Categories
نقطۂ نظر

وزارت محبت قائم کیجیے

کلثوم اور فرزانہ محبت کی شادی کرنے پر پر عدالت کے احاطے میں قتل ہوئیں تو سمیعہ ماں باپ کے ہاتھوں، کائنات چچا کے ہاتھوں تو مشال بھائی کے ہاتھوں تو کہیں کامران لاڑک کو زہر پلا دیا گیا تو کہیں جوڑے کو قتل کرکے گھر میں ہی دبا دیا گیا۔ محبت کے ہاتھوں قتل وغارت، اجڑنے، تباہ برباد ہونے کی کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔ بہت ساری صورتوں میں لڑکی مار دی جاتی ہے تو کہیں جوڑے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اور کہیں لڑکے حسد رقابت کی بھینٹ چڑھ کر قتل ہوجاتے ہیں۔ کہیں محبت کرنے والوں کا پورا گھرانہ ہی عتاب کا شکار ہوجاتا ہے۔

محبت کے نام پر دھوکے کی صورت میں حوا کی بیٹیاں دھوکے کا شکار ہوکر دربدر ہوتی ہیں، کہیں اپنی عصمت اور خاندان کی ناموس گنوا بیٹھتی ہیں اور کہیں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کھلونا بن کر روز روز لٹتی ہیں اور اپنے نصیبوں کو روتی ہیں کہ کیوں محبت کی تھی ، کیوں دل لگایا تھا۔ کہیں مرد محبت میں ناکامی پر خودکشی کر لیتا ہے تو کبھی کم عمر اسامہ ہاتھ کی نسیں کاٹ لیتا ہے تو کہیں محبت میں ناکام والدین کی مرضی پر راضی ہوکر زندگی کے خلا میں ساری عمر بس بھٹکتا راستہ تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ اکثر وجود اپنے اندر ہی اندر ایک قبر بنائے تاعمر اس قبر کے مجاور بنے اپنے نام لگی عورت کو عمر بھر کی پیاس دیے زندگی گزار دیتے ہیں۔ کہیں محبت کے متوالے ہوش گنوا بیٹھتے اور پاگل خانوں میں دیواروں پر اس کا نام لکھتے اسے آوازیں دیتے ہیں تو کہیں کچھ لوگ نشے میں غم بھلانے کی سعی کیے مزاروں کوڑے دانوں پر گم صم نظر آتے ہیں۔

لیکن! کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اتنی برباد داستانوں کو سن کر محبت سے رُک جائیں۔ نہ دل لگائیں نہ روگ لگائیں، نہ خود کو تڑپائیں، نہ راتوں کو رلائیں۔ کیوں انجام جانتے بوجھتے بھی دو دل اس آگ میں کود پڑتے ہیں۔ کیوں اپنے دل ایسی آگ لگ جاتی ہے جو کسی ایک چہرے کسی مسکراہٹ یا کسی مخصوص لمس سے ہی سرد ہوپائے۔ فطرت! جی ہاں یہی فطرت ہے۔ خدائی تحفہ ہے جو انسان پر ودیعت کیا گیا ہے۔ جو لاکھ پہرے بٹھانے سختیاں کرنے، روکنے ٹوکنے، ستانے، تڑپانے پر بھی نہیں رُکتی۔ کوئی دل ایسا نہیں جس کے دل میں کبھی عمر کے کسی بھی حصے میں کسی کے لیے بھی نرم گوشہ نہ آیا ہو، کسی کو دیکھ کر دل نہ مسکرایا ہو ۔

آخر اسے روکا بھی کیوں جائے؟ جب سب ہی جانتے ہیں کہ یہ عمر کا تقاضا ہے، فطرت کی پکار ہے۔ ہر ثقافت اور مذہب اس کی اجازت دیتا ہے تو آخر کیوں اسے رد کیا جائے۔ اس وقت تک بہت سی جانیں لی گئیں، لاتعداد گھرانوں میں دشمنی کی بنیاد پڑی تو بہت سے گھرانوں کو کئی نسلوں کو اس کا حساب چکانا پڑا۔ اب اور کتنا ذلیل ہوا جائے۔ ہم محبت سے کیوں خوف زدہ ہوتے ہیں؟ رسوائی کا ڈر؟ چلیں سب قبول کر لیں اسے رسوائی ختم ہوجائے گی۔ دھوکا کھانے کا خوف؟ چلیں باندھ دیں شادی کے بندھن میں۔ نہیں بندھتا کوئی شادی میں کلی کلی منڈلانے کا عادی ہے؟ دیجیے سزا، کیجیے قانون سازی، بنائیے کوئی منسٹری، بٹھائیے کوئی کمیٹی، ایک دفتر لے ڈالیے جو تحفظ دے محبت کے دیوانوں کو۔ حکومت اور ارباب اختیار کو امن و امان قائم کرنا ہے، عوام کی جان و مال، عزتیں اور آبرو محفوظ کرنا ہیں، فلاحی ریاست کے عزم کی تکمیل کرنا ہے، تو کیجیے، آگے آئیے۔ بہت ہوچکا۔ محبت کو نہیں اسے زبردستی روکنے کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل کوختم کیجیے۔ ذیل کی تجاویز پر عمل کرنا سود مند ثابت ہوسکتا ہے:

پہلے یہ ذہن نشین کرلیں مذہب محبت سے نہیں روکتا۔ اسلام دو محبت کرنے والوں کے بیچ نکاح کو سب سے بہترین مانتا ہے ( یعنی محبت کرنے کو ملامت نہیں کی گئی) ۔ اب سوچیں محبت کا قبولِ عام نہ ہونے کی وجہ سے چونکہ خون خرابا نقصِ امن ہوتا ہے اس لیے اس کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ لوگوں کے خدشات دور کیے جائیں۔ انھیں سمجھایا جائے کہ اس نفرت میں ہی سب برائی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خاندان رابطہ مہم بھی سازگار رہے گی۔ مذہبی سرکردہ افراد کو بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے۔

حکومتی سطح پر اس مقصد کے لیے الگ سے منسٹری بنائی جائے جس کے دفاتر ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہوں، خواہ اسے مقامی حکومتوں کے تعاون سے چلایا جائے۔ اس منسٹری کے تحت چلنے والے دفاتر محبت کرنے والے اور شادی کے خواہش مند جوڑوں کو رجسٹر کریں اور ان کی شادی کے سلسلے میں ان کے والدین اور اہل خاندان سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرے۔ اگر کہیں اختلافات ہوں تو ریاست اپنی سرپرستی میں ان شادیوں کو کروائے۔ جبکہ متعلقین کو کسی بھی انتقامی کارروائی سے باز رکھنے کے لیے انتباہی نوٹس جاری کرے۔

اگر کوئی جوڑا محبت میں ہونے کے باوجود خود کو رجسٹر نہ کروائے تو ریاست ان میں سے دونوں یا کسی ایک کو شکایت موصول ہونے پر دفتر طلب کرے اور ان کی محبت کی صداقت کا ثبوت طلب کرے۔ دونوں کے یا دونوں میں سے کسی ایک کے دھوکے باز ہونے یا کسی مشکوک گروہ سے تعلق ہونے کی صورت میں پولیس کی مدد سے چھان بین کروائے اور مناسب سزا تجویز کرے تاکہ خواتین کے لٹنے اور برباد ہونے کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔

اس ضمن میں سخت قوانین ہونے کی وجہ سے نظرباز، دھوکے باز اور کلی کلی منڈلانے والے بھنورے نیز راہ چلتی خواتین کو چھیڑنے یا ان کو سڑکوں پر خط اور پھول پکڑانے والے اور دل لگی کرنے والے بھی اپنی حد میں رہیں گے۔ اسی منسٹری کے متوازی ہراسانی کے واقعات کا سدباب بھی کیا جاسکتا ہے۔

حرفِ آخر! محبت کو نہ روکیے؛ ان عوامل کو روکیے جنھوں نے محبت کا حسن گہنا دیا ہے۔ محبت کا دن منائیے، کیونکہ یہ زندگی محبت کی مرہونِ منت ہے؛ ہر سانس محبت کا جشن ہے۔

Categories
فکشن

مینوپاز

آج وہ بہت خوش تھی۔ ڈاکٹر نے بالآخر وہ خوش خبری سنا دی تھی جس کا اسے ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اس کے تو گویا پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ درد بھری اذیت ناک، بے خواب راتیں اس کے دروازے سے رخصت جو ہو گئی تھیں اور دائمی خوشیاں اور سکون اس کے در پر دستک دے رہا تھا۔ اف ! ڈاکٹر کے الفاظ نے تو جیسے مدت کے سوکھے پیاسے دھانوں پر ٹھنڈے میٹھے پانی کے چھینٹے مار کر ان کو تازہ دم کر دیا تھا۔
بہت دنوں سے اپنی جسمانی اور جذباتی کیفیت میں تبدیلیاں محسوس کر رہی تھی۔ وقت بے وقت متلی اور ابکائی کی سی کیفیت، بھاری پن، بوجھل ذہن، کسل مندی، کسی کام میں دل نہ لگنا اور عجیب سی بےچینی جسے وہ کوئی نام نہ دے پا رہی تھی۔ کبھی پورے جسم میں گرمی کی سی لہر دوڑ جاتی،اور دل کی دھڑکنیں قابو سے باہر ہوجاتیں، راتوں کی نیندیں تو مدت سے ہی روٹھی ہوئی تھیں لیکن اب ان کے تسلسل میں اضافہ در آیا تھا۔ بے وجہ آنسو بہانے کی خواہش ہوتی۔ وزن بھی کچھ بڑھا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اب جو اس نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اس بار ماہواری آئے دو ماہ سے زائد ہو گئے ہیں۔ اور اب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

 

گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔
گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔ کبھی ساری رات کڑھتے گزار دیتی۔ ان بے خواب راتوں میں اپنے جسم اور روح کی طلب سے بےحال وہ ہمیشہ اکیلی ہوتی۔ کیسے انگ انگ میں چیونٹیاں سی کاٹتی تھیں اور وہ ان کی چبھن سے ہلکان نیر بہائے چلی جاتی کہ شاید یہ نمکین پانی ہی کسی طرح اس تکلیف کا مداوا بن جائے۔ ایسے ہر موقعے پر اس کا مجازی خدا اس کے جذبات سے انجان محض چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھا یا تو ٹی وی دیکھ رہا ہوتا یا پھر بے خبر سوجاتا۔ کبھی جب یہ اذیت حد سے سوا ہوجاتی تو بےاختیار اس کا دل چاہتا کہ اس کو جھنجوڑ کر اٹھائے اور اپنا قصور پوچھے، کبھی سوچتی کہ اس کو اٹھا کر زبردستی محبت پر مجبور کرے، اپنے انگ انگ پر اس کی محبت کے بوسے محسوس کرے۔ لیکن کیا محبت ایسا ہی زبردستی کا سودا ہے!

 

کیا محبت زبردستی وصولی جا سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ جن کی خواہش صرف جسم نہ ہو بلکہ محبت، توجہ، التفات بھری نظریں، لگاوٹ آمیز لمس اور تمام تر حسیات کے ساتھ محسوس کرنے اور کیے جانے کی خواہش ہو ان کو مشینی قسم کی محبت اور جسم کے خراج کی ادائیگی یونہی نامطمئن کیے رکھتی ہے۔ وہ تو جسم اور روح دونوں کا ملاپ چاہتی تھی۔ اور یہی اس کا نصیب نہیں تھا۔ اس جسم و روح کے میل کی خواہش نے اس کو کیسا کیسا نہ ستایا تھا، رات کروٹ بدلتے بدلتے صبح کو جالیتی لیکن پلک نہ لگتی۔ آخر کب اس درد بھری رات کی سحر ہو گی۔

 

شادی سماج کا ایسا بندھن ہے جس میں نا چاہتے ہوئے بھی فریقین کو بندھے رہنا پڑتا ہے۔ محض جبلت ان کو قریب آنے اور جسمانی ضرورت پوری کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بالخصوص عورت کے لیے تو اس تصور کو یقین کی حیثیت دے دی گئی ہے کہ عورت میں نہ جذبات ہیں اور نہ ہی جسمانی ضروریات۔ وہ بس مرد کی ضرورت پوری کرنے کا ایک آلہ ہے، ایک کٹھ پتلی۔ یوں ساری زندگی ندی کے دو مخالف دھاروں کی طرح دونوں اپنی سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ یہاں بھی سماج مرد کو کسی قدر تقویت دیتا ہے، ایک سے زائد نکاح اور بنا نکاح نظریں سینکنے کی خصوصی اجازت کا سرٹیفیکیٹ۔ عورت ایسے حصار میں جکڑی جاتی ہے جس سے قدم باہر نکالنا اس کے لیے ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔
سیتا نے رام کی کھینچی لکیر پار کی اور راون اٹھا لے گیا۔ وہ ریکھا تو کیا پار کرتی، ایک کھڑکی کھولنے کی جرات کر بیٹھی۔ لیکن کھڑکی کے اس پار ہوس کے پھنکارتے ناگوں سے خوفزدہ ہوکر کھڑکی بھی بند کرنی پڑی۔ کبھی کبھی سانس بھر آسمان کا حصول کتنا مشکل ہوجاتا ہے نا!

 

یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔
یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔ کبھی کلینڈر اٹھا کر ماہ و سال کا حساب لگاتی۔ کب وہ دن آئے گا جب اس پیاس تشنگی اور طلب کا احساس مٹ جائے گا۔ سائنس کہتی ہے کہ عمر کے پینتیسویں سال کے بعد کبھی بھی مینوپاز ہو سکتا ہے۔ ہاں! مینو پاز ہوجائے گا اور اس جسم میں بھڑکتا شعلہ سرد ہو جائے گا، نہ ہی ان جانا لمس آگ لگائے گا اور نہ ہی کسی پیاس کے زیر اثر نس نس میں بےچینی کی لہریں دوڑیں گی۔ کب آئے گا وہ دن ۔۔۔جب ان جاگی ہوئی راتوں کی سحر ہوجائے گی، جذبات کا شوریدہ طوفان تھم جائے گا۔ پھر میں سادہ رنگ اور سادہ لباس پہنوں گی، سنگھار، زیور اور جوبن کچھ بھی تو نہ ستائے گا۔

 

ڈاکٹر نے تفصیلی جسمانی معائنے کے بعد مینوپاز کی تصدیق کردی۔ اس کی تپسیا رنگ لائی۔ گھر میں داخل ہوتے مارے خوشی کے اس کی چال لڑکھڑا رہی تھی، انگ انگ میں مستی کی لہریں دوڑنے لگیں، کیسا سرخوشی کا عالم تھا۔ بےاختیار اپنا سب سے حسین شوخ رنگوں سے مزین لباس زیب تن کیا۔ ہمرنگ زیور اور موزوں میک اپ کے ساتھ دل کی خوشی نے جسم و جاں کو نکھار دیا تھا۔ گنگنانے کو من کرنے لگا اور اڑنے کو اور تیرتے جانے کو اور ہمیشہ کے لیے آسمان سے کودنے کو اور بلاوجہ رونے کو اور بلا وجہ ہنسنے کو اور کسی کے بھی جسم کا انتظار کیے بغیر سو جانے کو۔۔۔۔ لیکن بہت جلد اسے ایک ایسے ٹھنڈے، گہرے اور تاریک خلا نے نگل لیا جہاں سے اس کی آواز کا باہر نکلنا تک نا ممکن تھا۔ اسے ایک ایسے خالی پن کی ویرانی نے کاٹ لیا جس کا تریاق اس کے شوہر کے پاس نہیں تھا۔۔۔اس نے اپنے جسم کے علاوہ کسی اور جسم کی حرارت کی طلب کو اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے لگا جیسے وہ ہمیشہ سے ان چھوئی رہی ہو۔