Categories
نقطۂ نظر

دعا کریں کمانڈو واپس نہ آئے

اٹھارہ اگست 2008 کو سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف صدارت سے علیحدہ ہوئے تو اس وقت کی حکمران پیپلز پارٹی نے انہیں گارڈ آف آنر دے کر پورے عزت اور احترام کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا، اور کچھ عرصے بعد پرویزمشرف ملک سے باہر چلے گئے۔ پانچ سال بعد24 مارچ 2013 کو وہ اس امید پر وطن واپس پہنچے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ان کا استقبال کرے گی، ان کا خیال تھا کہ وہ اب بھی عوام میں بہت مقبول ہیں، لیکن ائرپورٹ پر لوگوں کی ایک مختصر جماعت ہی موجود تھی۔ جنرل پرویز مشرف بڑے طمطراق سے پاکستان پہنچے تھے حالاں کہ اُنہیں معلوم تھا کہ ان کے زمانہ اقتدار کے تمام سیاسی ساتھیوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کےلیے آقا بدل لیے ہیں۔ اگر وہ تاریخ سے سبق سیکھ لیتے تو بہتر ہوتا لیکن شاید تاریخ سے انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا اس لیےجب وہ آئے تو ان کے کھاتے میں جرائم کی ایک لمبی فہرست تھی جس میں بے نظیر کے قتل کا الزام، این آر او، لال مسجد کا واقعہ، اکبر بگٹی کی ہلاکت، ججوں کو نظر بند کرنے کا جرم، آیئن سے انحراف اور ایمرجنسی کا نفاذ شامل تھے۔

 

سابق صدر کافی عرصے سے اپنے ‘علاج’ کی غرض سے ملک سے باہر جانا چاہتے تھے لیکن نواز شریف حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا ہوا تھا اور حکومت کا یہ موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کو کہا تھا۔
اٹھارہ مارچ کی صبح چار بجے سابق صدر پرویز مشرف تین سال پاکستان میں رہنے کے بعد واپس دبئی چلے گئے۔ سابق صدر کافی عرصے سے اپنے ‘علاج’ کی غرض سے ملک سے باہر جانا چاہتے تھے لیکن نواز شریف حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا ہوا تھا اور حکومت کا یہ موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کو کہا تھا۔ 16 مارچ کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اپنا کندھا استمال کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ حکومت خود فیصلہ کرے کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ہونا چاہیے یا نہیں، ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق عدالت کا کوئی بھی تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے۔ پرویز مشرف کا نام پونے دوسال سے ای سی ایل پر تھا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثاراب بھی جھوٹ بول کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے عدالت کے کہنے اور مشرف کے وکیلوں کے وعدے پر انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی ہے اور مشرف چھ ہفتے بعد واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کے حق میں اس قدر زیادہ دلائل دیے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید وہ مسلم لیگ نواز کے نہیں پرویز مشرف کے وزیر ہیں، بات دراصل یہ ہے کہ تمام باتوں کے باوجود خود چوہدری نثار کو اپنی بات کا یقین نہیں۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آزاد شہری قرار دیا تھا، انہیں مشرف کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق کوئی خبر نہیں تھی، نہ اس بارے میں اسلام آباد پولیس نے بتایا اور نہ ہی یہ وزارت داخلہ کا کام ہے۔ پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999 سے لے کر 3 نومبر 2007 تک لگائے گئے تمام الزامات کا تن تنہا مقابلہ کرتے رہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے کون ہے، وہ یہ سب کر چکے لیکن پھر بھی کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ ابتداء سے ہی حکومت کی اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف 1999 کی بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جاتا لیکن اس کے بجائے نومبر 2007 کی ایمرجنسی کا بنایا گیا، مقصد یہ تھا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ نواز شریف پرویز مشرف سے ذاتی انتقام لے رہے ہیں۔ اس سال جنوری میں عدالت نے 2006ء کے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں پرویزمشرف کو بری کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق صدر کو دیگر چار مقدمات کا سامنا ہے، جن میں ہنگامی حالت کا نفاذ، عدلیہ کی غیر قانونی برطرفی، بے نظیر قتل کیس اور اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والی ہلاکت خیز کارروائی شامل ہے۔

 

نواز شریف نے اپنی سی کوشش کی بھی لیکن اپنے سابق چیف کو بچانے کے لیے پاکستانی فوج آڑے آ گئی اور نواز شریف پرویز مشرف کا ککھ بھی نہ بگاڑ سکے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول زرداری سمیت کئی افراد نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے اور پھر انہیں علاج کے غرض سے ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بلاول زرداری نے مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر فیصل رضا عابدی نے ٹویٹ کی ہے کہ ‘لال مسجد کارروائی، افتخار چوہدری کا معاملہ اور 3 نومبر کا اقدام، سب فیصلے آئینی تھے۔ کوئی وجہ ہی نہیں تھی کہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے’ ایک ٹی وی اینکرنے لکھا کہ ‘مشرف کو جانا ہی تھا، سول فوجی تعلقات کا بہتر ہونا مشرف کے جانے پر ہی منحصر تھا، یہی پاکستان ہے، جبکہ ایک دوسرے اینکر نے لکھا کہ ‘مشرف اور زرداری کاعلاج کے غرض سے ملک سے جانا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام کس خستہ حالی کا شکار ہے’۔

 

پرویز مشرف کے پاکستان آنے سے قبل مسلم لیگ (ن) اور اس کے ہمنوا یہ کہتے رہے کہ پرویز مشرف اب پاکستان نہیں آئیں گے، پھر جب تین سال پہلے وہ پاکستان آگئے تو اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے وزراء پرویز مشرف کی کردار کشی کرتے رہے۔ نواز شریف میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں لیکن بدلہ لینے کی تاک میں رہتے ہیں۔ نواز شریف نے اپنی سی کوشش کی بھی لیکن اپنے سابق چیف کو بچانے کے لیے پاکستانی فوج آڑے آ گئی اور نواز شریف پرویز مشرف کا ککھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ اس مرتبہ شاید وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نواز شریف کو بہت اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ بہتر ہوگا سابق صدرکے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں ورنہ کہیں 1999 کی تاریخ نہ دہرا دی جائے۔ نواز شریف کو یہ کسی صورت منظور نہیں تھا، لہٰذا سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر اور اپنے میں پرویز مشرف کو روکنے کی ہمت نہ پاکر تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف نے پرویز مشرف کو جانے دیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو حکومت تنقید کی زد میں رہتی اور اب جانے دیا گیا ہے تو بھی اس پر تنقید کی جارہی ہے۔ لیکن اس فیصلے کا فائدہ کسی کو ہو یا نہ ہو نواز شریف حکومت کو ضرور ہوگاکیونکہ اس فیصلے سے سول ملٹری تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ نواز شریف اوران کے ہمنواوں کو چاہیے کہ اب دعا کریں کمانڈو واپس نہ آئے کیونکہ ملک کے وزیراعظم ہونے کے باوجود ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ پرویزمشرف کو ایک رات حوالات میں رکھ سکیں۔ عام طور پر خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر کے واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں، لیکن اگر وہ واپس آتے ہیں تو حکومت کو پریشانی اور پاکستان فوج کوشرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

مشرف کی بریت؛ بلوچستان کے زخموں پر نمک پاشی

مشرف کی بریت بلوچستان کے باسیوں کے لیے ایک مایوس کن یاددہانی ہے کہ وہ اس ریاست کے مساوی شہری نہیں اور ان کے قاتلوں کو سزا دینا موجودہ سیاسی اور عدالتی نظم کے بس کی بات نہیں۔ خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی نے سابق آرمی چیف اور آمر پرویز مشرف کو ساتھیوں سمیت اکبر بگٹی کے قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف ایک مرتبہ بھی اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اس امر سے یہ اندازہ لگانا ہرچند مشکل نہیں کہ مشرف کی بریت کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور کن خفیہ ہاتھوں نے اس مقدمے سے مشرف کی جان چھڑانے میں مدد کی۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کا مقدمہ نہیں تھا اکبر بگٹی بلوچستان کے بہت بڑے سیاسی رہنما تھے جن کے قتل کے بعد بلوچستان میں لگی آگ پر آج تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ اکبر بگٹی کے بارے میں ایک روایتی پنجاب پسند پاکستانی ذہنیت کا پرچار کر کے باقی صوبوں کے عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ظالم سردار اور پاکستان دشمن تھے۔ جبکہ درحقیقت اکبر بگٹی قیام پاکستان کے وقت اگر جناح کا ساتھ دیتے ہوئے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا ووٹ نہ دیتے تو آج شاید بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ ہوتا۔ ایسے آدمی کو ایک آمر کے کہنے پر غدار سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھی شیخ مجیب کو غدار ٹھہراتے ٹھہراتے ہم نے اسے علیحدگی پسندی پر مجبور کر دیا تھا اور یہ بھی اس وقت کے ریاستی بیانیے کا نتیجہ تھا۔

 

مشرف کی بریت بلوچستان کے باسیوں کے لیے ایک مایوس کن یاددہانی ہے کہ وہ اس ریاست کے مساوی شہری نہیں اور ان کے قاتلوں کو سزا دینا موجودہ سیاسی اور عدالتی نظم کے بس کی بات نہیں۔
مشرف اس معاملے میں کیسے بے قصور ثابت ہوا؟ یقیناً آئینی ماہرین آنے والے دنوں میں اس سوال پر بحث کریں گے، فی الحال تو یہ عدالتی فیصلہ ملکی تاریخ کے سیاہ ترین عدالتی فیصلوں میں ایک اور المناک فیصلےکا اضافہ ہے۔ عدلیہ کی جانب سے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں انصاف کے پلڑوں کو جھکا دینا کوئی نئی بات نہیں۔ عدلیہ نے ہمیشہ انصاف کے بنیادی تقاضوں سے منہ موڑتے ہوئے آمروں اور فوجیوں کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔ وکلا تحریک اور افتخار چوہدری کی بطور چیف جسٹس بحالی کے بعد جو امیدیں تھیں، ان کا گلا خود افتخار چوہدری کی عدالت نے گھونٹ دیا۔ گو اس زمانے میں عدالتوں خصوصاً عدالت عظمیٰ نے ماضی کے برعکس خفیہ اداروں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی مقدمات سنے لیکن ان مقدمات کا نتیجہ صفر رہا، نہ لاپتہ افراد بحال ہوئے اور نہ آئین شکنی کرنے والوں کو سزا مل سکی۔ خیال تھا کہ کسی بھی قسم کے دباو کے بغیر فیصلے ہوں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا، خاکی وردی کی آستین پر جمے خون کے دھبے عدالتی لانڈری نے ایک بار پھر دھو دیئے ہیں۔

 

فوجی کارروائی کے دوران مارے جانے والوں کی “قانونی حیثیت” اور مارنے والوں کے “مواخذے” کی خواہش شاید اس ملک میں واقعی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ مشرف کی بریت بلوچوں کے لیے یقیناً ایک تکلیف دہ امر ہے۔ مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی نے نہ صرف اسے کھلم کھلا للکارا تھا بلکہ اس کی کشتی میں پہلا سوراخ بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بگٹی کو مشرف کے کہنے پر “قتل” کیا گیا لیکن تعجب ہے عدالت پر جسے نہ تو مشرف کے وہ بیانات دکھائی دیئے جن میں وہ ریاستی طاقت کے بل بوتے پراکبر بگٹی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھا اور نہ ہی ان کے ٹی وی انٹرویو جن میں وہ کھلم کھلا اکبر بگٹی کو بم سے نشانہ بنانے کی بات کرتے تھے۔ قانون اور ریاست کی بالادستی کے نعرے لگاتے سیاستدان یقیناً مشرف کو احتساب کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔

 

آپ بلوچستان کے نوجوانوں سے کیسے پاکستان کے قانون و آئین کو ماننے اور اس پر پابند رہنے کا تقاضہ سکتے ہیں جب مشرف جیسا آئین شکن آمر اسی آئین اور قانون کی گرفت سے باآسانی بچ نکلتا ہے۔
مشرف کی پشت پر موجود فوج کی خاموش حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہ درپردہ حمایت بلوچ عوام کو وفاق سے اور فوج سے مزید متنفر کر رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست مفاہمت کے لیے عرصہ دراز سے اکبر بگٹی کے ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو سزا دینا کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن یہ عدالتی نظام تو ڈاکٹر شازیہ کا ریپ کرنے والے ایک کیپٹن حماد کو سزا نہیں دے سکا سابق جرنیل کو کیسے دیتا؟ ہم نے اس ملک میں ایک وزیر اعظم کو پھانسی لگتے دیکھا، ایک وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں پہنے اٹک کے قلعے میں پابند سلاسل دیکھا، نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو ریاستی جبر کا شکار ہو کر ہلاک ہوتے دیکھا لیکن کبھی کسی فوجی آمر کا احتساب ہوتے نہیں دیکھا۔ آمروں کو ہم نے ہمیشہ سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوتے دیکھا۔ سقوط ڈھاکہ کے مجرم یحیٰ خان اور جنرل نیازی ہوں یا پرویز مشرف، شاید قانون ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہی مفلوج ہو جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے معاملات دراصل سویلین قیادت کے اختیار میں نہیں ہیں۔

 

آپ بلوچستان کے نوجوانوں سے کیسے پاکستان کے قانون و آئین کو ماننے اور اس پر پابند رہنے کا تقاضہ سکتے ہیں جب مشرف جیسا آئین شکن آمر اسی آئین اور قانون کی گرفت سے باآسانی بچ نکلتا ہے۔ بندوق کے زور پر مشرقی پاکستان کو ساتھ رکھنے کی کوششوں کا نتیجہ بھی بنگلہ دیش کی صورت میں ایک علیحدہ ملک کے قیام کی صورت میں نکلا تھا۔ سقوط ڈھاکہ اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی اکائیاں جبر کی بنیاد پر یکجا نہیں رہتیں لیکن یہ سبق ہم نے آج تک نہیں سیکھا۔ آپ اکبر بگٹی یا بالاچ مری کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کے نظریات اور خیالات کو نہیں۔ خیالات اور نظریات کبھی بھی بندوق کے زور پر کچلے یا ختم نہیں کیے جا سکتے۔ ذہن بدلنے کے لیے اس احساس محرومی کو ختم کرنا پڑتا ہے جو ریاست کے باشندوں میں استحصال، جبر اور ناانصافی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس محرومی طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ حقوق کی فراہمی اور ناامصافیوں کے ازالے سے ختم ہوتا ہے۔

 

نواب اکبر بگٹی کو صوبائی خود مختاری، صوبے کے وسائل پر رائلٹی میں اضافہ اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے جیسے جن مطالبات کی بناء پر ملک دشمن قرار دے کر مارا گیا ان پر مذاکرات کی میز پر گفتگو ہو سکتی تھی لیکن مشرف نے طاقت کے خمار میں ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اکبر بگٹی کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔
مشرف اگر قانون کی گرفت سے آزاد اپنے بنگلے میں مزے سے سگار پیتا زندگی کے شب و روز گزارے گا تو محض بلوچستان میں نہیں بلکہ ملک کے گوشے گوشے میں موجود افراد کے دلوں میں نہ صرف قانون کا احترام ختم ہو گا بلکہ قتل و غارت کے ملزموں کو پابند سلاسل کرنے کا اخلاقی جواز بھی باقی نہیں رہے گا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ مشرف نے ملک و قوم کے لیے ایسی کیا گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی بنا پر اسے سلاخوں کے پیچھے رکھنے کی بجائے بنگلوں میں ریاستی تحفظ کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔ ان کے دور آمریت میں فوجی جوان اور افسر وردی پہن کر باہر نکلنے سے جھجھکتے تھے، انہوں نے اپنے ادارے کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا، طالبان کے لیے دُہری پالیسی اپنائی تھی جس کی وجہ سے آج پاکستان دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے۔ اس سب کے باوجود مشرف کا قانون کی دسترس سے دور ہونا ناقابل فہم اور حیران کن ہے۔ اگر مشرف کو قانون کی گرفت سے بچانے کا مقصد محض ایک ادارے کی بالادستی کے تصور کو قائم رکھنا ہے تو یہ ایک ناقص حکمت عملی ہے کیونکہ بالادستی محکوموں اور غلاموں پر قائم رکھی جا سکتی ہے آزاد معاشروں اور ذہنوں پر نہیں۔ بلوچستان کے مسائل کو تو ریاستی سنسر شپ کے ذریعے دبا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہاں سب ٹھیک ہے لیکن مشرف کے جرائم محض بلوچستان تک محدود نہیں، کارگل جیسی جنگی حماقت، منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹنا، آئین سے غداری، این آر او، بینظیر کا قتل، طالبان سے متعلق دُہری حکمت عملی اور ایمرجنسی کے نفاذ سمیت متعدد ایسے جرائم ہیں جن پر مشرف کا عدالتی اور سیاسی محاسبہ ضروری ہے۔ ایسے لاتعداد جرائم ہیں جو مشرف کے کھاتے میں ہیں۔ لاتعداد گم شدہ افراد کے ورثا آج بھی مشرف سے اپنے پیاروں کا حساب چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوان اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں گردانتے ہیں لیکن شاید ریاست اپنی غلطیوں پر نادم نہیں۔

 

نواب اکبر بگٹی کو صوبائی خود مختاری، صوبے کے وسائل پر رائلٹی میں اضافہ اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے جیسے جن مطالبات کی بناء پر ملک دشمن قرار دے کر مارا گیا ان پر مذاکرات کی میز پر گفتگو ہو سکتی تھی لیکن مشرف نے طاقت کے خمار میں ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اکبر بگٹی کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔ گو اکبر بگٹی کے ہتھیار اٹھانے اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے اقدامات بحث طلب ہیں لیکن اگر وہ مجرم بھی تھے تو انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے کی بجائے عدالت میں یا کسی تحقیقاتی کمیشن میں اپنے دفاع کا حق دیا جانا چاہیئے تھا۔ مشرف نے محض اپنی ذاتی اور اپنے ادارے کی انا کی تسکین کے لیے اپنے ادارے، عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ مشرف کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے بلوچستان کو ایسی آگ میں جھونکا جس کی شدت سے آج بھی یہ صوبہ جل رہا ہے۔ ایسے میں بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل کی خاطر مشرف پر مقدمہ نا صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق چلنا چاہیئے تھا بلکہ اسے دیگر مجرموں کی طرح عدالتی پیشیوں پر پیش ہونے کا بھی حکم دیا جانا چاہیئے تھا۔ اگر ارباب اختیار بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں تو ریاست کو خود اکبر بگٹی کیس کو سپریم کورٹ کے کسی تحقیقاتی کمیشن کے سپرد کرنا چاہیے تا کہ اصل حقائق سے پردہ اٹھنے کے ساتھ ساتھ اکبر بگٹی کے قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔