہریوں کو اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق تب ہی پتہ چلتا ہے جب ان کے گھر اور دکانیں نشان زد کر دئیے جاتے ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ تین روز بعد ان کے گھر گرا دئیے جائیں گے؟
2۔ حکومت کس طرح چینی حکومت کی جانب سے قرضہ منظور کرنے سے پہلے ہی کام شروع کر سکتی ہے؟ قرضے کی منظوری دسمبر میں ہوئی جبکہ منصوبے پر کام کئی ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا۔

 

3۔ پی سی ون کے مطابق منصوبے کی سرکاری طور پر بیان کی گئی قیمت 170.5 ارب روپے یا 1.64ارب ڈالرہے جبکہ درکار فنڈنگ 182 ارب روپے یا 1.78 ارب ڈالر ہے۔ چینی حکومت 1.6 ارب ڈالر قرض فراہم کر رہی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے 2015-16 کے ترقیاتی بجٹ میں اس کے لیے دس ارب روپے مختص کیے ہیں۔ تاہم پی سی ون منصوبے میں زمین حاصل کرنے کی قیمت، قرضے پر ادا کیا جانے والا سود، روزگار کے مواقع کے خاتمے سے ہونے والا نقصان، سرکاری عمارات مرمت اور نئے سرے سے تعمیر کی لاگت اور شہری تنصیبات کی منتقلی کا خرچ وغیرہ شامل نہیں۔ اگر حکومت کے بجٹ میں یہ مصارف شامل نہیں تو ان کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

 

حکومت میٹرو منصوبے کے حوالے سے مکمل تفصیلات عام نہیں کر رہی۔
حکومت میٹرو منصوبے کے حوالے سے مکمل تفصیلات عام نہیں کر رہی۔
4۔ حکومت نے اس منصوبے سے متعلق دستاویزات شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت درخواست دے کر طلب کرنے کے باوجود بھی کیوں فراہم نہیں کر رہی؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے اور کیوں اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے؟

 

5۔ کیا لاہور تمام لاہور واسیوں کا ہے یا محض چند لوگوں کا؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں شہریوں کو ان کے شہر کے مستقبل میں شریک نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ جمہوریت ہے جہاں ہمارے نام پر 160 ارب روپے قرض لیا جاتا ہے جس کا سود ہمیں اور ہماری نسلوں کو چکانا ہے لیکن ہمارے ہی اعتراضات کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے؟

 

پس ثابت ہوا کہ اگر درج بالا سوالات کے تشفی آمیز جوابات دئیے بغیر اورنج لائن میٹرو تعمیر کی جاتی ہے تو یہ ریاست کی اندھی اور بے لگام طاقت کے بدعنوانوں سے گٹھ جوڑ کا مظہر سمجھا جائے گا، اورنج میٹرو ٹرین کی شہریوں کے تحفظات کے باوجود بھی اگراسی انداز میں تکمیل کی گئی تو یہ عمل کم زور جمہوری ڈھانچے اور سول سوسائٹی کا مظہر ہوگا۔ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور لاہور شہر کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے اورنج لائن میٹرو کی تعمیرات کی فوری بندش اور مکمل عوامی نظرثانی کی جانی چاہیئے۔