Categories
نقطۂ نظر

تعلیم برائے فروخت

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں معیاری تعلیم وتحقیق کو فروغ نہ دیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے والوں نے کبھی اس بنیادی معاملے پر غورو فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی انحطاط روز افزوں ہے مگر ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ نام کی کوئی ترجیح شامل نہیں۔ اس امر کا اندازہ تعلیمی بجٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کل بجٹ کا 2 فیصد بنتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل پچیس اے کے مطابق ہر شہری کو تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی حکومت نے اس آئینی ذمہ داری کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کیا۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تحقیق کا معیار عالمی سطع کے تحقیقی کام کے معیار سے بہت پست ہے جس کی وجہ مناسب سہولیات کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے ہماری کوئی بھی یونیورسٹی عالمی رینکینگ کی پہلی یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔ اس میدان میں رہی سہی کسر پرائیویٹ یونیورسٹیز نے نکال دی جو طالب علموں سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتی ہیں اور ڈگری اس کے ہاتھ میں تھما دیتی ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں اور یونیورسٹیوں کے نگران اداروں میں کرپشن کے قصے اور جعلی ڈگریوں کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔

 

یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا
اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت نے بہت سی یونیورسٹیوں کو اپنے ذیلی کیمپس بنانے کی اجازت دی تھی تاکہ دوردراز علاقوں کے طالب علم بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری یونیورسٹیوں کے 17 کیمپس پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت چل رہے ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور گجرات یونیورسٹی کے مختلف شہروں میں کیمپسز قائم ہیں جن میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن سے لاکھوں روپے فیس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمپس گذشتہ کئی سالوں سے مختلف پروگرامز میں ایم فل، ماسٹرز اور بی ایس آنرز کروا رہے ہیں۔

 

ایک جانب اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب جعلی اور غیر توثیق شدہ یونیورسٹیوں کی نشاندہی اور جوابدہی کا کوئی نظام فعال نہیں۔ یہ غیر توثیق شدہ ادارے صف اول کے پاکستانی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے پر محیط اشتہارات کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو داخلہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، طرح طرح کی سہولیات کا وعدہ کرتے ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان سے توثیق شدہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اس سارے عمل کے دوران حکومت یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت کوئی بھی ادارہ اعتراض نہیں کرتا، ایف آئی اے سمیت کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ جب طلبہ داخلہ لے لیتے ہیں، فیسیں جمع کرا دیتے ہیں تو پھر اچانک ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خیال آتا ہے کہ وہ ان اداروں کی اسناد کی توثیق نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ادارے ایچ ای سی سے منظور شدہ نہیں۔ یہ امر اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ اور ایچ ای سی حکام ایک مرتبہ بھی عام کرنے کی زحمت نہیں کرتے لیکن جب طلبہ اپنا وقت اور سرمایہ صرف کر چکے ہوتے ہوں تب ایسے مسائل اچانک سر اٹھانے لگتے ہیں۔

 

ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔
ایسا ہی معاملہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس میں چار ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ایم فل کی فی کس فیس تقریبا پونے تین لاکھ روپے وصول کی گئی ہے۔ داخلے کے وقت طلبہ کو انتظامیہ، پنجاب حکومت یا ایچ ای سی کی جانب سے قطعاً آگاہ نہیں کیاگیا کہ یہ ادارہ غیر توثیق شدہ ہے۔ طلبہ پر اچانک اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب انہیں اخبار کے ذریعے پتہ چلا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کی ڈگری توثیق شدہ نہیں۔ لاہور کیمپس کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ نے اس کیمپس کی منظوری دی اور حکومت پنجاب کے اجازت نامے کے بعد کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ سینڈیکیٹ کی منظوری کے بعد اس وقت کے وائس چانسلر خواجہ علقمہ نے کیمپس کھولنے کے اجازت نامے پر دستخط کیے تھے اور طلبہ کو یونیورسٹی کی طرف سے رجسٹریشن کا رڈ بھی مل رہے تھے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور لاہور کیمپس انتظامیہ کی مشترکہ کمیٹی قائم تھی جو تعلیمی اور انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے کرنے کی مجاز تھی۔ ملتان کے مرکزی کیمپس کی ویب سائیٹ پر ذیلی کیمپسز میں آج بھی لاہور کیمپس کا نام موجودہے۔ مگر کچھ عرصے بعد یونیورسٹی کے یونیورسٹی کے اندرونی مسائل کی وجہ سے حقیقت کھلنے لگی اور بعض ذرائع ) جو مبینہ طور پر تعلیمی کاروبار سے وابستہ افراد کی ایماء پر( یہ خبریں دینے لگے کہ کیمپس غیر قانونی ہے، اس وقت تک طالب علموں کو یونیورسٹی انتظامیہ، حکومت اور ہائیر ایجوکیشن سمیت کسی بھی ادارے نے صحیح صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔ ابھی لاہور کیمپس کے غیر قانونی ہونے کی اطلاعات گردش میں تھیں کہ نیب نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو گرفتار کرلیا۔ قطع نظر اس کے کہ خواجہ علقمہ قصور وار تھے یا نہیں لیکن جس طرح ایک محقق اور ایک استاد کو گرفتار کیا گیا وہ بھی ہمارے معاشرے کے منہ پر نظام کا طمانچہ ہے۔ نیب اور پولیس والے انہیں مجرموں کی طرح گھسیٹ کر لے کے گئے جبکہ ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے لاہور میں بطور وائس چانسلر کیمپس کھولنے کی اجازت دی۔ یہ سراسر انتظامی معاملہ ہے اس میں کسی استاد کو جس کی ساری زندگی قوم کے نونہالان کی تعلیم وتربیت کرتے ہوئے گزری ہو اس طرح گصیٹ کر لے جانا بہت توہین آمیز ہے (واضع رہے جن پیسوں کی بات کی جارہی ہے وہ طلبہ کی فیسوں کے پیسے ہیں جو کیمپس انتطامیہ وصول کرتی رہی ہے وائس چانسلر کا ان پیسوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے)۔

 

تفصیلات کے مطابق لاہور کیمپس کی اجازت پنجاب حکومت نے ایک نجی کمپنی کو دی اس نے اس کیمپس کو اگلی پارٹی کو فروخت کردیا۔ اس کمپنی نے یہ کیمپس موجودہ چئیرمین لاہور کیمپس منیر بھٹی کو فروخت کردیا۔ منیر بھٹی اس کیمپس کو گذشتہ دو سالوں سے چلارہے تھے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھاری رقم رشوت کی مد میں بھی ادا کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی کروڑوں روپے رشوت مانگی گئی تھی جب رشوت کی رقم کیمپس انتظامیہ نے دینے سے انکار کیا تو یہ مسئلہ کھڑ اکردیا گیا۔ مگر ان تمام قانونی موشگافیوں میں ہزاروں طلبہ کا کیا قصور ہے جن کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے، جنہوں نے اپناقیمتی وقت ضائع کیا اور بھاری فیسیں بھی ادا کیں۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ تھا تو حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اشتہار کے ذریعہ اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ اگر میٹروبس، نندی پورپاور پراجیکٹ، قائداعظم سولر پراجیکٹ، اورنج ٹرین، موٹروے اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ذاتی تشہیر کے لیے اربوں کے اشتہار قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چل سکتے ہیں تو اس اہم مسئلہ پر اشتہار کیوں نہیں دیا گیا۔ اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومتی اداروں اس وقت کہاں سوئے ہوئے تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا؟ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کیا ان طلبہ کو ان کی ڈگریاں ملیں گی؟

 

اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔
کیا حکومت کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر اس طرح کیمپس بند کیا گیا تو تنگ آمند بجنگ آمند کے مصداق ہزاروں طلبہ مجبوراً سڑکوں پر ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، باقی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا بائیکاٹ ہو، طلبہ وزیراعلی اور وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کریں حکومت کو اس اہم مسئلہ کو فورا حل کرنا ہوگا۔ قانونی مسائل جیسے بھی حل ہوں مگر طلبہ کو ان کی متعلقہ ڈگری بروقت ملنی چاہئیے ان کا تعلیمی سال اور پیسہ بالکل ضائع نہیں ہونا چاہئیے۔ وزیراعظم کے صرف اخباری بیان کے ذریعے نوٹس لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ذاتی دلچسپی بہت ضروری ہے۔ غریب طالب علموں کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ حمزہ شہباز ، مریم نواز، آصف زرداری، عمران خان، چوہدری نثار، اسحاق ڈار اور دیگر رہنماوں کے بچوں کی طرح بیرون ملک تعلیم حاصل نہیں کرسکتے مگر ان سے اس ملک میں ڈگریاں لینے کا حق تو نہ چھینا جائے۔ حکمرانوں اور دو فیصد اشرافیہ کی ترجیحات میں عوام کے بنیادی مسائل تعلیم ،صحت، روٹی،کپڑا، مکان اور روزگارشامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے بچے تو یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں ان مسائل سے فرق نہیں پڑتا۔ بجائے اس کہ انہیں تعلیم کی ایسی سہولیات دی جاتیں کہ وہ اپنا روزگار کماکر خود لیپ ٹاپ خریدنے کے قابل ہوجاتے حکمران اپنی ذاتی تشہیر کے لیے لیپ ٹاپ اور قرضے بانٹ کر نوجوانوں کی خودداری ختم کر رہے ہیں۔ سکولوں ،کالجوں کی کسمپرسی کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پنجاب کے دیہات میں ہزاروں سکول آج بھی ایسے ہیں جن میں چاردیواری، واش روم، پینے کا پانی، فرنیچر ، بجلی اور دیگر سہولیات نہیں ہیں۔ کالجوں اور سکولوں میں ہزاروں اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جبکہ دوسری طرف پرائیویٹ سکول ہزاروں روپے فیس کی مد میں وصول کرتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے۔ دوہرا نظام تعلیم ختم کرنے کے لیے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں گیا۔ اکیڈمی مافیا بھی قبضہ مافیا، سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی مافیا اور کرپٹ مافیا کی طرح ایک بڑا مافیا بن چکا ہے مگر حکومت نے تعلیم عام کرنے اور معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا قانون موجودہے مگر اس پر بھی عملدرآمد سیاسی مصلحتوں کی بنا پر نہیں ہوتا۔ حکمرانوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تعلیمی نظام میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور تعلیم فروشوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔
Categories
نقطۂ نظر

نمل؛ تدریسی شعبوں کی سربراہی سابق فوجیوں اور ریٹائرڈ اساتذہ کے سپرد

پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر سابق فوجیوں کی تعیناتی معمول ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایک عرصے تک سابق فوجی وائس چانسلر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے مختلف شعبوں میں بھی اسی رحجان کے تحت تدریسی شعبوں میں سابق فوجی افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے وضع کردہ معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تدریسی عملے کی بجائے گریجویشن سے پی ایچ ڈی تک کے ڈگری کورسز کرانے والے شعبوں میں سابق فوجی افسران تعینات کیے گئے ہیں۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے رہنما اصولوں کے مطابق ہر تدریسی شعبے میں کم از کم ایک پروفیسر تعینات کرنا لازمی ہے۔ ضوابط کے مطابق صرف پندرہ سالہ تدریسی تجربے کا حامل پی ایچ ڈی فرد ہی کسی شعبے کی سربراہی کا اہل ہے، لیکن نمل یونیورسٹی میں علم التعلیم، بین الاقوامی تعلقات، مطالعہ تصادم و امن، نظم عامہ، مطالعہ پاکستان، معاشیات اور مینجمنٹ سائنسز کے شعبوں میں پروفیسر کی اہلیت کا حامل کوئی استاد تعینات نہیں۔ ان شعبوں میں پی ایچ ڈی ڈگری کے بغیر سابق فوجی افسران تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سماجی علوم کے ڈین کی نشست بھی خالی ہے۔ انگریزی روزنامے ڈان کی ویب سائٹ پر 24 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق شعبہ سماجی علوم میں تدریسی شعبے کی کمی کے باعث حال ہی میں یونیورستی کے زیر انتظام سماجی علوم پر منعقد ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کے دوران شعبہ سماجی علوم کی جانب سے کسی پروفیسر یا ڈین کا تحقیقی مقالہ پیش نہیں کیا جاسکا۔ کل وقتی اساتذہ کی عدم موجودگی میں یونیورسٹی کے معاملات سابق فوجیوں یا عارضی ملازمین بھرتی کرنے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔

 

ضوابط کے مطابق صرف پندرہ سالہ تدریسی تجربے کا حامل پی ایچ ڈی فرد ہی کسی شعبے کی سربراہی کا اہل ہے، لیکن نمل یونیورسٹی میں علم التعلیم، بین الاقوامی تعلقات، مطالعہ تصادم و امن، نظم عامہ، مطالعہ پاکستان، معاشیات اور مینجمنٹ سائنسز کے شعبوں میں پروفیسر کی اہلیت کا حامل کوئی استاد تعینات نہیں۔
ہائیر ایجوکیش کمیشن کی پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی جامعات کی توثیق کے لیے ضروری ہے کہ ہر شعبے میں ایک پروفیسر، ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، دو اسسٹنٹ پروفیسر اور دو لیکچرر ضروری ہیں لیکن یونیورسٹی کے بیشتر شعبوں میں کوئی پروفیسر موجود نہیں اور بعض شعبوں جیسے شعبہ معاشیات اور بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی موجودگی کے باوجود کم تر تعلیمی قابلیت کے حامل افراد کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ نمل کو 2002 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا اور اسے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ کی مدد سے چلایا جارہا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان محمد بلال خان نے غیر پی ایچ ڈی اساتذہ کی بطور سربراہ تعیناتی کا دفاع کیا،”نمل نسبتاً ایک نئی یونیورسٹی ہے اس لیے یہاں پروفیسرز کی درکار تعداد موجود نہیں۔ یونیورسٹی میں چار پروفیسرز موجود تھے جن کی خدمات ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر دوبارہ حاصل کی گئی ہیں۔”ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سو کے قریب اساتذہ کو مختلف شعبوں کے پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلہ دیا گیا ہے۔

 

ایچ ای سی کے سربراہ ڈاکٹر مختار احمد نے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر نمل کے خلاف کارروائی کرنے کے سوال پر کہا کہ وہ جلد ایسی تمام جامعات کے خلاف کارروائی کریں گےجہاں قواعد کے مطابق تدریسی عملہ موجود نہیں۔ طلبہ حلقوں کی جانب سے اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بیشتر جامعات اور تعلیمی ادارے ایسے ہی انتظامی مسائل کا شکار ہیں جس کے باعث معیار تعلیم انحطاط پذیر ہے۔
Categories
اداریہ

ایچ ای سی بہترین اساتذہ ایوارڈ:سوشل سائنسز اورآرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کی افسوس ناک صورت حال

(مانیٹرنگ+سٹاف رپورٹر)campus-talksہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے سال 2011 کے 63 دوران عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر اساتذہ کو “بہترین استاد” کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ 2011کے لئے ایچ ای سی کو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی 153نامزدگیاں موصول ہوئیں جن میں سے معیار پر پورا اترنے والے 63اساتذہ کو تعریفی سند اور انعامی رقم سے نوازا گیا ہے۔2004 میں شروع کیے جانے والے ان ایوارڈز کا مقصد تدریسی معیار کو بہتر بنانا اور مختلف شعبوں میں اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی فہرست کے مطابق 63 میں سے سوشل سائنسز اور آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کےشعبوں سے صرف 12اساتذہ اس انعام کے حق دار قرار پائے ہیں۔ سماجی علوم اور آرٹس میں سے صرف معاشیات، نفسیات ،انگریزی، سیاسیات اور ابلاغ عام کے اساتذہ ایوارڈ پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
پاکستان کے تعلیمی نظام میں ہمیشہ سے سماجی اور انسانی علوم کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت، اساتذہ اور طلبہ کی ترجیحات میں ہمیشہ سے ملازمت کے حصول کی بنیاد پر شعبوں کے انتخاب کو اولیت دی جاتی رہی ہے۔ بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی میں سماجی علوم کے ایک طالب علم کے مطابق والدین صرف ان شعبوں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلاتے ہیں جہاں تعلیم مکمل کر کے نوکری ملنے کی امید ہو۔
شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی کے استاد اور 2003میں بہترین استاد کا اعزاز حاصل کرنے استاد محمد جواد کا کہنا ہے کہ سماجی اور انسانی علوم کی ناقدری کی بڑی وجہ معاشی دباو اور معاشرے کی غیر فطری رفتار ہے جس کے باعث لوگ غیر منفعت بخش شعبوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق سوشل سائنسز اورآرٹس اینڈ ہیومینیٹیز میں اساتذہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ حکومت اور معاشرے کی طرف سے ان علوم کو نظر انداز کیا جانا ہے۔ پاکستان میں بجٹ اور وسائل کی فراہمی، تدریسی معیار اور طلبہ کے داخلے کی شرح کے حوالے سے وہ شعبے زیادہ اہم رہے ہیں جو ڈگری کے بعد ملازمت کے بہتر مواقع رکھتے ہوں۔ پنجاب یونیورسٹی میں سماجی علوم کے ایک طالب علم کے مطابق سماجی علوم کا شعبہ حکومتی سطح پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ غیر ملکی وظائف، تحقیقی وسائل اور تدریسی سہولیات کی فراہمی کے لئے نیچرل سائنسز ، مینیجمنٹ سائنسز، میڈیکل سائنسز اور انجینئرنگ کو ترجیح حاصل ہے۔
معروف دانشور پروفیسر پرویز ہود بھائی کے ایک آن لائن جریدے کو دئیے گئےانٹرویو کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ملکی جامعات کی سطح پر سماجی علوم کا شعبہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پروفیسر ہود بھائی نے جامعات کی درجہ بندی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ معاشرے ،حکومت اور اساتذہ کی عدم دلچسپی کے باعث سماجی علوم اب تک سماجی بہتری کے لئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکے۔معاشرتی ناقدری کے اس رویے کے باعث ہی آغا خان فاونڈیشن کی طرف سے سوشل سائنسز یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ پاکستان سے منتقل کیا جا چکا ہے۔


Categories
نقطۂ نظر

The Voice Unheard

Anita Saleem

In Pakistan the voices of numerous people go unheard on issues such as power outage, inflation, CNG shortage, and of late, even the recent elections.

Although the title of this article could easily refer to any of these marginalized voices, my specific focus is on one group of people and their agony. I refer here to university and college students who often face sexual harassment, and are perhaps one of the least heard groups within our otherwise loud society.

There are a number of reasons why young students may not report abuse. First and foremost, several youth are unable to discern whether their experiences amount to harassment. Secondly, the harassment might be instigated by an individual in a position of power…

While everyone seems comfortable discussing and debating national issues, personal issues like harassment often go unaddressed. There are a number of reasons why young students may not report abuse. First and foremost, several youth are unable to discern whether their experiences amount to harassment. Secondly, the harassment might be instigated by an individual in a position of power, such as a professor, a teaching assistant or someone high up in the administration. And last but not least, young people are often afraid that disclosing such information would lead to them being judged harshly by others.

Interestingly however, students are not the only people who face these problems; in fact this is a much broader issue that exists at all levels in our society. Regardless of age, gender, occupational status and social class, people can and do experience harassment in various forms. Single women in employment seem to be particularly vulnerable to verbal, physical and sexual abuse.

Although seeking to control harassment at all levels may be too great a task for the immediate future, there are certainly things that can be done at an institutional level.

So what exactly can educational institutions do to put an end to this?

Firstly, students need to be educated about their rights. In 2010, the Senate passed a bill against harassment of women whereby the offenders were subjected to 3-year imprisonment and a fine of Rs 0.5 million. Quoting the exact words of Section 509 in the Pakistan Penal Code 1860, anyone who “conducts sexual advances, or demands sexual favours or uses written or verbal communication or physical conduct of a sexual nature which intends to annoy, insult, intimidate or threaten the other person” is to be found guilty.

In 2010, the Senate passed a bill against harassment of women whereby the offenders were subjected to 3-year imprisonment and a fine of Rs 0.5 million.

Although the primary purpose of this act is to protect women in the workplace, it would be a good starting point for educating university students about their rights as citizens as it provides a basic idea of what should be considered offensive. The first part of the act states that whoever is found “intending to insult the modesty of any woman, utters any word, makes any sound or gesture, or exhibits any object, intending that such word or sound shall be heard, or that such gesture or object shall be seen, by such woman, or intrudes upon the privacy of such woman” is guilty.

At an institutional level it is helpful if these issues are addressed explicitly. Perhaps the university catalogue or the student handbook would be a good place to insert a section on sexual harassment, where details of what exactly constitutes sexual harassment are clearly outlined. Very few universities like Forman Christian College and LUMS have actually done this so far.

The next step should be to allow discussions on this topic and form a reporting authority where students can lodge their complaints with empirical evidence (where possible). Reporting against someone in a position of power can be quite a daunting prospect in itself and therefore it is essential to assure students that the institution is ready to hear their complaints and take serious action (in the form of warnings, or in more severe cases, termination).

Students need to know that they won’t be blamed for having been subjected to harassment. It is a sad fact that victims are often blamed in our society for somehow ‘inviting’ the abuse.

The Higher Education Commission formulated the ‘Policy Guidelines against Sexual Harassment at Institutions of Higher Learning’ in 2011 in which institutions were instructed to establish sexual harassment committees and were asked to penalize such acts. Even though the implementation of this policy is supposed to at least decrease the incidence of sexual harassment – if not end it altogether – 98 out of 138 universities and degree awarding institutes (DAI) in the country have yet to adopt it. Recently, the HEC published a list of the university rankings, but what remains doubtful is whether this list has taken into consideration the security provided to students by those institutions.

Lastly and perhaps most importantly, students need to know that they won’t be blamed for having been subjected to harassment. It is a sad fact that victims are often blamed in our society for somehow ‘inviting’ the abuse. Therefore students must be given the right to file complaints anonymously. Furthermore, counseling facilities should be made available for those students who have suffered the trauma of sexual harassment, with confidentiality remaining a core value.

If an institution receives complaints of this nature from its students it should be considered a matter of pride for the mere fact that the voices which have so often gone unheard are finally being given a chance to be heard.

Anita-SaleemThe writer is a faculty member in the Department of Psychology at Forman Christian College, Lahore and tweets @anitasaleem