Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا حکومت کی تین سالہ کارکردگی

گیارہ مئی 2016ء کو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے تین سال مکمل ہوئے جبکہ تیس مئی 2016 کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کو ایک برس مکمل ہو جانے کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی کیسی رہی۔ تیس مئی 2015 کو خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے میں مقامی حکومتوں کے قیام کے لئے انتخابات منعقد کیے۔ انتخابات کو مکمل ہوئے ایک برس گزر جانے کے باوجود ان اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے، کیونکہ ابھی تک نہ تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل کئے گئے ہیں اور نہ ہی ترقیاتی فنڈز۔

 

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کو ایک برس مکمل ہو جانے کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی کیسی رہی۔
مئی 2013ء کے پارلیمانی انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنی تقریروں، نجی گفتگو اور ذرائع ابلاغ کو دئیے جانے والے انٹرویوز میں متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے تھے کہ جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کا انحصار بلدیاتی نظام پر ہے ان کا دعویٰ تھا کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے ترقیاتی فنڈ اوراختیارات منتخب نمائندوں کے حوالے کریں گے جبکہ اراکین اسمبلی کا کام قانون سازی ہو گا۔ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے قیام کے بعد انتخابات سے قبل کے دعوے اور وعدے ایک ایک کر کے بھلا دئیے گئے جن میں مقامی حکومتوں کا قیام بھی شامل تھا۔

 

ذرائع ابلاغ اور عدلیہ کے زبردست دباؤ کے بعد بالآخر دوسال بعد تیس مئی دوہزارپندرہ کو صوبہ بھر میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات منعقد کرائے گئے۔ تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی کے باعث صرف دوسال بعد ہی عوام نے اس حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور صوبے کے بیشتر اضلاع میں پاکستان تحریک انصاف کے ووٹس میں کمی آئی ہے۔ اس کے بعد سے صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو طاعون زدہ سمجھ کر انہیں ہاتھ لگانے سے گریز کر رہی ہے۔ انتخابات کے 93روز بعد تیس اگست دوہزار پندرہ کو منتخب بلدیاتی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کاروائی پوری کی گئی۔ حلف لیے جانے کے کئی ہفتوں بعد ضلعی اور تحصیل حکومتوں کا قیام عمل میں آیا۔ آئے روز حکومتی ذرائع سے بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے، اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے بیانات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہے لیکن عملی کام نہ ہو سکا۔ دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے اب سال میں بدل چکے ہیں لیکن ابھی تک بلدیاتی اداروں کو فعال نہیں بنایا جا سکا۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ صوبائی بجٹ کا بڑاحصہ لیپس ہوگیا ہو بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سال بجٹ لیپس کرنے کی ہیٹ ٹریک مکمل کی ہے۔
گزشتہ برس بلدیاتی انتخابات کے صرف چند روز بعد صوبائی حکومت نے مالی سال 2015-16ء کا بجٹ پیش کیا جس میں بلدیات کے لئے 45 ارب روپے مختص کی گئی تھی۔ مالی سال کے اختتام کے پر پتہ چلا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم کا بڑاحصہ یعنی 11 ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ بلدیات ودیہی ترقی کے لئے جاری کردہ 44ارب روپوں میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جا سکا۔ یعنی گزشتہ ایک سال سے منتخب بلدیاتی نمائندے محض طفل تسلیوں گزارا کر رہے ہیں جبکہ عوام نے ان نمائندوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صوبائی بجٹ کا بڑاحصہ لیپس ہوگیا ہو بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سال بجٹ لیپس کرنے کی ہیٹ ٹریک مکمل کی ہے۔ اس سے قبل مالی سال 2013-14ء کے اختتام پر 94 ارب روپے مالی سال 2014-15ء میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم کا ساٹھ فیصد یعنی 97ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ دوبارہ خزانے میں چلے گئے تھے اور مالی سال 2015-16ء میں بھی ایک سو دس ارب روپے سے زیادہ رقم لیپس ہو گئی ہے۔

 

نامور صحافی محمد شریف شکیب ایک ماہ قبل اس حوالے سے لکھا تھا “رواں مالی سال کے گیارہ مہینوں میں سالانہ ترقیاتی فنڈز کا صرف ساٹھ فیصد ہی خرچ ہو سکا جبکہ مالی سال کے اختتام پر چالیس فیصد بجٹ لیپس ہونے کا خدشہ ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص 113 ارب روپے میں سے صرف 67کروڑ70لاکھ روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں جبکہ مالی سال ختم ہونے میں چند روز ہی باقی ہیں۔ محکمہ صحت، بلدیات و دیہی ترقی، سماجی بہبود اور جنگلات سمیت گیارہ محکمے اپنے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں سے پچاس فیصد بھی اب تک خرچ نہیں کر سکے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق محکمہ خوراک، معدنیات، ماحولیات اور توانائی سمیت نو محکمے اپنے بجٹ کا ایک چوتھائی بھی خرچ نہیں کر سکے۔ ان محکموں کا 75فیصد فنڈز لیپس ہونے کا اندیشہ ہے صوبائی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جن شعبوں کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں شامل کیاہے ان کے لئے مختص فنڈ زبھی مالی سال ختم ہونے کے باوجود استعمال نہیں کیے جا سکے جن میں محکمہ صحت، بلدیات ودیہی ترقی اور جنگلات قابل ذکر ہیں۔

 

ایک مختاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً تین سو ارب یعنی تین کھرب روپے استعمال نہ ہو سکے جو کہ ایک غریب صوبے کے لئے بہت بڑی رقم ہے۔
بلدیاتی اداروں کے قیام کے باوجود منتخب نمائندے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کرسکے حالانکہ صوبہ بھر میں چالیس ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے لئے 44 ارب روپے کا اعلان کیا گیا تھا اس رقم میں بعد ازاں کٹوتی کی گئی اور باقی ماندہ رقم کابھی نصف حصہ بروئے کار نہیں لا سکا۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے ’بلین ٹری سونامی‘ مہم کے تحت صوبے میں ایک ارب پودے لگانے کا منصوبہ شروع کیاہے اس منصوبے کے لئے کافی وسائل درکارہیں لیکن مالی سال کے دوران محکمہ جنگلات وماحولیات کے لئے مختص فنڈ کا پچیس سے پچاس فیصد خرچ نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے”۔

 

سن 2013ء کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا کو جس ماڈل صوبے کی شکل دینے کی بات ہوئی تھی وہ معاملہ انتظامی نااہلی کی نظر ہو چکا ہے البتہ خیبرپختونخوا بجٹ لیپس کے حوالے سے مثالی صوبے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً تین سو ارب یعنی تین کھرب روپے استعمال نہ ہو سکے جو کہ ایک غریب صوبے کے لئے بہت بڑی رقم ہے۔ مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت نے ان تین سالوں میں ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا اورنہ ہی مستقبل میں ایساکوئی امکان ہے۔ مالی سال 2013-14ء میں لواری ٹنل کے لئے تین ارب روپے مختص کئے گئے تھے مالی سال کے خاتمے پر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
پورے ملک کی طرح خیبرپختونخوا میں بجلی کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن ابھی تک توانائی کے شعبے میں کوئی کام نہیں ہوا حالانکہ صرف چترال میں ہی 14 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلے میں کئی مقامات پر سینکڑوں اور ہزاروں میگاواٹ بجلی گھروں کی ابتدائی فیزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے لیکن اب تک ایک پربھی عملی کام شروع نہیں ہوا۔ اگر چہ صوبائی حکومت نے این جی اوز کی مدد سے چترال اور ہزارہ ڈویژن میں چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے اربوں روپے جاری کردئیے ہیں لیکن ان میں بھی کام کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ ضلع چترال کا بالائی حصہ یعنی سب ڈویژن مستوج گزشتہ گیارہ ماہ سے تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ پچھلے سال مون سون کے موسم میں علاقے کو روشنی سے منور کرنے والا چاراعشاریہ دومیگاواٹ کے واحد بجلی گھر کو سیلاب کی وجہ سے جزوی نقصان پہنچا تھا لیکن تاحال اس کی دوبارہ بحالی سے متعلق کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیاگیا ہے۔

 

مقامی حکومتوں کے انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال بلدیاتی اداروں کے ذریعے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا
ابتدائی دو برس میں یہ کہہ کر ترقیاتی کام شروع نہیں کئے گئے کہ چونکہ بلدیاتی نظام کی غیر موجودگی میں کرپشن کے امکانات موجود ہیں لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے بعد منتخب نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی کام شروع کیا جائے گا لیکن مقامی حکومتوں کے انتخابات کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال بلدیاتی اداروں کے ذریعے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا یوں ترقی کا پہیہ 2013ء کے بعد رک چکا ہے۔

 

ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کو فتح کرنے کی کوشش میں اپنے زیر انتظام صوبے کو پتھر کے دورمیں دکھیل رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حد تک پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس مربوط لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ نظام حکومت اشتہار بازی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اگلے انتخابات میں خیبرپختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ حلقہ پی کے 8 کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے جبکہ اس سے قبل اپر دیر کے عوام نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدوار کو بدترین شکست سے دوچار کرتے ہوئے حکومت کو سبق سکھایا ہے مگر عوام کی نبض پر کب کسی حکمران کا ہاتھ رہا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان، میرے محبوب ترین راہ نما، کیوں؟

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

کیونکہ آپ نے ہتھیلی پر سرسوں جماتے ہوئے مارچ ۱۹۹۲ میں پاکستان کو پہلا (اوراب تک کا آخری) کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے شوکت خانم اسپتال جیسا بیمار پرور شفاخانہ کھڑا کیا؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ دنیا بھر میں ایک کرشماتی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کو دنیا بھر میں شادی کے لیے ایک سے ایک آفرز موصول ہوئیں؟ اجی نہیں۔ کیونکہ آپ پندرہ فٹ اونچے سٹیج سے گردن کے بل گرے، لیکن گردن میں خم نہیں آیا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ زمین پر ورکرز کے ہمراہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر سوکھا باسی کھانا کھاتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ نے چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، اور یہی مطالبہ چالیس حلقوں۔۔اور پھر۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے آزادی مارچ جیسا انقلابی قد م اٹھایا؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ آپ نے پنتیس پنکچرز والی بلاک بسٹر ٹیپ ریلیز کی اور ایک بریگیڈئر کا نام عوامی اجتماعات میں بہ بانگ دہل پکارا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی جماعت میں محترمہ شیریں مزاری جیسی قدآور سیاستدان بطور ترجمان پائی جاتی ہیں؟ جی نہیں، ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی سیاست کو ٹریفک کے ایک سگنل سے منسوب کیا جاتا ہے؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ جہانگیر ترین، خورشید قصوری، عبدالعلیم خان، شاہ محمود قریشی اور لاتعداد کھرانٹ انقلابیے آپ کے دست راست ہیں؟ناں، ہرگز نہیں۔ تو پھر شاید اس لیے کہ آپ کے ہم قدم ان دنوں پنڈی والے شیخ صاحب آپ کے مصاحب ہیں؟ جی نہیں۔ ہر گز نہیں۔ تو پھر آخر ایسی کون سی خوبی باقی رہی جس کی بدولت آپ ہمارے محبوب ترین رہنما ہوئے ہیں۔
لیجیے، ہم بیان کیے دیتے ہیں ۔ تو صاحب ایسا یوں ہوا ہے کیونکہ حکومتی نااہلی اور عوام کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے خان صاحب نے ایک قومی لیڈر کا روپ دھارا،کراچی سے خیبر تک اور گوادر سے قراقرم تک تمام ملکی مسائل کے حل کے لیے انتہائی جاں فشانی سے دن رات ایک کیا، نان ایشوز کو چھوا تک نہیں، اور ہمارے حقیقی مسئلوں پر کیا کیا نہ کر دکھایا۔ مثال کے طور پر یہ خان صاحب ہی تھے جنہوں نے گزرے ڈیڑھ برس کا نصف یعنی پورے نو ماہ بلوچستان میں گزارا۔ پارٹی تنظیم سازی تو ثانوی معاملہ رہا، اصل میں اس عرصے کے دوران آپ نے تمام ناراض بلوچ قبائل سے لاتعداد ملاقاتیں کیں۔ یہ آپ ہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ آج حکومت اور ناراض بلوچ رہنما ایک میز پر اکٹھے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناصرف وفاقی اور صوبائی حکومت بلکہ پورا بلوچستان آپ کو سفیر امن کے نام سے یاد کرتا ہے۔
ٓآپ کی جماعت نے خیبرپختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔
اندرون سندھ ہو، کراچی کی بد امنی ہو یا جنوبی پنجاب کی دہائیوں سے جاری محرومی ہو۔ خان صاحب نے نہ صرف ان اہم معاملات کی وکالت ایوان میں کی بلکہ ایوان سے باہر بھی آپ کی آواز سب سے موثر ثابت ہوئی۔ ان مدعوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو خان صاحب نے آن بورڈ کیا، اور آپ کی یہی وہ کاوشیں ہیں جنہوں نے آپ کو ملک کا مقبول ترین راہ نما بنا دیا۔
آپ نے ناصرف دھاندلی زدہ انتخابات کو قبول کیا بلکہ جمہوریت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا وقت دیتے ہوئے چار سال کا کڑوا کسیلا گھونٹ بھرنے کو ترجیح دی۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے نکلا،عوام بلبلا اٹھے۔اور مجبوراً سڑکوں پر آٓگئے، تو حکومتی بے حسی اورنا اہلی کھل کر سامنے آگئی۔ ایسے میں خان صاحب آگے بڑھے، تحریک انصاف کے تھینک ٹینک کے سرکردہ ماہرین کو بلایا۔ ہفتوں سر جوڑے بیٹھے رہے۔اور بالآخر حکومت کو لوڈشیڈنگ سے جلد چھٹکارا اپانے کا تیر بہدف نسخہ عطا کرتے ہوئے ایک اور شرمندگی سے دو چار کیا۔
خدا خوش رکھے، خان صاحب ملکی تاریخ کے وہ واحد اپوزیشن رہنما ہیں جنہوں نے ایوان میں عددی اکثریت کم ہونے کے باوجود انتہائی موثر اندا ز میں ملکی داخلی اور خارجی مسائل پر پالیسی ساز اقدامت تجویز کیے جن کو قبول کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہا۔ میرے محبوب رہنما نے انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کے تدارک کے لیے سیاسی اور آئینی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے جامع اور مفصل تجاویز پیش کیں جنہیں ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر حکومت نے یہ اصلاحات من و عن تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین کا حصہ بنا دیا ۔
آپ کی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ دو چار نہیں بلکہ تین سو پچاس ڈیمز بنا ڈالے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کے کسی بزنس مین سے یہ پوچھا جائے کہ صاحب، آپ کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تو وہ عجز و انکساری سے شرماتے ہوئے یہ جواب دیتا ہے؛ “کچھ خاص نہیں جی، بس ایک چھوٹا سا ڈیم ہے”
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عجیب پاگل لکھاری ہے۔بھئی، یہ سب کام تو حکومت کے کرنے کے تھے۔ یہ سب بھلا خان صاحب کے گلے کیوں ڈالے گئے۔تو صاحب، گزارش فقط اتنی سی ہے کہ جب حکومت ہی نا اہل ہو تو پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں خان صاحب کے کردار کو بھلا کیونکر جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اور حکومت اپنی ساکھ ویسے ہی مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ عوام الناس عام انتخابات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ اب تو وولف بلٹزر اور کرسٹینا آمنپور کو بھی خان صاحب کا انٹرویو لینے کے لیے چھ ماہ کی ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی ہے، رہی بات ملکی میڈیا کی تو ابھی چند روز پہلے آپ نے ملک کے دو جیدصحافیوں جناب طلعت حسین صاحب اور محترمہ نسیم زہر ہ صاحبہ کو انٹرویوز کے دوران ا انتہائی تحمل اور مدلل گفتگوسے لاجواب کر دیا۔اور پھر پورے پاکستان نے دیکھا کہ کیسے یہ صحافی لاجواب ہو کر رہ گئے۔ ہیں جی!
صاحب، اندر کی اطلاع یہ ہے کہ بے پناہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب محترمہ شیریں مزاری اور دیگر سینئر رہنما رات دن ایک ہی مدعے پر دماغ کھپا رہے ہیں۔ اور وہ مدعا یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت عظمی تاحیات خان صاحب کے نام کر دی جائے۔امید ہے کہ اس گھمبیر سمَسیا کا حل جلد تلاش کر لیا جاوے گا۔
آپ کے کرشماتی حسن پر مولانا حسرت موہانی کا وہ شعر ہی پیش کر سکتا ہوں؛
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

 

نوٹ:( قارئین کے بے پناہ اصرار کے باوجود ناچیز مرشد پاک، اعلیٰ حضرت قبلہ شیخ السلام پروفیسر ڈاکٹر حضرت علامہ طاہرالقادری مدظلہ العالی المعروف عالم رویا والے کے جملہ اوصاف پر مزید روشنی ڈالنے سے قاصر ہے۔کیونکہ اس حقیر نے بالآخر قبلہ کی مریدی کا فیصلہ کر لیا ہے۔وجوہات کا ذکر پھر سہی)
Categories
نقطۂ نظر

The Censure of “I am Malala” Continues

Continuing the official policy of disowning and discrediting Malala Yousufzai, the PTI led government in Khyber Pakhtoonkhwa (KP) stopped the launching ceremony of Malala’s book “I am Malala”. The ceremony was scheduled in University of Peshawar’s area study center on January 28 with the collaboration of Bacha Khan Trust Education Foundation (BKTEF) and Strengthening Participatory Organization (SPO). The ceremony was cancelled when the law enforcement agencies refused to provide security and the organizers were pressurized by the government officials.
The area study center’s Director Sarfraz Khan told that he was pressurized by the Vice Chancellor and the government officials to withdraw. Khadim Hussain, the Director of BKTEF, condemned it by calling this incident against the spirit of freedom of expression and promotion of education.

“It was to get more US funding”
The Information Minister of KP government Shah Farman accused BKEF’s support for the launch of Malala’s book as a move to get “more funds from US”. He said that the venue was not suitable for the launch as the government is against the use of educational institutes for political gain. “Government is ready to support them but using educational institutions for political gains would disrupt the educational environment for the students.” He said.
Government’s plea of not using the campus for ‘political gains’ faced a backlash two days after the cancellation of the ceremony when many students protested against the visit of Shireen Mazari, the official spokesperson of the ruling party PTI. The protesters were incensed at the cancellation of the book launch and administration’s hypocritical role.

“They stopped us to please Taliban”
The Bacha Khan Foundation criticized the government and stated that KP government’s decision to stop the book launch was a move to please Taliban. “They stopped us to please Taliban, we will soon announce another date for the book launching.” Khadim Hussain, the Director of BKTEF told AFP.
The spokesperson of the teachers association at Peshawar University Dr. Jamil Chitrali has opposed the government’s actions saying “It has brought a bad name to the university.”

A student on the condition of anonymity told Laaltain that Malala’s book is an inspiration for all of us in this time of distress.

Students Divided on Malala’s book: “not suitable” versus “an inspiration for all”
The opinion of the student community about the book is divided. Many students at University of Peshawar favored the cancelation of the book launch as they thought that Malala was promoting the “Western agenda” in Pakistan. A student named Saifullah talking to The Laaltain said that Malala is not a hero and he thinks that her book contains “un-Islamic” content which is not suitable for us. When asked if he himself has read the book he said, “I have heard this from many people that it is not suitable for reading.”
A student on the condition of anonymity told Laaltain that Malala’s book is an inspiration for all of us in this time of distress. She stated that Malala’s story gives her the courage to stand and speak for her rights.
Feroz Khan, another student at the University was of the view that Malala should be the symbol of our struggle against extremism and terrorism instead she has been neglected and abandoned by the state and the people.

In November last year the All Pakistan Private Schools Management Association (APPSMA) had already banned Malala’s book from private schools of Pakistan. The decision was taken as the association thought the book was “inappropriate” for the students. The president of APPSMA, Mirza Kashif objected on Malala’s views about the status of women and freedom of expression calling them against the Islamic ideology.
Some of the renowned Urdu columnists such as Oriya Maqbool Jan and Ansar Abbasi have also labeled this book un-Islamic in their writings. Earlier the booksellers in KP have refused to put “I am Malala” on stalls feeling themselves under threat for selling the book.
On the other hand, rights activists and education experts have showed concern over the threats posed against the forums of education and public debate. They opine that people generally and the government in particular are not willing to oppose the growing radical extremism which is affecting the education sector the most.