Categories
نقطۂ نظر

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں ہنی ڈانس اکیڈمی سے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ہنی ڈانس اکیڈمی لندن میں قائم بھنگڑا سکھانے کی مشہور ترین اکیڈمی ہے۔ خبرستان ٹائمز کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ نومبر سے اس اکیڈمی میں بھنگڑے کی باقاعدہ تعلیم حاسل کر رہے ہیں۔ بلاول کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں بلاول بھٹو کو ذاتی گرو کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی گرو اس سے قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بھنگڑا سکھاتے رہے ہیں، کلنٹن نے ہندوستان کے تین روزہ دورے سے قابل اسی گرو سے فون پر بھنگڑے اور سیاست کے تعلق پر مشاورت کی تھی۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی بات چیت کے دوران بلاول نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی۔

 

پی پی پی چیئرپرسن کا کہنا تھا، “اگرچہ سیاست میں نے اپنے اپنے ماں باپ سے سیکھی ہے، اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے مگر میں سیاست میں جدت کا قائل ہوں۔ مجھے اپنی تمام سیاسی الجھنوں کا حل ہنی ڈانس اکیڈمی میں ملا ہے۔” بلاول کا خیال ہے کہ بھنگڑے کی مدد سے وہ بطور رہنما لوگوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکیں گے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا یہی ایک راستہ باقی بچا ہے۔

 

بلاول بھٹو اس ضمن میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے اس فیصلے کی وجہ تسلیم کرتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا، “کیا آپ نے ہڑی پہ پر جسٹن ٹروڈو کے بھنگڑے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ اس کے بھنگڑے نے سبھی ناراض ووٹرز کو راضی کر لیا اور جلسے کامیاب ہو گئے۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی نسل چاہتی ہے کہ سیاستدان ان کے مسائل کو سمجھیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح ان کی شادیوں اور مہندیوں میں شریک ہوں۔ میں عوام کو اپنی شخصیت کا پرمزاح، نرم خو اور پنجابی رخ دکھانا چاہتا ہوں۔”

 

بلاول نے اس گفتگو کے دوران معاصر سیاسی رحجانات سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا،”لاکھوں کروڑوں لوگ عمران خان کے جلسے میں جاتے ہیں لیکن اسے ووٹ نہیں ڈالتے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ کھلے آسمان تلے بھنگڑا ڈال سکیں۔” بعض ناقدین نے بلاول بھٹو کی ‘بھنگڑا پاو، پاکستان بچاو’ مہم کو 2014 کے دھرنوں کی نقالی قرار دیا ہے۔ تاہم بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی بھنگڑا ریلیاں اس لیے مختلف ہوں گی کہ وہ خود بھنگڑا کوریوگراف کریں گے اور اس کی قیادت بھی کریں گے۔ “میں کسی تھرڈ امپائر کے اشاروں پر نہیں ناچوں گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھنگڑے کے ذریعے کم کاردیشان اور گینگنم سٹائل سے زیادہ ویوز اور راہول گاندھی سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔

 

بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بلاول کے بھنگڑا گرو بلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھنگڑا ایک مشکل فن ہے مگر نوجوان بلاول سیکھنے کی ٹھرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے لائحہ عمل پوری توجہ سے تیار کر رہے ہیں “مجھے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہیا کیے گئے تھے اور میں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہی steps تشکیل دے رہا ہوں۔”

 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری ان کے ان ‘نئے سیاسی داو پیچ’ سے متفق ہیں تو بلاول نے قدرے بے چینی سے جواب دیا “میرے والد کو میرا بھنگڑا کچھ بہت زیادہ پسند نہیں، جب کبھی میں انہیں اپنے ٹھمکے دکھاتا ہوں تو ان کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔” تاہم ان کے خیال میں اگر پارٹی پنجاب میں اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سینئر پارٹی قیادت بھی ان کے بھنگڑے میں شریک ہو گی تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ آج کل دلیر مہدی کے گیت سن رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں بھارتی مداخلت، ‘وار’ فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اسلام آباد: مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ میں ہندوستانی مداخلت کی فائل جمع کرا دی ہے۔ خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔ خبرستان ٹائمز بعدازخرابی بسیار اس فائل کی ایک نقل صاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس فائل کے جائزے سے چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ فائل میں موجود ڈی وی ڈی کے مطابق ایک ہندوستانی ایجنٹ ‘رمل’ پاکستان میں ہندوستان کے جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان ثبوتوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ‘رمل’ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں کی سرپرستی بھی کرتا رہا ہے۔

 

خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔
دو گھنٹے بیس منٹ دورانیے کی اس ڈی وی ڈی سے پاکستان میں ایک اور ہندوستانی جاسوس ‘لکشمی’ کے سرگرم ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے مطابق ‘لکشمی’ کا اپنی موت سے قبل ایک پاکستانی سیاستدان اعجاز خان کے ساتھ مراسم تھے اور لکشمی نے چند قیمتی راز ہندوستان کو منتقل کیے تھے۔

 

آئی ایس آئی نے مختلف کارروائیوں میں دستوں کی قیادت کرنے والے میجر مجتبیٰ رضوی کا بیان بھی نقل کیا ہے۔ میجر مجتبیٰ رضوی کے مطابق لکشمی اور رمل بدنام زمانہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے ہرکارے تھے۔ متدد آپریشنز میں حصہ لینے والے فیلڈ آفیسر احتشام کا کہنا تھا کہ رمل اور لکشمی کے گھر پر چھاپے کے دوران ہندوستانی پاسٌورٹ، الطاف حسین کی ‘قابل اعتراض حالت میں’ تصاویر، پان پراگ اور آزاد بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے پاکستانی دعووں کی سختی سے تردید کی اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا “یہ کس قسم کا مذاق ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں ثبوتوں کی فائل میں فلم ‘وار’ کی کہانی لکھ دینے سے پاکستان میں ہندوستانی مداخلت ثابت ہو جائے گی؟” ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔

 

ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔
نامہ نگار خبرستان ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی فائل میں موجود افراد رمل، لکشمی، میجر مجتبیٰ رضوی، اعجاز خان اور احتشام دراصل آئی ایس پی آر کی معاونت سے تیار ہونے والی بلاک بسٹر پاکستانی فلم ‘وار’ کے کردار ہیں۔

 

خبرستان ٹائمز نے ٹویٹر پر میجر جنرل عاصم باجوہ سے اس فائل میں مہیا کیے جانے والے ثبوتوں سے متعلق سوال کیا، میجر جنرل کی جوابی ٹویٹ کے مطابق، “ثبوتوں کی فائل وار فلم کی پروڈکشن شروع ہونے سے قبل تیار کی گئی تھی اور ان دونوں میں مماثلت اتفاقیہ ہے۔”

 

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے دوران ثبوتوں کی فائل میں شامل وار فلم کی وی ڈی پروجیکٹر پر چلائی جائے گی اور جلد ہی اس کا تھری ڈی ورژن بھی اقوام متحدہ میں جمع کرایا جائے گا۔ پریس ریلیز کے مطابق ثبوتوں کی ہر فائل کے ساتھ ڈھائی سو گرام پاپ کارن اور 500 ایم ایل کوک بھی دی جائے گی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ سیمنٹ نوشوں کی تعداد میں اضافہ، مزید فلائی اوورز کی تعمیر کا مطالبہ

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لاہور: امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نیڈا کی تحقیق میں شہر کے مختلف علاقوں میں ناکافی اور سست تعمیراتی کام کے خلاف منعقد کی گئی احتجاجی ریلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیڈا کے تحقیقاتی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے شہریوں میں سیمنٹ کا روزانہ استعمال 4 ملی گرام یومیہ سے بڑھ کر 1.68 گرام یومیہ ہو چکا ہے۔

 

امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
نیڈا سے وابستہ محقق البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا “سیمنٹ کے استعمال میں یہ اضافہ Concrete intoxication یا سی سی آئی کی واضح علامت ہے”۔ ماہرین نے اس نئے منشیاتی مظہر کو multiple cement intake (ایم سی آئی) کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا کہ سیمنٹ سے حظ کشید کرنے کا یہ معاملہ کسی بھی اور مسکن یا نشہ آور شے کے استعمال سے مختلف ہے۔

 

نیڈا سے تعلق رکھنے والی ماہر جیلینا بیلیچ کے مطابق، “دنیا کی بہترین میٹرو بس سروس کی تعمیر مکمل ہونے اور میٹرو ٹرین کی تعمیر شروع ہو جانے کے بعد سے شہریوں کی جانب سے مزید دلکش سرمئی کنکریٹی ستونوں اور پلوں کا مطالبہ دیکھنے میں آیا ہے”۔

 

دریائے لکشمی شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں رونما ہونے والا ایک اور تعمیراتی معجزہ ہے۔ دریا کنارے منعقد ہونے والی حالیہ ریلی میں شریک ایک شہری بہادر ملک کا کہنا تھا،”ہم سب اپنے شہر کو وینس بنتا دیکھ کر مسرور ہیں۔” انہوں نے نشہ دو آتشہ کرنے کے لیے اورنج ٹرین کے ٹریک کے ساتھ ساتھ سلائیڈز لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔ بہادر ملک نے قریبی کنکریٹ مکسچر مشین سے چرایا گیا کنکریٹ سونگھتے ہوئے بتایا،”یہ دریا اپنی تہہ میں کئی راز پوشیدہ کیے ہوئے ہے بالک!!!”۔ مظاہرین نے اس موقع پر جیے شہباز قلندر شریف کے نعرے لگاتے ہوئے دھمال بھی ڈالی۔

 

بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔
شہریوں نے ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کلمہ چوک پر ایک اور فلائی اوور بنانے کا مطالبہ کیا۔ یو ای ٹی میں انجینئرنگ پروفیسر نازیہ بھٹی نے کلمہ چوک انڈر پاس کو اپنا پسندیدہ انڈر پاس قرار دیا، “یہی وہ انڈر پاس تھا جس نے مجھے پہلی بار سیمنٹ سونگھنے کی طرف مائل کیا”۔ سیمنٹیوں اور کنکریٹیوں کی ایک بڑی تعداد کو اورنج میٹرو ٹرین کے زیر تعمیر ستونوں کے پاس منڈلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گانجا، چرس اور شراب چھوڑ کر سیمنٹ اور کنکریٹ کا ‘تعمیری نشہ’ کرنے لگی ہے۔ بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔

 

شہریوں نے ماڈل ٹاون اور ڈی ایچ اے کو ایک زیرِ زمین گزرگاہ کے ذریعے ملانے کا بھی مطالبہ کیا۔ گورا قبرستان میں آسیب بن کر منڈلانے والے جمشید جنجوعہ نے بھی دیگر قبرستانوں سے بہتر مابعدالطبعیاتی تعلقات استوار کرنے کے لیے ایک گزرگاہ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹس میں شہریوں کی تجاویز پیش کر دی گئی ہیں اور حکام کی جانب سے جلد ایک ماسٹر پلان پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔