Categories
شاعری

پینے لوپیا

پینے لوپیا
زیوس کی بیٹی اتھینہ بھیس بدلے
ہمالیہ کی ترائیوں میں موت کے گیت گاتی
رقص گاہوں میں جام لنڈھاتے دیوتا
ان دیوتاؤں کی بے بسی پر خندہ
پینے لوپیا
غار میں قید تمھارا اودیسس
کسی خوش جمال دیوی کی خواہشات کا
لباس پہنے
اپنے خیال کا قیدی
تمہارے ہاتھوں سے بنتے، اڈھرتے کپڑے
کی مانند
فصیل جاں پر نسبتوں کا بوجھ اٹھائے
تمہیں یاد رکھتا ہے.
پینے لوپیا!
ذرا صبر دیکھنا کہیں ریت مٹھی سے نہ پھسل جائے.
موت کے وحشی درندے
کے پنجے، جسم پر گھاؤ
مگر میرا دل سلامت ہے
زندگی کی کشتی میں ایک روز
پھر لوٹوں گا
پینے لوپیا!
اتلس کی بیٹی تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے.
اتھینہ ہمالیہ سے لوٹے گی
اولمپس پر زیوس اس کی بات پر کان
دھرے گا
بس ریت مٹھی سے پھسلنے نہ پائے

Image: Francis Sydney Muschamp