Categories
نقطۂ نظر

جنگ، جہاد اور پاکستان؛ ایک مختصر جائزہ-دوسرا حصہ

[blockquote style=”3″]

بابر ایاز کی کتاب What’s wrong with Pakistan میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اب تک 6 جنگوں میں ملوث رہا ہے لیکن پاکستان ہر جنگ کو مذہبی جنگ (جہاد) کہہ کر ہی لڑا۔ عوام کو ایک مخصوص نقطہ نظر تک محدود رکھنے اور ایک خاص نظریے کی طرف مشغول رکھنے کے لیے ہر سطح پر جھوٹ بولنا اور حقائق کو مسخ کرنا پاکستانی ریاست کی روایت رہی ہے۔ اس سے نقصان یہ ہوا، کہ ایک جانب تو آپ اپنی نسلوں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، عوامی رائے عامہ متعصب رہتی ہے تو دوسری جانب ریاست کے وہ کرتا دھرتا جنہوں نے ایسے فیصلے کئے ہوتے ہیں جن سے ریاست اور قوم کو شدید نقصان پہنچا ہو وہ عوام کی نظروں میں پاک صاف، محب وطن اور باعزت رہتے ہیں۔ تاریخ میں قوموں کے ساتھ غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں اور مہم جو عسکری اور سیاسی رہنما بھی پیدا ہو جاتے ہیں لیکن وہی قومیں ترقی کی طرف بڑھتی ہیں جو سچائیوں کا سامنا کرتی ہیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہیں۔ نئی نسل کے لئے ضروری ہے کہ ان کے سامنے حقائق لائے جاتے رہیں جن کے دماغوں کو ‘مطالعہ پاکستان’ کی ایمانی افیون سے سلا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میں ان بابر ایاز کی کتاب میں مذکور 6 جہادوں کا مختصر خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ آپ دیکھیں گے، کہ ہمارے عسکری کمانڈروں اور سیاسی قائدین نے پاکستان اور عوامی مستقبل کے ساتھ کتنے خطرناک کھلواڑ کیے۔ جن کے بوئے ہوئے کانٹوں کے رستے زخم 20 کروڑ عوام برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے جو ہمارے کسی فوجی یا سیاسی رہنما نے اپنی غلطی تسلیم کی ہو، اس پر ذرا بھی پچھتاوا محسوس کیا ہو۔ ہاں ان کی دولت، ثروت اورمراعات میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس تحریر کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
چوتھا جہاد: 89- 1978 افغانی شورش

 

افغانستان میں شورش امریکہ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور جہادیوں کا مشترکہ مشن تھا۔ بابر ایاز لکھتے ہیں،” کہ ایک دفعہ مجھے امریکی سفارت کار نے پوچھا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں امریکہ کے اتنے خلاف کیوں ہیں، تومیں نے جواب دیا۔ ‘وہ خود کو امریکہ کی طلاق یافتہ بیویاں سمجھتے ہیں’۔ سوویت یونین کے خلاف جب تک سرد جنگ رہی، امریکہ اسلام پسندوں کی مدد کرتا رہا۔ امریکہ مولانا مودودی کی بڑی تعداد میں کتابیں اور جہادی لٹریچر خریدتا، چھاپتا اور تقسیم کرتا رہا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین کو وظائف دیئے جاتے (امریکہ کتابیں سمندر میں پھینک دیتا تھا یہ محض جماعت اسلامی کو فنڈز دینے کا ایک بہانہ تھا)۔

 

ایک دفعہ مجھے امریکی سفارت کار نے پوچھا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں امریکہ کے اتنے خلاف کیوں ہیں، تومیں نے جواب دیا۔ ‘وہ خود کو امریکہ کی طلاق یافتہ بیویاں سمجھتے ہیں’۔
80 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایتی افغان حکومت کے خلاف سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے مشترکہ مہم جوئی شروع کی۔ داود حکومت کا خاتمہ اور سوشلسٹ حکومت کا آنا افغانستان کا اندرونی معاملہ تھا لیکن پاکستان نے گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کو خفیہ مدد دینی شروع کر دی (یاد رہے،جنرل ضیا سے پہلے گلبدین حکمت یار کو بھٹو نے پشاور میں بلا کر افغانستان میں شورش کا منصوبہ بنایا تھا)۔ دیگر اسلامی گروپوں جو ہمیشہ سے افغان حکومتوں کے خلاف رہےتھے، پشاور آنے جانے لگے۔ پاک فوج نے انہیں مکمل سرپرستی اور تعاون فراہم کیا۔ لیکن سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد امریکہ اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ اس ‘جہاد’ میں کود گیا۔ کسی دوسرے ملک میں یہ دنیا کی سب لمبی اوربڑی تخریب کاری اور شورش تھی جسے پاکستانی جرنیلوں، امریکی اسلحے اور عرب پیٹرو ڈالروں سے چلایا گیا۔

 

افغان جہاد کے دوران پاکستانی معاشرے کو مذہبی جنونیت، جہادی دہشت گردی اور ہیروئن کی علت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، ان امراض نے آئندہ کئی دہائیوں کے لئے ملک کو تباہ کر دیا۔ دنیا بھر سے دہشت گرد اکٹھے کر کے ان کے لئے تریبت گاہیں اور مدرسوں کی جہادی نرسریاں بنائی گئیں۔ جب افغان جنگ اپنے اختتام کے قریب تھی، راوالپنڈی میں اوجڑی فوجی کیمپ میں پڑے اسلحے میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے اپریل 1988 کی ایک صبح بموں اور راکٹوں کی بارش پنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر برسنی شروع ہو گئی جس میں 1000 شہری ہلاک ہوئے۔ اس سانحے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے جرنیل اس ملک کے ساتھ کیاکچھ کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم جونیجو نے لیفٹینٹ جنرل عمران اللہ خان سے اس واقعے کی تحقیقات کے بعدرپورٹ بنوائی جو کبھی قوم کے سامنے نہیں لائی گئی۔ تاہم وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے، کہ جنرل ضیا نے اوجڑی کیمپ میں آگ لگوائی کیونکہ امریکہ کے دیے ہوئے اسٹنگر میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔

 

وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے، کہ جنرل ضیا نے اوجڑی کیمپ میں آگ لگوائی کیونکہ امریکہ کے دیے ہوئے اسٹنگر میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔
جنرل ضیا نے جونیجو حکومت کو اوجڑی کیمپ کی انکوائری کرانے کے ‘جرم’ میں برطرف کردیا۔ جنرل ضیا کا یہ خواب پورا نہ ہوا، کہ وہ فاتح افغانستان کی حثیت سے جلال آباد کی مسجد میں نماز پڑھ سکیں۔ 17 اگست 1988 میں جنرل ضیا فوجی ہوائی جہاز کے حادثے میں وفات پا گئے، حادثے میں امریکی سفیر اور فوجی افسران بھی ہلاک ہوئے۔ اس واقعے ک تحقیقات بھی کبھی قوم کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ لگتا یہی ہے کہ ‘اسٹیبلش منٹ’ اور امریکہ کی ملی بھگت سے جنرل ضیا کا خاتمہ کیا گیا۔ ضرورت پوری ہونے پر ‘ریاست’ ایسا ہی کرتی ہے۔ پاکسانی معاشرے کی تباہی کی صورت جنرل ضیا نے جو ‘ورثہ’ چھوڑا اس میں بے شمار جہادی تنظیمیں، فرقہ وارانہ تشدد، اسلحہ سے بھرا ہوا کرپٹ معاشرہ، فرقہ پرست مسجدوں اور مدرسوں کی گلی گلی یلغار، طاقت ور ملائیت اور مذہب گزیدہ عوام سمیت انتہا پسند عالمگیر سنی خلفت کے قیام کے لیے ساز گار زمین شامل ہیں جو آج دنیا بھر کے جہادیوں کا خواب ہے۔ وہ آئی ایس آئی کو سکھا گیا، کہ کیسے ہمسایہ ملکوں کو bleed کرتے رہنے کا دھندہ کرنا ہے۔

 

جنرل ضیا کے مرنے اور افغانستان میں مہم جوئی کے بعد ہمارے جرنیلوں نے تیارشدہ جہادی کھیپ کا رخ ہندوستان کی طرف پھیر دیا اور جہاد کشمیر کے ذریعے ایک اور مہم جوئی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔اب افغانستان کی طرح عمومی طور پر ہندوستان کو کمزور کرنا اور کابل کی طرح طور پر کشمیر کو اپنے زیر اثر لانا مقصود تھا۔ پچھلے پندرہ سال کے دوران 60 ہزارشہری اور 20 ہزار فوجی ‘شہید’ کروا کر ہم طالبان، جہادیوں، دہشت گردوں سے کھیل کھیل رہے ہیں۔ ملائیت اور فوج کی طاقت، قوت، پھیلاو مسلسل بڑھتے چلے جارہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے درمیان تعاون کی صورتیں ممکن ہیں۔

 

پانچواں جہاد: کشمیر میں شورش، 1990 کی دہائی میں

 

جنرل ضیا کے مرنے اور افغانستان میں مہم جوئی کے بعد ہمارے جرنیلوں نے تیارشدہ جہادی کھیپ کا رخ ہندوستان کی طرف پھیر دیا اور جہاد کشمیر کے ذریعے ایک اور مہم جوئی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔
ہندوستانی کشمیر سے متعلق جہادی گروہوں کی سرپرستی ابھی تک جاری ہے۔ لیکن اب اس جہاد میں اتنی شدت پیدا نہیں کی جاتی، جو ہندوستان کے ساتھ بھرپور جنگی تصادم کا سبب بن جائے۔ جوہری طاقت ہونے کا غیر ذمہ دار ریاستوں کے لئے مطلب بلیک میلنگ کا ایک نیا ہتھیار ہاتھ آنا ہے۔ چونکہ ہم روایتی ہتھیاروں والی فوج سے مقابلہ نہیں کر سکتے، لہذا اگر ہم نے اپنے وجود کا خطرہ محسوس کیا، تو ہم جوہری ہتھیار چلا دیں گے (حالانکہ ایٹم بم چلانے کے بعد بھی اپنا وجود باقی نہیں رہنا)۔ افغان جہاد سے فارغ ہونے کے بعد ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ہندوستان کو کشمیر شورش میں مشغول کر کے اسے bleed کرنے کا منصوبہ بنایا تا کہ اس کی فوج کشمیر میں پھنس کر رہ جائے۔ ویسے بھی کشمیر کا علاقہ گوریلا جنگ کے لئے مناسب ہے۔ پنجاب میں ہر دکان پر کشمیر جہاد کے چندے کے ڈبے رکھ دیئے گئے۔ گلی گلی جہادی تنظیموں کے دفتر اور تربیتی مراکز کھل گئے۔ پہلے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم حزب المجاہدین کو استعمال کیا، جو کشمیرکے پاکستان سے الحاق کی حامی ہے۔ حرکت الانصار، العمر مجاہدین، لشکر طیبہ، اخوان الجاہدین، حزب المومنین، تحریک الجاہدین وغیرہ جیسی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی بھی کی گئی۔ اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی دہشت گرد جہادی تنظیمیں بنانے کی مہارت پر ہمیں فخرضرور کرنا چاہیئے۔ اب سب سے منظم اوربڑی تنظیم لشکرطیبہ ہی ہے۔ اقوام متحدہ کے کہنے پراس پر پابندی لگا دی اور اس کا نام جماعت دعوۃ رکھ دیا گیا۔ جنوبی پنجاب کی جیش محمد بھی کشمیر جہاد کے حوالے سے بڑی تنظیم ہے۔ اس کے کمانڈر مولانا مسعود ہیں جن پر حال ہی میں پٹھان کوٹ پر حملے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ وہ صاحب ہیں، جنہیں ہندوستانی طیارہ اغوا کر کے چھڑایا گیا تھا اور انہیں ‘ریاست’ کی آشیرباد حاصل رہی ہے۔ لگتا ہے، اب ‘ریاست’ کی اجازت کے بغیر بھی وہ کارنامے سر انجام دینے لگ گئے ہیں۔

 

کشمیر کے اندر اب آزادی کی جہدوجہد مانند پڑ چکی ہے۔ کشمیری تاجروں کے ہندوستانی منڈی کے ساتھ معاشی تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔ اور کشمیریوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ پاکستان ان کے لئے کوئی قابل ترجیح انتخاب نہیں ہے۔ پاکستان خود ایک غیرمستحکم اور غیر مثالی ریاست ہے پھر کمشیر کی آزادی کی تحریک جوبنیادی طور پر کشمیری قوم پرستی کی تحریک تھی اسے اسلامی جہادی اور فرقہ ورانہ شکل دے کربنیادی مقصد سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دنیا میں کوئی قابل ذکر ملک نہیں جو پاکستان کے موقف کی کشمیر پر روایتی حمایت کرتا ہو۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہو چلا ہے کہ جموں اور لداخ ہندو اور بدھ مت اکثریت ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں مل سکتے۔ صرف سرینگر شہر ہی رہ جاتا ہے۔ ادھر گلگت بلتستان پہلے ہی پاکستان کا حصہ ہیں۔ کشمیر میں صوفی اور بریلوی اسلام تھا۔ جہاں ہماری ‘ریاست’ نے اپنی پراکسیوں کے طفیل سلفی، دیوبندی وہابی شدت پسند اسلام کو متعارف کرانے کی کوشش کی جو کشمیری معاشرے کی تخریب کا باعث بنا۔

 

پاکستانی جہادیوں نے کشمیر میں ہندوستانی فوج کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ فرقہ بند فسادات کرانے شروع کر دیئے جسے کشمیر کے عوام نے نفرت سے دیکھا۔ یوں ہر لحاظ سے کشمیر پرپاکستان اپنا اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ اب وہ صرف ہندو نفرت اور ہندوستان سے کشیدگی قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔

 

چھٹا جہاد: کارگل 1999

 

کشمیر میں صوفی، شیعہ اور بریلوی اسلام تھا۔ جہاں ہماری ‘ریاست’ نے اپنی پراکسیوں کے طفیل سلفی، دیوبندی وہابی شدت پسند اسلام کو متعارف کرانے کی کوشش کی جو کشمیری معاشرے کی تخریب کا باعث بنا۔
اس کی کہانی ہمارے ایک اور ‘عظیم جرنیل’ مشرف کے گرد گھومتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کارگل کا منصوبہ بے نظیر دور میں اس کے سامنے رکھا گیا جسے بے نظیر نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ سفارتی سطح پر یہ قابل عمل نہیں اور دوسرے ہندوستان کا امکانی ردعمل کیا ہو گا اس سوال کا جواب اس منصوبے میں شامل ہی نہیں کیا گیا (ایسی ہی غلطی آپریشن جبرالٹر کے دوران کی گئی تھی)۔ 1999 میں یہی منصوبہ وزیراعظم نواز شریف کے سامنے رکھ کر بتایا گیا کہ یہ مسئلہ کشمیر کو حل کر دے گا تو اس نے مبینہ طور پر اس مہم جوئی کے نتائج سمجھے بغیر جرنیلوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ کچھ مبصرین کے خیال میں یہ نواز شریف کی سادہ لوحی تھی۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک تو فوجی سربراہ پیش کر رہا تھا، دوسرے بھارتی وزیراعظم اٹل واجپائی لاہور آ چکے تھے جس پر ہماری فوج ناراض تھی چنانچہ نواز شریف نے اس لئے حامی بھرلی کہ فوج کہیں اس پر پاکستان مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دے اور وہ دکھا سکے، کہ بطور وزیراعظم پاکستان وہ بھی کشمیر کاز کے ساتھ پوری طرح وفادار ہے۔

 

ایک دوسری رائے یہ ہے کہ کارگل کے حوالے سے یا تو وزیر اعظم کو مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کو آگاہ کیے جانے سے پہلے ہی پاکستانی جرنیل اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کر چکے تھے۔ بہرحال ہمارے عظیم جرنیلوں نے اس پہلو پر سوچ بچار ہی نہیں کی کہ اس مہم جوئی پر ہندوستانی ردعمل ردعمل کتنا سختہو گا۔ (ویسے دشمن کا ردعمل کیا ہوگا۔ یا ان کے کسی عمل کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ ہمارے جرنیلوں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ یہ شائد ان کو پڑھایا ہی نہیں جاتا)۔ ان کے ذہن میں بس یہی تھا، کہ جیسے 1984 میں ہندوستان نے اچانک سیاچین پر قبضہ کر لیا تھا۔ہم بھی ایسا ہی کچھ کرکے دکھائیں۔ہم سیاچین تک رسد کا راستہ کاٹ دیں گے اور ہندوستانی فوج برف میں بھوکی مرجائے گی۔

 

ان سینکڑوں فوجیوں جنہیں کشمیری سویلین مجاہد کہہ کر پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا، کی بے اعزاز موت کی زمہ داری مشرف اور ان کے ساتھ کارگل جنگ میں شریک جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے۔
اس مہم جوئی کے بعد پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا گیا کہ کشمیری مجاہدین کارگل کی پہاڑیوں پرچڑھ گئے ہیں۔ جب کہ درحقیقت ناردرن لائٹ انفینٹری کے سپاہیوں کوگوریلوں کی وردیاں پہنا کر آگے محاذ پر بھیج دیا گیا تھا۔ ہمارے شیخ چلی جرنیل اپنے تئیں یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ ہندوستان اپنی فضائیہ کا استعمال نہیں کرےگا۔ پاکستان کے بحری اور فضائی افواج کے سربراہان سے بھی کارگل جنگ کی تفصیلات چھپائی گئیں کہ کہیں وہ مخالفت نہ کر دیں۔ حتیٰ کہ آئی ایس آئی کے انڈین ڈیسک کو بھی خبر نہ تھی۔ جنرل مشرف نے آئی ایس آئی سے بھی Intelligence Assessment نہیں مانگی کیونکہ مشرف کو نواز شریف کے مقررکردہ آئی ایس آئی چیف جنرل ضیالدین بٹ پراعتماد نہ تھا۔ مشرف کی اس ذاتی مہم جوئی نے جو ملکی سلامتی کو داو پر لگاتے ہوئے ہندوستان سے امن عمل کو پٹڑی سے اتار دیا۔

 

کارگل آپریشن کی ناکامی کے بعد آئی ایس آئی نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم کے دفتر بھجوا دی تھی۔ جس پر جنرل مشرف کے حامی جنرلوں نے نواز شریف کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا۔ ان سینکڑوں فوجیوں جنہیں کشمیری سویلین مجاہد کہہ کر پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا، کی بے اعزاز موت کی زمہ داری مشرف اور ان کے ساتھ کارگل جنگ میں شریک جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے۔ کارگل کی مہم جوئی سے دنیا کو پیغام ملا کہ پاکستان ایک غیرذمہ دارریاست ہے۔ اور دوسرے ثابت ہوا، پاکستانی جرنیلوں نے آپریشن جبرالٹر کی ناکامی سے کچھ نہیں سیکھا۔ قومی سلامتی کو داو پر لگانے والے شریک جرنیلوں کا کوئی احتساب نہ ہوا بلکہ ان سب کی ترقیاں ہوئیں۔ وزیراعظم نواز شریف کوامریکہ کی آزادی کے دن 4 جولائی کو صدر بل کلٹن کے پاس جانا پڑا کہ وہ پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ ایک مکمل جنگ سے بچائے۔ یہ بھی سوچ لیجئے، کہ نواز شریف کا تختہ الٹنے میں آئی ایس آئی کی تیار کردہ اس کارگل رپورٹ کا بھی ہاتھ تھا، جو نواز شریف کی میز پر پڑی تھی۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

جنگ، جہاد اور پاکستان؛ ایک مختصر جائزہ-پہلا حصہ

[blockquote style=”3″]

بابر ایاز کی کتاب What’s wrong with Pakistan میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اب تک 6 جنگوں میں ملوث رہا ہے لیکن پاکستان ہر جنگ کو مذہبی جنگ (جہاد) کہہ کر ہی لڑا۔ عوام کو ایک مخصوص نقطہ نظر تک محدود رکھنے اور ایک خاص نظریے کی طرف مشغول رکھنے کے لیے ہر سطح پر جھوٹ بولنا اور حقائق کو مسخ کرنا پاکستانی ریاست کی روایت رہی ہے۔ اس سے نقصان یہ ہوا، کہ ایک جانب تو آپ اپنی نسلوں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، عوامی رائے عامہ متعصب رہتی ہے تو دوسری جانب ریاست کے وہ کرتا دھرتا جنہوں نے ایسے فیصلے کئے ہوتے ہیں جن سے ریاست اور قوم کو شدید نقصان پہنچا ہو وہ عوام کی نظروں میں پاک صاف، محب وطن اور باعزت رہتے ہیں۔ تاریخ میں قوموں کے ساتھ غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں اور مہم جو عسکری اور سیاسی رہنما بھی پیدا ہو جاتے ہیں لیکن وہی قومیں ترقی کی طرف بڑھتی ہیں جو سچائیوں کا سامنا کرتی ہیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہیں۔ نئی نسل کے لئے ضروری ہے کہ ان کے سامنے حقائق لائے جاتے رہیں جن کے دماغوں کو ‘مطالعہ پاکستان’ کی ایمانی افیون سے سلا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میں ان بابر ایاز کی کتاب میں مذکور 6 جہادوں کا مختصر خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ آپ دیکھیں گے، کہ ہمارے عسکری کمانڈروں اور سیاسی قائدین نے پاکستان اور عوامی مستقبل کے ساتھ کتنے خطرناک کھلواڑ کیے۔ جن کے بوئے ہوئے کانٹوں کے رستے زخم 20 کروڑ عوام برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے جو ہمارے کسی فوجی یا سیاسی رہنما نے اپنی غلطی تسلیم کی ہو، اس پر ذرا بھی پچھتاوا محسوس کیا ہو۔ ہاں ان کی دولت، ثروت اورمراعات میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس تحریر کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
پہلا جہاد 1948، کشمیر کی آزادی:

 

آگ اور خون کے دریا پار کر کے پاکستان کو بنے ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہماری بانی قیادت پاکستان کو امن اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے منصوبے بناتی، ریاست اور سماج کے ٹوٹے پھوٹے اداروں کو مستحکم کرتی، لیکن اس کی بجائے اسے آزادی کشمیر کی بیماری لگ گئی۔ تقسیم کے طے شدہ معاہدے کے مطابق کشمیر کے راجہ نے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا تھا۔ راجہ کے فیصلے میں کچھ تاخیر ہوگئی تو پاکستانی قیادت خوف (Panic) میں مبتلا ہوگئی کہ کہیں راجہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کردے۔ ابھی کشمیر میں ہندوستان کی فوج موجود نہ تھی۔ چنانچہ پاکستانی ریاست نے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں قبائلیوں کے نجی لشکربھیج کرحملہ کروا دیا تاکہ راجہ کے فیصلہ کرنے سے پہلے کشمیر کے جتنے بھی علاقے پر قبضہ ہوسکے، کر لیا جائے۔

 

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہماری بانی قیادت پاکستان کو امن اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے منصوبے بناتی، ریاست اور سماج کے ٹوٹے پھوٹے اداروں کو مستحکم کرتی، لیکن اس کی بجائے اسے آزادی کشمیر کی بیماری لگ گئی۔
پاکستان کا یہ پہلا غیر مہذب رویہ اور قدم تھا جس سے ہندوستان کو اخلاقی برتری مل گئی۔ یہ وہ رویہ ہے، جو گلی محلے میں غنڈے اختیار کرتے ہیں۔ راجہ نے فوری طور پر انڈیا سے الحاق کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارتی فوج سے مدد مانگ لی۔ اگرچہ اس سے ہمیں ‘آزاد کشمیر’ کا حصہ تو مل گیا لیکن کشمیر ہمیشہ کے لئے تقسیم ہوگیا اور ہندوستان پاکستان کے درمیان ایک مستقل جنگی تنازع شروع ہو گیا۔ ہماری قیادت نے جارحیت میں پہل کی۔ اور اپنے اس برے فیصلے کے غیر متوقع نتائج repercussions پربالکل غور نہ کیا۔ (آپ دیکھیں گے، پاکستانی قیادت کا یہ غیرذمہ دارانہ مزاج اور رویہ مستقل مرض ہے، ہمارے رہنمااپنے کسی قدم کے نتائج پر غور نہ کرنے یا اسے بہت آسان لینے کی روش ترک کرنے کو تیار نہیں)۔

 

30 دسمبر 1948 میں جنگ بندی ہوئی۔ اس وقت مسئلہ کشمیر کوسمجھنے کے لئے ریاست جونا گڑھ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ ریاست کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، اور راجہ ہندو تھا۔ جونا گڑھ میں اکثریت ہندو تھی، اور راجہ مسلمان تھا۔ ہماری قیادت جوناگڑھ کے مسلمان راجہ کو بھی مائل کر رہی تھی، کہ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرے اور ادھر کشمیر کے ہندو راجہ کو بھی۔ جب پاکستان نے بے صبری دکھاتے ہوئے کشمیر پر حملہ کروا دیا توپھرہندوستان نے نہ صرف کشمیر میں اپنی فوجیں بھیج دیں بلکہ جونا گڑھ پربھی وہاں کے مسلمان راجہ کو معزول کر کے قبضہ کر لیا۔ ہندوستان کا کہنا تھا، کہ اگرمسلم اکثریتی ریاست جس کا راجہ ہندو ہے پر پاکستان حق جتا رہا ہے تو پھر جونا گڑھ جو ہندو اکثریتی ریاست ہے، وہ پاکستان کو کیسے مل سکتی ہے۔ اور اگر پاکستان کشمیر کے راجہ کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتا، تو پھر جوناگڑھ کے راجہ کا فیصلہ کیسے مانا جاسکتا ہے۔ گویا ہماری حماقت کی وجہ سے ہم جونا گڑھ بھی کھو بیٹھے اور کشمیر بھی۔ دنیا میں اپنا سفارتی اعتبار بھی گنوا بیٹھے کیونکہ مذاکرات کی میز پر ان کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا۔

 

دوسرا جہاد 1965 آپریشن جبرالٹر

 

مسئلہ کشمیر کو ‘زندہ’ رکھنے کے لئے دوسری بڑی مہم جوئی 1965 میں جنرل ایوب اور اس کے ساتھی جرنیلوں نے شروع کی۔
مسئلہ کشمیر کو ‘زندہ’ رکھنے کے لئے دوسری بڑی مہم جوئی 1965 میں جنرل ایوب اور اس کے ساتھی جرنیلوں نے شروع کی۔ اگست 1964 میں سیز فائر لائن (لائن آف کنٹرول) پر مسلح ‘مجاہدین’ کے پیچھے فوج کو بھیج کر پوشیدہ جنگ شروع کروا دی۔ ہماری عسکری قیادت کا احمقانہ مفروضہ یہ تھا کہ وہ دنیا کی آنکھوں میں یہ کہہ کردھول جھونکیں گے کہ یہ کشمیری مجاہدین لڑ رہے ہیں اور یوں ہم اس غیر اعلانیہ جنگ سے کشمیر کو آزاد کروا لیں گے!! اس موقع پر ہندوستانی وزیراعظم نے اعلان کیا، کہ اگر پاکستان جنگ چاہتا ہے تو پھر ہندوستان اپنی پسند کا محاذ کھولے گا لیکن ہمارے جرنیلوں کی عقل پرپردہ پڑا رہا اور ہندوستان نے 6 ستمبر 1965 کو سیالکوٹ اور لاہور پر حملہ کر دیا۔ دو ہفتوں کے اندر اندر ہماری عسکری قوت کا پیمانہ خالی ہوگیا اور ہماری قیادت بین الاقوامی مداخلت کی طرف دیکھنے لگی۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہر پاکستانی نسل کو رٹا لگوایا جا رہا ہے، ‘بزدل ہندوستان نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کر دیا”۔ عسکری مورخین تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان نے وہ جنگ نہیں جیتی تھی۔ اتنا ہوا، کہ ہمارے فوجی جوان وطن کے بچاو میں بہادری سے لڑے لیکن پاکستانی نسلوں کو بتانا کہ ‘ہندوپاکستانی فوج سے لڑ نہیں سکتا’ صریح جھوٹ ہے۔ہندوستان سے بھول ہوئی کہ اس نے مشرقی پاکستان کا محاذ نہ کھولا صرف ڈھاکہ اور چٹاگانگ پر ایک دو بار بمباری کی۔ 1951 میں پاکستان میں ہندوستان کے خلاف ‘جہاد’ شروع کرنے کا پروپیگنڈا شروع ہو گیا تو نہرو نے لیاقت علی خان کو تنیبہ کرتے ہوئے خط لکھا کہ جنگی جنونیت سے باز رہا جائے ورنہ ہندوستان اپنی مرضی کے محاذ پر لڑنے پر مجبور ہو گا۔

 

پاکستانی جرنیل ہمیشہ یہ خیالی پلاو پکاتے رہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ صرف کشمیر تک محدود رہے گی۔ ان کے جنگ کے بارے تمام مفروضے اور منصوبے الٹے پڑے۔ 65 کی جنگ کا سرغنہ بھٹو کو کہا جاتا ہے۔ اس نے بطور وزیرخارجہ جنرل ایوب کو یقین دلایا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کشمیر تک محدود رہے گی اور چین ہماری مدد کرے گا لیکن جرنیلوں کی ‘سادہ لوحی’ کی داد دیجئے، جو بھٹو کے ‘چکمے’ میں آ گئے۔ بھٹو سینٹو تنظیم کوپاکستانی فوج کی مدد کرنے کے لئے قائل کرتا رہا جب کہ ایک سال قبل رن آف کچھ کے معرکے میں امریکہ پاکستان کو اس کا دیا اسلحہ ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے پر وارننگ دے چکا تھا۔ بھٹو ہندوستان کے بارے میں جارحیت پسند رویہ رکھتا تھا اوراس نے 65 کی جنگ کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال بھی کیا۔

 

پنجابیوں کو آج تک یہی یقین دلایا جاتا ہے، کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور ہم نے جنگ جیتی تھی جب کہ وہ 17 روزہ جنگ کوئی فریق نہ جیتا نہ ہارا۔
روسی وزیر خارجہ کی ثالثی میں تاشقند میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا۔ جسے بھٹو نے تسلیم کرنے سے انکارکردیا، اور جنرل ایوب کے خلاف (بلاوجہ) معاہدہ تاشقند پر پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ خاص طور پر پنجاب میں ہندوستان دشمنی کے جذبات بھڑکا کرسیاسی فائدہ لیتا رہا۔ پنجابیوں کو آج تک یہی یقین دلایا جاتا ہے، کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور ہم نے جنگ جیتی تھی جب کہ وہ 17 روزہ جنگ کوئی فریق نہ جیتا نہ ہارا۔ لیکن ہندو نفرت، اسلامی جوش و جذبہ اور تنگ نظر پاکستانی قوم پرستی کو جنگ کے دوران اور اس کے بعد خوب ابھارا گیا۔

 

تیسرا جہاد 1971 بنگالیوں کی تسخیر:

 

مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام نے خودمختاری لینا چاہی، تو ان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اسلام پسندوں بشمول ہماری ریاست کا موقف یہ تھا کہ ‘مسلمان ایک قوم ہیں’ لیکن اسلام پسند (جماعت اسلامی) بنگا لی مسلمانوں کو محض اس بناء پر آدھا مسلمان اور آدھا ہندو کہتے تھے کیوں کہ ان کی عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں اور ماتھے پر بندیا لگاتی ہیں۔ بنگالی ہندووں کی بطور پاکستانی وفاداری پر شک کیا جاتا تھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور اسلام پسندوں کے لئے یہ ہضم کرنا مشکل تھا کہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کی طرح ہندووں کی ‘صفائی’ کیوں نہیں ہوئی۔ پاکستان کے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے پہلے جمہوری انتخابات میں مجیب الرحمان کی جماعت 6 نکات پر مشرقی پاکستان کی 100 فی صد نشستیں جیت گئی، مگر اس کامیابی کو عسکری اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مجیب الرحمان کی پارٹی پرپابندی لگا کر انتخابات کالعدم قرار دے دیے گئے۔ اور جعلی ضمنی انتخابات میں مشرقی پاکستان کی تمام نشستیں بھٹو کی پی پی پی اور جماعت اسلامی نے “جیت” لیں۔ مشرقی پاکستان کے معاملے میں بھٹو جنرلوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے رد عمل پر بنگالی عوام نے کھلی بغاوت کا اعلان کردیا۔ سفاک فوجی آپریشن کی وجہ سے دسیوں لاکھ بنگالی ہجرت کر کے ہندوستان داخل ہو گئے۔ اس بار ہندوستان نے بھی بنگالیوں کی آزادی کی تحریک کا فائدہ اٹھایا۔ اندرا گاندھی نے عالمی پریس کو کہا، کہ کیا ہم بنگالی عوام کا قتل عام ہوتے دیکھتے رہیں۔

 

بنگال کی آزادی سے دو قومی نظریے کا خاتمہ ہوا اور یہ بات ثابت ہوئی کہ زبان اور نسلی امتیاز مذہب سے طاقت ور ہوتا ہے صرف اسلام کے نام پر جنگیں نہیں جیتی جاسکتیں۔
مشرقی پاکستان کے عوام کی مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کھلی بغاوت تھی اور اب وہ کسی قیمت پرپاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ادھر ہماری فوج اپنے ‘غدار ‘ شہریوں کے قتل عام اور ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹ کرملک بچانے کی سعی کرتی رہی۔ بنگالیوں کا کہنا ہےکہ 250000 لوگ قتل کئے گئے، جب کہ جنرل ٹکا کا کہنا تھا کہ 35000 بنگالی مارے گئے تھے۔ بنگالی مزاحمت اور ہندوستانی مداخلت کے نتیجے میں 94000 پاکستانی فوج نے ہندوستان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ اسلامی قوم پرست اس ذلت آمیز شکست کا الزام ہندوستان کی مداخلت اور شرابی اور زانی جنرل یحیٰ پر ڈالتے ہیں لیکن کوئی تسلیم نہیں کرتا کہ ہماری پالیسیاں غلط تھی۔ اور مشرقی پاکستان کے بنگالی شہری اسلام کے نام پر ‘ایک قوم’ بن کر اپنا استحصال کرانے کو مزید تیار نہ تھے۔

 

بنگال کی آزادی سے دو قومی نظریے کا خاتمہ ہوا اور یہ بات ثابت ہوئی کہ زبان اور نسلی امتیاز مذہب سے طاقت ور ہوتا ہے صرف اسلام کے نام پر جنگیں نہیں جیتی جاسکتیں۔ لیکن ہمارے جرنیلوں نے ابھی تک اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ ہماری فوج نے بنگال میں جماعت اسلامی اور دیگر بنیاد پرستوں کو بنگالیوں کے خلاف پرائیویٹ آرمی کے طور پر استعمال کیا جن کے رہنماوں پر اب جنگی جرائم کے مقدمے کھول کر پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ اس جنگ سے سیاست دانوں نے سیکھا، کہ وفاقی اکائیوں کے مساویانہ برتاو کے بغیر ملک قائم نہیں رکھا جاسکتا اور مذہب سے زبان اور نسلی رشتہ زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔ لیکن ہماری سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے مشرقی پاکستان کی علحیدگی سے بھی کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ان کے نزدیک اب بھی اسلام ہی متحد رکھنے والی قوت ہے۔

 

(جاری ہے)